چراغ وقت کے مطالع کے بعد مصنف کے فکر واحساس اور کائناتی وسعت کا احساس ہوتا ہے ڈاکٹر رشید نثار

049

Rashed Nisar

عالمِ اسلام کے لئے جمہوریت ایکاہم مسئلہ ہے۔ جسے کبھی لطافت اور کبھی دل کی کسک کے ساتھ سو چا گیا ۔ اور کبھی جمہوریت کو بانسری کا الم نامہ بنا کر پیش کیا گیا اوریوں جمہوریت مسلمانوں کے لئے حقیقت، عرفان ، روحانی رموز و حقیقت کاروپ دھا ر کر موجودرہی۔
بابا عنایت اللہ صاحب مسلم امہ کے جمہوری دکھ کو محسوس کرتے ہیںاورانہوں نے اسے عارضی اورکثیف معاملات سے حقیقت ومعارف بنا کر اس موضوع پر بحث کی ہے۔ اور اہل اسلام کو شورائی جمہوریت کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے نزدیک جمہوریت کی اصل روح مشاورت ہے۔ چنانچہ ان کی تمام سوچ اور فکرایک خاص زاویہ نگاہ کی درست اور قابل تحسین شکل ہے۔
زندگی کی حقیقت اوراس کے اسرار کو تلاش کرنابابا عنایت اللہ صاحب کا ایک جوکھم ہے۔ انہوں نے مادی اور جسمانی زندگی کے استعارات کو جناب واصف علی واصف کے مکاشفات میں دیکھا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی جناب واصف علی واصف کی  قربت اور انکے روحانی تجربات کی روشنی میں بسر کردی۔ اب واصف علی واصف دوسری دنیا میں ہیں۔ مگر ان کی نمائندگی جناب بابا عنایت اللہ صاحب کررہے ہیں۔ دراصل مصنف کا میلان طبع اور عادتِ فکر انسانی یک رنگی کے جلوہ رنگ کو آنکھیں کھول کر دیکھنااور عارفانہ بصیرت کو حاصل کرنا ان کی اعلیٰ سطحی صلاحیت ہے۔
جناب بابا عنایت اللہ صاحب نے عامتہ الورود مسائل کے برعکس صادق اور شائستہ موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔ انہوں نے اسلامی جمہوریت کے موضوع پر لکھتے ہوئے انسان کی اصلی عظمت کو منکشف کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ ’’ شورائی نظامِ انتخاب جو جمہوریت کی اصل روح ہے ۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کی جاتی ہے‘‘۔
جناب بابا عنایت اللہ صاحب کو تخلیقی اپچ کی گرمی انہیںبے چین رکھتی ہے۔ یہ بے چینی انہیں ایک لذت اور نشۂ تخلیق مہیا کرتی ہے۔ چنانچہ وہ ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب تخلیق کرتے ہوئے کتاب دوستی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اب تک اس موضوع پر ان کی پانچ کتابیں یکے بعد دیگرے شائع ہو چکی ہیں۔ موصوف نے ہر کتاب میں اپنی قابلیت کی روشنی مہیا کی اور اپنے پندار کوبرقرار رکھا۔
زیر نظر کتاب میں مصنف نے جمہوریت کی وضاحت میں ہمت اور توفیق کو بھی اپنا شعار بنایا ہے۔ جس کی داد دینی پڑتی ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مذہبی موضوعات کو بلاخوف تردید اپنی زندگی کا آدرش بنایا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مذہبی دنیا کی کم نگہی کو بھی پیش نظررکھا ہے۔ چنانچہ کتاب کے مطالعے کے بعد مصنف کے فکر و احساس اور کائناتی وسعت کاانکشاف ہوتا ہے۔
اسلامی جمہوری نظام بے حد وسیع ہے اور ہمہ گیر ہے۔ تاہم اس موضوع پر کسی مصلحت اندیشی سے کام نہیں لیا جا سکتا۔جناب بابا عنایت اللہ صاحب نے دوٹوک اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور شورائی نظام کے پیچ و خم میں الجھے بغیر، صاف اور واشگاف الفاظ میں فیصلہ کن لہجے میں حوصلے اور بڑے نشاط کا جلوہ دکھایا ہے۔
اسلامی شورائی نظام تمدن انسانی قدروں کی نمائندگی کرتا ہے۔ جب کہ یورپی ، اشتراکی اور شاہی حکومتوں میں بربریت کی جملہ علامات ہمیشہ باقی رہتی ہیں۔ چنانچہ کمزور جمہورتوں کو مارشل لا ء کے ذریعے ختم کر دیا جاتا ہے۔ جہاں سے آمرانہ کردار کی تربیت کاآغاز ہوتاہے۔ لیکن اسلامی جمہوری نظام میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک تو مجلس شورائی کاانتخاب بلند ترین تصور کے مطابق کیا جاتا ہے۔ جس سے خدا خوفی اور بالغ شعور کی تشکیل ہوتی ہے۔ چنانچہ مجلس شوریٰ مخالف حادثات کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہے۔ اورعالم بقا کے لئے انسان کی رہنمائی کرتی ہے۔
اسلامی جمہوریہ کا قیام موجودہ عہد میں نازک اور جذباتی بنا دیاگیا ہے۔ جس نے جناب باباعنایت اللہ صاحب کو تڑپا دیا ہے۔ چنانچہ اسلامی نظام اور اسلامی جمہوریت کو موصوف روح اور مٹی کارشتہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ آدرش اندرونی پست کاباعث اور باطنی اختلاف کے انکار کی طرف پیش رفت کاامکان ہے۔ اسلامی جمہوریت کسی جماعت یا کسی حاکم کا منشور نہیں۔ بلکہ اس نظام کا تعلق خدا ،قرآن حکیم اور رسول پاکﷺ سے ہے۔ انسانی حرکت اور انتہائی مضطر قلب وروح کی آسودگی کا رازاسلامی جمہوریت میں مضمر ہے۔ اس کے برعکس دوسری جمہوریتیں تاویلات سے تعلق رکھتی ہیں۔ جن سے ’’وقت‘‘ کاضیاع خارج ازامکان نہیں ہے۔
جناب بابا عنایت اللہ صاحب اسی لئے اسلامی جمہوریت کو ’’چراغ وقت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ کہ اسلامی جمہوریت تاویل یا تفصیل نہیں بلکہ ممتاز مرتبے، معیار، پختگی اور جید انداز نظر سے اس کا انمٹ رشتہ ہے۔
جناب باباعنایت اللہ صاحب نے اپنے فکر کے ذریعے مغربی جمہوریت اوراسلامی جمہوریت کے فرق کو واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دونوں جمہورتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اصل میںمغربی جمہوریت سر کے بل کھڑی ہے۔ جب کہ اسلامی جمہوریت اپنی ٹانگوں کے بل پر ایستادہ ہے۔ چنانچہ’’ چراغ وقت‘‘ زیر نظر کتاب مغربی جمہوریت پر زبردست تنقید ہے۔ جس کی ورق گردانی سے حیرت ہوتی ہے۔ کہ جناب بابا عنایت اللہ صاحب نے ایک اہم سائنسی موضوع پر بڑے دلکش انداز اور اندرونی دکھ کے ساتھ اپنے زاویۂ نگا ہ کو پیش کیاہے۔ ان کے نقطۂ نظر سے اختلاف اس لئے مشکل ہے کہ موصوف کی ہمہ گیری ،فراخ حوصلگی اور ذہنی آزادی انتہائی بے باک ہے۔ جو کھرے کھوٹے کی اصلیت کو ثابت کرتی ہے۔
میرے نزدیک جناب بابا عنایت اللہ صاحب ایک ایسی شخصیت ہیں جو اسلامی مسائل اور مسلم امت کے دکھ کو فطری منصب سمجھ کر اپنے ذاتی انہماک اور نشاط کار کو پیش کررہے ہیں۔
خدا ان کے قلم کو ہمیشہ رواںدواں رکھے (ّآمین)
ڈاکٹر رشید نثار
راولپنڈی

 


Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 65
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 61
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 52
    عنایت اللہ صاحب کی تازہ تصنیف (چراغ وقت) پر میرا اظہار خیال ایسا ہی ہے ۔ کہ جیسے سورج کو چراغ دکھانا۔ کہنے کو تو یہ وقت کے عنوان سے ان کی تقریبا نصف درجن کتابوں کا تسلسل ہے۔ لیکن در حقیقت یہ نوع انسانی کے موجودہ تصورات کو بدلنے…
  • 50
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 50
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 49
    عنائیت اللہ صاحب ان مقربان خاص میں سے ہیں۔ جنہیں جناب واصف علی واصف صاحب جیسے درویش طبع دانشور کی خدمت میں رہنے کا شرف انتہائی ابتدائی زمانہ سے نصیب رہا ہے۔ سرکاری ملازمت کی مصروفیات کے باوجود انہوں نے اپنے رفیق خاص کی خدمت میں اپنے وقت اور وسائل…
  • 48
    یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔ حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا…
  • 47
      انسانی ارتقاء تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ تبدیلی ماحول کی ہو، نظریات کی ہو یا خیالات کی، اس سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ بنیادی مشکل انسان کو ہر لحظہ درپیش رہتی ہے۔ وہ چاہے تبدیلی کاخیر مقدم کرے۔ یااسے کلی طور پر رد کر دے۔ ہر مقام پراسے…
  • 46
    عصرِ حاضر وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا قتیلِ عشق کے باطن کی آرزو نہ رہا رگوں میں جوش حمیت کی آبرو نہ رہی دلوں میں جوشِ اخوت وہ کو بہ کو نہ رہا تڑپتے دل کی پکاروں کی بے…
  • 45
    کتاب ’’آئینہ وقت‘‘ کے مصنف کو میں عرصہ پچیس سال سے جانتا ہوں۔ اور اس کے ساتھ وقت کی ہر بنت سے گذرا ہوں۔ جو دن ، دوپہر، شام ، رات، اور صبح کاذب اور صادق کے درمیان نئے نئے چھاپے چھاپتی ہے۔ اور نئے نئے رنگ ابھارتی ہے۔ عنائیت…
  • 41
     کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ ۔۔جب آئینہ وقت کی اشاعت نے محبان ملک وملت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔۔ یہ ایک کتابچہ تھا ۔۔۔ کم و بیش سو صفحات پر مشتمل ۔۔۔جس میں مصنف نے پاکستان کی ۵۲ سالہ تاریخ کی کتاب کو ورق ورق کھول کر اپنے…
  • 41
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…
  • 41
    کتاب لکھنا ، کتاب پڑھنا اور پھر کتاب پر تبصرہ کرنا ایک انتہائی مشکل اور کٹھن کام ہے ۔ کتاب کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک صاحبِ کتاب کی شخصیت اور اس کے افکار سے شناسائی نہ ہو ۔ آئیے ! پہلے صاحب کتاب کی شخصیت سے…
  • 41
    برادر عزیز ڈاکٹر تصدق حسین راجہ کا میں تہہ دل سے ممنون ہوں۔ کہ ان کی وساطت سے ایک مرد خود آگاہ اور درویش خدامست سے اکتساب فیض کی سعادت نصیب ہوئی۔ میرا اشارہ جناب عنایت اللہ صاحب کی جانب ہے، جنہوں نے ایک طویل عرصہ تک عہد حاضر کے…
  • 40
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 40
    آج کے معروف دانشور بابا عنایت اللہ کی تازہ تصنیف’چراغ وقت‘ پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔میرے دل کی کلی کھلی۔اس بار موصوف کے دل کی گہرائیوںسے کہی ہوئی بات، قاری کے دل پر جا گرتی ہے اور پھر اپنا اثر دکھاتی ہے۔مو صوف نے اس دور کے معروف فقیر دوست…
  • 39
    اس کتاب کا مسودہ پڑھتے وقت حضرت اقبال رحمتہ اللہ کا یہ شعر میں دیر تک زیرلب گنگناتا رہا ۔ وہی ہے بندۂ حر جس کی ضرب ہے کاری نہ وہ کہ حرب ہے جس کی تمام عیاری ۔ ۔ اس مسودہ کو پڑھتے وقت حضرت اقبال رحمتہ  اللہ کا…
  • 39
    Back to Kuliyat e Gabriel پیشِ لفظ شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح…
  • 36
    ہر معاشرے میں گروہ در گروہ مختلف النوع لوگ اپنے اپنے نظریات میں مقید، مختلف راہیں اختیار کرتے ہیں۔انکی سرشت،ماحولیات،رنگ روپ،طبقاتی بانٹ اور اندر صاف اور گندے لہو کا بہنا اسی بات کا مقتضی ہوتا ہے کہ وہ اپنی فردیت اور اپنے گروہ کی یکجائی کیلئے سر گرداں رہیں۔اسی میں…
  • 36
    Back to Kuliyat e Gabriel گریہ نیم شبی خدایا شکر ہے رکھا مرا اجر اپنے ہاتھوں میں وگرنہ کس طرح ملتی مجھے محنت کی مزدوری بڑی مشکل سے سمجھائے تھے ملت کو سب اندیشے رلا کر رکھ گئی مجھ کو یہ احساسِ مجبوری خخ رلاتی ہیں مجھے ملت کی حسن…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Subscribe By Email for Updates.
Copied!