Chati Sadi Hijri kay Mujadid

Click on The LInk Below

ghaus pak

چھٹی صدی ہجری کی علمی و روحانی تحریک
تحریر رضوان یوسف علوی
قرآن و سنت کی روشنی میں علوم کی دو اقسام سامنےآتی ہیں علم الادیان اور علم الابدان۔ دین کا علم روح سےوابستہ ہےاور بدن کا علم جسم سی۔ دوسرےلفظوں میں ایک باطن کا علم ہےاور دوسرا ظاہر کا ۔ ان کو روحانی ومادی یا ماوارالطبیعاتی و طبیعاتی علم بھی کہتےہیں۔ ظاہری علوم میں اردگرد کےماحول کا علم بھی شامل ہو جاتاہی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دین ہونےکی وجہ سےانسانوں کی تمام بنیادی ضروریات کو پورا کرتا ہی۔ مگر ساتھ ہی مادی علوم کو دینی و روحانی علوم کےتابع رکھنےکا حکم دیتا ہےاور ایک توازن اور اعتدال کا طریقہ سمجھاتا ہی۔ معاشرےکےمختلف شعبوں کی بنیاد بھی مختلف علوم پر ہوتی ہےاور اگر اُن علوم کی بنیاد خالصتاً مادیت کی سوچ پر ہو تو توازن و اعتدال ختم ہو جاتا ہےاور یہی معاشرےکی تباہی کا سبب بنتا ہی۔ ہمارےمعاشرےمیں سکھائےجانےوالےبیشترعلوم کا رو حانیات و اخلاقیات سےدور دور کا تعلق نہیں ہےاور بنیادی سوچ میں خرابی کی وجہ سےمعاشرےکےتمام شعبوں میں خرابی پیدا ہو گئی ہی۔ اور اس خرابی سےسیاست، مذہب، معاشرت، معیشت، عدالت، حکومت ، عسکریت غرض کوئی شعبہ محفوظ نہیں ہی۔ اور ان تمام خرابیوں کی بنیادی وجہ وہ فلسفہ ہےجس پر اس نظام کی بنیاد ہی۔ اگر ہم آج کےحالات کا بغور جائزہ لیں تو اِ س کےپیچھےبھی وہی مادی فلسفہ ہےجو چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی میں یونانی علوم کےبغداد میں داخل ہونےکےبعد اُس معاشرےکےتمام شعبوں کی بنیادیںہلانےلگ گیا تھا۔ عباسی حکمرانوں نےیونانی لٹریچر کا وسیع پیمانےپر عربی میں ترجمہ کروایا لیکن صرف ظاہری علوم اور لسانیات کےماہرین کو ہی اس کام پر مامور کیا اور باطنی و دینی علوم کےماہرین کو اس کام سےیکسر علیحدہ رکھا۔ یونانی علوم کی بنیاد مادیت پرستی کےفلسفہ پر تھا۔ اور اس کا شجرہ نسب اُس فلسفےسےملتا ہےجو آدم کو جنت سےنکلوانےکا باعث بنا۔ ابلیس نےآدم علیہ السلام کو لالچ دیا کہ اگر وہ گندم کا دانہ کھا لےتولازوال طاقتیں حاصل کرلےگا۔ جدید دور میں اس فلسفےکو کائنات کی تسخیر کا نام دیا جاتا ہی۔
یونانی علوم آہستہ آہستہ اسلامی سوسائٹی میں علم و فضیلت اور عزت و مرتبےکا معیار بن گئی۔ اور مسلمان اپنی دینی اقدار کو بھول کر نئےخیالات میں کھو گئی۔ جگہ جگہ بحث و مناظرہ کی بےسود محفلوں کےذریعےفروعی اختلافات، خدا کےوجود، قیامت کےآنےیا نہ آنی،خدا کی ماہیت وغیرہ کےمتعلق سوالات اُٹھائےجا رہےتھی۔ علمائےکرام اور عوام الناس عجیب و غریب سوالات سُن کر ذہنی انتشار کا شکار ہو رہےتھی۔ما لی بددیانتی ،رشوت، لالچ و ہوس وغیرہ نےزندگی کےتمام شعبوں کو تباہ وبرباد کر دیا تھا۔ اس صورتحال میں اہلِ ایمان اللہ تعالیٰ کی طرف سےکسی شخصیت کا انتظار کرنےلگےجو اُمت محمدی کےخزاں و سیدہ گلشن میں ہوا کا تازہ جھونکا بن کر آئی۔ ہمیشہ تبدیلی وہی لوگ لاسکتےہیں جو منجانب اللہ منتخب ہوکر آئیں۔ انبیاءکرام، مجددین اور اولیائےکرام وغیرہ کو کوئی قوم منتخب (Elect) نہیں کرتی بلکہ اللہ تعالیٰ اُنکو منتخب (Select) کرتا ہی۔
یونانی فلسفےکا مرکز بھی بغداد تھا اور مشیت الٰہی نےبھی حضرت محی الدین الشیخ عبدالقادر جیلانی محبوب ِ سبحانی کو بغداد میں ہی بھیجا۔ آپ نےبغداد میں پانچ سو گیارہ ہجری میں باقاعدہ تدریسی کام کا آغاز فرمایا اور کچھ ہی عرصےمیں آپ کےدارلعلم میں ساڑھےسات سو کےقریب طلبہ نےداخلہ لےلیا۔ وہ علومِ ظاہر یہ و باطنیہ کےانوار سےاپنےنگاہ و قلوب کو منور اور ایمان و یقین کےعقائد و نظریات سےاپنی عقل و خرد کو پاکی بخشنےلگی۔ آپ نےعارفانہ وعظ و نصیحت سےعوام کےذہنوں میں مثبت تبدیلی پیدا کرتےہوئےاُنہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ جدید علوم کو پڑھ کر آپ بادشاہوں کےدربار میں ملازمت اختیار کر سکتےہیں یا کسی نواب کےمنشی تو بھرتی ہو سکتےہیں لیکن اِن علوم میں پائی جانےوالی مادیت پرستی کی سوچ کو اگر اپنی شخصیت پر نافذ کردیا تو آپ ایمان کی دولت سےہاتھ دھو بیٹھیں گی۔ دنیا تو آسائش سےبھر پور ہوگی مگر آخرت برباد ہو جائےگی۔ غرض یہ کہ مادیت میں انتہا پسندی کو ختم کرنی
اور مادیت و روحانیت کےبگڑےہوئےتوازن کو بحال کرنےکیلئےروحانی علوم اور فقرمحمدی کی تعلیم فرمائی۔ صلاح الدین سعیدی آپ کی دی ہوئی ایک مثال کا ذکر یوں کرتےہیں کہ ©©©” ایک آدمی اگر بھوکا ہےتو کسی طرح اس کا گزر ہوجائےگا لیکن ایک آدمی کےآگےرنگ برنگےکھانےچُنےہوئےہیںمگر اُس میں زہر کی آمیزش ہے۔اُس کو موت سےکون بچاسکتا ہی، بتائیےکہ وہ بھوکا رہنےوالا شخص عقلمند ہےیا یہ زہریلا کھاناکھانےوالا ۔ لہٰذا اس چند روزہ دنیا میں فقرو قناعت کےساتھ زندگی گزارلو لیکن دنیا کی رنگینی پر فریضتہ ہوکر دین کو ہاتھ سےنہ جانےدو۔
اسلام کےعالمگیر دین ہونےکی یہ ایک واضح دلیل ہےکہ یہ عبادات پر مشتمل مذہبی نظام کےساتھ ساتھ ایک سیاسی و معاشی نظام بھی فراہم کرتا ہی۔ ان دونوں کا انسانی زندگی کےساتھ گہرا تعلق ہےاور اگر ان کو دین سےجدا کر دیا جائےتو حاصل چنگیزیت ہی۔حضرت نےبھی سیاست و معیشت کی تطہیر میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ نےحکمرانوں کی مطلق العنا نیت پر ضرب لگاتےہوئےبےخوف تنقید کا نشانہ بنایا جس سےدبےہوئےعوام کو زبردست حوصلہ ملا اور حکمرانوں کا بےجا رعب و دبدبہ خاک میں مل گیا۔ ایک عباسی خلیفہ مستنجدہ باللہ کا ایک واقعہ قارئین کےلئےدلچسپی کا باعث ہوگا جو ایک بار اشرفیوں کی تھیلی آپ کی نذر کرنےمدرسےآیا۔ آپ نےوہ تھیلی اپنی مٹھی میں لیکر بھرےمجمےمیں نچوڑی تو اُس میں سےخون رسنےلگا۔ یہ منظر دیکھ کر خلیفہ کا سارا شاہی جلال خاک میںمل گیا اور عوام آپ کی روحانی طاقت کےکمال پر بہت لطف اندوز ہوئی۔ آپ نےوہ تھیلی حاکمِ وقت کی طرف پھینکتےہوئےاُسےللکارا کہ ”عوام کا خون نچوڑتےہو اور ہمیں نذرانےدیتےہو“۔
جہاد فی سبیل اللہ کےبغیر دین کی عمارت مضبوط نہیں رہتی لہذا اس کی تبلیغ کےبغیر دین کی تبلیغ نامکمل ہوتی ہی۔ اس کا تعلق نظریاتی انقلاب سےہوتا ہی۔ مردا ردُنیا کی جنت، آرام اور اسائش کا طالب لعین کتا ہمیشہ اس سےبچنےکی دلیل و تاویل کی تلاش میں رہتا ہی۔ جب مسلمان دنیا کےطالب
ہوئےتو غیر مسلم قوتوں نےاتحاد باہمی سےصیلیبی جنگیں مسلط کر دیں تو اُس وقت مسلمانوں کو ایک عظیم مردِ مجاہد کی ضرورت تھی جو درویشی کی صفت سےبھی آراستہ ہو۔
حضرت کےفیضان یافتہ عظیم عقیدت مند اور شاگرد حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی نےمصر، شام اور بیت المقدس میں شاندار فتوحات کےبعد اسلامی سلطنت قائم کی اور اسلام کو نیست و نابود کرنےکی خاطر شروع کی جانےوالی صلیبی جنگوں کا منصوبہ خاک میں ملا دیا ۔حضرت عمر بن عبد العزیز ہوں، محمد بن قاسم ہوں ، غزنوی ہو یا قائداعظم ہر مردِ مومن کےپیچھےایک مردِ کامل کا ہاتھ ہوتا ہی۔ پانچ سو ستاون ہجری میں آپ نےتربیت یافتہ خلفاءاور تلامذہ کو دین کی اشاعت کی غرض سےمختلف براعظموں ،ملکوں اور شہروں میں تعینات کیا۔ آپ کےشاگردان اور خلفاءعظیم خلق کےمالک، سادہ زندگی گزارنےوالی، فاقوں کی حالت میں بھی دوسروں کیلئےآسانیاں تلاش کرنےوالےتھی۔ اُنکی حکمت افروز گفتگو اہلِ علم کو بھی جُھکنےپر مجبور کر دیتی ۔یہ روحانی سفیر جہاں بھی گئی، اُنکےکردار کی وجہ سےپردیسی بھی اپنےبن گئی۔
آپ نےاشاعت اسلام اور ایثالِ ثواب بہ محمد علیہ الصلوة والسلام کی غرض سےہر اسلامی ماہ کی گیارہ تاریخ کو ایک محفل کی روایت ڈالی جس کا مقصد مسلمانوں کی روحانی، فکری، اخلاقی تربیت کرکےایسےعظیم لوگوں کی کھیپ تیار کرنا تھی جو مسلمانوں کو نہ صرف ٹھوس قیادت فراہم کرےبلکہ نت نئےفتنوں کا بھی سدِباب کرسکی۔ مگر آج شاہینوں کا نشیمن گدھوں کےہاتھ آنےسےاس کا مقصد فیض کےنام پر پیٹ پوجا کی حد تک رہ گیا۔ حالانکہ بزرگانِ دین کےپیش ِ نظرمقصد کبھی بھی لوگوں کا کھانا کھلا کر سستی شہرت حاصل کرنا قطعاً نہیں رہا بلکہ کوئی خاص تبلیغی و اصلاحی مقصد ہی پیش ِ نظر ہوتا ہی۔ اِن محفلوں میں بھی زیادہ تر وہ ہی باتیں ہوتی ہیں جو زرق برق ملبوسات اور بھاری بھر کھانےپسند کرنےوالےبھولےبھالے،سادہ لوح عوام اور اپنی تعریفیں سُن کر باغ باغ ہونےوالےظاہریت کا لبادہ اُوڑھےہوئےمولویان ِ کرام کےنفسوں پر زیادہ بوجھ نہ ڈالیں اور بنیادی توجہ آخری دعا اور لنگر شریف ہی پر مرکوز رہ سکی۔
میں سمجھتا ہوں کہ حضرت ایک کامل و مکمل تحریک ِ اسلام ہیں اور ہمیں صرف چوری کھانےوالےمجنوں نہیں بننا چاہیےبلکہ مادیت کی بنیاد پر اُٹھنےوالےجدید الحادی فلسفےاور اِسکی بنیاد پر پیدا ہونےوالی معاشرتی خرابیوں کےتدارک کیلئےآپ کےعلمی وروحانی ورثےسےرہنمائی لینی چاہیی۔ ہمیں اپنےطرزِ عمل کی اصلاح کی شدید ضرورت ہی۔


Print Friendly

Related Posts

  • 57
    انسان بنیادی طور پرمادہ اور روح کامجموعہ ہی۔اسی طرح علوم بھی بنیادی طور پر دوطرح کےہیں۔طبیعاتی اور ماورالطبیعا تی،مادی اورروحانی دنیاوی اور مذہبی،فزیکل اورمیٹافزکل۔اسلام ایک مکمل دین اور انسان کی بنیادی ضرورت کوپورا کرنےکیلئےدونوںکی اجازت دیتاہےلیکن ساتھ ہی مادہ کو روح یادنیاکودین کےتابع رکھنےکا حکم دیتا ہی۔اورایک توازن کی کیفیت…
  • 49
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 33
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply