گلوبلائزیشن اور ملٹی نیشنل کمپنیاں تحریررضوان یوسف

032

rizwanyousaf
میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اس لئے مجاہد ، میں اسی لئے نمازی
تہذیبی اعتبار سے دنیا آج نہایت جدید دور سے گزر رہی ہے۔ سائنس کی تعلیم وترقی اور اس کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ایجادات نے انسان کو انتہائی حد تک مادہ پرست بنا دیا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ انسان تمام معاملات کو صرف مادی کسوٹی پر ہی پرکھتا ہے۔ گویا اس جدید دور کو ہم خالصتاً مادی خواہشات اورسہولیات کے حصول کا دورکہہ سکتے ہیں۔ یہ اسی دور کا شاخسانہ ہے کہ ہر طرف سے چیزیں سمٹ کر گلوبلائزڈ ہورہی ہیں ۔ گلوبلائزیشن کی اصطلاح جو کہ اکسویں صدی کی مشہور ترین اصطلاح ہے، امریکی نیوورلڈ آرڈ کو دنیا پر مسلط کرنے کے لئے اختیار کی گئی ہے۔ صیہونی لابی یہ چاہتی ہے کہ پوری دنیا پر سیاسی ،سماجی،اقتصادی،معاشی،صنعتی،سائنسی،مذہبی اور نسلی فوقیت کیسے مسلط کی جائے اس کا طریقہ کیا ہو اور پوری دنیا کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟تاکہ ہر قسم کی مزاحمت ختم ہوجائے اور صہیونی بلا شرکت غیرے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر پوری دنیا کے واحد سیاسی اور مذہبی حکمران ہوں۔۱۹۱۸ء میں منظر عام آنے والی خفیہ معاہدے کی دستاویزات’’پروٹوکولز‘‘میں اس کو سپر گورنمنٹ کا نام دیا گیا تھاجبکہ مشہور یہودی فلاسفر برٹرینڈرسل نے اپنے ایک مشہور مضمون’’سائنیس اینڈ ویلیوز‘‘میں اس قسم کا اظہار کیا تھا کہ پوری دنیا صرف ONE WORLD GOVERNMENT قائم ہونی چاہئے ۔وہ ایسے ہوسکتی ہے کہ دنیا کی دوبڑی طاقتوں روس اور امریکہ کی عسکری افواج کو لڑایا جائے۔بالآخر امریکہ کی عسکری طاقت غالب آجائے اور اسکے خلاف مزاحمت نہ رہے اوراسکے درپردہ پوری دنیا پر تنہا یہودیzionists کی حکمرانی قائم ہوجائے ۔لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ گلوبلا ئزیشن کو اسی فلسفے کے تحت آگے بڑھایا جارہا ہے۔جس کا سب سے بڑا ذریعہ دراصل ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں۔اسی سلسلے کی ایک کڑی کا اظہار سابقہ امریکی صدر روز ویلٹ نے کیا خوب کیا تھا’’ہم اس وقت جس دنیا کو امریکا یا سودیت یونین کی دنیا کہہ رہے ہیں،بہت جلد ملٹی نیشنل کمپنیوں کی دنیا ہوگی۔
ملٹی نیشنل کمپنیوں نے سرخ اور سبزِ،لیفٹ اور رائٹ پہلی،دوسری اور تیسری دنیا کی تقسیم ختم کردی ہے اور سات براعظموں پر پھیلی اس دنیا کو سمیٹ کر گلوبل ولیج بنا دیا ہے۔آج کے دور کا انسان اگر صبح گھر سے نکلے تو شام کو پوری دنیا کا چکر لگا کر لوٹ سکتا ہے ۔ آپ صبح ناشتے میں ایک توس،مکھن،جیم اور کافی پسند کرتے ہیں،دن میں منرل واٹر نیسلے کا پیتے ہیں ،لنچ چائنیز کھانوں کا کرتے ہیں۔سہہ پہر کو چاکلیٹ ،کیک،ایک کپ چائے اور تھوڑے سے پی نٹس لیتے ہیں،ڈنر میں کانٹیننٹل اور سٹار ہوٹلوں کے کھانے پسند کرتے ہیں۔کولڈڈرنکس میں پیپسی،جوس اور ڈبے کا دودھ پیتے ہیں،اے سی کے بغیر آپ کو نیند نہیں آتی ۔تھری پیس سوٹ پہنتے ہیں،جاگرچڑھاکرواک کرتے ہیں۔انگریزی سنتے اور فرفربولتے ہیں۔آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں تشریف لے جائیے آپ کو وہاں پر یہ ساری سہولیا ت میسر ہوں گی تو یہ دنیا ہوئی نا آپ کے لئے گلوبل ولیج،بحرحال بہ تحقیق امام زماں،محقق دوراںحضرت علامہ محمد یوسف ،یہ سارا پروسس بیکنی کلچر ،مسلسل وجدید سائنسی ترقی،حرص،لالچ اور دولت اندوزی ،نیچر پر انسانی تسلط پھر اس بات کا یقین کہ یہ سب کچھ قائم رہے گا کبھی ختم نہ ہوگا جو کہ کیپٹلزم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔اب ہمارے سامنے ان کمپنیوں کی شکل میں صحیح ترتیب دیا جا چکا ہے،دراصل اس قرآنی حکم کی عکاسی کررہا ہے الزی جمع مالاًو عددہ یحسب ان مالہ اخلادہ(الھمزہ)
ترجمہ:
اور سرا سر اس قرانی حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔۔کئی لایکون دولتہ بین الاغنیائ(الحشر) جی ہاں!یہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ہی کھیل ہے کہ انہوں نے پوری دنیا کے نظام کو بالآخر اپنے شکنجے میں کس کر غلام بنا لیا ہے۔
علامہ محمد یوسف جبریل  کی تحریروں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا یہ سارا سرمایہ معاشی ،سیاسی،مذہبی اور تہذیبی لحاظ سے صرف مالداروں کو فائدہ دیتا ہے اور باقی سب کا استحصال ہوتا ہے۔بقول علامہ محمد یوسف جبریل صاحب ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اس فلسفے کا بانی فرانس بیکن ہے جو اس دور کے انسانوں کا سب سے بڑا دشمن اور شیطان ثانی ہے ۔جس نے نسل انسانی کو سائنسی ترقی وآرائش اور آسائشوں کا جھانسا دے کر ورغلایا اور الجھن میں مبتلا کیااور آج تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے لہٰذا اس فلسفے کی پیروی کرتے ہوئے یہ کمپنیاں ۷رنگوں ،۷۰۰نسلوںاور۱۸۰ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں ۔سات براعظموں کی یہ دنیا زبان ،لباس اور مفادات پر بے شک ایک دوسرے سے دست وگریباں رہے ایک دوسرے کا گلا گاٹے مگر دودھ نیسلے کا ہی کاپیے۔پانی بڑی گیارہ منرل کمپنیوں کا پیے۔کولڈڈرنک کوکا کولا اور پیپسی ہی کا پیے۔گویا مرے یا جیے تمام لوازمات انہی کمپنیوں کے رحم وکرم پر ہیں۔
گویا اس وقت پوری دنیا پر پانچ سو کمپنیاں حکومت کر رہی ہیں جنکے قبضہ میں گلوب کا نوے فیصد سرمایہ ہے۔جب ہم ان کمپنیوں کے اثاثہ جات اور شےئرز کا جائزہ لیتے ہیں تو علامہ صاحب کی تحقیق حق ثابت ہوجاتی ہے کہ اس دور کے آقا مالک یہودی ہیں تو ان میں سے دوسو بارہ کمپنیوں کا تعلق امریکا سے ہے جبکہ نصف کمپنیوں میں یہودیوں کے میجر رشےئر زہیں۔ایکسن موبائل دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے جسکے اثاثے ۲لاکھ۱۰ہزار۳سو۹۲ملین ڈالر ہیں۔یہ کمپنی چاہے تو براعظم آسٹریلیا بلا شرکت غیرے خرید سکتی ہے۔انہی کمپنیوں کی وجہ سے انڈرورلڈمعرضِ وجود آئی ہے۔یہی کمپنیاں دورِجدید میں انتشارکے پھیلاؤ کا بنیادی ذریعہ ہیں۔خفیہ ایجنسیوں سی آئی اے،ایف بی آئی،موساد،کے جی بی،را،بلڈربرچ اور ہوم لینڈ سیکورٹی کا وجود انہی کمپنیوں کے دم سے ہے۔گویا پوری دنیا میں انتشار اور ہشت گردی کی ذمہ دار بھی یہی کمپنیاں ہیں۔اب ایک اور سازش کے تحت ان کمپنیوں کو ضم کرکے ایک بڑی تنظیم WTOکی شکل میں منظم کیا جارہا ہے اور اسے فری ٹریڈ کا نام دیا گیاہے۔ یہ صرف امیر ممالک کے مفادات کو پروموٹ کرنے کے لئے معرضِ وجود میں آئی ہے۔دراصل اسکے پیچھےIMF اور ورلڈ بینک کے بدترین استحصالی نظام کا ایجنڈا کار فرما ہے۔ظاہری اعتبارسے گلوبلائزیشن کو قابو کرنے کے لئے ورلڈ سوشل فورم تشکیل دیا گیاہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ اس دور جدید کا انسان منفی پروپیگنڈا سے اتنا کنفیوز ہوچکا ہے کہ یہ سچ کو جھوٹ ثابت کرتا ہے اور جھوٹ کو سچ ثابت کرکے اپنے آپ کو سچاخیال کرتا ہے جو سراسر ایک دھوکے والی چال ہے۔ ورلڈ سوشل فورم پروپیگنڈاتو گلو بلائزیشن کے خلاف کرتاہے مگر عمداًاس کے جال میں بری طرح پھنسا ہوا ہے۔دراصل اس یہودی نظام سیاست وتجارت کی بنیاد ہی یہودیوں نے برتری کے اصول پر رکھی ہے دوسروں کی جان ومال،عزت وآبرو کو لوٹنا اور اپنی برتری قائم کرکے دوسروں کو غلام بنانا اور پھر اس دہشت گردی میں مشرکین ومنافقین کو ساتھ ملا کر الا ئیڈ فورسز بنانا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر پوری دنیا میں دہشت پھیلانا’’یھلک الحرث والنسل ‘‘کا عملاًانتظام کرنا،فتنہ وفساد ،بھڑکانا،سودخوری بے مروتی،کنجوسی ،مکاری وغداری سنگدلی وتعصب کو پروان چڑھانا دراصل یہودی ذہن کا ہی خاصا ہے۔
بقول علامہ یوسف جبریل غور سے دیکھاجائے تو آج کی مغموم انسانیت کے جتنے دکھ ہیںسب کے سب انسان پر چھائی ہوئی یہودی ذہنیت وسوچ کے پیدا کردہ ہیں۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 53
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…
  • 34
    تصویر سے ملے تصویر تحریر رضوان یوسف ہم جانتے ہیں کہ نشہ انسان کو حقیقتوں سے آگاہ نہیں ہونے دیتا بلکہ یہ کہا جاسکتاہے کہ حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لئے نشہ استعمال ہوتا ہے ۔ ’’ نماز کے قریب مت جاؤ جب تم نشے میں ہو ‘‘ اب دیکھنا…
  • 34
      علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply