انقلابِ وقت

054

ahsanakbar


سلسلہ واصفیہ کے رکن اعظم عنایت اللہ! صاحب قلم بھی ہیں صاحب نظر بھی۔درد مند بھی اور قومی حوالے سے درد مند ۔جب بھی لکھا قومی سلسلہ پر لکھا۔عاجز ایسے نام سے کام نہیں رکھا،صرف کام کیا اور مسلسل کام کیا۔واصف صاھب قبلہ نے تو عنایت اللہ صاحب کے یہ مضامین نہیں دیکھے تھے مگر اشفاق احمد نے ان تحریروں کو ضرور دیکھا،پسند کیا اور ان پر قلم تحسین اٹھایا۔مگر سب سے پہلے جسے ان مضامین کو دیکھنے کا شرف ملا تھا وہ راقم ہی تھا۔بلکہ مان لینا چائیے کہ راقم ہی سزا وار سوال ہوں جس نے عنایت اللہ صاحب سے نثر میں لکھنے کی فرمائش کی تھی۔ اجمال تفصیل یوں ہے کہ آپ نے اس سے قبل کے اپنے قومی خیالات شاعری میں باندھے تھے جس پر میں نے مشاورت بہ نذر کی ان خیالات کو نثر ہی میں راہ درکار ہے۔آپ کی شاعری انکی متحمل نہیں۔میری جانب سے ایسے مشورے ماضی میں جتنے شعر کوشوں کو دئے گئے اکثر ان میں سے بدک گئے یا برا مان گئے۔ان کی طرف سے نثر میں طبع آزمائی کی مثال خال خال ہی ملی۔ سب سے نمایاں     خا ل عنایت اللہ صاحب ہی کا ہے۔انہوں نے لکھا اور چھاپا،لکھا اور بانٹا۔کسی سے حوصلہ افزائی نہ چاہی۔کسی ناشر سے رابطے کے لئے نہ رکے۔ پینشن موجود تھی کتابیں آتی گئیں۔یہ تحریریں جن کو اوپر مضامین کہ کر میں گذر گیا۔ مضامین نہیں سلسلے ہیں۔سلسلے مضامین کے۔بلکہ سلسلے کتابوں کے ان کتابوں کو وقتی سلسلہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر کتاب میں قافیہ وقت کا لگتا ہے۔
آئینہ وقت،صدائے وقت،ندائے وقت،آواز وقت،ناد وقت،چراغ وقت اور اب انقلاب وقت آخری مراحل میں ہے۔
ان دنوں جب مجھے پہلی کتاب کا مسودہ دکھایا گیا تھا وزیر اعظم صاحب کا تختہ الٹا ہوا تھا اور عشائیہ میں فوجی سربراہ مدیر نوائے وقت سے پوچھتا تھا کہ مجھے دھکا کس نے دیا تھا!۔طبیعت حالات سے زیادہ نا ہموار تھی۔اخبارات کے کالم نویس وزیر اعظم پر الزام لگانے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر بات کرنا چاہتے۔اخبار والے جنگی اپریشن کی۔وزیر اعظم کے ہاتھوںناکامی دکھانا چاہتے تھے اور بعد میں ہونے والی صلح میں وزیر اعظم کی بزدلی لگاتے اور سربراہ سیاست کمانڈر کی جر ا ت کی داد دیتے ۔بعد میں تمام تر صحافت اس پر متفق سی ہوگئی تھی کہ وزیر اعظم نے نیا کمانڈر انچیف جو چنا تھا وہ غلط تھا۔نیز بیرون ملک دورے کے دوران موجودہ کمانڈر انچیف کو جو برخواست کیا تھا وہ بھی غلط تھا۔صحیح طریقہ کیا تھا کسی نے نہ بتایا۔قوم بھونچکی رہ گئی تھی۔دھوم کاری خبروں کے اندر تھی۔پریس وزیر اعظم پر سارا الزام دھر رہا تھا۔اخبارات میں چیف کے چیف ایگزیکٹو بننے پر نہ کوئی حیرت تھی نہ سوال ہر جاِ پخیر را غلے لکھا تھا۔ اس دوران عنایت اللہ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے وقتی سلسلہ کی تحریریں لکھ رہے تھے۔ملکی سیاست پر اور سیاست وطن میں جمہوریت پر ۔اللہ دے اور بندہ لے۔طبع رواں تھی سو رکے نہیں۔ چلتے رہے،چلتے چلے گئے ۔سیاست کرنے والے جج،سیاسی جرنیل ،بہاؤ کے ہمراہ بہنے والے جرنلسٹ اور ٹی پارٹی والے جاگیر دار ملک بھر میں بھرے ہوئے تھے۔ آپ اگر ان سیاست مداروں پر لکھتے تو خوف رہتا کہ آتی حکومت کو یہی اشارہ کرنے والے تھے اور حکومت کے اشارے بھی انہی کو سمجھ میں آتے تھے مگر موصوف نے لکھا تو ایک اور ج پر لکھ مارا۔بیچاری جمہوریت اور مستقل لکھا اور بڑا لکھا۔میں کہتا رہ گیا کہ یہ جمہوریت نہیں جسکی آپ مثالیں دے رہے ہیں۔ جس کی جانب میرا اشارہ ہے۔ مگر وہ قرون وسطیٰ کی مثالیں دیکھے ہوئے ہیں۔اسلام کا عہد زریں انہیں از بر ہے۔ خلافت والے دن حضرت ابو بکر  کی ،حضرت عمر کی قمیض،حضرت عشمان کی آدھے اسلامی لشکر کی کفالت،حضرت علی  کی نان جویں انہیں کچھ بھی بھولا نہ تھا۔میں کہتا رہ گیا کہ عوام کے آگے جوابدہی کی بھی شکل بڑی بات ہوتی ہے۔مگر نہ انکا حافظہ کمزور تھا نہ قلم۔ انہوں نے لکھا اور ڈٹ کے بچہ جمورا کے خلاف لکھا۔ مجھے اپنا قصور تسلیم کرنا چائیے کہ جس مسودہ کو بھی انہوں نے مکمل کیا،مجھے دکھا کر چاہا کہ میں بھی اپنی رائے لکھ دوں ۔مگر میں نے کبھی انہیں دو حرف لکھ کر نہ بھیجے۔ اسکے باوجود انکی محبت کبھی کم نہ ہوئی۔آنچ کبھی دھیمی نہ ہوئی۔میں نے جتنا غصہ ظاہر کیا،انہوں نے اسے جھیلا،خندہ پیشانی سے جھیلا۔مگر قلم کا پرنالہ وہیں رکھا۔میں نے نہ لکھا اشفاق صاحب نے اور جنرل حمید گل صاحب نے لکھ دیا اور محبت سے لکھ کر داد دی۔اب کے وہ یہ کہ کر مسودہ چھوڑ گئے ہیں کہ انکی اس تحریر کی بات ہی اور ہے۔ مجھے بھی یہی کہنا چاہئے کہ اس تحریر کی بات ہی اور ہے۔تا ہم جمہوریت کو یہاں بھی اسی Bullo eyeمیں رکھا ہے۔البتہ کرسچن جمہوریت کا ذکر ایزاد ہو گیا ہے۔یہاںٓںۃن ضلعی سطح پر اتری ہوئی اسمبلی والی جمہوریت نے شائید منغفن کر کے منہ کا ذائقہ بدل دیا ہے۔سو وہ حاکموں کی عطا سے خوش نہیں۔۲۰۰۷ کے بعض حوادث نے بھی انہیں پریشان کیا ہے عنایت اللہ صاحب کا طرز تحریر سادہ ہے مگر جملے طویل ہوتے ہیں۔اسلئے کہ انکے پاس خیالات کا جہان ہے۔وقت کی مہلت کم ہے۔جو تحریر ہے ارتجالا لکھی گئی اور اسے شاید دیکھنا بھی نہیں ملا۔جن جمہوری علامات یا نتائج سے نفرت کرتے ہیں انکی فہرست بڑی طویل دیں گے۔شاید اتسا بار بار دیکھنے کو ملے مگر انکا خیال۔۔اس ذمہ دار ،درد مند کا کہنا ہے جسے گھر متں آگ لگی نظر آرہی ہو اور جسے کوئی اور دیکھتا نہ ہو سو وہ تو اپنے لہجے اور اپنی پکار کو رنگین بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اخلاص اور سادگی انکی تحریر کے جوہر ہیں جو قدم قدم پر دکھائی دیتے رہتے ہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ جسے جمہوریت کہتے ہیں عامہ الناس کی مکمل نمائندگی اسے بھی نصیب نہیں۔عوام میں سے لوگ ان انتخابات میں امیدوار ہو ہی نہیں سکتے۔چہ جائیکہ وہ جیت بھی سکیں۔موجودہ زمانے میں جتنی زیادہ سطحوں پر اسمبلیوں کی نشستوں اور اراکین کے حقوق و مراعات مالی میں اضافہ اپنی جگہ بے حد بڑی عیاشی ہے جسے صرف صنعتی معاشرہ میں میسر ہو سکتا ہے۔عنایت اللہ صاحب نے اس سب کا ذکر بہت تفصیل سے بار بار کیا ہے اور وہ یہ کہ آج جمہوریت جیسا طرز حکومت بھی انسانی فکر کو اور کوئی دکھائی نہیں دے رہا۔بادشاہت،ڈکٹیٹر شپ،فوجی آمریت،،تاجروں کی حکومت،سرکاری ملازموں کی حکومت!۔آخر کونسی حکومت ہو!۔مجلس شوریٰ،جسے قرآن نے کہا وہ بھی جمہوریت کی اعلیٰ شکل اور اگلی منزل ہے۔جمہوریت آنی چائیے ۔اس میں مالداروں کی شراکت کو قابو کیا جا سکتا ہے۔آزمائے ہوئے چہروں کی راہ روکی جا سکتی ہے۔ ووٹ ڈالنا قانونی ذمہ داری بنا کر sufferage کا حلقہ وسیح کیا جا سکتا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔مگر عوامی رائے کے حصول کا کوئی طریق تو کہئے۔عوامی جذبنات کی کوئی تو شنوائی ہو۔اسکے بغیر ملک کھوکھلا ہو جاتا ہے۔عوام ساتھ ہوں تو حکومت بھی حکمت سے محروم نہیں ہوتی ورنہ محض پاور!۔حاکمیت جو ظلم سے کبھی دور نہیںرہ سکتی۔آج اہل مغرب ایران سے اگر اپنی شرائط منوا نہیں پاتے تو صرف اس باعث کہ ایرانی حکموت کی پشت پر عوام کی تائید موجود ہے۔ عوام کا ووٹ ایرانیوں کے ہاں جنگ کے دوران بھی نہیں روکا گیا۔ہم نے اگر حکمران خود چنے ہوتے تو ہمارے حکمران آج اتنے کمزور دکھائی نہ دیتے۔ اور امریکی افواج پاکستان میں لا کر طالبان اور القاعدہ کا تعاقب کرنے کا عندیہ نہ دیا جاتا۔ہمارے ہاں اگر عوامی رائے کا چلن رہا ہوتا تو اقوام متحدہ کی تشکیل نو کے وقت ہماری طرف سے یہ رائے متحدہ طور پر اٹھتی کی عرب اور غیر ارب مسلمانوں کی مستقل نشستیں اقوام متحدہ میں ہونی لازم ہیں۔تا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے منصوبے میں اسلامی ادارے زد میں نہ آ جائیں۔تاکہ مسلمان ممالک کے مسائل اسی طرح حل کرائے جائیں جس طرح یورپی ممالک کی لڑائیاں ختم کرائی گئی ہیں۔میں عنایت اللہ صاحب سے جو تعلق خاطر رکھتا ہوں اسکے پیش نظر مجھے امید رہتی ہے کہ انکے قلم سے انکے اخلاص قلبی سے انکی فطری قلندری سے اس بے درا قافلہ امت کو لمحہ موجود میں کوئی رہنمائی ضرو ر نصیب ہو گی۔مگر وہ وقت کی گھنٹی کی آواز بھی تو سنیں۔
احسان اکبر

 


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

  • pdf Inquilab e Waqat
    Inquilab e Waqat by Prof Ehsan Akbar
    File size: 205 KB Downloads: 44

Related Posts

  • 44
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…
  • 34
    وادی سون کی معروف روحانی شخصیات کا تذکرہ تحریر ملک محمد شیر اعوان وساوال ۔ کہتےہیں کہ قدرت جب کسی سےکوئی مخصوص کام لینا چاہتی ہی۔ تو اس کام کےلئےاسی قوم میںسےمخصوص افراد کو چن لیتی ہی۔ جو اس کام کی انجام دہی میں شب و روز ایک کر دیتےہیں۔…
  • 34
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply