’’آئینہ وقت‘‘ دیکھا ہے جو میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے تحریرڈاکٹر تصدق حسین راجا

041

tassadaqraja

’’آئینہ وقت‘‘ کم و بیش سو (۱۰۰) صفحات پر مشتمل عنائیت اللہ صاحب کی پہلی قلمی کاوش ہے۔ ہر چند کہ تصنیف و تالیف کی دنیا میں اس کتاب کا نام نیا ہے۔ لیکن اس کے مصنف کا نام نہ نیا ہے نہ ہمارے لئے اجنبی ! آپ مشہورو معروف صوفی، معلم، دانش ور، ادیب اور شاعر جناب واصف علی واصف صاحب کے حوالہ سے علمی و ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ ذکر و فکر کی مجالس میں بھی پاکستان کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔
میں سمجھتا ہوں۔ کہ’’ آئینہ وقت‘‘ کے مصنف نے جناب واصف علی واصف صاحب کی طویل رفاقت میں جو دیکھا۔ جو سنااور جو پڑھا ۔اس کے قطرہ قطرہ قلزم بن کر کتب کی شکل میں سامنے آنے کا وقت اب آیا ہے۔
قبلہ واصف علی واصف صاحب نے ۱۹۷۳ ء میں تحریک خدمت ملت کے نام سے ایک اصلاحی تنظیم کی داغ بیل ڈالی تھی۔ جس کے مقاصد میں اسلامی ثقافتی انقلاب، پاکستان کا استحکام اور علاقائی سا لمیت کے لئے کام کرنا اور تحفظ نظریہ پاکستان شامل تھا ۔ یہ تنظیم تو کچھ عرصے بعد فعال نہ رہی۔ لیکن اس کی بازگشت آج ۲۶ برس بعد’’ آئینہ وقت‘‘ کی شکل میں گونجی ہے۔ لگتا ہے نہ یہ بلا سبب ہے نہ ہی مطلوبہ ثمرات حاصل کئے بغیر اب یہ ختم ہو گی۔
’’آئینہ وقت‘‘ نوحہ ہے ہماری ۵۲ سالہ ملی و قومی زندگی کا۔ اس نوحہ میں مصنف کے یہ الفاظ بار با ر ہمارے کانوں سے ٹکراتے ہیں۔ اسلام پڑھنے اور سننے تک محدود ہو گیا ہے۔ وہی اسلام جس کے نام پر پاکستان وجود میں آیا تھا۔ اس میں جمہوریت کے نام پرکھیلے جانے والے اس ناٹک کی تفصیل ہے۔ جو اس وطن میں نصف صدی سے کھیلا جارہا ہے۔ اور کتنی بے حس اور بدنصیب ہے وہ قوم جو اسے دیکھ کرخوش ہو رہی ہے۔ واہ واہ کر رہی ہے۔ تالیاں بجا رہی ہے۔ اسی قوم کے اندر ایک محب وطن پاکستانی نے ،اللہ کے ایک بندے نے، شاہ مرسلین ﷺ کے ایک غلام نے ،ایک آواز بلند کی ہے۔ ایک پیغام اس ملک کے عوام اور حکمرانوں تک پہنچانے کی کوشش ہے۔ جو ’’آئینہ وقت‘‘ کی صورت میں ہے۔ اس میں حکمرانوں کے لئے چند مشورے بھی ہیں۔ اور عوام کے غوروفکر کی چند باتیں بھی! یہ پیغام ایک فقیر، درویش، اور ایسے صاحب کا ہے۔ جو دانا و بینا ہے۔ جسے پروردگار نے ایسی بصیرت عطا فرمائی ہے۔ جو مستقبل میں دور تک دیکھ سکتی ہے۔
’’آئینہ وقت‘‘ ایک عبرت نامہ ہے۔ نصف صدی پہلے آزاد ہونے والے ایک ملک کا۔ دل لخت لخت کی پکار ہے۔ یہ ایک فرد جرم ہے جس میں سیاست کے ایوانوں میں مسلسل سرزد ہونے والے قومی و ملی سطح کے جرائم کی طویل فہرست درج ہے۔’’ آئینہ وقت‘‘ کی تحریر سادہ و سلیس ہے۔ اسلوب دلنشین جو دل سے نکلی بات کو قاری کے دل کی گہرائیوں میں پہنچا دیتا ہے۔مگر کہیں کہیں عبارت پڑھنے والے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ایسے موقع پر جناب واصف علی واصف صاحب کا قلمی فیض عنایت اللہ صاحب کی تحریر
کی اوٹ سے بولتا سنائی دیتا ہے۔
اپنے حال کو کلمہ شریف پڑھا لیں ۔ماضی خود بخود مومن ہو جائے گا۔ اور مستقبل روشن و درخشان۔ فریاد، آہ، تڑپ ، بیداری، یہ سب روح کے سوز کے ساز ہیں۔ ذرا ان کو چھیڑو۔ زندگی میں انقلاب برپا ہو جائے گا ۔ تنہائی میں بات کرو۔ قدرت جواب دے گی اور رہنمائی کرے گی۔
’’آئینہ وقت‘‘ کا وہ حصہ جس میں محنت کشوں، کسانوں، مزارعوں، اور مزدوروں کا استحصال کرنے والی قوتوں کا ذکرہے۔ زبان و بیان اور اسلوب کی خوب صورتی کے لحاظ سے قاری کے لئے بڑی دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔ کھیتوں، کھلیانوں ، زرعی علم کی باریکیوں کا ذکر پڑھ کر محسوس یہ ہوتا ہے ۔ کہ۔۔’’ آئینہ وقت‘‘ کا مصنف نرا ایک لکھاری ہی نہیں۔ ایک تجربہ کار کسان بھی ہے۔ اور اس کے جذبات و احساسات کا ایک بپھرا ہوا سمندر ہے۔ کہ جس کی لہریں مصنف کی قلم کی گرفت سے بار بار باہر نکل جاتی ہیں۔اس کے درد دل میں برپا ایک سیلاب ہے۔ کہ کسی ساحل کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔
’’آئینہ وقت ‘‘کے مصنف نے یہ آئینہ صرف پاکستان کے حکمرانوں ہی کو نہیں دکھایا۔ بلکہ اسے دنیا کے ان بڑے ملکوں اور اداروں کے سامنے بھی لارکھا ہے۔ جن کی دوغلی پالیسی کا طلسم اب ٹوٹ چکا ہے۔ جن کے دوہرے چہروں سے نقاب الٹ دی گئی ہے۔ اور امت مسلمہ یہ جان گئی ہے۔ کہ نام نہاد عدل و انصاف کے ان علمبرداروں کا رویہ عالم اسلام میں بسنے والوں کے ساتھ اور ہے۔ اور یہود ونصاری کیساتھ کچھ اور ۔۔۔۔
’’آئینہ وقت‘‘ کے آخری صفحات میں مصنف نے اکیس سوالات اٹھائے ہیں۔ جو اس مختصر سی کتاب کے متن ہی سے لے کر تشکیل دیئے گئے ہیں۔ اور یہ ایک طرح سے تلخیص ہے اس کتاب کی۔ ان اکیس سوالات میں سے ہر سوال قاری کے لئے غوروفکر اور تدبر کے دروازے کھولتاچلا جاتا ہے۔
’’آئینہ وقت‘‘ کے مطالعہ کے دوران اس کاتنبیہی اندازقاری کو بار بار اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ منجدھار میں پھنسی ہوئی کشتی کے ملاح کو کوئی چیخ چیخ کر پکار رہا ہے۔ اور اس چٹان کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ جو اس کی نظر سے اوجھل ہے۔مگر کشتی اس کی زد میں آ چکی ہے۔ اس فقیر کی دعا ہے کہ جو کچھ’’ آئینہ وقت‘‘ کے مصنف نے دیکھا ہے ۔ اب رب رحیم و کریم وہ ان لوگوں کو بھی دکھا دے۔ جن کے ہاتھوں میںملت کی کشتی کے پتوار ہیں۔ آمین۔

ڈاکٹر تصدق حسین راجا
اسلام آباد
۱۰ جولائی


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 47
    یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔ حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا…
  • 46
    محترم عنائیت اللہ صاحب کا ۔’’ آئینہ وقت‘‘ میرے سامنے ہے۔ میں نے جب اس کااحتساب دیکھا۔ تو میں یکدم چونگا۔ محترم عنائیت اللہ صاحب سے تعلق آج سے اکتالیس سال پہلے قائم ہوا۔ اور وہ تعلق آج تک قائم ہے۔ اس تعلق کی وجہ برادرم محترم قبلہ واصف علی…
  • 43
     کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ ۔۔جب آئینہ وقت کی اشاعت نے محبان ملک وملت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔۔ یہ ایک کتابچہ تھا ۔۔۔ کم و بیش سو صفحات پر مشتمل ۔۔۔جس میں مصنف نے پاکستان کی ۵۲ سالہ تاریخ کی کتاب کو ورق ورق کھول کر اپنے…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply