چراغِ مصطفوی سےشرارِ بولہبی کی باہمی آویزش

006

arifseemabi

 

خالق کائنات نے بنی نوع انسان کےبطون میں خیر و شر کی قوتوں کو باہم متصادم کر دیا تاکہ حسن، خیر اور نیکی کا مشن عام ہو ۔ باطل کےطاغوتی نظام کو نیست و نابود کرنےمیں پیہم مصروف رہنا جہاد اکبر ہی۔ لہذا سی لئےہر دور میں حق و باطل نبردآزما رہی۔ پیغمبران کرام، اولیائےعظام اور صلحائےامت تزکیہ نفس کےذریعےانسان کو خدا سےملانےکےلئےسرگرم عمل رہی۔ صوفیائےکرام کےگروہ نےوحدت الوجودیت اور وحدت الشہودیت کےہر دو نظریات کا پرچار کیا تاکہ جزو ،کل میں سماجائےاور قطرہ دریا میں مل کر دریا ہو جائی۔ حضرت امام غزالی نے”کیمیائےسعادت“ میں امتِ مسلمہ کےلئےایک مربوط نظام فکر وضع کیا تاکہ وہ اپنےتحت الشعور میں چھپی ہوئی نفسانی خواہشات کو شکست فاش دےسکیں۔ حضرت عبدالقادر جیلانی نے”فتوح الغیب“ میں علم تصوف کےموضوع پر آسان اور سلیس پیرائیہ اظہار اپنایا۔حضرت علی ہجویری نی” کشف المجوب “میں معرفت و سلوک کی منازل طےکرنےکےلئےحکمت عملی پیش کی ۔حضرت محی الدین ابن العربی نے” فصوص الحکم“ میں الوحدت فی الکثرت کا پرچار کیا ۔

بنی نوع انسان نےجدید عہد کی مادی ترقی کےسبب دنیاوی لالچ ، حرص و ہوس اور خود غرضی میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ اور اس کےرسول کےبتائےہوئےاصولوں کو فراموش کر دیاجس کی وجہ سےآج کا انسان صبر، شکر، توکل اور قناعت کےاوصاف ترک کرکےجسدِ بےروح نظر آنےلگا۔ خاصانِ خدا نےروحانی مشن کےذریعےانسانیت کوراہ راست پر لانےکی کوشش کی جس میں وہ کامیاب ٹھہری۔

حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کا تعلق بھی خدا کےان مقربین میں ہوتا ہے جو دن رات جمال الہیٰ کےدیدار میں گم رہی۔ وہ ابراہیمی مشن لےکر دنیا میں آئےاور لات و منات کو ریز ہ ریزہ کر گئے۔ علامہ محمد یوسف جبریل کا میدان عمل تہذیبی انحطاط ، ثقافتی اقدار کی شکست و ریخت، مذہبی فرقہ واریت ، سائنسی تباہ کاریاں، معاشی بحران، جمہوری روایات کی پامالی، فتنہ دجالیت ہی۔ تاکہ آج کی سائنسی ترقی کےدور میں انسان کو ایک مربوط روحانی نظام سےوابستہ کیا جاسکی۔ علامہ محمد یوسف جبریل ایک ایسےسوشل ریفارمر تھےجو بہ یک وقت مصلح قوم، ایٹمی سائنس دان، ماہر معاشیات، دانش ور،نفسیات دان اور روحانی معالج کےطور پر ابھری۔ تاکہ مسلمانوں کی اخلاقی حالت کو بہتر بنانےکےساتھ ساتھ انہیں جدید ہتھیاروں کی تباہ کن صورت حال سےخبردار کیا جا سکے۔آپ نےجاگیردارانہ نظام پر کڑی تنقید کی کیونکہ وہ اس امر کےسخت خلاف تھےکہ طبقہءامراءکےکتےبھی مکھن کھائیں ۔ ریشمی رضائیوں میں آرام کریں مگر غریب کےرہنےکےلئےنہ تو گھر ہو اور نہ اس کےتن پر پہننےکا لباس میسر آئی۔آپ نےمعاشی مساوات کا نعرہ بلند کیا کیونکہ ان کےنزدیک” تمہاری ضروریات سےزائد جو کچھ تمہارےپاس موجود ہےاس پر دوسروں کا حق ہی“۔ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل نےاسلام کےمعاشی نظام کو قران و حدیث ، اسلامی تاریخ اور عصر حاضر کی ضروریات کےعین مطابق پیش کیا ہے۔ سوشلزم، کیمونزم، مارکسزم اور امپیریلزم کےنظریات پر کاری ضرب انہی کےقلم کی مرہون منت ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےعمرانی علوم اور ما بعد الطبیعاتی مسائل پر قلم اٹھاتےہوئےمختلف النوع انسانی معاشروں کےآغاز ، ارتقاء، ضروریات اور تقاضوں کو پیش نظر رکھا۔ وہ آج کےعائلی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کےبھی خلاف تھی۔

علامہ محمد یوسف جبریل نےاسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی اساس کو مضبوط کرنےکےلئی” نظریہ پاکستان“ کو اپنےفکر و فن کا مرکز و محور بنایا۔ انہوں نےوطن عزیز کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنےکےلئےنئی نسل کو ملی وحدت کا درس دیا ۔ اردو کےمعروف نقاد ڈاکٹر رشید امجد اور فاروق علی نےایف جی سرسید کالج راولپنڈی کےادبی شمارےپاکستانی ادب میں ادیبوں اور شاعروں کی سوچ کےآئینےمیں پاکستانیت کو تلاش کرنےکی سعی و کاوش کی ۔ آج کےپاکستانی ادب میں ٦ ستمبر ٥٦٩١ ءاور ٦١ دسمبر ١٧٩١ ءکےعلاوہ وطن عزیز میں طویل مارشل لا ، جمہوری اقدار کی پامالی اور سرحدوں پر چھائےہوئےجنگ کےخطرات کی طرف واضح اشارےملتےہیں۔ قدرت اللہ شہاب کا ”شہاب نامہ“ ، مولنا کوثر نیازی کی ” اور لائن کٹ گئی‘’ کرنل صدیق سالک کی ” میں نےڈھاکہ ڈوبتےدیکھا“ ڈاکٹر صفدر محمود کی ” مسلم لیگ کا دور حکومت“ محمد ایوب خان کی ” فرئینڈز ناٹ ماسٹر“ ذوالفقار علی بھٹو کی ” گریٹ ٹریجیڈی“ جیسی کتابیں پاکستان کےسیاسی و آئینی ارتقاءخارجہ پالیسی، دفاع، اور اندرونی و بیرونی استحکام کےپس منظر میں شہرت دوام رکھتی ہیں۔ جدید پاکستانی دانش وروں میں پاکستانی ادب کی طرف واضح رحجان نظر آتا ہی۔ لہذا علامہ محمد یوسف جبریل نےبھی مضامین جبریل کی نو جلدوں میں انہی موضوعات کو اپنےمخصوص زاویہ ءفکر سےاہل علم کےسامنےاجاگر کیا ۔

عقیل عباس جعفری نے” پاکستان کےسیاسی وڈیری“ میں موجودہ ارباب سیاست کی حکمت عملی کو فاش کرنےکی سعی کی ۔چوہدی محمد علی کی ” ظہور پاکستان“ شیخ محمد رفیق کی ” تاریخ پاکستان“کےتفصیلی مطالعےسےہمیں پاکستانی سیاست کےخدوخال نظر آتےہیں۔ جس میں اقربا پروری ، رشوت، کرپشن، سفارش کےپنجےہر طرف گڑےہوئےہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےاپنےمضامین کےذریعےپاکستانی اہل قلم کو وطن عزیز میں عدل و انصاف ، مساوات، قانون کےاحترام اور معاشی مساوات کےلئےکام کرنےکا مشورہ دیا ۔

عالمی افق پر نظر ڈالیں تو مشرق و مغرب کی باہمی آویزش نکتہ عروج پر نظر آتی ہی۔ بڑی طاقتیں چھوٹےممالک کو زیر دام کرنےکےدرپےہیں۔ نیوورلڈ آرڈر کےتحت مسلمان ممالک کی سیاسی ، ثقافتی اور مذہبی حیثیت کو ختم کرنےکےلئےایک لائحہ عمل تیار کیا جا چکا ہی۔ ملت اسلامیہ کےخلاف اسلام دشمن تحریکیں انتہائی منظم انداز میں سرگرم عمل ہیں۔ جن میں سےصہیونیت کی ایک عالمی تنظیم ،فری میسن اسلامی ممالک کےمادی وسائل پر قبضہ کرنےکےلئےتدابیر اختیار کر رہی ہی۔ جس کےکل چھتیس کوڈ ورڈز ہیں اور اس کا طریق کار یہ ہےکہ مسلمان ممالک کےبڑےبڑےسیاسی ، مذہبی راہنماوں کو تفرقہ بازی کےمشن پر مامور کرکےآپس میں انتشار پیدا کیا جائےتاکہ ا ن کےانقلاب کی راہ ہموار ہو سکے۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےامت مسلمہ کو اسلام کےخلاف برپا ہونےوالی بین الاقوامی سازشوں سےخبردار کرنےکےلئےشاعری اور نثر ہر دو میں ایک منشور وضع کیا کہ وہ آپس کےنسلی، علاقائی اور لسانی اختلافات کو بھلا کر متحد ہو جائیں ۔آپ نےمغربی استعمار کےخلاف ببانگ دہل آواز بلند کی اور اسلامی بلاک قائم کرنےکی ضرورت پر زور دیا ۔ جدید ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں کی دوڑ نےتیسری عالمی جنگ کےخطرات کو زیادہ کر دیا ہی۔ ایٹم بم اور مہلک میزائل بنی نوع انسان کےلئےزہر قاتل کی حیثیت رکھتےہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کےاثرات آج بھی روئےزمین پر باقی ہیں۔ لہذا وہ تخفیف اسلحہ پر زور دیتےہیں تاکہ عالم انسانیت ایٹمی تباہی کےگہرےگڑھےسےہمیشہ کےلئےمحفوظ ہو جائے۔ وہ خطہ کشمیر کی آزادی کےعلمبردار ۔ قبلہ اول کی بحالی کےدعوےدار اور بوسنیا، چیچینیا، شمالی افریقہ، عراق، افغانستان میں انسانی جانوں کےبےدریغ ضیاع پر عمر بھر سراپا احتجاج بنےرہی۔ عراق اور افغانستان پر فوجی جارحیت کےدوران وہ ایک ہفتہ بارگاہ خداوندی میں سجدہ ریز رہے۔ کھانا پینا سب چھوٹ گیا ۔اسلامی جمہوریہ پاکستان پر کڑا وقت آیا اور جنگ کےسائرن بجنےلگی۔ تو وہ مسلسل کئی ماہ تک چلہ کشی اور دعاوں میں مصروف رہے۔

تقابل ادیان بھی ان کا ایک اہم موضوع رہا اور ان کی اہم علمی تصنیف ” Ralation between Bible and Quran ‘ نےمسلمانوں اور اہل مغرب کےدرمیان فاصلوں کو ختم کرنےکی کوشش کی تاکہ عالمی امن کےقیام میں مدد ممکن ہو سکی۔ الیکٹرانک میڈیا اور سٹیلائٹ کےعہد میں ”جبریلز اسلامک بم“ ،”بیکن دجال اور حضرت ابراہیم علیہ السلام“” تخلیق کائنات“، ”جدید و قدیم اٹامزم“ ، ”جہاد کےاخلاقی اصول“،” فرانسس بیکن کی سوانح حیات“، جیسی کتب کی اہمیت بڑھ گئی ہی۔ لہذا آج کےحساس دانش ور اور اہل علم طبقےکو چاہیئےکہ وہ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کی علمی کتب کا مطالعہ کریں تاکہ وہ اسلام کےخلاف نئی صلیبی جنگوں میں اپنا اہم کردا ر ادا کر سکیں ۔

مغربی فلسفی فرانسس بیکن کےمادی نظریات کےتوڑ کےلئےابراہیمی مشن کو عام کرنا ضروری تھا ۔ تاکہ سائنسی ترقی کےساتھ ساتھ تزکیہ باطن کا فریضہ بھی انجام دیا جا سکی۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےبنی نوع انسان کو الحاد و بےدینی ، فحاشی و عریانی، اخلاقی گراوٹ، دھوکہ دہی سےمحفوظ کرنےکےلئےفکر آخرت کی ضرورت پر زور دیا ۔ وہ عالمی افق پر چھائےہوئےمغربی استعمار اور طاغوتی نظام کو نیست و نابود کرنےکےلئےنظام خلافت راشدہ کےلئےجدوجہد کرتےرہی۔ تاکہ مسلمان اپنی قوت بازو پر بھروسہ کریں اور اپنےوسائل کو استعمال میں لاتےہوئےاقوام عالم کی صفوں میں اپنا باوقار مقام قائم کرنےکےلئےسعی پیہم میں مصروف عمل ہو جائیں۔علامہ محمد یوسف جبریل نےقران حکیم کی سورة الھمزہ میں حطمہ کی تشریح و توضیح کےذریعےآج کےزوال آمادہ معاشرےکو آگ کےلمبےلمبےستونوں سےمحفوظ کرنےکی جدوجہد کی۔تاکہ وہ سینوں میں بھڑکتی ہوئی حسد، بغض، کینہ ، نفرت، عداوت ، تعصب اور تنگ نظری کی آگ سےبچ جائیں اور عالم انسانیت ایک ایسا معاشرہ تشکیل دےسکےجس میں بنیادی انسانی حقوق کاتحفظ ہواور امن و آشتی کےتقاضوں کو بدرجہ اتم پورا کیا جا سکی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 محمد عارف
ادار ہ ا فکارجبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب باد واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply