علامہ یوسف جبریل کا جہدِ مسلسل

024

rizwanyousaf

 

ہر انسان کو اللہ تعالی نےکوئی نہ کو ئی خوبی عطا کی ہوتی ہےاور یہ کہ ہر انسان میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اگر بہت سی صلاحتیں اور خوبیاں ایک انسان میں یکجاہوجائیں تو یہ کمال حیرانی کی بات ہوتی ہےاگر انسان اپنےاندر پائی جانےوالی ان ایک یادو صلاحیتوں کوپالےاور اس پر محنت کرلےتو وہ کمال رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔یہ رتبہ دنیوی بھی ہو سکتا ہےاور اخروی بھی اور بعض صورتوں میں دونوں بھی گنےچنےانسان ایسےہوتےہیں جو بےانتہاصلاحتیوں اور خوبیوں کےمالک ہوتےہیں اور اگر وہ ان صلاحیتوں کےحوالےسےمحنت بھی کریں تو رتبہ اور مقام بھی بےانتہاملتا ہےکچھ لوگ جنکواولیاکرام نےمونث کہا ہےاپنی صلاحیتوںکو آخرت میں جنت کےحصول کیلئےاستعمال کرتےہیں وہ بھی کامیامی ہی ہےاور اکثیریت لوگ جنکواولیاکرام نےمخنث یاہیحبڑا کہاہےاپنی صلاحیتیں صرف لعین وفانی دنیا کیلئےاستعما ل کرتےہیں اور بہت ہی قلیل انسان ایسےہوتےہیں جو مرد کہلاتےہیں اور اپنی صلاحیتوںکو اللہ اور صرف اللہ کی خوشنودی ورضاکیلئےاستعما ل کرتےہیں اور اللہ بس اللہ ماسوٰی اللہ سب ہوس کی عملی تصویر ہوتےہیں اس دنیا میں آپ کو سائنس دان بھی ملیں گےمعیشت دان بھی سخت اور پختہ انگریزی ،عربی ،فارسی بولنےوالےوالےبھی ہیں ،معاشرت کےعلوم کےایکسرٹ بھی ہیں فقہ وحدیت کےجاننےوالےبھی بےشمار ہیں قرآن کی تفاسیر بھی کافی لوگوں نےلکھی ہیں نیو کلئرسائنس ،ریاضی ،طبیعات یعنی physics،کیمیایعنی chemistryکےماہرین بھی ہیں حکمت پر کام کرنےوالےبھی بہت لوگ آپکو ملےہوں گےانگریزی ،اردو ،عربی ،فارسی لڑیچر کےماہرین بھی آپ نےدیکھےہوںگےاور بہت سےشاعر بھی موجودہیں ان میں سےجوشخص بھی ہو گا وہ زیادہ سےزیادہ دو یاتین علوم کی انتہاتک پہنچاہو گا لیکن پھر بھی اس موجودہ دورِفریب میں اس علم کا تنقید ی پہلو اسکی نگاہوں سےاوجھل ہو گا دوسرےلفظوں میں اندر کا علم یا باطنی پہلو بیان کرنےسےقاصر ہوگا کیونکہ اسکےپاس فقر کی دولت نہ ہو گی اور وہ کہیں نہ کہیں ایسی بات ضرور کردےگا جو الحاد زدہ ہوگی اور دین متین کی حقیقی روح سےٹکراتی ہوگی ۔اگر کوئی ایک انسان دنیا کےاتنےزیادہ علوم کاماہر ہو اور ان پر پائی جانےوالی الحادیت کی چھاپ کو اتارنےکیلئےاس انداز میں تنقید کرےکہ دنیا پرستوں کےنفس پر ضرب لگےاور الحادزدہ سٹم میں کاٹ ہو اور وہ لا لچ سےبھی دور ہوتو ماننا پڑےگا کہ وہ اللہ جل جلالہ کےخاص الخا ص بندوں میں ہےجو اللہ کی طرف سےخصوصی مشن لےکر آیا ہےاس انسا ن کو دنیا علامہ محمد یوسف جبریل کےنام سےجانتی ہے1942ءمیں حضرت خضر اور حضرت سیدناعبدالقادر جیلانی کی سفارش پر حضرت ابراہیم کی طرف سےعلامہ صاحب کو ایک مشن سونپاگیا اور حضرت ابراہیم سےنسبت کی وجہ سےابراہیمی مشن کہلاتا ہےاور اس سےقبل حضرت علامہ محمد اقبال بھی اس سےوالبستہ تھے
یہ دور اپنےابراہیم کی تلاش میں ہے
آگ ہےاولاد ابراہیم ہےنمرور ہے
کیا کسی کو پھر کسی کاامتحان مقصود ہے
اور اگر آپ ابراہیمی مشن کا دستور پڑھنا چاہیں تو خودی کا سر نیہاں لاالہ الاللہ والی نظم پوری پڑھیں ۔علامہ اقبال ایک شاعر ہی نہیں ایک ولی اللہ بھی تھےاور مستقبل اور حال پر گہری باطنی نگاہ رکھتےتھی۔اسی لئےتو فرمایا
کھول کر آنکھیں مرےآئینہ گفتارمیں
آنےوالےدور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ
آز مودہ فتنہ ہےاک اور بھی گردوں کےپاس
سامنےتقدیرکےرسوائی ءتدبیردیکھ
حضرت ابراہیم کا دور بتو ں کادور تھا اور جدید دور بھی بتوں کا دور ہےمگر بقول علامہ یوسف اس جدید دور کےبت اتنےجدید ہیں کہ انہیں بت سمجھا ہی نہیں جاتا۔ حضرت ابراہیم کوا گ میں ڈالا گیا ۔جدیدد ور کےابراہیمی مشن والوں کو ایٹمی آگ میں کو د کر اسےگل وگلزار کرنا ہےحضرت ابراہیم نےبڑےبت کو چھوڑ کر کمال بصیرت کا مظاہرہ کیا اور جدید بیکنی کلچر کےخاتمےکیلئےبھی کمال بصیرت ، ہوشمندی اور دانش کےمظاہرہ کی ضرورت ہے۔لہذادنیا کےموجودہ سیاسی ،معاشی،مذہبی ، تقافتی ، معاشرتی سائنسی نظاموں میں پیداہونےعالمی الحادی فتنےکےخاتمےکیلئےاور اسلام کےنظاموں کےان تمام شعبوں پر نفاذکیلئےسینہ سپر ہونےکی بےانتہاضرورت ہےاور اسکا لائحہ عمل بھی علامہ صاحب یوںپیش کرتےہیں ۔
غلامی میں نہ کام آتی ہیں تدبیریں نہ شمشیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
یقین محکم ، عمل پیہم ، محبت فاتح عالم
جہاد زند گانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
پھر اس ابراہیمی مشن کی بدولت علامہ صاحب وارفتہ ءعلم ہو کر بحر علم و معرفت میں اس قدرغوطہ زن ہوئےکہ اُنکےدل کا چین عنقااور راتوں کی نیندیں حرام ہو گئیں ۔دنیا ومافیہا سےبےخبر ایک بلبل افعی گزیدہ کی طرح عالم وار فتگی میں قریہ قریہ گلی گلی پھرےیہاں تک کہ تن کی دنیا من کی دنیا میں محوہوگئی ۔زندگی کی تمام راحتیں ،تمام آسائشیں اس مشن کی تکمیل کیلئےقربان کردیں روح کی تسکین ان تکلیفوں کےسامنےماند پڑ جاتی ہیں جو علمی مجاہدےمیں ایک طالب علم کو لاحق رہتی ہی۔ جوع وعطش سےبےنیاز ہوکر سال ہاسال کبھی شعروسخن کےگلزاروں میں تو کبھی الفاظ ومعانی کی لازوال دلکشیوں میں گزاری، کبھی قرآن کےموتیوں سےچراغاں کرنےتو کبھی احادیث نبوی کی مقدس رعنائیوں میں متبسم و مسرور اور فزکس ، کمسٹری ، آرٹ ،ادب ،بائیولوجی ، معیثت سیاست سمیت دنیا کےتمام علوم وفنون نہ صرف سکھیےبلکہ ہر نکتےاورہر پوائنٹ پر غورو فکر کیا اور اسکےسقم وخوبی کو پر کھا مگر انکی تگ دو صرف ظاہری علوم وفنونِ قدیمہ وجدید ہ تک ہی محدور نہیں رہی بلکہ ساتھ ساتھ روحانی اور اخلاقی منازل بھی طےہوتی رہیں آنحضور نےحضرت علی کرم اللہ وجیہ الکریم کو نصیحت فرمائی تھی کہ اےعلی! دوسرےلوگ جب عبادات وریاضت کےذریعےقرب الہی کو تلاش کریں تو علمی منازل طےکرکےقربِ الہی حاصل کرو ۔اسی بصیرت افروز نصیحت کو مدنظر رکھتےہوئےعمل پیہم کی طرف قدم بڑھایاتو معلوم ہوا کہ علم سےبھی وہ روشنی انسانی سنیےمیں پیدا ہو سکتی ہےجو کسی دوسری ریاضیت یا مجاہد ےسےپیدا ہوتی ہے۔ سالکین ِراہ تصوف میں جو توجہ با طنی مجاہد ےمیںذکر اللہ کےدوران ضربات کی صورت میں اپنےقلب وروح پر ڈال کر باطنی روشنی پیداکرتےہیں انہوں نےوہی توجہ اسی انداز میں الفاظ ومسائل پر ڈالنی شروع کی اور اپنےسینےمیں انہیں روشن کیا یہ مسلک طریقت ہی کافیضان تھاکہ تمام صبرآزما ہرہ گدازیوں کو بہ کمال صبر وضابرداشت کرتےہوئےمنبع معرفت اور سر چشمہ حقیقت کی جلال آفرین اور خیرہ کن روشنی کےسایوں تلےپناہ لی۔ یہ سب حُبِ رسول اور عشق قرآن حکیم کا صد قہ تھا کہ بالآخر نگاہ وہاں تک پہنچی کہ الحاد زدہ روشنی کےفلک بوس علمی مینار ایک سادہ لوح ان پڑھ مگر صادق وباعمل مسلمان جس کا علم صرف کلمہ شہادت اور پنج ارکان اسلام تک محدود ہو ،کےمقابلےمیں ہیچ نظر آئی۔ نگاہ جہاں بین کا حقیقی مرکز دور جدید کا ڈھنڈورچی فرانسس بیکن اور امام ملحدین چارلس ڈارون ٹھہری۔ یورپ کےعروج کےدور میں آنےوالےدیگر عالی مر تبت فلسفی ازقبیل سپی نوزالیب نیز ،ہیگل ، بر گسان ،کانٹ ، نیٹشے، ہکسلے، سپنسر ڈیوڈ ھیوم ، فرائیڈیونگ ، سر جیمزجینز وغیر ہ بھٹی کےبطن سےاٹھ کر فضامیں اڑنےوالےشرر سےبڑ ھ کر نہیں ۔ان سب کےمضامین جزوی اور نگاہیں محدود تھیں جہنوں نےدور جدید کےالحاداور بےدینی کو روکنےکی اور بعض نےبڑھانےکی کوشش کی اول الذکر اس ریلےمیں دب کررہ گئےآخر الذ کر اس دور کےفکری میلان اور ذہنی رجحان کا صدقہ ابھی تک سب عظیم فتنےکو ہوا دےرہےہیں ۔انہوں نےسپی نوزا ، لیب نیز ، ہیگل ،برگسان ، کانٹ ،نیٹشے، ہکسلے، سپنسر ، ڈیوڈہیوم ، فرائیڈ یونگ ، جیمر جینز، ولیم جیمز ، بیکن، ڈارون ، ہیومر ، دانتے،و رجل ، ملٹن ، شیکسپئر، ورڈزور تھ ، بلیک ،کیٹس ،شیلے، ڈکنز ، گبن ، برکلے، تھامس ہابس، براک ،ہینڈکٹ ، غاٹ فرائیڈ ولیم لیب نیز ، فرائیڈرک ولیم ، افلاطون ،ارسطو ، دیمو قراطیس ،رودکی ،رومی ،عطار ،فرخی ،سنائی ،قاآنی ،خاقانی ،عرفی ، نظیری ،انوری ،شداد ،انشاء، سودا ،دبیر ،انیس ،ذوق ،غالب ،شبلی نعمانی ،حالی ،اقبال ،حافط ،ملٹن ،بر ٹرینڈرسل ، غرض یہ کہ سائنس سےلےکر فلسفہ ، عربی اردو فارسی انگریزی شاعری سےلےکر نثر تک ہر چیز کا مطالعہ کیا، جو قابل ذکر نکتہ بھی اٹھااس پر غور کیا اور اپنی رائےقائم کی تاہم اُنکےنزدیک مرکزی حیثیت قرآن حکیم کو حاصل تھی ۔قرآن حکیم کو کسی دوسرےعلم کی حاجت نہ تھی بلکہ قرآن فہمی کا حق ادا کرنےکرنےکیلئےہر علم کی حاجت تھی مقصد نہ تو امتحان پاس کرناتھا نہ ڈگریوں کا حصول کہ صدارت کےصوفےمیں دھنس کر محو حواب نہ ہو جائیں اسلئےکا نٹو ں کی سیج بچھائی اور زندگی کےاندھیروں کےسہارےحق وباطل میں تمیز کرنےوالی نگاہ کی تلاش میں مصروف رہےاس سینہ گداز اور کمرشکن مصروفیت کےساتھ ساتھ ایک عزت مآب وآبرومند کنبےکی پرورش کیلئےتلاش ِرزق کا سلسلہ بھی جاری رہا یقول حسرت
اک طرف تماشاہےحسرت کی طبیعت بھی
ہےمشق سخن جاری ،چکی کی مشقت بھی
مغربی الحادی فلسفےک اُنہوں نےفضول اور مغربی تہذیب کو ناپسندیدہ پایا ۔مشرق کبھی بھی مغرب میں مدغم نہ ہو سکےگا بلکہ انکےدرمیان موجود خلیج وسیع سےوسیع تر ہوتی جائےگئی۔ ملت اسلامیہ کی کمزوریاں عارضی اور اوصاف پائیدار ہیں ،رفتہ رفتہ مسلمان یہودیانہ مغربی تہذیب اور دور جدید کےمقابل ہو جائیں گے۔ مسلمان نو جوان کواللہ تعالی نےبےپناہ صلاحیتیں عطاکی ہیں اور یہ مسلمان بالاآخرسائنس معاشی نظام ، معاشرتی نظام ، ثقافت، سیاسی نظام اور زندگی کےتمام متعلقہ نظاموں کو دین اسلام کےماتحت کرلیں گے۔ معاشی عدل وانصاف آکر رہےگا تو پھر غریبوں میں بوعلی سینااور زکریارازی جنم لیں گےاسلام کےنظام کی واپسی آج کی دنیا کا شدید تقاضا ہےاسلام عن قریب اس دنیا میں غالب ہو کر آئےگااور مسلمان اپنےحقیقی مقصد حیات کو ضرور پہچانیں گےانشاءاللہ
زمین دیکھ فلک دیکھ آسمان دیکھ مشرق سےابھرتےہوئےسورج کو ذرا دیکھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضوان یوسف
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 41
      علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں…
  • 40
    ہم ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں نہ تو دولت کی خوشی باقی ہے نہ غربت کے لئے صبر بلکہ خوشی اور صبر دونوں ہی فکر آلودہ اور غم انگیز ہیں۔ سب جذبات ایک دوسرے کے ساتھ گڈمڈ ہوکر کسی حد تک اپنی امتیازی خصوصیات سے محروم ہوچکے ہیں۔…
  • 36
    تصویر سے ملے تصویر تحریر رضوان یوسف ہم جانتے ہیں کہ نشہ انسان کو حقیقتوں سے آگاہ نہیں ہونے دیتا بلکہ یہ کہا جاسکتاہے کہ حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لئے نشہ استعمال ہوتا ہے ۔ ’’ نماز کے قریب مت جاؤ جب تم نشے میں ہو ‘‘ اب دیکھنا…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply