چڑیا گھر کاالیکشن

026

Rashed Nisar

 

علامہ یوسف جبریل ایک ایسےقلمکار ہیں جنہیں طویل کہانی اور فن کےرچا و میں ایک کمال حاصل ہی انہوں نےزندگی کو بہت قریب سےدیکھا ہےاس لئےوہ انسانی کرداروں کےرویوں ، ان کےلہجےاور نفسیاتی اشاروں سےکماحقہ واقف ہیں انہوں نےبڑی چابکدستی کےساتھ انسانی کرداروں کےبدلتےرنگوں اور تہذیبی عوامل کو اپنی گرفت میں لےکرایک ممتاز تخلیق کو منصہ شہود پر لانےمیں کامیابی حاصل کی ہی زیر نظر تصنیف کہانی کےبنیادی عناصر کو لےکر آگےبڑھتی ہےبلکہ اس طویل تر کہانی کاعنوان اور موضوع ہی ہمیں اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہےکہ اس کہانی میں تمثیلی طور پر جانوروں کی جیتی جاگتی زندگی کو انسانی ذہنیتوں پر منطبق کیا گیا ہی چنانچہ لطیف طنز کےساتھ بڑی شائستگی اور نفاست کو بروئےکار لاتےہوئےعلامہ یوسف جبریل نےکہانی کاتانا بانا بنا ہی” چڑیا گھر کا الیکشن“ ہمارےسماج کی تصویر کشی ہی ایک ایسےمعاشرےکا بےتکلف عکس ہےبلکہ علامہ یوسف جبریل نےجانوروں کےرویئےاور ان کےکردار کو جس طرح زندہ کر دکھایا ہےوہ ایک انتہائی عروج فن ہی جس کی داد نہیں دی جا سکتی
علامہ محمد یوسف جبریل نےکہانی کےکردار جانور منتخب کئےہیں اسی طرح انہوں نےمشاہدےکی سچائی اور حافظہ کی قوت کوفنی رچاوکےساتھ پیش کیا ہی ہمارےہاں اردو ادب میں لوک کہانیاں تمثیلی طور پر لکھی جاتی رہی ہیں بلکہ چین اور برصغیر پاک و ہند میں پرندوں اور جانوروں کی کہانیاں اب بھی زبان زد عام ہیں مگر ناولٹ کےطور پر صرف جانوروں کی زندگی کو عکس فگن کرنا ہماےہاں کی مکمل روائیت نہیںتھی البتہ انگریزی ادب میں اس کی مثالیں موجود ہیں جیسیAnimal Farmمگر ایسےناولٹ لطیف طنز سےعاری ہیں جب کہ علامہ یوسف جبریل نےتشنج سےآزاد رہ کر ایک نفیس طربیہ تخلیق کیا ہی
”چڑیا گھر کا الیکشن“ یوں تو ہماری سیاست اور اس کےعواقب ہی کا تناظر ہےمگر زبان اس قسم کی استعمال کی گئی ہےجس طرح بچوں کو بہلایا اور کھلایا جاتا ہےلیکن اس زبان کےبرعکس اس میں ان تمام مفکرین کےبنیادی فلسفوں پر گہرا طنر کیا گیا ہےجن کےافکار نےایک عالم میں دھوم مچا رکھی تھی مگر اب وہ بچوں کےلئےکھلونوں کا کام دیتےہیں یوںبھی دیکھا جائےتو زندگی کی رفتار کےسامنےجب بڑےبڑےمحلات کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی بڑی بڑی ایجادات عجائب گھروں کی زینت بن گئیں اور اپنےتناسبات کےلحاظ سےمارکیٹ میں ان کےکھلونےبنا دیئےگئےتو یہ کھلونےکسی گھر کی سجاوٹ کےلئےاستعمال ہونےلگےیا مارکیٹ میں کھلےبندوں فروخت ہو کر بازار کی زینت بن گئی چنانچہ علامہ یوسف جبریل کےنزدیک بھی بہت سےفلسفیوں کےافکار اب بازیچہءاطفال ہی کی صورت ہو سکتےہیں لہذا انہوں نےبچوں کےذہنوں میں ان کےہیولےکچھ اس انداز میں تراشےہیں کہ وہ ایک تو بچوں کےذہنوں میں ان فلسفیوں کےبارےمیں ہلکا پھلکا طنز نقش کرنا چاہتےہیں دوسرےان کی ذہنی تربیت بھی کرنا چاہتےہیں تاکہ بچےجوان ہو کر ان کےافکار کو خود پرکھ لیں
زیر نظر کہانی میں کرداروں کےچلن اور ان کی فطرت کےبارےمیں تفصیلی نفسیات موجود ہےجس سےپتہ چلتا ہےکہ علامہ یوسف جبریل کو ان کےمطالعہ کےبارےمیں حیرت انگیز شناسائی حاصل ہےبلکہ جانوروں کی زبان میں انسانی گفتگو کا جو فطری لہجہ اختیار کیا گیا ہےاس میں لطافت بھی موجود ہےاور نفاست بھی چنانچہ یہ کہنا بےحد درست ہو گا کہ مشاہدہ کی بصیرت کےاعتبار سےعلامہ یوسف جبریل کسی بڑےادیب اور تمثیل نگار سےکسی صورت کم نہیں ان کی وسعت مطالعہ اور مقصدیت کا اندازہ اس امر سےلگایا جا سکتا ہےکہ وہ بہ یک وقت لفظی کارٹون بھی بناتےہیں کرداروںکےلہجےکی مناسبت سےمکالمےبھی تراشتےہیں اور زندگی کا تصور بھی پیش کرتےہیں لہذا ان کا فن محدود نہیں نہ ہی ان کےمشنری جذبےکو کسی طور پر کم کیا جا سکتا ہی
زیر نظر کہانی کا بنیادی مقصد اس سیاسی نظام کےخلاف شدید طنز ہےجس نےہماری قومی اقدار کو کھوکھلا کر دیا ہےاور ایک مزاج ترتیب دےدیا ہےجس سےچھٹکارا پانا بہت مشکل ہو گیا ہی چنانچہ علامہ یوسف جبریل نےہمارےہاں جو حقیقی زندگی پائی جاتی ہےاس پر بےلاگ تبصرہ کیا ہےکہ اب یہ ان کا اپنا اسلوب ہی نہیں بلکہ فطری پہچان بھی بن گیا ہی مجھ سےاگر کوئی پوچھےکہ علامہ یوسف جبریل نےبےکھٹکےسیاسی جبلتوں پر ناولٹ لکھ کر کیا کارنامہ انجام دیا ہےتو میں کسی ہچکچاہٹ کےبغیر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایک شریف النفس قلمکار کےلئےاپنےیقین اور زندگی کےتصور کی کہانی اس طور پر بیان ہو جائےکہ انسانی جبلتوں اور اس کی شعوری کوششوں کی کہانی تفنن طبع کےطور پر ابھر کر سامنےآ جائےتو اس سےبڑی کامیابی اور کیا ہو سکتی ہی یقینا ایسی تحریر پڑھ کر ایک عام قاری بھی کہہ سکتا ہےکہ وضع بیان کےاعتبار سےایسی تحریر صرف علامہ یوسف جبریل ہی لکھ سکتےہیں چنانچہ جانوروں کےمنہ سےخوفناک خواہشات کا اگلوانا اور یقین کا جواز پیش کرنا علامہ یوسف جبریل کا امتیازی وصف بن گیا ہےبلکہ ایٹم بم کی تھیوری کی قرانی تشریح جوان کا فکری اورخصوصی تجربہ ہےجسےوہ کسی نہ کسی طریقےسےزیر نظر ناولٹ میں بھی لےآئےہیں بہر حال علامہ یوسف جبریل کی اپنی ہمدردی اس معاشرےکےساتھ ( جس کی اصلاح کےلئےانہوں نےایک نئےموضوع کو اختراع کیا ہے) بڑی واضح ہےچنانچہ ان کا نیا موضوع زندگی کےپیچیدہ نظام میں ہر پہلو سےایک نیا پہلو نکالتا ہوا آگےبڑھتا ہے ان کےپا س چونکہ تنقیدی شعور بھی موجود ہی اس لئےوہ تاثر پذیری کو قائم رکھنےکےلئےرد عمل ہمدردی اور فنکارانہ جذبےکیساتھ عمل تخلیق کو جاری رکھتےہیں مثلا ان کا محبوب موضوع انسانی سیاسی فطرت ہی آپ اسےجبلت ہی کہہ سکتےہیں یہ جبلت جب سیاسی نظام کےتناظر میں ظاہر ہوتی ہےتو اس کی حیثیت مضحکہ خیز ہو جاتی ہی چنانچہ سیاسی فطرت میں موجود بےڈھنگا پن اور کھوکھلی روایات ایک مکمل شبیہ کی صورت اختیار کر لیتی ہیں اہل نظر اس بےڈھنگےپن کو تیسری دنیا کےمسائل سےیادکرتےہیں مگر یہ بےڈھنگا پن فوراذہن کو کھینچ کر برصغیر پاک و ہند کی معاشرت کی طرف لےجاتا ہی جہاں الیکشنوں میں چڑیا گھر کا سماں ہوتا ہےاور انسانی اقدار حیوانی جذبےاختیار کر لیتی ہیں چنانچہ علامہ یوسف جبریل نےانسانی اقدار کو حیوانی جذبوں کا لباس پہنایا ہےتو انہوں نےحیوانی جبلتوں کےخلاف ایک شدید کشمکش کو ادب کا بنیادی تنازعہ بھی بنا دیا ہی
ہمارا ملک ایک باوقار نظریئےکےتحت وجود میں آیا تھا اس کی شباہت اور وصف امتیازی بانکپن رکھتےتھےمگر یہ سب ظاہری امتیازات تھی ان کےجسم و جان میں جوخوفناک لاوا پکتا رہتا تھا اس کی نشاندی ہر عہد میں ادیب اور فنکار نےکی تھی مگر ہمارا عہد کسی فنکار کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اس لئےاس کی تمام صلاحیتیں لاحاصلی کا شکار ہو کر رہ جاتی ہیں لہذا ایک باوقار قوم کی طرح زندگی بسر کرنےکا آدرش ہر اچھےادیب کا بنیادی مقصد رہا ہےاوریہی بنیادی تنازعہ علامہ یوسف جبریل کا بھی ہےجنہوں نےتمام ظاہری امتیازات کو بغیر کسی
ہچکچاہٹ کےبڑی صلاحیت کےساتھ اہل فکر و نظر تک پہنچا دیا ہی
علامہ یوسف جبریل کےفن میں تخلیق اور تمثیلی اپچ موجود ہی انہوں نےموضوع کو تازگی بخشنےکےلئے”ا حساس اظہار“ کو پیش نظر رکھا ہے چونکہ موضوع بھی بہت نازک تھا اس لئےانہوں نےاسے”حساسی“ بنا کر روانی بخشی ہی
میں علامہ یوسف جبریل کےفنی تقاضوں کو صرف بچوں تک محدود نہیں سمجھتا اگرچہ ان کی زبان سہل اور کہانی کا وصف لئےہوئےہےمگر انہوں نےہمارےسیاسی تشخص کو جس طرح ظاہرکیا ہی وہ ” بالغ نظری“ کا تناظر رکھتا ہی اس لئےانہوں نےہمارےسیاسی تشخص کو کرداروں کی مخصوص ذہنیتوں سےبالکل الگ یہ چیلنج بھی پیش کیا ہےکہ ہمارا سیاسی نظام کیا نصب العین رکھتا ہےاور اس کےمخصوص نظریات کیا ہیں اور ہماری موجودہ نسل کیسی قوت ارادی کی مالک ہی میں سمجھتا ہوںعلامہ یوسف جبریل کےفن کا مرکزی نقطہ یہی چند سوالات ہیں اور یہی بنیادی اہمیت انکےموضوع کو بھی حاصل ہےکہ آیا ہماری سیاسی فطرت ہمارےنظریات کو جھٹلا تو نہیں رہی اس کا سادہ سا جواب یہ ہےیقینا ہم خود کوجھٹلا رہےہیں لیکن اس سوال کےپس منظر میںز ندگی کی معنی خیزی ایک فکری غلبہ رکھتی ہےاور یہ فکری غلبہ پاکستان کی موجودہ اور آئندہ آنےوالی نسل کےلئےدلآویزی بھی ہےاور اہمیت کا حامل بھی چنانچہ علامہ یوسف جبریل کا زیر نظر کارنامہ اپنی ہیئت اور تخلیقی وصف کےاعتبار سےبڑی اہمیت کا حامل ہےجس کا استقبال کشادہ ظرفی کےساتھ کیا جائےگا
ََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹررشید نثار جنوری 1987
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 41
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 38
    خانقاہ قادریہ صاحبزادہ مدثراحمدقادری سجادہ نشین دربار پیر مہدی احمدنگر غربی واہ کینٹ کےتاثرات اسلام علیکم ! نائب مشن حضرت علامہ محمد یوسف جبریل مجھےافسوس ہےکہ بیس سال سےحضرت خواجہ محمدصوفی رفیق قادری صاحب والیءجلالہ شریف ٹیکسلا سےملاقات رہی اور ساتھ ہی رہنےوالےحضرت علامہ جبریل کی زیارت نہ ہوسکی۔شایداس لئےکہ…
  • 38
      علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply