One thought on “علامہ محمد اقبال اور علامہ محمد یوسف جبریل چندفکری مماثلتیں

  1. کلامِ جبریل ادبی جواہر کا بیشن بہا خزانہ ہے
    تحریر: شوکت محمود اعوان
    موجودہ دور کا انسان سائنس کے راستے پر تباہی کی طرف رواں دواں ہے اور تمام دنیا اس غارت کے گڑھے کی طرف کچھی جاتی ہے ۔ اس کا اندازہ ہر شخص کر سکتا ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہر شخص اس مغالطے میں ہے کہ دور’’ ترقی‘‘ کی جانب جا رہا ہے اور گرفتارانِ سراب کی مانند ہر فرد اور ہر قوم یہ سمجھ رہی ہے کہ عنقریب وہ خود کفیلی کے اس آب حیات تک پہنچ جائے گی جو ان کی آنکھوں کے سامنے نہایت تیزی سے چمک رہا ہے مگر افسوس کہ جس چیز کو وہ آبِ حیات کا سمندر سمجھ رہے ہیں وہ محض دھوکا ہے۔ وہ محض سراب ہے وہ تو محض صحرا میں اٹھتے ہوئے بخا رات کی لہریں ہیں اور ان کے پیچھے ایک طویل و عمیق غار ہے تباہی کا جس میں سراسر آگ مشتعل ہے اور وہ لوگ جو،اب اندھا دھند اس غارِ عمیق کی جانب آبِ حیات کے مغالطے میں مجبور بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ دفعتاََ اپنے آپ کو اس غار کے دہانے پر پائیں گے جس میں سے شعلے ہر طرف لپک رہے ہیں اور وہی شعلے ان سب کو لپیٹ میں لے لیں گے اور وہاں ایک کہرام ہو گا اور وہ سب آگ میں مر جائیں گے ۔ بے کس ، مجبور اور فریب خوردہ انسان! آج جتنا لٹریچر دنیا کے ہر گوشے میں چھپتا ہے اسے آپ بھی پڑھ کر دیکھیں۔ �آپ ہر لفظ جو آج کسی ادیب، شاعر ، فلسفی ، لیڈر ، سوشل ورکر کے منہ سے نکلتا ہے سن کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ایک ہی لفظ جو زبان زد خلق ہے وہ ہے ’’ترقی‘‘ اور اگر کہیں سے کوئی صدا ترقی کے خلاف بلند ہوتی ہے تو اس کی اہمیت نقارخانے میں طوطی کی آواز سے بڑھ کر نہیں اور پھر برٹ رینڈ رسل جیسا انسان بھی اس ترقی اور سائنس کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا ہے تو ا س انداز میں کہ سائنسی نقائص کے مستقبل میں درست ہو جانے کی امید لئے ہوئے مگر جبریلؔ کا مقام مختلف ہے۔ جبریلؔ اپنی آواز میں ایک جہاں لرز گرج لئے ہوئے ہے جس کی تڑپکے سامنے وہ بے شمار مینڈک جو بھادوں کے مہینے میں آسمان کو سر پر اٹھائے ہوئے ہیں دفعتََا خاموش ہو جائیں گے۔ جبریلؔ کو سائنس کے پیدا کردہ نقائص کے درست ہو جانے کی کوئی امید نہیں ۔ وہ برقِ خاطف کی طرح آشیانہء سائنس پر گرتا ہے ۔ جبریلؔ کو قرآن اور سائنس دو ازلی دشمن نظر آتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں۔جن میں سے ایک کی کامیابی دوسرے کی موت کا پیغام ہے۔ ان میں سے ایک رہے گا۔ دوسرا فنا ہو جائے گا۔ جبریلؔ صادق القول شخص ہے اور جبریلؔ کی طاقت حق ہے اور حق قرآن میں لکھا ہے۔ قرآن ایک حق کی تلوار ہے جو جبریلؔ کے ہاتھ میں ہے۔ جبریلؔ وہی کچھ کہتا ہے جو کچھ و ہ قرآن سے سنتا ہے اور صرف وہی کچھ کہتا ہے جس کا ثبوت قرآن میں ملے ۔ ظاہری محاسن جن سے جبریلؔ کا کلام از اول تا آخر مالا مال ہے گویا کہ فن شاعری کا ایک اعلیٰ نمونہ ہی نہیں گونا گوں فنی اور ادبی جواہر کا ایک پیش بہا خزانہ بھی ہے مگر جو چیز حقیقی توجہ کی مستحق ہے وہ ہے وہ مواد اور وہ موضوع جو منظوم ( نعرہ جبریل، آئینہ جبریل ) کا طرہٗ امتیاز ہے جس کاہر بند اپنی جگہہ ایک بنیادی مسئلے اور انفرادی نظریئے کا حامل ہے جسے کچھ اس انداز سے بنایا گیا ہے جو صرف جبریلؔ ہی کا حصہ ہے۔ ہمارے اس نئے دور اور مسلمان کی کیفیت کا جس طرح تجزیہ کیا گیا ہے یہ بذات خود ایک معرکہ ہے۔ نعرہ جبریل ؔ اور آئینہ جبریلؔ کے بعض بند تو ایسے ہیں جن پر کتابیں تصنیف کی جا سکتی ہیں ۔بعض نشتریں تو ایسی ہیں جن کے زخم سے ایک پتھر دل انسان بھی تڑپ اٹھتا ہے۔ بعض شعلے تو ایسے ہیں جن سے نا امید سے نامید انسان بھی بھڑک اٹھتا ہے۔ اس میں آہیں ہیں۔ آنسو ہیں۔ نالے ہیں۔ تیر ہیں۔ برچھیاں ہیں ۔ نعرے ہیں۔ تکبیریں ہیں اور پھر حکمت ہے، نصیحت ہے۔ الہیٰ فلسفہ ہے اور ایک دلفگار انداز ہے ۔’’جو خود جگر چاک ہوں اوروں کو جگر چاک کروں ‘‘ کہتا ہوا دل میں اتر جاتا ہے اور کچھ ایسا درد لئے ہوئے ہے کہ رقت ہو جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی بلند پہاڑ کی چوٹی سے کرِنا پھونک رہا ہے جس کی رفتار لحظہ بہ لحظہ بڑھتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ کلیجے پھٹ جائیں گے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک دردمند ناصح ایک دردمند بھری آواز میں ہمیں ہماری زندگی پر سرزنش کر رہا ہے اور ہم ایک پشیمان مجرم کی طرح اس کے سامنے سرنگوں کھڑے ہیں۔ اللہ اللہ۔ ایک انسان کا کلام ہے۔ دور تیزی سے تباہی کیطرف بڑھ رہا ہے اور مجبور مسلمان کو جس بے بسی سے اس دور میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ دور جس انداز میں ایک مصیبت عظمی کی تاریک سے تاریک تر فضاؤں میں بڑھتا چلا جارہاہے اور مسلمان جس دردناک انداز سے اس ابتلا ئے عظیم میں اس اندوھناک قیامت صغری کی طرف بے بس و مجبور کھچا جا رہا ہے اور وہ گھٹائیں جو اس دنیا میں بنی نوع آدم کے افق پر اک خوفناک تیزی سے تباہی کی چھائی جا رہی ہیں اور وہ بلائیں جو دنیائے اسلام پرعنقریب ایک تباہ کن انداز سے مسلط ہونے والی ہیں اور وہ وسائل جو دنیا کو کفرو الحاد کی تیرہ و تار کھائیوں میں دھکیل رہے ہیں اور وہ جگر پاش مسائل جو دنیائے اسلام کو درپیش ہیں، جن کو سمجھنا ہر مسلمان کاعین فرض ہے اور پھر بنی نوع آدم کی یہ بے بسی اور مجبوری اور مسلمانکی یہ غفلت یہ مستوری، ان کوائف کو جس انداز میں جبریلؔ نے سلک سخن میں پرو دیا ہے، اس کا اندازہ کچھ کلام کو سن کر ہی ہو سکتا ہے۔ قلم اسے صفحہء قرطاس پر اتارنے سے قاصر ہے۔ نقد و نظر کے قوانین و اصاویل بھی ایک معین مقام تک ساتھ دیتے ہیں حتیٰ کہ اقرار عجز میں سرنگوں ہو جاتے ہیں اور پھر ایک ایسے شخص کا سوا سال کے قلیل عرصے میں سارا دن قرآنی مسائل کی انگریزی تصنیف میں مصروف رہ کر کچھ پہروں میں ’’نعرہء جبریل اور آئینہ جبریل‘‘ (نالہ جبریل) جس کا نام کبھی شاعری کی دنیا میں دیکھا ہی نہیں گیا ہو فقط رات کے اگلے پچھلے پہروں میں نعرہء جبریل کی صورت میں شہرہ آفاق منظوم پہلی ہی چھلانگ میں لکھ ڈالنا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو سلجھایا نہیں جا سکتا۔ یہ ایک کرشمہ ہے اور یہ گل و بلبل کا فسانہ نہیں اور نہ ہی اس شاعری کو کوئی آدمی طوطے مینے کی کہانی سمجھ لے بلکہ یہ نظم برائے نظم نہیں ایک دھڑکتا ہوا پیغام اور دل میں اترتی ہوئی نصیحت ہے۔آج دنیا اور دنیا سے بڑھ کر مسلمان قوم سائنس کے متعلق جن غلط فہمیوں میں مبتلا ہے اور کفر و الحاد کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی انسانیت جس طرح دین و مذہب سے روگرداں ہے، اسے جس انداز میں جبریل نے اپنے کلام میں واضح کیا ہے، اس کا بیان نثر میں بھی کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک عظیم المرتبت خطیب ایک نہایت ہی اعلیٰ انداز بیان میں جملہ متنازعہ فیہ مسائل کو اس پر’ اثر زبان سے سلجھاتا ہوا چلا جاتاہے اور دقیق سے دقیق غلط فہمیوں کے پردے اس نادرالووجود حکمت سے فاش کرتا جا رہا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علم و حکمت کا ایک سمندر ہے کہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا جا رہا ہے اور موجودہ اور مروجہ غلط فہمیوں کو تنکوں کی طرح بہائے جا رہا ہے اور کہیں زور کلام کم نہیں ہوتا کہیں گراوٹ محسوس نہیں ہوتی۔ آپ ذرا توجہ ہٹا کر تو دیکھیں ۔ آپ کے دل کو تو لاشعوری طور پر پر ایک قوی طاقت نے اپنے قبضے میں جکڑ رکھا ہے۔ آپ کے جسم پر لرزہ ہے ۔ آپ کی آنکھوں میں حیرت ہے ۔ آپ کے دل میں ایک ہیجان برپا ہے ۔ آپ کو کسی دوسری دنیا میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ آپ آپ نہیں رہے بلکہ کسی اور دنیا کا جزو ہو چکے ہیں۔ پھر سائنس اورقرآن کا جو مقابلہ اشعار میں دکھایا گیا ہے وہ بذاتِ خود ایک عدیم المثال معرکہ ہے ۔ بہت سے قادرالکلام اصحاب جنہیں اللہ تعالی نے اقلیم سخن میں بحیثیت ایک کلیم کے نوازا ہے وہ صدقِ دل سے اس امر کا اقرار کریں گے کہ سائنس اور قرآن کے مقابلے جیسے ادق مضمون کو اس انداز میں جس انداز میں جبریل ؔ نے اس چیز کو نبھایا ہے لباسِ نظم سے مزین کرنا اس طرح کہیں بھی آپ کو بوجھل اصلاحات حکمتی کی مروجہ گرانباری سے متحمل ہونے نہیں دیتا اور فن سخنوری کا ایک گراں قدر نمونہ ہے ۔اندازِ سخن کے ساتھ ساتھ نفسِ مضمون کو سامنے رکھیں تو دنیا کا کوئی عظیم سے عظیم فلاسفر بلکہ سائنسد ان کسی اعلی درجے کی زبان میں محض نثر میں بھی نہیں لکھ سکتا یہاں تو بات ہی کچھ اور ہے ۔ شعرو سخن کی عظمت، علم و ادب کا فخر، نور قرآن کا آئینہ، شمع رسالت کا پروانہ ، انسانیت کا دوست۔ اسلام کا خادم ، مسلمان کا ہمدرد اور ایک دردمند انسان جان توڑتی ہوئی نظم کو جبریلؔ نے آبِ حیات پلا دیا ہے۔
    علامہ یوسف جبریلؒ کے موضوعات میں کفروالحاد، ایمان، سائنس، دور، غور آیات، مادہ پرستی، آخرت، علم، حکمت، انسانیت، ادوارِ ماضی اور دورِ حاضر کی خصوصیات کا مقابلہ،حکمت حاضر۔ علم حاضر شامل ہیں، آپ کے کلام میں درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے بلکہ ہر بات درد میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ حرف حرف سے درد ٹپکتا ہے۔ ہر بات میں ایک بات ہے۔ پھر سارا انداز فلسفیانہ ہے۔ ایک خاص مکتب فکر ہے جس کا اصل مکتبِ نبوی ﷺ سے ملتا ہے۔ ایک مسلسل دلیل ہے۔ پھر ایک امید ہے۔ جبریل کاایمان ہے کہ قوم جاگے گی اور وہ تمام پیشین گوئیاں جو نبی اکرمﷺ کی طرف منسوب ہیں وہ پوری ہو کر رہیں گی۔ مگر شائد ہم نہ ہوں گے۔ بقول ان کے ’’ گلشنِ دین محمد ﷺ میں بہار آئے گی‘‘۔ جبریل جب دورِ اسلامی کو بیان کرتاہے تو گیتی بھی آہیں بھرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ شوکت محمود اعوان
    صدر یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان
    قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی پاکستان
    allamayousuf.net
    http://www.oqasa.org
    Back to Conversion Tool

    Urdu Home

Leave a Reply