فلیپ برا ئےچراغِ وقت تحریربانو قدسیہ صاحبہ

052

banoqudsiaہر معاشرے میں گروہ در گروہ مختلف النوع لوگ اپنے اپنے نظریات میں مقید، مختلف راہیں اختیار کرتے ہیں۔انکی سرشت،ماحولیات،رنگ روپ،طبقاتی بانٹ اور اندر صاف اور گندے لہو کا بہنا اسی بات کا مقتضی ہوتا ہے کہ وہ اپنی فردیت اور اپنے گروہ کی یکجائی کیلئے سر گرداں رہیں۔اسی میں انسانی بقا اور اسکے ارتقاء کا راز بھی پنہاںہے۔لیکن ان ہی لوگوں میں کچھ سر پھرے، حق کی آواز سننے والے ایسے بھی ہوتے ہیں جو انہیں ایک ہی راستہ کی طرف بلاتے ہیں جو سفرِحیات کا شارٹ کٹ بھی ہے اور ابدی سکون کا ضامن بھی۔
ان ہی لوگوں میں بابا عنایت اللہ ہیں۔
وہ سیدھے راستے کی ترغیب دلانے والوں میں سے ہیں۔لیکن انکا لہجہ ترش نہیں ۔ وہ ملامت نہیں کرتے جھڑکا نہیں مارتے سارے کام تجزیے سے کرتے ہیں۔ مغربی تہذ یب ہویا مغرب کا حالیہ مذہب جمہوریت،وہ بڑے سیدھے سبھاؤ،اسکے نیک و بد کو دو اور دو چار کی زبان میں بیان کر دیتے ہیں۔مخلوط معاشرے کا اندیشہ ہو تو بھی وہ سیدھی بات کرتے ہیںجس میں اصولوں کا انحراف کرنے والوںکیلئے مقامِ فکر ہے۔وہ تمام انسانیت کیلئے محبت کا مرہم لے کر آگے بڑھتے ہیں، اور واضح کرتے جاتے ہیں کہ گناہ اور جرم میں فرق صرف ضابطہ حیات کا ہے،اور یہی ضابطہ حیات قوموں میں اور فرد میں فرق متعین کرتا ہے۔
بابا عنایت اللہ کسی قوم،کسی ملک اور کسی فرد کو ساری انسانیت کا اجارہ دار نہیں سمجھتے۔وہ دعوت حق دیتے ہوئے جینے کا حق بھی تفویض فرماتے ہیں۔ایمان نہ لانے والوں پر ادب اور محبت کا دروازہ بند نہیں کرتے،راہِ راست پر لانے کیلئے انہیں ایٹم بم کی ضرورت نہیں،نہ ہی وہ امریکی سیاست سے سبق حاصل کر کے کسی پر بمباری کر کے اپنی منوانا چاہتے ہیں۔
یہی با با عنایت اللہ کی خوبی ہے۔۔۔اور شاید اس طاقت کے دور میں انکی خرابی بھی ! کیونکہ تبدیلی خیر سے بھی آتی ہے اور شر سے بھی۔خیر شارٹ کٹ ہے اور شر لمبا راستہ۔اسی لمبے راستے سے بابا عنایت اللہ بار بار بچانے کے در پے ہیں۔کیونکہ بالآخر شر کو خیر پر منتہج ہو کر ہی سکون ملتا ہے۔جب تک شر ساکت نہ ہو اور خیر فعال نہ ہو جائے انسان فلاح نہیں پا سکتا۔

(بانو قدسیہ)
داستان سرائے
۱۲۱۔سی،ماڈل ٹاؤن،لاہور


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 77
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 56
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 47
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “فلیپ برا ئےچراغِ وقت تحریربانو قدسیہ صاحبہ

Leave a Reply