شہرہ آفاق جرمن مستشرق اینی مری شمل اورعلامہ محمدیوسف جبریل کے درمیان قران حکیم اور ایٹم بم کے موضوع پر مذاکرہ کی تفصیل تحریر شریف فاروق

036

shareefarooq  چیف ایڈیٹر روزنامہ جہاد پشاور، اسلام آباد ، راولپنڈی

چند سالوں سے علامہ محمدیوسف جبریل کے مقالات اور مضامین کا ایک تسلسل دیکھنے میں آ رہاتھا۔ ان مقالات اور مضامین میں ایک خاص موضوع ’’ایٹمی جہنم اور اس کی تباہ کاریاں‘‘ انسان کی ہمہ گیر انہ بربادی بالخصوص نمایاں تھی۔ابتدا میں تو ان مضامین کی طرف میںنے کوئی توجہ نہ دی لیکن جب ایک ہی موضوع اور قرانی نقطہ نظر سے ایک ہی صاحب قلم کسی مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں تو آخر کار انسان توجہ مبذول کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے بالخصوص اس صورت میں جب کہ اس کا حل کسی انسان کے عقیدے اور کتاب وحی کے حوالے سے پیش کیا جائے۔ ویسے بھی آجکل تمام دنیا میں بالخصوص امریکہ، روس، چین، جاپان اور یورپ وغیرہ میں سب سے زیادہ جس مسئلہ کی طرف توجہ دی جاتی ہے وہ یہی مستقبل کی ایٹمی تباہ کاریاں ہیں۔ ایک طرف انسان سائنس کی دنیا میں کمالات دکھا رہا ہے ہر قسم کے آرام و آسائش سے لے کر انسانی امراض کے خاتمہ کے لئے سرگرم عمل ہے یہاں تک کہ مصنوعی قلب ، مصنوعی جگر، وغیرہ کے ذریعہ مردوں کوزندہ کرنے کی سعی کی جارہی ہے اوردوسری طرف اس وقت تک دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ طاقتیں جس وسیع پیمانے پر ایٹمی ایندھن اور مختلف جراثیمی گیس پیدا کر چکی ہیںجس کا ایک چوتھائی حصہ بھی استعمال کر دیا جائے تو یہ ہنستی بستی دنیاصرف تباہ و بربادہ ہی نہیں ایسے جہنم میں ڈالی جائے گی جس کے ادنی سے تصور سے ہی انسان لرز اٹھتا ہے۔ ان عظیم عالمی طاقتوں اور ملکوں کے اندر اس ایٹمی تابکاری اور شعاؤں کے باعث جو ہلاکتیں برباد ہونے والی ہیں۔ اس کی روک تھام کے لئے بڑے بڑے مفکر اور انسان دوست مظاہرے کرتے ہیں لیکن ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘‘ اس باب میں غالباً سب سے پہلے برٹرینڈ رسل کی زیر قیادت ’’ کمپین فار نیوکلر ڈس آرما منٹ‘‘ یعنی ایٹمی توانائی اور اسلحہ سازی کوغیر مسلح اور ختم کرنے کی تحریک آغاز ہوا اسطرح دوسری تحریکیں بھی ان ممالک میں سرگرم عمل ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بتدریج تباہ کارانہ ایٹمی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ کہاجاتا ہے کہ ہیروشیمااور ناگاساکی پر جو ایٹم بم گرائے گئے تھے اور جن کے باعث لاکھوں انسان موت کے منہ میں چلے گئے اور آج بھی جہاں کی سرزمین کسی پیداوار کے قابل نہیں نہایت ہلکے اور کم رفتار ولاسٹی کے تھے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسا ن نے اپنی تباہ کاری کامزید سامان تیار کر لیا ہے کہ چشم زدن میں نسل انسانی کے اس غیر مہذب تباہ کارانہ حالات کو دیکھتا ہے تو وہ حواس باختہ ہو جاتا ہے۔اگرچہ یہ جملہ معترضہ ہے لیکن اس موقع پر اس کااظہار بے جانہ ہو گا کہ جنوری 1993 ء میں راقم الحروف کو دولت مشترکہ کے اخبارنویسوں کے ایک گروپ کے ساتھ پیرس میں ناٹو NATO ہیڈکوارٹر جو یورپ اور امریکہ کی سب سے بڑی دفاعی تنظیم ہے کے سربراہ جنرل نارسٹڈ کے ساتھ گفتگو کا موقع ملا اور ایٹمی جنگ کے کسی بھی اچانک آغاز کے بارے میں میرے ہی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ایسے انتظامات موجود ہیں کہ اچانک بلاانتباہ ایٹمی جنگ کی صورت میں وہ دوتین منٹ کے اندر جوابی ایٹمی حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔ویسے بھی یورپ کے اوپر چوبیس گھنٹے خوف کے باعث دفاعی مقاصد کانام لے کر ایٹمی آلات سے آراستہ جنگی جہاز چکر لگاتے رہتے ہیں۔ اگر بائیس تیئیس سال پہلے دوتین منٹ کے اندر دنیاکو تباہی کاحکم دینے کی صلاحیت پیدا کر لی گئی تھی تو آج یہ دنیافوری تباہی کے کس مقام پر ہو گی؟۔
علامہ محمد یوسف جبریل جو ہر عالمی مسئلہ کا حل اور ہمہ گیر تباہی کوروکنے کا قرانی تعلیمات کی روشنی میں پیش کرتے ہیں جوانسان کو ایٹمی تباہ کاریوں سے بازرکھنے کے لئے ہر وقت تڑپتے رہتے ہیں ۔نہایت مجتہد قسم کے عالم اورگوشہ نشین انسان ہیں۔ وہ آج اگر دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ہوتے اور ان کے پیچھے منظم پروپیگنڈا مشینری ہوتی تو ان کا شمار دنیا کے عظیم ترین مفکر ین میں کیا جاتا۔ انہیںعالمی امن کانقیب اور ترجمان قرار دیا جاتا اور ان پر کئی کتابیں لکھی جاتیں۔ یقینا انہیں امن کے نوبل انعام سے نوازا جاتالیکن علامہ محمد یوسف جبریل جنہوں نے بلااستاد ایم اے کیا اور جنہیں انگریزی فارسی، عربی، وغیرہ پر یکساں عبور حاصل ہے واہ فیکٹری کے ایک چھوٹے سے محلہ ملک آباد نواب آبادکے نہایت معمولی سے کوارٹر میں رہ رہے ہیں ۔اگر کوئی شخص انہیں دیکھے تو وہ ٹھیٹھ اور اکھڑ دیہاتی سے زیادہ توجہ کا مستحق نہیں گردانے گا۔بحر حال جہاں عظمت ہو وہاں دنیاوی دادو دہش اور شان و شوکت کی ضرورت نہیں رہتی۔ علم اپنے اندر ایک طرح کاسرور رکھتا ہے اور یہ اطمینان کاسرور ہوتا ہے جس سے مادی دنیا محروم ہوتی ہے۔
علامہ محمدیوسف جبریل سے غائبانہ تعارف تو تھا لیکن ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ایک روزاسلام آباد سے واپسی پر میں ان کی تلاش میں جانکلااو ر انہیں ان کے کوارٹر میں جالیا۔وہ شسدر رہ گئے۔ میں نے دیکھاسادہ دیسی کھدر کے کپڑوں میں ملبوس، ململ کی سادہ سفید پگڑی غیر تراشیدہ داڑھی، لہجے میں ٹھیٹھ دیہاتی پن، پاؤں میں سادہ سا معمولی چپل، عمر کے سائے ڈھلتے ہوئے لیکن مضبوط اعضاء وہ مجھے اپنے بیٹے کے چھوٹے سے کوارٹر میں لے گئے۔ ان کا بیٹا واہ آرڈننس فیکٹری میں کام کرتا ہے ۔ یہ کوارٹر اس کا تھا۔ ساتھ والے کمرے میں ان کی میز تھی ۔ معمولی سافرنیچر ۔ ہر چیزسے سادگی اور بے ساختہ پن ٹپک رہا تھا ۔ دیسی پیالی میں چائے پیش کی۔کہنے لگے کہ میں نے ایک الگ تھلگ کمرہ کرائے پرلے رکھا ہے وہیں تصنیف و تالیف کا کام کرتا ہوں ۔میں علامہ صاحب کو دیکھ رہاتھا اور ان کی سادگی مجھ پر اپنااثر مرتسم کر رہی تھی۔ رسمی تعارف کے بعد انہوں نے جب دنیاکوایٹمی تباہ کاری کے ترازو میں قران حکیم کی روشنی میں تولناشروع کیا تو میں علم کے بہتے ہوئے سمندر کی جولانیوں میں مسحورہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ انہوں نے قران حکیم کی متعلقہ آیات کے تراجم رواں، انگریزی زبان میں بیان کرنے شروع کئے تو میں ہگا بکارہ گیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے مشہور جرمن مستشرق اینی مری شمل جو حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی اور دوسرے صوفیائے کرام کے کلام کی دلدادہ ہیں۔ ان کے ساتھ ہونے والے ایک مذاکرہ کی تفصیل بھی بتائی۔ اینی مری شمل قران حکیم کو الہامی کتاب نہیں مانتی تھیں۔ان کو علامہ صاحب نے اس حقیقت سے آشنا کیا کہ قران حکیم واقعی اللہ تعالی کی کتاب ہے اور اس مناظرہ میں انسانیت کو درپیش ایٹمی تباہ کاریوں سے بچانے کے لئے قرانی سورۃ سورۃ الھمزہ کی تشریح و توضیح بھی کی ۔وہ قابل توجہ ہے ۔ویسے توایٹمی توانائی وغیرہ جیسے امور پر ان کاعلمی بحر ذخار موجود ہے تاہم میں علامہ صاحب کے ان فقرات سے آغاز کرتا ہوں۔
(۱) 1964 ء میں برٹرینڈ رسل نے میرے ایک خط کے جواب میں اپنا فیصلہ دیا۔’’ جب سے آدم اور حوا نے گندم کادانہ کھایا ہے اسی وقت سے آدمی نے ہر اس حماقت سے گریز نہیں کیاجس کے ارتکاب کا کہ وہ اہل تھا اور انسانیت کا انجام ایٹمی جہنم ہے ‘‘۔
(۲) برٹرینڈ رسل کاتجزیہ بالکل درست تھا لیکن ایٹمی جہنم کے متعلق قران حکیم کی وہ پیشین گوئی (سورۃ الھمزہ) سائنس اور فلسفے کی دنیا میں ایک ایسا معجزہ ہے جس سے انکار کی نہ تو سائنس دان کوگنجائش ہے نہ کسی فلسفی کو ۔
(۳) اس ہدایت کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ اس ایٹمی تباہی سے بچنے کا نہیں ۔سائنس دان اور سیاست دان دونوںاس امر پر مجبور محض ہیں۔ اس دنیا کاایٹمی جہنم اگلی دنیا کے ایٹمی جہنم کا دنیاوی نمونہ ہے۔ یہ پیشین گوئی قران حکیم کی الہامی حیثیت کا نا ناقابل تردید ثبوت ہے جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ ستمبر1963 ء کی بات ہے اینی مری شمل نے بند کمرے میں خالص علمی شخصیات کی موجودگی میں اس مسئلہ پربحث میں حصہ لیا ۔ مسئلہ یہ زیر بحث تھا کہ قران حکیم آیا الہامی کتاب ہے یا نہیں؟ حسب وعدہ ٹھیک پونے تین بجے علامہ صاحب پنجاب یونیورسٹی پہنچ گئے ۔ پہلی صف کی بائیں طرف ان کو جگہ ملی۔ اس موقع پر بیس بائیس جید علماء کرام اور دائیں جانب چار پادری صاحبان گون پہنے تشریف فرما تھے۔ علامہ علاؤالدین صدیقی صدارت فرما رہے تھے۔ ٹھیک تین بجے وہ فاضلہ تشریف لائیں۔ عورت کیا تھی؟ ایک طوفان آ گیا ۔ ہر طرف خوف و ہراس کی ایک لہر دوڑ گئی۔صدر سے اجازت لے کر انہوں نے موضوع کی مناسبت سے تابڑ توڑ حملے کرنے شروع کر دیئے کہ قران حکیم الہامی کتاب نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے خود تحریر کی ہے۔ بعض نکات کے جواب علماء کرام کے پاس موجود تھے لیکن وہ اپنی ذہانت طبع کے باعث جواب کاموقع ہی نہیں دے رہی تھی۔ اسی طرح ایک گھنٹہ فضاحت و بلاغت کا دریا بہتا رہا اوروہ قران حکیم کوالہامی کتاب کی بجائے انسانی تصنیف کے جواز میں دلائل کے انبار لگاتی رہی۔ بات چیت انگریزی زبان میں ہو رہی تھی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ محترمہ کو ایسے مدلل طریق سے جواب دیا جائے کہ وہ بہر صورت قائل ہونے پر مجبور ہو جائیں۔
چنانچہ علامہ یوسف جبریل نے صدر مجلس علامہ علاؤالدین صدیقی مرحوم سے اجازت لے کرفرمایا ۔
’’ مادام! معذرت خواہ ہوں میں نے گزشتہ چھ تقریروں میں سے کچھ نہیں سنا جو کچھ میں نے ایک گھنٹے کے دوران سنا ہے اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ آپ قران حکیم کی الہامی حیثیت کی منکر ہیں یعنی یہ آپ مانتی ہیں کہ قران حکیم ایک اچھی کتاب ہے ۔ اس میں نصیحت بھی ہے کچھ قانون بھی ہے ، لائحہ عمل بھی ہے اور چند پرانے لوگوں کی مثالیںبھی ہیں مگر آپ یہ ماننے کوتیار نہیں کہ قران حکیم اللہ تعالی نے عرش سے فرشتے کے ذریعے ہمارے نبی امی و فداہ ابی پر نازل کیا ۔
علامہ صاحب نے کہا :۔
’’ اگر قران حکیم جیساکہ آپ کا خیال ہے ہمارے نبی اکرم نے خود لکھا ہوتا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وقت کے کسی بھی دور میں یا اس وسیع دنیاکے کسی حصے میں بھی اگر کوئی شخصیت ابھرتی جس کی علمی قابلیت اسی پائے کی ہوتی جیسی کہ ہمارے نبی کریم  کی تھی تو دنیا کے سامنے ایک روز ایک اورقران حکیم پیش کر دیاجاتا ۔
کہنے لگیں ۔
’’عین ممکن ہے ‘‘
اب آگے علامہ صاحب کی زبانی سنیئے:
’’ایسا ہوا تو نہیں مگر چلئے محترمہ! بتایئے کہ قران حکیم کب نازل ہواتھا یا آپ کے نظریئے کے مطابق قران حکیم کب ہمارے نبی اکرم ﷺ نے لکھا؟‘‘
کہنے لگیں:۔
’’ ٹھیک تیرہ سو اسی برس پہلے‘‘۔
میں نے عرض کیا۔
’’ایٹم بم کب بنا؟‘‘
کہنے لگیں۔
’’ 1945 ء میں دو دانے ناگاساکی اور ہیروشیما پر پھینکے گئے ‘‘۔
میں نے عرض کیا ۔
’’ قران حکیم لکھا گیا تیرہ سو اسی برس پہلے ، ایٹم بم گرایا گیا سال انیس سو پینتالیس میں‘‘۔
کہنے لگیں۔
’’ہاں‘‘
میں نے عرض کیا ۔
’’محترمہ صاحبہ ! ان دو تاریخوں میں کچھ فاصلہ ہے ؟‘‘
جواباً کہا:۔
’’ بیچ میں صدیوں کافاصلہ ہے‘‘۔
میں نے عرض کیا۔
’’ محترمہ! اپنے ضمیر میں جھانک کر جواب دیجئے کہ کیاانسان کے لئے ممکن ہے کہ تیرہ سو اسی برس پہلے بدوؤں کے ملک میں مکے کے شہر میں ایک ان پڑھ شخص جس کے متعلق آپ کے دانش ور طبقے کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حضور اکرم  قطعاَ ان پڑھ تھے ۔انہوں نے نہ کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمزتہہ کیا نہ ہی کوئی کتاب پڑھی نہ ہی اپنے ہاتھ میں کبھی قلم سے کچھ لکھا۔ ایک کتاب لکھنے بیٹھ جاتا ہے وہ عربی زبان میں لکھتا ہے اس کا نام قران رکھتا ہے اور اس عربی قران میں انگریزی لفظ ایٹم بھی لکھتاہے۔ یہ لفظ ایٹم یونانی لفظ اٹامس سے انگریزی سائنس دانوں نے اپنا کر بطور اصطلاح استعمال کیا ہے یہی نہیں بلکہ قران کا مصنف تھیوری آف اٹامزم ( Theory of Atomism ) ڈیماکرٹس قبل مسیح کی ایٹمی تھیوری کی پیچس سو سالہ راز کاانکشاف کرتا ہے۔یہی نہیں بلک بتاتا ہے کہ کس طریقے سے ایٹم بم اللہ تعالی کی مخلوق کو مارے گا اور جب چلے گا تو کیسی تصویر دیکھنے والوں کی نظر میں پیش کرے گا۔ یہی نہیں بلکہ بتاتا ہے کہ کون قو موں کو اللہ تعالی اس عذاب شدید کا مستحق قرار ٹھہرائے گااور وہ کون سے خصائص ہیں جن کی بناپر وہ بدنصیب قومیں اس عذاب کی مستحق ٹھہریں گی ۔یہ سب نو آیتوں اور چھتیس لفظوں میں قران حکیم نے بیان کیا ہے‘‘۔
فرمانے لگیں۔۔
’’ یہ قطعا ناممکن ہے ۔کیا آپ کے حواس درست ہیں۔ عربی قران میں انگریزی لفظ ایٹم اور پھر ایٹمی تھیوری ۔ تھیوری کی تاریخ اور ایٹم بم کے دھماکے کی تصویر ۔‘‘
میں نے محسوس کیا کہ میرے پیچھے بیٹھے ہوئے تمام لوگوں کی گردنیں کچھ بلندہو گئی ہیں اور آنکھوں میں حیرت کے آثارہیں۔ یہ لوگ تو سب چوٹی کے عالم ہیں۔ قران حکیم بچپن سے پڑھتے آئے ہیں۔’’قران حکیم اور ایٹم بم‘‘ ان کے لئے بھی یہ انوکھی بات تھی ۔
میں نے عرض کیا ۔
’’ مادام! میں کوئی پیشہ ور مداری نہیں ۔ قران حکیم بھی یہاں موجود اور آپ کی اپنی آنکھوں سے سب کچھ دکھاؤں گا اور آپ اپنی زبان سے پکاریں گی کہ ہاں بیشک اللہ تعالی کا کلام معجزہ ہے۔ اللہ کا کلام بے نظیر کلام ہے ۔ نہ کوئی ایسا لکھ سکا ہے ۔ نہ ہی کوئی ایسا لکھ سکے گا‘‘ ۔
ہر طرف سکوت چھا گیا ۔ پھیلتی اور سکڑتی ہوئی پتلیوں کی کیفیت بھی فضا میں منعکس ہو رہی تھی ۔ بالآخر میں نے مہر سکوت توڑی اور کہا ۔
’’ آپ پڑھیں سورۃ الھمزہ‘‘ ۔
کہنے لگیں: ۔
’’ میں حافظ نہیں ہوں‘‘ ۔
میں نے کہا: ۔
’’ میں قران حکیم پڑھوں یا قران حکیم منگواؤں‘‘ ۔
کہنے لگیں ۔
’’آپ پڑھیں اگر غلط پڑھیں گے تو ٹوکوں گی میں قران حکیم جانتی ہوں‘‘ ۔
اللہ کا نام لے کر میں نے پڑھنا شروع کر دیا: ۔
’’آعوذ بالللہ من الشیطن الرجیم ۔بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ویل الکل الھمزہ لمزہ ۔ن الذی جمع مالا و عددہ ۔ یحسب ان مالہ اخلدہ ۔کلا لینبذن فی الحطمہ ۔وما ادرک ماالحطمہ ۔ ناراللہ الموقدہ التی تطلع علی الافئدہ ۔انہا علیہم موصدہ ۔فی عمد ممددہ (الھمزۃ)‘‘ ۔
میں نے کہا۔
’’مادام ! یہ حطمہ کیا ہے؟‘‘ ۔
کہنے لگیں ۔
’ آپکے مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ ایک ایسا دوزخ ہے جس میں جو چیز ڈالو گے ایٹم ایٹم ہو جائے گی ذرہ ذرہ ہو جائے گی‘‘ ۔
’’محترمہ ‘‘! میں نے عرض کیا: ۔
’’ یہ حطمہ اسم محل ہے اور اس کی جذر ہے۔ ح ط م ۔ حَطَم‘‘َ
براہ کرم پکاریں ۔’’ایٹم‘‘ ۔
محترمہ نے کہاَ’’ حَطَم‘‘ (جرمن لوگ بھی عربوں کی طرح ٹ کو ت یا ط بولتے ہیں)
میں نے عرض کیا۔
’’یہی حَطَمہ اس کے معنی ہیں ۔’’ایٹم ایٹم ہو جانا‘‘ ۔یہ ہے عربی حطم اور یہ ہے انگریزی ایٹم ۔معنی دونوں کے ایک ہی ہیںاور یہ قران حکیم کا معجزہ ہے مگر آگے چلیں ۔حطمہ کی دوسری ترکیب صرفی ہے ۔حّطم یعنی ط مشدد یعنی آپ کے ہاتھ میں شیشے کا ایک گلاس ہو اور آپ پوری طاقت کے ساتھ اسے چٹان پر دے ماریں۔ گلاس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے ۔ عرب پاس کھڑا ہو گا تو کہے گا۔ حطمہ الغلاس ۔ اس سے اگلی ترکیب ہے تحّطم ط بدستور مشدد اور لفظ کے شروع میں ت بڑھا دی جاتی ہے ۔اس طرح لفظ کی قوت میں اضافہ ہوا یعنی آپ کے سامنے بارود کا ایک ڈھیر پڑا ہو اور آپ اسے دیا سلائی دکھا دیں اور وہ بارود ہر چیز کو لیتا ہوا بھک سے اڑ جائے ۔ عرب پاس کھڑاہو تو کہے گا تحّطم البارود ۔اگلی ترکیب ہے ۔ انحطام یعنی حطم حطم ہو جانا، ریزہ ریزہ ہو جانا ۔ ذرہ ذرہ ہو جانا ۔’’حطام الدنیا‘‘ یعنی اس فانی دنیا کی فانی چیزیں ۔ جو ذرہ ذرہ ہو جانے والی ہیں اور پھر آخر میں حطام السفینہ ۔تباہ شدہ جہاز کا انجر پنجر ۔ سمندرکے سینے پر تیرتے ہوئے جہاز کو دو سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑتاہوا طوفان اچک کر ساحلی چٹانوں پر د ے مارے اور جہاز کے پرخچے اڑ جائیں ۔یہی نہیں محترمہ ! آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وما ادراک ماالحطمہ۔ اے میرے نبی تجھے کون جنوا سکتا ہے ۔ کہ یہ حطمہ کیا ہے ؟ مگر قران حکیم کسی بھی مضمون کو تشنہ نہیں چھوڑتا ۔ اللہ تعالیٰ اس کی مزید وضاحت فرماتا ہے ۔ ’’ناراللٰہ الموقدہ التی تطلع علی الافئدہ‘‘۔’’یہ ایک آگ ہے اللہ کے ہاتھوں بھڑکائی ہوئی جو چڑھتی ہے دلوں تک‘‘ ۔
مادام! میں نے پوچھا ۔
’’ یہ بتایئے ایٹم بم کس طرح سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مارتا ہے ۔کیا یہ عام بارودی بم کی طرح مارتا ہے یا کسی اور طریقے سے ؟
کہنے لگیں ۔
’’جہاں ایٹم بم پھٹتا ہے وہاں تیس میل کے رقبے سے کم و بیش اس بم کی طاقت کے مطابق ہواکو باہر دکھیل دیتا ہے۔ جب یہ ہوا اپنی جگہ لینے کے لئے واپس لوٹتی ہے تو اس میں اتنی شدت ہوتی ہے کہ اگراس کے راستے میں گاڑی کا انجن بھی رکھ دیا جائے تو اسے اٹھا کر دے مارتی ہے ۔ کیا بے چارہ انسان یا دوسرے ذی روح حیوان ۔ ہوا کا یہ شدید صدمہ پیٹ پر لگتا ہے اور دل کی شریانیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ ناک اور منہ سے لہو جاری ہو جاتا ہے ۔ صدمے کی وجہ سے سخت گرمی پیدا ہو جاتی ہے جس سے انسان کا دل اور سینہ جل بھن جاتا ہے ۔
عرض کیا۔
’’ تو پھر اللہ تعالیٰ نے کس قدر سچی تصویر کھینچی ہے ناراللہ الموقدہ التی تطلع علی الافئدہ کی۔ یہی نہیں بلکہ آگے چل کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ انہا علیھم موصدہ ۔ ’’یہ بند کی ہوئی ہے آگ ان پر‘‘ ۔
میںنے عرض کیا ۔
’’محترمہ کیااس آگ سے نکل جانے کی کوئی صورت ہو سکتی ہے ؟‘‘
کہنے لگیں۔
’’ نہیں کوئی نہیں‘‘ ۔
میں نے عرض کیا ۔
’’ مادام ! یہ آپ کے سامنے کیا ہے ؟۔
فرمایا۔
’’ میز‘‘ ۔
میں نے کہا ۔
’’ اگر میں اس پر ایک بم گرنیڈ یا دوسرا بم رکھ دوں تو وہ ’’اگر بند کی ہوئی آگ نہیں تو اور کیا ہے‘‘ ۔ یاد رکھیں ۔ جب قران حکیم نازل ہوا تو بارود کا وجود دنیا میں ہرگز نہیں تھا ۔ بارود کو تو بنے ہوئے تقریبا تین صدیاں ہوئیں اور قران حکیم کا نزول 1380 ء برس پہلے ہوااور کیسی ہی اچھی تعریف ہے بم کی ۔ یعنی ’’بند کی ہوئی آگ ‘‘۔ یعنی بم ۔ ایٹم بم بھی بند کی ہوئی آگ ہی ہے ۔کیا ایسی بات کبھی کسی انسان کے تصور میں آ سکتی تھی۔ مگر آگے چلئے ۔’’فی عمد ممددہ‘‘ ۔’’ لمبے لمبے ستونوں میں‘‘ ۔
میںنے کہا:۔
’’مادام ! آپ نے کبھی ایٹم بم چلتے دیکھا ہے ‘‘۔
جواب دیا ۔
’’ نہیں‘‘ ۔
میں نے کہا:۔
’’ تو تصویر تو ایٹم بم کی دیکھی ہو گی؟‘‘۔
کہنے لگیں۔
’’ہاں دیکھی ہے‘‘ ۔
میں نے کہا:۔
’’تو بتایئے کہ یہ کیسی ہوتی ہے؟‘‘ ۔
کہنے لگیں ۔
’’ جہاں ایٹم بم پھٹتا ہے وہاں دھوئیں بلکہ ریڈیو ایکٹو ایش کا ایک ستون اوپر کی جانب اٹھتا ہے اور تقریبا تیس میل یا کم و بیش اس ایٹم بم کی طاقت کے مطابق پہنچ کر سرے پر چھتری بنا لیتا
ہے ۔ یہ ستون اٹھتے وقت گوناگوں اور بوقلموں رنگ بدلتا ہوا اٹھتا ہے ۔ کبھی مرمر ۔ کبھی یاقوت ۔ کبھی زمرد ۔ کبھی نیلم۔ کبھی سوسنی، کہیں لال کہیں پیلا وغیرہ اور عجیب بہار دکھاتا ہے‘‘ ۔
میں نے عرض کیا ۔
’’ مادام ! آپ بیٹھی ہوں کوہ ہمالیہ کی چوٹی ماونٹ ایورسٹ پر جسے چند برس ہوئے سر جان ہنٹ کی پارٹی نے سر کیا تھا۔ آپ کے ہاتھ میں ہو سو انچ قطر کا ٹیلی سکوپ اور پانی پت کے میدان میں جہاں ماضی میں کئی لڑائیاں لڑی گئیں ۔ ایک ہزار مربع میں ایٹم بم اس طرح گاڑ دیئے جائیں جس طرح کہ باغ میںمقررہ فاصلے پر درخت ہوتے ہیں اور کوئی ایسا انجینئر پیدا ہو جو ایک ایسی ترکیب سوچے کہ یہ بے شمار ایٹم بم یک لخت بھک سے اڑ جائیںاور پھر ایک ہزار ستون نظر فریب ایک انداز دلربائی سے رنگ بدلتے ہوئے تیس میل کی نظر فریب بلندی پر اٹھ کر چھتریاں بنالیں تو آپ سمجھیں گی ۔ کہ کسی عظیم شہنشاہ کے لئے محل تعمیر ہو رہا ہے یا کوئی عظیم الشان تھیٹر کی عمارت بنائی جا رہی ہے‘‘ ۔
لیکن نہیں ۔ محترمہ! ۔
’’ یہ تو حطمہ ہے ۔ ایسا جہنم کہ جس میں جو چیز ڈالو گے وہ ایٹم ایٹم ہو جائے گی‘‘۔ یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ کون سی قومیں اس عذاب کی مستحق ٹھہرائی گئیں اورکیوں ‘‘؟
میں نے عرض کیا ۔
’’مادام ! فرمایئے الھمزہ کیا ہوتا ہے؟‘‘۔
کہنے لگیں ۔
’’وہ جو تمہارے منہ پر تمہاری برائی کرے اور لمزہ وہ ہے جو پیٹھ یچھے برائی کرے‘‘ ۔ مادام ! ٹھیک ہے ۔آپ کا شکریہ ۔
’’اور ن الذی جمع مالاو عددہ ۔ یعنی یہ ھمزہ لمزہ مال جمع کرتے ہیں اور گنتے ہیں کہ بینک بیلنس میں کتنی بڑھوتری ہوئی ۔ مزید یہ کہ یحسب ان مالہ اخلدہ اور پھر گمان کرتے ہیں کہ یہ مال و دولت انہیں زندہ و جاوید کر دے گا وہ کبھی مریں گے نہیں اور یہ مال و دولت ہمیشہ رہے گا ۔ کلا ۔ یعنی ہرگز نہیں ۔ لینبذن فی الحطمہ ۔ بلکہ وہ تو ڈال دیئے جائیں گے حطمہ میں‘‘۔
مبہوت علماء کرام نے علامہ علاؤالدین صدیقی سے استفسار کیا کہ یہ حضرت کون ہیں؟ علامہ صاحب نے فرمایاکہ ان پادریوں کو جانے دو پھر بتاؤں گا۔ پادری حضرات جب چلے گئے تو علامہ صاحب نے فرمایا ۔ ’’یہ وہ شخص ہے جسے قدرت نے محض اتفاق سے تمہاری قوم میں پیدا کر دیا ہے ۔وہ علمی بصیرت اور قرانی نور جو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے سینے میں تفویض فرمایا ہے اگر تمہاری قوم اس سے استفادہ کرتی تو آج مقام بلند پر ہوتی‘‘َ
ؑؒعلامہ محمدیوسف جبریل کی زندگی پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔وہ سال ہا سال سے مسلمانان عالم کوبیدار کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ وہ قرانی تعلیمات کی روشنی میں دنیا کو امن اور سلامتی کا پیغام دے رہے ہیں۔علامہ یوسف جبریل کی شخصیت نہایت عجیب و غریب ہے۔ انہوں نے نہ صرف اردوبلکہ
انگریزی میں بھی کتابیں اور مضامین لکھے ہیں۔ اپنے خیالات کی تبلیغ و اشاعت اور اپنے شعلہ ء دل کو تابناک بنانے کے لئے شعر کا بھی سہارا لیا ہے۔ ان کی زندگی کا آغاز انگریزی فوج میں ایک سپاہی سے ہوا۔ انہوں نے انگریزی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عراق کے جیل خانہ ’’مصیب‘‘ میں کورٹ مارشل کی سزا بھی برداشت کی۔ علامہ صاحب کو گورکھا ٹوپی نہ پہننے کے ساتھ انگریز فوج کے خلاف بغاوت کرنے پر کورٹ مارشل اورجیل کی سزا ہوئی۔ لیکن انگریز جنرل کو لندن سے یہ انتباہ ملا کہ عین اس وقت جب دشمن ہمارے سامنے ہے تم ایک مسلمان سپاہی محمدی یوسف کو گورکھا ٹوپی اور انگریز کے خلاف بغاوت کرنے پر پھانسی کی سزا دے کر اڑھائی لاکھ مسلمان فوجیوں میں نفرت اور بغاوت کابیج بوناچاہتے ہو۔اس شخص کو صرف فوج سے الگ کر دیا جائے ۔ علامہ صاحب کو جیل بھیج دیاگیا ور جیل میں علامہ صاحب نے تجلیات دیکھیں۔ علم وتعلیم و تعلم کا آغاز کیا اور اپنی خدا داد صلاحیتوں سے اسلامی تعلیمات کوفروغ دینے میں مصروف رہے۔ وہ قران حکیم کے تلمذ اقبال کے شیدائی اور ہادی ء اکرم تاجدار عرب و عجم حضرت محمد کے فدائی ہیں اور بقول اقبال وہ اپنے اہل وطن کو یہ پیغام دے رہے ہیں۔
اثر کرے نہ کرے سن تو لے میری فریاد

نہیں ہے داد کا طالب یہ بندہ بے داد

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 44
    دور جدید میں قران حکیم کا ایک لازوال اور محیرالعقول سائنسی اور ایٹمی معجزہ معروف ِزمانہ یہودی مشتشرق اینی مری شمل اور علامہ یوسف جبریل کےدرمیان قران حکیم کےاس اہم موضوع پر یادگار مذاکرےکی تفصیل و روئیداد تحریر علامہ محمد یوسف جبریلؔ ستمبر 1963 ءکا واقعہ ہے۔ انہیں دنوں مائینڈ…
  • 40
    ۲۰۰۱ء میں  سےجبریل  یوسف علامہ  جب میری آخری ملاقات ہوئی تو جناب واصف علی واصف  کے چھوٹے بھائی شوکت محمود کنڈان بھی میرے ہمراہ تھے۔ کمرے میں علامہ یوسف جبریل ،شوکت محمود کنڈان ،شوکت محمود اعوان(پسر علامہ یوسف جبریل)اور راقم(شاکر کنڈان)بیٹھے تھے۔میں صوفے کی ایک سیٹ پر بیٹھا تھا کہ…
  • 37
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…

Share Your Thoughts

Make A comment

2 thoughts on “شہرہ آفاق جرمن مستشرق اینی مری شمل اورعلامہ محمدیوسف جبریل کے درمیان قران حکیم اور ایٹم بم کے موضوع پر مذاکرہ کی تفصیل تحریر شریف فاروق

  1. آنحضور ﷺ نے ایٹمی جہنم کی منظر کشی کی
    فرمایا :۔ ’’ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو آگ کے ڈھکنے اور آگ کی میخیں اور آگ کے ستون دے کربھیجے گا۔ وہ جہنمیوں کو آگ کے ڈھکنوں سے ڈھانپ دیں گے اور ان کو آگ کی میخوں سے جڑ دیں گے پھران کے اوپر آگ کے ستون کھینچ دیں گے ۔سارا ماحول اس قدر بند ہو گا کہ نہ توفرحت کی کوئی مقدار باہر سے اندر آ سکے گی۔ نہ ہی دکھ کی کوئی رمق اندر سے باہر جا سکے گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر ان لوگوں کو فراموش کردے گا۔ اور اپنی رحمت سے ان کو دور کر دے گا۔ جنت کے مکین اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوناشروع کردیں گے۔ جہنم کے مکین مددکے لئے پکارنا بند کردیں گے۔ اور بات چیت ختم ہو جائے گی اوران کی بات چیت اس طرح ہوگی ۔ جس طرح سانس کو اندر باہر کھینچا جاتاہے‘‘۔ (تفسیر الجلالین)
    اب ایٹمی دھماکے کی اس سے بہتر تصویر تصور میں نہیں آ سکتی۔ ایٹمی بم کا دھماکہ ایک الٹی دیگ کی طرح ہوتا ہے۔ اور بدنصیب لوگوں کو اوپر سے ڈھانپ دیتا ہے۔ تابکاری شعاعیں آگ کی میخیں ہیں۔ جن سے ان بدنصیبوں کو جڑ دیا جاتا ہے۔ اور ایٹمی دھماکے کا کھچا ہوا ستون آگ کاستون ہوتا ہے۔ جو ان کے اوپر کھینچ دیاجاتاہے۔
    (علامہ محمد یوسف جبریل)
    یوسف جبریلؒ فاؤنڈیشن پاکستان، قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی
    ایم اویس پرنٹر منی مغل مارکیٹ دوکان نمبر ۵، مین بازار نواب آباد واہ کینٹ ملک ناصر محمود
    http://www.oqasa.org

    Back to Conversion Tool

Leave a Reply