Gulbang e Sadarat Kay Funny Mahasin by Prof. Rauf Ameer

Gulbang e sadarat ky Funny Mahasin

Gulbang e Sadarat kay Funny Mahasin.

By Prof. Dr. Rauf Ameer.

Click Here To Read The Full Article




Gulbang e Sadarat 

Gulbang e Sadarat was Written by Allama Muhammad Yousuf Gabriel on october 10, 1970 Before The Election. In Which Allama wished to be a President of Pakistan so that he can Easily Remove the Corruption , Change the Economic system of  Pakistan, Political System, social system by Using His Power…..

Main jo is Mulk ka Aik Sadar e Garami Ban jau....

Click Here To Read Full Poem Gulbang E Sadarat



Print Friendly

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “Gulbang e Sadarat Kay Funny Mahasin by Prof. Rauf Ameer

  1. رؤ ف امیر چند یادیں
    تحریر : شوکت محمود اعوان نواب آباد

    رؤف امیر ٹیکسلا اور واہ کے نوجوان شعراء میں اپنا ایک خصوصی مقام رکھتا ہے۔ وہ شاعری میں تشبیہات، استعارات اور اچھوتے افکار و خیالات کے استعمال پرکلی دسترس رکھتا ہے۔ وہ گھر کے ماحول سے لے کر معاشرے کے وسیع کینوس کی خوبصورت انداز میں تصویر کشی کرتا ہے۔ اس کی گھمبیر ذات کی طرح اس کی شاعری بھی گھمبیر ہے۔ اس کی انفرادی نوعیت کی باتیں معاشرتی پہلوؤں کا مکمل ادراک رکھتی ہیں۔ اتنی کم عمری میں اتنے اعلیٰ پایہ کے شعر کہنے سے رؤف امیر کے اعلیٰ ٹیلنٹ کی نشان دہی ہوتی ہے۔ واہ اور ٹیکسلا کے بے شمار نوجوان شعراء کے کلام پر رؤف امیر کے کلام کی چھاپ ہے ۔ رؤف امیرنے بہت سے نوجوانوں کی شاعرانہ صلاحیتوں کو اپنی بلند پایہ علمی شخصیت کی لو سے روشنی بخشی ہے۔ واہ شعرو ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کر رہاہے، خوش قسمتی سے واہ چھاؤنی میں ادیبوں اور شاعروں کا ایک قافلہ سرگرم عمل ہے، رؤف امیر اس جتھے میں نمایاں شخصیت کے طور پر ابھررہا ہے، دبستان رؤف امیرکے اثرات اب واہ کی ادبی محفلوں میں بھی محسوس کئے جا رہے ہیں۔ رؤف امیر کی ذات اور شاعری میں ہم آہنگی موجود ہے ۔ اسے بلند پایہ فکر کے حامل شاعر کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔اس کی شاعری میں زورِ بیان کے ساتھ شستگی اور توازن بھی موجود ہے ۔
    رؤف امیر کی شاعری میں موسیقیت اور روانی کا عنصر غالب ہے۔ وہ روزمرہ زندگی کے واقعات کو غیر معمولی قوت متخیلہ کے ذریعے اچھوتے انداز میں بیان کرتا ہے۔
    میں بادشاہ بننے لگا تھا مگر امیر سر پر ذرا سارک کے پرندہ گزر گیا
    تعمیر میں عجلت کا نتیجہ ہی یہی تھا ہے کوئی سلیقہ نہ کوئی ڈھنگ مکاں میں
    یہاں زرخیز مٹی ہی نہیں تو پھول کیا مہکیں یہاں حدِ نظر تک ریگ صحرا ہے جہاں ہم ہیں
    ہم اپنے عہد کے یوسف ضرور ہیں لیکن کنوئیں میں قید ہیں بازار تک نہیں پہنچے
    امیر اب میں بھی واقف ہو گیا ہوں اس حقیقت سے کہ کیا ہے دور صحرا میں جو پانی سا چمکتا ہے
    آخری دن تھا سر کو اٹھا کر چلنے کا اس کے پاؤں پہ جب میں پہلی بار گرا
    اب نئی تعمیر کا ساماں پور اہو گیا اب شکستہ گھر کی دیواریں گرانی چایہیں
    رؤف امیر کی نظم ’’ خان صاحب کی تقریر ہو یا گھر آنگن ‘‘ ’’گاؤں میں آخری شام‘‘ ہو یا ’’دل شناسی‘‘، ’’در نایاب ‘‘ہو یا ’’موت سے پہلے ایک نظم‘‘ سب نظمیں انتخاب ہیں۔
    کالج کی لڑکیوں کے ہجوم میں رؤف امیر اپنی تازہ نظم یاغزل سنا رہا ہو تا ہے تو اس کے چہرے پر سوچ اور تفکر کا ایک سیاہ پردہ سا چھا جاتاہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاس کھڑی ہوئی دلچسپ نیرنگیوں میں مطلقاََ دلچسپی نہیں لے رہا۔ بلکہ جذبات و احساسات کے عمیق سمندر میں غوطہ زن دکھائی دیتا ہے ۔ اس کے افکار و خیالات رنگا رنگ اشعار کی شکل میں منعکس ہو کر رونقِ محفل ہو جاتے ہیں۔ اس کی ذہانت و فطانت ہی زندگی میں اس کی برق رفتار ترقی کا باعث ہے۔ ایک متوسط خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود نمایاں مقام حاصل کرنے کا خواہش مند ہے۔ وہ انتہائی متاثرکن تصورات اور رنگین خوابوں کو ذہن و فکر میں رکھ کر سامعین سے محوِ گفتگو ہوتاہے۔ اس کی فکری گہرائی، فطانت، ذہانت اور تدبر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک دن آسمانِ ادب کا روشن ستارہ بن کر چمک اٹھے گا۔ ادبی دوستوں کے بے حد اصرار پر محفل میں اپنی کوئی تازہ نظم سنانے لگتا ہے تو رؤف امیر کوکئی آنکھیں رشک کی نگاہوں سے دیکھتی ہیں۔ شائد کچھ دلوں میں بغض و عناد کی لہریں بھی عود کر آتی ہوں ۔یہ ایک فطری امر ہے۔ جس کوروکا نہیں جا سکتا۔ لیکن سب کے دلوں میں رؤف امیر کے لئے دلی محبت و احترام کا ایک در ضرور کھلارہتا ہے۔
    کلاس میں رؤف امیر اپنی بے پناہ تدریسی صلاحیتوں اور تحقیقی و تنقیدی مطالعات کا بھر پور استعمال کر رہا ہوتاہے تو اس کے طلبا انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ تنقیدی موضوعات ہوں یا ادبی مباحثے ہر جگہہ اس کے علم کا سکہ رواں رہتا ہے۔ وہ اس امر کا بھی خواہش مند ہوتا ہے کہ جب وہ قہقہوں پر قہقے لگا رہا ہو تو اس کے دوست بھی اس کے ساتھ شریک ہوں اور اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس کی یہ آرزو بھی ہوتی ہے کہ اس کے دوست زمانے کے رنج و غم اس کی مسحور کن گفتگو میں گم کر دیں۔ چلتے چلتے ہاتھ کی پوری قوت سے اپنے کسی ساتھ چلنے والے دوست کو رکنے کا اشارہ کرتا ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ اس کے ہمنوا اسی طرح اس کے ساتھ محو گفتگو رہیں اور شام ہو جائے۔ آج اس کی اپنی زندگی کی شام ہو گئی ہے۔ نہ جانے کیوں اچانک ہی نگاہوں کے سامنے اس کا زندگی کی حرکت اور حرارت سے لبریز چہرہ گھوم گیا ہے۔ یادوں کا ایک ہجوم ہے جو ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ رؤ ف امیر میرے والد محترم علامہ محمد یوسف جبریل کے پاس اکثر چلا آتا اور ان سے علمی موضوعات پر محو گفتگو رہتا ۔ وہ بھی اس کے لئے انتہائی نیک جذبات رکھتے۔ اور مسلسل دعا گو رہتے تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ رؤف امیر علمی و ادبی دنیا میں بلند مقام حاصل کرے گا۔ میں جب ان کی اس بات پر غور کرتا ہوں تو مجھے اس میں کلی صداقت نظر آتی ہے۔ رؤف امیر نے مسلسل محنت و کوشش کے ذریعے معاشرے میں بلند مقام حاصل کیا ۔ وہ چاروں دفعہ مقابلے کے امتحانات کے ذریعے بحیثیت لیکچرر اسسٹنٹ پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر اپنی تدریسی خدمات انجام دینے کے بعدسکالر پاکستان چیئر انٹرنیشنل لینگوئجز یونیورسٹی الماتے ( قزاقستان) تعنیات ہوا۔ اس کی علمی و ادبی خدمات کے لئے ایک دفتر درکار ہے۔ اس کی تصانیف میں ’’در نیم وا ، دھوپ آزاد ہے، اقلیم سخن( افتخار عارف شخصیت و فن) ماہ منور، (انور مسعود شخصیت و فن) ، شاہراہ ریشم کی جان قزاقستان ، رؤف امیر کے دیباچے، مرتبہ میاں جابر اقبال۔ ادبی تنازعات محمد حمید شاہد، مرتبہ پروفیسر رؤف امیر، اردو سفر نامے کا گل خود رو محمد توفیق ، کلیات حافظ محمد ظہور الحق مرتبہ پروفیسر رؤف امیر، اہم ہیں۔اس کے سینکڑوں علمی و ادبی مضامین مختلف رسالوں اور ادبی پرچوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ جنہیں یکجا کرکے شائع کرنے کی ضرورت ہے۔
    رؤف امیر کا ایم فل کا مقالہ’’ اردو غزل مخالفت و مدافعت ‘‘ اور پی ایچ ڈی کا مقالہ’’ رفیق خاور۔ احوال و آثار‘‘ ان کی شبانہ روز محنت کا ثمر ہیں۔ جن کی اشاعت سے تاریخِ ادب کے متنوع الجہات گوشے سامنے آ سکتے ہیں۔ شاید ان کی اولاد کو کبھی موقع ملے اور وہ ان کے ان عظیم کارناموں کو ادبی دنیا کے سامنے لا سکے۔ احمد ندیم قاسمی کا تصور انسان اور جدید اردو غزل دو اہم کتابیں غیر مطبوعہ ہیں۔ رؤف امیر کا ایک مجموعہ کلام بھی ابھی تک اشاعت کی راہ دیکھ رہا ہے۔ رؤف امیر جیسے لوگ بلا شک و شبہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے رہنے والے غیور عوام کے لئے باعثِ فخر ہیں۔ یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ قزاقستان کی حکومت نے ان کی تعلیمی و تدریسی خدمات کی بنیاد پر انہیں بعد از وفات آسکر ایوارڈ سے نوازا ہے۔واضح ہو کہ وہ پہلے غیر ملکی ادیب ہیں کہ جنہیں قزاقستان کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا ہے۔ مگر افسوس کہ حکومتِ پاکستان نے ابھی تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ یہ ہماری قوم کا مزاج بن چکا ہے کہ ہم اپنے مشاہیر کو عمر بھر ناقدری کی فضاء میں زندہ رہنے پر مجبور کرتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی ان کو ان کا جائز مقام نہیں دیا جاتا۔ میں پاکستانی حکومت سے پر زور اپیل کرتا ہوں کہ رؤف امیر کی علمی و ادبی خدمات پر انہیں پاکستان کا قومی ایوارڈ دیا جائے۔ میں علامہ اقبال یونیورسٹی کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے رؤف امیر کی علمی و ادبی خدمات پر ایم فل کا مقالہ لکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ مگر رؤف امیر ایک انتہائی بلند پایہ اور متنوع الجہات ادبی شخصیت تھا۔ جس کے فکر و فن کے مختلف گوشوں پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنے کی شدید ضرورت ہے۔ آج رؤف امیر کو دنیا سے گئے ہوئے تین سال ہو گئے ہیں مگر اس عرصے میں نہ تو ان کی یاد میں کوئی بڑا تعزیتی پروگرام ہوا ہے اور نہ ہی ان پر کوئی مضمون یا مقالہ نظر آتا ہے۔ یہ پاکستانی قوم کا مزاج بن چکا ہے کہ ہم اپنے عہد کے عظیم لوگوں کو انتہائی تیزی سے بھلا دینے پر قادر ہیں۔
    منیر نیازی نے شاید اسی حوالے سے کہا تھا کہ :۔
    ابتدا ہی سے ہے شاید شہر والوں کا مزاج اپنے اعلیٰ آدمی کو قتل کرنے کا رواج
    مارنے کے بعد اس کو دیر تک روتے ہیں وہ اپنے کردہ جرم سے ایسے رہا ہوتے ہیں وہ
    (شوکت محمود اعوان قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی)
    http://www.oqasa.org

    Back to Conversion Tool

    Linux VPS | Dedicated Servers | Urdu Home

Leave a Reply