ایک درویش دانشور۔۔۔۔علامہ یوسف جبریل تحریر شاکرکنڈان

033

shakirkandan
۲۰۰۱ء میں  سےجبریل  یوسف علامہ  جب میری آخری ملاقات ہوئی تو جناب واصف علی واصف  کے چھوٹے بھائی شوکت محمود کنڈان بھی میرے ہمراہ تھے۔ کمرے میں علامہ یوسف جبریل ،شوکت محمود کنڈان ،شوکت محمود اعوان(پسر علامہ یوسف جبریل)اور راقم(شاکر کنڈان)بیٹھے تھے۔میں صوفے کی ایک سیٹ پر بیٹھا تھا کہ یکایک باتیں کرتے ہوئے علامہ صاحب میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے۔
’’شاکر!جب واصف علی واصف  آخری بار مجھے ملنے آئے تھے تو اسی جگہ پر بیٹھے تھے جہاں تم بیٹھے ہو اور مجھے انہوں نے کہا تھا۔علامہ صاحب !میں تو اپنا کام مکمل کر چکا ہوں اور اب واپسی کا ارادہ ہے تو میں نے انہیں جواب دیا کہ میرا کام تو ابھی تک پورا نہیں ہوا لہٰذا میرا ارادہ فی الحال واپسی کا نہیں ہے‘‘۔
دسمبر ۲۰۰۵ء میں جب شوکت محمود اعوان کا راقم کو ٹیلی فون آیا تو میں نے علامہ صاحب کی خیریت دریافت کی وہ کہنے لگے :۔
یوں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ہے وہ ٹھیک ہیں لیکن کچھ دل برداشتہ ہوچکے ہیں اور مجھے بھی اپنے مشن کو آگے بڑھانے سے روک دیا ہے:۔
میں نے پوچھا کیا وجہ وہ کیوں نا امید ہوچکے ہیں کہا ’’مجھے محسوس ہورہا ہے کہ ان کی مایوسی ان کی واپسی کا اعلان نہ ہو‘‘۔ مجھے شوکت کی یہ بات سن کر علامہ صاحب سے ایک ملاقات یاد آگئی ۔ ان دنوں علامہ صاحب سے ملنا بہت مشکل تھا۔ آپ صبح سویرے گھر سے نکلتے اور باہر کھیتوں کی طرف چلے جاتے پھر واپسی کا پتہ نہیں ہوتا تھا۔ ہم بھی عصر کے وقت بغیر ملاقات کے واپس آرہے تھے کہ علامہ یوسف جبریل آتے ہوئے دکھائی دئیے۔ ہماری خوشی قسمتی تھی اور پھر ان کے ساتھ ہولئے اس ملاقات میں انہوں نے قائداعظم کے بارے،ان سے اپنی ملاقات کے بارے میں ،علامہ اقبال کے بارے میں،گوئٹے کے بار ے میں اور لارڈ برٹرینڈرسل کے بارے میں بہت سی باتیں کی تھیں۔ باتوں کے دوران انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ’’رسل کی وفات کے بعد میں اکیلا رہ گیا ہوں‘‘دراصل علامہ کے روابطہ دنیا کے بہت سے دانشوروں سے تھے اور وہ ایٹم بم کے خلاف ایک بین الاقوامی مہم کا حصہ تھے۔
۱۸جنوری۲۰۰۶ء کو شوکت محمود اعوان کا اسلام آباد سے ٹیلی فون آیا تو اس نے یہ جانکاہ خبر سنائی کہ ’’ابا جی(علامہ یوسف جبریل)اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں‘‘۔ مجھے ایک شاک سالگا۔ میں نے’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘پڑھا اور پھر شکایت کی کہ اتنے دنوں بعد اطلاع دے رہے ہو۔
شوکت میرے شکوے کے جواب میں بھرائی ہوئی آواز میں گویا ہوا’’بد قسمتی سے میری ڈائری جس میں تمام ٹیلی فون نمبرز اور ایڈریسز لکھے تھے وہ کہیں کھو گئی اور آج ہی میں دفتر آیا ہوں تو جو نمبر یہاں میرے پاس لکھے تھے انہیں اطلاع دے رہا ہوں‘‘پھر میرے پوچھنے پر تفصیل بتانے لگے کہ’’ابا جی نے وفات سے تین دن پہلے سب گھر والوں کو اکٹھا کیا۔ مجھے اپنا جانشین مقرر کیا اور ہدایت کی کہ ان کے مشن کو لے کر آگے چلوں۔سب سے آپ نے معافی مانگی اور سب کے قصور معاف کئے پھر فرمایا کہ شاید آپ لوگوں سے میری یہ آخری ملاقات ہو۔۔۔ دوبارہ نہ مل سکوں‘‘۔
ہم نے کہا ’’ابا جی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے آپ بالکل ٹھیک ہیں‘‘ لیکن انہوں نے کہا کہ ’’مجھے بلاوا آگیا ہے‘‘۔دوسرے دن وہ بے ہوش ہوئے۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا اور اسی نیم بے ہوشی کے عالم میں دو دن بعد بروز جمعرات اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی۔’’وفات سے پہلے علامہ صاحب نے آنے والے وقت سے بھی آگاہ کیا تھا کہ ’’میری وفات پر بہت لوگ آئیں گے۔حوصلہ رکھنا ہے اور بعد میں بھی لوگ آتے رہیں گے، ان سے محبت سے پیش آنا ہے اور میرے جانے کے بعدپاکستان اور مسلمانوں پر بڑا سخت وقت آنے والا ہے اور اگر اُنہوں نے پھر بھی مجھ سے استفادہ نہ کیا تو بہت افسوس کامقام ہو گالیکن مسلمانوں کو بالآخر یہی کرنا پڑیگا‘‘ اور پھر ہم نے دیکھا کہ جمعرات کے دن واہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ پڑھاگیا۔ اتنے انسان آج تک واہ میں کسی شخص کی وفات پر اکٹھے نہیں ہوئے تھے۔
’’ہم سب حیران تھے کہ ہم تو کسی کو اطلاع بھی نہیں دیے سکے تو پھر اتنے زیادہ لوگ۔ ۔؟بھائی نے چونکہ کینیڈا سے آنا تھا اس لئے میت مسجد میں رکھی تھی۔ دوسرے دن بروز جمعتہ المبارک پہلا جنازہ پڑھا گیااور اس دن بھی جنازہ گاہ میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ محلے کے مکینوں نے ہمارے ساتھ اتنا اچھا برتاؤ کیا کہ باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کو دو دو، تین تین،چار چار،اپنے ساتھ لے گئے اور ہمیں محسوس تک بھی نہ ہوسکا کہ باہر سے جو لوگ آئے تھے ان کو کیسے سنبھالا گیا۔ ہفتے کو تمام سوگواروں کے درمیان سے میت کو لے کر دوسرا جنازہ بروز ہفتہ کو پڑھایا گیا اور پھر دفن کر دیا گیا۔
میں نے دوبارہ’’ انا للہ انا الیہ راجعون‘‘پڑھا۔ علامہ مرحوم کیلئے دعا کی اور شوکت کو صبر کی تلقین کی۔ اس سے زیادہ بھلا میں کر بھی کیا سکتا تھا۔
ٹیلی فون بند ہوا تو میرے لبوں پر یہ شعر آگیا۔
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لئے
اور پھر یادوں کا ایک ریلا سا بہہ نکلا۔
جب بھی دوستوں سے علامہ یوسف جبریل کے بارے میںبات ہوتی تو میں کہتا تھا کہ علامہ صاحب جب انگریزی میں بات چیت کرتے ہیں تو سنتے رہنے کو جی کرتا ہے۔ اردو اور پنجابی وہ اس روانی سے نہیں بول سکتے۔ اسی طرح ان کی انگریزی کی تحریروں میں جو ایک بہاؤ ہے وہ اردو میں نہیں پھر یہ کہ ان کی بات چیت میں دانشوری ہوتی ہے۔ اسلام کی باتیں ہوتی ہیں۔ قرآن کی باتیں ہوتی ہیں۔
شوکت محمود اعوان سے جب بھی ٹیلی فون پر بات ہوتی یا ملاقات ہوتی تو دیر تک علامہ صاحب کے بارے میں گفتگو ہوتی۔ میں جب بھی میجر امیر افضل(حضورکا سپاہی)سے ملاتو علامہ صاحب ضرور ہماری گفتگو میں موجود رہے۔ ان کے بغیر بات مکمل ہی نہیں ہوتی تھی۔
میں جن دنوں’’اردو ادب اور عسا کر پاکستان‘‘کی تیسری جلد پر کام کررہا تھا تو پہلی بار مجھے علامہ یوسف جبریل کو کھوجنا پڑا کیونکہ علامہ صاحب بھی عسکری خدمات انجام دے چکے تھے۔ آپ ۱۹۳۴ء میں فوج میں بھرتی ہوئے اور دوسری عالمی جنگ کے دوران جب بغداد میں مقیم تھے تو ایک دن آپ نے صبح کی پریڈ پر یورنیفارم پہننے سے انکار کردیا۔ہوا یوں کہ اس رات آپ نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عبد القادر جیلانی  فرما رہے ہیں’’محمد یوسف تمہاری تخلیق کا مقصد یہ تو نہیںاور نہ ہی یہ تمہارا فرض ہے۔ تمہیں تو کسی اور کام کیلئے پیدا کیا گیا ہے جسے تم چھوڑ بیٹھے ہو‘‘۔صبح آنکھ کھلی تو دل کی کیفیت بدل چکی تھی۔ روح پر جو بوجھ مدتوں سے محسوس ہو رہا تھا اتر چکا تھا اور پھر سپاہی محمد یوسف نے نہ سر پر ٹوپی رکھی اور نہ ہی اپنے سینئر کو سیلوٹ کیا ۔
بات کمانڈنگ آفیسر تک پہنچی ۔ پیشی ہوئی اور آپ نے صاف انکار کردیا کہ’’اب میں انگریز کی وردی پہنوں گا اور نہ ہی غلامی کی یہ زندگی گزاروں گا‘‘۔اور پھر بات یہاں تک پہنچی کہ جو ہاتھ انگریز کیلئے بندوق اٹھائے پھرتے تھے وہ کمانڈنگ آفیسر کے گلے تک پہنچ گئے ۔ آپ کو کوارٹر گارڈ میںبند کردیا گیا اور بغاوت کا کیس بنا۔ کہاں ایک سپاہی اور کہاں ایک ایسی حکومت کے خلاف بغاوت جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی راجدھانی میں سورج نہیں ڈوبتا تھا۔اس پابندی کا سپاہی محمد یوسف کو یہ فائدہ ہوا کہ مطالعہ کو معمول بنالیا۔ اتنا وسیع مطالعہ کہ اردو،انگریزی،عربی اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔آپ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ’’میں نے اردو میں ولی دکنی سے اقبال تک،فارسی میں رود کی عنصری تک، انگریزی میں چاسر سے شیلے اور چارلس ڈکنز تک،عربی میں عنتر شداد کے قصائد تک بلکہ توریت، زبور،انجیل(انگریزی میں)پڑھ ڈالیں اور قرآن مجید کا خصوصی مطالعہ کیا‘‘۔
اور پھر ایک وقت آیا کہ سکول سے سات جماعت پڑھ کر بھاگ جانے والا محمد یوسف،یوسف جبریل بن گیا جسے پنجاب یونیورسٹی نے اعزازی ایم اے کی ڈگری سے نوازا۔
میں نے جب شوکت محمود سے علامہ صاحب کی وفات کی خبر سنی تو فوری تاثر سے باہر نکلتے ہی قلم کاغذ لے کر بیٹھ گیا اور پھر کوئی یاد کہیں سے آئی اور کوئی کہیں سے ان میں تسلسل نہیں تھا ایک جمگھٹا تھا۔
مجھے یاد آیا کہ علامہ یوسف جبریل نے میری حمد گوئی اور نعت گوئی پر ایک مضمون روزنامہ نوائے وقت میں لکھا تھا۔ جس کا عنوان تھا’’پاک فوج کا افسر کپتان شاکر کنڈان۔۔۔آسمان نعت گوئی اور حمد گوئی کے ہجوم میں ایک درخشاں ستارہ‘‘میں ان دنوں راولپنڈی میں عسکری خدمات انجام دے رہا تھااور یہ میرے لئے بہت بڑا اعزاز تھا۔ بعد ازاں یہ مضمون ان کی کتاب’’علوی اعوان قبیلہ مختصر تعارف‘‘میں شامل ہوا۔تو بہر حال میں بات کررہا تھا ان کی سزاکی تو بغاوت کے اس کیس میں انہیں موت کی سزا سنائی گئی لیکن بعد میں حکومتِبرطانیہ نے حکم نامہ جاری کیا کہ سپاہی محمد یوسف کی موت کی سزا ختم کردی جائے‘‘۔دراصل لندن میں بیٹھے ہوئے برطانوی حکام کو یہ خدشہ ہوا کہ اگر اس شخص کو سزائے موت دی گئی تو فوج میں بغاوت پھیل جائے گی۔بغداد سے ایک بے ضرر لیکن باغی سپاہی کو قیدی کی صورت میں برما کے محاز پر بھیجا گیااور وہاں سے کلکتہ لیکن اس سپاہی نے تو غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا عہد کر لیا تھا سوا نہیں توڑ کر دم لیا۔
میری نظروں میں اینی میری شمل اور علامہ یوسف جبریل کے درمیان ہونے والے مناظرے کی رپورٹ گھوم گئی ۔جو ۱۹۶۳ءpakistan timesمیں شائع ہوئی تھی۔اینی میری شمل نے دعویٰ کیا تھا کہ’’قرآن حکیم الہامی کتاب نہیں ہے‘‘اور اس سلسلے میں مصر کی یورنیورسٹی کے علماء کو وہ لاجواب کرنے کے بعد پاکستان میں آئی تھی۔ یہاں بھی اس نے اپنے دلائل سے بڑے بڑے علماء اور دانشوروں کوزچ کر دیا تھا کہ علامہ علاؤ الدین صدیقی کی نظر علامہ جبریل پر پڑی اور انہیں دعوت دی جب بات چیت شروع ہوئی تو انہوں نے قرآن مجید سے ایسے دلائل پیش کئے کہ اینی میری شمل کو بغلیں جھانکنے کے علاوہ کچھ نہ سوجھ پایا اور وہ جس نے دو گھنٹے بعد لاہور سے دہلی روانہ ہونا تھاوہ چند گھنٹے بعد لاہور سے جرمنی کے لئے روانہ ہوگئی اور پھر ایک سال کے بعد پاکستان آکر اپنی ہار کو تسلیم کیا۔
علامہ یوسف جبریل کو جن لوگوں نے دیکھا ہے وہ ان کے لباس سے بھی خوب واقف ہیں۔ آپ عموماًسفید کھدرکا کرتہ اور لٹھے کی سفید شلوار پہنا کرتے تھے۔ سر پر پگڑی باندھتے تھے اور عام دیسی جوتا پاؤں میں ہوتا تھا۔ چونکہ ساری زندگی محنت مزدوری میں گزاری اس لئے صفائی ستھرائی کا اتنا زیادہ اہتمام نہیں کرتے تھے پھر یہ کہ آپ تو کسی اور مشن کے لئے کام کررہے تھے۔ ایک درویش منش شخص تھے۔ ۔ فقر آپ کی روح میں گھر کر چکا تھا اور فقیر لوگ ان ثانوی چیزوں کی طرف کہاں توجہ دیتے ہیں ۔
1968ء میں روٹری کلب اسلام آباد کے زیر اہتمام شہر زار ہوٹل میں پاکستان میں مقیم بین الاقوامی سفیروں سے خطاب کے لئے آپ کو دعوت دی گئی۔ جب آپ وہاں پہنچے تو انتظامیہ میں سے کسی نے کہا۔
’’علامہ صاحب!آپ اگر سوٹ پہن کر تقریر کریں تو سامعین پر اچھا اثر پڑے گا‘‘۔لیکن آپ نے جواب دیا کہ اگر تقریر سوٹ نے کرنی ہے تو آپ نے تھری پیس پہن رکھا ہے اسے کہیے کہ تقریر کرے میں جارہا ہوں۔بہر حال آپ کو راضی کیا گیا تو آپ نے اپنے خطاب کے لئے’’قرآن حکیم اور ایٹمی سائنس‘‘کا موضوع منتخب کیا اور جب تقریر ختم ہوئی تو سب سے پہلے روس کے سفیر نے سٹیج پر آکر آپ سے مصافحہ کیا اور کہا
Thank you gentleman most thought provoking lecture ,I have heard in life.
پھر امریکی سفیر نے مصافحہ کیا اور ایسے ہی الفاظ دہرائے ۔ یوں باری باری تمام سفیروں نے آپ سے ہاتھ ملایا اور خوشی کا اظہار کیا بلکہ کئی ایک نے تو کہاکہ’’ہم پہلی دفعہ قرآن کو اس انداز میں سمجھے ہیں‘‘۔
مجھے یاد آرہا ہے کہ ایک دفعہ آپ کو پاکستان ٹیلی ویژن پر گفتگو کے لئے بلایا گیا۔ آپ کی خودداری کا ایک عجیب عالم تھا اور آپ اس پر حروف نہیں آنے دیتے تھے۔ آپ کوPtvکے waiting
roomمیں بٹھایا گیا۔ جب آدھا گھنٹہ گزر چکا اور گفتگو کا بندوبست نہ ہوا تو آپ ان پر تین حروف بھیجتے ہوئے واپس چلے گئے۔
علامہ یوسف جبریل کو ایک لکھاری کی حیثیت سے جب دیکھتے ہیں تو ان کی شخصیت میں ایک مفسر،ایک موٗرخ، ایک نقاد،ایک افسانہ نگار،ایک سیرت نگار،ایک مضمون نگار اور ایک شاعر ہمیں ملتا ہے مزید یہ کہ آپ کے اندر ایک مبلغ ، ایک مقرر،ایک عالم ایک مناظراور وقت کا ایک بہت بڑا دانشور چھپا بیٹھا تھا۔ بد قسمتی یہ کہ ایک مزدور سے زیادہ آپ کو کوئی اہمیت نہ دی گئی اور اس پر طرح یہ کہ آپ کی خودی نے کبھی آپ کو جھکنے نہ دیا۔کئی حکمرانوں نے بھی آپ کو بلوایا لیکن آپ نے ان سے ملنا گوارا نہ کیا۔ آپ کی تحریریں Bulletin of the atomic scientistجیسے بین الاقوامی رسائل میں شائع ہوتی تھیں۔ آپ نے چودہ جلدوں میں قرآن حکیم کے لفظ حطمہ کی انگریزی تفسیر لکھی اور اتنی ہی جلدیں اردو میں لکھیں۔ سات جلدوں میں Mind of the Quranلکھی لیکن یہ تمام کام آپ کا غیر مطبوعہ ہے جبکہ مضامین اور مقامات ان گنت ہیں۔ آپ کی جو کتب شائع ہو سکیں وہ بھی آپ کے بیٹے شوکت محمودنے ہی شائع کرائیں (البتہ اب علامہ صاحب کی کتب کی اشاعت کیلئے ادارہ کی تشکیل ہوچکی ہے)جن میں سے چند ایک جو میرے پاس موجود ہیں وہ درج ذیل ہیں۔
۱۔ بیکن ،دجال ،علامہ اقبال،امام مہدی،ابراہیم اور ایٹمی جہنم(فلسفیاتی نظریات)کا تقابلی مطالعہ
۲۔ یہودیت،عیسائیت اور اسلام کا تقابلی جائزہ
۳۔ قرآن حکیم اللہ کی الہامی کتاب نہیں ہے؟
۴۔ علوی اعوان قبیلہ۔مختصر تعارف
۵۔ ایٹمی آگ کی تشریح
۶۔ نعرئہ جبریل
۷۔ Gabriel’s Islamic Bomb Quran Predicts Atomic Hell and
۸۔ Phenomenally Characterizes.The Atomic Hell and A verts it.
نعرۂ جبریل آپ کا شعری مجموعہ ہے، جس میں ان کی چند طویل نظمیں شامل ہیں۔ ان کے بارے صرف دو مشاہیر ی آراء کافی سمجھتا ہوں۔
ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں’’اندازِفکر علامہ اقبال کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔
شاعر نے جس نصب العین کو پیش نظر رکھ کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ خداوند تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کے حصول کے لئے امکانات پیدا ہوسکیں۔
علامہ علاؤ الدین صدیقی نے اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا:
’’آپ ایک درد مند قومی مفکر ہیں۔ جنہوں نے اردو اور انگریزی میں اپنے خیالات کو قلمبند کیا ہے،
مجھے آپ کی کتاب نعرئہ جبریل کے کچھ حصے سننے کا اتفاق ہوا۔ اشعاردرد سے معمور ہیں‘‘۔
علامہ یوسف جبریل ۱۷فروری ۱۹۱۷ء کو موضع کھبیکی (وادی سون سکیسر)تحصیل خوشاب ضلع شاہ پور (بعد ازاں سرگودھا اور حالیہ خوشاب)میں پیدا ہوئے اور تقریباً89سال اس عالم رنگ وبو میں گزار کر دل میں ایک تڑپ ،ذہن میں ایک سوچ اور روح میں ایک مقصد اور لگن لئے5جنوری 2006ء کو اپنے دائمی سفر پر روانہ ہوگئے ۔آپ کے شعری مجموعہ ’’نعرہ جبریل‘‘سے چند اشعار ان کے اندر کے انسان سے آگاہی کے لئے نذر قارئین ضروری سمجھتا ہوں۔
دہر ہے فتنۂ دجال کی جولائی پہ
اور نازاں ہے زمانے کی فراوانی پہ
عصر رقصاں ہے نئے علم کی ارزانی پہ
اور ہنستا ہے فلک دور کی نادانی پہ
برق بے تاب ہے اس گھر کا جلانے کیلئے
خرمنِہستیِ آدم کو مٹانے کے لئے
نظم گلبانگ صدارت سے دو بند دیکھئے۔:
طاغیا!تری رعونت کوکچل ڈالوں میں
پائے انصاف وعدالت میںمسل ڈالوں میں
کیوں نہ اس کیش تکبر میں خلل ڈالوں میں
کیوں تری گردن سرکش میں نہ بل ڈالوں میں
فرقِ ظالم پہ جو شمشیر برندہ بن جاؤں
خرمنِ ظلم پہ اک برقِ جہندہ بن جاؤں
میں فقط حسرتِ گفتار کا غازی ہی نہیں میں فقط حکمت وتفسیر کا رازی ہی نہیں
میں فقط مسجد اقصیٰ کا نمازی ہی نہیں
دردِملت میں فقط اشک بازی ہی نہیں
وقت آنے پہ بڑے شوق سے مر سکتا ہوں
میں جو کہتا ہوں زباں سے تو وہ کر ستا ہوں
اسی طرح نعرۂ جبریل کی دیگر نظمیں بھی ہمیں اپنے اسلامی تشخص ،قومی وملی المیے،دشمنانِ اسلام کے رویے پر سوچنے کا موقعہ بھی دیتی ہیں اور جذبات واحساسات میں ایک آگ بھی بھڑکائی ہیں ۔ جس میں زندگی کی دعوت ہوتی ہے۔
علامہ یوسف جبریل جو آج فزیکل ہم نے موجود نہیں ہیں۔ انکی تحاریر ان کے ہونے کا احساس صدیوں تک دلاتی رہیں گی۔ وہ اپنی تحریر،فکر اور سوچ کے حوالے سے ہمارے درمیان اور آنے ولی نسلوں کے درمیان موجود رہیں گے اور جب بھی اسلامی سوچ ابھرے گی تو اس میں ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 42
    مجھےعلامہ یوسف جبریل کو دیکھ کر وہ زمانہ یادآ گیا جب بڑےبڑےبادشاہ علماءکرام کےسامنےدو زانو ہو کر بیٹھتےتھےاور ولی عہد علماءکےجوتےاٹھانےکےلئےدوسرےشہزادوں سےبازی لےجانےکی کوشش کرتےتھی۔ یہ نظر انداز شخصیت دو دسمبر ٹھیک بارہ بجےروشن اور چمک دار آنکھوں اور عاجزی اور انکساری کےساتھ میرےکلینک میں داخل ہوئی۔ اس وقت میرےساتھ…
  • 42
    دور جدید میں قران حکیم کا ایک لازوال اور محیرالعقول سائنسی اور ایٹمی معجزہ معروف ِزمانہ یہودی مشتشرق اینی مری شمل اور علامہ یوسف جبریل کےدرمیان قران حکیم کےاس اہم موضوع پر یادگار مذاکرےکی تفصیل و روئیداد تحریر علامہ محمد یوسف جبریلؔ ستمبر 1963 ءکا واقعہ ہے۔ انہیں دنوں مائینڈ…
  • 41
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply