Challenges of Globalization By Ikram Ullah Khan

 

 

Destructive Challenges of Globalization by Dr Ikramullah Khan

 

 ikramullah

To View/Download PDF in better font go to end of this post.

ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا
خودی کی زد میں ہے ساری خدائی
خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے ‘‘ ۔وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (سورۃ یونس)
’’ اور جنوں اور انسانوں کو صرف اور صرف (اپنی عبادت) حق کی بجاآوری کے لئے ہی تخلیق کیا ہے‘‘۔
تہذیبی اعتبار سے دنیا آج جس دور سے گزر رہی ہے یہ ایک مادی دور ہے۔ علمِ سائنس کی ترقی اور اس کی بے شمار ایجادات نے انسان کو انتہائی حد تک مادۂ پرست بنا دیا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ یہ انسانیت کو صرف اور صرف مادی کسوٹی پر ہی پرکھتا ہے۔ اسی مادی کسوٹی کی ہی بنیاد پر جملہ انسانیت کو تین دنیا (۱) یورپین یا ترقی یافتہ اقوام First world یعنی (Advanced/Developed Nations) اور (۲) Second World یعنی (Middle East) عرب اقوام اوران کے Status کی دوسری اقوام اور Third World یا ترقی پذیر ممالک کی اقوام ، جیسا کہ ایشیا ء اور براعظم افریقہ کی بہت ساری غریب ترین سلطنیں، یہ تو گلوب کی تقسیم بحیثیت اقوام دنیا کے نقشے پر پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد رونما ہوئی جو کہ اب تک اکیسویں صدی میں بھی اقوام متحدہ (UNO) کے کنٹرول میںہے۔جب ہمUNO Organization پر تحقیق کرتے ہیںتو سلامتی کونسل (Security Council ) میں ہمیں پوری دنیا کا (۱)سماجی (۲) سیاسی (۳) اقتصادی (۴) قانونی اور (۵) دفاعی نظام نظر آتا ہے۔ کیونکہ پانچ فیصلہ کن طاقتیں (Veto Powers ) امریکہ، برطانیہ ، فرانس، روس اور چین ہی کے فیصلے حرفِ آخر نظر آتے ہیں، بلکہ گلوبلائزیشن ERA میں تو صرف اور صرف امریکہ کی کمانڈ اور کنٹرول ہی سارے عالم پہ چھائی ہوئی ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بالائے طاق رکھ کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بدمعاش ممالک (Rouge States ) کے خلاف پیشگی حملہ (Pre-emptive attack ) کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے لہذا موجودہ فضا کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سیاستِ عالمی اب دو Status میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ’’ طاقتور اور کمزور اقوام یا ممالک‘‘ طاقتور ممالک اقتصاد و ہتھیار اور افواج کے مرہون منت ہیں۔ گویا پورے گلوب کا کمانڈ اور کنٹرول فی زمانہ Armed Forces کے پاس ہے۔ اس طرح کہ پوری دنیا کادفاعی بجٹ زیادہ ہے۔ اسی بنا پر دنیا میں Arms Export زیادہ ہے۔ جون 2006 میںروس میں G-8 ترقی یافتہ ممالک کی کانفرنس ہوئی تو اس دوران نہایت اہم نکتہ منظر عام پر آیا کہ پوری دنیا میں Arms Sale کا بجٹ پورے گلوب کے Welfare Budget سے کئی گنا زیادہ ہے۔ لہذا اکیسویں صدی کی سیاست ہتھیاروں کی اور مال کی سیاست ہے۔ اسی لئے (۱) Land (۲) Sea (۳) Air (۴) Space (۵) Information پر حکمرانی کے لئے امریکہ نے منصوبہ بندی کرتے ہوئے تاکہ پوری دنیا پرAtomism&Capitalism اور Cosmopolitical Democraticism حاوی رہے۔ سامراجی اور استحصالی قوتیں چھائی رہیں۔ اس منصوبہ نے اپنی جولانی و طغیانی معروف امریکی صدر جناب ریگن صاحب کے دور میں دکھائی Starwars * اور Armageddon کے عملی مظاہرے حرکت میں آئے اور اب یہ عالمی حکمرانی New World Order کی تحریک جس کے بانی و آقا سرکار یہودی ہیں ۔ عیسائی دنیا ان کے اتحادی، آلۂ کار ، مسلم اور کمزور اقوام اس کا First Target ہیں۔ موجودہ Superiority کی جنگ کا حتمی ٹائم فریم جو کہ امریکی منصوبہ کاروں نے دیا ہے 2020 ء تک ہے۔
) Ref: http ://www.fas.org/spp/starwars/programs/nmd
گلوبلائزیشن کی عالمی جنگ چار محاذوں پر لڑی جا رہی ہے۔
(۱) Globalization of the economy:
(2) politics:
(3) culture and (4) Law ( Ref: http://www.globapolicy.org/
اس نہایت ہی بھیانک خونریز اور ہولناک جنگ کی پالیسی کے چار ہی اہم نکات ہیں اور ان ہی پالیسی Mattersکے گر د ہی یہ جنگ اپنا دائرہ کار وسیع کئے ہوئے ہے جس کا دائرہ جناب امریکی صدر ریگن صاحب سے گردش میں کچھ زیادہ ہی تیز ہوا ہے اور اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھاتا ہوا نظر آتا ہے۔موجودہ امریکی صدرGeorge W.Bush تک اس کا Status درج ذیل ہے۔ : موجودہ امریکی ،اسرائیلی اور ان کے اتحادی انہی خیالات کے پرزور حامی ہیں۔
Reagon’s support of gung-ho neo-conservatives can only be understood in the light of the President’s millinnialists thinking, “why waste time and money preserving things for the future? why be concerned about conservation? It follows that all domestic programms, especially those that entail capital outlay, can and should be curtailed to free up money to wage the war of Armageddon. The dispensationalists who preach Armageddon theology are a relatively new-cult-less than 200 years old. There are four main aspects of their belief system: (1) They are anti-Semtic.They profess a fervent love for Israel. Their support to Israel does not, however, arise out of a true love for the Jews and their sufferings. Rather, their “love and support” is based on their wanting Israel. In place for the “second coming of Christ (PBUH)” when they expect most Jews to be destroyed. (2) The dispensationalists have a very narrow view of God and the six billion people on the earth planet. They worship a tribal god who is only concerned with two people Jews and Chrsitians, who said tribal god intends to pit against one another for His favour. The other five billion people on the earth planet are just not on this God’s radar except to be killed in the final battle. (3) The dispensationalists are certain sight down to their bones that they understand the Mind of God. They provide a scenario, little a movie script, that
unfolds with time sequences, epoches or ” dispensations” all ending happily with an end-time escapism called the rapture-for a chosen few like themselves. They appeal to those who want to feel that they are on the “inside” of a “special group”, with secret, profound knowledge.This desire for certitude causes millions of the followers of dispensationalism to trust their leaders to an extraordinary degree. (4) Fatalism is the fourth aspect of Dispenstionalists. The World, they say, is getting steadily worse and we can do nothing, so there is no point in doing any thing. The teachers teach about the wrath of a vengeful God and declare that God does not want us to work for peace, that God demands that we wage a nuclear war: Armageddon that will destroy the earth planet. The frightening by-product of these beliefs is that, since the cult is in power in the United States, it is so easy to create the very situations which are described, thus ensuring the fulfillment of the ideas of the Dispensationalists : the cult that wants to Create Armageddon and needs 5 billion people on the planet to go willingly to the sacrificial altar, and the Muslims have been chosen to be first. This is the most dangerous cult in the world .Ref: The Most Dangerous Cult in the World by : Lawrd Knight- Tacde zyk (july 30, 2005)
(۶) بیان کردہ چار مقاصد کے حصول کے لئے، چار اہداف پر چار نظریات کی مختلف ظاہری مادی (Physics) کی پیروکار اقوام، یہودی، عیسائی، منافقین اور مشرکین نے مشترکہ پلیٹ فارم پر دنیا کی بہترین ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے ذریعے(امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے گویا US-war on terror کے عنوان یعنی Terrorism دہشت گردی کے خلاف 9/11 ستمبر کے حادثہ کے بعد افغانستان ، عراق اور کولمبیا میں جنگ چھیڑی ہوئی ہے، جس کا دائرہ کار دن بدن وسیع تر ہوتا جا رہا ہے، اس خطرہ کے پیش نظر کہ شاید حالیہ جنگ کہیں Third world war میں نہ بدل جائے اور اپنے ارتقائی روائتی انداز کو تبدیل کرتے ہوئے جنگی Strategy کہیں WEAPONS OF MASS DESTRUCTION کی حد تک نہ پہنچ جائے کیونکہ خوف و ہراس کے عالم میں جیسا کہ امریکہ، یورپی اقوام اور ان کے اتحادیوں پر طاری ہے۔ Political powers بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر دوبارہ اس حماقت کا پہلے سے کہیں زیادہ ارتکاب کر سکتی ہیں ،جیسا کہ ناگاساکی اور ہیروشیما میں Second world war میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کر ڈالا۔ اب تو خطرہ کہیں اس سے بھی کروڑ گنا The Most dangerous ہو گیا۔ کیونکہ جب 1956 ء میں(۱۵ میگاٹن) کے تھرمونیوکلر بم کا تجربہ کیا گیا تو اس کا Lethal effect سات ہزار مربع میل کے رقبہ پر تھا لیکن اس کیRadiations کا دائرہ کار ایک لاکھ مربع میل تک Judge کیاگیا پھر اس کے fatalism کا دارومدار بھی تو Environmental Effect سپیشل ہوا کے رخ ، Velocity اور دباؤ پر کرتا ہے، جیساکہ جدیدوقدیم اٹامزم کے ہیرو،لاثانی محقق اور Master of all trades حضرت علامہ محمد یوسف جبریلؒؒ نے اپنی بہترین علمی لاثانی شاہکار کتاب ’’حطمہ‘‘ میں بیان کرتے ہوئے فرما یا ہے کہ Radiations کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ پورے گلوب کے نظام کو Cover کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے اور Stratosphere کی Zone جس کا لیول زیرو سے بیس میل بلندی تک اپنی Operational صلاحیت اجاگر کرتا ہوا گلوب کا تدریجی مراحل میں رخ کرتا ہوا Radiations کا سپرے کرتا ہوا ہر جاندار اور بے جان کے سیل(Cell) اور نیوکلس کو کرش کرتا ہوا بذریعہ Respiration ، Blood circulatory سسٹم Genes mutation کرکے ہڈیوں کے گودے میں تابکار مادہ بیٹھ جاتا ہے جو کہ کئی سالوں تک خفیہ طریقے سے انسانیت کی ذلت ورسوائی کا سبب بنارہتا ہے۔ کیونکہ اس کاعلاج و کنٹرول فی الحال سائنس دان کے لئے ناممکنات میں سے ہے۔ منطقی انجام کے اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ عالمی جنگSpace ,Air,Sea,Land, اور Information پر خفیہ کنٹرول کی بجائے کائنات کے Infrastructure کو کئی بار تباہ کرنے کی کلیتہً خاصیت کی حامل ہے۔ اس جنگ کے Back پر چار Pillars نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ جن کو War disaster profiteers کی Term میں باور کیا جاتا ہے۔
1) Oil, Gas & Energy Companies (US Department of Energy) 2)US Govt. officials(because they love you) 3) Military and defence contractors 4) Heads of Industry, Finance, Media, Policy and Hype.
مزید Elaboration کے لئے : Production Promisesکی طرف رجوع کرنا بھی نہایت ہی ضروری ہے، ویسے تو ان campaign contributors کی تعداد ہزاروں تک ہے ۔بحر حال ان میں سے ہم امریکہ کی Ten top military contractors اور Laboratories کا ذکر کریںگے اور ساتھ ہی اس کے اتحادیوں کے بھی تھوڑے سے اشارے Add کرکے ان کے نہایت ہی تباہ کن ترین ہتھیاروں کی نشان دہی ان کی Deployment کے حوالے سے کریں گے تاکہ اس دھرتی کے سینے پر رہنے والی اشرف المخلوقات حضرت انسان کو تجزیہ ہو کہ میرے ’’امن‘‘ کے لئے جدید سائنسی دور کے عظیم ترین سائنسدانوں، دانشوروں، سیاستدانوں اور اعلیٰ طبقات Elites نے کیا کیا گل’ کھلا اور بکھیر کر میری راہ میں کتنی ہی تازہ سرسبزو شاداب پتیاں آراستہ و نچھاور کرکے واقعی مجھے اعلیٰ ترین پروٹوکول فراہم کر رکھا ہے یاتباہی کے کنارے پہ لا کھڑا کیا ہے۔ اس پروپیگنڈا کے ساتھ کہ “After winning of the war against the terrorists,future is the brightest” کاتجزیہ کرتے ہیںکہ حال کیا ہے ماضی تو ہمیں خوب معلوم ہے۔ حال کو سامنے رکھتے ہوئے مستقبل کی منظر کشی کی جا سکے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ العزیز۔ US Companies کیا کچھ بنا رہی ہیں۔
(جو دنیا کا سب سے بڑا طیارہ ہے )۔1) Boing : aside from 747,
boing makes: Smart bombs, F-15 fighters and apache helicopter
امریکی احتسابی کمپنی( Corpwatch,audit corporation accountable )کی ستمبر 2006 کی رپورٹ کے مطابق Boing has paid tens of millions in fines for selling flawed parts that led to thousands of unnecessary lendings and at least one fatal crash and has been plauged by scandals connected to the company’s inluence- peddling. 2)Lockheed Martin: The world # 1 Military contractor ۔F/A-22,F-16 (fighters) ,U-2 ,SR -71 (Reconsses ),Javelin Missiles.
They have also made millions through insider trading, falsifying accounts, and bribing officials.3) Northrop Grumman :B-2 Stealth bomber. یہی وہ کمپنی ہے جس نے سعودی شہزادوں کو عراقی نیشنل آرمی کے خلاف Tune کرکے $48 millions کی رشوت دی اور عراق کو مروایا۔”Above board, their job is simply selling death
(4) General Dynamics : F-16, Abrams tanks and trident subs.بلین ڈالرز کی ٹریڈنگ کرتی ہے۔ )
(5) Raytheon: Means ” light from the gods”.
گلوبلائزیشن کی عالمگیر تحریک میں یہی کمپنی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دفاعی backbone سمجھی جاتی ہے۔ اس کے اندر ایک sub-section ہے جو MDA of raytheon سے موسوم ہے۔ ( Missile defence agency of raytheon) جس کی ٹائیگر ٹیم ,
(Ballistics Missile Defense Organization(BMDO)
,Department of defense(DOD)
Pentagon اور USAF امریکی ایئر فورس کو ,National Missile Defense (NMD) امریکن اور ان کے اتحادیوں کی Latest research ہے جو کہ روس کی توڑ پھوڑ کے بعد Donald Ramsfeld کی سرپرستی میں 1996 ء میں شروع کی گئی ہے، اس پر بلین ڈالرز
اور دوسرے وسائل خرچ ہوچکے ہیں لیکن تاحال کامیابی نہ ہو سکی ہے، اسی پروگرام اور سسٹم پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی حالیہ جنگWar On terror کادارومدار ہے، آج تک منصوبہمکمل نہ ہو سکا ہے۔ اس کی کچھ قومی اور بین الاقوامی کمزوریاں ہیں جس کی بنا پر تاحال NMD ہچکولے کھا رہاہے۔ ناکامی کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں:۔
This system is rushing to failure in case of America’sا
war on terror spreading day by day and has no solution to control nuclear weapons at international level or small range missile attack to the US coastal states through smuggling as Richard L.Garwin say 50 years expert involvement in nuclear weapons and ballastic Missiles .Ref. 03605NMD P Draft 1 of 03/05/05.
The threat by S.Korea Missile programme to toepo-dong-1,and TD-2 Long range ICBM.
National Intelligence estimate emerging missile threat to North America during the next five years.
The evolution in the threat assessments culminated with the 15 July 1998 of the Commission report to access ballistic missile threat, chaired by US Defence Secretary Donald Rumsfeld.
Russia, China, S.Korea objections.
Totally depend on RADAR Tech(i.e. X-band-(Space base infrared sys) (SBIRS) by USAF- weak performance. Upgrade Early Warning RADAR (UEWR)
Space + Missile tracking system.
More budgetary and huge infrastructure.
Capable to conventional defense at limited range.
Booster assembly+electrical system is beyond scientists grip.
Accelerated+re-empty system.
Fixed based not mobile, dormant ,ready for use.
Wastage of time, manpower, material, budget and other resources etc.
Non availability of “Genius”, lack of confidence in case of failure during tests/trials of NMD.
According to Lt.Col.Rick Lehner a spokeman for the pentagon (BMDO) ” An emergency defense sytem, Ref: FAS (Federation of American Scientists) Report vol.52, No. 6 Nov.Dec.1999.
With comments of President Bill Clinton, politicians and Lt.Gen.Lester L Lyles, Dir.Ballestic Missile Defense Organization. 20 Januvery, 1999 (BMDO)
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے دفاعی مشن کا اصول بھی چار زاویوں پر مشتمل ہے۔
1) Field a missile defense system that meets the ballistic missile threat at the time of a deployment decision.
2) Detect the launch of every ballistic missile(s) and track.
3) Continue tracking of ballistic missile(s) using ground base radars.
4) Engage and destroy the ballistic missile warhead above the earth’s atmosphere by force of impact.
امریکیوں اور ان کے اتحادیو ں کی current جنگی حکمت عملی pre-emptive, attack strategy کا دارومدار Booster Phase Interceptor (BPI)(1999) پر ہے۔ جس Concept کے بانی تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں اور بیلیسٹک میزائل کے پچاس سالہ تجربہ کار (Richard Garwin ) ہیں۔ 2003 ء میں America Physical Society Study Group(APS)نے بہترین مستندرپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ روس اور چین کے vast (وسیع) زمینی اور سمندری نظام میں BPI کارگر نہیں ہے۔
Ref: www.fas.org/RLG اس ریسرچ سے خوب تجزیہ ہو جاتاہے کہ امریکہ اور اس کے مایہ ناز اتحادیوں کے دفاعی و فوجی نظام میں کئی Flaws (خامیاں) پائی جاتی ہیں اور ان کے بہترین Countermeasure موجود ہیں۔ وہ ہم آگے چل کر حضرت علامہ محمد یوسف جبریلؒؒ کی اکمل ترین Nuclear Neutralization پالیسی میں بیان کریں گے۔ اس سے قبل عالمی دفاعی توازن کا جائزہ لینا از حد ضروری ہے ۔ورنہ وہی ہو گا مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ بیماری کی باریک بین تشخیص ضروری ہے۔ اس کے بعد ہی شافی علاج ممکنات میں سے ہے۔ انشاء اللہ التعالیٰ العزیز۔
Raytheon Company: ” Nuclear bunker buster, bombs, tomahawk missileاکیسویں صدی کے نیوکلر بنکر بسٹر بم ، پیٹریاٹ میزائل ، مینوفیکچر کرتی ہے۔ وہی Tomahawk میزائل جو حالیہ عراق کی جنگ میں پہلے نمبر پر فائر کرکے Above ground ملبہ کو اڑایاگیا، بعد میں 2000Lbs کے GP جنرل Purpose بم گرا کر Underground ٹارگٹ تباہ کئے گئے۔
This company loves big noises and large civilian casualty counts, when a misile killed 62 civilians in a Baghdad market, that was light from the Gods.
United Technology:UT,a.k.a, sikorsky, sells black hawk and comanche helicopter and various missile systems design to inspire terror in civilians from Palestine to Colambia and beyond.
Halliburton: This company truly has a Guardian angel: former hallibruton CEO and non Vice President Dick Cheney who looks out for its interests from the White House. The result? $2 billion in contracts” rebuilding” Iraq in 2003.
General Electric: Run untill 2001 by “Neutron” Jack Welch, who made it a matter of principle to lay it off 10% of his workers per year; the world biggest company churns out plastics, aircraft engines and nuclear reactors, media spin through NBC,CNBC, Telemundo and msnbc.com.(Ref.1611 telegraph avenue 702 oakland, CA94612 USA 510-271-8080)
Science application International Corporation(SAIC) : Awarded the control of the Iraqi Media Network, was not able to spin US propaganda in Iraq and ended up being forced to withdraw from the contract. But their financial prospects remain solid as supplier of survilliance technology to US spy agencies.
CSC Dyncorp: This world’s premier rent-a-cop business runs the security show in Afghanistan, Iraq and the US Mexico border. They also seem the coca crop-dusting business in Colombia, and occasional sex trafficking sorties in Bosnia. But what can you expect from a bunch of mercenaries?
علاوہ ازیں Matra of France,MBDA of France, UK, Italy, Germany, Spain,IAT(Israel Aircraft Industry) Aeronautics defense system ltd. Elbit sys Ltd. Rafael,Almazshipbuilding Co. (Russian Federation), Arms defense technologies review tactical missile corporate JSC, Fsue zelenodolsk design bureau.
ان مشہور کمپنیوں کے علاوہ دنیامیں 500 سے زیادہ اور بھی World defendry پائی جاتی ہیں۔ زیادہ ترGreec(یونان) میں واقع ہیں۔ ان Multinational کمپنیوں کے علاوہ لیبارٹریز کی تفصیل درج ذیل ہے۔ جوکہ US Department of Energy(DOE) کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔National Laboratories and technologies centres یہاںپرسائنسدان اور انجینئرCutting-edge-research سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ ہر طرح کی سہولیات مہیا ہیں۔ Ames Laboratories:، Synthesis Process کا نیشنل سنٹر ہے۔ جہاں پر زمینی معدنیات کے فزیکل، کیمیکل اور ریاضیاتی نظام بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ سپیشل سٹوریج کے حوالے سے Argonne National Laboratory، Multidisciplinary research centre کہلاتا ہے۔ اس میں Energy resources اور National Security کے انتظام پر کام ہوتا ہے۔ Brookhaven National Laboratory
۔اس لیبارٹری میں فزکس، ماحولیاتی سائنسز، انرجی ٹیکنالوجیز اور یونیورسل گورنمنٹ میں ریسرچ کا سازوسامان پایا جاتا ہے۔ Fermi National Accelerator Laboratory (Fermi Lab) اس لیبارٹری میں مادے اور انرجی کی بنیادی صفات کے ساتھ ساتھ Leadership کی بنیادی تحقیات کروائی جاتی ہیںIdaho National Laboratory ,(INL) Applied Engineering لیبارٹری ہے جس کی ذمہ داری امریکی شعبہ توانائی برائے ماحولیات ، انرجی، سائنس اور قومی سلامتی کے امور سے ہے۔ Lawrwnce Berkley National Laboratory یہ لیبارٹری بہت وسیع پیمانے پر سائنس ،کائناتQuantitative bio, nanoscience, نیوانرجی سسٹم سلوشنز اور کمپیوٹر میں Disc کے لئےIntegration کاکام سرانجام دیتی ہے۔Lawrence Livermore National Laboratory (LLNL) لیبارٹری کی بنیاد ستمبر 1952 ء میں بطور ایٹمی ہتھیاروں کی ایجادات اور انجینرنگ Design کے لئے رکھی گئی تاکہ امریکہ کی نیوکلر ساکھ قائم رہ سکے۔Los Alamos National Laboratory لیبارٹری امریکی انتظامیہ حکومت Administration کا اہم حصہ ہے جو کہ قومی سلامتی اور Nuclear Deterrence کا ذمہ دار ہے ۔National Energy Technology Laboratory (NETL) ۔ادارہ ایڈوانس سائنس کے علوم کو وسیع پیمانے پر پھیلانے اورہر قسم کی توانائی کی بحالی اور ایجادات کا مرہون منت ہے۔New Brumswick Laboratory امریکی وفاقی ادارہ ہے جو کہ ایٹمی مواد کے ناپ تول کے نظام بمع Reference کے قومی اختیار میں رکھتا ہے۔Oak Ridge Institute for Science and Education (ORISE) ادارہ صحت عامہ، ماحول کی صفائی ، ایٹمی تابکاری، Radiationsمیں باہمی مدد، قومی سلامتی اور ہنگامی حالات میں تیار رہنے اور سائنسدانوں کی تعلیم کا ذمہ دار ہے۔Oak Ridge National Laboratory (ORNL) قومی سلامتی کے امور کی تحقیق کا ادارہ ہے۔Pacific Northwest National Laboratory (PNNL) توانائی اور سلامتی کے بڑھتے ہوئے بڑے مسائل کا حل، بہترین صلاحیت اور توانائی کے عواملِ مشترکہ ، اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ بنھانا۔
Princeton Plasma Physics Laboratory(PPPL) بین الاقوامی سطح کا Fusion اورDefusion کا ادارہ ہے۔
Radiological & Environmental Sciences Laboratory انرجی کے متعلق ہر طرح کی کوالٹی کی اعلی یقین دہانی کا مرکز ہے۔
Sandia National Laboratories قومی سلامتی کا بذریعہ سائنس اور ٹیکنالوجی ذمہ دار ہے۔
Savanah River Ecology Laboratory . سوانا دریا کے اتار چڑھاؤ کی تحقیق کا ادارہ ہے۔ ساتھ ہی تعلیمی میدان میں سرگرم ہے۔
Savanah River National Laboratory ۔ٹیکنالوجی کی اپلیکیشنز کی ترقی کا ادارہ ہے۔
Stanford Linear Accelerator Centre (SLAC) الیکٹران اور الیکٹرونکس کی Acceleration (اسراع) اور High energy physics کی تحقیق کاادارہ ہے۔
Thomas Jefferson National Accelerator Facility (Jefferson Lab)الیکٹرونکس، نیوکلائی اور نیوکلر سائنس میں نیوکلیان سے نکلنے والی مسلسل High energy beams کو کنٹرول وعوامل کا ادارہ ہے۔ اس لیبارٹری میں دنیا میں پائے جانے والے تمام Substances (عناصر) کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات بمع ان کے انتظامات Physical اور Chemicalصفات و استعمالات کے انتظامات موجود ہیں۔
قاری محترم! ان کے مایہ نازو زمانہ ساز عظیم Word Buildersپیداواری و ترقیاتی اہرام Production اورDigital Promises کے باوجود کچھ نہایت ہی اہم خفیہ فیکٹریاں بھی گمنامی کی حالت میں بااثرشخصیات و پراسرار تنظیمات US CIA,FBI,HOMELAND SEC, MOSAD,RAW, KGB,BUILDER BURDGEاور کئی دوسری NGOS
کے زیر سایۂ کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں۔ انداز مسلسل، منظم اور معیاری۔ کیا خوب جنگ کی تیاری، ہر طرف Terrorism کی آبیاری ،فصل بڑی پیاری، کٹائی جس کی عیاری، پیچھے War Profieteers کھلاڑی اور نتیجہ تباہی اور تباہی۔
معزز قارئین کرام و تجزیہ نگار و ذی شعور صاحبان! ان عظیم منظم اداروں کو بہترین انداز سے چلانے والوں کی بھی فوج ظفر موج موجود ہے جن میں کچھ کا تعارف نہایت ہی دلچسپی کا باعث ہے۔
1) FAS (Federation of American Scientists), DC Washington. www.fas.org/
امریکہ کے چوٹی کے تقریباً266 نوبل پرائز یافتہ سائنسدانوں کے علاوہ ہزاروں ایٹمی سائنسدانوں ، انجینروں، ٹیکنالوجسٹ پر مشتمل عالمی تنظیم جس کی موجودہ سربراہ چیئرپرسن Dr.Tulle صاحبہ ہیں۔US Biosecurity کی بھی ذمہ دار ہیں۔
2) Union of Concerned Scientists:
امریکی ایٹمی سائنس دانوں ، انجینروں اور ٹیکنالوجسٹ کی عظیم تنظیم گلوبل سیکورٹی کی زمہ دار ہے۔

3) US Dept of Energy
4) National Ministries Division
5) National Security Council
6) US Chain of Command (High officials)
(7)UNO, NATO, G-8,WTO,IDRC, WEU, Commonwealth, NMAS, DGP,CNAD,MOR,AHWG,AGARD,EADS,MEADS,NOBLE FOUNDATION, IAEA, CERN, DIRECTORS OF ARMAMENTS, OTHERS DIRECTORS, IMF, WORLD BANKGROUP,EXPORT CREDIT AGENCIES, GEORGE W.BUSH, CLINTON (Former US President), COLLIN POWELL, RUMSFELD, DICK CHENEY, JOE LOPEZ, THOMAS WRABAUT,JAY GARNER, VANCE D. COLFNAN, PHILIP M.CONDIT (CHAIRMAN Boeing), , DANIEL P BURMHAM (Chairman Raytheon), RONALD SUGAR,NICHOLOS D CHABRAJA (Chairman’s General Dynamics), GEORGE DAVID ( Chairman, CEO United Technology ) Sam Num, General Carl E Vaono, George Schultz, James A Baker III, K.Rupert Murdoch, William Kristol, Robert J.Stevens,Sanford, Sandy, Weill, Lowry Mays, Jon Hemingway, Glen A Barton, Gen. Brent Scowcraft, Thorne G Auchter, David Novak, Export Credit Agencies Group, Richard Cheney, Henry Kissinger,Donald Rumsfeld,(Secretary of Defense), John Ashcroft, Richard Perle, Poul Wolfomitz, (Deputy Secretary of Defense),Tom Ridge (Secretary of Homeland Security) ,Colin Powell (Former Secretary of State), John Negroporte, (US Ambassador in the UNO),Candoleeza Rice (National Security Advisor+ Secretary of State), Colonel Richard D.Downie.WTO (World Trade Organization), Global Govt. George W.H.Bush (former President), Lee Raymond, David J O Reilly, Ken Derr Phillip J Carroll, Ray Irani, The Lord John Browne of Modingles, Charles R. Williamson, Thomas Kean , Red Convancy, Zalmay Khalilzad (US Presidential Secretary, (secy in Afghanistan and Iran ,Frank Murkowski.
IMFکے اقتصادی و معاشی سود خور، جوا باز جنگجو ،کھلاڑیوں کو ترقی یافتہ دنیا میں
war profteers card deck clubs کے نام سے متعارف کروایا گیا ہے اور سب کا تعارف بصورت تاش Gamersمیں کروایا گیا ہے۔مزید تفاصیل کے لئے Browse intenet تہذیبی ،سوشل، سماجی، معاشی و فوجی لحاظ سے متعارف بالا شخصیات کے کیا کیا پروگرام ہیں؟ ان کا Scope دائرہ کار اور ہدف Target یا Goal کیا ہے؟۔ان کے اداروں کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اس کی بحث گلوبلائزیشن کی بنیاد ہے۔
a) The World Bank Group (WBG) Under the guise of “poverty eradication” the WB Funds massive international schemes like dams, power plants and oil pipelines and pays war projects like Exxon Mobil and Unocal to execute them. Too bad about the tense of millions of people displaced along the way.
مزید تفصیلات کے لئے انٹرنٹ پر خاصی انفارمیشن موجود ہے۔ براؤز کرنا ضروری ہے۔
1) The World Bank Group Home page
2) Brazillian landless workers movement/movements.
3) DOS Trabal hadares Ruraise Sen Terra
4) CEE Bank Watch Network
5) Centre of Economic and Policy Research
6) Ehlace civil/Mexico
7) Essential Action
8) Fifty Years is enough
9) Jubillee USA Network
10) Mobilization for Global Justice
11) Sustainable Energy & Economy Network
12) Whirled Bank
13) The World Bank Bonds Baycott.
14) International Monetary Fund (IMF)
The IMF proves the way for the World Bank (WB) by covering poor nations to restructure their economies for easy corperate access. The receipe is simple : privatize resources, remove worker protections, flood markets with import, and thank social spending. A powerless nation is easy prey for “free” trade. Therefore I comment :
IMF the World Bank the Hardest chain:
captured many a country through debit blame.
15) These govt-funded banks give taxpayer money to War
profiteers to build mega-projects for mega-profits. They also issue these projects against political instability (read: riots). See also : United State Agency for International Development (USAID). ECAs might just be the dirtiest secrets of Globalization.
مندرجہ بالا ایجنسیز کا US$50-US$70 بلین تک سالانہ صنعتی اور Infrastructure projects پر خرچ ہوتا ہے۔ (زیادہ ترجنگی امورپر)
(ECA.’s are frequently involved in supporting the export of arms and military equipment to war- torn countries i.e. UK made Hawk fighter jets and US made Black Hawk helicopters are exported to Indonesia, Colombia and other countries known for their repressive regimes. These sales are facilitated by ECAS.
Once these deadly weapons are out of the control of the exporters, hands and into the control of the government, these arms can be used to intimidate and kill innocent poeple.
This not only creates human rights nightmares, but increases the likelihood of conflict, the risk of war.
(Browse internet)مزید معلومات کے لئے
Center for international environmental law ,ECA Watch, Friends of the Earth,International Rivers Network, Multinational Resources Center, World Trade Organization (WTO),
عالم گیر تجارتی ادارے(WTO) کی بنیاد 1995 میں یہودیوں(اور ان کے اتحادیوں نے (رکھی تاکہ پوری دنیا کے تجارتی نظام کو براہ راست کنٹرول کرکے اپنی بالادستی قائم کی جائے۔WTO جیسے نہایت ہی اہم ادارے کہ جس کی بنیاد ہی دراصل گلوبل گورنمنٹ ہے قائم کرنے کے یہودی( اور ان کے اتحادی) سہانے خواب دیکھ رہے ہیں جس کی تعبیر شاید ان کے گلے کا ہار نہ بن جائے۔ اس کے مقاصددرج ذیل ہیں۔
It is no overstatement to say that this secretive 146 member nation body is the global government .They make the rules of the global economy and they ensure that labor rights, environmental protection, democracy and human rights do not get in the way. WWW.war profiteers Cards :Ace of spades.
زیادہ انفارمیشن کے لئے
WTO Homepage,International Forum of Globalization,
Global Exchange,Citizens Trade Campaign,Peopl’s Global Action.
مندرجہ بالا عالمی اداروں اور دوسری ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سربراہوںاور اداروں کا موازنہ کیا جا ئے تو اس وقت WTOہی سب سے زیادہ The most powerful ادارہ ہے۔
The WTO represents the rules-based regime of the policy of economic globalization. The central operating principal of WTO is that commmercial interests should supersede all others. Any obstacles in the path of operations and expansion of oglobal business enterprise must be subordinate. In practice these obstacles are usually policies or democratic processes that act on behalf of working peopl, , labor rights, environmental protection, human rights, consumer rights, social justice, local culture and national sovereignty. WTO Rules and Regulations, agreements , Current Policies.
زیادہ معلومات کے لئے دیکھیں :
WWW.Globalization and the world trade organization browse : International Forum on Globoalization (IFG)
New IFG publications on the WTO: Invisible Government – The WTO: Global Government for othe New Millennium? (See report summary) $5 for members, $8 for non members (50 pages) Authors Debi Barker and Jerry Mander* view from the South: The effects of globalization +WTO on 3rd World countries. .Authors :Matin Khor, Vandana Shiva, Wallden Bello, Or Oronto Douglas, Sarra Larrain, Annuradha Mittals. Forwrord by Jerry Mander.Editor Sarrah Anderson. Price: $ 10 for members $15 for non-members (100 pages)* Free trade, free logging (how the WTO undermines global forest conservation. Author: Victor Menotti, Chair of the IFG Environment Committee. $ 8 for members $12 for non-members .30 pages .By what authority: Unmasking and challenging the legitimacy of global corporation in their

assault on democracy through WTO $ 8 for members $12 for non-members .After the WTO: Turning away from failure- a special report on New rules for a citizen, millennnial agenda editor: John Cavanagh, chair IFG committee on Global Financfe. e mail: jcavanagh@igc.org.
نہایت ہی معلوماتی کتاب ہے۔Globalization کے سپیشل Cases مثلاًانسانیت، مساوات، جمہوریت ، صحت عامہ، ماحولیات، اداروں کے اثاثہ جات و ملکیت ۔ کون حکمران ہو گا؟ جو ایجنڈے ابs Corportation کنٹرول کر رہی ہیں، شہری کیسے کنٹرول کریں گے؟ دنیا کیسے Change ہو گی؟ سب سے اہم بات WTO, then what are you for? یہی WTO اور Globalization کااہم مسئلہ، چیلنج اور سوال ہے جس کا حل ناگزیر ہے۔ اس کے حل کے ذمہ دار صرف اور صرف آزاد، حریت پسند اور خود دار لوگ ہیں جن کا وجود ا س دور کے سب سے بڑے بت یعنی دولت کی دیوی، حرص و ہوا و ہوس ولالچ سے پاک ہو، دل کا نیوکلس اور اس کے اند ر قوت حریری کم از کم Thermonuclear weapon سے زیادہ قوی و موثر اور ان کی ذہانت روح Stratosphere کی Zones کو پھلانگ کر المعارج کی رفرف پر محو پرواز ہو کر فنا و بقاکی منزلیں طے کرتی ہوئی عرش معلیٰ کو چھوتی ہوئی اللہ تعالیٰ سے لقا حاصل ہو ۔ ساتھ ہی لللہ الواحد القھار کی لازوال زبردست غالب قوت قاہرہ سے ساری کائنات کے نظام کو قابو کرکے Command & control کی صلاحیت رکھتی ہو،
خودی کو نظرجب آتی ہے قاہری اپنی کہتے ہیں اسی کو مقامِسلطانی
ان مقدس ہستیوں کو صاحب امر بھی و اولی الامر بھی کہتے ہیں: عشاق و آئمہ Leader of the time r کہلاتے ہیں۔ ان ہی بابرکت و صاحب جلال و جمال با کمال شخصیات کو حضرت حکیم الامت ڈاکٹر محمد اقبال ؒ ’’ ضرب کلیم‘‘ میں ۔۔’’فاتح عالم‘‘ فرماتے ہیں اور یہی Globalization کے انشاء اللہ تعالیٰ حکمران ہیں۔
For further information on the WTO please consult:
IFGMedia Briefing on the WTO, Nov 4, 1999 .Why Developing countries cannot Afford New issues in the WTO Seahle Conference, by Mortin Khar, Director, Third World Network .
Public citizens Global Trade Watch (includes a citizen’s guide to the WTO),Third World Network,Friends Of The Earth, International Corporate Europe Observatory,A SEED Europe
مندرجہ بالا بیان کردہ عالمگیر شخصیات ،اہم ادارے اوران کے مقاصد کے تحت عالمگیر عالمی پروگرامز جو کہ رواں دواں ہیں درج ذیل ہیں۔ جن کو Star Warsکہتے ہیں۔
PROGRAMS:
1)Arms Control And Non-Proliferation,
2) Command & Control and Intelligence,
3) Domestic preparedness and CBW (Chemical Based Weapon) Defense Counterforce.
Triangle Formula گویا فتنہ دجال اور یاجوج و ماجوج کی جنگ کابیس Base تین Strategies جو کہ اوپربیان ہوئی ہیں۔ان کے تحت ہے۔ ان کی پشت پر بھی تین بڑے اتحاد ہیں۔ لیڈر اس اتحاد کے آقا و مالک، کرتے دھرتے No-1 nation یہودی ہیں ۔ ان کے پر فریب دجالی جال میں عیسائی اور ان کے اتحادی منافقین و مشرکین شامل ہیں۔ منافقین کی عالمی منڈی ،عالم اسلام کی لیڈر شپ وعوام کی صورت میں، یہود کے اتحادی انڈیا کے ہندوہنود، سکھ وغیرہ مشرکین ، روسی، چینی، جاپانی اور دوسرے مشرکین بھی اندرو ن خانہ یہودیوں کے ہی اتحادی ہیں۔ (افرنگ کی رگ و جاں ہے پنجۂ یہود میں ) یہ اتحاد کیسے بنتا ہے؟ ان کی پارٹنر شپ کیا ہے؟ خفیہ سازشیں ، جنگی حکمت عملیاںاور جنگ کا طریقہ کار کیا ہے؟ اس کی کل تفصیل سورۃ الحشر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ Triangular alliance= Jews+Hypocrites+ idolators (secret war) میں یہودی اور عیسائی بھی حقیقی اعتبار سے مشرک ہیں کیونکہ تین الہ کے قائل ہیں۔ جسے Trinity (تثلیث) کہتے ہیں جو کہ ضد ہے Unity یعنی توحید کی اور یہی جنگ ازل سے اب تک جاری و ساری ہے۔ موجودہ دور کے تمام عیسائی جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ ، امر اللہ، کلمتہ اللہ کی صلیب کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ حقیقتاً یہودی ہیں کیونکہ یہ عقیدہ یہودیوں کا ہے۔ دیکھئے قرآن حکیم کی سورۃ النساء پارہ پانچ آیت نمبر 157 )۔لہذا ہماری تحقیق کے مطابق گلوب(Globe ) پہ دو ہی طاقتیں برسرپیکار ہیںِ۔ مومنین و مشرکین (توحید و مشرک) رحمنبمقابلہ شیطان ۔شکل انسانی کا شیطان ( من الجنت والناس ) کی تعبیر مشرکین انسان ہیں۔ شیطان نما انسانوں نے انسانیت کو عالمگیر پیمانے پہ Seduction (بہلاوا پھسلاوا) یعنی مادی ترقی و فلاح و بہبود کے سبز باغ دکھا کر بظاہر امن کاراگ الاپتے ہوئے خفیہ بنیادوں پر نہایت خطرناک ترین تباہ کن، ہولناک، بھیانک اور انسانیت سوز پروگرام جاری کئے ہوئے ہیں۔ نام ان کو Active defense کا دے رکھا ہے۔حقیقتاً Offense ہے جس کی Resultant quantity+ quality یقیناً Continious +systematic offense ہے۔ کیونکہ Golden rule and universal truthسنہری اصول اور عالمگیر صداقت ہے کہ No offense and defense is without weapon,
Active Defense.
Theater Missile Defense (TMD)
1)Hawk.MEADS, Navy area, patriot, Thaad, Navy Upper tier, airborne laser, boost phase intercept, arrow, thell/nautilius, lccmd, others programms,
2).National Missile Defense (NMD)
Ground Base Interceptor
SENSORS
X-band/Ground Based Radar (GBR)
Upgraded Early Warning Radar(UEWR)
Space Base Infrared System (SBIRS)
Space and Missile Tracking System (SMTS)
Jlens, Midcourse Sensor Equipment (MSE)
Dundee, targets and decoys
3). Battle Management
NMD battle management, command and control (BMC-2), NMD In-flight Interceptor Commununication System, (IFICS)
4). Others Programms
Directed Energy Weapons (DEW)
Space Base Laser (SBL)
Clementine, small business, innovative research modelling and simulation. (completed programs)
جناب والا! یہ ہیں بہترین تحفے و ھدایا و نذرانے جو کہ حضرت انسان کے علاوہ زندگی کے تمام متعلقہ جاندارو بے جان کی ضیافت و خاطر تواضع کے لئے تیار کئے گئے ہیں جو کو Weapons of Mass Destruction(WMD) کہلاتے ہیں جو کہ “Complete annihilation of life” کی صلاحیت سے مالا مال ہیں ، جن کی ہلکی سی جھلکی ہم اس وقت اسرائل کے عملی مظاہر کی صورت میں اہل فکر و دانش و نظر کے گوش گذار کریں گے تاکہ یہودیوں کی جنگی تیاریوں کاکسی قدر اندازہ ہو سکے۔ اسرائیل کی Centre for Non Proliferation Studies (CNS) کے مطابق Weapons Of Mass Destruction in the Middle East .
1). Nuclear.Sophisticated nuclear weapons program with an estimated 100-200 weapons, which can be delivered by ballistic missiles on aricraft.
2).Nuclear arsenal may include thermonuclear weapons.
3).150 MW heavy water reactor and plutonium reprocessing facility at Dimona, which are not under IAEA safeguards.
Not a signatory of NPT: Signed the CTBT on 25/9/1996.
4).Chemicals: Active weapons program, but not believed to have deployed chemical warheads on ballistic missiles .
Production capability for mustard and nerve agents.
Signed the CWC on 13-1-1993 currently debating its ratification.
5)Biological: Production capabiality and extensive research reportedly conducted at the biological research institute in NESSZIONA.
No publicly confirmed evidence of production.
Note a signatory of BTWC.
6). Ballistic missiles: approximately 50 jericho-2 missiles with 1,500 km range and 1,000 kg payload, nuclear warheads may be stored in close proximity.
approximately 50 Jericho-1 missile with 500 km range and 500 kg plyload.
MGM-52 Lance missiles with 130 km range and 150 kg to 250 kg payload.
Sharvit Space launch Vehicle (SLV) with 4500 km and 150 kg to 250 kg payload.
Unconfirmed report of Jericho-3 program under development using sharvit technologies, with a range up to 4,800 km and 1,000 kg payload.

Developing Next (sharvit upgrade) SLV with unknown range and 300 to-500 kg payload.
7).Cruise Misisiles: Harpy lethal unmanned aerial Vehicle (UAV) with 500 km range and unknown payload.
Delilah /Star-1 UAV with 400 km range and 50 kg payload.
Gabriel-4 anti-ship cruise missile with 200 km rangeand 500 kg payload.
Harpoon anti-ship cruise missile within 120 km range and 220 kg payload (Israel not member (MTCR) (Missile technology control regime).
8).Other delivery systems: Fighter and ground attack aircraft include: 2 F-151,6 F-15D. 18F-15C 2 F-15 B,36F-15A,54F-16D,76 F-16C,8F-16 B, 67F-16A, 50F-4E-2000, 25F-4E, 20 Kfir C7, and 50A-4N.
Ground systems include artillery and rocket launchers aslo, popeye-3 land attack air-launched missile with 350 km range and 360 kg polyload, and popeye-1 land attack air-launched missisle with 100 km range and 395 kg payload.
یہ معلومات تو public کی طرف سے ہیں ورنہ اسرائیل کے پاس اس سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار موجود ہونے کے chances ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی ملک اپنے خفیہ Strategic راز ہمیشہ کے لئے چھپا کے رکھتا ہے اور تمام بین الاقوامی معاہدوںABMT,MTCR,CTBT,NPT, کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے مفادات کی خاطر تن من دھن کی بازی لگا کر اپناTarget حاصل کرتا ہے۔ جس کی بہترین مثالیں مسئلہ فلسطین ،بوسنیا، انڈونیشیا ء، (مشرقی تیمور) کو لیمبیا ،افغانستان ، چیچنا ، کشمیر ، عراق ، لبنان، ایران اور شمالی کوریا کے Burning Issues ہیں۔ جن Issues کو آج تک عالمی برادری حل کرنے میں ناکام رہی ہے اور یہودی جنگ کی آگ بھڑکائے جا رہا ہے بلکہ انسانیت کو مولی گاجر کی طرح کاٹے جارہا ہے۔
نہایت ہی مضحکہ خیز دلخراش بات ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان Cold war ختم ہو چکی ہے۔June,1992 17میں امریکہ اور روس کے تین نکات پرGlobal Protection System(GPS) کے معاہدہ پر امریکی صدر George Bush اور روسی صدر Boris Yeltsin کے دستخط ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی امریکہ نے چھ ہزار نیوکلر وارہیڈز اور روس نے پانچ ہزار نیوکلر وار ہیڈز ایک دوسرے کے مدمقابل Deploy کر رکھے ہیں۔ واہ شاباش من مانی اور دوغلی پالیسی ، بین الاقوامی فراڈ، تیرے انصاف کو سلام بلکہ صد سلام ، قصہ ہوا تمام ، صبح ہوئی شام۔ 21 ویصدی میں امریکہ نے خصوصااور دوسرے ترقی یافتہ ممالک نے عموماً دہشت گردی کے خلاف جنگ کے خوف کی وجہ سے اندوہناک قسم کے نیوکلر ہتھیار بنام Radiological Weapons (Dirty bombs) bunker buster, low and high yield earth penetrating weapons, space mines, ASAT weapons, orbital debris and others.(Land, sea and space weapons بنائے جا رہے ہیں۔ تاکہ
) hook and by crook (by با لادستی Superiority قائم کی جائے۔
محترم قارئین کرام ! اکیسوی صدی ، سائنس و ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ علم اورعقل و دانش کی صدی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی ، علم و حرفت، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹرانسپورٹیشن کی بدولت اور تیز رفتار پیمانے پر ترقی یافتہ Ideas کی روشنی میں گلوبلائزیشن کی صدی ہے مگر نہایت ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت دہشت گردی و خوف و ہراس کے عالم سے دوچار ہے۔ بدامنی، بداخلاقی ، بدکاری ، معاشی ناہمواری، غربت و افلاس و مہنگائی زندگی کے تمام شعبوں کو بری طرح متاثرکرتی ہوئی انسانیت کو دردناک انجام تک پہنچائے جا رہی ہے۔ چار سو انارکی پھیلائے جا رہی ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک کو دہشت گردی کی لپیٹ میں لئے جا رہی ہے ۔ دہشت گردی کی حالیہ جنگ جس کا سب سے زیادہ خطرناک تباہ کن پہلو جس کو تمام ممالک آہستہ آہستہ بڑھائے جا رہے ہیں وہ ہے نیوکلر ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ و ارتقاء خاص کر ایٹمی توانائی برائے امن کے نام سے Strategic partnership (حالیہ امریکی و انڈین سول نیوکلر معاہدہ) جس کے ردعمل میں شمالی کوریا اور ایران بھی پر زور طریقے سے اپنے پروگرام بڑھا رہے ہیں۔ ساتھ ہی جاپان اور ترکی جیسے ممالک بھی پر تول رہے ہیں، چائنا اور بنگلہ دیش و پاکستان بھی سول ا یٹمی معاہدے کرکے نظام بڑھارہے ہیں۔ اس اصول پر ساری دنیا کے لئے ا س دور کا خطرناک ترین چیلنج ہی دراصل نیوکلر چیلج ہے جس کے پیچھے بہت بڑاسودی معاشی و اقتصادی عالمی نظام ہے۔ لہذا اس دور کے عظیم ترین شہنشاہ فقر و نظر، علم کل و عقل کل کے مالک، ہر فن مولا، نایاب و لاثانی فلاسفر و ایٹمی سائنس دان و تاریخ دان، محدث و مفسر، حکیم و شاعر، سب سے بہترین دوربین و دانش ور اور عظیم ترین عالمی امن کے نوبل ترین حکمت کا رو مددگار، محسن و معظم ہمدرد، باطنی علوم اور Secret services کے شہوار و قلمکار ، معرفت کے سلطان، اندر کے رازدان، الحاد کے خیبر کو توڑنے والے حضرت علامہ محمد یوسف جبریلؒؒ Savior موجود دور کے آنے والے خطرات سے انسانیت کو اپنی عظیم شہرہ آفاق و تہلکہ خیز کتاب Nuclear Neutralizer,chapter-8 ایٹمی بم اور تابکاری کو نابود کرنے والا فارمولہ میں یوں موتی بکھیر رہے ہیں۔ ہر انسان کواپنا مقام دکھا کر متفکر بنا رہے ہیں۔ تاکہ اس کی تقدیر کو تدبیر سے بدلا جائے۔
آٹھویںباب کا عنوان ہے: ایٹمی قیامت کا قرنا یعنی صور اسرافیل علیہ ا لسلام۔ چونکہ صور اسرافیل سائنسی اعتبار سے Sound energy کی انتہائی شکل Entropy ہے جو کہ Meta physical سائنسز میں قیامت کا وقوعی دور ہے۔ اس vision کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم Entropical اصول کے تحت کہہ سکتے ہیں کہ اس مادی دنیا کا فنا و بقا Nuclear science پر ہے۔ پھر نیوکلر سائنس میں فنا کاراز بذریعہ Triggering Energy ( Blast) میں ہے جو کہ تین ا نرجی کا منبع و ملبہ ہے۔ Heat, light and sound energy جیسا کہ بارود Explosive کابین الاقوامی اصول ہے۔
“Explosives are sensitive due to heat shock and friction and produce the heat,light and sound energy”.
یہی وجہ ہے کہ نیوکلرity Sensitiv بذریعہ fission یا fusion نیوکلر blast کہلاتا ہے جوکہ Radiation Heat flash اور دھماکہ کا مجموعہ ہے۔ دورحاضر کے لاثانی و نایاب لیڈر برحق، امام زمانہ، (صور اسرافیل) بلند کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔حضرت علامہ یوسف جبریلؒ ؒ فرماتے ہیں:۔
’’ایٹمی قیامت کا قرنایعنی صور اسرافیل‘‘ اس دور کے شہنشاہ ، صدور، وزرائے اعظم ، مذہبی پیشوا ، سائنس دان، فلسفی اور عوام سن لیں ،جان لو کہ یہ دنیا اب ایٹمی تباہی کے کنارے کھڑی ہے۔ اچھی طرح سے سُن لو اور ہر قسم کی خام خیالی اپنے دماغ سے نکال دو۔ تمھارے سامنے ایٹمی جہنم بھڑکا ہوا ہے ۔تمھارے پیچھے سے اقتصادی بلڈوزر تم کو بے تحاشا آگے دھکیل رہا ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت تمہیں اس انجام سے نہیں بچا سکتی۔ یہ قوانین قدرت کے عمل کا منطقی نتیجہ ہے لہذا اٹل ہے۔ علم، غرور، دولت، لشکر غرضیکہ کچھ بھی تمہیں اس دردناک انجام سے نہیں بچا سکتا ۔تمھارے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ اولاً ایٹم بموں سے فوری تباہی، استحقاق کی بنا پر یا ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکاری شعاؤں سے رفتہ رفتہ، آہستہ آہستہ المناک عذاب میں مبتلا ہو کر اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر فنا فی النار ہو جانا، استحقاق کی بنا پر، نہ کوئی آسمان تم پر روئے گا نہ فرشتے ماتم برپاکریں گے بلکہ جو بویا سو کاٹا کے اصول پر حساب بے باق ہو جائے گا اور سب سے زیادہ عذاب مجھ پرمسلط ہوا کہ تم کو صورتِ حال سے آگاہی دلانے کافریضہ مجھ پر عائد ہوا مگر تقدیر کے سامنے کچھ چارہ نہیں ۔ یاد رکھو ! ایٹم بم سے بچاؤ کی کوئی تدبیر ہے نہ ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکاری سے بچا ؤکا کوئی حیلہ ۔ جو شخص بھی تمھیں اس امر میں کوئی امید دلاتا ہے یا دلاسا دیتا ہے وہ جھوٹا ہے وہ خوو فریبی میں مبتلا ہے،تم کو فریب میں مبتلا کر رہا ہے اور تم فریب میں مبتلا ہونے میں کچھ تامل نہ کرو گے۔ انسان اس آتشیں ایٹمی دیو کے مقابلے میں ایک حقیر مبتلائے فریب بونا ہے۔ ایٹمی توانائی کی تابکاری کے معاملے میں سائنس دان ایک مجبور تماشائی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا اور اس بیکنی ترقی کے معاملے میں فلسفی ایک سحر زدہ،مریض کی سی ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ سیاست دان ایک جنونی چرواہے کی طرح اپنی قوم کوایٹمی جہنم کی جانب ہانکے جارہا ہے۔ تم سائنس دان سے باز پُرس کرو۔کیا یہ ٹھیک ہے ؟تم فلسفی اور دانش ور کے کام کو خود سوچو۔کیا وہ ٹھیک ہے ؟ سیاست دان کی راہوں کو تاکو کیا آگے ایٹمی جہنم کے شعلے بھڑکتے نظر نہیں آتے ؟نہیں بلکہ بنیادی وجو ہات نے اور آنے والے عذاب کی دردناکی نے تم کو اندھا ، بہرہ اور گونگا کر دیا ہے اور تم خوشی خوشی اور نعروں کی گونج میں جھوٹی امیدوں کے نشے میں سرشار ہو کر ایٹمی جہنم کے شعلوں کی جانب کھچتے ہوئے جا رہے ہومگرسُن لو کہ معاملہ اسی دنیوی ایٹمی جہنم پر ختم نہیں ہو گا اگلے جہان کا دائمی ایٹمی جہنم تمھاری انتظار میں ہے اور میں اپنے اس اعلان کا ہر لفظ سوچ سوچ کر اور تول تول کر اور ناپ ناپ کر اور جانچ جانچ کر لکھ رہا ہوں اور سائنس اور قرآن اور انجیل کے حتمی ثبوت کی بنا پر لکھ رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور جو کچھ بھی کہہ رہا ہوں بالکل بقائمی ہوش و حواس کہہ رہا ہوں بے خوف، بے خطراور بے پروا ہو کر کہہ رہا ہوں۔ سوچو گے تو بچ جاؤ گے نہیں سوچ سکو گے تو ایک دردناک اورشرمناک عذاب سے چھٹکارے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اھلاًً و سہلاً مرحبا آگے بڑھو تم بڑے سمجھ دار ہو اور تمہارا سائنس دان معجزوں کا مالک تمھارا فلسفی اور دانش ور آسمان کی خبریں دینے والااور تمھارا سیاست دان عرش رس بصیرت کاحامل ہے۔(۲) سمجھ لوکہ تمھاری یہ سائنس گزیدہ، منظم،مسلسل ، روز افزوں اور لا امتنا ہی بیکنی ترقی حصول دولت و اقتدار کا ایک ایسا مکمل عمل ہے ۔ جسکا منطقی اور سائنسی انجام ایٹمی جہنم کے سوا کچھ بھی نہیں اور یہ ترقی فنا پر منتج ہونے والی ہے خواہ یہ فنا توانائی کی ناپیدگی کے سبب سے واقع ہو جائے خواہ ایٹمی توانائی برائے امن کی تابکار شعاؤں کے مہلک اثرات سے اور تمھاری مثال اس وقت ایک پائلٹ کی ہے۔خواہ جہاز کے آگ پکڑنے سے پیشتر کود جاؤ یا آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آکر جہاز کے ساتھ بھسم ہو جاؤ۔ یہ بیکنی ترقی روز افزوں ہے اور لامحدود ہے لا امتناہی ہے تو اے فلسفیو ! کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے کہ روز افزونیت بتدریج اس ترقی کو انسانی ذہن اور وقت پر قبضہ جماتی ہوئی بتدریج آخرت اور دین کے خیال کو انسانی ذہن اور وقت سے باہر دھکیلتی جائے گی اور لا امتناھیت بالآخر کلی طور پر آخرت اور دین کے خیال کو معدوم کر دے گی اور کیا تم جانتے ہو کہ آخر ت اور دین کے خیال کے بغیر انسانیت کا وجود نامکمل ہے۔ تم کس خیال میں پھرتے ہو۔ تم کیمونزم میں پناہ لینے پر مجبور ہو گے تو دین سے بھی جا ؤگے ۔ دنیا بھی تباہ کر بیٹھو گے اور جان لو کہ یہ بیکنی ترقی اور دین باہم یکجا نہیں ہوسکتے ۔ نہ ہی دین اور یہ بیکنی سائنس یکجا رہ سکتے ہیں کیونکہ یہ سائنس محض اس مادی ترقی کی ایک لونڈی ہے اور سائنس کے یہ مشینی اہرام محض فریب نظر ہیں۔ ایک ایسافریب جسے ایک ایٹمی جنگ لمحے بھر میں ناپید کر سکتی ہے یا تابکاری اس زندگی کوفنا کرکے ان بلڈنگوں کو ایک ہوسکار انسانیت کی حماقتوں کی یادگار کے طور پر خالی چھوڑ سکتی ہے۔ (۳) تباہی قریب ہے ، مہلت تھوڑی ہے لہذا سوچ لو،تمھیں زیادہ خوراک کے بدلے ایٹمی توانائی کی دردناک تباہی منظور ہے یا کم خوراک کے ساتھ امن و سلامتی۔ البتہ ایک جھٹکا ضرور لگے گا اور یہ تمھارا اپنا پیدا کیا ہواہے۔ خود کردہ را علاجے نیست ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس دنیا میں آج سائنس دان سے لے کر بادشاہ تک سوائے چند آدمیوں کے ہر شخص ایٹمی سائنس سے نابلد ہے ورنہ اگر ایک ہلکا سا جھونکا ایٹمی جہنم کا تم تک پہنچ جائے تو تم دس ہزار لعنت اس ترقی ان سائنسی سہولتوں اور اس ایٹمی توانائی پر بھیجتے ہوئے ، خوف و ہراس کے عالم میں اقطار السموات والارض سے فرار ہونے کی کو شش کرو اور تمھیں بھول ہے کہ تمھارے ایٹمی سائنس دان ایٹمی سائنس کے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں۔ نہیں بلکہ ایٹمی سائنس کا علم صرف ابجد کی حدوں میں ہے اوراس سے آگے بڑھ نہیں رہا نہ ہی اس سے آگے بڑھنے کاکوئی امکان ہی ہے ۔ ایٹمی سائنس اندھی ہو چکی ہے۔ تمھیں یقین نہ آ سکے گا نہ آئے ۔ ایٹمی جہنم عذاب الہی ہے اور تقدیر نے تمھیں اندھا کر دیا ہے اور تم نہیں جانتے کہ اس کی پیدائش کے اسباب کیا ہیں اور کن وجوہات کی بنا پر یہ عذاب تم پر مسلط ہوا البتہ وہ گناہ جس کی پاداش میں یہ ایٹمی جہنم نمودار ہواتم اس کو گناہ ہی نہیں سمجھتے مگر لاعلمی سزا سے بچنے کا جواز نہیں پیدا کر سکتی۔ (۴) تم یہ سن کر حیرت میں پڑ جاؤ گے اور تمھاری حیرت پر مجھے ہرگز حیرت نہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی مہربانی سے تمھیں اس دردناک عذاب اور المناک تباہی سے بچانے کا سامان کر دیا ہے۔1942 ء میں میری عمر کے پچیسویں سال میں ابراھیمی مشن کے لئے حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت ابراھیم علیہ السلام سے مصیب نزدبغداد شریف بحالت خواب اس بندۂ ناچیز کی سفارش کرکے ایک طویل المیعاد المیے میں مبتلا کر دیا ہے۔ علم اور سائنس کے اس دور میں علم اور سائنس کے میدان میں یہ نادر الوجود معرکہ سر کرنے کے لئے مجھے علم اور سائنس کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ 40 برس تک مسلسل سخت نامساعد حالات میں اور دل شکن مصائب و آلام کے لا امتناہی طوفانوں سے دو چار رہ کر اور بغیر کسی استاد کے میں نے السنتہ، ادبیا ت، تواریخ، فلسفہ، سائنس ، الہامی کتب اور دیگر علوم ظاہری و باطنی کی تحصیل کی جن کی تفصیل کایہاں نہ موقع ہے نہ محل۔ البتہ اس جدوجہد کے نتیجے میں تین ہزار صفحات پرمشتملوہ نسخہ جو اس انسانیت کو ایٹمی جہنم سے بچا سکتا ہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے بہم پہنچا دیا اور جس کے متعلق میرا زعم یہ ہے کہ اس جدید دور کے سارے فلسفی اور سائنس دان مل کر بھی بمشکل پیدا کرسکتے ہیں اوراس دنیا میں نہ کوئی ایسا ’’جان بن یان‘‘ ہے جسے ان مصائب و شدائد کے بیان کایارا ہو جو میں نے اس علمی حج کے دوران برداشت کئے نہ ہی کوئی فرایئڈ ہی ہے جو اُ س طریقے کانفسیاتی تجزیہ کر سکے جو میں نے بغیر اُ ستاد کے اس قسم کے مضامین کوسمجھ لینے میں اختیار کیا۔ آج میں اس دنیا کے سامنے یہ دعوی کرتاہوں کہ کوئی طریقہ اس انسانیت کو ایٹمی تباہی سے نہیں بچا سکتا ۔ سوائے اس کے جو قرآنِ حکیم کے حوالے سے پیش کیا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ میرا یہ سارا کام میرے کسی بھی روحانی دعوے پر ہرگز مبنی نہیں بلکہ تمام تر انحصار سائنس اور منطق پر ہے ۔ اگر خواب دیکھا ہے تو میں نے خود دیکھا ہے اور وہ میرا ذاتی معاملہ ہے تمھیں ا س سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیئے۔ اگر ابراھیمی مشن کی سپردگی ہوئی ہے تو مجھ کو ہوئی ہے۔ تمھارا اُ س سے کوئی سروکار نہیں ۔ تم میرے کام کو سائنس اور منطق کی کسوٹی پرپرکھو ۔ اگر معیار پر پورا اُ ترے تو جو چاہو کرو اگر پورا نہ اُ ترے تو بے دریغ رد کر دو۔ مگر تم ایسا نہیں کر سکو گے جب تک تمھارے سروں پر تمھاری شامتِ اعمال سوار نہ ہو ۔(۵)میرے ہاتھ میں اس انسانیت کی تقدیر کی کنجی ہے اور یہ کنجی قرآن حکیم کی دی ہوئی پیشین گوئی ہے ۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت تمھیں ایٹمی جہنم سے بچا نہیں سکتی مگر صرف اور صرف یہ قرآن حکیم کی پیشین گوئی ہے۔ یہ پیشین گوئی کشتیء نوح کی حیثیت کی حامل ہے اور بہ مرتبہ ء عصائے موسوی کے ہے جوسائنسی جادوگروں کے سانپوں کو معدوم کر دے گا اور چونکہ یہ پیشین گوئی ایٹمی سائنس کے میدان میں ہے لہذا نہ تو کوئی ایٹمی سائنس دان ، نہ ہی ایٹمی فلاسفر اس کے معجزہ ہونے سے انکار کر سکتا ہے ۔ہر نیک نیت سائنس دان اس کے سامنے جھکے گا اگرچہ سائنس طبعاً معجزے کے وجود کی منکر ہے۔ ہر بد نیت انسان اس سے اس طرح بھاگے گا ۔ جس طرح آسمانی شعلے سے شیطان بھاگتا ہے اور اس دنیا میں نہ تو اس پیشینگوئی سے روشنی لئے بغیر کوئی تحریک ایٹمی خطرے کے خلاف موثر طور پر چلائی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی دین کے احیاء یا نشاۃثانیہ یاموثر نفاذ کا ہی کوئی امکان ہے۔ بیکنی تباہی سے نجات آج اس بیکنی کلچر نے اس کے منطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم کے خطرہ کی وجہ سے انسانیت کے وجود تک کو معرض خطرہ میں ڈال دیا ہے اورایک عظیم تباہی اور دردناک عذاب کا سامنا ہے ۔اس عظیم اور دردناک عذاب کو ٹالنے کے لئے جس عالم گیر لائحہ عمل کی ضرورت ہے وہ بنیادی طور پر اس بیکنی کلچر، اس بیکنی ترقی اور اس بیکنی سائنس کے مکمل دمارو انقطاع کا متقاضی ہے لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی انسان اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ تحقیق یہ بات بادی النظر میں اتنی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایسی بات کہنے والے کی اس بات کو کسی ذہنی عارضے کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بعینہ اسی طرح جس طرح کہ سندھ کے تین آدمیوں نے پچھلے مہینوں میںبتدریج مہدی، میکائل اور خدا ہونے کا دعوی کیا تو انہیں دماغی امتحان کے لئے ڈاکٹر کے حوالے کر دیا گیا لیکن یہاں صورت اور ہے۔ اس دنیا کے چار ارب باشندے سوائے ایک کے سبھی اس ترقی پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں اور ان میں سے دو چار کے سوا ایک بھی ایسا نہیں جسے اس ترقی کے منطقی انجام کی خبر ہو یا اس کی خبر ان پر کچھ اثر کر سکے لیکن اگر حقیقی تجزیہ اس انجام کی دردناکی کاپیش کیا جائے اور اس کے بعد بھی ان کا ایمان اس ترقی سے متزلزل نہ ہو اور اپنی ہانکے جائیں تو بلاشبہ اور درست طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس دنیا کے ان چار ارب باشندوں کی دماغی حالت درست نہیں ہے نہ ہی ان کے نفسیاتی ماہرین کی یہ سب کے سب بیکنی مالیخولئے میں مبتلا ہیں۔ سوائے ایک کے۔
لاریب اس بیکنی نظام کی جڑیں اس دنیا میں اتنی گہریں ہیں اور یہ بیکنی نظام اس بری طرح سے انسانی زندگی کے ہر شعبے اور زندگی کے ہر وسیلے کے علاوہ انسانی قلب و ذہن پر مسلط ہے اور ایک زبردست قوت یعنی جاہ و مال کی انسانی خواہش سے اس طرح ہم آہنگ ہے کہ ایسے نظام کو کالعدم کرکے صعیداً جرزا کرنے کے لئے ایک ایسے عالم گیر زلزلے کی ضرورت ہے جو اس کو اس طرح ہلا کر رکھ دے کہ اس کی ساری عمارت کو زمین بوس کر دے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ زلزلہ کس نوعیت کا ہو؟ ظاہر ہے کہ ان موجودہ حالات میں لڑائی بھڑائی اور جنگ و جدل کی تو کوئی صورت سامنے نہیں جو اس مقصد کے حصول میں مفید ثابت ہو سکے کیونکہ معاشرتی وسائل کے علاوہ جنگی وسائل بھی اسی بیکنی نظام کے ہاتھ میں ہیں لہذا دوسری صورت ہی سامنے آتی ہے یعنی یہ کہ انسانیذہن کو بدلا جائے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس بیکنی نظام کے دردناک منطقی اور قطعی انجام کی وضاحت کی جائے اور خوداس نظام کی اصلی حقیقت کو واشگاف کیا جائے۔ واضح ہے کہ یہ انقلاب فکری نوعیت کا ہو گا۔ مرحوم برٹرینڈ رسل معروف زمانہ انگریز فلسفی جسے بجا طور پر اپنے وقت کا عظیم ترین ذہن گردانا گیا ہے نے بھی انسانیت کو ایٹمی جنگ سے بچانے کے لئے ایک عالم گیر تحریک چلائی تھی مگر وہ تحریک نہ تو رسل کی زندگی میں ہی کوئی معتدبہ کامیابی حاصل کر سکی نہ ہی موصوف کی وفات کے بعد ہی اپنا وجود برقراررکھ سکی۔بے چاری ان موجودہ حالات کی سختی کی وجہ سے دم توڑ گئی۔ رسل اس امر میں انسانیت کے دلی شکریئے کے مستحق ہیںاگرچہ اس کی تحریک ناکام رہی۔ لیکن اس کی قابلیت اور خلوص نیت میں شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ برٹرینڈ رسل کی ناکامی رسل کی تحریک کی ناکامی کی وجوہات ہیں۔ مسئلے کا انتہائی مشکل اور سنگین ہونا۔ ایٹمی جنگ تک اپنی تحریک کو محدود رکھنا اور ایٹمی توانائی کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرنا اور مسئلے کے تجزیئے کو آخری بنیادی کڑی تک پہچانالیکن ہمیں رسل کے ساتھ انصاف کرنا ہو گا اور اس کی مشکلات کو سمجھنا ہو گا اور اس کی مجبوریوں کا لحاظ رکھنا ہو گا اور اس کے بعد ہم اس کی عظمت کا اعتراف کئے بغیرنہیں رہ سکتے۔ اب میرا معاملہ دیکھئے، اگرچہ رسل کی وفات کے بعد یعنی گزشتہ چند برسوں میں دنیا کو ایٹمی توانائی کے خدشات کے بارے میں کچھ مزید سدھ بدھ ہو گئی ہے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے عوام الناس اس معاملے میں مضطرب ہی نہیں بلکہ اپنے اضطراب کا برملا اظہار بھی کرنے لگے ہیں تاہم اس بات کو سمندر کی سطح پر اٹھنے والی لہروں سے زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ سمندر اندر سے ابھی تک پرسکون ہے اور دنیا ترقی کے میدان میں اسی طرح دیوانہ وار بڑھنے کی کوشش میں مصروف ہے اور معاملہ اتنا ہی سنکین ہے بلکہ تیل کی کی پیداوار کی کمی کے ساتھ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے سبب ایٹمی توانائی کی اہمیت بڑھ جانے سے معاملہ بتدریج سنگین تر نوعیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ لیکن میرا تجزیہ مکمل ہے اور میرے کام کی بنیاد سائنس کے علاوہ قرآن حکیم پر ہے اور قرآن حکیم نے اس معاملے میں وہ بے نظیر معجزہ کر دکھایا ہے جو بغیر کسی شک و شبہ کے اس دنیا کے عالم افکار میں زلزلہ برپا کر سکتا ہے اب یہ معاملہ نہ رسل کا ہے نہ میرا ہے یہ معاملہ اب قرآن حکیم کا ہے اور خدا کا ہے اور اس بیکنی کلچر اور اس کے منطقی دردناک اور تباہ کن انجام کامعاملہ اتنا سنگین اور در حقیقت اتنا واضح ہے کہ کوئی وجہ نہیں کہ عالم افکار میں زلزلہ برپا نہ ہو اور اس بیکنی کلچر کا انہدام واقعہ نہ ہوجائے اوراگر اس طرح بھی افکار عالم میں زلزلہ برپا نہیں ہو سکتا تو پھر اس دنیا کا انجام المناک ایٹمی تباہی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ اتناالمناک کہ انالللہ کا جملہ بھی اس کے تصور سے گلے میں اٹک جاتا ہے۔ اتنی ذلت آمیز تباہی اور اتنا جگر گداز انجام ۔ اناللہ و انا الیہ راجعون۔
حضرت علامہ محمد اقبال ؒ اور حضرت امام مہدی علیہ السلامسنیئے حضرت علامہ محمد اقبالؒ کیا فرماتے ہیں :
سب اپنے بنائے ہوئے زندان میں ہیں محبوس

خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار
پیرانِ کلیسا ہوں کہ شیخانِ حرم ہوں

نے جدتِ گفتار ہے نے جدتِ کردار
ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ

شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار
دنیا کو ہے اس مہدیء برحق کی ضرورت

ہو جس کی نگہہ زلزلۂ عالم افکار
(ضرب کلیم)
خاور کے ثوابت، افرنگ کے سیار، پیران کلیسا، اور شیخان حرم سیاست اور شعر و ادب کے علم دار، اورروئے زمین کے عوام الناس ترقی کی بات کر رہے ہیں۔ ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں لیکن یہ سب کچھ بیکنی فلسفے کے حصار میں محبوس ہے۔ اور جس طرح زمین کے گرد ایک سیارہ چکر میں لگ جاتا ہے۔ یہ انسانیت اس بیکنی کلچر کے گرد چکر میں لگی ہوئی ہے نہ تو اس چکر سے نکلنے کی کوشش ہی ہو رہی ہے نہ ہی کوئی دوسری دنیا ہی ان کی نظر میں ہے۔ سب سے بڑی لاعلمی جو اس دور کے بندوں کو لاحق ہے و ہ سائنس کے معاملے میں ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ سائنس ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایٹمی سائنس اب اندھی ہوکر رک گئی ہے اور اس پر ایک جمود کی کیفیت طاری ہے۔ نہ تو تابکاری پر کنٹرول ہو سکتا ہے نہ ایٹم بم سے بچاؤ کی کوئی تدبیر ممکن ہے لہذا دوسرے محکموں کے ساتھ جمود کی کیفیت میں سائنسی برادری کو بھی شامل کر لیا جائے۔ اس مجموعی جمود کو جو اس بیکنی ترقی کی محبوس دنیاپر طاری ہے۔ توڑنے کے لئے جس زلزلے کی ضرورتہے۔ وہ قرآن حکیم نے ایٹمی جہنم کے متعلق اپنی پیشین گوئی ( سورہ الھمزہ) میں برپا کر دیا ہے۔
اس بیکنی ترقی کی بنیاد حب دنیا، طلب زر، اور موت اور آخرت کے خیال سے گریز پر مبنی ہے۔ اس کاعلاج حضرت علامہ محمداقبالؒ نے مندرجہ ذیل نظم میں بیان کر دیا ہے۔

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحبِ اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخِ دوست
زندگی تیرے لئے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنۂ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے

(ضرب کلیم)
سلاطین کوخراطین سے بدل دیا جائے تو تصویر اس بیکنی ترقی کے معاملے کی تصویر میں بدل جاتی ہے۔ خراطین کے معنی ہیں مٹی کے کینچوے پس معلوم ہوا کہ ترقی کی اس مادہ پرستانہ روش سے بیزاری اور فقر کی بنیادوں پر اس دنیا میں پائے جانے والے جمود کو توڑا جائے گا اور یہی بات ہے جس کی بنا پر قرآن حکیم نے ایٹمی جہنم کے متعلق اپنی پیشین گوئی میں زلزلہ اٹھایا ہے۔ اس دنیا کے ان موجودہ حالات کی روشنی میں بیکنی ترقی کے انہدام کے اس پروگرام میں جو دقت محسوس ہو سکتی ہے اس کی روشنی میں پالیسی اختیار کرنے کا ایک نکتہ جو حضرت علامہ اقبالؒ کے کلام میںملتا ہے۔ وہ یہ ہے:۔
غلامی میں نہ کام آتی ہیں تدبیریں نہ شمشیریں

جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
یقینِ محکم عملِ پیہم محبتِ فاتحِ عالم

جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
ان موجودہ حالات میں جو ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس بیکنی کلچر اس بیکنی ترقی اور اس کے منطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم کی حقیقت کو جو قرآن حکیم نے ایٹمی جہنم کی پیشین گوئی میں بیان کی ہے۔ بین الاقوامی آگاہی کے لئے روئے زمین کی قوموں میں عام کیا جائے تاکہ یہ انسانیت اس کی روشنی میں اس ایٹمی عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لئے کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کر سکے۔ لاریب یہ پیشین گوئی اس بیکنی ترقی کے جمود کے حصار میں ایک زلزلے کی حیثیت رکھتی ہے۔ البتہ یہ خیال پیش نظر رہے کہ مہلت کم ہے۔ کسی بھی وقت ایٹمی دھماکہ سب کئے کرائے پر پانی پھیر سکتا ہے۔ اس بیکنی فتنہ کے متعلق ایک عجیب اشارہ حضرت علامہ محمد اقبالؒ کے کلام میں ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ حضرتؒ نے فرمایا:۔

کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں
آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ
آزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاس
سامنے تقدیر کے رسوائیء تدبیر دیکھ

(بانگ درا)
یہ آزمودہ فتنہ کیا ہے؟ اس کی اصلی حقیقت اس کی ساری تاریخ اور اس کا منطقی انجام میری آنکھ کے سامنے اسی طرح موجود ہے جس طرح حضرت علامہ اقبالؒ کا متفکر چہرہ ، یہ آزمودہ فتنہ ہے شیطان کا جب اس نے آدم کو ورغلایا۔ دوسری بار انسانی تاریخ میں اسے شیطان ثانی یعنی فرانسس بیکن ( 1561-1626) نے دہرایا۔ شیطان نے آدم کو فرشتہ بننے اور ایک لازوال حکومت حاصل کرنے اور اسرار باطنیہ کے سمجھ لینے کے چکر میں ڈال کر اسے گندم کا دانہ کھانے پر آمادہ کرکے جنت سے نکلوا دیا۔ بیکن نے کائنات پر تسلط، مادی بہشت، اور سائنس کے ذریعے اسرار کونینیہ کے انکشاف کاچکر دے کر انسان کو ایٹمی جہنم میں ڈلوادیا ۔ آدم کے لئے کم از کم دوبارہ بہشت حاصل کرلینے کاامکان تو موجود تھا۔ بیکن کے مارے ہوئے ابن آدم کے لئے یہاں ایٹمی جہنم ہے اور اگلی دنیا میں حطمہ ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے جو تقدیر کے سامنے تدبیر کی رسوائی کا ذکر کیا اس کو بھی اسی روشنی میں دیکھ لیا جائے۔ تقدیر کے سامنے آدم کی عقل جواب دے گئی اور بیکنی ترقی کی تدبیر ایٹمی جہنم پرمنتج ہوئی۔ ابراہیمی مشنپردہ آنکھوں سے ہٹا اور دیکھ! دیموقراطیس (قدیم اٹامزم کے بانی) کی روح اس انسانیت کے لئے ایٹمی چتا بھڑکانے میں مصروف ہے مگر یہ کس کی روح ہے جو اس آگ کو بجھانے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔ جان لے! یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روح ہے۔ وہی حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کو نمرود نے جلتی چتا میں ڈالا تھامگر جو بال بیکا ہوئے بغیر اس آگ سے صحیح سلامت نکل آئے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی روائتی انسانی ہمدردی کا مظاہرہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طبعی رحیمی اور کریمی کا کرشمہ ہے ورنہ یہ بیکنی انسانیت اپنے طبعی انجام کو پہنچ رہی ہے۔ دیموقراطیس ابراہیم کامقابلہ آج کانہیں اس وقت سے شروع ہے۔ جب سے اس نئے بیکنی دور کی ابتدا ہوئی ہے۔ دیکھئے۔جدید اٹامزم کے بانی فرانسس بیکن ( 1561-1626) کے غائنبانہ مقابلے میں حضرت مجدد الف ثانی(1564-1624) اور سپی نوزا، مادی وحدت الوجود کے بانی (1632-77)کے غائبانہ مقابلے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی 1703-63)) یہ محض تاریخوں کا اتفاق نہیں بلکہ تحقیق اس امر میں انکشاف کرتی ہے کہ موضوعی مطابقت بھی اس مقابلے میںواضح نظر آتی ہے۔ اس مضمون کو ابھی تک اس زاویئے سے نہیں دیکھاگیا اور حقیقت یہ ہے کہ وہ دروازہ جو اس مضمون کی تحقیق سے کھلتا ہے اس دور کاانتہائی ضروری دروازہ ہے۔ ایک طرح سے یہ ایٹمی جہنم سے باہر نکلنے کا دروازہ ہے۔ پھر ۱۹۰۵ ء کی اہمیت کو پیش نظر رکھیئے۔ یہی وہ سال ہے جس میں حکیم آئن سٹائن نے اپنامعروف زمانہ اضافیت کاخصوصی نظریہ پیش کرکے ایٹمی توانائی کو اس بھنور سے نکال باہرکیاتھا جس میں اس وقت کے سائنس دان ناامیدی کی حد تک الجھ چکے تھے اور پھردیکھئے۔ حضرت علامہ اقبالؒ ۱۹۰۵ ء میں ہی یورپ جاتے ہیں۔ اگر آپ یورپ نہ جاتے تو آپ ہند کے ایک عظیم قومی شاعر کی حیثیت میں وفات پاتے اور احتمال یہ بھی ہے کہ شاعری کو ایک کسب فضول گردان کر اسے خیر باد کہہ دیتے مگر یورپ نے ان کی کایا پلٹ دی۔ وہاں ان کی آنکھ اس دور کی حقیقت پر وا ہوئی اوروہاں ان کی آنکھ ابراہمی مشن پرکھلی اورا نہیں محسوس ہوا ۔ ’’ یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے ‘‘ اور پھر یہ منظر دیکھا ۔ ’’آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے۔ کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے ‘‘ اور پھر اپنا رول اس ابراھیمی مشن میں بیان کیا ۔ ’’مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ ‘‘۔ یہ نظم پوری پڑھئے ۔ ابراھیمی مشن کا دستور اور منشور ہے۔ الحق کہ جس نے حضرت علامہ محمداقبالؒ کو سمجھنا ہو وہ حضرت علامہ محمد اقبالؒ کو ابراھیمی مشن کی عینک سے دیکھے ۔1942 ء میں عظیم اطالوی سائنس دان فرمی نے شگاگو میں پہلی بار یورانیم فژن چین ری ایکشن Uranium Fission Chain Reaction کا کامیاب تجربہ کرکے ایٹمی آگ کا در اس دنیا پر وا کر دیا۔ 1945ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی اس آگ کی لپیٹ میں آ کر نیست و نابود ہو گئے۔ 1942ء میں ہی میری عمر کے پچیسویں سال میں مُصّیب نزد بغداد کے مقام پر خواب میں حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت ابراھیم علیہ السلام سے اس بندۂ عاجز کے حق میں ابراھیمی مشن کے لئے سفارش کی ۔ اسی خواب میں مجھے سورۃ النجم کی پہلی اٹھارہ آیات کی تفسیر منظر بہ منظر بشمول سدرۃ المنتہی دکھائی گئی ۔ اس وقت میں قرآن حکیم صرف ناظرہ پڑھ سکتا تھا ۔ مطالب و معانی کی آگہی نہ تھی۔ 1942ء سے 1982ء تک میرے لئے قدیم و جدید علمی تحصیل و تحقیق و تدقیق و تصنیف کا ایک پُرآشوب دور رہا جس کے نتیجے میں اب پانچ ہزار صفحات کی انگریزی اردو ،فارسی تصانیف مسودوں کی صورت میں میرے پاس ہیں ۔ ان میں سے تین ہزار صفحے ایٹمی جہنم کے متعلق قرآن حکیم کی36 لفظی پیشین گوئی کی تفسیر بزبان انگریزی پر مشتمل بارہ جلدوں میں ہیں جن کے متعلق میرا گمان ہے کہ اس دور کے تمام نامور فلسفی اور سائنس دان مل کر بھی مشکل سے پیدا کر سکیں اور میں نے کسی ا ُ ستاد سے نہیں پڑھا ۔ البتہ مجھے ایٹمی جہنم میں ڈال دیا گیا اور وہیں میں نے اس مضمون کا مشاہدہ اور تجزیہ کیا ۔ اس تمام عرصے کے دوران جن دردناک حالات سے میں دوچار رہا ہوں۔ اُ س کی تفصیل کے لیے کسی جان بنیان کا دل گردہ نہیں اور جس طریقے سے میں نے علم حاصل کیا اور جس مقدار میں حاصل کیا اس کا نفسیاتی تجزیہ کسی فرائیڈ یا ولیم جیمز کے دائرہ کار سے باہر ہے مگر یاد رکھیئے میرا سارا کام نہ میرے روحانی دعوے پر منحصر ہے نہ ہی قرآن حکیم کے الہامی دعوے پر، سائنس اور منطق معیار ہے ۔ کیونکہ سائنس ہی اس دور کا معیار ہے۔ برٹرینڈ رسل سے خط و کتابت 1964 ء میں برٹرینڈ رسل نے میرے خط کے جواب میں اپنا فیصلہ یہ دیا کہ ’’ جب سے آدم اور حوا نے گندم کا دانہ کھایا ہے اس وقت سے آدمی نے ہر اس حماقت سے گریز نہیں کیا جس کے ارتکاب کا کہ وہ اہل تھا اور انجام ایٹمی تباہی ہے ‘‘۔ رسل کا تجزیہ بالکل درست تھا لیکن ایٹمی جہنم کے متعلق قرآن حکیم کی وہ پیشین گوئی جس کے متعلق مجھے انکشاف ہو چکا تھا میرے لئے شعاعئِ امید ہو کر ابھری۔ کیونکہ اس پیشین گوئی میں ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات بیان کی گئی تھیں اور ان وجوہات کو ختم کرکے ایٹمی تباہی کے خطرے سے انسانیت کے بچ جانے کا امکان موجود تھا۔یہ پیشین گوئی سائنس کی دنیا میں اور فلسفے کی دنیا میں ایک ایسا معجزہ ہے جس سے انکار کی نہ تو سائنس دان کو گنجائش ہے نہ فلسفی کواور اس ہدائت کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ اس ایٹمی تباہی سے بچنے کا نہیں ۔ سائنس دان اور سیاست دان دونوں اس امر میں مجبور ہیں ۔ یہ پیشین گوئی اس ایٹمی آگ کے طوفان میں کشتیئِ نوح کی حیثیت کی حامل ہے نیز اس کی روشنی اپنائے اور اس کی ہدایات پر عمل کئے بغیر نہ کوئی تحریک موثر طور پر اس ایٹمی خطرے کے خلاف اس دنیا میں چلائی جا سکتی ہے نہ ہی کسی دین کا احیاء یا کسی دینی نظام کا نفاذ ہی موثر طریقے سے ہو سکتا ہے اور اس دنیا کا ایٹمی جہنم اگلی دنیا کے حُطَمَہ کا دنیوی نمونہ ہے اور یہ پیشینگوئی قرآن حکیم کی الہامی حیثیت کا ناقابلِِ تردید ثبوت ہے۔ اس پیشین گوئی کی تاثیر یہ ہے کہ ستمبر1963 ء میں معروف جرمن یہودی سکالر مس اینی میری شمل نے پنجاب یونیورسٹی میں قرآن حکیم کی الہامی حیثیت کے انکار پر مبنی اپنی تقریر کے دوران میں میرے منہ سے قرآن حکیم کی الہامی حیثیت کے ثبوت میں اسی پیشین گوئی کی تفسیر سنی تو چکرا کر کُرسی پر گری اور چائے کا گھونٹ اس کے حلق سے نیچے نہ اتر سکا اور واپس گئی تو دس برس تک پاکستان کو نہ لوٹی اور جب آئی تو موضوع قرآن حکیم کی الہامی حیثیت نہ تھا بلکہ حضرت علامہ محمد اقبالؒ ،حضرت امیر خسرو ؒ، حضرت سلطان باہوؒ اور مسلمانوں کی خطاطی تھا۔ ورنہ اپنی علمی حیثیت کے سبب وہ احترام اور مقبولیت کی مستحق ہے ۔ متذکرہ بالا مناظرے کے بعد بے حد مسرور علماء کے اصرار پر علامہ علاؤالدین صدیقی اس وقت صدر شعبۂ اسلامیات اور بعد میں وائس چانسلر نے الحمد لللہ میرا تعارف کراتے ہوئے کہا ۔ حضرات ؑ! یہ شخص قدرت نے محض اتفاق سے اس قوم میں پیدا کر دیا ہے۔ وہ قرآنی بصیرت جو اللہ تعالیٰ نے اس کے سینے میں تفویض فرمائی ہے ۔ اگر یہ قوم اس سے حاصل نہ کر سکی تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو قیامت تک معاف نہیں فرمائے گا پھر ایسا آدمی پیدا نہ ہو گا‘‘ ۔ البتہ اب بے چاری مس شمل اس میدان میں میلوں دور رہ گئی ہیں۔ اب آئن سٹائن اور رسل جیسے ماہرینِ فن درکار ہیں۔ یہ پیشینگوئی روئے زمین کے سائنس دانوں اور فلسفیوں کی توجہ کی مستحق ہے ۔ یہی پیشین گوئی مغربی ا لحادکاخیبر توڑے گی تو علماء کرام کو تبلیغِ اسلام کے لئے داخلہ ملے گا ۔
میری مشکلات میری مشکلات کا اندازہ میرے موضوع کی بین الاقوامی وسعتوں اور اس کی ناگوار تلخیوں سے کر لو۔ ایک شخص تن تنہاء اس دنیا کے چار ارب انسانوں کی دنیوی آرزؤوں کے ریلے کے سامنے کھڑا ہو کر ان کو ایٹمی جہنم کی راہ پر چلنے سے روکنے کی کوشش میں ہے ۔ اسی سے موضوع کی تلخی کا اندازہ کر لو مگر اس میں میرا ذرہ بھر قصور نہیں ہے ۔ میں نے وہی کچھ کہا جو قرآن حکیم نے کہا ۔ پھر قرآن حکیم کا نام بذاتِ خود میری مشکل کا باعث ہو رہا ہے۔ اس کے ماننے والے اپنی مشکلا ت اور مجبوریوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور جو قرآن حکیم کو نہیں مانتے ہو سکتا ہے کہ باوجود اس امر کے کہ میں اپنے ہاتھ میں انسانیت کی تقدیر کی کنجی لہرا رہا ہوں اور میرے اردگرد انکشافات و حقائق کے نوادرات ہیرے جواہرات کے ڈھیروں کی صورت میں بکھرے پڑے ہیں ۔ وہ لوگ محض قرآن حکیم کے نام کی وجہ سے میرے کام کے معاملے میں بے اعتنائی کا مظاہرہ کریں۔ ایک خاص مشکل میری یہ ہے کہ مضمون اتنا بلند باریک اور پیچیدہ ہے کہ انسانیت کی بہت بڑی اکثریت جس میں ایک بڑا حصہ فضلاء کا بھی شامل ہے اس سے بلد نہیں اور فقط تبصرہ حاصل کرنے کے لئے مجھے سات سمندر پار جانا ہو گا۔ کہاں ہے وہ فاضل جسے ایٹمی سائنس اور فلسفے اور قرآن حکیم پر یکساں اور مطلوبہ معیار کی حد تک عبور ہو۔ افسو س کہ میرا معاملہ ایک فریب خوردہ اور سحر زدہ انسانیت سے ہے ۔ ورنہ آج اگر حضرت عیسی علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام یا کرشن مہاراج یا مہاتما بدھ ہوتے ، تو وہ قرآن حکیم کی اس واضح اور نادرالوجود ہدائت کو سینے سے لگا تے اور اس کی تشہیر و نفاذ کے لئے ہمہ تن کوشاں ہوتے۔
مسلمانوں سے التماس اور ان کی ذمہ داریاںمسلمانوں سے یہ عرض کرنا ہے کہ ایٹمی جہنم کے متعلق اس قرآنی پیشین گوئی سے جو ایک انداز میں اللہ تعالی کا اس انسانیت سے اتمامِ حجت ہے اور جو اس انسانیت کو اس دردناک ایٹمی عذاب سے بچانے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس کی اشاعت میں پس و پیش کرکے خدا کی اس مخلوق کو محروم کرنا ایسا ہے جیسا کہ ایک غضبناک آتش فشاں پہاڑ کا منہ بند کر دینا ۔ یہ پیشین گوئی لازماً آتش فشاں پہاڑ کی مانند پھٹے گی اور اس کے بعدکے عواقب دوسری قوموں کے ساتھ ایٹمی جہنم کی نذر ہو جانا اور قیامت کے روز اللہ تعالی کے حضور میں باز پرس اور شرمندگی ۔ بود کہ یار نہ پرسد گناہ ز خلق کریم کہ از سوال ملومیم و از جواب خجل اور یہی نہیں بلکہ اگلی دنیا کے ابدی ایٹمی جہنم حُطَمَہ میں ڈال دیئے جانے کادردناک انجام ۔کیونکہ اس دنیوی ایٹمی جہنم کی پیدائش اور اگلے جہاں کے حُطمہ کی سزا کی وجوہات بالکل ایک ہی ہیں۔ اس لئے جو اس دنیا میں استحقاق کی بنا پر اس دنیوی ایٹمی جہنم میں فنا ہوا ۔اسکے لئے اگلی دنیا کا ابدی حُطمہ منتظر ہے بلکہ اگر باوجود استحقاق کے اس دنیوی ایٹمی جہنم سے بچ نکلا تو بھی اگلی دنیا کے حُطَمَہ سے بچنا محال۔ یہ دنیوی ایٹمی جہنم اگلی دنیا کے ایٹمی جہنم یعنی حُطَمَہ کا نمو نہ ہے اسی طرح جس طرح کہ عام آگ عام جہنم کا نمونہ اس دنیا میں ہے ۔ مومن اور کافر کا فرق یہ ہے کہ جہاں کافر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حُطَمَہ میں رہے گا۔ مومن اسوقت تک رہے گا جبتک اللہ تعالی چاہے گا ۔یہی مفسرین کرام کی رائے ہے ۔ یہ ترقی مسلمان کریں یا کوئی دوسرا کرے لازماً ایٹمی جہنم کی جانب پیشقدمی کے مترادف ہے۔ اس وقت موجودہ بین الاقوامی حالات کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ قرآنی پیشین گوئی کودنیا میں مشتہرکرکے اس بیکنی کلچر کی حقیقت اور اس کے منطقی انجام یعنی ایٹمی جہنم کو واشگاف کیا جائے تاکہ انسانیت آگاہی پا کر متفقہ اور مشترکہ طور پر اس دردناک انجام سے بچنے کے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کرسکے۔ کوئی ایک ملک تنہا اس امر میں کچھ نہیں کر سکتا ۔ مسلمان اگر اس قرآنی پیشین گوئی کی تفسیر کو چھاپ کر اور اسے دنیا میں مشتہر کرکے اور اس مقصد کو حاصل کرکے اپنا فریضہ ادا کردیں تو یہ امر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی، قرآن حکیم کی سربلندی اور انسانیت کے دلی شکرئیے کا باعث ہو گا ۔ پندرھویں صدی ھجری کی تقریبات میں قرآنی پیشین گوئی کی یہ تفسیر امت مسلمہ کی جانب سے انسانیت کے لئے ایک ایسا تحفہ ہے جس سے بہتر متصور نہیں ہو سکتا ۔ و آخردعوانا انِ الحمد لللہ رب العلمین ۔
نہ ہی غیر مسلم اقوام اس پیشین گوئی کی اشاعت سے بری الذمہ قرار دی جا سکتی ہیںکیونکہ یہ ساری انسانیت کو ایک دردناک انجام سے نجات دلاتی ہے ۔ ایک ایسا انجام جو ساری انسانیت کے باہمی تعاون کے بغیر ٹالا نہیں جا سکتا ۔آخری بات یہ کہوں گا کہ ایٹم بم ایٹمی جہنم کی پیدائش اور حُطَمَہ آخروی ایٹمی جہنم میں سزا کی وجوہات ایک ہی ہیں ۔ اس دنیوی ایٹمی جہنم کا مستحق اگر بالفرض اس سے بچ کر بھی نکل گیا تو بھی اگلی دنیا کے ابدی ایٹمی جہنم سے نہ بچ سکے گا تو کیا پھر اس بات پر غور نہیں کرو گے ؟ اور کیا تم نے سورہ الھمزہ میں پڑھ نہیں لیا کہ دولت جمع کرنے والے اور دولت کے عمل کو ابدی سمجھنے والے عیب جُو کی سزا حُطَمَہ ابدی ایٹمی جہنم ہے تو کیا میں نے تمھیں سمجھانے کا حق ادا نہیں کر دیا ۔ اللہ تیرا شکر ہے ۔ (بیکن دجال اور علامہ اقبالؒ سے لیا گیامضمون)
ترقی یافتہ وسیع البنیاد سائنسی و اقتصادی دور میں المیہ ء لیڈر شپ بھی زیر بحث چلا آ رہا ہے۔ انسانیت کو دہشت گردی کی جنگ سے صرف اور صرف وہی ٹیم چھٹکارا دلواسکتی ہے جو دہشت گردی کی بنیادی وجوہات اور ان کے تدارک کا کافی علم رکھنے کے ساتھ ساتھ حل
کرنے کا ڈھنگ بھی پرامن طریقہ سے نافذ کرکے استحکام بخشنے کی صلاحیت سے مزین ہو اور اس ٹیم کا لیڈر اکمل جامع فقیر: Perfect ہنرمند Technologist ہو۔نابغہ روزگار شخصیت و اعلیٰصفات انسانی کا حامل ہو ۔ ساتھ ہی ایٹمی ہتھیاروں کو نیست و نابودDemolition کرنے کے فن کا بھی چوٹی کا ماہر ہو۔ اس سلسلہ میں سیدنا حضرت علامہ محمد یوسف جبریلؒؒ ہماری فکری اور سائنسی اعتبار سے یوں رہنمائی فرما کر لیڈرشپ کے فقدان کے چیلنج کا بھی معرکہ سر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
آپ Physical and metaphysical sciences کا Balance کرتے ہوئے عالمی برادری کو
Integrated meditations-multi-inter- scientific discipline -pannacea leaded integrated system and discrimination
کے اصولوں کے تحت ہومیوپیتھک سائنس فارماسیٹیکل کے ہائی پوٹسنی ایٹمی نظام کی رمز سمجھاتے ہوئے Supreme Purge technology کے ذریعے انسانیت کی جملہ ظاہری و باطنی طہارت External and Internal Purification کا تریا ق فراہم کیا ہے۔ نیوکلر سائنسز میں نیوکلر نیوٹرلایزیشن فارمولا
SWExMC2-(NH)T-D(NH)E[L:4 R:222]CPH
multirole offensive + defensive formula فراہم کر کے تمام دکھوں کامداوا کرتے ہوئے Panacea کا رول ادا کرتے ہیں۔ فکری اعتبار سے س ف ک (سفک) س سخاوت، جو کہ شجاعت کی ماں ہے اور پروپیگنڈاکی قاطع ہے۔ ف سے مراد فقر ہے جو قاطع ہے حرص و ہوا لالچ اور دولت اندوزی کا، جس کی طاقت سے دولت کا بت پاش پاش ہو جاتا ہے۔ ک سے مرادانکساری ہے جو کہ توڑ ہے اس دور کے مخصوص انسانی غرور کا ۔ غرور بمعنی فریب دھوکا۔ سائنسی اور تکنیکی اعتبار سے CPH آگ کے طوفان کو بجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Composition : Carbon x phosphorous x hydrogen
application of synthesis and anti-synthesis بذریعہ
offensive sword+defensive shield))
چونکہ کاربن کا وزن آکسیجن سے ہیوی ہے۔ کاربن کی موجودگی میںآکسیجن اAutomatically ، Repell ہو جاتی ہے۔ لہذا آکسیجن کی غیر موجودگی میں Radiations کے اثرات کا کم ہونا ا ور تھرمونیوکلر وپین کا Activate نہ ہونا پھر Friction تھیوری کا خیال مدنظر رکھنا تاکہ Stratosphere کی Operational حدود Zones کوSilver Stair ٹیکنالوجی کے تحت پھلانک کر Altitutude بڑھایا جائے اورStarwars کے ہتھیاروں Arrow یا NMD اور دوسرے پروگرامز کو Neutralize کیا جائے ممکنہ حدود تک۔
GENE MUTATIONS
کی بحث کے زیر عنوان آپؒ کی رہنمائی میں Believers and disbelievers کے Genes کو Discrimate کیا جا سکتا ہے۔ پھرBiosecurity Uni-multicellular ) کا Botany (uphorbium( plomeol, monocortic dicort کا معاملہ حل کیاجاسکتا ہے۔ بشرطیکہ نئے نظریہ Supreme global system کے تحت تمام علوم کی Faculty کی ماہر مایۂ ناز تجربہ کار شخصیا ت وتنظیمات کا انتخاب کرکے Practicability بروئے کار لائی جا سکتی ہے۔ چناؤ کاطریقہ کاراور کامیابی کا راز فقط اس رحمت بھری وزنی بات میں موجود ہے۔
کی محمد ﷺ سے وفاتو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
نوٹ : (۱) امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیار بنانے اور بیچنے والا ملک ہے۔
(۲) عالمی نظام کی تیز رفتار اور وسیع البنیاد ترقی میں چین،بھارت، برازیل، اور ترکی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
(۳) اسلامی دنیا میں چار ممالک، ترکی، مصراور پاکستان اور افغانستان کافی اہمیت کے حامل ہیں۔
معاشی مسئلہ کا حل: عفو، انسانی مساوات و حقوق میں برابری اوراسلامی اخوت ایثار و قربانی میں موجود ہے۔
علامہ مکرم کی راہنمائی میں جدوجہد کے لئے انسانیت میں انصاف کے حامی اور ظلم کے خلاف کمربستہ ہونے والے عظیم Genus ہستیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر عملا کام کے لئے امت کو چند کارہائے نمایاں بجا لا نے ہیں۔ چونکہ بڑی رکاوٹ اس وقت عالم اسلام خود ہے کہ حق کا نظام (دین الحق) کسی بھی برائے نام اسلامی ملک میں نافذنہیں۔ لہذا دور حاضر کے مسلمان من حیث القوم دنیا کی دوسری اقوام و ملل سے زیادہ مجرم ٹھہرے کہ حق جانتے ہوئے بھی کتمان حق عملاًکررہے ہیں۔ مثلا سود جانتے ہوئے بھی کہ جنگ ہے اللہ تعالیٰ اوراس کے پیارے رسول اللہ ﷺ کے خلاف، لیکن سعودی عرب سے لے کر تمام اسلامی ممالک میں Worlwide سودی نظام عملا کارفرما ہے، حتی کہ طواف کعبہ بھی بذریعہ بینکینگ سسٹم کے تحت یہودیوں کے سودی نظام کے تحت ہو رہا ہے اور مسلمان ٹس سے مس نہیں ۔گھناونے جرم کو عبادت سمجھ کے کیا جا رہا ہے۔ بھلا گمراہی اور Confusion کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔چونکہ پورے گلوب کا مرکز خانہ کعبہ ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کے لئے امن کا مقام ٹھہرایا ہے مگر سودی نظام کے تحت خانہ کعبہ اس وقت میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ اس کے متولی یا وارث جیسا کہ سورۃ التوبہ میں ارشاد ہے۔’’ ان اولیاء ہ الاالمتقون‘‘ متقین ہیں۔مگر موجودہ سعودی حکمرانوں کا کردار ہمارے سامنے ہے۔
(۱) ان حالات کے پیش نظر حاکم سے محکوم تک مسلمان توبہ تائب ہو کر توبتہ النصوح حاصل کریں۔(۲) اپنی سٹریجی Revise کرتے ہوئے انفرادی معاملات کے مقابلہ میں اجتماعی معاملات کو ترجیح دیں۔(۳) اسلام کے فلسفہ ترجیح یعنی Priority کے اصول کو تمام شعبوں پہ غالب کر دیں اور وہ اصول ہے سورۃ التوبہ’’۔ احب الیکم من اللہ و رسولہ و جہاد فی سبیلہ‘‘یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول کریم علیہ الصلوۃ والسلام اوراس کی راہ میں جہاد ہی دراصل Superior پالیسی ہے۔ اس پالیسی کو ترک کرکے مسلمان ذلت کاشکار اور دنیاکی ذلیل ترین قوم یہودی ان پر شرق سے غرب تک بصورت عذاب مسلط ہے۔ اس کائنات میں جتنے بھی فتنے برپا ہوئے یا ہوںگے۔ ان
میں زیادہ خطرناک فتنے دو ہی ہیں۔ فتنہ دجال اور یاجوج و ماجوج ۔ لیکن قربان جایئے دونوں فتنوں کا سدباب فقط اور فقط قتال میں رکھا گیا اور سدباب کے لئے امام مہدی علیہ السلام اور سیدنا عیسی علیہ السلام کا چناؤ کیاگیا۔ Similarity دونوں میں امامِ قتال کی ہے۔ علامہ صاحب بیکن دجال والے کتابچے میں سونے پر سہاگہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دجال یہود میں سے ہے۔ اس کو حضرت عیسی علیہ السلام کے علاوہ کوئی نہیں مار سکتا۔ حضرت عیسی علیہ السلام روح اللہ ہیں اور روح کی حقیقت کل الروح من امر ربی میں موجود ہے۔ یہی روح قرآن حکیم میں بھی کارفرما ہے کیونکہ قرآن حکیم امر ربی ہے۔ گویا ہر فتنہ و ارتداد کا حل قرآن حکیم میں موجود ہے جیسا کہ حضرت ذوالقرنین علیہ الصلوۃ والسلام نے عملا Mild steel+molten copper کے ذریعے یاجوج ماجوج کے حملے روک دیئے اور یاجوج و ماجوج defenseless ہو گئے۔ دور جدید میں بھی وہی ٹیکنالوجی Form up کرکے آج کے یاجوج ماجوج کو بھی زیر کرنا ناممکنات میںسے نہیں صرف ہمت و حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ (حوالہ سورۃ الکھف ۱۶ پارہ)
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار
(ضرب کلیم حضرت علامہ اقبالؒ)
مسلمانوں کو (شواظ من النار و نحاس) سورۃ الرحمان Fire flames+molten brass technology, کی ریسرچ کرکے جلد از جلد Form کرنی ہے تاکہ جن و انس کے Troops (Defenceless ) ہو جائیں۔ Starwars کا مقابلہ چونکہ قلندرانہ مزاج کے مسلمان ہی کرکے غلبہ حاصل کرسکتے ہیں۔ جیساکہ حضرت علامہ محمد اقبال ؒ ہمیں گائید فرماتے ہیں۔
مہر و ماہ و انجم کا محاسب ہے قلندر
میرا جوہر جب بھی جہاں میں آشکار ہوا

ایام کا مرکب نہیں راکب ہے قلندر
قلندری سے ہوا ہے تونگری سے نہیں
طریقہ کار اور مواد حضرت علامہ محمد یوسف جبریلؒؒ کی ایٹمی جہنم بجھانے والا قرآنی فارمولا ، فلسفۂ تخلیق کائنات ، اسلامک بم، حطمہ، فقر غیور، اور ان کی دوسری کتابوں میں Genus کی رہنمائی کے لئے موجود ہے۔ لیکن عملاًLaunching کرنے کے لئے مسلمانوں کو ذہنی ہم آہنگ مربوط سوچ کی مالک اقوام کو ساتھ لے کر ایک عظیم الشان بین الاقوامی ادارہ قائم کرنا ہے۔ جس کی اساسی پالیسی میثاق مدینہ کے طرز پر ہو۔ قربت والی پالیسی کو رواج دیا جائے۔ یہودیوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت بند کرکے ان کی مملکت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے ساتھ میثاق مدینہ کی طرز پر معاہدہ کرکے اپنے سفارت خانے کھولے جائیں تاکہ کام آسان ہو جائے۔ کیونکہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے دور کا بھیدی مار کھائے۔ لہذا تمام اقوام کو آپس میں اقوام متحدہ اور دوسری عالمی تنظیموں کے محاذ پر کم از کم دس سال تک جنگ ترک کرنے کا معاہدہ کرناضروری ہے۔
مکے نے دیا خاک جینوا کو یہ پیغام جمیعت اقوام کہ جمیعت آدم

تاکہ انسانیت کے درمیان انسانی بنیادوں پہ نہ کہ قومی بنیادوں پہ اتحاد قائم ہو سکے۔ اس کاطریقہ کار یہ ہے کہ ان تمام باتوں میں اتفاق کر لیا جائے جو سارے انسانوں کے درمیان قدر مشترک ہیں۔یااھل الکتاب تعالوا الی کلمتہ سواء بیننا و بینکم (القرآن سورۃ آل عمران 64:3 ) ترجمہ؛ اے اہل کتاب ! آؤ اس بات پر اتفاق کر لیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے‘‘۔ مثلاً انسانی حقوق میں تمام انسان برابر ہیں بغیر کسی رنگ و نسل ، ذات پات اور مذیب کے۔ان مقاصد کے حصول کے لئے انسانیت کو منظم طریقے سے اداروں کی شکل میں Management قائم کرکے تاکہ ہم آہنگی اور استحکام حاصل ہو سکے اور گلوبل سیکورٹی کی ضمانت فراہم ہو سکے۔ اقوام متحدہ کی طرز پہ جمیعت آدم کے لئے یونیورسل ادارہ قائم کرنا موجودہ گلوبلائزیشن کی فضاء میں نا گزیر ہے۔ جو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے انصاف کی بنیادوں پہ کام کر سکے۔ اس ادارے کا نام Supreme Global Research & Development Centre(SGRDC) رکھا جائے کیونکہ گلوب پر Super طاقتUSA حاوی ہے۔ Super سے اوپر کی ڈگری سپریم ہے۔ موجودہ حالات میں صرف سپریم پاور ہی غلبہ حاصل کر سکتی ہے۔ اس ادارے کا کام عالمی امن قائم کرنا ہے جس کی Achievementsکے لئے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں۔
۱۔افرادی قوت:عظیم لوگوں کو بڑی ہی جانفشانی اور عرق ریزی سے چھانٹ کر لایا جائے۔ Criteria کی بنیاد کردار کے میرٹ پرہو گی۔ ایسی افرادی قوت کی کلی دستیابی ہمیں یہاں سے ہو گی۔اس افرادی قوت کو ڈھونڈھنے کے لئے دورس، دوربین نگاہ چاہیئے۔
وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
نگاہ وہ نہیں جو سرخ و زرد پہچانے
افرنگ سے بہت آگے ہے منزلِ مومن
کھلے ہیں سب کے لئے غریبوں کے میخانے
اسی سرور میں پوشیدہ موت بھی ہے تری
سنیں گے میری صدا خانزادگان کبیر؟
فطرت کے مقاصد کی کرتاہے نگہبانی
دنیا میں محاسب ہے تہذیبِ فسوں گر کا یہحسن و لطافت کیوں، وہ قوت و شوکت کیوں
اے شیخ ! بہت اچھی مکتب کی فضا لیکن
صدیوں میں کہیں پیدا ہوتا ہے حریف اس کا

ہو جس میں فقط مستیء کردار
نگاہ وہ ہے کہ محتاج مہر و ماہ نہیں
قدم اٹھا! یہ مقام انتہائے راہ نہیں
علوم تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں
تیرے بدن میں اگر سوز لاالہ نہیں
گلیم پوش ہوں میں صاحب کلاہ نہیں
یا بندۂ صحرائی یا مرد کوہستانی
ہے اس کی فقیری میں سرمایہ سلطانی
بلبل چمنستانی شہباز بیابانی
بنتی ہے بیاباں میں فاروقی و سلمانی
تلوار ہے تیزی میں صہبائے مسلمانی
تہذیبی یلغار کی کشمکش و تصادم کو کرش کرنے کے لئے پالیسی ’’ارمغان حجاز‘‘ میں موجود ہے۔ بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو ۔

ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
جس سمت میں چاہے سیل رواں چل
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہنر کر
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
محروم رہا دولت دریا سے وہ غواص
دین ہاتھ سے دے کے اگر آزاد ہوملت
دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
اللہ کو پامردیء مومن پہ بھروسا
تقدیر امم کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا
اخلاصِ عمل مانگ نیاگانِ کہن سے

اس دشت سے بہتر ہے نہ دلی نہ بخارا
وادی یہ ہماری ہے وہ صحرا بھی ہمارا
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سردارا
کہتے ہیں کہ شیشے کو بناسکتے ہیں خارا
ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
کرتا نہیں جو صحبت ساحل سے کنارا
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کاسہارا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ
شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدارا
wer (Genius+ Loyal Manpo
1). Leadership:
Outstanding, knowledgeful, powerful, sincere, brave, military command (politicians, scholars, journalists, traders, importers and exporters)
(2) Security:
Top secret, highly vigilant experts and the most sophisticated security equipments.
(3) Administration:
Awareness in international law, administrative affairs and management.
(4) Finance:
“Honesty is the best policy. (Guardianship and knowledge of international economics, especially IMF, World Bank, Export Credit Card Agencies (ECAS) and WTO etc.
5). Genetics
6). Biotechnologists
7).Chemists/Chemical engineers (analytics)
8). Bio physics+ bio chemists.

9). Botanists + Hakeems+ Homoepathists
10). Engineers + Technicians
(a) Atomists(b) electronics (c) aerodynamics (d) Armaments (e) Logistics (f) material sciences metalllurgical+ earth sciences (g) design and drafting (h) IT specialists (Hardware and software developers) (j) Experts of technical library+ resourcing ( especially human and material) (k) Universal sciences (experts on all faculty)
Note: The development shall be carried out on priority basis with mutual coordination and consultation.
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے۔ کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف
تہذیبی تصادم اور فخاشی Sex free کلچر کا سدباب بھی ہومیوطریقہ علاج کے تحت نفسانی خواہشات کو کنٹرول کرکے اعتدال تک لایا جا سکتا ہے تاکہ روشن خیالی کی منزل سے آگے کی تہذیبی منزل روشن ضمیری ، حاصل ہو سکے۔ روشن ضمیری،بے ضمیری اور بے غیرتی کا خاتمہ کر دیتی ہے جس سے عملا ان شائنک ھوالابتر کی تعبیر ممکنات میں سے ہے۔ اس لئےGenes کو تبدیل کرنے کی دوائیں استعمال کرائی جائیں گی۔ اسکے لئے ایسی گیسز کااستعمال کروایا جائے گا جو Genes پر اثر انداز ہو کر نفسانی خواہشات کو Balanced کر نے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مثلاَNeucleic Acid یاNeucleon +Nitrogen gas وغیرہ کا استعمال نہایت ہی اہم نکتہ کہ جس پر اس عظیم ترین عالمی امن کے منصوبے کادارومدار ہے۔یاد رکھئے گا کہ Believers اور Disbelievers کے Genes میں Discrimination اما شاکراو اما کفورا ، (سورۃ الدھر) کے تحت موجود ہے۔ جس کا تریاق Euphorbium ہے ۔ محسن اعظم سیدنا حضر ت علامہ محمد یوسف جبریلؒ ؒ میں تقدیر عالم کو بدلنے کاشعور’’ نعرہ جبریلؒ‘‘ میں ایسے مرحمت فرماتے ہیں :۔
مسلمان داغ دے اب نعرۂ تکبیر دنیا میں بدلنا ہے تیری تکبیر سے تقدیر عالم نے
تدبیرX تقدیر = احکام الہیٰ
تقدیر عالم کو بدلنے کے لئے مسلمانوں نے خصوصاً اور غیر مسلموں کو عموماً بے ضرر CPH ٹیکنالوجی تیار کرکے ہی دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہے کیونکہ کرتا آخر کار بیوقوف بھی وہی ہے جو عقل مند کرتا ہیلیکن کافی نقصان اٹھانے کے بعد۔ تقدیر عالم بدلنے کے لئے ہمیں علامہ مکرم کی وہ داستان بھی ہمیشہ ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیئے کہ شہزادی نے بادشاہ کے قاتلوں سے کس حکمت عملی سے بدلہ لیا۔ شیر دوبارہ کس حکمت عملی سے پنجرے میںبند کر دیا گیا ۔ انہی Tactics اور Strategies کے پیش نظر دور جدید کے خونخوار بھیڑیوں کو بھی جو پنجروں سے نکل چکے ہیں دوبارہ پاپند سلاسل کیا جا سکتا ہے انشاء اللہ تعالی العزیز۔ پہلے مرحلے میں دجالی تہذیب کو قابو میں لانے کے لئے Genius کو چیدہ چیدہ عالمی تنظیمات کے سربراہوںElites سے روابط قائم کرکے ان کی Confusion اور Misunderstanding کوحضرت مکرم کے پیغام کے ذریعے متفکر کرکے دور کیا جا سکتا ہے۔ رابطہ کے لئے ہر طرح کے Sources and resources استعمال کرنے ہوں گے۔ مثلاً IT,Email,Telephone,Postal یا دوسرے ذرائع خاص کر بذریعہ انسان، پرنٹ میڈیا یا موقع محل کی مناسبت سے Source مثلا ً
(1) Global Policy Forum(GPF)

UNO security Council, Gen Assembly سے کام کاآغاز کرکے UNESCO,UNICEF, WHO,ICJ, اور UNOکے دوسرے اداروں سے رابطہ قائم کرکے علامہ صاحب کا پیغام پہنچانا ضروری ہے۔ رابطہ معلومات کے لئے www.globalpolicy.org/ ۔
Global Policy Forum New York.
Global Policy Forum 777 UN Plaza, Suit 3 D New York, NY 10017 USA
Phone No. +1-212-557-3161 Fax No +1-212-557-3165
E mail : gpf @globalpolicy.org
Global Policy Forum Europeon Bertha-von.suttner Platz 13
D-53111 Bonn. Germany
Ph.+49-228-9650510
Fax : +49-228-9638206
E mail : europe @ globalpolicy.org
Website: www global.org/eu/index.1
(2)The National Security Archive
The George washington University
Email: nsarchiv@gwu.edu
حالات حاضرہ کے علاوہ نیوکلر ٹیسٹنگ اور CIA کی معلومات بھی یہاں پر موجود ہیں۔
(3) Corpwatch and (IFG)internal Forum on Globalization
کے تحت تمام عالمی تنظیموں سے رابطہ ممکن ہے۔ Website پر جانا لازمی ہے۔
(4) FAS (Federation of American Scientists Washington (DC)
(5) Union of Concerned Scientists (Global security.org) گلوبل سیکورٹی کی ذمہ دار تنطیم ((US Department Of Energy. (6)نہایت ہی اہم ادارہ ہے۔ (7) The Council For Livable World.(8) Muslim-Christian Institute on the Nuclear Weapons danger. http://www.mci-nwd.org/
(9) Presbyterian Church (USA)
(10) CGSR (Center for Global Security Research)
(11) Radiation Detection Center ( rdc@llnl.gov)
(12) The Nixcon Center (www.nixon center/ org)
(13) National Ministries Division.
(14) AICHE
(15) MBDA of France
(16) International Assessment and Strategy Center
ان اداروں کے علاوہ اس آرٹیکل میں جتنی لیبارٹریز و انڈسٹریز کا پہلے ذکر ہو چکا ہے ان کے علاوہ دنیا کے تمام تعلیمی و صحت کے مراکز پر عالمی امن کے کام کو تیزی سے آگے بڑھایا جاسکتا ہے لیکن یادرکھئے گا کہ منطقی انجام یا خاطر خواہ موثر نتائج حکمران پارٹی Elites ’’طبقہ امرا‘‘ کے ذریعہ ہی بروئے کار لائے جا سکتے ہیں۔

وہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا ہے جو ہر نفس سے کرے عمرِ جاوداں پیدا
گردش زماں پر غلبہ کے لئے علامہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ خذوالکتاب بقوۃ قرآن حکیم کو مضبوطی سے تھام لو ۔۔‘‘۔قرآن حکیم ہی میں ہر مثل موجود ہے۔ یہی قرآن عظیم کا اعجاز ہے۔ یہی غلبے کا رازہے۔ استحصالی و سامراجی نظام باطل کو مٹانے کے لئے اس عظیم راز و پراسرار Strategy کے تحت سامراجی و استحصالی نظام کو پچھاڑنے کا واحد راستہ ہی Intelligence Policy ہے کیونکہ بڑی قوت کو باطنی حکمت عملی سے تو گرایا جا سکتا ہے۔ عقل و دوربینی سے کام لیا جا سکتا ہے۔ ظاہری ذرائع کے ذریعہ بڑی قوت ہمیشہ چھوٹی قوت پر غالب رہتی ہے۔ سورج کی موجودگی میں ستاروں کی روشنی ماند پڑ جاتی ہے۔ بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو ہڑپ کر جاتی ہیں لیکن بہترین حکمت عملی کے تحت چینوٹیاں سانپ و ہاتھی کو اور دیمک و زنگ لکڑی و لوہے کو کھا جاتی ہیں۔ حکمت کا روں کے لئے اس میں بڑی نشانیاں پنہاں ہیںاور راستہ معین کرکے منزل مقصود پانے کا نہایت ہی وزنی و موثر راز موجود ہے۔ قرآن حکیم کے وہ پورپشن جن میں باطنی علوم علم لدنی جیسے سورۃ الکہف میں حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام اور اصحب کہف، اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا ملکہ سبا کے تخت کو فیوذن اور ڈیفوزن ٹیکنالوجی (علم تصرف) سے ٹرانسفر کروانا اور پھر شیشے کی ٹیکنالوجی سے Modification کروانا کہ ظاہرا تخت کے اندر سے پانی گذرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن حقیقی اعتبار سے پانی کا موجود نہ ہونا ۔جس سے ملکہ سبا کی Intelligence مغالطے کا شکار ہو کر صحیح Judgement نہ کر سکی۔ اسی حکمت عملی میں مشرکین کی تمام Guidance system یا لیڈرشپ کا عملاً توڑ موجود ہے۔ اس ٹیکنیکل Phenomenon کے تحت تمام کیمونیکشن ریڈار ،Guidance ، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ، میزائل battle management ، سٹلائٹ،اور SBIRS کو Countermeasure کرنانہایت ہی آسان ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا بن یامین علیہ السلام کی غلے والی بوری میں Measuring equipment بحکم الہیٰ ڈلوادینا ، بوری کی تلاشی آخر پہ کروانا، حضرت بن یامین علیہ السلام پہ ظاہری اعتبار سے چوری کا ثبوت حقیقی اعتبار سے چوری کا مرتکب نہ ہونامصر کے کالے یا جنگل کے امیگریشن لا (قانون) کا توڑ حکمت عملی سے کرواناپھر بن یامین علیہ السلام کو اپنے پاس ٹھہرانا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا بھائیوں کے ساتھ جنگ میں اپنے آ پ کو آخر ی سٹیج پر متعارف کروانا۔سب ظاہری و باطنی علوم کی Infinity ہے۔
عالمی دنیا کی طاقت کو جانچ کر اگر موازنہ کیا جائے تو 30 اکتوبر 2006 (روزنامہ جنگ) راولپنڈی کی سروے رپورٹ کے مطابق ارب پتی لوگ سب سے زیادہ امریکن ہیں۔ دنیا کا امیر ترین آدمی بل گیٹسMicrosoft company کا سربراہ امریکن ہے یہی وجہ ہے کہ بے پناہ اقتصادیات کے ذریعہ سب سے زیادہ اسلحہ بنانے والا اور Arms export کرنے والا ملک بھی امریکہ ہے۔ سب سے زیادہ دھوپ والی امریکی ریاست ایریزونا ہے ( Temperature ) دنیا وی جہنم، امریکی ریاست کیلیفورنیا کہلاتی ہے( اپنے نیوکلر انرجی سیٹ اپ کی وجہ سے جو کہLawrence Livermore National Laboratory کے تحت قائم ہے) تاہم امریکی سسٹم کو داد دینی چاہیئے کہ سات سمندر پار جنگ لڑ رہا ہے۔ کانگریزنل ریسرچ سروس سی آر ایس کی اقتصادی رپورٹ کے
مطابق اس وقت سب سے زیادہ بجٹ دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف جنگ پر خرچ ہو رہا ہے۔ کل بجٹ 2002 سے 2007 تک 16.64 ارب ڈالر مختص کئے گئے ہیں جس میں سے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر اب تک خرچ ہو چکے ہیں۔ پاک وطن فرنٹ لائن کا اتحادی ہے۔ اس نے سب اتحادیوں سے زیادہ معاوضہ وصول کیا ہے۔مثلاً 1.5 ارب ڈالر اور مالی سال 2007 کے لئے 900 ملین ڈالر مزید اس کے لئے مختص ہوئے ہیں۔
عالمی سطح پر سب سے بڑی فوج چائنا کی ہے لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مقابلہ اس لئے نہیں کر سکتی کیونکہ ٹیکنالوجی میں پیچھے ہے ۔ ابھی تک چائنا میزائل کا انجن تیار نہیں کر سکا ہے۔ ٹیکنالوجی رشین فیڈریشن سے Import کرتا ہے البتہ موجودہ تیز رو رفتار و سیع البنیاد سائنسی و اقتصادی ترقی میں عالمی نظام گلوبلائزیشن کے لئے چین، بھارت، برازیل، ترکی اور شمالی افریقہ نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسلامی دنیا میں پیارا پاک وطن،افغانستان ، ترکی اور مصر نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ جغرافیائی ،سماجی، سیاسی اور فوجی و دفاعی اعتبار سے پاکستان، ترکی اور مصر کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں نہایت ہی دوراندیشی و تدبر والی ہیں۔ ترکی اور مصر کے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے ہیںجو پاکستان، افغانستان کو سپیشلی اہم عالمی کردار ادار کرنے کے لئے اور عموماً دوسرے اسلامی ملکوں کو اسرائیل و مغرب کے قریب لا کر غلط فہمیوں کا ازالہ کروا سکتے ہیں۔ ان چار ممالک کیStrategic Partnership عالمی سطح پر دہشت گردی و انتہا پسندی کی جنگ کو شکست فاش دینے کے قابل ہے کیونکہ صبر و تحمل کی سیاسی و فوجی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی میزائل ٹیکنالوجی ،انٹیلیجنس فورسزاور ایرفورس بھی ایک حد تک فنی صلاحیت رکھتی ہے۔Globalization era کا سب سے اہم پہلو جو عملی جنگی حکمت عملی Strategy (Starwars ) کے نام سے جاری و ساری ہے۔ اس حکمت عملی کا سب سے اہم پروگرام جو امریکی ریاستوں اور اتحادیوں کے دفاع کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ (NMD) National Missile Defence کہلاتا ہے۔ land,sea,space اور Information پہ کلی کنٹرول و غلبے کا نام ہے۔ یہی عالمی نظام کی اس وقت Priority ہے جس پر Billions of dollars خرچ کئے جارہے ہیں۔ اکتوبر 2006 میں جب برطانیہ کے دو شہروں میں اس کے Radar کی تعیناتی کی گئی تو برطانوی شہر Yorkshire میں اس کے خلاف بہت بڑا احتجاج بنام (CND) Compaign For Nuclear Disarmament, ہوا۔ 60 فی صد سے زیادہ عوام نے اس کے خلاف رائے دی مگر Armed Forces نے اپنا ایجنڈا پورا کرتے ہوئے NMD پروگرام آگے بڑھادیااور احتجاج کی ہرگز پرواہ نہ کی۔ یہی NMD ہی اس وقت امریکہ اور یورپ کی مشترکہ Force ہے جسے ہم آگ کا طوفان کہہ سکتے ہیں۔اس کا آخری ڈیفنس غرقد ٹیکنالوجی ہے۔جس کا توڑ کاربن مونو آکسائد میں موجود ہے۔سمندری نظام کا Countermeasure نائٹروجن گیس میں موجود ہے۔ محترم المقام مکرم المعظم جناب علامہ یوسف جبریلؒؒ فرمایا کرتے تھے کہ میری پیدائش کا دن 17 فروری ہے جو طوفان نوح علیہ السلام کا بھی دن ہے مگر میرے زمانہ کا طوفان ناری(Hydrogen) ہے۔ جسے سائنس دان چلتی پھرتی آگ کہتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ الصلوۃوالسلام کو اس طوفان ( H2O)سے بچنے (بچاؤ) کے لئے Ship technology کا علم دیا گیا ، اسی
طرح علامہ صاحبؒ کو طوفان آگ سے بچنے اور دنیا کے بچاؤ کا قرآنی فارمولا اور ا یٹمی جہنم بجھانے والا قرآنی فارمولا CPH ( nuclear neutralizer ) عطا فرمایا گیا۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس کی Application سے آگ کا طوفان تھم کر نابود ہو جانا ہے اور یہود و ہنود کی تمام امیدوں پر پانی پھر جانا ہے بشرطیکہ مسلما ن ہم خیال لوگوں کو ساتھ ملا کر علامہ صاحبؒ کی لیڈرشپ کے تحت Starwars کو سرد کرنے کے لئے بے ضرر ٹیکنالوجی کی تحریک شروع کرکے Integration اصول پر پہلے مرحلے میں Guidance System کا آغاز اخلاقی اقدار کی بحالی سے شروع کرتے ہوئے میزائل ٹیکنالوجی میںبھی لاثانی حد تک کمال پیدا کرسکتے ہیں۔
٭Unique Integration of AAGW, ASGW,SSGW and SSGW
٭Panancea leaded disciminative pay loads/ warheads ٭Supreme purge technoloy
٭Multi-interscientific disciplined warheads( sound energy) etc.
٭Multi-role offensive/defensive at the same time.
٭Global Propulsion System ( the most powerful) wind energy.
٭Universal Disarmament Techniques etc.
میری ذاتی رائے کے مطابق پاک آرمی کی مدبرانہ کمان اس عظیم مشن کو دوسری اقوام سے مل کر نہایت ہی چابکدستی سے Promote کر سکتی ہے کیونکہ صدر پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف صاحب ہر ملکی و بین الاقوامی پلیٹ فارم پر یہ فکر Promote کرتے نظر آتے ہیں کہ ’’ جب تک دہشت گردی و انتہاپسندی کی بنیادی وجوہات “Major route causes” کوختم نہیں کیا جا تااس وقت تک دہشت گردی بڑھتی رہے گی۔ ’’ خودکش حملوں‘‘ میںتیزی آتی رہے گی۔محترم جناب جنرل صاحب کی تشخیص نہایت ہی اہمیت کی حامل تو کیا بلکہ اصل بگاڑ کی وجہبھی یہی ہے لیکن قربان جایئے جناب علامہ محمدیوسف جبریلؒ ؒ صاحب کی بابرکت ذات کریم پر جنہوںنے اپنی لاثانی تحقیق میں 1982 ء میں ہی انہی بنیادی وجوہات (Greed, Accumulation of wealth with belief in eternity ,propaganda کو Diagnose کرکے اس کا Remedial action بھی چودہ جلدوں کی شکل میں عنایت فرما کر انسانیت کے عظیم شکریہ کے مستحق ہونے کے ساتھ ساتھ محسن اعظم و ہمدرد Panacea اور Saviorبھی کہلانے کے حقدار ہیں۔مقامِ عشق کا تابناک شعلہ ہیں۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
علامہ مکرمs Starwar سے بھی اوپر کی پالیسی اختیارکرنے کے لئے کتاب ’’ فلسفۂ تخلیق کائنات‘‘ میں رہنمائی فرماتے ہیں ۔ موجودہ دور کے تمام تباہ کن چیلنجز کا حل فقط حضرت علامہ ؒ صاحب کی پالیسی فہم و ادراک وتشریحات کی روشنی میں ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بغیر اور کوئی چارہ کار و سبیل موجود نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دلی پرخلوس عاجزانہ دعا و اپیل ہے کہ یااللہ تعالیٰ ہمیں علامہ صاحبؒ کی صحیح قدردانی کرنے اور ان کی راہنمائی سے فیضیاب ہونے کی توفیق مرحمت فرماکر استقامت سے دہشت گردی و انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی قوت قاہرہ عطا فرمائیں تاکہ انسانیت کواس بلائے عظیم سے چھٹکارا ہواور عالمی امن بحال ہو۔ آمین۔ ثم آمین۔ برحمتک استغیث !
ہزار خوف ہو لیکن زبان ہو دل کی رفیق یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
اب تیرا دور بھی آنے کو ہے اے فقر غیور کہ روحِفرنگی کو کھا گئی ہے ہوائے زرو سیم (ضرب کلیم)
اللہ تعالیٰ پاک آرمی کو اپنی سٹریٹیجک فورسز کو حضرت علامہ مکرم کی راہنمائی میں Reorganized کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے تاکہ
Universal نظامِ حق کابول بالاہواور دنیا کا امن دوبالا ہو۔ پاک آرمی ہی کیوں؟ عقل مندوں نے کہا، ’’جس کا کام اسی کو ساجھے‘‘۔See the man behind the gun تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ تلوار والا ڈھال والے کے مقابلے میں حاوی رہتا ہے اور تلواروالا حکومت کرتا ہے اسی لئے جناب سلطان العارفین حضرت محمد باھوؒ مفتاح العارفین میں فرماتے ہیں۔ کہ ’’ ہرسربادشاہی کے قابل نہیں ہوتا اور ہر دل معرفت الہی کے قابل نہیں ہوتا‘‘۔ لہذا گلوبلائزیشن کی بادشاہی کے لئے اب وہی سر قابل ہو گا جس کے پاس حضرت علامہ محمدیوسف جبریلؒؒ کی Nuclear NeutralyzingSword مانند عصاء موسوی ہو گی تاکہ ایٹمی دور کے سامری و فرعونوں کے جبر و استبداد Tyrany دہشتگردی سے انسانیت کو نجات ہوسکے اورانسان بھائی چارے کی لڑی میں پروتے ہوئے چین و سکھ کاسانس لے سکیں۔
بلارہی ہے تجھے ممکنات کی دنیا ۔سیاست ممکنات کی دنیا کہلاتی ہے جس کے لئے دوراندیشی اور مصلحت کیشی کی بصیرت کامیابی فراہم کرتی ہے۔ ممکنات کی دنیا میں روشنی دنیاکی سب سے تیز رفتار چیز ہے کہ ایک سیکنڈ میں ساری دنیا کا چھ بار چکر لگاتی ہے لیکن اس سے بھی تیزتر Technology رفرف ہے اور تیز ترین حضرت انسان کی سوچ (بصیرت)ہے۔ سوچ سے تیز ذات باری تعالیٰ ہے۔’’ اے مرد مسلمان کبھی تدبر بھی کیا تو نے‘‘ اسی فکر سے گلوبلائزیشن کا معرکہ سر کیا جا سکتا ہے کیونکہ علامہ مکرم فکری انقلاب کے داعی، رہبرو راہی ہیں جو ہردور میں انقلاب کی اساس رہا ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے علامہ صاحب کا پالیسی Matter ’’ بیکن، دجال، امام مہدی، علامہ اقبالؒ اورحضرت ابراہیم علیہ السلام‘‘) یاد ریکھئے ایٹمی دور کا نفس thermonuclear ہے۔ اس نفس کو قابو میں لانے کے لئے CPH کی سٹریٹیجی کارگر ہے۔ یہی اسلامائزیشن اور گلوبلائزیشن کی اساس ہے تاکہ Sex free کلچر کاخاتمہ ہو جو سالانہ سیکسوئل میڈیسن پر37 بلین ڈالرکماتا ہے ۔Purified culture قائم کرنے کے لئے cph کے سائنسی اور نظریاتی فارمولے کو لاگو کرنا ضروری ہے تاکہ فطرتی تہذیب و کلچر معرض وجود میں آ جائے اورغیر فطری تہذیب کا قلع قمع ہو جائے۔ یہی اللہ تعالیٰ کابندے سے مطالبہ ہے۔
ہے میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی اسی لئے مسلمان اسی لئے میںغازی
غازیوں کو، قلم کا جواب قلم سے اور تلوار کا جواب تلوار سے دینا گلوبلائزیشن کا اہم تقاضاہے۔ یہی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کرکے حالات کو سنوارنے کا ذریعہ ہے۔
مردقلند رحالات کے سامنے سر کو جھکاتا نہیں آسماں سے ٹوٹا ہوا تارا کبھی زمیں پہ آتا نہیں
جدید سائنسی ایٹمی دور میں نیوکلر فزکس کو فوقیت حاصل ہے۔ اس کی انتہا Thermonuclear مگر Reversal اس کازیرو ہے۔
معزز قارئین کرام ! اکیسویں صدی سائنس و ٹیکنالوجی کادور ہے۔ علم و آگہی کاوقت ہے۔ سائنسی ترقی منظم ہو کر اداروںاور کمپلکس کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT ) اور Mobilization کے ذرائع نقل وحمل و حرکت نے جغرافیائی حدود فاصلوں کو سمیٹتے ہوئے دنیاکو گلوبل ولیج بنادیاہے مگر اس گلوب کے ماحول کو دیکھا جائے تو ہر طرف انارکی و انتشار کی آگ بھڑک رہی ہے جو دن بدن پھیلتی جا رہی ہے اور دہشت گردی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تہذیبی تصادم اور Crusade مشن شروع ہو چکا ہے۔ اس تصادم پر روشنی
ڈالتے ہوئے پاکستان آرمی میوزم آڈیٹوریم میں فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے 25 نومبر 2006 ء کو پاکستان کی سفیر برائے برطانیہ محترمہ ڈاکٹرملیحہ لودھی نے فرمایا : کہ تہذیبی تصادم کی وجہ عالمی معاشی، سیاسی اور سماجی نظام کا غیر متوازن ہونا ہے۔ کیونکہ دنیا میںانصاف کافقدان ہے ‘‘۔ ان کے خیالات بالکل برحق ہیں لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اس کی بنیادی وجوہات و اسباب Major route causes کیا ہیں؟ اس دور کے انسان کی Confusion اور Misunderstandingکا ذکر کرتے ہوئے محسن انسانیت حضرت علامہ محمد یوسف جبریلؒؒ صاحب اپنی عظیم ترین ایٹمی تحقیق بنام Islamic bomb میں تحریر فرماتے ہیں کہ مسئلہ کے بگاڑ کی بنیادی وجہ Greed یعنی لالچ ہے۔ کس چیز کی حرص۔۔ اقتدار و مال کی لالچ جس کی خاطر عالمی سطح پر منظم طریقے سے سیاسی Propaganda ہورہا ہے لہذا جب تک لالچ کا علاج نہ ہوگا اس وقت تک مرض بڑھتاجائے گا۔ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘۔ لالچ کے مرض کاسائنسی حل علامہ محترم کی راہنمائی میں ہم ہومیوپیتھی طریقہ علاج کے تحت بروئے کار لاسکتے ہیں کیونکہ ہومیوپیتھی اس صلاحیت سے آراستہ ہے کہ اس کی دوائیں استعمال کرنے سے انسان کے عادات و خیالات بدلے جاسکتے ہیں۔ مثلاً اگر ایک آدمی کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے ہومیودوائیںاستعمال کرنے سے جھوٹ کی عادت ان سے ترک ہو جائے گی جیساکہ ہومیو ڈاکٹر علی محمد صاحب نے حالیہ کانفرنس منعقدہ 2006 ء میں ا س قسم کے خیالات کااظہار فرمایا۔ بحرحال نیشنل ہومیو پیتھی کونسل آف پاکستان کے ذریعے دوسری اقوام کو اس طرف متفکرو راغب کرکے تحقیق کا دروازہ کھولا جا سکتا ہے۔ محترم جناب فقیر الطاف حسین سروری قادری سلطانی، ہومیو ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب جناب عبدالقیوم عباسی صاحب جیسی قدر آورشخصیات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے) سیدناحضرت علامہ محمد یوسف جبریلؒؒ کی تحقیق بنام (یونانی طریقہ علاج سے ہومیوپیتھی تک) قربان جایئے سیدنا حضرت علامہ محمدیوسف جبریلؒؒ کی تحقیق پر ، آپؒ لکھتے ہیں کہ موجودہ سائنسی ترقی ،توانائی کے سارے وسائل ہڑپ کرچکی ہے لیکن اس کی اشتہاء یعنی بھوک ابھی تک بڑھتی جا رہی ہے اور ھل من مزید کے چکر میں ہے۔مزید فرماتے ہیں کہ جب توانائی کے سارے شعبے دم توڑ دیں گے تو فقطAtomic energy کوانسانیت بطور ذریعہ توانائی اختیار کر لے گی حتی کہ ہر موٹر سائیکل تک کا، اپناالگ Reactor ہو گا،اور اس کی چالیس سالہ لائف کے بعد ریڈیشن کی لیکیج سے پورے گلوب کا گھیرا تنگ ہو کرRadiated polluted ہو جائے گا۔ اس وقت انسانیت کوڑھ، کینسر ، متلی، قے اور دل کی مہلک بیماریوں میںگرفتار ہو کر عذاب مسلسل کا شکار ہو کر لا علاج ہو جائے گی کیونکہ سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کے پاس Radiations کا کنٹرول و توڑ موجود نہیں ہے۔ یہ باتیں علامہ محترم نے 1982 ء میں بیان فرمائیں مگر آج Physical world اورزمینی حقائق عملاً نقشہ پیش کررہے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ موجودہ سیاست عالمی میں امریکہ و بھارت کا سول ایٹمی سٹریٹیجک معاہدہ ، پاکستان و چائنا کا نومبر 2006 میں ایٹمی سٹریٹیجک معاہدہ، علامہ محترم کی تحریروں کی عملاً تصدیق کرتے نظر آتے ہیں۔
قارئین کرام! آخر کار سوچتے ہوں گے یا سوچ رہے ہوں گے کہ علامہ یوسف جبریلؒؒ ہی کیوں ؟ کیادنیا میں پائے جانے والے سیاستدانوں ، سائنسدانوں ، معیشت دانوں ، قانون دانوں اور Elites کے پاس ،Nuclear threat ،معاشی و سماجی عالمی دہشت
گردی کا حل نہیں ہے؟۔ جناب والا ! یقیناً نہیں ! کیونکہ ان کے پاس Nuclear weapons, atomic energy for peace, , Radiations کی Neutralization , Defusion اور Demolition فارمولہ اور طریقہ کار ہی نہیں ہے۔ اگر ہے تو فقط یہ اعزاز سیدنا و ا مامنا حضرت علامہ محمد یوسف جبریلؒؒ کو حاصل ہے۔ پورے گلوب پہ نظر دوڑالیں اگر بیک وقت ایسی عظیم و اعلیٰ صفات کا حامل شخص مل سکے تو پھر کہنا۔ مثلاً عظیم فلاسفر، محقق، مفسر، محدث، ایٹمی و غیر ایٹمی سائنسدان ،مورخ، اکانومسٹ، شاعرو ادیب، مفکر، امام زمانہ، قلندر، شہنشاہ فقر، قدیم وجدید علوم کا انسائیکلوپیڈیا، Secret services کے چیف حتیٰ کہ ہر Faculty کے منطقی انجام کے رازدان و ماہر، اپنی ذات میں ایک مکمل تحریک،جنگی امور کے ماہر،ادیان عالم ،قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ کے نقاد، جملہ انسانیت کے ہمدرد، عالمی امن کے خواہاں کہ نوبل انعام سے بھی بڑے انعام کے حقدار سب سے بڑھ کر پیارے سیدنا محمد کریم الصلوۃ و السلام کے وفادار۔ حیدرکرار علیہ السلام کی نسل پاک سے ہماری آنکھوں کے تارے قطب شاہی اعوان، حق کے پاسبان، انشاء اللہ تعالیٰ عنقریب جن کے جھنڈے تلے جمع ہوں گی ساری دنیا کی اقوام ، پائیں گے حق کا فیضان و پیغام، دشمنیاں و نفرتیں بدلیںگے بھائی چارے او ر محبت میں اسوقت گلوب ہو گا جنت نما۔ اسی میں گلوبلائزیشن و انسانیت کی معراج کا راز پوشیدہ ہے۔
گلوبلائزیشن کے عالمی تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی معاشی بحران کے جس کاشکاراقوام متحدہ بھی ہو چکی ہے اور جناب کوفی عنان صاحب جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ نے گلوبل پالیسی فورم پر2006 پینل میں خطاب کے دوران UNO finance crisis کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ اقوام متحدہ بھی معاشی بحران سے دوچار ہو چکی ہے۔ اسی دوران جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب جناب منیراکرم صاحب نے فرمایا کہ ایسی نئی اقوام متحدہ کی ضرورت ہے جو مظلوم اور پسماندہ اقوام کو انصاف فراہم کر سکے کیونکہ موجودہ یو این او اصلاحات کے باوجود یہ کام نہ کرسکی ۔ ان ریفرنسز کے علاوہ دوسرے ریفرنس کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے ہم دور جدید کے بہترین اکانومسٹ جناب علامہ یوسف جبریلؒ صاحب سے کافی و شافی استفادہ کرکے اپنے معاشی مسائل کا بھی فی الفور حل کر سکتے ہیں تاکہ امیر امیر ترین اور غریب غریب ترین کی پالیسی سے چھٹکارا حاصل کر سکیں اور گلوبلائزیشن میں معاشی بیلنس قائم کر سکیں۔ اس سلسلہ کی بنیاد کو درست سمت چلانے کے لئے آپ نے ہمیںمعاشی مسائل اور خرابیوں کا مکمل حل کے نام سے ایک پالیسی ساز کتابچہ فراہم فرمایا ہے جس میں Micro/Capital Finance Balancing کے اصول و ضوابط اور اس کے نفاذ کاطریقہ کار موجود ہے۔ علامہ صاحب کے کام کایہی توحسن ہے جو ان کو دوسرے راہنماؤںسے ممتاز کرتا ہے کہ ہر مسئلہ کا تقابلی جائزہ کرکے خوب Analyzation کے بعد اس کے حل کا مکمل طریقہ کاربھی نہایت مدلل وبلیغ انداز میں بیان فرماتے ہیں کہ عام فہم آدمی بھی مسئلہ کوسمجھ کر اسکے حل تک رسائی حاصل کرلیتا ہے اور یہی دراصل عظیم حکمت کا ر اور لیڈر کی اعلی صفت ہے کہ ہر طبقہ کافرد فائدہ حاصل کرلے تاکہ اس کے حقوق محفوظ رہیں۔( خیرالناس من ینفع الناس ) انسانوں میں بہترین وہی ہے جو انسانوں کو نفع پہنچائے۔ علامہ مکرم صاحب کے نفع پہنچانے کی صفت حمیدہ کو اس تحریر سے خوب جانچنے کی کوشش کیجئے گا جس میں عالمی معاشی بحران و بگاڑ کا عملی حل موجود ہے۔’’ سوئے منزل‘‘ اور جس کی انگریزی ٹرانسلیشن جناب محمد الیاس جرنلسٹ کر رہے ہیں۔ اس کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے۔اس کے علاوہ معاشی
نظام پر پانچ جلدیں تیار ہو رہی ہیں۔ ان کا انگلش ترجمہ بھی کیا جا رہا ہے۔ علامہ مکرم صاحب کے دوسرے آرٹیکل جو مختلف اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کو بھی ترتیب دیا جارہا ہے تاکہ وہ بھی کتابی شکل میں شائع ہو سکیں۔ علامہ مکرم کے معاشی لٹریچر و خدمات کو عالم انسانیت تک پہنچانا انسانوں کی اہم ذمہ داری ہے ۔اس عظیم مشن کا آغاز ECAS, WTO, IMF, World Bank سے کرکے پوری دنیا کے معاشی و صنعتی اداروں تک دائرہ کار بڑھایا جائے۔ اس مقصد کے حصول کو آسان بنانے کے لئے Digital Promises کاسہارا لینا از حدضروری ہے تاکہ نتائج برآمد ہو سکیں۔ علامہ مکرم سوئے منزل میں ایک نہایت ہی اہم نکتہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ہمدردانہ لہجہ میں یوں شفقت و کرم کے پھول نچھاور کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ زکوۃ اور اسلامی قانون وراثت ارتکاز زر اور مالی تفاوت کا حقیقی اور موثر سدباب نہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اسلام امیروں ہی کے ہاتھوں میں دولت کی گردش کو بھی ناپسند کرتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو ظاہراً متضاد نظریوں کو باہمی تطبیق دے کر کیسے قابل عمل بنایا جائے کہ انفرادی ملکیت اور آزاد کار پالیسی Free trade بھی قائم رہے اور دولت امیروں کے ہاتھوں میں بھی گردش نہ کرتی رہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جسے سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہی اسلامی معاشی نظام کی کلید ہے اور اسی کیفیت کا عملی نتیجہ اسلامی نظام معاش اور سرمایہ دارانہ نظام میں تفریق کرتا ہے اور یہی وہ طریقہ ہے جس پر امت مسلمہ کے دانشوروں کو اپنی توجہ مرکوز کر دینی چاہیے اور اللہ تعالی سے اس عقدہ کے حل کی توفیق مانگنی چاہیے۔ ہماری مشکلات کا حل نفاذ اسلامی معیشت اور ہماری جملہ خرابیوں کی جڑ غیر اسلامی سودی و معاشی نظام سے ( اس جڑ کو کاٹنے کے لئے Hacking اور اس سے ملتے جلتے عوامل کی حوصلہ افزائی کرکے مال غنیت اور مال فئے کی مد میں لا کر اس بدترین نظام کی جڑوں کو کاٹ کر انسانیت کو اس سامراجی استحصالی بت سے نجات دلائی جا سکتی ہے چونکہ گلو ب ا س وقت ا یمرجنسی کی حالت میں مبتلا ہو کر دہشت گردی کی جنگ میں الجھاہوا ہے لہذا سودی انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف منظم اوپریشن کی اشد ضرورت کے چانسز پیداہو چکے ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت اگر مسلمان غیر مسلم اور منافق جنگجو عورتوں کو قید کرکے لونڈیاں بنالیں تو عالمی سطح پر گینگ ریپ اور جنسی بے راہ روی کا طوفان بھی روکا جاسکتا ہے۔ چونکہ مسلمان حالت جنگ میں ہیں۔ لونڈیوں کے نظام کو فورا لانچ کرکے ہی اپنی ماؤں بہنوں کی عزت و ناموس بچا سکتے ہیں اور وقار سے جی سکتے ہیں۔

۔


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 53
    میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی میں اس لئے مجاہد ، میں اسی لئے نمازی تہذیبی اعتبار سے دنیا آج نہایت جدید دور سے گزر رہی ہے۔ سائنس کی تعلیم وترقی اور اس کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ایجادات نے انسان کو انتہائی حد تک مادہ…
  • 52
    (۱) علامہ محمد یوسف جبریلؒ ملک کی مشہور و معروف علمی وروحانی شخصیت ہیں اور واہ کینٹ میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔اُنکا ورثہ اُمتِ مسلمہ کیلئے ایک مشعلِ راہ کی حیشیت رکھتا ہے۔اُنکے اُفکاروپیغام کو اُجاگر کرنے اور آسان وفہم انداز میں عوام الناس تک پہنچانے کیلئے یوسف…
  • 51
    برادر عزیز ڈاکٹر تصدق حسین راجہ کا میں تہہ دل سے ممنون ہوں۔ کہ ان کی وساطت سے ایک مرد خود آگاہ اور درویش خدامست سے اکتساب فیض کی سعادت نصیب ہوئی۔ میرا اشارہ جناب عنایت اللہ صاحب کی جانب ہے، جنہوں نے ایک طویل عرصہ تک عہد حاضر کے…

Share Your Thoughts

Make A comment

2 thoughts on “Challenges of Globalization By Ikram Ullah Khan

Leave a Reply