حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کا علمی مشن اور ادبی نصب العین تحریر پروفیسرمحمد عارف سیمابی

حضرت علامہ محمدیوسف جبریل کےفکری منشور اور ادبی نصب العین پر ایک طائرانہ نظر
حضرت علامہ محمد یوسف جبریل لمحہءموجود کےوہ حریت پسند شاعر اور قومی دانشور ہیں۔ کہ جنہیں قدرت نےنہ صرف قران فہمی کی بصیرت افروز دانش سےسرفراز فرمایا بلکہ عصر حاضر کےتیزی سےبدلتےہوئےبین الاقوامی منظر نامےپر بھی ان کی نظر عمیق انتہائی گہری تھی۔ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کو قدرت کی طرف سےیہ فریضہ سونپا گیا تھا کہ وہ قران حکیم کی روشنی میں سائنسی شواہد سےموجودہ ایٹمی جہنم کی آگ کےبھڑکتےہوئےشعلوں کو بجھا کر گل و گلزار کریں۔ان کی نثر اور شاعری ہر دو کا مرکزی موضوع یہ تھا ۔ کہ وہ آئندہ اسلامی عہد میں امت مسلمہ کےسامنےحقیقی منزل کا تعین کریں ۔ حضرت مغربی تہذیب کےبڑھتےہوئےسیلاب اور مادی ترقی کےپرآشوب طوفا ن میں ایک کشتیءنوح کی طرح ہیں ۔ جو آج کےمضطرب اور بےراہ رو قافلےکو اسلامی انقلاب کی منزل کی طرف مراجعت اختیار کرنےکےلئےکوشاں ہیں۔ تاریخ شاہد ہےکہ حضرت مجدد الف ثانی ، حضرت شاہ ولی اللہ اور حضرت علامہ اقبال بھی اپنےعہد میں مسلم نشاة ثانیہ کی جدوجہد میں مصروف پیکار رہی۔ مولانا ابوالکلام آزاد نےاپنی بلند پایہ تصنیف ”تذکرہ“ میں لکھا کہ شہنشاہ اکبر کےعہد کےاختتام اور عہد جہانگیری کےاوائل میں کیا ہندوستان علماءو مشائخ حق سےبالکل خالی ہو گیا تھا؟ کیسےکیسےاکابر موجود تھی۔ لیکن مفاصد وقت کی اصلاح و تجدید کا معاملہ کسی سےبھی بن نہ آیا۔ صرف حضرت مجدد الف ثانیٰ شیخ سرہندی کا وجود گرامی ہی تن تنہا اس کاروبار کا کفیل ہوا۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہےکہ ان( حضرت مجدد الف ثانی) کی تجدید محض رد بدہات جہال صوفیاو تحقیق بعض معارف تصوف و اعلان و اشتہار توحید شہودی میں منحصرہی۔ حالانکہ معاملہ اس سےکہیں زیادہ وسیع ہی۔‘ تذکرہ صفحہ 832 )
حضرت شاہ ولی اللہ کی قوم کی معاشرتی بیماریوں پر بھی نظر تھی۔ اوراپنی تصنیفات میں انہوں نےان خرابیوں کو جاوبےجا بےنقاب کیا ہی۔ معاشرتی اصلاح کا جو درخت مولنا سید احمد بریلوی اور شاہ اسمعیل کےہاتھوں پھلا پھولا۔ اس کا بیج آپ نےہی بویا تھا ۔مولنا شبلی نعمانی حجتہ البالغہ کےمتعلق رقم طراز ہیں کہ انہوں نےاس تصنیف میں شریعت کےحقائق و اسرار بیان کئےہیں۔ جو درحقیقت علم کلام کی روح رواں ہی۔ علم کلام درحقیقت اس کا نام ہےکہ مذہب اسلام کی نسبت ثابت کیا جائی۔ کہ وہ منزل من اللہ ہی۔ مذہب دو چیزوں سےمرکب ہی۔ عقائد و احکام ۔ شاہ صاحب کےزمانےتک جس قدر تصنیفات لکھی جا چکی تھیں۔ صرف پہلےحصےکےمتعلق تھیں۔ دوسرےحصےکو کسی نےمس نہیں کیا تھا۔ شاہ صاحب پہلےشخص ہیں جنہوں نےاس موضوع پر کتاب مرتب کی۔ شیخ محمد اکرام موج کوثر میں تحریر کرتےہیں کہ اقبال مذہب اسلام سےبھی پوری طرح آگاہ ہےاور مغربی فلسفےکی کوئی بھی خوبی یا خامی اس کی نظر سےچھپی نہیں۔ لیکن نہ تو مذہب اسلام کا مطالعہ کرتےوقت اس نےتقلید سلف کی پٹی آنکھوں پر باندھی ہی۔ اور نہ وہ مغرب اور فلسفہءمغرب کی برقی روشنی سےچندھیاگیا ہی۔ اللہ تعالیٰ نےاسےچشم بصریت عطا کی ۔ جس کی مدد سےاس نےمشرق و مغرب کےمذاہب اور ایشیاءو یورپ کےفلسفوں کا نقادانہ مطالعہ کیا ۔اس کی فطری فہم و فراست نےاس پر یہ راز بےنقاب کر دیا کہ اگر پرانےعلماءکی نظر اسلام کےظاہر اور فقہی پہلووں پر زیادہ ہےاور وہ بالعموم اسلام کی گہری خوبیوں اور برکتوں کو سمجھنےسےقاصر رہےہیں تو ہمارےنئےراہبر بھی صراط مستقیم پر نہیں جارہے۔ اور ان کا تقلیدی اجتہاد بھی قوم کو بہت دور تک نہیں لےجا سکتا۔ اس لئےاقبال نےمذہب اسلام کی ترجمانی نئےاصولوں اور زیادہ مستحکم و دیرپا انداز میں کی ہی۔ اقبال کےفلسفےکا مقصد کامل انسان کی نشوونما ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی زندگی کےمختلف گوشوں کی مماثلت ان تینوں جید اکابرین ملت اور دانشوروں سےکافی زیادہ ہی۔ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل نےبھی حضرت مجدد الف ثانی کی طرح تجدید دین وملت کا فریضہ سرانجام دیا۔ حضرت مجدد الف ثانی نےدین اکبری کےخلاف جہاد کیا۔اور ملک بھر میں مکتوب امام ربانی کےذریعےاپنےمریدین کو احکام شریعت اسلامیہ کی حقیقی روح سےآگاہ کیا۔جس کیوجہ سےانہیں سخت نا مساعد حالات سےبھی گذرنا پڑا ۔ مگر وہ اپنےمشن سےباز نہ آئی۔ حضرت محمد یوسف جبریل نےاپنی زندگی کا آغاز انگریز فوج میں ایک عام سپاہی سےکیا۔ انہوں نےانگریزی قوانین کی خلاف ورزی کرتےہوئےعراق کےجیل خانہ مصیب میں کورٹ مارشل کی سزا برداشت کی۔ انہیں گورکھا ٹوپی نہ پہننےکی پاداش میں کورٹ مارشل کی سزا تجویز ہوئی کیوں کہ ان کےنزدیک پگڑی نبی اکرمکی سنت مطہرہ اور مسلمان کی شان کےمطابق ہی۔ بعد ازاں لندن سےیہ انگریز آرمی کو یہ انتباہ ملا کہ عین اس وقت جب دشمن تمہارےسامنےہے۔تم ایک مسلمان سپاہی محمد یوسف کو گورکھا ٹوپی نہ پہننےکی پاداش میں پھانسی کی سزا دےکر اڑھائی لاکھ مسلمان فوجیوںمیں نفرت اور بغاوت کا بیج بونا چاہتےہو۔بالآخراعلامہ یوسف جبریل کو جیل بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں وہ خدادداد روحانی صلاحیتوں سےاسلامی تعلیمات کو فروغ دینےمیں مصروف رہی۔ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل نےاپنےعہد کےغاصباں وقت کو للکارا۔ امت مسلمہ کی معاشرتی بیماریوں کو درست کرنےکی سعی جمیلہ کی ۔ مغربی تہذیب کو ہدف تنقید بنایا۔ مادی فلسفےکی روح کو ختم کرکےبنی نوع انسان کو تذکیہ باطن اور فکر آخرت کی طرف متوجہ کیا ۔ مغرب کےالہادی فلسفہ کی بنیاد پر قائم ہونےوالےسوشلزم ،کیمونزم، اور امپیریلزم کےمعاشی نظاموں کو پاش پاش کرکےاسلامی معاشی نظام کےتصور کو بھرپوراندازمیں اجاگر کیا۔ ایٹمی ترقی اور سائنسی ایجادات کےمضراثرات کو سامنےلانےکی کوشش کی۔
حضرت علامہ محمدیوسف جبریل نےفکر شاہ ولی اللہ سےروشنی لیتےہوئےآج کےپرآشوب عہد میں امت مسلمہ کو اس کی حقیقی بیماریوں اور مفسدات سےآگاہ کیا۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام کی بیخ کنی کےخواہاں تھی۔ وہ دولت کی منصفانہ تقسیم کےقائل اور امارت و غربت کےدرمیان حائل خلیج کو پاٹنےکےعلمدار تھی۔ علامہ محمد یوسف جبریل علمائےدین کےاس نظریئےکےخلاف تھےکہ قران حکیم کا مطمع نظر اور منتہائےمقصود سائنسی ترقی ہی۔ کیونکہ یہ بات مسلمہ ثبوت ہےکہ آج کی سائنسی ترقی کا مقصود ایٹمی تباہی پر منتج ہوتا ہی۔ لہذا ایٹمی جہنم بیکنی فلسفےکا منطقی انجام ہی۔ اور بیکنی فلسفہ قرانی فلسفےکی عین زد ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل آج کےمسلمان معاشرےکو اسلامی فقر کےاوصاف کی طرف متوجہ کرتےہیں جو صبر شکر، توکل اور قناعت کا دوسرا نام ہی۔ حضور اکرم اور صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہہ کی زندگیوں سےیہ مترشخ ہوتا ہےکہ وہ سخاوت، شجاعت، صداقت ، اور امانت کےاوصاف سےمتصف تھی۔ انہوں نےسونےچاندی کےڈھیر اکٹھےکرنےکا درس نہیں دیا ۔ بلکہ مسلمانوں کےخلیفہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ خود بھیس بدل کر ان کی حالت زار کا جائزہ لیتےتھی۔ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل مسلم امت کو روحانی بالیدگی اور تزکیہ نفس کی دعوت فکر دیتےہیں۔ تاکہ مسلمان حرص و ہوس، لالچ، اور خود غرضی کو ترک کرکےقرون اولی کےمسلمانوں کی یادگار بن کر عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کر سکیں۔ وہ نفی اثبات کےذریعےماسوائےاللہ دنیا بھر کےطاغوتی نظام اور کفر و الحاد کی قوتوں کو رد کرتےہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کا نظام قائم ہو سکی۔ وہ آج کےانسان کو مسلمان صوفیائےکرام کی تعلیمات کےعین مطابق اللہ بس باقی ہوس کےمشن کی طرف بلانےکےخواہاں ہیں۔ وہ مسلمانوں کو دنیاوی ترقی اور جاہ و سلطنت کےخواب دیکھنےکی بجائےاصلاح ذات کی طرف مدعو کرتےہیں۔ کیونکہ اگر ہر فرد اپنی نفسی پیچیدگیوں اور اوامرو نواہی کو سمجھ لےتو قران حکیم کی حقیقی تعلیمات کو روئےزمین پر عام کرنےمیں مدد مل سکےگی۔
علامہ محمد یوسف جبریل جب ایک مرتبہ فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال سےملےتو انہوں نےعلامہ اقبال کی کرسی پر بٹھایا ۔ خود خدمت مدارات کی ۔ اور کہا کہ مجھےآپ کےکلام سےاپنےوالد محترم کی خوشبو آتی ہی۔ ان سےکلام جبریل سنا اور مسلسل روتےرہی۔ بعد میں انہوں نےبتایا کہ آج تک کوئی بھی شخص ماسوائےآپ کےعلامہ اقبال کی کرسی پر براجمان نہیں ہوا۔ صرف آپ کو اس قابل سمجھا ہےکہ آپ حضرت اقبال کی کرسی پر بیٹھیں۔
علامہ محمد یوسف جبریل حضرت علامہ اقبال کی طرح امت مسلمہ کی زبوں حالی پر کڑھتےرہی۔ اور اس کی بہبود کےلئےکوشاں رہی۔ ان کی شاعری کی تفصیلی کےجائزےسےپتہ چلتا ہو ہےکہ وہ قدرت کی طرف سےملت اسلامیہ کی بیداری کےمشن پر معمور ہوئےتھی۔ تاکہ برصغیر پاک و ہند کےمسلمانوںکےعلحدہ تشخص اور قومی وقار کو برقرار رکھا جا سکی۔ وہ دن رات فتنہ یہودیت اور صیہونیت پر گریہ کناں رہی۔ انہیں اس امر کاافسوس تھا کہ مسلمان اپنی قوت بازو پر بھروسا کرنےکی بجائےاقوام مغرب کی کاسہءلیسی میں مصروف ہیں۔ وہ عالم اسلامی کےاتحاد کےبڑےعلمبردار تھےتاکہ مسلم امہ اپنےاختلافات کو بھلا کر اقوام یورپ کی بالادستی کےخلاف کمر بستہ ہو جائیں ۔ وہ مسلمانوں کو سیرت طیبہ سےرہنمائی حاصل کرنےپر آمادہ کرتےتھے۔کیونکہ مدینےمیں قائم ہونےوالی پہلی اسلامی ریاست میں اسلام کےعملی نفاذ کی جھلک موجود تھی۔ وہ خطبہ ءحجتہ الوداع سےاستفادہ کرنےپر بھی زور دیتےتھےکیونکہ وہ دنیا کا پہلاچارٹر ہےجس میں بنیادی انسانی حقوق کی طرف واضح اشارےموجود ہیں۔
حضرت علامہ محمد یوسف جبریلآج کےبےحس اور منجمد معاشرےمیں احترام انسانیت ، بڑوں کےاحترام، چھوٹوں پر شفقت ،وحشت و بربریت ، دہشت گردی ، ظلم و تشدد کےخاتمہ پر زور دیتےرہی۔ ان کی خواہش ہےکہ مسلم امہ قران و حدیث کی تعلیم پر عمل پیرا ہو جائے۔ وہ مال و دولت کےانبار اکٹھےکرنےاور دن رات تجوریاں بھرنےکی بجائےاللہ کےدیئےہوئےمال میں سےصدقات و خیرات کا پیغام دیتےہیں۔ کیونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کاارشاد ہی۔ کہ تمہارےپاس تمہاری ضروریات سےزیادہ ہےاس پر دوسروں کا حق ہی“۔ وہ آجر و اجیر ، سرمایہ دار اور مزدور ، آقا و غلام کی تمیز کےخلاف ہیں۔ وہ ہمیں نبی اکرم کےاس فرمان پر عمل پیرا ہونےکا درس دیتےہیں کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونےسےپہلےادا کر دی جائی۔ وہ ہمیں خبردار کرتےہیں کہ دولت صرف چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو ۔ بلکہ اسلام کی روح کےمطابق لوگ مدینےکی گلیوں کی طرح زکوة لےکر نکلیں اور ان کو کوئی سائل نظر نہ آئی۔ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل مسلم فقر کی جیتی جاتی تصویر تھی۔ وہ اپنی گدڑی میں ایک ایسےلال تھےجن کےلباس خاکی پر سنت رسولکی پیروی میں چودہ پیوند لگےہوئےتھی۔ انہوں نےخود کبھی مال و دولت اکٹھا کرنےکی کوشش نہیں کی۔ بلکہ ان کےاپنےگھر میں کئی کئی دن تک چولہا نہیں جلتا تھا۔ اگر کوئی سائل آ جاتا تو اس کو کبھی خالی نہ بھیجتی۔ وہ اپنےاس فقری نظام کو عطیہ خداوندی قرار دیتےہیں۔ کیونکہ انہیں انسانیت کےعظیم مستقبل اور مسلم امہ کی کشاکش اور ایٹمی تباہی سےبچانےکی ذمہ داری حضرت خضر علیہ السلام کی سفارش پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نےودیعت کی۔ وہ عصر حاضر میں صدق وصفا، جود و سخا، شرم و حیا کےفقدان پر انگشت بدندان ہیں۔ وہ مسلم معاشرےکےہر فرد کو حق گوئی وبیباکی کےمتصف اوصاف سےدیکھنا چاہتےہیں۔ وہ آج کےمفلوک الحال معاشرےکےاس رویئےپر خندہ بلب ہیں کہ اقوام عالم ایٹمی اسلحہ کی برق رفتار ی پر بھروسا کئےبیٹھی ہیں۔ حالانکہ یہ مہلک ہتھیار ہیروشیما اور ناگاساکی میں دنیائےانسانیت کو تباہی وبربادی کےدھانےپر پہنچا چکےہیں۔
علامہ محمد یوسف جبریل دنیابھر کےمظلوم و بےبس انسانوں کےحامی و مددگار ہیں۔ وہ آج کےانسان کو حقیقی معنوں میں خلیفتہ اللہ اور نائب کےمقام پر فائز دیکھنا چاہتےہیں ۔وہ آزادیءکشمیرکےزبردت خواہاں تھےکیونیکہ ان کےنزدیک کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہی۔ وہ تحریک آزادیءفلسطین کےزبردت حامی اور قبلہ ءاول کی قبضہ یہود سےرہائی کےبھی خواہاں تھی۔
سینہءنجس یہودی میں اتر جاوںمیں>چیر کر قلب و جگر تابہ کمر جاوں میں
بن کےشمشیر کلیجےسےاتر جاوں میں

کام مومن نےجو کرنا ہےوہ کر جاوں میں
مسجد قدس کو پھولوں سےسجاوں یارب

دست ناپاک یہودی سےچھڑاوں یا رب
وہ اپنی نظم گلبانگ صدارت میں صدر گرامی کےلئےیہ منشور پیش کرتےہیں: کہ اگر مجھےیہ فریضہ سرانجام دینےکا موقع ملےتو میں سب سےپہلےمعاشرےسےکفر و الحاد کی رسوم و روایات ختم کر دوں، بدعات و فروعات کاخاتمہ ہو، وہ آج کےعبرتناک عہد میں سودی نظام کی بیخ کنی بھی کرنا چاہتےہیں ۔ کیونکہ سود کو اللہ تعالیٰ نےحرام قرار دیاہی۔ وہ صدر گرامی اور امرائےسلطنت کےلئےلازمی قرار دیتےہیں کہ وہ مخلوق خدا کی خدمت کریں اور حضرت محمد بن قاسم کی طرح مظلوم عورتوں اور بچوں کی پکار سننےکےلئےمیدان عمل میں نکل کھڑےہوں۔ مکرو فریب اور دھوکہ دہی ان کا شعار نہ ہو۔ وہ سنت رسول کو اسلامی معاشرےمیں نافذ العمل کرنےکےلئےکوشاں ہو جائیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل اسلامی جمہوریہ ءپاکستان میں مساوات انسانی، باہمی محبت و اخوت کےعلمبردار تھی۔ وہ یہ چاہتےتھےکہ ان کی قسمتوں کیفیصلےماسکو لندن اور واشنگٹن کیبجاےمکہ ، اسلام آباداور تہران میں ہوں۔ وہ پاکستانی معاشرےمیں عدل و انصاف کےقیام کےخواہاں تھے۔رشوت ،سفارش ، اقربا پروری،ظلم و بربریت کو جڑ سےاکھاڑ کر پھینک دینا چاہتےتھی۔ وہ ہمیں خبردار کرتےہیں کہ حکمرانوں کو غربت و افلاس کےخاتمے کےلئےکوشاں ہونا چاہیئےکیونکہ ان بیچاروں کی حالت یہ ہےکہ ان کےتن بدن پر کفن کےلئےدوگرہ کپڑا بھی نہیں۔وہ اپنی تحریروں میں بار بار اسلامی معاشی نظام کو روئےزمین پر نافذ کرنےکاپیغام دیتےہیں کیونکہ صرف اسلامی معیشت کےتصورمیں ہی غریبوں کےدکھ درد کا سامان موجود ہی۔
ماخذات (١) نغمہ ءجبریل آشوب علامہ محمد یوسف جبریل (٢)موج کوثر شیخ محمداکرام (٣) رود کوثر شیخ محمداکرام (٤) تذکرہ مولنا ابوالکلام آزاد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسرمحمد عارف سیمابی
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply