علامہ محمد یوسف جبریل اور نظریہ ءپاکستان

027arifseemabi

علامہ محمد یوسف جبریل لمحہءموجود کےحریت پسند رہنما ، ملی شاعر، ایٹمی سائنس دان اور مفسرقران تھی۔ انہوں نےاسلامی جمہوریہ ءپاکستان کےدرو دیوار کی آرائش میں بدرجہءاتم حصہ لیا۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےوطن عزیز کی جغرافیائی اور نطریاتی سرحدوں کی حفاظت کےلئےاپنا تن من دھن قربان کر دیا۔ آپ نےمملکت خداداد پاکستان کےاندرونی و بیرونی دشمنوں کی گھمبیر سازشوں کےخلاف منظم اور مربوط علمی تحریک شروع کی۔ جس کا مقصد مغربی تہذیب و ثقافت ، ہندووانہ رسوم و روایات، حب جاہ و مال، مادی ترقی، کےمقابلےمیں صبر و شکر، توکل و قناعت، فقر و درویشی، کی صفات مومنانہ کو فروغ دینا ہی۔ آپ نےاپنےمضامین اور تحریروں کےزریعےپاکستانی قوم کو نسلی، علاقائی اور لسانی تعصبات کو ختم کرکےملی وحدت کا درس دیا ۔ تاکہ ہم من حیث لقوم تعمیرو ترقی کےعظیم مشن کی طرف گامزن ہو سکیں ۔
٢ وہ نئی نسل کو اس امر پر آمادہ کرتےہیں کہ الحاد و بےدینی ،فخاشی و عریانی کےبڑھتےہوئےسیلاب کےخلاف کمربستہ ہو جائیں۔تاکہ نظریہءپاکستان کےعمرانی پہلووں کا تحفظ کیا جاسکے۔ علامہ محمد یوسف جبریل کےشعری مجموعوں ، نغمہءجبریل آشوب ، خواب جبریل اور سوز جبریل میں اسلامی جمہوریہءپاکستان اور اسلامی تعلیمات کو بطور خاص موضوع سخن بنایا گیا ہی۔ علامہ امحمد یوسف جبریل اپنے شعری مجموعے”نغمہءجبریل آشوب “ میں رقمطراز ہیں کہ ” حالی مرحوم نےنوحہ کہا ، ملت سامنےپائی۔ اقبال نےشکوہ کیا کہ ملت کا ماضی اور متقابل نظر آیا ۔ جبریل نےنعرہ مارا کہ نقارےکی صدا گونج رہی ہی۔
٣ ڈاکٹر جاوید اقبال نےمیرا مسودہ دیکھ کرکہا تھا کہ انداز فکر حضرت اقبال کا سا ہےاور ایک لحاط سےکلام ان کی صدائےبازگشت ہی“۔ علامہ محمد یوسف جبریل مزید حقائق سےپردہ اٹھاتےہوئےتحریر کرتےہیں کہ ” شملہ کانفرنس کےدوران قائد اعطم انگریز اور کانگریسی وفد کی ہٹ دھرمی کی وجہ سےپاکستان کےحصول میں ناکام ہو رہےتھے۔ قدرت مجھےدہلی لےگئی۔ اورنگ زیب روڈ پر قائد اعظم سےملاقات ہوئی ۔میرےمنہ سےنکلا ۔ ” قائد اعظم ! آپ حکم کریں ۔انشاءاللہ۔آپ ہمیں فرمانبردار پائیں گے۔ اس کےبعد حضرت قائد اعطم پاکستان کےمطالبےپر سخت مضبوط ہو گئی۔ اور اللہ تعالی کےفضل و کرم سےکامیاب و کامران ہوئی۔
علامہ محمد یوسف جبریل نےاپنےشعری مجموعےخواب جبریل میں دعائیں عرش پر ہوتی ہیں پاکستان کی خاطر“، پاکستان کا ٹکڑا امانت ہےامانت ہی، اےعرض کشمیر، علامہ مشرقی کی وفات پر خاکساروں کےشدید گریہ سےمتاثر ہو کر لکھی گئی ایک نظم ، شعلہ ءگردوں، یعنی شہیدوں کےچراغ کےعنوان سےگمنام شہید ، بیاد میجر طفیل شہید، بیاد کیپٹن سرور شہید، بیاد میجر عزیز بھٹی ، ، بیاد راشد منہاس شہید، جیسی منظومات میں تشکیل و تعمیر پاکستان کےسلسلےمیں شہدائےوطن کی قربانویں کو بےمثال خراج عقیدیت پیش کیا ہی۔ جس سےیہ پتہ چلتا ہےکہ وطن عزیز سےگہرا جذباتی لگاو رکھتےہیں۔ وہ اپنی منظومات کےذریعےہمیں بار بار یہ احساس دلاتےہیں کہ ہر پاکستانی شہری کو اپنےآباواجداد کےلازاوال کارناموں کو مدن ظر رکھنےکی ضرورت ہی۔ وہ اس امر کےشدت سےخواہش مند ہیں کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی ہر دو پہولو پہلووں سےپاک سرزمین میں اسلامی نظام حیات کےعملی فروغ کےلئےمسلسل جدوجہد کرنی چاہیےتاکہ ایشیاءکےمسلامنوں کی طویل جدوجہد کا حقیقی مقصدحاصل ہو سکے۔ علامہ محمد یوسف جبریل اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ قراردیتےہیں۔
دعائیں عرش پر ہوتی ہیں پاکستان کی خاطر
مسلمانوں کےاس باندھےہوئے پیمان کی خاطر
یہ پاکستان کا ٹکڑا امانت امانت ہی
میرےایمان کا ٹکڑا امانت ہےامانت ہی
علامہ محمد یوسف جبریل وطن عزیز میں اسلامی معاشی نظام کےنفاز کےآرزومند ہیں۔ وہ اس خطہءپاک سےغربت و امارت کےمابین حائل خلئج کو پاٹنےکی شدید تڑپ سےبہرہ ور تھے۔ تاکہ تمیز بندہ و آقاختم ہو سکی۔ علامہ محمد یوسف جبریل اسلامی معیشت کےموضوع پر اپنی نطموں اور غزلوں میں انتہائی لطیف اشارےکرتےہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہےکہ وہ فلسفےکا عصاتھام کر چلتےہوئےبھی اسلوب فن کی جمالیاتی دلآویزی کو پس پشت نہیں رکھتی۔
مرےکام کچھ ہ آئی یہ بصیرت مسائل
مری سعی رہ نہ جائےکہیں تشنہءوسائل
کچھ آئینہ دکھایا جو معیشت ھدی کا
شری ناگ بن کےاٹھی میرےنفس کی حمائل
علامہ محمد یوسف جبریل جنت نظیر وادی کشمیر کو پاکستان کی شاہ رگ قرار دیتےہیں۔ وہ اس لہو رنگ دھرتی پر ہندووں کےغاضبانہ قبضےکی شدید مزمت کرتےہیں کیونکہ کہ انہیں وادی کشمیر کےکوچہءبازار میں عورتوں، بچوان اور بوڑھوں کی بےگور وکفن لاشیں مسلسل کرب و اضطراب میں مبتلا رکھتی ہیں۔ ۔ خواب جبریل می نان کی ان ایک طویل نظم اےارض کشمیر اپنےدلکش ادبی اسلوب شوکت لفظی، بلند آہنگ لب و لہجہ، اور مرصع و مسجع زبان و بیان کےاعتبار سےاردو میں کشمیر کےموضوع پر تحریر کئےگئےشعری ادب میں ایک خوشگوار اضافہ ہی۔
ارض کشمیر نگوں سار ہیں کہسار تیری
غم کی تصویر ہیں خاموش ہین گلزار تیری
کس کےماتم میں کفن پوش ہیں بازار تیری
کس کی تدبیر کی تخلیق ہیں آزار تیری
٦ ستمبر 1965 کےگمنام شہید کےنام لکھی گئی ایک خوبسصوت نظم کی تشبیہات تلمیحات، اور کنایہ و استعارہ لائق تحسین ہیں۔ نظما بیاد میجر طفیل شہید میں مجاہدوں اور غازیوں کےبےمثال کارہائےنمایاں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا ہی۔ یہ نظم شہدائے٦ ستمبر کی حریت فکر اور ولولہ انگیز شوق شہادت کو باحسن و خوبی سامنےلاتی ہی۔
لکھ گیا پنےلہو سےعرش پر ملت کا نام
اےشہید ملت عالی قدر تجھ کو سلام
علامہ محمد یوسف جبریل نےمختلف النوع علوم و فنون کا انتہائی عمیق نظری سےمطالعہ کیا ان کی قوت ادراک حقائق و معارف کا تحلیل و تجزیہ کرنےکی وافر صلاحیت رکھتی ہی۔ تاریخ ادبیات مسلمانان پاک و ہند پر ان کی گہری نظر تھی ۔ تقابل ادیان ،اور جدید ایٹمی سائنس پر ان کےفلسفیانہ استدلال سےصرف نطر ممکن نہیں ۔
1965 ءمیں جب پاکستان پر حملہ ہوا تو علامہ محمد یوسف جبریل فوری طور پر پاکستان ایئر فورس میں اپنی خدمات سرانجام دینےکےلئےمحاذ جنگ پر پہنچ گئے۔جنگ کےدنوں میں انتہائی وائرلیس اوپریٹر کی بھرپور ڈیوٹی دی ۔ اور جوں ہی جنگ ختم ہوئی واپس چلےگئی۔ محمد یوسف سیولین اوپریٹر پی اےایف سٹیشن ڈیلیو او ٹی کییبن کےطور پر لاہور میں مقیم رہےجس سےیہ پتہ چلتا ہےکہ قدرت نےانہیں ارض پاکستان کی حفاظت کےلئےخصوصی ذمہ داری سونپی تھی۔ لاہور میں ان کےبھانجےعبدالغفور اور عبدالستار رہتےتھےتھوڑا سا عرضہ ان کےساتھ بھی مقیم رہی۔ بعد ازاں وہاں سےچلےگئی۔ وہ وہاں پر ایک عربی دوست خلیل عبدالحمید کااکثر اظہار کیا کرتےتھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر محمد عارف سیمابی
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 49
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 46
    It is my honor to inform you that third DVD of Media Productions of Yousuf Jibreel Foundation is released. Any one interested in getting it can send a blank DVD. Contents of DVD are given below. All these videos are also available online on our youtube and facebook channels. 1.…
  • 46
    علامہ محمد اقبال ترجمان حقیقت ،شاعر مشرق اور حکیم الامت فلسفی شاعر کی حیثیت سےنہ صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان بلکہ پورےعالم اسلام میں جانےپہچانےجاتےہیں۔ آپ نےاردو کی کلاسیکی شاعری کےمخصوص استعارات اور تلازمہ کاری کو مسلم تشخص، احساس خودی، ملت اسلامیہ کےعروج کےلئےاستعمال کیا ۔ علامہ محمد اقبال نےتاریخ اسلام…
  • 43
    علامہ محمد یوسف جبریل لمحہ موجود کےبالغ نظر دانشور ، فلسفی، دانائےملت، شاعر اور ادیب تھی۔ آپ نےاپنےرشحاتِ قلم کےذریعے نصف صدی تک امت مسلمہ کےحساس طبقےکو علم و دانش کی روشنی سےمنور کیا۔آپ نےمسلم مفکراور ایٹمی سائنس دان کی حیثیت سےعالم انسانیت کو ایٹمی جہنم سےبچانےکےلئےبھرپور جدوجہد کی ۔تاکہ…
  • 43
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 43
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 42
    It is my honor to inform you that sixth DVD of Media Productions of Yousuf Jibreel Foundation is released. Any one interested in getting it can send a blank DVD. Contents of DVD are given below. All these videos are also available online on our youtube and facebook channels. 1.…
  • 41
    ”میرے٢٢ اپریل کےاقراءکےمضمون کےسلسلہ میں مختلف نادیدہ دوستوں کےتاثرات پر مشتمل خطوط موصول ہو رہےہیں۔ جن میں تحسین اور مذمت و ذم دونوں کا پہلو موجود ہے۔اگرچہ ان کی حیثیت نجی ہی۔ لیکن خصوصیت سےایک پروفیسر جناب عبد الرحمن صاحب شعبہءکیمیاءکےخط کےمندرجات جستہ جستہ مقامات سےقارئین کی دلچسپی کےلئےپیش ہیں۔…
  • 41
    ”محمد گل نازک کی نازک خیالیاں“ تحریر ©: محمدعارف اردو غزل کےارتقائی مطالعےسےیہ نکتہ بالتصریح مترشح ہوتا ہےکہ محمد قلی قطب شاہ سےلےکر لمحہءموجود تک مختصراور طویل ہر دو بحور میں طبع آزمائی کی گئی۔ دبستان لکھنوءکےاہم شاعر استاد امام بخش ناسخ نےایک ہی بحر، قافیےاور ردیف میں سو سےزائد…
  • 38
    علامہ محمد یوسف جبریل عصرِ حاضر کی نابغہ ءروزگار علمی اور ادبی شخصیت کےطور پر ابھری۔ آپ نےقومی اخبارات و جرائد میں ایٹمی جہنم سےبچاو کی تدابیر کےلئےسینکڑوں مضامین تحریر کئی۔ اردو کےمعروف محقق اور دانش ور ڈاکٹر تصدق حسین راجا نے”علامہ محمدیوسف جبریل حیات و خدمات“ میں ان کےسوانحی…
  • 38
    الفقر فخری ، شہنشاہ ولایت، حضرت پیر سیدعبدالقادرجیلانی کی سرزمین عراق کے نزدیک عراق کےقرب و جوار میں ” مصیب“ کی مقدس فضاوں میں سانس لینےوالےنوجوان محمد یوسف کےوہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ مجھےایک دن دنیا بھر کےسامنےایٹمی ہتھیاروں کےخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر…
  • 37
    علامہ محمد یوسف جبریل کا تازہ شعری مجموعہ ” خوابِ جبریل“ حال ہی میں منظر ِعام پر آیا ہےجس میںان کی طویل نظم ”گریہ ءنیم شبی“ خواب جبریل کےعنوان سے٤١ نظمیں ، لائحہ عمل (٢ منظومات) فرقان ( ایک نظم) معجزہ (٣نظمیں) نوید صبح (٢نظمیں) دعا ئیءنیمہ شب ، اسلامی…
  • 36
      علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں…
  • 36
    It is my honor to inform you that Seventh DVD of Media Productions of Yousuf Jibreel Foundation is released. Any one interested in getting it can send a blank DVD. Contents of DVD are given below. All these videos are also available online on our youtube and facebook channels. 1.…
  • 35
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 35
    It is my honor to inform you that second DVD of Media Productions of Yousuf Jibreel Foundation is released. Any one interested in getting it can send a blank DVD. Contents of DVD are given below. All these videos are also available online on our youtube and facebook channels. 1.…
  • 35
    ”نعرہ جبریل“ علامہ یوسف جبریل کا شعر ی مجموعہ ہے۔ ان کی شاعری میں الہامی کیفیت پائی جاتی ہےجس سےمستقبل کی نشان دہی اس انداز سےہوتی ہےکہ ان کی فکری پرواز کو پیشین گوئی کہنا بےجا نہ ہوگا۔ علامہ یوسف جبریل اگرچہ عمر کےاعتبار سےناتوانی کی منزل پر پہنچ چکےہیں…
  • 34
    حج دا سفر نامہ تحریر: محمدعارف (ٹیکسلا) ڈاکٹر سید عبداللہ ”سرزمینِ حافظ و خیام از مقبول بیگ بدخشانی “ میں رقم طراز ہیں کہ ” ایک کامیاب سفر نامہ وہ ہوتا ہےجو صرف ساکت و جامد فطرت کا عکاس نہ ہو بلکہ لمحہءرواں میں آنکھ، کان ، زبان اوراحساس سےٹکرانےوالی…
  • 34
    جدید صنعتی شہر واہ کےقریب سےگذرتی ہوئی شاہراہ اعظم کےکنارےپرانی جوتیاں گانٹھنےوالےموچی کےپاس بان کی ٹوٹی ہوئی چارپائی پر اکثر و بیشتر ایک بابا بیٹھا نظر آتا ہی۔ سر پر پگڑی، پاوں میں ہوائی چپل دیہاتی طرز کا ڈھیلا ڈھالا لباس الجھی الجھی بکھری ہوئی زلفیں، اور غیر تراشیدہ بڑھی…
  • 33
    علامہ محمد یوسف جبریل شعرا میں شمار نہیں ہوتے۔ اور نہ ہی درحقیقت ان کا میدان شاعری ہے۔ مگر اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علامہ محمد اقبال کی فکر تازہ اور اسلوب فن سے گہری مماثلت رکھتے ہیں۔ قدرت کاملہ نے علامہ اقبال کو وہ…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Subscribe By Email for Updates.
Copied!