Dams bananay ka asaan nuskha

آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں
ابوبکر قدوسی
بہت شور ہے ڈیم بنانے کا – پنجابی میں کہتے ہیں “ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں ” یعنی نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں – سو دوستو قومیں ایسے رہتی ہیں جیسے ہندستانی – اپنے مفاد کے لیے ہمہ وقت چوکس – جب کہ جو سست ، بے نظریہ تھے ہمارے حاکم ہو گئے – ایک کے بعد ایک “تحفہ” ہمارے مقدر میں تھا – بھٹو پاکستان بھر کی صنعتوں پر قبضہ کر سکتا تھا مگر ڈیم نہ بنوا سکا ، ضیاء الحق نے مضبوط ترین وزیر اعظم کو بھانسی لگا لیا مگر کالا باغ ڈیم پر اس کی بھی ٹانگیں کانپتی رہیں – رہے بے نظیر ، مشرف اور نواز شریف ، یہ بونے بونے لوگ ، کسی بھی ایسے وزن سے محروم تھے جس میں آنے والی نسلوں کے مستقبل کی تعمیر کرنا ہوتی ہے – ان کی زیادہ سے زیادہ ذہنی پہنچ یہ تھیں کہ ارکان اسمبلی کو کیسے خریدنا ہے اور مدت کیسے پوری کرنی ہے – نواز شریف کو اگرچہ سڑکیں بنانے کا بہت شوق تھا ، لیکن اتنا فہم نہیں تھا کہ سڑکوں سے کہیں زیادہ لوگوں کو صحت ، تعلیم کی ضرورت ہے ، اور اسی طرح ڈیم بی –
یہ سو فیصد سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی مہم جوئی تھی جو اب تحریک میں بدلتی جا رہی ہے … لیکن اس ذکر کو چھوڑ کے ہم آگے چلتے ہیں –
جج صاحب نے فنڈ قائم کیا ہے اور پیسا اکٹھا ہو نہیں رہا – جج صاحب آپ بڑے ہیں لیکن کبھی کبھی عقل کی بات چھوٹوں سے بھی مل جاتی ہے – جج صاحب یوں چندوں سے مسجدیں بنتی ہیں یا ڈسپنسریاں ، ڈیم نہیں بنتے – ڈیم حکومتی وسائل سے بنتے ہیں کہ اربوں کھربوں کے اخرجات ہوتے ہیں ….آئے میں آپ کو کچھ ارب اکٹھے کر دیتا ہوں ، عمل کرنا ، یعنی جمع کرنا آپ کا کام –
…………….
ویسے تو جس گورنر ہاوس میں صرف ایک دن کے دودھ کا بل اٹھائیس ہزار بنتا ہے اس سے جان چھڑانی ہی اچھی ہے ..لیکن گورنر کے عہدے کو ختم کرنے کے لیے لمبی چوڑی آئینی ترامیم کی ضرورت ہے – جب کہ یہ ایک آسان سا اور انتظامی فیصلہ ہو گا کہ گورنر صاحب کو ڈیفنس یا کسی اور پوش علاقے میں ایک دو ایکڑ کی کوٹھی میں منتقل کر دیا جائے اور گورنر ہاؤس کو بیچ دیا جائے ….کیونکہ :
لاہور کا گورنر ہاوس اکہتر ایکڑ رقبے پر واقعہ ہے – شاید کہا جا سکتا ہے کہ یہ لاہور کی قیمتی ترین جگہ ہے – اکہتر ایکڑ میں گیارہ ہزار تین سو ساٹھ مرلے ہوتے ہیں ..اگر ایک مرلے کی قیمت صرف بیس لاکھ روپے شمار کی جائے جو وہاں کی ممکنہ قیمت کا نصف بھی نہ ہو شاید تو بھی یہ قیمت بائیس ارب روپے بنتی ہے –
لیجئے بیچئے اور ڈیم میں پیسے ڈالیے –
………..
اسی طرح کراچی کا گورنر ہاوس ہے جس کی قیمت لاہور کے گورنر ہاؤس سے کم نہ ہو گی –
اس کے بعد پشاور کا گورنر ہاؤس بھی اربوں روپے کی زمین پر موجود ہے
سو ان تین گورنر ہاوسز کو بیچ کے ہی ڈیمز کی اچھی خاصی قیمت وصول کی جا سکتی ہے – ممکن ہے ساٹھ ارب کے قریب –
…………..
اس کے بعد ہر ضلع کے ڈی سی ہاوسز ہیں جن کے رقبے آپ کی سوچ سے بھی زیادہ ہیں ، میں نے ایک بار اس حوالے سے بھی مضمون لکھا تھا ، اگر ملتا تو نقل کرتا ، آپ کی آنکھیں کھل جاتیں – یہ گھر بھی بعض جگہوں پر بیسیوں ایکڑ پر مشتمل ہیں – جب کہ ایک ڈی سی نامی افسر عموما چھے فٹ سے لمبا نہیں ہوتا ، اس کا وزن بھی سو کلو کے لگ بھگ ہوتا ہے ، سو اس شہر کی کسی بھی پوش آبادی میں اس کو ایک یا دو کنال کے گھر میں “بند ” کیا جا سکتا ہے کہ “لیجئے صاحب قوم کی خدمت کیجئے “- اور ان گھروں کے پلاٹ بنا کے بیچئے – آپ کے ڈیموں کی تمام تر ٹربائنیں میرا خیال ہے یہیں سے نکل آئیں گی –

اور چلتے چلتے بتاتا چلوں کہ ہمارا وزیراعظم ہاؤس قائداعظم یونورسٹی سے کچھ زیادہ ہی رقبے میں واقع ہے –
اچھا ایک اور بات یاد آئی کہ آپ نے پچھلے دنوں موبائل فون پر ٹیکس کٹوتی ختم کی …کہ جو ایک سو کے کارڈ پر بچیس روپے کے قریب تھی ، اگر بائیس کروڑ کی آبادی میں صرف دو کروڑ افراد موبائل استعمال کرنے والے تصور کیے جائیں اور ہفتے کا ایک کارڈ لیتے ہوں تو جناب یہی پچاس کروڑ روپے بنتا ہے ، جو اب حکومت کی بجائے کمپنیوں کی جیب میں جا رہا ہے …عوام کو کوئی خاص رلیف نہیں ملا ..اپ اسے واپس بحال کر کے یہ رقم ڈیم کے لیے مختص کر لیں
………..
اگر گزری حماقتوں کا ذکر کریں گے تو رونے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا …جیسا کہ اورنج ٹرین ہے جس پر دو سو ارب روپے سے زیادہ لگ رہے ہیں جو ایک شہر کی صرف ایک سڑک ہے …آپ نے نیرو کا نام سنا ہو گا ؟
جی ہاں ہمارے یہ حکمران نیرو ہی ہیں کہ روم جل رہا تھا اور یہ بانسری بجا رہے تھے –
جی ہاں! آنے والی نسلیں ہم کو گالیاں دیں گی کہ تمام کا تمام پانی پی گئے اور ہمارے لیے کچھ نہ چھوڑا – تو اس موئی اورنج ٹرین کی جگہ اس پیسے کو ڈیم بنانے میں بھی لگایا جا سکتا تھا –
جناب یہ صرف ایک حماقت ہے ، ورنہ اگر میگا سکینڈلز کو گننا شروع کریں گے تو درجنوں کالا باغ اور بھاشا ڈیم آپ کی جیب میں آ جائیں گے –
…………..
سوال یہ بھی ہے کہ یہ ہمارے لیڈر ، افسر اور رہنما کیسے ان تنگ گھروں میں رہ سکیں گے تو بتاتا چلوں کہ :
بل گیٹس دنیا کا ایک امیر ترین شخص ہے، دنیا میں صرف 18 ممالک ایسے ہیں جو دولت میں بل گیٹس سے امیر ہیں، باقی 192 ممالک اس سے کہیں غریب ہیں، لیکن یہ شخص اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا ہے، وہ اپنے برتن خود دھوتا ہے. وہ سال میں ایک دو مرتبہ ٹائی لگاتا ہے اور اسکا دفتر مائیکروسافٹ کے کلرکوں سے بڑا نہیں-
وارن بفٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے۔ اسکے پاس 50 برس پرانا اورچھوٹا گھر ہے، اسکے پاس 1980ء کی گاڑی ہے۔
برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس دو بیڈروم کا گھر ہے۔
جرمنی کے چانسلر کا ایک بیڈ روم اور ایک چھوٹا سا ڈرائنگ روم سرکاری طور پر ملا ہے –
اسرائیل کا وزیراعظم دنیا کے سب سے چھوٹے گھر میں رہ رہا ہے –
اگر یہ سب اس طرح رہ سکتے ہیں اور دنیا پر جکومت بھی کر سکتے ہیں تو ہمارے یہ لاڈلے چھوٹے گھروں میں نہیں رہ سکتے جو کسی کام کے بھی نہیں ہیں –
سو بیچئے ان کے یہ محلات اور اس پیسے سے ڈیم بنائیے ، کوئی آپ کو نہیں کھا جائے گا
.

Print Friendly, PDF & Email

Related Posts

  • 99
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 98
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 95
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 93
    Back to Kuliyat e Gabriel پیشِ لفظ شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح…
  • 85
    غلط خاکے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دینے والی تفتیش :زینب اور اس جیسی 11 کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کے پیچھے چھپے خوفناک و شرمناک حقائق اس رپورٹ میں ملاحظہ کیجیے لاہور(ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کہنے کو اغوا کے بعد زیادتی اور زیادتی…
  • 85
    محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد…
  • 83
    عصرِ حاضر وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا قتیلِ عشق کے باطن کی آرزو نہ رہا رگوں میں جوش حمیت کی آبرو نہ رہی دلوں میں جوشِ اخوت وہ کو بہ کو نہ رہا تڑپتے دل کی پکاروں کی بے…
  • 82
    Back to Kuliyat e Gabriel گلہائے عقیدت علامہ اقبال ؒ مرحوم کے حضور میں سرود رفتہ باز آید بیاید نسیمے از جحاز آید بیاید دو صد رحمت بجان آں فقیرے دگر دانائے راز آید بیاید دگر آید ہماں دانائے رازے ندارد جز نوائے دل گدازے دے صد چاک و چشمے…
  • 81
    تبدیلی کے خواہاں نومنتخب حکمرانوں کیلئے تجاویزِ چند!! ( ڈاکٹر اظہر وحید ) وطنِ عزیز میں جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے اہلِ وطن نئے سرے سے سے نئی اُمیدیں باندھ لیتے ہیں....اِس خیال سے کہ حکومت کے بدلنے سے شائد اُن کی حالت بھی بدل جائے۔ صد شکر! یہ…
  • 78
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 76
    مجھے واعظ یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت یوسف ۴ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ حضرت یوسف۴ نے اپنے ملک کو "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نھیں مرنے پایا۔ یہ تو بتاتے…
  • 76
    مجھے واعظ یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت یوسف ۴ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ حضرت یوسف۴ نے اپنے ملک کو "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نھیں مرنے پایا۔ یہ تو بتاتے…
  • 73
    امیدواراورووٹر ایک امیدوار ووٹ مانگنے کے لیے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس گیا اور ان کو ایک ہزار روپیہ پکڑواتے ہوئے کہا حاجی صاحب اس بار ووٹ مجھے دیں۔ حاجی صاحب نے کہا: مجھے پیسے نہیں چاہیےووٹ چاہیے تو ایک گدھا لادیں، امیدوار گدھا ڈھونڈنے نکلا مگر کہیں بھی…
  • 73
    Back to Kuliyat e Gabriel گریہ نیم شبی خدایا شکر ہے رکھا مرا اجر اپنے ہاتھوں میں وگرنہ کس طرح ملتی مجھے محنت کی مزدوری بڑی مشکل سے سمجھائے تھے ملت کو سب اندیشے رلا کر رکھ گئی مجھ کو یہ احساسِ مجبوری خخ رلاتی ہیں مجھے ملت کی حسن…
  • 72
    رات اور دن ٭٭٭ڈاکٹر اظہر وحید٭٭٭ رات اور دن کا آپس میں بدلنا تغیر کی علامت ہے.... لیکن ثبات کے متلاشی کیلیے اس میں ثبات نہیں۔ تغیر کو شاعری میں ثبات مل بھی جائے‘ تو انسان کو تغیر میں ثبات نہیں ملتا۔ رات چاند سے عبارت ہے اور دن سورج…
  • 70
    ہر انسان کو اللہ تعالی نےکوئی نہ کو ئی خوبی عطا کی ہوتی ہےاور یہ کہ ہر انسان میں بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔لیکن اگر بہت سی صلاحتیں اور خوبیاں ایک انسان میں یکجاہوجائیں تو یہ کمال حیرانی کی بات ہوتی ہےاگر انسان اپنےاندر پائی جانےوالی ان ایک…
  • 69
    Back to Kuliyat e Gabriel ضربِ مومن رباعی ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے زمین پر ہے وجود اس کا فلک پر آشیانہ ہے جمالِ یار کا پرتوَ جنوں کو تازیانہ ہے ٹھکانا اس کا جنت ہے یہ دنیا قید…
  • 69
    *تلاش گمشدہ* ہم سے *”خلوص“* گم ہو گیا ہے۔ اس کی عمر کئی سو سال ہے۔ بڑھاپے کی وجہ سے کافی کمزور ہو گیا ہے۔ گھر میں موجود *”خودغرضی“* کے ساتھ ان بن ہو جانے پر ناراض ہو کر کہیں چلا گیا ہے۔ اُس کے بارے میں گمان ہے کہ…
  • 67
    شیشیل کورالا فقیرانہ وزیر اعظم 2014ء میں نیپال کاوزیراعظم بن گیا۔پہلے دن جب اپنے سرکاری دفترپہنچاتو انتہائی سستی قیمت کے کپڑے پہن رکھے تھے۔۔لباس کی مجموعی قیمت دوسوروپے سے بھی کم تھی۔سرپرانتہائی پرانی ٹوپی اورپیروں میں کھردری سی چپل۔ وہاں ویٹریانائب قاصدکے کپڑے بھی شیشیل کورالاسے بہت بہتر تھے۔ منتخب…
  • 66
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…

Share Your Thoughts

Make A comment

Subscribe By Email for Updates.