معروف فلسفی علامہ یوسف جبریل سے چند باتیں

002ghaffaramir

 

 علامہ یوسف جبریل کےانٹرویو کےدوران مجھےمعلوم ہوا کہ موصوف نےایک ایسا علمی کارنامہ سرانجام دےرکھا ہی۔ جس کی مثال نہ تو ماضی کی علمی تاریخ میں ملتی ہی۔ اور نہ ہی اس موجودہ دور میں کوئی ایسی نظیر موجود ہی۔ موصوف نےمخلوق کو ایٹمی تباہی سےبچانےکےلئےنہایت ہی حوصلہ شکن حالات میں اور بغیر کسی استاد کےچالیس برس کی صبر آزما مطالعاتی محنت و مشقت کےنتیجےمیں ایک مشن کےطور پر انگریزی اور اردو زبان میں ایک سلسلہ کتب لکھ رکھا ہی۔ علامہ صاحب کہتےہیں کہ عمر بھر کی یہ المناک اور کمرشکن مصیبت میں نےایک شہرہ آفاق اور لافانی روحانی شخصیت کےایماءاور اپنی ذاتی رضامندی کےاثر کےماتحت جھیلی۔ تاہم اگر موصوف کی لکھی ہوئی کتابوں کےمضامین کی تعداد تنوع اور ان کی آفاقی حیثیت اور ان کےموضوعات کی افادیت و موزونیت کےعلاوہ یہ خیال بھی مدنظر رہےکہ یہ سب کچھ بغیر استاد کےحاصل کیا گیا۔ اور پھر بغیر کسی کی معاونت کےحیطہ تحریر میں لایا گیا۔ اور زمانےکی انتہائی ضرورت کےمطابق پیش کیا گیا۔ تو موصوف کےدعوےمیں کسی شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ میں جب موصوف کےسامنےبیٹھا تو مجھےایسا محسوس ہوا کہ میں اسلام کےقرون ماضی میں فقر و تصوف کی کسی ممتاز شخصیت کا نظارہ کر رہا ہوں۔ لیکن جب موصوف نےانگریزی زبان میں گفتگو شروع کی تو میں نےان کےتکلم میں کسی اعلی درجےکےفلسفی یا انگریزسائنس دان کا دل لوٹنےکا سحر اور ناقابل تردید دلیل محسوس کی۔ بہر حال جب میں نےلکھنےکےلئےقلم اٹھایا۔ تو مختصرا ہمارےدرمیان مندرجہ ذیل گفتگو ہوئی۔ سوال۔ آپ کی جدوجہد کا ثمر کیا ہی۔ یعنی آپ کی عمر بھر کی علمی جدوجہد کا نتیجہ کیا نکلا ہی؟ جواب۔ یہ کتابوں کا ایک سلسلہ ہی۔ انگریزی میں بھی اور اردو میں بھی۔ اس سلسلےکا نام قران بجھائےایٹمی جہنم جس میں قران حکیم اور ایٹم بم پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہی۔ اٹامزم بیکن کےفلسفےکا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہی۔ اور اس فلسفہ کےموجودہ دور پر جو اثرات مرتب ہوئےہیں۔ ان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہی۔ سر جیمز جینز نےکائنات کی تخلیق کےمتعلق جو نظریہ پیش کیا ہی۔ اس کےمقابلےپر میں نےقران حکیم کا نظریہ پیش کیا ہی۔ اسلامی بم پر بھی میں نےتفصیلی لکھا ہی۔ حال ہی میں میری کتاب اسلام بم شائع ہوئی ہی۔ اس سےقبل جہاد، ایٹمی آگ کی قرانی تشریح، بیکن دجال اور قران حکیم،نعرہ جبریل، جدید و قدیم اٹامزم اور قران حکیم، ایٹمی جہنم بجھانےکا قرانی فارمولا۔ اعوان قبیلہ کی تاریخ، کےعلاوہ بےشمار چھوٹےچھوٹےکتابچےشائع کئےہیں۔ تاہم میں نےحطمہ پر مکمل تحقیق کی ہی۔ اور دنیائےانسانیت کےمسلمانوں اور غیر مسلموں کو حطمہ کی سائنسی تشریح میں نےپہلی بار لکھ کر دی ہی۔ میرےبےشمار مضامین ملک اور غیر ملک کےاخبارات میں شائع ہوئےہیں۔ چڑیا گھر کا الیکشن ندائےملت لاہور میں قسط وار شکل میں شائع ہو ا ہی۔ اسلامی معاشیات پر بھی میں نےپانچ کتابیں تحریر کی ہیں۔ میں نےشاعری بھی کی ہی۔ جس کا اظہار نغمہ جبریل آشوب، نعرہءجبریل، غزلیات جبریل، نالہءجبریل، وغیرہ کی شکل میں تحریر کیا ہی۔ میں نےمندرجہ بالا موضوعات گنوائےہیں۔ ان سب کا بیشتر حصہ گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کےمعیار ی اخبار ر سائل میں چھپ چکےہیں۔ سوال: عجیب و غریب سوال ہےکہ اتنےاہم موضوع اور پھر ایک مصنف مسودوں کےڈھیر ڈھیر پر لگاتا جائی۔اور ان کی اشاعت کی جانب توجہ نہ دے جواب :آپ کا سوال ٹھیک ہی۔ عجیب بھی ہےغریب بھی ہےآ پ ان جلدوں کو جوہری طاقتوں کےلگائےہوئےایٹم بموں کےڈھیروں کےمقابل سمجھ لیں۔ انہوں نےبھی ابھی تک دو ہی ایٹم بم پبلش کئےہیں۔ اورباقی مسودوں کی صورت میں اشاعت کےبغیر ہی دھرےہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ موضوع کی اہمیت اور نوعیت اور کام کی بےپناہ وسعت ہی وہ عوامل درمیان میں تھی۔جنہوں نےمجھےپہلی تصنیف کی اشاعت کےچکر میں پڑ کربےاندازہ قیمتی وقت ضائع کرنےسےباز رکھا۔ ایک اکیلی جان پر یہ پہاڑ برابر بوجھ تھا۔ اگر پہلی جلد کی اشاعت میں اور پھر باری باری دوسری جلدوں کی اشاعت میں وقت صرف کرنےکا طریقہ اختیار کرتا تو یہ مہم ادھوری اور نامکمل رہ جاتی اور مجھےعلم تھا کہ میرےبغیر یا میرےبعد اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانےوالا نظر نہیں آتا۔ اور مجھےکچھ بھی ہو سکتا ہی۔ میرا یہ عقیدہ تھا کہ قران حکیم کی یہ ایٹمی تشریح انسانیت کو ایٹمی جہنم سےبچا لےگی۔ پھر ایک بہت بڑا خطرہ یہ بھی تھا کہ اول تو کوئی بھی پاکستانی پبلشر اس نوعیت کےکام کو ہاتھ نہیں ڈالےگا۔ اور بالفرض کسی نےجرات سےکام لےکر اسےچھاپ بھی دیا تو ٢٧٩١ ءکےحالت میں اس کےناکام ہو جانےکا بیش از بیش خطرہ تھا ۔ اور پہلی کتاب کی ناکامی میری دل برداشتگی اور حوصلہ شکنی کا موجب ہوتی۔ ہو سکتا ہےکہ میں اس راہ ہی کو ترک کر دیتا۔ یعنی میں اپنےمشن میں ناکام ہو کر اور اسےترک کرکےکہیں کا نہ رہتا ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ میں نےجو کچھ بھی علم اخذ کیا یا بعد میں اسےتحریر کیا یہ سب کچھ بغیر استاد کےاور گوناگوں مشکلات و مصائب کےباوجود کیا۔ میری مسلسل عرق ریزی اور طویل جدوجہد تاخیر کا باعث ہی نہیں بنی بلکہ ہمیشہ مجھےایک اضطراری اور اضطراری کیفیت میں بھی مبتلا رکھا۔ اب جب کہ اللہ تعالی کےفضل سےمیرا کام مکمل ہو چکا ہی۔ میرےلئےیہ امر باعث تسکین ہےکہ ٢٧٩١ ءسےاب تک جو کچھ بھی میں نےسپرد قلم کیا وہ نہ تو باسی ہوا ہےاور نہ فرسودہ۔ یہ ایک لازوال کام ہے۔´یہ تصانیف بنیادی طور پر اس دنیا کو اسی دنیاوی ایٹمی جہنم سےبچانےکےلئےلکھی گئی ہیںلیکن ایٹمی خطرےکےناپید ہو جانےکےبعد بھی اس کی ضرورت باقی رہےگی۔ یہ روشنی انسانیت کو اگلی دنیا کےابدی حطمہ (ایٹمی جہنم) سےبچنےکےلئےدرکار ہو گی میرےلئےیہ امر باعث اطمینان ہےکہ دنیا بھر کےایٹمی سائنس دان نہایت تیزی کےساتھ ان ہی نظریات کی طرف رجوع کرہےہیں جو میں یکبارگی تحریر کر چکا ہوں، سوال: آپ نےکیا کہا کہ یہ سارا علم آپ نےبغیر استاد کےحاصل کیا۔ کیا یہ ممکن ہےایسےپیچہدہ مشکل مضامین اتنی زبانیں، ادب، فلسفی، سائنس، تاریخ آسمانی صحیفےبغیر استاد کےپڑھ لینا سمجھ میں نہیں آتا۔ کیا آپ وضاحت کریں گےکہ یہ سب کچھ کیسےہو گیا۔ جواب۔ میرےگاو¿ں کھبیکی وادی سون سکیسر خوشاب کےلوگ جن کےسامنےمیری ساری زندگی بسر ہوئی۔ گواہ ہیں کہ میں نےبچپن میں سکول سےراہ فرار اختیار کی تھی اور پھر زندگی بھر کسی سکول میں داخلہ لینےیا کسی استاد کی خدمات حاصل کرنےکا کوئی موقع ہی نہیں ملا۔ عمر بھر حصول رزق حلال کا مسئلہ درپیش رہا پچیس برس کی عمر میں ٢٤٩١ ءمیں تعلیم شروع کی۔ اور ١٨٩١ ءتک پڑھتا رہا اردو پڑھی۔ فارسی پڑھی۔ انگریزی پڑھی۔ صرف زبان ہی نہیں پڑھی۔ بلکہ ان زبانوں کےادب، نظم و نثرکا احاطہ کیا اس طرح کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں نےجانا کہ میں ا ن زبانوں کےادبی مشاہیر کی مانند لکھ سکتا ہوں قران حکیم پڑھا قران حکیم کےناطےسےعربی پڑھی معروف تفاسیر القران احادیث، فقہ، کابغور مطالعہ کیا فلسفہ پڑھا قدیم یونانی فلسفہ، جدید مغربی فلسفہ اور پڑھاہی نہیں بلکہ نکتہ نکتہ سوچاہےناقدانہ نظر ڈالی ہےتوریت زبور انجیل پڑھی مذاہب مختلفہ کاتقابلی جائز ہ کیا اور عیسائیت یہودیت اسلام ہندومت بدھ مت کو فردا فردا جانچا سائنس میں فزکس، کیمسٹری باٹنی بائیولوجی ریڈیو بائیولوجی، نیچرل سائنس پڑھی برصغیر پاک و ہند اور اسلام کی تاریخ پڑھی فرانسس بیکن ڈارون سپی نوزا جیمز جینز مجدد الف ثانی شاہ ولی اللہ علامہ اقبال قطب شہید کی تصانیف کا خصوصی مطالعہ کیا اور بہت کچھ پڑھا اور مرکزی حیثیت تو قران حکیم کو حاصل تھی۔اگر آپ یہی سوال کہ بغیر استاد کےاتنا مشکل او ر اعلی پائےکا علم کیسے حاصل کیا یافرائیڈ جیسےعلم نفسیات کےماہر سےکریں تو جواب آئےگا اعلیٰ دماغ بےپناہ لگن مسلسل اور انتھک محنت ۔ یہ جواب بقدرےصحیح ہےمگر مکمل طور پر صحیح نہیں ان مضامین میں سےایک ہی مضمون پر ایک انسان کی زندگی صرف ہو ئےتب جاکر کہیں کمال کی توقع کی جا سکتی ہی۔ مجھےافسو س ہے کہ جس راز کو میں نےعمر بھر اپنےسینےمیں مخفی رکھا ۔ اس کےافشاءپر مجبور ہو رہاہوں اور وہ یہ ہےکہ ٢٤٩١ ءمیں میری عمر کےپچیسویں سال میں اسی سال میں جس میں معروف زمانہ اطالوی سائنس دان انرکوفرمی نےشکاگو امریکہ میں کنڑولڈ فژن چین ری ایکشن کا کامیاب تجربہ کرکےانسانیت پر ایٹمی جہنم کا دروازہ کھول دیا تھا میں ان دنوں ان باتوں سےقطعالاعلم تھا مجھےمصیب عراق میں حضرت خضر علیہ السلام کی سفارش پر ایک ابراہیمی مشن سپرد کیا گیا۔ اس خواب میں مجھےبہت کچھ دکھایا گیا۔ تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ البتہ جو کچھ میں نےدیکھا سےاللہ تعالی کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا جا سکتا ہےاس دن سےمیر ی کایا پلٹ ہوئی اور پھر وہ دن اور آج کا دن کتاب تھی اور میں تھا ۔اور میرےرفیق و ہمنواآلام و مصائب ١٦٩١ ءمیں مجھےقران حکیم میںحطمہ کا انکشاف ہوا ۔٢٧٩١ ءمیں لکھنا شروع کیا ۔اور ١٨٩١ ءمیں یہ کام اختتام کو پہنچا۔ سوال حطمہ کیا ہی۔ جواب قران حکیم کی ٤٠١ ءویں سورة الھمزہ میں ایک خصوصی جہنم کی آگ کا نام ہےاردو مفسرین کرام نےاس کا ترجمہ صحیح طور پر روندنےوالی آگ کیا ہےقران حکیم نےحطمہ کی جو امتیازی خصوصیات بیان کی ہیں وہ وہی ہیں جو اس دنیا کےایٹمی جہنم یعنی ایٹم بم اور تابکاری کی ہیں قران حکیم کی یہ تشریح و تفسیر ایک ایسا معجزہ ہےجس کاانکار سائنس دان کےبس کی بات نہیں اس عارضی دنیا کاعارضی ایٹمی جنہم اگلی ابدی دنیا کےابدی حطمہ کا پرتو ہی۔ اس طرح جس طرح عام آگ اگلی دنیا کےدوزخ کی علامت ہےمجھےاس ایک لفظ حطمہ کےلئےچودہ جلدوںمیں جو تین ہزار صفحات پر مشتمل ہیں لکھنی پڑی ہیں۔ قران حکیم نےحطمہ کی پیدائش کےجو اسباب گنوائےہیں وہ ہ وہی ہیں جو ایٹم بم کی پیدائش کےہیں یعنی عیب جوئی نکتہ چینی پروپیگنڈا اور دولت اندوزی میں غرقابی اور یہ عقیدہ کہ یہ دولت اسی طرح ہمیشہ رہےگی بلکہ صاحب دولت کو لافانی کر دےگی بادی النظر

میں یہ الزام کچھ بھی نہیں مگر ان کےاندوھناک نتائج ایٹمی جہنم کی صورت میں ہمارےسامنےہیں۔


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 40
    دور جدید میں قران حکیم کا ایک لازوال اور محیرالعقول سائنسی اور ایٹمی معجزہ معروف ِزمانہ یہودی مشتشرق اینی مری شمل اور علامہ یوسف جبریل کےدرمیان قران حکیم کےاس اہم موضوع پر یادگار مذاکرےکی تفصیل و روئیداد تحریر علامہ محمد یوسف جبریلؔ ستمبر 1963 ءکا واقعہ ہے۔ انہیں دنوں مائینڈ…
  • 40
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 33
    Gabriel's Extinguishing the Atomic Hell Series miracle of quran scientific miracle of Quran exposed quran miracle Atom bomb in Quran exposed 14 Centuries ago Atom Bomb in Quran Quran Miracle Scientific Miracle Atomic Hell in quran surah al homaza surah al humazah  Atomic Bomb in Quran invention of atomic bomb mention…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply