Hazoor SAW meraj par Kaisay gay. Practical proof by Hadhrat Khawaja Rasool numa RA

ہندوستان میں ایک بزرگ تهے خواجہ رسول نما رحمتہ اللہ علیہ.
مسجد میں دارالعلوم تها .مذاکرہ ہو رہا تها فلسفے کی کتاب استاد طلبہ کو پڑها رہے تھے. کتاب پڑهتاے ہوئے ایک بحث آرہی تهی آسمانوں کی کہ یو جو آسمان ہیں انکا وجود کس طرح کا ہے.
تو پرانے یونانی فلسفے میں یہ تها کہ یہ سخت مادی إجرام ہیں اور یہ پهٹ بهی نہیں سکتے اور کھول بهی نہیں سکتے اور کھولے ہوئے بند بهی نہیں ہوسکتے.
طلبہ نے سوال کیا اگر یہ بات درست ہے تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم جسمانی معراج پر گئے اور جسمانی طور پر ساتوں آسمان کے پار گئے .تو بتائیے پهر ان آسمانوں سے پار کیسے چلے گئے اور واپس کیسے آگئے اگر آسمان مادی ہین اور ان میں پهٹنا ملنا مشکل ہے تو کیسے گئے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم .اگر یہ ناممکن ہے تو یہ کیسے ہوا؟
اب استاد فلسفے کی زبان میں جواب دے رہا ہے اور طلبہ کو سمجھ نہیں آرہی تهی .طلبہ غالب تهے اور استاد مغلوب ہوگیا تها.طلبہ بوچھاڑ کر رہے تھے سوالات کی اور استاد سمجھا نہ سکا .
ساتھ ہی ایک فقیر ولی اللہ تهے حضرت خواجہ رسول نما رحمتہ اللہ علیہ .آپ کا لقب تها رسول نما .لقب اس لیے رسول نما تها .کہ جب موج میں آجاتے کسی پر تو اسکا ہاتھ پکڑ کر آقا کی کچہری دکھا دیتے تهے.
تو خواجہ رسول نما رحمتہ اللہ علیہ کو جلال آگیا تو فرمایا استاد سے ، بچے کیا کہتے ہیں.کہنے لگے حضرت یہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم جسمانی طور پر معراج پر ساتوں آسمان پار کیسے چلے گئے اور واپس کیسے آگئے.
خواجہ رسول نما نے طلبہ سے فرمایا میرے ساتھ آؤ.سب طلبہ کو اٹھا لیا.اٹها کر شاہی مسجد دہلی کی وہاں صحن میں ایک پکی دیوار تهی بہت بڑی اس دیوار کے سامنے کھڑا کردیا .
خواجہ رسول نما ہاتھ میں چھڑی رکھتے تهے اور سر کے گرد گھماتے رہتے تهے.اپ چھڑی گھماتے گھماتے شاہی مسجد کی پکی دیوار کے پار بهی چلے گئے اور واپس بهی آگئے .اور کہا ایسے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم معراج کی شب ساتوں آسمان کے پار بهی چلے گئے تهے اور آبهی گئے تهے.

Print Friendly, PDF & Email

Share Your Thoughts

Make A comment

Subscribe By Email for Updates.