علامہ یوسف جبریل کی وفات کا حال

علامہ یوسف جبریل کی وفات کا حال
تحریر رضوان یوسف
علامہ یوسف جبریل 17 فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر خوشاب اعوان قبیلہ (الیرال گوت) میں پیدا ہوئی۔ بچپن سےہی اسلام کی محبت ان کےدل میں موجزن تھی۔ وہ مسلمانوں کو قرون اولی کےمقام پر دیکھنےکےخواہش مند تھی۔ انہیں دنیاوی تعلیم سےکوئی دلچسپی نہ تھی اور پرائمری سکول پاس کر کےسکول کو خیر باد کہہ دیا۔بعد میں فوج میں بھرتی ہو گئی۔ 18 برس کی عمر میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی سےخواب میں ملاقات ہوئی۔ وانا آپریشن 1935 ءمیں افغانوں کےخلاف جنگ میں ان کےسینےمیں جوش ایمانی کا ایک طوفان برپا ہو گیا اور ان کی زندگی کی راہ ہی بدل گئی۔ وانا کےبعد فوج نےانہیں عراق بھجوادیا مگر قدرت وہاں انہیں کسی اور مقصد کےلئےلےکر جا رہی تھی۔ انگریز نےمسلمانوں کو پگڑی اتار کر گورکھا ٹوپی پہننےکا حکم دیا مگر غیرت ایمانی نےگوارا نہ کیا اور فوج میں بغاوت کر دی۔ کورٹ مارشل ہوا اور قید ہو گئی۔ ٢٤٩١ ءمیں قید کےدوران مصیب (بغداد) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت خواجہ خضر علیہ السلام اور حضرت غوث پاک سےملاقات کا شرف حاصل ہوا اور حضرت خواجہ خضر علیہ السلام کی سفارش پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سےایک مشن سونپا گیا ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام سےانہوں نےبیعت کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جنگ بتوں کےخلاف تھی اور انہیں آگ میں ڈالا گیا جو گل وگلزار ہو گئی۔ علامہ صاحب کو جدید دور کےجدید بتوں (جن کو بت سمجھا نہیں جاتا) کےخلاف جنگ کا مشن سونپا گیا۔ 1935 ءسےلےکر 1962 ءتک کادورتجربات، مطالعےاور تحقیق کا دوررہا۔ لیکن مقصد واضح نہ تھا۔ اسی دوران عراق، ایران، ترکی، شام ، فلسطین، سعودی عرب، کویت، شارجہ، دوبئی، مسقط، ملایا، انڈیا ،اور اندونیشیا بغرض مطالعہ ومشاہدہ پھرتےرہی۔دنیا میں پائےجانےتمام علوم مثلا نیوکلر سائنس، فزکس، کیمسٹری، انگریزی ادب، عربی ادب، فارسی لٹریچر،اردو ادب، معاشیات، تہذیب و تمدن وثقافت، حدیث، فقہ، منطق، صرف و نحو،فن موسیقی،میڈیکل لائن، دینی علوم، توریت، زبور، انجیل، قران حکیم کا مکمل علم حاصل کیا۔ 1956 ءمیں پاکستان لوٹ کر وادی سون سکیسر خوشاب میں سیمنٹ فیکٹری لگانےکی ناکام کوشش کی کیونکہ اللہ تعالی کو کچھ اور منظور تھا ۔1962 ءسےلےکر 1982 ءتک تصنیف و تالیف میں مصروف رہےاور بیشمار کتب تحریر کیں۔ ان کی ریسرچ نمرود کی جلائی ہوئی ملحدانہ آگ تھرموہائیڈروجن بم سےہوئی۔ تھرموہائیڈروجن بم اور جدید دور کی ساری ترقی کی بنیاد صرف لالچ اور ہوس پر رکھی گئی ہی۔ چاہےوہ ہوس دولت کی ہےیا مادی طاقت کی۔ اس ہوس والےدور کا منطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم کا قران حکیم کی سورة الھمزہ میں انکشاف ہوا۔ اس لالچ و ہوس اور لادینیت کی بنیاد پربننےوالےباطل معاشی نظام مثلا کیمونزم، سوشلزم، جاگیرداری اور سرمایہ داری وغیرہ کاتفصیلا تقابلی جائزہ پیش کیا اور اسلام کےمعاشی نظام کےکئی پوشیدہ رازوں کو کھول کر بیان کیا۔ اس کےعلاوہ دنیا کےمختلف مذاہب کا تقابلی جائزہ پیش کیا اور جدید ترقی کےحوالےسےان کےموقف کو واضح کیا۔ موجودہ دور پر تحقیق وتدقیق کےکٹھن چالیس سال کےبعد جب احادیث پرغور کیاتو اس موجودہ دور کی پوزیشن واضح ہو گئی اور معلوم ہوا کہ نبی کریم نےجس فتنہ دجال کےمتعلق نشانیاں بیان فرمائی ہیں وہ اس نظام میں موجود ہیں۔ تاہم اس بارےمیں انہوں نےکوئی حتمی بات تحریر نہیں کی کہ یہ وہی ہےجس کےبارےمیں نبی کریم نےفرمایا۔ تاہم یہ نظام باطل ہےاور انہدام کا متقاضی ہی۔ اس مادی باطل دور کا توڑ ایک روحانی انقلاب ہی۔ جس کی بنیاد فقر پر ہو گی۔ 1983 ءسےلےکر 2006 ءتک انہوں نےگوشہ نشینی اور خلوت کا دور اختیار کیا ۔ جس کا مقصد فنا فی اللہ ہونا اور قرب الہیٰ تھا۔ جو انہوں نےحاصل کر لیا۔ وفات 5 جنوری 2006 بروز جمعرات شام چھ بج کر پینتیس منٹ پر پی او ایف ہسپتال واہ کینٹ میں ہوئی۔ آپ ایک ہفتہ قبل از موت بیمار رہی۔ جسم اور زبان اور دماغ میں خون کی کمزوری پیدا ہو گئی تھی۔ خون کی رفتار میں کمی آ گئی تھی۔ انہوں نےاپنی اولاد اور پوتوں کو آخری دن خوب خدمت کا موقع فراہم کیا اور ڈھیر ساری نصیحتیں اور فرائض بجا آوری کےاحکامات اور روحانی نظام کو آگےبڑھانےکےلئےذمہ داریاں سونپیں۔ اپنےچھوٹےبیٹےکو جو کہ کینیڈا میں تھےکےمتعلق کہا کہ میں ان کو بلاوں گا اور وہ میرےجنازےمیں شریک ہو گا۔ وفات سےقبل بہت پرسکون ہو گئےتھی۔ آنکھیں بند کیں اور منہ قبلہ کی طرف کرنےکا اشارہ دیا۔ دوبارہ آنکھ کھولی اور اس آنکھ میں وہ جلال تھا کہ ساری زندگی کبھی ہم نےان کی آنکھوں میں وہ جلال نہیں دیکھا تھا۔ کلمہ پڑھا اور روح قفسری عنصری سےپرواز کر گئی۔ دو دن رات میں پی او ایف کےڈاکٹرز حضرات نےان کی بےحد خدمت کی۔ انہوں نےانتہائی کوشش کی کہ کسی طرح علامہ صاحب ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن وہ وقت کےساتھ ساتھ کمزور ہوتےجا رہےتھی۔ڈاکٹر وسیم الدین صاحب نےبتایا کہ ہم نےبےحد کوشش کی ہےلیکن علامہ صاحب جانبر نہیں ہو سکتی۔ وہ بہت دکھ محسوس کر رہےتھےاس کےعلاوہ ڈیوٹی پر تمام ڈاکٹرز حضرات بہت پریشان تھی۔ لیکن علامہ صاحب کی کمزوری بڑھتی جا رہی تھی۔ جمعرات کو چھ بج کر پینتیس منٹ پر اپنےاللہ سےجا ملی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔بروز جمعہ بعد ازنماز جمعہ جناب عبدالرحمن صاحب،ملک محمد ریاض آف کھتکہ(احمد آباد) اور ملک مختار اعوان صاحب نےان کو غسل دیا۔ آنکھوں کی پتلیاں مسلسل حرکت میں تھیں۔ زبان اور ہونٹوں پر مسلسل قران حکیم کی تلاوت تھی۔ اور جسم سےخون رس رہا تھا۔ لوگ کہہ رہےتھےکہ علامہ صاحب شہید ہیں۔ لہذا شہید مرتےنہیں۔ بلکہ زندہ ہوتےہیں۔ ان کےبازو پر سرنج لگائی گئی تھی جس کو انہوں نےخود ہی توڑ دیا تھا۔ غسل کےموقع پر بھی اس میں سےخون رس رہا تھا۔ جو کہ ایک شہید کی نشانی ہی۔ کیونکہ موت کےبعد خون منجمند ہو جاتا ہی۔ وہ کتنی عظیم شخصیات ہوتی ہیں جنہیں مرنےسےقبل زندگی ہی میں اللہ جل جلالہ کا دیدار ہو جائےاور علامہ صاحب کےساتھ ایسا ہی ہوا۔ پیٹ جو کافی سوج چکا تھا ۔ وفات کےبعد واپس اپنی جگہہ پر چلا گیا اور چہرےپر نور کی تجلیاں آنا شروع ہو گئیں۔ کینیڈا سےآنےپر بعض اوقات مہینہ لگ جاتا ہےمگر چھوٹےبیٹےکو اس سلسلےمیں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ ان کا بیان ہےکہ کوئی غیبی طاقت مجھےٹکٹ لینےاور جہاز میں سیٹ لینےمیں جلد ی کی طرف مکمل ساتھ دےرہی تھی۔ گویا کہ میں کسی غیبی طاقت کےکنٹرول میں تھا۔ میں جہاں گیا لوگوں نےخو د بخود راستہ دےدیا۔اور جب میں جہاز میں بیٹھ گیا تو وہ غیبی طاقت جو میراپیچھا کر رہی تھی غائب ہو گئی۔ خالد ملک کےپہنچنےتک میت کو رکھنا تھا۔ کچھ وقت گزرنےکےبعد یہ خدشہ ہوتا ہےکہ کہیں میت خراب نہ ہو جائےبلکہ اکثر اوقات رنگ سیاہ ہو جاتا ہی۔ پیٹ پھول جاتا ہےمگر علامہ صاحب کی میت کو بامجبوری 52 گھنٹےرکھنا پڑا۔ مگر ان کےچہرےکانور وقت کےساتھ ساتھ بڑھتا ہی گیا۔اور بےشمار لوگ اس کا مظاہرہ دیکھتےرہی۔جناب محمد امین چشتی صاحب (خطیب جامع مسجد غوثیہ نواب آباد واہ کینٹ )نےجنازہ پڑھایا۔ جنازہ میں سینکڑوں آدمی تھےاور کثیر تعداد ابھی تک شکوہ کرتی ہےکہ ہمیں کیوں نہ اطلاع ہوئی۔ علامہ صاحب کا دوسرا جنازہ بروز ہفتہ رات ایک بجےکےبعد پڑھا گیا۔ جنازہ جناب سید کبیر حسین شاہ صاحب نےپڑھایا۔ وہ
مظفرآباد کےرہنےوالےہیں۔ اور ایک رشتہ دار کےذریعےملاقات کےلئےحضرت علامہ صاحب کی زندگی کےآخری ایام میں پیغام بھیجا تھا مگر علامہ صاحب نےانکار کر دیا اور کہا کہ ابھی ہمارےملنےکا وقت نہیں۔ جب ملنا ہو گا تو میں بلا لوں گا۔ علامہ صاحب کی وفات کےبعداتفاقا وہ نواب آباد پہنچےاور ہفتہ کےروز جو جنازہ ہونا تھا وہ انہوں نےپڑھایااور روپڑی۔ کہ مجھےکیا معلوم تھا کہ علامہ صاحب سےمیری ملاقات ایسےہونی تھی۔ان کےچالیسویں پر،جناب پیرعلامہ محمد روز صاحب، جناب پیر سیف الحق صاحب، جناب امین چشتی صاحب،جناب زین العابدین چشتی صاحب سابقہ خطیب جامع مسجد ملک آباد،قاری محمد حنیف صاحب خطیب جامع مسجد ملک آباد، نعت خوان جناب صوفی محمد انور صاحب تشریف لائےاور دعا فرمائی۔جناب سید کبیر حسین شاہ صاحب نےاس موقعہ پر ایک پرنورخطاب کیا۔ ملک آباد میں ہی ایک بزرگ خاتون اور ان کےبیٹوںنےزمین کا ایک قطعہ علامہ صاحب کےمزار ملحقہ مسجد ، مدرسےاور لنگر کےلئےوقف کر دیا ہی۔ کچھ فقیروں کو اللہ نےاپنی چادر میں چھپا رکھا ہوتا ہےاور مرنےکےبعد وہ پردہ ختم ہو جاتا ہی۔ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کےساتھ یہی کچھ ہوا ۔ان کی بےشمار کرامتیں نظر آ رہی ہیں جن کی تفصیل یہاں بیان کرنا مشکل ہی۔ تاہم ان کی سوانح حیات ترتیب دی جارہی ہی۔ جس میں تمام دوستوں سےاپیل ہےکہ وہ علامہ صاحب کی زندگی کےبارےمیں جو کچھ جانتےہیں۔ براہ کرم ان کو لکھ کر بمعہ اپنی تصویر اورشناختی کارڈ بھیج دیں تاکہ ان کی تحریروں کو سوانح حیات میں شامل کیا جائی۔ادیب اور شعراءحضرات سےاپیل ہےکہ وہ علامہ صاحب کی زندگی کےبارےمیں منظوم،ان کےکلام و فن اور ان کی کتابوں پر تبصرےلکھ کر بھیج دیں۔
علامہ محمد یوسف جبریل کی دعاجو وہ ہمیشہ مانگتےتھے
یا باری تعالیٰ ! توں عالم الغیب والشہادة ۔ توں علام الغیوب، توں علیم بذات الصدور۔ تو ارحم الراحمین توں علی کل شی قدیر ہیں۔
میں عاجز مسکین بندےدیاں دعائیں نوں شرف قبولیت عطا فرما۔ آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضوان یوسف
ادارہ افکار جبریل قائد اظم سٹریٹ نواب باد واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 34
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 31
      علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں…
  • 30
    وادی سون کی معروف روحانی شخصیات کا تذکرہ تحریر ملک محمد شیر اعوان وساوال ۔ کہتےہیں کہ قدرت جب کسی سےکوئی مخصوص کام لینا چاہتی ہی۔ تو اس کام کےلئےاسی قوم میںسےمخصوص افراد کو چن لیتی ہی۔ جو اس کام کی انجام دہی میں شب و روز ایک کر دیتےہیں۔…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply