Hamari Gandam Hamari Marzi

. ہماری گندم ہماری مرضی
پچھلے سال حکومت نے گندم کا ریٹ1400 روپے فی چالیس کلو گرام لیکن یہ 1400 روپے ریٹ صرف ایک ڈیڑھ ماہ ہی رہا تھا
پہلے کسان کے تھریشر چلانے سے لیکر آخری کسان کے تھریشر بند کرنے تک گندم چودہ سو روپے من یا اس بھی کچھ کم ہی فروخت ہوتی رھی کسی کسان کی ہمت نہیں تھی کے ریٹ بڑھا سکے یا اپنی ہی گندم اپنے ہی گھر میں سٹاک کر سکے کیونکہ کسان گندم فروخت کر رھا تھا اور مافیا گندم خرید رہا تھا پولیس پٹوار اسسٹنٹ کمشنرز سرکار سب ہی ڈنڈوں سوٹوں بندوقوں کیساتھ کسان کی فصل پر موجود تھے
جب تسلی کر لی گٸ کے آخری کسان تک سے گندم زبردستی خرید کر لی گٸ ھے
تو مافیا نے فوری طور پر گندم کا ریٹ 2600 سے لیکر 2800 روپے فی چالیس کلو گرام کر دیا اور یہ سب دن دیہاڑے کیا گیا پورا سال کیا گیا اس بدمعاشی غنڈہ گردی کو ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کی حکومت نکیل نہ ڈال سکی لگام نہ دے سکی بھوک سے مرتا غریب چلاتا رہا دکھڑے سناتا رہا کسان ماتھا پیٹتا رھا خریداری کا ریٹ بتاتا رھا یاد دلاتا رھا لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی
آج ایک سال بعد کسان کی گندم پھر تیار کھڑی ھے مافیا کے منہ سے رال ٹپک رھی ھے حکومت اور مافیا پھر مل چکے ہیں غریب کے نام پر پھر بساط بچھا دی گٸ ھے 1800 روپے فی من کا وزیر خوراک پنجاب نے پریس کانفرنس میں اعلان کرکے کسانوں کو لولی پاپ دیکر 1650 روپے فی من خریداری کا فرمان جاری کر دیا گیا ھے پولیس پٹوار سرکار ڈنڈوں سوٹوں کو تیل لگا رھے ہیں
موجودہ حکومت ہماری پسند کی شادی ھے ان کو کون سمجھاۓ کے گندم چھ ماہ کی فصل ھے تیس ہزار چھ ماہ کا زمین کا ٹھیکہ ھے دس ہزار کے آس پاس ہل وغیرہ کا خرچہ ھے چار پانی سات آٹھ ہزار کے لگتے ہیں پانچ بوریاں کھاد بارہ پندرہ ہزار کی ھے تین اسپرے کم ازکم چار ہزار کے کرنے پڑتے ہیں چار من گندم کٹاٸی کی فی ایکڑ مزروری چار من تھریشر لگاٸی کی فی ایکڑ مزدوری عشر الگ سے اور چھ ماہ کی محنت مزدوری الگ سے اور گندم کی ایوریج تیس پینتیس من فی ایکڑ اور اگر موسم کی سختیاں گندم گرا دیں تو ایوریج بیس پچیس من فی ایکڑ اب حساب خود لگا لینا
اٹھاٸیس سو روپے میں آپ نے یو کرائن سے گندم خریدی ھے. تیراں سو روپے فی من تک آپ نے سبڈی کے نام دوسرے ملک کے کسانوں کو فائدہ پہنچایا لیکن اپنے کسان کو کم از کم سندھ کے برابر ہی ریٹ دے دیں کیا آپ کا یہ نعرہ تھا دو نہیں ایک پاکستان آپ نے فرق رکھا ھے کسان کا پاکستان نہیں ھے وفاقی ادارہ پاسکو سندھ سے دو ہزار میں اور پنجاب سے سولہ سو پچاس روپے فی من گندم خریداری کریگا پنجاب کے کسانوں کے ساتھ ظلم کی انتہا ہوگی. اپنے ملک کے کسان کو آپ تین سو پچاس روپے سپوٹ پرائیس نہیں دے رھے ھو. سندھ گورنمنٹ نے دو ہزار روپے مقرر کرکے سندھ میں گندم بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے. پنجاب حکومت کبھی بھی اس بحران پر قابو نہیں پاسکے گی کیونکہ گندم سمگل ہوجائے گی
لیکن آپ کو کسان کی کہاں فکر ھے آپ تو لگتا ھے مافیا کے وزیراعظم ہیں 1650 میں مافیا کو خریداری کرواکر تین تین ہزار روپے فی من فروخت کرواٸینگے آپ اور پھر تقریروں سے سب کو اُلو بناٸینگے
آپ کو ککھ پتہ نہیں کسان کے مسائل کیا ہوتےھیں. پنجاب کے کسانوں نے بھی کمر کس لی ہے ہماری گندم ہماری مرضی ہم کسی صورت بھی دو ہزار سے کم قیمت پر گندم نہیں دیں گے….
سردار سعید جعفر ڈوگر مرکزی ترجمان پاکستان کسان اتحاد 03000841834

Print Friendly, PDF & Email

Share Your Thoughts

Make A comment

Subscribe By Email for Updates.