hazrat imam hussain A.S


حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ
تحریر علامہ محمد یوسف جبریل
زمانہ جس قدرحضرت امام حسین علیہ السلام کو رویا۔ دنیا کی ساری تاریخ میں کسی کو نہیں رویا۔وہ دریا آنسووں کےجوحضرت امام حسین علیہ السلام کورونےوالوں نےگذشتہ صدیوں میں بہائی۔ جمع ہوتے۔ تو دجلہ رواں ہوتا۔وہی دجلہ جس کےکنارےاہلبیت ایک ایک بوند پانی کو ترستےہوئےجام شہادت نوش فرما گئی۔ دنیائےاسلام کےگوشےگوشےمیں جہاں کہاں بھی مسلمان ہیں۔وہاں باہمی اختلاف تو ہو سکتا ہی۔ مگر جہاں تک حضرت امام حسین علیہ السلام کی ذات کاتعلق ہے۔اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ جس آڑےوقت میں حضرت امام حسین علیہ السلام نےاسلام کی خاطر اپنی عظیم قربانی پیش کی۔ وہ حضرت امام حسین علیہ السلام ہی کا حصہ ہی۔ جہاں حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت لاریب عظیم ہی۔ وہاں شہادت سےقبل رونما ہونےوالےواقعات میں حضرت امام حسین علیہ السلام کاکردار و جذبہ شہادت میں مضمر اغراض حضرت امام حسین علیہ السلام نےاسلام کےاس نوخیزپودےکو جسےپامال کرنےکےتمام منصوبےتکمیل پذیر ہو چکےتھی۔ اپنےخون سےسینچ کر بچا لیا۔ اسلام جو دنیا میں آج نظر آتا ہی۔ وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی کاصدقہ ہی۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کو خلافت کی غرض ہوتی تو قبیلہ طےکےسردار کی کمان جو تیس ہزار نبرد آزماو¿ں پر مشتمل تھی۔ رد کر کےیکہ و تنہا نہ ہوتی۔ اعلان جنگ کرتےتو لاکھوں انسان اپنی جان نچھاور کرنےکےلئےآپ کےگرد جمع ہو جاتی۔ ارباب اختیار سےکد ہوتی۔ تو یزید سےملاقات کی شرط پیش نہ کرتے۔امت کی سلامتی کا خیال دامنگیر نہ ہوتا تو میدان کارزار میں بار بار اسلام کا واسطہ دےکر جلد بازی سےکام نہ لینےکی تلقین نہ کرتی۔ مقصد خدمت اسلام نہ ہوتا ۔تو سرحدوں پر مصروف جہاد، مجاہدین کےساتھ مل کر جہاد کرنےکی آرزو نہ کرتی۔ دولت کی طلب ہوتی تو یزید کےلئےاس سےبڑھ کر خوشی کی بات نہ ہوتی۔حضرت امام حسین علیہ السلام کی بےقراری کا سبب فقط وہ خطرہ تھا جو اسلام کےسر منڈلا رہا تھا ۔اور اگر حضرت امام حسین علیہ السلام سربکف نہ ہوتی۔ تو اسلام مٹ جاتا۔ جس انداز سےحضرت امام حسین علیہ السلام اس خطرےسےنبردآزما ہونےکےلئےنکلےاور جس انداز سےحضرت امام حسین علیہ السلام نےاس عظیم خطرےکو اسلام کےسر سےٹالا۔ وہ حضرت امام حسین علیہ السلام ہی کا حصہ ہی۔حضرت امام حسین علیہ السلام اگر فوج لےکر یزید سےنبردآزما ہوتےاور یزید کو شکست دےکر خلافت کو بچاتےتو وہ بات نہ بنتی۔ چند سالوں یا چند صدیوں کےبعد پھر یزید پیدا ہوتا مگر حضرت امام حسین علیہ السلام نہ ہوتی۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نےعین اس موقع پر اپنےخون سےحق کا نقش لکھا۔ کہ اس نقش کو مٹانا باطل کی دسترس سےباہر ہی۔ ایک روزحضرت امام حسین علیہ السلام اپنےگھر تشریف فرما تھی۔ کہ ایک سوالی آیا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نےفرمایا۔ میرا رزق آ رہا ہےبیٹھ جاو¿ تمہیں بھی دیا جائےگا۔ کچھ دیر بعد کچھ لوگ خچروں پر لدی ہوئی اشرفیاں جو امیر معاویہ نےبھیجی تھیں۔ لائےاور حضرت امام حسین علیہ السلام کےسامنےانبار کر دیں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام سوالی سےمخاطب ہوئےاور فرمایا ۔ہم لوگ تو آس توڑ کر بیٹھےہیں۔یہ سب کچھ تم لےجاو¿۔ البتہ معذرت خواہ ہیں آپ کو اس قدر انتظار کرنا پڑی ۔امیر معاویہ کی وفات کےبعد یزید کی بیعت کا سلسلہ جاری ہوا تو پورےعرب میں پانچ ایسےشخص تھےجنہوں نےیزید کی بیعت سےانکار کر دیا۔ جب بیعت کےلئےدباو¿ ڈالا گیا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ النبی چھوڑ کر مکہ مکرمہ آ گئی۔ جہاں بےشمار خطوط اہل کوفہ کی جانب سےوصول ہوئے۔ ان سب میں استدعا کی گئی تھی کہ امام عالی مقام کوفہ تشریف لائیں تاکہ یزید کی بےاصول خلافت کےخلاف کوئی پروگرام مرتب کیا جائے۔اور ایک روز جناب امام حسین علیہ السلام نےاہل و عیال سمیت کوفہ کا سفر اختیار فرمایا۔ لوگوں کو جب ا س سفر کا علم ہوا ۔ تو جن لوگوں نےآپ کو کوفہ جانےسےمنع کیا ان میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نےکہا۔ حسین ! آپ جلتی ہوئی آگ میں کودنےلگےہیں۔ خدا را اس ارادےسےباز آیئی۔لیکن جب امام حسین علیہ السلام نےاپنا ارادہ ملتوی کرنےسےقطعی طور پر انکار کیا۔ توحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نےکہا۔ اور اگر آپ جانےپر بضد ہی ہیں تو اکیلےجائیں۔اہل و عیال کو ساتھ نہ لےجایئں۔ لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام نوشتہ تقدیر کی طرح اٹل تھی۔ آخر کار حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نےکہا ۔ حسین ! اگر مجھ میں طاقت ہوتی تو میں تمہیں تمہارےماتھےکےبالوں سےپکڑ کر پھیر لےجاتا۔ مگرحضرت امام حسین علیہ السلام متزلزل نہ ہوئےاور آگےبڑھ گئی۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی روانگی کی خبر عام ہو گئی ۔تو بدوو¿ں کی ایک بھیڑ مال غنیمت کی غرض سےآپ کےساتھ ہو لی۔ آپ نےدیکھا تو فرمایا۔ اےلوگو! میں کسی لڑائی کی غرض سےنہیں جا رہا ۔ اور جو شخص بھی اس غرض سےمیرےہمراہ جانےکا ارادہ رکھتا ہےاسےسمجھ لینا چاہیئےکہ ایسی کوئی بات نہ ہو گی۔ یہ سن کر بدوو¿ں کی بھیڑ چھٹ گئی۔ اور آپ آگےروانہ ہو گئی۔ اور مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالی عنہ کو آگےروانہ فرمایا۔ کہ کوفہ جا کر حالات کا جائزہ لیں۔ اور اطلاع دیں۔ دوران سفر قافلہ ایک ایسےمقام پر پہنچا جہاں سےقریب ہی بنو طےکا قبیلہ سکونت پذیر تھا۔ اس قبیلےکا سردار آپ کےہمراہ تھا۔ اس نےعرض کیا کہ امام عالی مقام رضی اللہ تعالی عنہہ اگر یہاں قیام کریں تو میں جلد ہی اپنےقبیلےکےتیس ہزار جنگجو اس مہم میں شرکت کےلئےلےآو¿ں۔ لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام نےفرمایا۔ ایسےتردد کی ضرورت نہیں۔ ہم جنگ کی غرض لےکر نہیں جا رہی۔ راستےمیں خبر ملی کہ کوفہ میں مسلم بن عقیل کو مسجد کےکنگرےسےگرا کر شہیدکر دیا گیا ہی۔ اسی راہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی ملاقات عرب کےمشہور شاعرفرزدق سےہوئی جو کوفےکی جانب سےآ رہا تھا ۔ فرزدق سےجب استفسار ہوا تو جوابا ایک تاریخی جملہ کہا۔ اےامام عالی مقام ۔ کوفہ والوں کےدل آپ کےساتھ ہیں مگر ان کی تلواریں یزید کےساتھ ہیں ۔رفتہ رفتہ قافلہ کربلا کےقریب پہنچا تو حر اپنےدستےسمیت نمودار ہوا۔ اور جناب امام حسین علیہ السلام سےمزاحم ہوا اور کہا کہ مجھےحکم ملا ہےکہ میں آپ کےساتھ لگا رہوں۔ جناب امام حسین علیہ السلام نےفرمایا کہ میرا راستہ چھوڑ دو میں جدھر جانا چاہوں مجھےجانےدو مگر حر نےکہا مجھےکوئی ایسا حکم نہیں ملا حضرت امام حسین نےفرمایا مجھےمدینےلوٹ جانےدو یا مجھےیزید سےبالمشافہ گفتگو کرنےدو یا مجھےمیدان جہاد میں جانےدو ۔تاکہ جو کچھ مجاہدوں پر بیت رہی ہےمجھ پر بھی بیتے۔ حر کو ان باتوں میں سےکسی پر آمادہ نہ پاکر حضرت امام حسین علیہ السلام نےحر کو کہا کہ تیری ماں تجھ پر روئے۔جواباََ حر نےکہا۔ آپ حضرت امام حسین علیہ السلام ہیں ورنہ کوئی بھی شخص میری ماں کا نام لیتا تو میں اسےدیکھ لیتا۔ بہر حال قافلہ کربلا کی طرف روانہ رہا حتی کہ کربلا کا میدان نمودار ہو گیا۔ رات قافلےنےکربلا میں بسر کی۔ صبح اٹھ کر جب قافلےوالوں نےسفر کی تیار ی کی تو اونٹوں نےاٹھنےسےانکار کر دیا ۔ہزار کوشش کی گئی۔ مگر اونٹوں نےنہ اٹھنا تھا نہ اٹھی۔ جناب حضرت امام حسین علیہ السلام نےایک مقامی آدمی سےجوقریب ہی کھڑا تھا پوچھا کہ اس جگہہ کا نام کیا ہی۔ تو اس نےبتایا کہ اس جگہہ کو کربلا کےنام سےپکارا جاتا ہے(کرب کےمعنی تکلیف کےہیں اور بلا مصیبت کو کہتےہیں )۔ جناب حضرت امام حسین علیہ السلام نےیہ سن کر فرمایا۔اونٹوں سےپلانےاتارو۔ بس یہی مقام ہی۔پھرحضرت امام حسین علیہ السلام نےکربلا کےقرب میں بسنےوالےایک گاو¿ں کےآدمیوں کو طلب کیا اور کہا ۔کہ ہو سکتا ہےکہ ہم سب اس مقام پر شہید ہو جائیں۔ لہذا استدعا ہےکہ قیمت لےکر یہ جگہہ ہمارےہاتھ فروخت کر دو۔ تاکہ ہماری قبریں یہاں بن سکیں۔ نیز چونکہ ہو سکتا ہےکہ ہمارا کوئی بھی پرسان حال نہ ہو۔ آپ لوگ مجھ سےعہد کریں کہ ہماری شہادت کےبعد آپ لوگ ہمیں دفن کر دیں گی۔ ان لوگوں نےوہ جگہہ بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کےہاتھ فروخت کر دی اور یہ بھی عہد کیا کہ آپ کی لاشوں کو بھی ضرور دفن کریں گی۔ رات آئی۔ تو جناب امام حسین علیہ السلام نےاپنےہمراہیوں کو جو اہل بیت کےافراد کےعلاوہ تعداد میں بہتر تھےاپنےگرد اکٹھا کیا۔ اور فرمایا ساتھیو ۔یزید میرا طلب گار ہےتمہارا نہیں آپ لوگ بےشک چلےجائیں۔ میں یہ اپنی مرضی سےآپ کو کہہ رہا ہوں مجھےکوئی دکھ نہ ہوگا۔ لیکن سب کےسب خاموش بیٹھےرہی۔ اس کےبعد جناب حضرت امام حسین علیہ السلام نےچراغ گل کر دیا۔ مبادا کہ لوگ روشنی کی وجہ سےشرما رہےہوں۔ اور پھر فرمایا کہ دیکھو اب اندھیرا ہی۔ آپ لوگ بےشک چلےجائیں ۔لیکن ان لوگوں نےیک زبان ہو کر کہا۔ کہ اےامام حسین ہم اس حالت میں آپ کو تنہا کبھی نہیں چھوڑ سکتی۔ اب تو جو کچھ آپ کےساتھ ہو گا سو وہی ہمارےساتھ ہو گا۔ چنانچہ خیمےگاڑ دیئےگئی۔ خیموں کےگرد باڑ لگا دی گئی۔ اور درمیان میں پانی کےلئےایک کنواں کھود دیا گیا ۔ پھر وہ وقت آ گیا کہ یزیدی لشکر میدان میں صف بستہ ہو گیا۔ جناب حضرت امام حسین علیہ السلام بھی دلدل پر سوار ہو کر لشکر کےسامنےآئےاور پھر فرمایا لوگو جلدی نہ کرو مجھےپہچانو۔ میں کون ہوں یہ خود جو میرےسر پر ہےیہ کس کی ہے۔یہ دلدل جس پر میں سوار ہوں یہ کس کا ہی۔ جواب میں تمام یزیدی لشکر خاموش رہا۔ پھر جناب حضرت امام حسین علیہ السلام نےفرمایا ۔ادھر جنت ہےادھر دوزخ ہی۔ آج کون جنت کو اختیار کرنا چاہتا ہی۔ تو پورےلشکر میں صرف ایک شخص سامنےآیا ۔اور کہا ۔ اےامام۔ میں نےجنت اختیار کی۔ جناب حضرت اما م حسین علیہ السلام نےپوچھا تیرا نام کیا ہی۔ تو عرض کیا ۔حر ۔جناب حضرت امام حسین علیہ السلام نےفرمایا بہت اچھا نام ہی۔ یہ وہی حر ہی۔ جس نےجناب امام علیہ السلام کا راستہ روکا تھا۔ اس کےبعد اپنےرسالےکو جس کا وہ سردار تھا۔ مخاطب کیا کہ اےمیرےبھائیو میں نےمعاویہ کو ترازو میں تولا ہی۔ ایک طرف جنت ہی۔ اور دوسری طرف دوزخ ہےمیں نےجنت کو اختیار کیا ہےمیں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم بھی جنت کا راستہ اختیار کرو۔ ادھر میری طرف آ جاو¿ مگر کسی ایک نےبھی جواب نہ دیا تو جناب حر نےنعرہ تکبیر بلند کیا اور اپنےہی رسالےپر حملہ آور ہو گئےاور ایک میل تک دور، ان کو دھکیل کر لےگئےجہاں جام شہادت نوش کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حسینی قافلےکےیہ پہلےشہید ہیں۔حر کی شہادت کےبعد یزیدی لشکر نےعام حملہ کر دیا۔ سب سےپہلےحضرت امام حسین علیہ السلام کےبہتر ساتھی ایک ایک کرکےشہید ہو گئی۔ پھر اہل بیت کی باری آئی اور وہ بھی پروانہ وار شمع رسول پر نثار ہو گئی۔ ننھا اصغر جو شیر خوار تھا پیاس سےمضطرب ہوا۔تو حضرت امام حسین علیہ السلام اس کو ہاتھوں پر اٹھا کر لشکر کےسامنےلائے۔اور کہا۔ لوگو۔ میں تو یزید کا باغی ہوں۔ اس معصوم نےکیا گناہ کیا ہی۔ اسےتو ایک بوند پانی کی دےدو۔ جواباََ ایک شقی نےسہ شاخا تیر چلایا۔ جو معصوم کی گردن میں پیوست ہو گیا۔ خون کےچند قطرےنمودار ہوئی۔ جوجناب امام پاک نےاپنےچہرےپر مل لئی۔ اور فرمایا۔ اےاصغر ۔تو اللہ کی نگاہ میں حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی سےبھی زیادہ معصوم ہی۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہہ پانی لینےعلقمہ پر پہنچےاور گھوڑےکو نہر میں ڈالا۔ تو پیاس سےبےتاب گھوڑےنےپانی پینا چاہا۔ مگر حضرت عباس رضی اللہ تعالی نےگھوڑےکی لگام کھینچ لی۔ اور کہا اےمیرےگھوڑےیہ وفا نہیںکہ اہل بیت کےبچےتو پیاس سےبلک رہےہوں۔ اور ہم پانی پیئیں۔چنانچہ مشکیزہ پانی کا بھرا مگر یزیدیوں نےمشکیزہ تیروں سےچھلنی کر دیا اور گھوڑےکو زخمی کر دیا حضرت عباس رضی اللہ تعالی ٰعنہ نےمشکیزہ اٹھایا اور خیموں کی جانب بڑھےمگر آپ کےشانےقلم کر دیئےگئےآپ گر پڑےتو آپ نےمشکیزہ منہ میں دبا لیا۔ لیکن مشکیزہ تیروں سےچھید دیا گیا۔ آپ گر پڑےاور مشکیزےمیں جو چندقطرےپانی کےباقی تھےزمین پر بہہ گئےجناب امام عالی مقام نےدیکھا تو آئےاور اپنےبھائی حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش کو اٹھانا چاہا گھٹنوں تک لےآئےمگر قوت نےجواب دےدیااور کہا میرےبھائی مجھےافسوس ہےمگر تجھےاٹھانےکی سکت باقی نہیں رہی ۔چنانچہ بھائی کی لاش کو وہیں چھوڑ دیا۔ اور واپس پلٹ کریزیدیوں پرحملہ آور ہو گئی۔ یزیدی پچھلی طرف سےخیموں پر حملہ آور ہو کر اہل بیت کو لوٹنےلگی۔ توحضرت امام حسین علیہ السلام نےفرمایا۔ اےلوگو ۔دین کا واسطہ نہیں مانتےتو کم از کم عربی شرافت کادامن تو نہ چھوڑو۔ اوراس کےبعدحملہ آور ہو کر ان کو وہاں سےبھگا دیا۔ آخر کار زخموں سےچور ہو کر جناب حضرت امام حسین علیہ السلام خیمےکےدروازےمیں بیٹھ گئے۔بدن بھی زخموں سےچور۔ دل بھی زخموں سےچور۔ سارےساتھی ۔سار ےاہل بیت شہید ہو چکےہیں۔ نبی کا باغ اجڑ چکا ہی۔ نبی کےاہل بیت لٹ چکےہیں۔ بیبیاں بےسہارا ہو گئی ہیں۔ ایک حسین علیہ السلام کا دم ہےسوہ بھی کچھ دیر کامہمان ہی۔ یزیدیوں کا کلیجہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا۔ اب بھی برسرپیکار ہیں۔ شہادت کا منظر حضرت امام حسین علیہ السلام نےخیمےکےدروازےسےآخری بار دیکھا ۔اور یزیدی لشکر پر حملہ آور ہوئی۔ اور لڑتےرہی۔ حتیٰ کہ عصر کا وقت ہو گیا ۔ جناب حضرت امام حسین علیہ السلام نےبآواز بلند کی۔ اور فرمایا ۔کہ نماز کا وقت ہےمجھےنماز پڑھنےکی مہلت دو۔ پھر گھوڑےسےاتری۔ پانی نہ تھا لہو سےوضوکیا۔اور بارگاہ رب العزت میں اپنا سر سجدےمیں رکھ دیا۔ یزیدیوں نےموقع غنیمت جانا ۔ایک لعین آگےبڑھا ۔اورخنجر سےجناب حضرت امام حسین علیہ السلام کا سر تن سےجدا کر دیا۔ اور پکارا۔ دیکھو میں نےحضرت امام حسین علیہ السلام کو قتل کر دیا ہی۔ پھرحکم ہوا ۔اور شہدا کی لاشوں پر گھوڑےدوڑا دیئےگئے۔جناب امام عالی مقام کےبدن پر کوئی جگہہ ایسی نہ تھی۔ جہاں تیر نہ لگا ہوا ہو یاتلوار کا زخم نہ ہو۔ اس کےبعدخیموں کو لوٹ لیا گیا ۔نبی کی نواسیوں کو اونٹوں کی ننگی پیٹھ پر سوار کیا گیا ۔اونٹوں کےقافلےکی مہار جناب زین العابدین کےہاتھ میں تھی۔ یہ اس لئےبچ گئےتھےکہ تپ میں مبتلا تھے۔قافلہ جب کوفہ کےشہر میں داخل ہوا۔ تو ایک بوڑھےصحابی سرراہ کھڑےتھی۔ یہ وحشتناک منظر دیکھ کر بےاختیار رو دیئی۔ اور کہا کہ ان بیبیوں کو تو سورج کی آنکھ نےبھی دیکھا نہ تھا۔ نبی کےاہل بیت کی آج یہ حالت۔ ابن زیاد نےجب زین العابدین کو دیکھا تو انہیں بھی قتل کرنا چاہا۔ مگر حضرت زینب زین العابدین کےاوپر گر پڑیں ۔دوسرےلوگ بھی بیچ میں کود پڑی۔ اور حضرت امام کو موت کےمنہ میں جانےسےبچا لیا گیا ۔پھر یہ قافلہ سوئےدمشق روانہ ہوا۔ شہدا کےسر نیزوں پراٹھائےہوئےآگےآگےتھے۔بیبیوں نےکہا۔ خدا کےلئےیہ سر ہمارےسامنےسےہٹا لو۔ جواب ملا۔اس لئےتمھارےسامنےرکھےگئےہیںکہ تم ان کو دیکھتےجاو¿ ۔قافلےکا گذر جس آبادی میں سےہوتا وہاں مشتہری ہوتی کہ دیکھو یزید کےباغیوں کا حال اور عبرت پکڑو۔ بالآخر قافلہ دمشق پہنچا اورحضرت امام حسین علیہ السلام کاسر ایک طشتری میں یزید کےسامنےپیش کیا گیا۔ یزید کےہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ وہ بار بار اس سےحضرت امام حسین علیہ السلام کےدندان مبارک کو چھوتا۔ اور باتیں کر رہا تھا۔ ایک عمر رسیدہ صحابی نےیہ منظر دیکھا۔تو کہا۔ میں نےبارہا ان دانتوں پر نبی کریم کو بوسےدیتےدیکھا ہی۔ اس پر یزید متنبہ ہوا۔ چند روز کےقیام کےبعد جب اہل بیت کا یہ قافلہ مدینےپہنچا ۔تو جناب زین العابدین تمام رات آہ و گریہ کرتےرہی۔ محلےوالوں نےصورت حال پوچھی۔ تو فرمایا۔ لوگو! مجھےمجبور جانو۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کاایک یوسف گم ہو گیا تھا۔ اور وہ رو رو کر نابینا ہو گئےتھےاور میں تو پورا ایک قافلہ یوسفوں کا لٹا کرآیا ہوں میں نہ روو¿ں تو کون روئی۔

 

 

 


Print Friendly

Related Posts

  • 71
    وادی سون کی معروف روحانی شخصیات کا تذکرہ تحریر ملک محمد شیر اعوان وساوال ۔ کہتےہیں کہ قدرت جب کسی سےکوئی مخصوص کام لینا چاہتی ہی۔ تو اس کام کےلئےاسی قوم میںسےمخصوص افراد کو چن لیتی ہی۔ جو اس کام کی انجام دہی میں شب و روز ایک کر دیتےہیں۔…
  • 66
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 57
    محمد عارف کےحالات زندگی تحریر شوکت محمود اعوان واہ کینٹ نام محمدعارف ولدیت میاں محمد سال پیدائش 16 فروری 1969 مستقل پتہ گاو¿ں پنڈ فضل خان، تحصیل فتح جنگ، ضلع اٹک موجودہ پتہ I-R-36 ، نزد جنجوعہ ٹریڈرز، اعوان مارکیٹ فیصل شہید ٹیکسلا نمبر رابطہ 03335465984 تعلیمی کوائف:۔ ١۔ پرائمری…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply