Anjeer kaasht karain

🥝🥝.. #انجیر .(Anjeer).🥝🥝

#پاکستان کی سر زمین پر تقریبا 18 ہزار من سالانہ انجیر پیدا ہوتا ہے, جبکہ یہاں سالانہ تقریباً 28 ہزار من انجیر کی مانگ ہوتی ہے.اسی لیے ہمیں اس مانگ کو پورا کرنے کے لئے ترکی، ایران اور افغانستان سے سالانہ تقریباً 10 ہزار من خشک انجیر خرید کر پاکستان لانا پڑتا ہے.
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں انجیر اس قدر مہنگا ہے کہ عام آدمی اسے کھانے کے بارے سوچ ہی نہیں سکتا.
انجیر کی فصل لگانے کے لئے دس/10 فٹ کے فاصلے پر قطاریں بنا کر اور ان قطاروں میں دس/10 فٹ کے فاصلے پر ہی پودے لگائے جاتے ہیں. اس طرح ایک ایکڑ میں تقریباََ 435 پودے لگائے جاسکتے ہیں.
یاد رہے کہ ایک دفعہ لگایا ہوا انجیر کا پودا 15 سے 20 سال تک بھر پور پیداوار دیتا ہے. نرسری میں انجیر کا ایک پودا تقریباََ 50 روپے میں مل جاتا ہے. اس طرح پودے لگانے کا فی ایکڑ خرچ تقریباََ 22 ہزار روپے ہو سکتا ہے. ایک پودا کم از کم 6 کلوگرام پیداوار دیتا ہے. اس طرح سے ایک ایکڑ سے تقریبا 2600 کلو یا 65 من تازہ انجیر حاصل کیا جا سکتا ہے.اگر انجیر کو خشک کر لیا جائے تو تقریباََ 1430 کلو صافی خشک انجیر حاصل کیا جا سکتا ہے.اب اگر انجیر کی قیمت کی بات کی جائے تو خشک انجیر پرچون میں 800 روپے سے لیکر 1200 روپے فی کلو تک بکتا ہے.لیکن حالیہ مارکیٹ سروے کے مطابق تھوک میں انجیر کا ریٹ 500 روپے فی کلو ہے.اگر کسان کا انجیر کم از کم 400 روپے فی کلو بھی فروخت ہو تو 1430 کلو گرام خشک انجیر کی آمدن 5 لاکھ 70 ہزار روپے فی ایکڑ بنتی ہے.اور اگر انجیر کو بغیر خشک کئے ہوئے تازہ تازہ بیچا جائے تو اس کا ریٹ کم از کم 100 روپے فی کلو تک لگ جاتا ہے. اس حساب سے 2600 کلوگرام تازہ انجیر 2 لاکھ 60 ہزار روپے میں بک جائے گا.اگر دیکھا جائے تو آمدن کے لحاظ سے انجیر کسی بھی طرح دوسری فصل یا باغ سے پیچھے نہیں ہے.
پاکستان میں انجیر تقریباً ہر جگہ اگایا جاسکتا ہے، اگر زیادہ سے زیادہ لوگ انجیر کی کاشت شروع کردیں، تو نہ صرف وہ خود منافع کمائیں گے، بلکہ پاکستان کو دوسرے ملکوں سے انجیر نہیں خریدنا پڑے گا، اور ہر عام آدمی تک یہ بہترین پھل پہنچ سکے گا.
سوچیئے گا ضرور، کیونکہ سوچنا جرم نہیں ہے..🍁

Print Friendly, PDF & Email

Share Your Thoughts

Make A comment

Subscribe By Email for Updates.