گلبانگءصدارت کےفنی محاسن

003

raoofamir


علامہ یوسف جبریل کی کتاب” نعرہ جبریل“ میں دوسری طویل نظم” گلبانگءصدارت“ ہی۔ زمانی ترتیب کےلحاظ سےیہ نظم ٠٧٩١ءکےالیکشن سےقبل لکھی گئی ۔ اس میں ایک آئیڈیل سربراہ ءمملکت کی تصویر کشی کی گئی ہے۔اور اس حوالےسےیہ علامہ یوسف جبریل کےسیاسی منشور بھی قرار پائی ہی۔ ملکی نظم ونسق چلانےکےلئےعلامہ صاحب خلافت کےنظام کی آرزو کرتےہیں۔ اور ان کی خیالی اسلامی ریاست میں اللہ کی حاکمیت اس کےنیک بندوں کےذریعےقائم ہوتی ہے۔ اس نظم میں یوسف جبریل ملک کےصدر بن کر جس مسئلےکو پہلےحل کرنےکےمتمنی ہیں وہ مسئلہ کشمیر ہے۔
دل میں کانٹا ہےیہ کشمیر نکالوں اس کو
اپنی گردن میں ہےزنجیر کٹالوں اس کو
کشمیر کےبعدوہ بیت ا لمقدس کی آزادی کو اپنا مرکز بتاتےہیں۔ قدس کو وہ جان ودل کا نذرانہ پیش کرتےہیں اور اس کےدامن کو پھولوں سےبھر دینا چاہتےہیں۔
جان ودل دےکےادا سجدہ شکرانہ کروں
اےمرےقدس تجھےپیش یہ نذرانہ کروں
وہ ایک صدر کےلئےیہ خواہش بھی رکھتےہیں کہ وہ طاقت کےاستعمال سےبرائی کو روکی۔ وہ سود خواروں ، منافقوں، باغیوں، مشرکوں اور جابروں کو ختم کر دینا چاہتےہیں تاکہ بندہءمجبور کی مشکلیں آسان ہوجائیں وہ قانون ءالہی کو عملا مافذ کرنا چاہتےہیں اور فکرءابلیس ءفرنگی کو مکمل طور پر تباہ کرنےکےآرزو مند ہیں اس نظم میں انہوں نےملک میں عدل وانصاف کےحصول میں درپیش مشکلات کےپیشءنظر عدالتی نظام پر کڑی تنقید کی ہی۔
کیا یہی عدل ہےانصاف اسےکہتےہیں
بن کےخوں عدل کےدریا بھی کہیں بہتےہیں
اس کےعلاوہ انہوں نےرشوت اور سود کےنظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہی۔ دولت کی غیر مساویہ تقسیم کی بھی مذمت کرتےہیں۔ اور سوشلزم اور سرمایہ داری دونوں کو ہدف ِتنقید بناتےہیں۔ ان کےبرعکس وہ نظامءمعیشت کےداعی ہیں وہ اس نظام کو حسن،خیر اور صداقت کا منبع قرار دیتےہیں۔ وہ امت مرحوم کی طاقت، شوکت، عظمت اور ہیبت کو یاد کرتےہیں اور اقبال کےپرشکوہ ماضی سےوابستگی کےروحانی رویےسےاپنا رشتہ جوڑتےہیں۔ وہ کہتےہیں کہ مسلمان ہی حاصل ءتقدیر ہی۔ اور اس عالم ءتاج کا وارث بھی وہی ہے۔ یہاںپر وہ اقبال کےہمنوا نظر آتےہیں۔ اور ان کا کلام ان کا اقبال کے©©©©© ”کی محمد سےوفا تونےتوہم تیرےہیں “ والےشعر کی توضیح وتشریح کی شکل دکھائی دیتاہی۔ گلبانگءصدارت میں علامہ یوسف جبریل ایک حکمران کےخصائص کا ذکر کرتےہوئےکہتےہیںکہ اسےقاہر، آمر اور مغرور نہیں ہونا چاہیےبلکہ وہ رسمءسلطانی جمہور کو نباہنےوالا ہو۔ اس نظم کےآخر میں ان کےہاں قلندری اور بےنیازی نظر آتی ہی۔ اور وہ دنیا کو ایک درویشانہ ٹھوکر لگا کر کہتےہیں،
اک جَو میں نہ خریدوں میں شہنشاہی کو
میں پئےتحت نہ دوں دل کی جگر دل کی جگر کاہی کو گلبانگ صدارت کےفنی محاسن ایک حسن تو ان کی ایک مقام پرقافیےکی جدت ہی۔انہوں نےتوجیہ ، تنبیہ اور تہیہ کےاجنبی لیکن دل کو بھانےوالےقافیےاستعمال کیےہیں۔ ایک مقام پر دو مصروں میں حرفءعلت کی غیر موجودگی بھی فنی حسن کا باعث بنی ہی۔
دفتروں ، خیمہ گہوں، مسجدوں، ایوانوں میں
درگہوں، مردہ گھروں، معبدوں، زندانوں میں
نعرہءجبریل کی طرح گلبانگ ءصدارت کےبعض اشعار بھی تعزل کی منہ بولتی تصویر ہیں ۔
عدل انصاف کےپردےمیں یہ کیا لٹتی ہے
قصرئِ جنت کےجھروکوں میں صبا لٹتی ہے
نعرہ ءجبریل نامی کتاب میں ایک اور طویل نظم ”نویدصبح “ یعنی مومن کا منشور ہی۔ ہیئت کےحوالےسےیہ نظم چھ مختلف حصوں میں منقسم ہی۔ ان میں سے”کرامت “والےحصےچھوڑ کر کیونکہ اس میں مطلع کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ باقی سب کو غزلئِ مسلسل کا نام دیا جاسکتاہے۔ اس نظم کےپہلےحصےکو ”ہوش کریں “ کاعنوان دیا گیا ہی۔ اور اس میں ٥٣١ اشعار ہیں۔ عنصر ”ہوش کریں “کی رویف جہاں اس کو تاثر کی وحدت میں پروتی ہےوہاں نظم میں بلند آہنگی کا بھی پیدا کرتی ہی۔ یوں لگتا ہےجیسےعلامہ یوسف جبریل قوم کو اس کی خامیوں میں سخت انداز میں متنبہ کررہےہوں۔ فکری حوالےسےاس نظم میں بھی جبریل کی دیگر نظمیوں کےمضامین کی تکرار ہے۔ وہی معاشی ناہمواری اور عدل وانصاف کا فقدان ، طبقاتی اونچ نیچ اور امراءکےغریبوں پر مظالم ، جبریل اس کشمکش کوبیاں کرتےہوئےایک مقام پر کہتےہیں۔
صبر کرتےہیں اگر خونءجگر پی کےغریب
ان امیروں سےبھی کہہ دوکہ ذرا ہوش کریں
جو جلاتےہیں غریبوں کو سنھبل جائیں وہ
جو جلاتےہیں غریبوں کا دیا ہوش کریں
اس نظم کےایک شعر پر میںاپنےتاثر کا اظہار کئےبغیر نہیںرہ سکتا ۔ میرےخیال کےمطابق اس ایک شعر میں دنیا بھر کا دردکوٹ کر بھرا ہواہے۔
کس کا کرتہ ہےیہ پیوند ہیں چودہ جس میں
درس ءعبرت ہےمرےشاہ گدا ہوش کریں
یوںلگتاہےجیسےہماری آنکھوں کےسامنےوہی منظر گھوم رہا ہو جب سرور کائنات صلےاللہ علیہ وآلہ وسلم بان کی چٹائی پر سو کر اٹھےتھےاور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت ءِمبارک پر اس کےنشانات دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم رو پڑےتھی۔
”مومن کا منشور “ کا دوسرا حصہ ”خواب ءِجبریل“ ہےجو ٣٥ اشعار پر مشتمل ہی۔ اس میں ” ہوں گی“ کی رویف اس سہانےمستقبل کی جھلک دکھائی دیتی ہی۔
مصطفٰےدورئِ بہاراں کےپیغمبر ہوں گے
محفل آرائےجہاں ساقیئِ کوثر ہوں گے
آگےچل کر اس میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا ذکر ہےاور خلافت کےتشکیل ءنوکا خواب ہی۔ علامہ یوسف جبریل نئےدور کی آمدکاذکر کرتےہیں ۔ جب دنیا سےجبر اور ظلم کا خاتمہ ہوجائےگا اور جس دور میں فرعون صفت حکمرانوں کےسرنگوں ہوجائیں گی۔ شاخ ءملت پر تازہ پھول کھلیں گےاور ان کی خوشبو فضائوں کو معطر کر دےگی۔ یہاں پر نئےدور کےلیڈر مردءمومن ہوں گی۔ اور جبریل کی یہ فکر بھی اقبال کےمردءمومن کےتصورکا تسلسل ہی۔ نظم کا تیسرا حصہ بھی ”خواب “ سےہی۔ اس میں مردءمومن کا انقلابی اقدام کاذکر ہی۔جب اس کی نگاہ رگءکفر پر نشتر ثابت ہوگی۔ یہاںوہ قوانین ءالہی کےعملا ً غلبےکا ذکر کرتےہیں جس کےبعد زندگی میں موجود افراط وتفریط ختم ہو جائےگی اور وہ ایک عجب حسن ءتوازن سےبرابر ہوجائےگی۔
علامہ صاحب کا خاص موضوع سائنس ہےاور وہ اس کی جدید ترین دریافت ایٹم کا ماخذ قرآنءحکیم کو قرار دیتےہیں ۔ اس نظم میں اس امر کا بھی ہلکا سا اشارہ ملتا ہےکہ سائنس مذہب کی تابع ہوگی۔ نظم کےچوتھےحصےکو ”کرامت “کا عنوان دیا گیاہی۔ نو اشعار کی اس نظم کا مرکزی خیال یہ ہےکہ مردءمومن کی اذانیں ہر سو پھیل جائیںگی اور باطل منہ کو چھپانےکو دوڑتا پھرےگا۔” نوید ءصبح “کا پانچواں حصہ ”اثرکرنا “ہے کےعنوان سےہی۔ اس میں دلوں میں عشق ءصادق پیدا کرنےکا عزم ہےاور عدل وانصاف اس کا بھی موضوع ہی۔ اس نظم میں ایک لائحہ عمل تجویز کرتےہوئےعلامہ یوسف جبریل شدید ترین جذباتیت سےکام لیتےہیں۔
تازہ کرنی ہےوہی اکبرو اصغر کی مثال
اپنےبچوں کو بھی اب سینہ سپر کرناہے
اپنےوعدوں کو وفا کرکےدکھانا ہےہمیں
ہم نےکونپل کو لہو دےکر شجر کرنا ہے
اےزمانےمیں درِحرص پہ جھکنےوالو!
اب تو سمجھو کہ تمیں سجدہ کدھر کرنا ہے
اس نظم کا چھٹا اور آخری حصہ ”اسلام کا معاشی نظام “ ہی۔ اس سےپہلےتینوں نظموں میں جبریل کےہاں معاشی نظام کاذکر جابجا بکھرا پڑا ہےلیکن یہاں وہ معاشی نظام کےبارےمیں اپنےنظریات کھل کر بیان کرتےہیں۔ اس نظم کےماخذ قرآن حکیم اور حدیث ہیں۔ وہ قرآن حکیم کا حوالہ دیتےہوئےکہتےہیں کہ ”ایسا نہ ہو کہ دولت تمہارےامراءکےہاتھوں میں گردش کرتی رہی“ یہاں وہ ارتکازءزرکا عملاً سدباب کرتےہیں اور ادنیٰ اور اعلیٰ کےدرمیان ایک وسطءسلیم کا ذکر کرتےہیں۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کا حوالہ بھی دیتےہیں کہ زمین اس کی ہےجو خود کاشت کرےاور مزارعت سود ہےاور اُس کےساتھ ساتھ فرد کی ملکیت کےحق کا بھی ذکر کرتےہیں لیکن یوں کہ:۔
صنوبر باغ میں آزاد بھی ہےپابہ گل بھی ہے
فنی حوالےسےاس نظم کی خاص بات یہ ہےکہ اس میں بکثرت انگریزی الفاظ استعمال کیےگئےہیں مثلاً لینڈلارڈ ، لیڈر اور ورکر وغیرہ ۔ ایک شعر کا مصرعہ اولیٰ سارےکا ساراا نگریزی زبان میں ںہیں۔
گاڈ ہمسلف وجیلنٹ گورنر شیل بی
God Himself Vigitent Governer shall be
اس انگریزی مصرعہ کا استعمال ان کی انگریزی دانی کا ثبوت مہیا کرتاہی۔ ویسےعلامہ صاحب ایک نہایت اچھےانگریزی دان بھی ہیں اور ملٹن لکھتےہیں جسےانگریزی زبان میں irand style s کہا جاتا ہےاور اس طرح کی انگریزی لکھنےوالےپاکستان میں معدودےچند لوگ ہی ہیں۔ جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں یہ انگریزی الفاظ ان کےہاں لسانی حوالےسےمتوازن ہیں اور وہ اکبر الہٰ آبادی کی تقلید کررہےہیں۔ ان کےہاں سرسید کی طرح خواہ مخواہ جاوےجا انگریزی الفاظ کا استعمال نہیں ملتا ۔ جنہیں مہدی افادی نےسنگ ءمرمر کی خوبصورت عمارت میں لگےہوئےسرخ اور سیاہ پتھر قرار دیا ہی۔ میں نےعلامہ یوسف جبریل کی ہر نظم کا الگ الگ فکری وفنی تجزیہ پیش کیا ہےاور ان کےمحاسن ظاہر کئےہیں جب کہ معائب کو نظر انداز کردیا ہی۔ یہ نہیں کہ ان نظموں میں عیوب نہیں ہیں۔ بعض مقامات پر بعض ارکان کم یا زیادہ ہیں اور متحرک الفاظ کو غیر متحرک اورغیر متحرک کومتحرک بھی استعمال کیا گیا ہےلیکن یہ خامیاں اس نوعیت کی ہیں کہ علامہ یوسف جبریل کی علویتءخیال اور زورءبیان کی روشنی میں چھپ جاتی ہےویسےتو علامہ یوسف جبریل کی فکر سےبھی اختلاف کیا جاسکتا ہےلیکن ایک پہلو ایسا ہےجو انہیں منفرد اور ممتاز کرتاہےاوروہ ان کا اسلوب ہی۔ اسلوب کےبارےمیں ناقدینءادب یہ کہتےہیںstyle is the man himself اور یہ کہ اسلوب کسی بھی شخصیت کی داخلیت اور خارجیت سےتشکیل پاتاہی۔ کسی ایک شاعر یا ادیب کا اسلوب دوسرےکےاسلوب سےنہیں ملتا البتہ بعض مخصوص حالات کی بنا پر اسلوب کےکچھ نہ کچھ اثرات مرتب ہوتےہیں، مثال کےطور پر تقسیم ءبرصغیر کےمرحلےپر ناصر کاظمی نےمنیر کی تقلید کی۔ اور اس کےرنگ میں غزلیں کہیں۔ اس کی وجہ دونوں کےعہد کےسیاسی حالات کےمماثلت میں تلاش کی جاتی ہی۔ عام طور پر عظیم شاعر کا اسلوب ناقابلءتقلید ہوتاہی۔ اس کےلئےاردو ادب میں غالب اور اقبال کی مثال دی جاسکتی ہی، کچھ شعراءپر کہیں کہیں ان کا ہلکا سا عکس پڑتاہےلیکن مکمل طور پر ان کےرنگ کو نہ اپنایا جاسکا۔ ہمارےہاں اقبال ایک مستقل مطالعےکی حیثیت اختیارکر چکا ہےاورناقدینِ اقبال تحقیق کےنئےآفاق دریافت کر رہےہیں۔ اس وقت جبریل ایک ایسےشاعر نظر آتےہیں جن کا کلام غالب حد تک حضرت اقبال کےرنگ میں رنگا ہوا ہی۔ وہی علامات، وہی بحور، وہی تراکیب، وہی آہنگ اور وہی توانا لہجہ اس حوالےسےناقدینِ اقبال کیلئےکلامِ جبریل کا مطالعہ دلچسپی کا باعث ہوگا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ نغمہ ءجبریل اس وقت فضاو¿ں میں رس گھول رہا ہےلیکن ہم محرومِ سماعت ہوچکےہیں۔


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply