علامہ یوسف جبریل کی زندگی کےبارےمیں

016
ikramullah
علامہ یوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھاجاسکتا ہی۔ وہ سال ہاسال سےمسلمان عالم کو بیدار کرنےمیں مصروف عمل ہیں۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیاکو امن اور سلامتی کا پیغام دےرہےہیں۔ علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب و غریب ہی۔ انہوں نےنہ صرف اردو بلکہ انگریزی زبان میں بھی کتابیں اور مضامین لکھےہیں۔ اپنےخیالات کی تبلیغ و اشاعت اور اپنےشعلہءدل کو تابناک بنانےکیلئےشعر کا بھی سہارا لیا ہی۔ ان کی زندگی کا آغاز انگریزی فوج میں ایک سپاہی سےہوا۔انہوںنےانگریزی قوانین کی خلاف ورزی کرتےہوئےعراق کےجیل خانہ مصیب میں کورٹ مارشل کی سزا برداشت کی۔ علامہ صاحب کو گورکھا ٹوپی نہ پہننےکی پاداش میںکورٹ مارشل کی سزاتجویز ہوئی ۔ اگرچہ ان کو کڑی سےکڑی سزا کی رضامندی ہوئی۔لیکن لندن سےانگریز آرمی کو یہ انتباہ ملا کہ عین اس وقت جب دشمن تمہارےسامنےہی۔ تم ایک مسلمان سپاہی محمد یوسف کو گورکھا ٹوپی پہننے کی پاداش میں سپاہی محمد یوسف کو پھانسی کی سزا دیکر اڑھائی لاکھ مسلمان فوجیوں میں نفرت اور بغاوت کا بیج بوناچاہتےہو۔ علامہ صاحب کو پچیس برسکی عمر میںجیل بھیج دیاگیا۔وہاں ان کو تجلیات الہی دیکھنےکاموقع ملا۔علم و تعلیم و تعلم کا آغاز کیا۔اور اپنی خداداد صلاحیتوں سےاسلامی تعلیمات کو فروغ دینےمیں مصروف رہی۔وہ قران حکیم کےتلمذ اقبال کےشیدائی اور ہادیءاکرم تاجدار عرب ، عرب و عجم حضرت محمد کےفدائی ہیں۔
علامہ یوسف جبریل کا تعلق وادی سون سکیسر کےگاوں کھبیکی سےہی۔ انہوں نےکسی سکول، کالج، یا یونیورسٹی سےتعلیم حاصل نہیں کی۔ بچپن ہی سےتعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔ لیکن بعد میںانگریزی، عربی ، فارسی زبان کےعلاوہ بےشمار زبانوں پر عبور حاصل ہوا۔ یہ سب کچھ روحانی سلسلہ تھا۔ علامہ صاحب فرماتےہیں۔ شملہ کانفرنس کےدوران قائداعظم انگریزی اور کانگریسی وفد کی ہٹ دھرمی کی وجہ سےپاکستان کےحصول میں ناکام ہو رہےتھی۔ قدرت مجھےدہلی لےگئی ۔ اورنگ زیب روڈ پر حضرت قائد اعظم سےملاقات ہوئی۔ میرےمنہ سےنکلا۔ قائداعظم آپ حکم کریں۔انشاءاللہ آپ ہم کر فرماں بردار پائیں گی۔ قائد اعظم پاکستان کےمطالبےپر سخت مضبوط ہو گئی۔ اور اللہ تعالیٰ کےفضل و کرم سےکامیاب و کامران ہوئی۔
علامہ صاحب نے 1963 ءمیں شہرہ آفاق مستشرق اینی مری شمل سےمذاکرہ کیا۔اور اسےقران حکیم میںقدیم و جدید فلاسفی آف اٹامزم اور ایٹمی سائنس دکھائی۔ تو وہ لاجواب ہو گئیں۔ بعد میںاس نےاسلام قبول کر لیا۔علامہ صاحب نےروئےزمین کےایٹمی سائنس دانوں کو چیلنج کیا۔کہ وہ قران حکیم کی سورة الھمزہ پڑھ لینےکےبعد بھی سب اکٹھےہو کر نیووکلر فائر کی اتنی ہی مختصر، ایسی ہی جامع تعریف، و تخصیص پیش کریں۔جیسا کہ قران حکیم میں موجود ہی۔ اس سائنس کےدور میں سائنس کی بنیاد پر وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکیں گی۔جیسا کہ نزول قران کےدوران عرب لوگ فصاحت و بلاغت کی بنیاد پر قران حکیم کےمقابلے میں ایک سورة بھی پیش نہیں کرسکتےتھی۔ اور انہوں نےروئےزمین کےجدیدی فلسفیوں کو بھی چیلنج کیا ہی۔ کہ وہ قران حکیم کی سورة الھمزہ پڑھ لینےکےبعدسب اکٹھےہو کر یہ فیصلہ دیں۔ کہ جس طرح قران حکیم نےسورةالھمزہ میں جدید وقدیم اٹامزم کےفلسفےکو دنیا میں نمودار ہونےوالےایٹمی جہنم (ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری) کی بنیاد قرار دیا ہی۔ حالانکہ قدیم اٹامزم پچیس سو برس قدیم ہی۔ اور جدید اٹامزم سترہ سو پہلےظاہر ہوا۔ ایٹمی جہنم بیسوی صدی میں نمودار ہوا۔ کیاایسا کرنا انسانی ذہن کےلئےممکن ہی۔ کیا اللہ تعالی ٰ کےبغیر یہ بات چودہ صدیاں قبل کسی کےعلم میں تھی۔ فلسفی علامہ صاحب کےجواب میں ہرگز یہ نہیں کہہ سکتے۔ کہ زہن انسانی کےلئےایسا کرنا ممکن تھا۔ قران حکیم میں حطمہ کی حقیقت کا انکشاف اللہ تعالیٰ کےفضل و کرم سےعلامہ یوسف جبریل کےذمےتھا۔ اور قران حکیم ہی نےانسانیت کو ایٹمی جہنم سےنجات کاطریقہ بتایا۔
علامہ یوسف جبریل جب ڈاکٹر جاویداقبال ، حضرت علامہ اقبال کےفرزندسےملی۔ تو انہوں نی ان کو علامہ اقبال کی کرسی پر بٹھایا۔ اور کہا کہ مجھےآپ کےکلام سےاپنےوالد کی خوشبو آتی ہی۔ اور ان سے کلام جبریل سنا۔ اور روتا رہا۔
علامہ صاحب کی کتاب جبریل اسلامک بم کی اشاعت کےبعدامریکہ، یورپ اور دوسرےمخالف ممالک کا پاکستان کےاسلامی بم کےخلاف پروپیگنڈا یک دم ختم ہو گیا۔
1968 ءمیں اسلام آباد کےشہرزار ہوٹل میںدنیا بھر کےسفیروں کےسامنےقران حکیم اور ایٹم بم کےموضوع پر تقریر کی۔تقریر ختم ہونےپر روس کےسفیر نےعلامہ صاحب کےپاس آ کر مصافحہ کی۔ا اور کہا۔ The most thought provoking lecture Ihave heard in my life. یعنی سب سےزیادہ فکر انگیز تقریر جو میں نےاپنی زندگی میں سنی ہی۔“ اس کےبعد امریکی سفیر ان کےپاس آئی۔ اور اس نےبھی وہی جملہ کہا۔ جو روس کےسفیر نےکہا تھا ۔ البتہ اس کا مصافحہ کچھ زور دار تھا ۔ شگاکو امریکہ کیBulletin of the atomic scientist ۔ Newsweek, Time ۔ پاکستان ٹائمز، concept, News اور اس کےعلاوہ سینکڑوں اخبارات اور رسائل میں ان کےمضامین شائع ہوئی۔
1964 ءمیں علامہ صاحب کےاستفسار کےجواب میںانگریزشہرہ آفاق فلسفی برٹرینڈ رسل نےآپ کو لکھا۔ کہ ” جب سےآدم اور حوا نےگندم کا دانہ کھایا ہی۔ انسان نےہر وہ حماقت کی ہی۔ جو وہ کرسکتا ہی۔ اور انجام ایٹمی جہنم ہی۔“
لیکن علامہ صاحب کو سورة الھمزہ نےناامید نہ ہونےدیا۔ ویسےرسل کا تجزیہ موجودہ حالات کو دیکھتےہوئےکچھ غلط نہ تھا۔ مگر اللہ تعالی ٰ نےاپنی مہربانی سےقران حکیم میں ایٹمی جہنم سےبچنےکی تدبیر بتا دی ہی۔
علامہ صاحب بچپن میں پرائمری پاس کئےبغیر سکول سےبھاگ گئی۔ پچپن برس کی عمر میں 1942 ءمیں دوسری جنگ عظیم کےدوران بغدادو کربلاکےقریب ایک مقام مصیب میں انہوں نےکئی روحانی خوابدیکھی۔ وہ انڈین آرمی میں سپاہی تھی۔ بعد میںحوالدار بنے۔ ایک حکم آیا جس میں اسلام پر زد پڑتی تھی۔ جس پر علامہ صاحب نےماننےپر انکار کر دیا۔ ہندوستانی میجرنیGOC مڈل ایسٹ جنرل الیگزینڈر کےخط کےساتھ علامہ صاحب کےسامنےفوجی سٹار پھیلا کر کہا جو کہو میں یہاں سےتم کو بنا کر (یعنی کرنل جنرل وغیرہ) بھیج دیتا ہوں۔ مگر علامہ صاحب نےقطعی طور پر اسسےانکار کردیا۔ انگریزمڈل ایسٹ میںڈھائی لاکھ مسلمان ہندی فوجیوں کےردعمل سےبےحد خوف زدہ تھا۔ علامہ صاحب کا کورٹ مارشل کردیا گیا۔ اور پھر چالیس برس یعنی 1982 ءتک شب و روز علم کےحصول میں منہمک رہی۔ اردو ، فارسی، عربی، انگریزی، زبان، ادب،قران حکیم، توریت، زبور، انجیل کی تفسیر و تشریح ،۔ سائنس ، ایٹمی فزکس تک، فلسفے ڈارون اور رسل تک، تواریخ جغرافیہ اور دوسرےقدیم و جدید علوم حاصل کئی۔ اور آخر کار انگریزی زبان میںچودہ جلدیں اردو میں چودہ جلدیںتحقیقی لکھیں۔ جو سب کی سب ایٹمی جنہم کےمتعلق قران حکیم اور سائنس کےحوالےسےہیں۔ آپ نے1942 ءمیں مختلف خواب دیکھی۔1961ءمیں معلوم ہوا کہ علامہ صاحب کا مشن انسانیت کو ایٹمی جہنم یعنی حطمہ سےآگاہ کرنا ہی۔ علامہ صاحب نےجو کچھ لکھا ہی۔ وہ خوابوں پر انحصار نہیں کیا۔ بلکہ انسانیت کےسامنےعلمی دلائل پیش کئےہیںَاور آپ نےہر بات سائنس اور قران حکیم کےحوالےسےلکھی ہی۔ سارا علم انہوں نےبغیر کسی استاد سےحاصل کیا۔ یہ عجیب بات ہی۔ تاہم اللہ جو چاہےکر سکتا ہی۔ علامہ صاحب کی پیدائش 17 فروری1917 ہےموضع کھبیکی میں ایک اعوان خاندان میں ہوئی ۔اللہ تعالیٰ انسانیت کو اس دنیا کےایٹمی جہنم اور اگلی دنیا کےحطمہ کےدردناک عذاب سےبچائی۔آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکرام اللہ
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 49
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 42
    الفقر فخری ، شہنشاہ ولایت، حضرت پیر سیدعبدالقادرجیلانی کی سرزمین عراق کے نزدیک عراق کےقرب و جوار میں ” مصیب“ کی مقدس فضاوں میں سانس لینےوالےنوجوان محمد یوسف کےوہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ مجھےایک دن دنیا بھر کےسامنےایٹمی ہتھیاروں کےخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر…
  • 39
    علامہ محمد اقبال ترجمان حقیقت ،شاعر مشرق اور حکیم الامت فلسفی شاعر کی حیثیت سےنہ صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان بلکہ پورےعالم اسلام میں جانےپہچانےجاتےہیں۔ آپ نےاردو کی کلاسیکی شاعری کےمخصوص استعارات اور تلازمہ کاری کو مسلم تشخص، احساس خودی، ملت اسلامیہ کےعروج کےلئےاستعمال کیا ۔ علامہ محمد اقبال نےتاریخ اسلام…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply