علامہ یوسف جبریل کی شاعری

 005

arifseemabi

علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں ایک تعین کا مظاہرہ ہوتا ہےاسی طرح ان شعلوں ان چنگاریوں اور ان لہروں کی صداووں نےیعنی ان باتوں نےبھی ایک منظم پیرایہءاختیار کر لیاہی۔ انسانی طبع حاضر بین اور حاضر پسند واقع ہوئی ہےباالعموم مستقبل کی تاریکیوں میں جھانکنےسےگریزاں رہتی ہےاور ان کےکلام میں جھلکیاں مستقبل کی نظر آتی ہیں اور پڑھنےوالےکو محض ایک خواب نظر آتی ہیں اور مایوس ذہنوں کو اگر مستقبل میں کوئی شعاع اُمید کی دکھانےکی کوشش کی جائےگی تو وہ خواب ہی معلوم ہو گا۔ نیز دنیا شاعری سےلطیف ہواو¿ں اور میٹھی نیند سُلا دینےوالی میٹھی میٹھی باتوں کی توقع رکھتی ہےاور آپ اگر ان کےسامنےایک گرجتا ہوا طوفان کھڑا کر دیں تو یہ بات سُننےوالوں کی توقع کےعین خلاف ہو گی
علامہ یوسف جبریل کو سمجھنےمیں دشواری ہی پیش نہیں آئےگی بلکہ میٹھی نیند سونےکی توقع بھی پوری نہیں ہو گی میٹھی نیند سونےوالوں کو اگر جگانےکےجتن کئےجائیں تو سونےوالےپر جو گذرتی ہےوہ وہی سمجھ سکتا ہی بہر حال ان کا ایک فرض تھا سو انہوں نےحتی المقدور ادا کر دیا اس کا ردوقبول خواہ محض شاعری کےمیزان پر کیا جائےخواہ کسی اور کسوٹی پر اس کو جانچا جائےیہ قاری کا کام ہےیہ بھی ہو سکتا ہےکہ قاری حضرات” س“ اور ”ص“ کی بحث میں کھو جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہےکہ کسی حقیقت کی تلاش کی سعی کریں اگر بحث ”س“ اور” ص “میں اُ لجھ گئی تو قصہ تمام ہوا اور اگرتلاشِ حقیقت کی سعی کی گئی تو شاعر کامیاب ہوا لیکن نہ ہی ”شاہنامے“کی ناقدری فردوسی کےجنازےکو رکوا سکی نہ ہی علامہ صاحب کی محنت اللہ کےہاں ضائع ہو سکتی ہےاور اللہ راضی ہوا تو بات بن گئی
علامہ یوسف جبریل کےشائع شدہ کلام بالخصوص نغمہ جبریل آشوب میں حاضر کی منظر کشی اور مستقبل کی جھلکیاں نظر آئیں گی اور ارتقائی تقاضےنا گزیر ہیںحالی مرحوم نےنوحہ کہا کہ ملت سامنےپائی ،اقبال نےشکوہ کیا کہ مِلت کا ماضی اور حال متقابل نظر آیا، جبریل نےنعرہ مارا کہ نقارےکی صدا گونج رہی ہی دنیا میں آج محشر کا سماں ہی قومیں ایک میدان پر جمع ہو رہی ہیں قومیں ایک مشترکہ انجام کےمرکزی نقطےکی جانب گامزن ہیں جبریل کو اس منظر کی منظر کشی کرنا پڑی یہ امران کےلئےنا گزیر تھا یہیں سےان کےاندازِ بیاں کےدھارےالگ ہو گئی سارنگی کی جگہہ طبلِ جنگ اور مر دنگ کی جگہ نقارےنےلےلی بُلبل کی سمع نواز ترنم ریزیاں شاہیں کی جگر دوز ضیفروں میں بدل گئیں نوحےسےشکوہ اُ ٹھا، شکوےسےنعرہ بھڑ ک اُٹھا لوگوں کو سُلا دینےوالی لوری یعنی قدیم مروجہ شاعری ایک جگانےوالی دھا ڑ میں تبدیل ہو گئیعلامہ یوسف جبریل کا کلام پڑھنےکی غائت اور غرض غوروغوض ہی فکرو تدبر ترکیب و بندش ردیف قافیہ شعری محاسن و معائب ثانوی چیزیں ہیں تاہم انشاءاللہ قاری اس ضمن میں بھی نا اُ مید نہ ہو گا لیکن بنیادی بات نفسِ مضمون ہےاور وہ اساسی نظریا ت ہیں جو بیان ہونےہیں لیکن حقیقی فہم کےلئےعلمی وسعت شرط ہے۔
علامہ اقبال کی شاعری پر بیسیوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں ایک سےایک بڑا ذہن سخن فہمی اور اقبال شناسی کی داد دیتا نظر آتا ہےمگر ابھی تک کئی ایک زاویئےہیں جن پر نگاہ نہیں ڈالی گئی مثلاً اقبال کا یہ شعر ” روزنامہ نوائےوقت “ کےایک کالم میں فرمودہِ اقبال میں نظر سےگزرا۔
یہ ہے خلاصہء علمِ قلندری کہ حیات خدنگ


جستہ ہےلیکن کماں سےدور نہیں


اس شعر میں قضا و قدر اور انسانی خود اختیاری کا معاملہ درپیش ہی اس شعر پر بہتر سےبہتر تفسیریں لکھی گئی ہوں گی لیکن جو
بات ہنوز منصہءظہور پر نہ آ سکی وہ یہ ہےکہ موجودہ سائنس دانوں نےخیال ظاہر کیا ہےکہ کائنات کےو ہ اصول جنہیں ہم اب تک اس قدر سخت تصور کرتےرہےہیں کہ ان میں سر مو کمی بیشی کا احتمال نہیں اور یہ کہ یہ کائنات ایک جچی تُلی مشین کی طرح کام کر رہی ہےاب ایسا نظر آتا ہےکہ ان اصولوں میں ہر جگہہ ایک نہایت ہی خفیف پلےموجود ہےاور یہ کہ اسمقام پر ہماری لالٹین کچھ مدھم پڑ جاتی ہی اسی قبیل کی بات علامہ صاحب نےبیان کی ہی ہم ہمیشہ سےسنتےآئےتھےکہ کمان سےنکلا ہوا تیر بَس نکل گیا لیکن علامہ صاحب یہ سمجھتےہیں کہ تیر کماں سےنکلا ہواتو ہےمگر ابھی سےاسقدر دور نہیں البتہ اتنا ایک شاعر نےضرور کہا تھا۔
اولیا را ہست قدرت اَ ز الہ تیر ِ ِ جستہ را بگردانند ز راہ
یعنی اولیا ئِ اللہ کو اللہ کی طرف سےاتنی قدرت کہ وہ کمان سےنکلےہوئے تِیر کو واپِس لو ٹا دیں لیکن یہ مضمون دوسرا ہی جہاں تک علامہ یوسف جبریل کےکلام کا تعلق ہےاسےغور سےپڑھا جائےاور ہر لفظ کو اپنی اپنی جگہہ جانچا جائےاکثر ایسےلفظ جو پہلی نظر میں محض ترکیب و بندش کی خوبصورتی کےلئےجڑےہوئےمعلوم ہوںگےنظر ِ غائر میں دیکھنےسےاپنےاپنےخصوصی معانی کےحامل ہوں گےایک دو مثالیں اسی ضمن میں پیش کروں گا۔


خاکداں خاک کےخاروں میں گرفتار ہوا
خاکراں خاک کےغاروں میں گرفتار ہوا
خاکبیں خاک کے تاروں میں گرفتار ہوا
خاک خواں خاک کےپاروں میں گرفتار ہوا

اب قاری کو جاننا چاہئےکہ یہ مادہ پرستی کا دور ہےاور مادہ اس دنیا کا خاک ہے مادہ پرستی نےروحانی اقدار کا خاتمہ کر دیا ہےاور تن پروری کو دنیا نےاپنا شعار بنا لیا اس کےبعد خاکدان خاکران خاکبین خاکخواں کی ترکیبیں پیشِ نظر رکھیں یہ الفاظ صرف حُسنِِ ترکیبی کی خاطر یہاں نہیں لگائےگئےبلکہ سب اپنی اپنی جگہ پر اپنےاپنےخصوصی اور موزوں معانی لئےہوئےہیں اور ہر ایک ایک مخصوص گروہ کی نشان دہی کرتا ہے۔”خاکداں خاک کےخاروں میں گرفتار ہوا“ذو معنی مصرع ہے۔ پہلا تو یہ ”خاکدان“ یعنی یہ زمین مادہ پرستی کی وجہ سےپُر خار ہو کر خار زار بن گئی ہے دوسرا یہ کہ دور ِ حاضر کا مادہ پرست مادہ شناس انسان مادہ پرستی کےخاروں میں گرفتار ہو گیا ”خاکراں خاک کےغاروں میں گرفتار ہوا“ مادہ پرست انسان اپنی غار میں اس قدر مادی دنیاوی لوازمات و ضروریات مٹی کی صورت میں کراہ سےدھکیل کر لارہا ہےکہ اس نےساری غار ہی بند کر ڈالی ہےاور خود اندر قید ہو گیا ہی ” خاکبیں خاک کےتاروں میں گرفتار ہوا“ خاکبیں سےمراد محقق سائنس دان ہو سکتا ہےدیکھئےوہ خوردبین پر جھُکا ہوا ہےاور خورد بین میں اُ سےقسم قسم کےخلیےستاروں کی صورت میں نظر آ رہےہیں لیکن تاروں کا لفظ ذوُ معنی ہےاور اس سےمراد تاریں بھی لی جاتی ہیں یعنی خاک کو دیکھنےوالا خاک کی تحقیق کر نےوالا خاک کی تاروں کےزندان میں مقید ہو گیا ہےاور پھر نتیجتہً ’ ”یہ جہاں خاک ہوا خاک میں نمناک ہوا“ خاک میں پانی ملتا ہےتو نمو ہوتی ہےاور پھر مادہ پرستی کی اتنی بھر مار ہوئی کہ آدم کا قصہ ہی المناک ہو گیا ہو سکتا ہےمادی طور پر ترقی یافتہ ممالک تو ان باتوں کو خوب سمجھتےہوں لیکن جلد یا بدیر ترقی پذیر ممالک پر بھی وہ مرحلےآ جائیں گےجہاں وہ ان باتوں کو سنیں گےتو پکار اُٹھیں گے”ہم نےیوں جانا کہ پہلےسےہمارےدل میں ہے“۔دوسری مثال ہے ۔
آدم اس دور میں خود مست و شکم مست ہوا
عشقِ حقانیِ بےغم میں نہ غم مست ہوا
ہائےزنجیریِ تن من میں نہ رم مست ہوا
زیر مستی کےترنم میں نہ بم مست ہوا
کھو گیا دورِ مہیں سر کی ازم مستی میں
سو گیا دورِ مشیں گر کی شکم مستی میں
اس بند کی ترکیبوں پر غور کریں ‘ خود مست، شکم مست ،عشقِ حقانی بےغم، غم مست ، زنجیریِ تن ،رم مست ،زیرِ ِ مستی، بم مست، دورِ مہیں سر، ازم مستی، دورِ مشیں گر، شکم مست، یعنی تن پرور عشق حقانیِ بےغم یعنی حقائقِ عشق جس میں غم ختم ہو جاتےہیں اور حقائق عشق ہےاللہ کی ذات کا عشق نہ غم مست ہوا یعنی عشق ِ حقانی کےغم میں نہ غم مست ہوا زنجیریِ تن یعنی تن پروری کا قیدی رو ح کی بالیدگی سےغافل من میں نہ رم مست یعنی من کی دنیا سےبیگانہ رہا زیرِِ مستی الخ زیر و بم موسیقی کی اصطلاح ہےزیر یعنی نیچی سُریں اور بم یعنی اُ و نچی سُریں زیرِ مستی کےترنم میں نہ بم مست ہوا یعنی چھوٹی چھوٹی باتوں میں اُ لجھ کر بڑی باتوں کی طرف مائل نہ ہوا مہیں سر کےمعنی ہیں بڑےدماغ والا ازم مستی یعنی ازموں میں اُ لجھ جانا کھو گیا دور ِ مہیں سَر کی ازم مستی میں مشیں گر مشینی دماغ والےدور کےازموں کےجال میں پھنس کر رہ گیا کھو گیا دور ِ مشیں گر کی شکم مستی  میں مشیں گر مشیں بنانےوالی شکم مستی تن پروری یعنی مشین گر دور کی تن پروری میں کھو گیا اور عاقبت انجام اور آخرت سےغافل ہو گیا اب اس کےبعد پھر اس بند کو پڑھیں انشاءاللہ سمجھیں گے دنیائےاسلام اِس وقت موت و حیات کی جنگ میں سائنسی ترقی کےمدارج طےکرنےاور مادی خود طفیلی کےحصول کےلئےسر توڑ کو ششیں کرنےپر مجبور ہےلیکن بین الاقوامی حالت میں یہ ایک طرفہ تما شا بن گیا ہی دنیا سائنسی تر قی کی دوڑ میں بسرعتِ تمام عالمی اور انتہائی تباہی کی طرف کھچی جا رہی ہیان حالات میں مسلمانوں کو اس تباہی کی دوڑ کو روکنےکا کردار ادا کرنا چا ہئےتھا لیکن اگر مسلمان اس دوڑ کو روکنےکی کوشش کریں تو انہیں اپنی زیست کا خطرہ حق ہو جاتا ہی تاہم اس کیفیت پر کامل توجہ منعطف کی جائےاور معاملےکا جائزہ لیا جائےاور اس وقت تو نہ جائےماندن نہ پائےرفتن والا معاملہ ہےاور مسلمان بھی اس عالمی ریلےمیں دھکیلےجا رہےہیں لیکن کدھر بہر حال مسلمان اگر فی الحال علامہ یوسف جبریل کےنظریات کو اپنا نہ سکیں تو کم از کم ان کی باتوں کو آئندہ نسلوں کےلئےضرور محفوظ کر لیں اُن کو اِ ن کی ضرورت ہو گی مگر پھر ان کو بقولِ اقبال ”دگر دانائےراز آید نہ آید“ کوئی بتانےوالا آئےیا نہ آئی۔ اپنی قوم کو یقین کےساتھ کہا جا سکتا ہےکہ یہی کلام اگر علامہ یوسف جبریل صاحب نےانگریز ی میں لکھا ہوتا تو مغربی دنیا میں بہت بڑا شر فِ قبولیت حاصل کرتا وہ لوگ جس حالت میں گرفتار ہیں ان نظریات کو پذیرائی بخش ہی نہ سکتےبلکہ اس امر پر اپنےآپ کو مجبور پاتےہیں تاہم حیرت کی بات ہےاگر مہدی علیہ السلام کےظہور اور حضرت عیسی علیہ السلام کی واپسی پر ایمان رکھنےوالی قوم مادہ پرستی کےخلاف اور روحانیت کےحق میں ان کےنظریات سمجھنےسےقاصر رہےمیں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام مادہ پرستی کی ترویج اور روحانیت کےفقدان کو برداشت کر سکیں گےیا اسےقائم رہنےیا ترقی کرنےدیں گے تیسری مثال ہے۔
کارواں سیلِ خرافاتی و منزل خالی
دوستاں ترکِ موالاتی و محفل خالی
پاسباں ننگِ خرافاتی و محمل خالی
کون سمجھےگا مرےدوست یہ مشکل خالی
اپنےویرانہءدل کی یہ ویرانی دیکھ
اپنی حیرت پہ زمانےکی یہ حیرانی دیکھ
یہ بند عالمِ ِ اسلام کی موجودہ حالت کی منظر کشی کرتا ہے زبان کچھ مشکل معلوم ہوتی ہےلیکن اتنی مشکل بھی نہیں کہ سمجھ میں ہی نہ آ سکےیعنی مسلمانوں کا کارواں خرافاتیوں کی ایک طغیانی کی طرف رواں ہےمگر منزل خالی پڑی ہی دوست ایک دوسرےسےبائیکاٹ کرنےوالےہیں اور محفل خالی پڑی ہے محمل کےپاسباں ننگ ِ خرافاتی ہیں اور محفل بھی خالی ہی اُس میں کوئی لیلیٰ موجود نہیں اےدوست اس مشکل خالی کو کون سمجھےگا
اپنے ویرانہء دل کی یہ ویرانی دیکھ اور اپنی حیرت پہ زمانےکی یہ حیرانی دیکھ
یعنی تو حیران اپنی حالت دیکھ کر ہےاور دنیا والےاس تیری حیرانی پر حیران اسلئےہیں کہ یہ کوئی حیران ہونےکی بات نہیں بلکہ جو کچھ تم نےبویا ہےکاٹ رہےہو کانٹےبو کر اگر کاٹنےوالا اسلئےحیران ہو کہ کانٹےکیوں اُ گےگندم کیوں نہ اُ گی تو آپ ضرور اُس آدمی پر حیرانی کامظاہرہ کریں گے
سپر دم بتو مایہء خویش را تو دانی حسابِِ کم و بیش را
آخر میں ایک لطیفہ سن لیجئےجو کلام میں بن گیا اور وہ ہےایک انگریزی زبان کا مصرعہ جوایک اردو نظم کےایک شعر کا جزو بنا اور وہ ہی۔
God himself vigilant Governor Shall be

لطیفہ یہ ہےکہ انگریزی زبان کو عربی بحر میں ڈھالنا ایک عجیب و غریب عمل ہےالبتہ یہ انگریزی مصرعہ کہیں سےعلامہ یوسف جبریل صاحب کےکلام میں پھسل پڑا
قارعینِ کرام! آپ قطعاً یہ بھول جائیں کہ علامہ صاحب کون ہوں کیا ہیں کہاں ہیں البتہ اگر ان کے کلام میں آپ کو تڑپ نظر آئےیا نصیحت کی کوئی بات موجود ہو تو پھر آپ پر اس کو پڑھنا اور دوسروں کو پڑھانا واجب ہوتا ہے اگر اور کچھ بھی فائیدہ مرتب نہ ہوا تو کم از کم آپ دنیا کی بین الاقوامی کیفیت سےباخبر ہو جائیں گےباقی سب باتیں اللہ تعالیٰ کےہاتھ میں ہیں جب علامہ صاحب کہتےہیں : ۔
مصطفے دورِ بہاراں کےپیمبر ہوں گی
محفل آرائےجہاں ساقیئِ کوثر ہوں گی
تو وہ آنےوالےدور میں دیکھتےہیں کہ اسلام کا ہر طرف بول بالا ہےاور ساری دنیا اسلام کےزریں اصولوں سےمستفید ہورہی ہے آپ بھی تصورات کی دنیا میں ابھرنےوالےاس جانفزا منظر سےخوش وقت ہوں اور ان کےلئےدُ عا ئےخیر و مغفرت کریں وہ فرماتےہیں:۔
بول اس دور میں اسلام کا بالا دیکھوں
شمعِ اسلام سےدنیا میں اُجالا دیکھوں
بابِ الحاد پہ اس دور میں تالا دیکھوں
اور جبریل کےکاندھوں پہ دو شالا دیکھوں
میرےمنہ سےیہ دُعا نیمہءشب نکلی ہے
میرےمولا تجھےمعلوم ہےکب نکلی ہی
اگر یورپ کےنفسیاتی ماہرین کو آپ یہ کہیں کہ ایک آدمی پینتالیس برس کی عمر میں دفعتہً شاعر ہو گیا اور ایسی زبان میں جو اس کی مادری زبان نہیں دو برس شعر کہتا رہا پھر خاموش ہو گیا پھر دو برس شعر کہتا رہا اور دو سو صفحےکا کلام پیش کر کےپھر خاموش ہو گیا تو ان کےلئےتحقیق کا ایک اچھا خاصا موضوع پیدا ہو جائیگا کیا پاکستان کےماہرینِ نفسیات بھی اس موضوع پر دادِ تحقیق دینا پسند کریں گے علامہ صاحب نےجس جگر کاہی سےیہ نظمیں لکھی ہیں اس کا اندازہ تو آپ کو ہو ہی جائےگا البتہ قارعین ِ کرام سےاتنی عرض ہےکہ از راہِ ِ کرم ان کے اشعار کےپڑھنےکا صحیح انداز سیکھیں اور ایک فصیح اللسان عرب کی طرح ساز ِ ابان کےجملہ تار کس کر پڑھیں اور ز بان کو شعر میں لیٹنےنہ دیں ورنہ سارا معاملہ غتر بود ہو کر رہ جائےگا اور آپ صحیح حظ سےمحروم ہو جائیں گی شعر کا پڑھنا آپ چڑیا کی پرواز میں سیکھیں جبکہ وہ جھنڈ میں اڑ رہی ہوں ان کا پروں کےکھولنےاورسمیٹنےکا انداز معائنہ کریں مثلاً مندرجہ ذیل مسدس ملاحظہ فرمائیں
شمع لولاک کےدل چاک وہ پروانےپھر
زلفِ لولاک کےپےچاک کےدیوانےپھر

سرِ لولاک کےادراک کےفرزانےپھر
سوزِ لولاکِ طربناک کےمےخوانےپھر
دیکھئےموت کی غفلت سےوہ بیدار ہوئے
مدعی حقِ ولائت کےنمودار ہوئے
اس مسدس کےپڑھنےکا صحیح انداز کچھ یو ں ہو گا۔
شمِع لَو لِاِ لِک دل ئِ چَا کَوُ ہ پروانےپھر
زلفِ لولاک کےپےچاک کےدیوانےپھر
سرِ لولاک کےادراک کےفرزانےپھر
سوزِ لولاکِ طربناک کےمےخوانےپھر
دیکھئےموت کی غفلت سےوہ بیدار ہوئے
مدعی حقِ ولائت کےنمودار ہوئے

یہ اصول بالعموم آپ کا معاون ہو گا
(مرسلہ(پروفیسر عارف سیمابی ٹیکسلا


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 61
    الفقر فخری ، شہنشاہ ولایت، حضرت پیر سیدعبدالقادرجیلانی کی سرزمین عراق کے نزدیک عراق کےقرب و جوار میں ” مصیب“ کی مقدس فضاوں میں سانس لینےوالےنوجوان محمد یوسف کےوہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ مجھےایک دن دنیا بھر کےسامنےایٹمی ہتھیاروں کےخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر…
  • 59
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 53
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply