علامہ محمد اقبال اور علامہ محمد یوسف جبریل چندفکری مماثلتیں

023

arifseemabi


علامہ محمد اقبال ترجمان حقیقت ،شاعر مشرق اور حکیم الامت فلسفی شاعر کی حیثیت سےنہ صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان بلکہ پورےعالم اسلام میں جانےپہچانےجاتےہیں۔ آپ نےاردو کی کلاسیکی شاعری کےمخصوص استعارات اور تلازمہ کاری کو مسلم تشخص، احساس خودی، ملت اسلامیہ کےعروج کےلئےاستعمال کیا ۔ علامہ محمد اقبال نےتاریخ اسلام ، سیاسیات ، مذہبیات اور عمرانیات کےموضوعات کو اپنےمنفرد شعری آہنگ میں پیش کیا۔ آپ نےقران حکیم کےسمندر میں غوطہ زن ہو کر اپنی شاعری کےذریعےنئی تشریح و تعبیر وضع کی۔ علامہ محمد اقبال نےاردو شاعری پر گہرےاثرات مرتب کئے۔ یہ امر ایک مسلمہ حقیقت ہےکہ ان کےجداگانہ طرز فکر اور فلسفیانہ نظام کو بعد میں اپنایا نہ جا سکا ۔ اردو ادب کی تحریکات اور تنقیدی نظریات کےتجزیاتی مطالعےسےیہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہےکہ تحریک ادب اسلامی کےعلمبرداروں نےعلامہ محمد اقبال کےاسلوب فن اور افکار و نظریات کو اپنےتحت الشعور کا جزو لازمہ بنانےکی تگ و دو کی ۔ قران حکیم اور احادیث کی بنیادی تعلیمات کو مضامین ، افسانوں اور شاعری میں بیان کیا جانےلگا۔ علامہ محمد اقبال کےفکر وفن کو پیش نظر رکھتےہوئےشاعرانہ کمالات بھی دکھائےگئے۔مگر یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہےکہ یہ سب آوازیں ان کےکلام کی صدائےبازگشت ہیں ۔یہ امر اہل علم و دانش اور ناقدین ادب کےلئےخوشگوار حیرت کا باعث ہو گا کہ ہمیں جدید اردو شاعری کےوسیع تناظر میں صرف ایک شاعر اور فلسفی نظر آتا ہےجو علامہ محمد اقبال کےنقش قدم پر چلتےہوئےان کا حقیقی جانشین ثابت ہوتا ہےاور وہ اکیسویں صدی کا گمنام زمانہ ،درویش خدا مست، ایٹمی سائنس دان ،ملی شاعر،اور دانشور علامہ محمد یوسف جبریل ہے۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی مختلف اور اق پریشان پر بکھری ہوئی شاعری کےسرسری مطالعےسےیہ امر آشکارا ہو جاتا ہےکہ وہ علامہ محمد اقبال : سےشدید جذباتی لگاو ،ذہنی مماثلت اور فکری مطابقت رکھتےہیں۔ آپ نےبیک وقت سائنسی علوم و فنون ،طب و حکمت اور قومی شاعری کو اپنا مرکز و محور بنایا۔ علامہ محمد یوسف جبریل 1917 ءمیں کھبیکی ضلع خوشاب وادی سون سکیسر میں پیدا ہوئے۔ سیاحت زمانہ اور دینی و دنیوی علوم کی تحصیل کےبعد سیاسیات حاضرہ، ایٹم بم کی تباہ کاریوں، اسلام کےمعاشی نظام اور بلند آہنگ شعری لب و لہجےکی تشکیل کےجملہ مدارج و مراحل طےکئے۔
علامہ محمد یوسف جبریل مجدد الف ثانی ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور علامہ محمد اقبال کےفکری تسلسل کا ایک اہم جزو ہیں ۔ جنہیں قدرت نےایک خاص فریضہ سونپ کر عالم انسانیت میں بھیجا تا کہ وہ قران حکیم کی روشنی میں سائنسی ثبوت کےساتھ ایٹمی جہنم کی آگ کو سرد کریں ۔ ایٹمی جنگ کا تدارک کرنےکےلئےتدابیر اختیار کرنےپر زور دیں اور آئندہ اسلامی دور میں امت مسلمہ کےسامنےمسلمان کی حقیقی منزل کی نشان دہی کا فریضہ انجام دیں ۔ علامہ محمد یوسف جبریل اپنےشعری مجمومہ ” نغمہ جبریل آشوب“ میں عرض مصنف میں فرماتےہیں :۔کہ ” 1962 ءمیں میری زندگی کےپینتالیسویں سال میں جب میں ایک کتاب موسوم بہ ”مائنڈ آف قران “ لکھ رہا تھا ۔سردیوں کا موسم تھا ۔ میں رات کےوقت سو جانےکی انتہائی کوشش کر رہا تھا ۔لیکن سعی بسیار کےباوجود مجھےنیند نہیں آ رہی تھی ۔ میں آنکھیں بند کئےپڑا تھا ۔ اسی لمحےمیں نےمحسوس کیا کہ میری دائیں جانب ذرا اوپر ایک شخص ہوا میں معلق نمودار ہوا ۔ اس کا چہرہ اور خدوخال کشمیریوں جیسےتھے۔رنگ مٹیالا گورا تھا ۔ اس کی شکل تقریبا ایسی ہی تھی جیسےکہ سپین کےموجودہ بادشاہ کی تصویروں میں دکھائی جاتی ہی۔ البتہ شبیہ اسلامی تھی ۔ میرا ذہن کسی قسم کےاحساس سےعاری تھا ۔ مجھےپسینہ آ گیا ۔ اور اس کےبعد چند مصرعےمیرےذہن میں ابھری۔ اور پھر مجھےنیند آ گئی۔ صبح اٹھا تو وہ مصرعےمجھےیاد تھے۔ میں نےانہیں قلم بند کر دیا ۔میں اپنےعلمی کام سےفراغت کےلمحوں میں 1969 ءتک شعر و شاعری کرتا رہا ۔اور تقریبا دو ہزار شعر ہو گئے۔ ایک عجیب سی بات قابل ذکر ہےکہ جب میں مشق سخن میں مصروف ہوتا تو عموما مجھےاپنےپیچھےچند قدم پر سفید ململ کےلباس میں حضرت علامہ محمد اقبال کی موجودگی کا احساس ہوتا اور وہ اپنےہاتھوں کو دائیںبائیں اس طرح حرکت دےرہےہوتےجس طرح کہ کوئی شخص کپڑا بن رہا ہے ۔ اور ان کی حرکات میں سخت جدوجہد کےآثار نظر آتے۔ ان کی اس موجودگی کےسائےمیں میرےذہن میں بھی ایک خاص کیفیت ہوتی ۔جو افسوس کہ میں الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔ حضرت علامہ محمد اقبال: کا ایک نہایت ہی پراسرار قسم کا شعر ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کلام اقبال کےمفسروں نےاس کی کیا تعبیر کی ہے۔ لیکن میرےلئےاس کی ایک خاص معنویت ہے۔ شعر یوں ہے:
میرےگلو میں ہےاک نغمہ ءجبریل آشوب
سنبھال کر جسےرکھا ہےلامکاں کےلئی
مجھےیہ بھی یاد نہیں کہ حضرت علامہ کےکلام کا معتدبہ حصہ میں نےشعر گوئی سےپہلےپڑھا تھا یا بعد میں ۔1964 ءکےبعد پڑھا ۔البتہ شکوہ اور جبریل شکوہ اور بانگ درا میں سال ہا سال پہلےپڑھ چکا تھا ۔ اور بعد میں جو کچھ حضرت علامہ کےکلام سےپڑھا وہ ایک ہی بار پڑھا ۔ اب معلوم ہوا ہےکہ لامکان سےحضرت علامہ کا کیا مقصد تھا ۔ اور وہ کون کم نصیب سعادت مند جبریل تھا جس کےلئےحضرت موصوف نےاپنےگلےمیں ایک ہیجان انگیز نغمہ سنبھال رکھاتھا۔ جبریل کےدل و دماغ میں تو واقعی ہیجان برپا ہو گیا ۔ تو کیا جبریل کا ہیجان اس امت مسلمہ کےذہن میں کوئی ہیجان برپا کر سکےگا یا نہیں ۔ اگر ایسانہ کر سکا تو اس سےبڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہی۔ حضرت علامہ کو شاعر تو سمجھ لیا گیا تھا ۔کون جانتا ہےکہ مجھےشاعر کا مقام بھی مل سکےگا یا نہیں“۔
ڈاکٹر جاوید اقبال نےعلامہ محمد یوسف جبریل کا مصودہ دیکھ کر لکھاتھا کہ ” انداز فکر حضرت اقبال کا ساہےاور ایک لحاظ سےکلام انہی کی صدائےبازگشت ہی۔“ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل حضرت علامہ محمد اقبال کی صدائےبازگشت ہے۔ کیونکہ انہوں نےجب بھی کوئی شعر کہا ہےتو حضرت علامہ محمد اقبال کاتصور ان کےپیش نظر رہا ہی۔
علامہ محمد یوسف جبریل کی قومی شاعری پر طائرانہ نظر ڈالنےسےیہ حقیقت آشکاراہو جاتی ہےکہ انہوں نےحضرت علامہ محمد اقبال کےتتبع کو وہ منفرد انداز بخشا کہ نہ آج تک کوئی ایسی تقلید کر سکا اور نہ ہی آئندہ ممکن ہی۔ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل نےعلامہ محمد اقبال کی تقلید کو یقینا ناقابل تقلید بنا دیا ہی۔ آپ نےشاعر مشرق کےفکری وژن اور فنی رموز کو وہ وسعت اور جامعیت عطا کی کہ علامہ محمد اقبال کےبتائےہوئےراستےپر چلتےہوئےبھی وہ اپنےقدموں پر انتہائی استقامت سےکھڑےہیں۔ وہ اپنےمخصوص ڈکشن ، الفاظ و تراکیب کےحسن استعمال مضامین و موضوعات کی حیرت انگیز حد تک جداگانہ روش کےذریعےہمیں اپنےہی لحن داودی کےموجد اور خاتم نظر آتےہیں۔ اردو شاعری کےافق پر نظر ڈالیں تو ہمیں صوفی شاعر خواجہ میر درد وہ واحد قادرالکلام شاعر نظر آتےہیں کہ جنہوں نےاردو میں پہلی دفعہ تصوف کےنظری اورعملی مباحث کو وہ تازگی بخشی کہ آج تک ان کا تتبع نہ ہو سکا۔ اصغر گونڈوی کی شاعری میں روحانی جمالیاتی تجربات ضرور ملتےہیں مگر وہ خواجہ میر درد کےفکری منطقےمیں قدم بھی نہیں رکھ سکی۔
حضرت علامہ محمد یوسف جبریل اس دور میں منظر عام پر آئے۔ کہ جب پہلی جنگ عظیم کےبعد اقوام عالم سائنسی تباہ کاریوں کےمضر اثرات سےنبرد آزما ہورہی تھیں ۔سامراج برصغیر پاک و ہند پر اپنا تسلط جماچکاتھا ۔ اقوام مغرب امت مسلمہ کو اپنےزیر نگین بنانےکےدرپےتھیں۔ مسلمان سستی، کاہلی اور تن آسانی کا شکار تھا ۔ یورپ کی سائنسی ترقی نےبنی نوع انسان کو روحانی سکون سےمحروم کر دیاتھا ۔ مغربی فلسفی فرانسس بیکن کےالحاد و بےدینی پر مشتمل مادی ترقی کےخواب انسانیت کو ایٹمی جہنم کی طرف دھکیل رہےتھےلہذا علامہ محمد یوسف جبریل نےامت مسلمہ کو جھنجھوڑا تاکہ وہ حسن عمل کو اپنا کر دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔
علامہ محمد یوسف جبریل نےاپنی شاعری میں علامہ محمد اقبال سےاپنےذہنی اور فکری رابطوں کی طرف بار بار اشارےبھی کئےہیں۔ جن سےان کےفنی جواہر کی طرف نشان دہی بدرجہ اتم ہوتی ہے۔
روح اقبال ہوں میں حیرت جبریل بھی ہوں
برق خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں
ریگ بطحا میں نہاں شعلہءقندیل بھی ہوں
فتنہ دور یہودی کےلئےنیل بھی ہوں
خاک ہوں پائےغلامان محمد کی یہ اغیار سنیں
اور مومن ہیں تو اس درد کو اک بار سنیں
علامہ محمد یوسف جبریل نےنہ تو علامہ محمد اقبال کی طرح صرف قومی شاعری کو اپنا نصب العین سمجھا اور نہ ہی ان کی طرح میونخ یونیورسٹی سےایران میں فلسفہءمابعد الطبیعات کےارتقاءکےموضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی بلکہ ہمیں اس سےبھی انکار نہیں ہےکہ وہ ایک زمانی ترتیب سےبتدریج ارتقائی مراحل بھی طےنہیں کرسکے۔ بلکہ 45برس کی عمر میں دفعتا شاعر ہو گئےاور ایسی زبان میں جو ان کی مادری زبان نہیں تھی دو سال شعر کہتےرہےپھر خاموش ہو گئے۔ دوبارہ دو سال شعر کہتےرہےاور دو سو صفحےکا کلام پیش کرکےپھر خاموش ہوگئے۔ کیا پاکستان کےماہرین نفسیات اس موضوع پر داد تحسین دینا پسند کریں گے؟
مگر اس حقیقت کو ہر حال میں پیش نظر رکھنا ہو گا کہ انہوں نےعلامہ محمد اقبال کےموضوعات کو اپنےبطون میں نہ صرف جذب کیا بلکہ امت مسلمہ کی مظلومی و محکومی کےخلاف انہی کی طرح ببانگ دہل صدائےاحتجاج بلند کرتےرہے۔ وہ مادیت پرستی ، فتنہ دجالیت ، الحاد و بےدینی ،آزادی ءافکار ، افتراق و انتشار ، اقوام مغرب کی پیروی ، صہیونیت کےمکروہ عزائم ، فخاشی و عریانی ، سائنسی ترقی کےمضر اثرات، عقل انسان کی ارزانی، ماضی پرستی، مشینوں کی حکومت، عرفان و مستی ،ہوس دولت، جدید عہد کی بےحسی، تہذیبی انسانی کےزوال ، سرمایہ دارانہ نظام کےموضوعات پر ایک ہی نشست میں دو سو بند پر مشتمل طویل منظومات ضرور تحریر کرتےہیں۔ جن سےیہ امر مترشح ہو جاتا ہےکہ وہ قدرت کی طرف سےعلامہ محمد اقبال کی طرح مسلمانوں کو خواب غفلت سےبیدار کرنےکےلئےعالم فانی میں تفویض ہوئےتاکہ آج کی پر آشوب فضاءمیں عالم اسلام غلبہءتوحید کےلئےکام کر سکے۔ عصر حاضر میں مسلمانوں کےخلاف تیزی سےبڑھتےہوئے پروپیگنڈے سےپتہ چل جاتا ہےکہ وہ کس گھناونی سازش کےذریعےمسلمانوں کو صفحةءہستی سےنیست و نابود کرنا چاہتےہیں۔
علامہ محمد اقبال نےنئی نسل کو مغربی تہذیب کی چکاچوند سےمتاثر ہونےکی بجائےمشرقی اقدارو روایات اپنانےکا پیغام دیا۔ وہ اسلامی نظریہءحیات کےعلمبردار اور مسلم تشخص کی بحالی کےبلند پایہ دعوےدار تھے۔ علامہ محمد اقبال اس امر کےخواہاں تھےکہ مسلمان اپنےآباوواجداد کی قومی غیرت ، حریت پسندی اور ایمان و ایقان سےروشنی حاصل کریں۔ حضرت علامہ محمد اقبالفرماتےہیں :۔
نظر کو خیرہ کرتی ہےچمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹےنگوں کی ریزہ کاری ہی
تیرےصوفےہیں افرنگی تیرےقالین ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہےجوانوں کی تن آسانی
تمہاری تہذیب آپ اپنےخنجر سےخود خود کشی کرےگی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنےگا ناپائیدار ہو گا
علامہ محمد یوسف جبریل نےاپنی ولولہ انگیز شاعری میں مادی ترقی،آزادیءافکار،الحاد و بےدینی اور مغربی میڈیا کی اسلام کےخلاف بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں کو عصر حاضر میں اپنا موضوع سخن بنایا ۔واضح ہو کہ یہ انداز فکر دراصل روح اقبال کی ترجمانی ہے۔کیونکہ وہ بھی ہمیں قرون اولی کےمسلمانوں کی قابل فخر تہذیب اور ان کےکارہائےنمایاں کو پیش نظر رکھنےکا پیغام دیتےہیں۔
جھومتی مادہ پرستی کی گھٹائیں آئیں
دیکھ آزادیءدنیاکی ہوائیں آئیں
بجلیاں کفر کی الحاد کی چھائیں آئیں
تیری بہبود کےپردےمیں بلائیں آئیں
یہ چڑیلیں ہیں جنہیں تو نےپری سمجھا ہی
یہ توریلیں ہیں جنہیں طیر بری سمجھا ہی
علامہ محمد اقبال نےتہذیب حاضر کی فسوں کاری ، سائنسی ایجادات اور مادی ترقی کو ہدف تنقید بناتےہوئےبار بار مسلمانوں کو بیدار کیا ۔کیونکہ اقوام و ملل کی باہمی آویزش ، بےاطمینانی اور ہوس پرستی نےملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا تھا۔ علامہ محمد اقبال خرد مندان مغرب کو دعوت فکر عمل دیتےہوئےکہتےہیں کہ وہ ہوس پرستی ، زر اندوزی ، حب جاہ و مال کو ترک کر دیں ۔
ہےدل کےلئےموت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتےہیں آلات
وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کو
ہوس کےپینجہءخونیں میں تیغ کارزاری ہی
حرارت ہےبلا کی بادہءتہذیب حاضر میں
بھڑک اٹھا بھبھوکا بن کےمسلم کا تن خاکی
نئےانداز پائےنوجوانوں کی طبیعت نی
یہ رعنائی ، یہ بیداری یہ آزادی یہ بیباکی
حیات تازہ اپنےساتھ لائی لذتیں کیا کیا
رقابت خود فروشی ناشکیبائی ہوس ناکی
علامہ محمد یوسف جبریل نےآج کی بھٹکتی ہوئی انسانیت کوسر چشمہءمغرب سےفیض یاب ہونےکی بجائےاسلام کی ابدالاباد تعلیمات کو پیش نظر رکھنےکا درس دیا ۔ وہ کارل مارکس، لینن اور ماوزےتنگ کےجدلیاتی فلسفےکو بیک جنبش قلم رد کرتےہوئےبنی نوع انسان کو اسلام کےمعاشی نظام کی صداقتوں سےآگاہ کرنا چاہتےتھے۔ وہ مغربی فلسفی فرانسس بیکن کےترقی پسندانہ نظریات سےبھی یکسر اختلاف رکھتےتھےکیونکہ آج کا انسان روحانی ابتلا میں گھر کررہ گیا ہے۔ جس کی مضطرب روح اور بےچین دل کو اسلام کےچشمہءصافی سےشفا مل سکتی ہی۔ لہذا ان کی شاعری میں جدید عہد کےتیزی سےبدلتےہوئےعصری تقاضوں کےپیش نظر تہذیب حاضر پر گہری چوٹ ضمیر انسانی کو جھنجھوڑتی اور اسےاپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہی۔
دورہےمادی ترقی کا مشیں سازی کا
ملک قدرت میں جہانگیری و ایازی کا
سر ِمادی پہ تصرف کی یہ غمازی کا
جنگ دوروزجہاں گرد میں سربازی کا
آخرت دور کےبندوں نےبھلا ڈالی ہی
موت کی نیند کہیں دل میں سلا ڈالی ہی
علامہ محمد اقبال کا ایک اہم موضوع سرمایہ و محنت بھی ہے۔ جس میں وہ غربت و امارت کےتفاوت کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتےہوئےسرمایہ دارانہ نظام پر ضرب کاری لگاتےہیں ۔ وہ اس امر کےخواہاں ہیں کہ بنیادی انسانی حقوق کا ہر حال میں تحفظ ممکن ہو ۔علامہ محمد اقبال آجر و اجیر ، آقاو غلام اور مزدور و سرمایہ دار کی تفریق کو ختم کرنےدینےکےخواہاں ہیں۔ تاکہ مسلمان معاشی آزادی حاصل کر سکیں ۔
تدبر کی فسوں کاری سےمحکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہی
بندہ مزدور کو جا کر میرا پیغام دی
خضر کا پیغام کیا ہےیہ پیام کائنات
اےکہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِ حیلہ گر
شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات
دوست دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی
اہل ثروت جیسےدیتےہیں غریبوں کو زکوة
ساحر الموط نےتجھ کو دیا برگ حشیش
اور تواےبےخبر سمجھا اسےشاخ نبات
علامہ محمد یوسف جبریل نےلمحہ ءموجود میں بنی نوع انسان کو معاشی مساوات کا درس دیا ۔وہ سرمایہ دارانہ نظام کی چیرہ دستیوں کو بلند آہنگ لب و لہجےمیں اس قدر مربوط اور منظم پیش کرتےہیں کہ ان کےسینےمیں چھپا ہوا انسانیت کا درد و کرب ان کےہر لفظ اور ہر مصرعےسےپھوٹ پھوٹ پڑتا ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کا ایک اہم موضوع معاشیات بھی ہے۔جس کےواشگاف اظہار کےلئےوہ نثری تالیفات اور مضامین کےعلاوہ اپنےاسلوب فن سےبھی خوب خوب کام لیتےہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
جو غریبوں کا لہو پی کےجواں ہوتےہیں
ناز و غمزہ میں وہ کیا رشک بتاں ہوتےہیں
قصر و گلشن میں تو جنت کا سماں ہوتےہیں
حسن ظاہر میں مگر زخم نہاں ہوتےہیں
دل میں پھٹکار برستی ہےشکم ہستےہیں
اژدھےدل کی خلاوں میں کہیں بستےہیں
اپنی کھیتی میں کھڑا دیکھ کسان روتا ہی
مزدور کی حالت پہ سماں روتا ہی
کتنا غم گین ہےکیا نوحہ کناں روتا ہی
تو یہ کہتا ہےتعجب سےکہاں روتا ہی؟
ملوں کا شب و روز بجٹ بڑھتا ہی
عمر مزدور کی گھٹتی ہےپہ کٹ بڑھتا ہے
علامہ محمد اقبال نےاپنی شاعری میں تصور مرد مومن کو کلیدی حیثیت عطا کی۔ اس کےذریعےاطاعت خداوندی ، ضبط نفس اور نیابت الہیہ کےمدارج و مراحل طےکرکےفرد،معراج انسانیت کےمقام پر فائز ہو جاتا ہی۔ علامہ محمد اقبال نےتکمیل خودی کےلئےحضور اکرم کی ذات والی صفات کو عمل و کردار کا نمونہ بنانےکا مشورہ دیا۔ وہ نئی نسل کو تسخیر کائنات کا فریضہ انجام دینےپر آمادہ کرتےہیں۔ اردو کےمعروف نقادطاہر فاروقی ” سیرت اقبال“ میں رقمطراز ہیں کہ ” فقر اور عشق کےامتزاج سےجو ہیئت ترکیبی بنتی ہے۔ وہی بندہءمومن ہے۔اس کا وجود توحید و رسالت کی معرفت اور شریعت و طریقت کےعلم و ادراک سےقائم ہے۔ اس کا ایک قدم زمین پر ہوتا ہےاور دوسرا عرش آسمانی پر ۔ تدبیر اور تقدیر اس کےاشاروں پر عمل کرتی ہیں ۔ وہ ابدیت کےدرجےپر فائز ہو کر نیابت خداوندی اور صفات ملکوتی بیک وقت حاصل کر لیتا ہی۔ راز کن فکان بھی وہی ہےاور انی جاعل فی الارض خلیفہ کا مصداق بھی اس کی مصداق ہی“۔
مرد حق از کس نگیرد رنگ و بو
مرد حق از حق بزیرد رنگ و بو
ہر زماں اندر تپش جان دگر
ہر زمان او را چوحق شان دگر
کوئی اندازہ کر سکتا ہےاس کےزور بازو کا
نگاہ مرد مومن سےبدل جاتی ہیں تقدیریں
تقدیر کےپابند نباتات و جمادات
مومن فقط احکام الہی کا ہےپابند
عالم ہےفقط مومن جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب لولاک نہیں ہی
جہاں تمام ہےمیراث مرد مومن کی
مرےکلام پہ حجت ہےنقطہءلولاک
علامہ یوسف جبریل ایک مرد حراور مرد درویش تھی۔ انہوں نےاپنی شاعری میں مردمومن کا نیا تصور اجاگر کیا ۔ جس میں وہ آج کےپرآشوب عہد میں اسےبیدار کرنےکےلئےسعی پیہم میں مصروف نظر آتےہیں۔ وہ آج کےمسلمان کو قران و سنت کےاصولوں کےمطابق ایک بہشتی معاشرےکےقیام کےلئےذہنی طور پر آمادہ کرتےہیں۔ تاکہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ العمل ہو سکے۔ علامہ محمد یوسف جبریل مرد مومن کو آیت اعلون کی تفسیر قرار دیتےہیں ۔وہ اسےکفر شکن نعرہ تکبیر کی ہیبت کا مجسم پیکر سمجھتےہیں ۔ وہ آج کےمسلمان کو مغربی تہذیب کی ظاہری چکا چوند سےخبردار کرتےہیں کیونکہ یہ سناعی جھوٹےنگوں کی ریزہ کار ی ہی۔ وہ مردمومن کےلئےپرامن بقائےباہمی کےاصول کو ضروری سمجھتےہیں اور اسےکفر و شرک کی بڑھتی ہوئی یلغار کےمقابلےمیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑا دیکھنا چاہتےہیں۔ چند اشعار ملاحطہ فرمائیں
تنزیل دلاویز کی تنویر ہےمومن
لاریب کہ خورشید جہاں گیر ہےمومن
تقدیرامم فکرت مومن کی ہےپرواز
منشائےالہی کا جو نخچیر ہےمومن
ہےرمز الہی کا امیں مرد مسلماں
اور آیت اعلون کی تفسیر ہےمومن
مفتوں ہےاگر ہمت اعداءپہ یہ گردوں
کیا خوف کہ اللہ کی تقدیر ہےمومن
روک لےہاتھ کو اب بہر خدا اےمومن
قتل مومن کی جہنم ہےسزا اےمومن
اپنےہاتھوں سےنہ کر اپنی فنااےمومن
کچھ تو کر شافعءمحشر سےحیا اےمومن
تیرےچرکوں سےجگر دوز کا خوں ہوتاہی
اور خوں دشمن ملت کا فزوں ہوتا ہی
علامہ محمد اقبال کی معروف زمانہ غزل” دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر“ کی بحر میں علامہ محمد یوسف جبریل نےبھی ایک غزل تحریر کی ہی۔ واضح ہو کہ یہ غزل علامہ محمد اقبال کی زمین میں طبع آزمائی کی ایک کوشش کےعلاوہ اپنےمعنی و مفہوم کےاعتبار سےنت نئےزاویہ ءہائےفکر کےدر وا کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہی۔ یہ غزل پڑھتےہوئےیہ محسوس ہوتاہےکہ علامہ محمد یوسف جبریل نےاپنےمخصوص انداز فکر سےاسرار و رموز ہستی کےآفاق تلاش کرنےکی سعی کی ہی۔
جنون عشق کی وادی میں نام پیدا کر

سرشک خوں سےدل مشک فام پیدا کر
ذرا الٹ کےنقاب آسمان دل پہ چمک

مری سحر میں تمنا کی شام پیداکر
بجز جنوں کےیہاں مفت کچھ نہیں ملتا

متاع غم کی طلب ہےتو دام پیدا کر
علامہ محمد یوسف جبریل کی منظومات پڑھتےہوئےواضح طور پر نظر آتا ہےکہ مولنا الطاف حسین حالی کی مدوجزر اسلام ، حفیط جالندھری کی شاہنامہ اسلام ، اور علامہ محمد اقبال کی شکوہ جواب شکوہ کی یاد تازہ ہو گئی ہےکیونکہ وہ آج کےمادیت پسند عہد میں معرفت خداوندی کےعلمبردار ہیں۔ تاکہ روحانی تربیت کا فریضہ بھی انجام دیا جا سکے۔ ان کےبعض اشعار پڑھتےہوئےواضح طور پر یہ پتہ چلتا ہےکہ ان کا دل مسلم نشاة ثانیہ کےلئےکس قدر بےقرار ہے۔
سن مدینےکی فضاوں میں اذاں گونجی ہی

چیر کر چرخ فلک تا بہ جناں گونجی ہی
مرد مومن کی دعاوں میں فغاں گونجی ہی

کن کی آواز پہ مستور فکاں گونجی ہی
کہہ دو تکبیر مدینےسےبلال آئےہیں

تیری تقدیر کی رفعت پہ ہلال آئےہیں
علامہ محمد اقبال نےامت ملمہ کےنوجوانوں کو اپنےآباو اجداد کےنقش قدم پر چلنےکی دعوت و فکر وعمل دیتےہوئی” خطاب بہ نوجوانان اسلام “ لکھی۔ جس میں انہوں نےنوجوانوں کو فقر غیور اور حرکت و عمل کا پیغام دیا ۔ علامہ محمد اقبال نےنوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مسلسل محنت و کوشش کےذریعےاقوام عالم کی صفوں میں اپنا بلند پایہ مقام حاصل کریں ۔
کبھی اےنوجواں مسلم تدبر بھی کیا تونی

وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہےاک ٹوٹا ہوا تارا
تجھےآباءسےاپنےکوئی نسبت ہو نہیں سکتی

تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا
غرض میں کیا کہوں تجھ سےکہ وہ صحرا نشیں کیا تھی

گدائی میں بھی منعم کو گدا کےڈر سےبخشش کا نہ تھا یارا
علامہ محمد یوسف جبریل نی” خطاب بہ نوجوان قوم اعوان “ میں نوجوانوں کو قران حکیم کےسمندر میں غوطہ زن ہونےکا درس دیا ۔ وہ نئی نسل کو الحاد و بےدینی کی تاریکیوں میں شمع ہدایت جلانےکا پیغام دیتےہیں ۔ تاکہ حریت فکر کےذریعےاسلامی انقلاب کی راہ ہموار کی جا سکی۔ وہ آج کےدور ابتلاءمیں حرص و آز کی مذمت کرتےہیں اور قوم اعوان کےنوجوانوں کو اپنےآباءکی بےمثال شجاعت ، جذبہ ءجہاد، ایثار و قربانی اور وفاداری اپنانےکا مشورہ دیتےہیں۔جس سےپتہ چلتا ہےکہ ان کا مشن ابراہیمی ہے۔ اور وہ علامہ محمد اقبال کےروحانی جانشین ہیں۔
اےکےتیرےسامنےدریائےخوں ہےآبجو

بازوئےشمشیر زن ہےامت مسلم کا تو
تیر ےآباءنےدیا پیغام قران ہند میں

والہانہ وادی وادی قریہ قریہ کو بہ کو
کہہ رہی ہے داستاں اب تک فصیل سومنات

جب کہ ٹوٹےتھےبتان سنگ و دام آرزو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر محمد عارف سیمابی
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 64
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 60
    حج دا سفر نامہ تحریر: محمدعارف (ٹیکسلا) ڈاکٹر سید عبداللہ ”سرزمینِ حافظ و خیام از مقبول بیگ بدخشانی “ میں رقم طراز ہیں کہ ” ایک کامیاب سفر نامہ وہ ہوتا ہےجو صرف ساکت و جامد فطرت کا عکاس نہ ہو بلکہ لمحہءرواں میں آنکھ، کان ، زبان اوراحساس سےٹکرانےوالی…
  • 57
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply