فلیپ برائے نا د وقت

058

 banoqudsia

انسانی ارتقاء تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ تبدیلی ماحول کی ہو، نظریات کی ہو یا خیالات کی، اس سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ بنیادی مشکل انسان کو ہر لحظہ درپیش رہتی ہے۔ وہ چاہے تبدیلی کاخیر مقدم کرے۔ یااسے کلی طور پر رد کر دے۔ ہر مقام پراسے دوئی کا سامنارہتا ہے۔ وہ یکجائی کو ترستا ہے۔ لیکن تضاد سے خارج نہیں ہو سکتا۔ انسان اپنے فیصلے کے تیر سے خود شکار ہوتا ہے۔
اکیسویں صدی نے مادیت کو اپنا کر اور بالآخر ماحول کی تبدیلی کو قبول کرکے اپنے لئے اعتقادات، نظریات اور خیالات کے ایسے تضادات کو اجاگر کیا ہے۔ کہ آج کا انسان ہر صبح امید کافلک بوس سکائی سکریپر اسارتا ہے۔ اور اندھیرے سے ذرا پہلے یاس کا خودکش بم گرا کر اپنے ہی ارادوں کو مسمار کر دیتا ہے۔
یہ عہد عجیب کشمکش آمیز آرزو مندی کا ہے۔ اسی لئے اب ادب کی سمتیں بھی پھیلنے لگی ہیں۔فرد اور معاشرہ اب افسانے، ناول ،غزل سے سرکتے سرکتے کتابوںمیں ایسے علاج تلاش کررہے ہیں۔ جواس ماحولیاتی نظریاتی تبدیلی کاتوڑہوں۔جو ان کے وہ دیئے نہ بجھا ئیں۔ جو یقین ،امید اور ایمان کے تیل سے جلتے ہیں۔
’’نادِوقت ‘‘ آج کے عہد کی ایک ایسی ہی کارآمد تفکر پر ابھارنے والی جاندار کتاب ہے۔ مادیت اور روحانیت کے درمیان دوئی کے سفر میں سرگرداں تضاد کے ہاتھوں نالاں سفر کرنے والوں کو ’’ نادِ وقت ‘‘ سے وہ تقویت ،استقامت اور راحت مل سکتی ہے۔ جس کی تلاش میں وہ ہر مقام اور ہر لحظہ مارے مارے پھرتے ہیں۔
جناب عنایت صاحب کے لئے دعائیں۔ بانو قدسیہ


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply