Chatti Sadi Hijri kay mujadid

Chatti Sadi Hijri kay mujadid

rizwanyousaf


انسان بنیادی طور پرمادہ اور روح کامجموعہ ہی۔اسی طرح علوم بھی بنیادی طور پر دوطرح کےہیں۔طبیعاتی اور ماورالطبیعا تی،مادی اورروحانی دنیاوی اور مذہبی،فزیکل اورمیٹافزکل۔اسلام ایک مکمل دین اور انسان کی بنیادی ضرورت کوپورا کرنےکیلئےدونوںکی اجازت دیتاہےلیکن ساتھ ہی مادہ کو روح یادنیاکودین کےتابع رکھنےکا حکم دیتا ہی۔اورایک توازن کی کیفیت قائم کرتےہوئےاعتدال پیدا کرتاہی۔خرابی اس وقت پیداہوتی ہی۔جب کسی شعبےمیںسےدنیا اور آخرت کےحوالےسےسوچ کےتوازن کو ختم کردیا جائی۔یہ صورتحال فتنہ پر منتنج ہوتی ہی۔چوتھی اورپانچویں صدی ہجری میںبغداد کےبعض عباسی حکمرانوں نےیونانی لٹریچرکاوسیع پیمانےپر عربی میں ترجمہ کروایا لیکن ظاہری وباطنی علوم کےماہرین کی بجائےصرف ظاہری علوم کےحامل اور ماہرلسانیات کوہی اس کام پرما مور کیاگیا۔اسلامی فلسفہ ونظریات سےمتصادم یہ یونانی علوم اپنی ظاہری چمک دمک کی وجہ سےامت کےوسیع طبقےکو گمراہ کرنےلگےنظر یات کسی شحض یاقوم دونوں کیلئےبہت ا ہمیت کےحامل ہوتےہیں۔کیونکہ ہرانسانی عمل کےپیچھےکوئی ناکوئی نظریہ، سوچ یا فلسفہ ہی ہوتاہی۔اوراگرفلسفہ ہی گمراہ کن ہوتو عمل کےبارےمیں کیا کہاجاسکتاہےاوریونانی فلسفہ کی نبیاد مادیت پرستی پرتھی اوراسکاشجرہ نسب اس فلسفہ سےملتا ہےجس نےآدم کوجنت سےنکال باہرکروایا۔آہستہ آہستہ اسلامی سوسا ئٹی علم وفضیلت اور عزت ومر تبہ کا معیاربنتاجا رہاتھااورمسلمان اپنی دینی ضروریات اور اقدار کوبھول کر جدید یونانی فلسفےکےپیروکاربنتےجارہےتھی۔جگہ جگہ بحث ومناظرہ کی بےسودمحفلوں کےذریعےفردعی اختلا فات ،خدا کےوجود کا ہو نا،یانہ ہونا ،قیامت کاآنایانہ آنا،خداکی ماہیت وغیرہ کےمتعلق سوالات اُ ٹھائےجارہےتھی۔عوام الناس بالنحصوص سادہ لوح مسلمان اورعلمائےکرام یونانی فلسفےکےپیروکاروں کےسوالات سن کرذہنی انتشارکاشکاراور حقیقت سےدورہورہےتھی۔اسی صورتحال میں اہل ایمان اللہ کی طرف سےکسی عظیم شخصیت کا انتظار کرنےلگےجوامت محمد کےخزاںر سیدہ گلشن میںہوا کاتازہ جھونکابن کرآئی۔ہمیشہ تبد یلی وہی لوگ لاسکتےہیں جومنجانب اللہ منتنحب ہوکرآئیں۔
slection not election)) ۔ انبیاءکرام ،مجدد، اولیاءکرام وغیرہ کوکوئی قوم رائےدہی (vote )کےذریعےمتنحب((electنہیںکرتی بلکہ اللہ اُنکومنتخب(slect ) کرکےبھیجتاہی۔ لہذا موجودہ سخت دورمیںبھی اللہ کی کوئی ایسی شخضیت ضرورہوگی ”مگرمسلمانوں کو اُسےتلاش کرنےکی فرصت نہیں©©©©©“ ۔یونانی فلسفےکاطوفان بھی بغداد میںآیاہوا تھااور اللہ کی مشیت نےبھی تجدید دین کیلئےحضرت محی ا لدین الشیح عبدالقادر جیلانی (المعروف غوث الاعظم)کوبغداد ہی میںبھیجا ۔آپنےبغداد میں پانچ سوگیارہ ہجری میں با قاعدہ تدریسی کام کاآغازفرمایا اور کچھ ہی عرصہ میں آپ کےدار لعلم میں ساڑھےسات سو کےقریب طلباءنےداخلہ لےلیا۔وہ علوم اسلامی کےانوار سےاپنےقلو ب کو منور اور ایمان ویقین اور اعتقادات ونظریات سےاپنےعقل وخر دکوپاکی بحشنےلگے۔آپ کےوعظ ونصیحت کی بدولت عام عوام کےذہنوں میں مثبت تبدیلی واقع ہوئی۔ آ پ نےدلائل سےلوگوں کےمادی فلسفہ زدہ ذہنوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ جدید علوم کو پڑھ کر آ پ بادشاہوںکےدربار میں ملازمت اختیار کر سکتےہیں، کسی امیر یا نواب کےمنشی تو بھرتی ہو سکتےہیںلیکن اس سےآپ اپنےایمان کی دولت سےہاتھ دھو بیٹھیں گے،اللہ سےآپکا تعلق ٹوٹ جائےاور شفاعت محمدی سےمحروم ہو جائیں گے۔آپ کی دنیا تو آسائشوں سےبھرپور ہوگی مگر آخرت برباد ہو جائےگی ۔غرض یہ کہ مادی علوم کی انتہا پسندی کو ختم کرنےکیلئےاور مادہ اور روح کا توازن بحال کرنےکیلےروحانی علوم اور فقر محمدی اختیار کرنےکی تعلیم فرمائی ۔صلاح الدین سعیدی صاحب آپ کی دی ہوئی ایک مثال کاذکریوںکرتےہیں۔”ایک آدمی اگر بھوکاہےتو کسی طرح ±اس کاگزر ہو جائےگالیکن ایک آدمی کےآگےرنگ برنگےکھانےچنےہوئےہیںمگراس میںزہر کی آمیزش ہےبتائیےکہ اسکوموت سےکون بچا سکتا ہےبتائیےکہ وہ بھوکا رہنےوالاشخص عقلمند ہےیایہ زہرپلا کھانا کھانےوالا ۔لہذااس چندروزہ دنیامیں فقروقناعت کےساتھ زندگی گزارلولیکن دنیا کی رنگینی پرفریفتہ ہو کر دین کوہاتھ سےنہ جانےدو ۔“
آپ کی تحریرو تقر یرنےجہاںدرویش وفقراکواپنی طرف کھینچا وہاںعام لوگ بھی متا ثر ہوئےبغیرنہ رہ سکےاور آپکےمواعظ میںلاکھوں کامجمع ہونےلگا اور دین حق کی وفاداری اور محبتِ اسلام کو فروغ ملا ۔یہودیوں کی درپردہ سازش اور دین اسلام کی سمجھ نہ رکھنےوالی©© علماءاسلام کی بدولت ایک غلط نظریہ اسلام کی تبلیغ کو غیرسیاسی قراردیناتھاکہ اسلام کامقصد صرف مسلمانوںکو نماز ،روزہ اور عبادات کاایک نظام دینا ہے۔حالانکہ بقول علامہ اقبال ©©©©©©© ©اگردین کو سیاست سےجدا کردیا جائےتو حاصل چنگیزیت ہے۔ لہذا جہاں اسلام ایک مذہبی نظام دیتاہےوہاں ایک سیاسی نظام بھی دیتاہےجسکےمطابق مسلمانوں کاحاکم اللہ کانائب ہےاور وہ ہر معاملےمیںاپنےآپ کو اللہ جل جلالہُ کےسامنےجوابدہ سمجھےحضرت نےاس حوالہ سےسیاست کی تطہیر کاکام بھی شروع کردیا اور حکمرانوںکی مطلق ا لعنانیت پر ضرب لگاتےہوئےاُنہیں زبردست بےخوف تنقیدکانشانہ بنایا جس سےدبےہوئےعوام کو زبردست حوصلہ ملااور حکمرانوں کابےجارعب ودبدبہ خاک میں مل گیا ۔ جہاں حضرت نےاسلام کےمذہبی وسیاسی نظام پر کام کیا وہاںاسلام کےمعاشی نظام پر بھی خاظر خواہ توجہ دی جس کو اکثر علماءتبلیغ اسلام سےحذف کر دیتے ہیں اس سلسلےمیں ایک واقعہ قار ئین کی دلچسی کاباعث ہوگا ۔©”ایک عباسی خلیفہ مستنجدباللہ ایک دن حضرت کےمد ر سےمیں آیا اور اشرفیو ں کی ایک تھیلی آپ کی نذز کی آپ نےوہ تھیلی اپنی مٹھی میں لیکر بھرےمجمع میں نچوڑ ی تواس میںسےخون بہنےلگا ۔یہ منظردیکھ کر خلیفہ کاسارہ کر وفراورشاہی جاہ وجلال خاک میں مل گیا اور عوام آپ کی روحانی طاقت کی اس کرامت پربہت لطف اندوز ہوئےپھرآپ نےحاکم وقت کو للکارا اور اشرفیوں کی تھیلی کو خلیفہ کی طرح اچھالتےہوئےجلالی انداز میں فرمایا ”عوام کا خون نچوڑتےہواورہمیں نذرانےدیتےہو“۔
اسلام کےعلمی ونظریاتی نظام کےحوالےسےپا نچ سو ستاون ہجری میں آپ نےتربیت یافتہ خلفا ءاور تلامذہ کو تبلیغی اغراض ومقاصد کےتحت مختلف بر اعظمو ں ملکوں اورشہروں میں تعینات کیا جوآپکی تحر یک کی بین الاقوامی حیثیت اور حقیقی اسلامی تحریک ہونےکامظہر ہے۔ آپ کےشاگردان عظیم خلق کےمالک ‘ راہ خدامیں سادہ کھانا کھانے‘معمولی لباس پہنےوالے‘دینی علم واشاعت میں سرگرداں رہنےوالےفاقوں کی حالت میں بھی دوسروں کیلئےآسانیاں پیداکرنےوالےتھےاُنکی حکمت افروز گفتگو اہل علم کواُنکےآگےجھکنےپرمجبور کر دیتی اور کردار پردیسں کےاجنبی لوگوں کےدل موہ لیتا ۔ یہ روحانی سفیر جہاں بھی گئےفتوجات نےان کےقدم چومے۔ حضرت نےاسلام کےعلمی ،سیاسی، سماجی اور معاشی ومعاشرتی نظام کےساتھ ساتھ عسکر ی وجنگی نظام کےحوالےسےقابل ذکر کام کیا کیونکہ اسکی تبلیغ و اشاعت کےبغیر دین نامکمل ہے۔ اور اسکابالواسطہ تعلق نظریاتی انقلاب سےہوتا ہے۔مردار دنیا کی جنت ‘آرام و آسائش کاطالب لعین کتا (حدیث نبوی کےمطابق ) اس چیز سےہمیشہ نظربچاتاہےاور طرح طرح کی دلیل وتاویل کی تلاش میں رہتاہے۔ یہ حضرت کافیض تھا کہ ایک عظیم شاگرد اور عقیدت مند حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی نےمصر،شام اور بیت المقدس میں شاندارفتوحا ت کےبعد اسلامی سلطنت قائم کی اور اسلام کو نیست ونابود کر نےکی خاطر شروع کی جانےوالی صلیبی جنگوں کا منصوبہ خاک میں ملادیا۔ آج یہ عجیب وغریب مقولہ تو ہماری زبان پر ہےکہ ہر کامیاب مرد کےپیچھےایک عورت کاہاتھ ہےجوبات ان انبیاءاور اولیا ءکےحوالےسےسو فصید درست ثابت نہیںہوتی ۔ مگر ہم یہ نہیں سمجھتےکہ ہرعظیم مردمومن کےپیچھےکوئی نہ کوئی ولی اللہ ضرور ہوتاہے۔ حضرت نےدین کی تبلیغ کی خاطر اور سرکاردو عالم کےحضور میں ثواب پہنچانےکیلئےایک ماہانہ محفل کو رواج دیاجو ہر اسلامی مہینےکی گیارہ تاریخ کو بڑی شان وشوکت سےانعقادپذیر ہوتی تھی ۔ اسکامقصد مسلمانوں کی ذہنی ،فکر ی اخلاقی اور معاشرتی تربیت فر ماکر ایسےعظیم لوگوں کی کھیپ تیارکرتاتھاجو مسلما نوں کو ٹھو س قیادت فراہم کر سکےاور نت نئےفتنو ں اور فیشنوں کامئو ثر انداز میں سد باب کرسکےمگرافسو س کہ شاھینوں کانشیمن گدھوں کے ہاتھ میں آنےسےاصل مقصد فوت ہوچکا ہے۔ حضرت کی تحریک میںسےکھانےپینےاور پیٹ پوجا والےنظام کو فیض حاصل کر نےکےنام پر تو باقی رکھاگیا لیکن اُنکی تحر یک کےاصل مقصد کاجنازہ نکال کر اُ سکو دفن کر دیاکیو نکہ وہ اِن زرق برق لباسوں میں ملبو س عام بھو لےبھالےعوام اور اپنےمنہ پرتعریفیں سن کرباغ باغ ہونےوالےظاہری اسلام کا لبادہ اُوڑھےہوئےمعزز مولویا نِ کرام کےنفس پربھاری بوجھ تھا۔بالکل اس طرح جیسےحضورنبی کریم کےجانےکےبعد حضرت امام حسین اِن کیلئےبوجھ تھے۔ کیونکہ وہ خلافت اسلامیہ کےداعی تھے۔ ہم آج اکثریت کی نسبت حضور سیدنا عبدالقادرجیلانی کےرواج کر دہ لنگر گیارویںشریف کےساتھ ہی کیوں رہ گئی ہےجبکہ بزرگان دین کےپیشِ نظرلوگوں کوکھاناکھلاکرسستی شہرت حاصل کرنا قطعاًمقصودنہیں رہابلکہ اُن کےپیچھےکوئی خاص تبلیغی مقصد کارفر ماہوتا تھا ۔ ہمیں جدید الحادی یونانی فلسفےکےخلاف اُ نکی مسلسل جنگ دین اسلا م کی احیاءاوراسلام کےمعاشی ،معاشرتی ،سیاسی ، سماجی ، مذہبی نظام کےعملی نفاذ سےکوئی نسبت کیوں نہیں ؟ ہمیں اپنےطرزعمل کی اصلا ح کی ضرورت ہے۔ صرف چوری کھانےوالےمجنو ن نہیں بنناچاہیے۔ بلکہ اس حقیقت کوبھی سمجھنےکی ضرورت ہےکہ حضرت ایک کامل ومکمل تحریک ِاسلام ہیں ۔


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 57
    چھٹی صدی ہجری کی علمی و روحانی تحریک تحریر رضوان یوسف علوی قرآن و سنت کی روشنی میں علوم کی دو اقسام سامنےآتی ہیں علم الادیان اور علم الابدان۔ دین کا علم روح سےوابستہ ہےاور بدن کا علم جسم سی۔ دوسرےلفظوں میں ایک باطن کا علم ہےاور دوسرا ظاہر کا…
  • 32
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply