حضرت علامہ یوسف جبریل سےانٹرویو

022yasirameer

مجھےعلامہ یوسف جبریل کو دیکھ کر وہ زمانہ یادآ گیا جب بڑےبڑےبادشاہ علماءکرام کےسامنےدو زانو ہو کر بیٹھتےتھےاور ولی عہد علماءکےجوتےاٹھانےکےلئےدوسرےشہزادوں سےبازی لےجانےکی کوشش کرتےتھی۔ یہ نظر انداز شخصیت دو دسمبر ٹھیک بارہ بجےروشن اور چمک دار آنکھوں اور عاجزی اور انکساری کےساتھ میرےکلینک میں داخل ہوئی۔ اس وقت میرےساتھ ایک کرنل ڈاکٹر ایک میجر ڈاکٹر سمیت دو اور ڈاکٹر تشریف فرما تھےجن کا تعلق ملٹری ہسپتال راولپنڈی سےتھا ۔اس بزرگ شخصیت میں ایسی بات ضرور تھی جس نےمجھ سمیت سب کو اٹھنےپر مجبور کر دیا ۔آثار بتاتےہیں کہ عمارت عظیم تھی۔ صاف اور شستہ لہجےمیں انہوں نےدریافت فرمایا کہآپ ہی ڈاکٹر یاسر ہیں۔ میں نےگھڑی کی طرف دیکھا اور کرسی پر براجمان اس عظیم شخصیت کےسامنےجھک گیا ۔پھر گفتگو کا سلسلہ کچھ یوں چلا ۔
ڈاکٹر یاسر امیر : علامہ صاحب پاکستان کا کیا بنےگا؟
علامہ صاحب :پاکستان کا کیا مطلب ہے؟ لا الہ الا اللہ پاکستان نہیں ٹوٹ سکتا البتہ پاکستان کےلوگ اپنی کوہتاہیوں کی وجہ سےنقصان اٹھا سکتےہیں۔ مصیبت میں مبتلا ہو سکتےہیں۔
ڈاکٹر یاسر: قائد اعظم سےملاقات کسیی رہی؟
علامہ صاحب : شملہ کانفرنس کےدوران قائد اعظم انگریزی اور کانگریسی وفد کی ہٹ دھرمی کی وجہ سےپاکستان کےحصول میں ناکام ہو رہےتھی۔ قدرت مجھےدہلی لےگئی ۔اورنگ زیب روڈ پر ملاقات ہوئی ۔میرےمنہ سےنکلا ۔قائد اعظم!آپ حکم کریں۔ انشاءاللہ آپ ہم کو فرماں بردار پائیں گے۔قائد اعظم پاکستان کےمطالبےپر سخت مضبوط ہو گئےاور اللہ تعالی کےفضل و کرم سےکامیاب و کامران ہوئی۔
ڈاکٹر یاسر امیر: جرمن سکالر اینی میری شمل کا کیا قصہ ہی؟
علامہ صاحب : اس شہرہ آفاق مستشرق نےتقریر کا ایک سلسلہ 1963 ءمیں شروع کیا۔ کہتی تھی کہ قران حکیم اللہ تعالی کاکلام نہیں۔ کیونکہ اس میں غلطیاں ہیں اور غلطیاں سامنےلاتی تھی۔ میں نےکہا۔ قران میں کوئی غلطی نہیں۔ توغلط کہتی ہی۔ پھر میں نےاسےقران حکیم میں قدیم و جدید فلاسفی آف اٹامزم ایٹمی سائنس دکھائی تو وہ لاجواب ہو گئی ۔1986 ءمیں اسلام آباد میں دائرہ کی تقریب میں اس نےاسلام کا اعلان کیا۔ سنا ہےکہ اب اس نےاسلام آباد میں دائمی سکونت اختیار کر لی ہی۔
ڈاکٹر یاسر امیر: ایٹمی سائنس دانوں اور جدید فلسفیوں کو قران حکیم کےبارےمیں کیا چیلنچ دیا؟
علامہ صاحب: روئےزمین کےایٹمی سائنس دانوں کو چیلنج دیا کہ وہ قران حکیم کی سور الھمزہ پڑھ لینےکےبعد بھی سب اکھٹےہو کر نیوکلر فائر کی اتنی ہی مختصر ایسی ہی جامع تعریف و تخصیص پیش کریں جیسا کہ قران حکیم میں موجود ہے۔اس سائنس کےدور میں سائنس کی بنیاد پر وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکیں گےجیسا کہ نزول قران کےدوران عرب لوگ فصاحت و بلاغت کی بنیاد پر قران حکیم کےمقابلےمیں ایک سورة بھی پیش نہیں کر سکےتھےاور میں نےروئےزمین کےجدید فلسفیوں کو چیلنج کیا ہےکہ وہ قران حکیم کی سورة الھمزہ پڑھ لینےکےبعد سب اکھٹےہو کر یہ فیصلہ دیں کہ جس طرح قران حکیم نےسور الھمزہ میں جدید و قدیم اٹامزم کےفلسفےکو دنیا میں نمودار ہونےوالےایٹمی جہنم ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری کی بنیاد قرار دیا ہی۔ حالانکہ قدیم اٹامزم پچیس سو برس قدیم ہےاور جدید اٹامزم سترہ سو سال پہلےظاہر ہوا ۔ایٹمی جہنم بیسویں صدی میں نمودار ہوا۔ کیا ایسا کرنا انسانی ذہن کےلئےممکن ہی؟ کیا اللہ تعالیٰ کےبغیر یہ بات چودہ صدیاں قبل کسی کےعلم میں تھی ۔فلسفی میری بات کےجواب میں ہرگز یہ نہیں کہہ سکتےکہ ذہن انسانی کےلئےایسا کرنا ممکن تھا۔ قران حکیم میں حطمہ کی حقیقت کا انکشاف اللہ تعالیٰ کےفضل و کرم سےمیرےذمےتھا اور قران حکیم ہی نےانسانیت کو ایٹمی جہنم سےنجات کا طریقہ بتا یا ہی۔
ڈاکٹر یاسر امیر :حضرت علامہ اقبال کےفرزند ڈاکٹر جاوید اقبال کےساتھ ملاقات کا سماں کیا تھا؟
علامہ صاحب: ڈاکٹر جاوید اقبال نےمیرا کلام پڑھ کر تبصرہ مجھےعطا کیا اور مجھےحضرت علامہ اقبال کی کرسی پر بٹھا کر کہا کہ مجھےآپ کےکلام سےاپنےوالد کی خوشبو آتی ہےاور مجھ سےکلام سنا اور رویا ۔
ڈاکٹر یاسر امیر: آپ کی کتاب اسلامی بم کےاثرات کیا نمودار ہوئی؟
علامہ صاحب: میری کتاب ” جبریلز اسلامک بم “Gabriel’s Islamic Bomb کےشائع ہوتےہی امریکہ یورپ اور تمام دوسرےمخالف ممالک کا پاکستان کےاسلامی بم کےخلاف پروپیگنڈا یک دم ختم ہو گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کےفضل و کرم اور اللہ کےکلام قران حکیم کی طاقت سےہوا۔
ڈاکٹر یاسر امیر: صدر ضیاءکےدور میں امریکہ نےپاکستان کی ایڈ بند کر دی آپ نےکیا کیا؟
علامہ صاحب: صدر ضیاءنےاس وقت کےوزیر اعظم جونیجو صاحب کو امریکہ دورےپر بھیجا۔ وہاں صحافیوں نےاسےکہا کہ تم ایٹم بم بنا رہےہو؟ اس کےانکار پر پاکستانیوں کو جھوٹا کہا۔ شریف فاروق ایڈیٹر جہاد ساتھ تھی۔ واپسی پر ایک خط وزیر اعظم کےنام نوائےوقت میں لکھا ۔اس میں میرا نام لےکر کہا کہ اس ایڈ کےدرد کی دوا اس کےپاس ہی۔ جونیجو صاحب خط لےکر صدر ضیاءکےپاس پہنچی۔ صدر ضیاءنےسعید مہدی کمشنر راولپنڈی اور پی او ایف بورڈ واہ کےچیئرمین جنرل طلعت مسعود صاحب کےذمہ مجھ سےرابطہ لگایا ۔میں نےدعا کی اور دعا کےعلاوہ کچھ عوامل جو میرےاسلامی بم میں چھپ چکےتھےکام آ گئی۔ اور پاکستان کی ایڈ جاری ہو گئی۔
ڈاکٹر یاسر امیر: دنیا کےسفیروں کےسامنےجو تقریر آپ نےکی وہ کہاں تک کامیاب رہی؟
علامہ صاحب :1968ءمیں اسلام آباد کےشہرزار ہوٹل میں میں نےدنیا بھر کےسفیروں کےسامنےقران حکیم پر تقریر کی۔ تقریر ختم ہونےپر روس کےسفیر نےمیرےپاس آ کر مجھ سےمصافحہ کیا اور کہا :THE MOST THOUGHT PROVOKING LECTURE I HAVE HEARD IN MY LIFE ” یعنی سب سےزیادہ فکر انگیز تقریر جو میں نےاپنی زندگی میں سنی ہی۔ اس کےبعد امریکی سفیر میرےپاس آئےاور اس نےبھی وہی جملہ کہا جو روس کےسفیر نےکہا تھا۔ البتہ اس کا مصافحہ کچھ زور دار تھا۔
ڈاکٹر یاسر امیر: کیا آپ کی کوئی بات یورپ یا امریکہ میں چھپی ہی؟
علامہ صاحب: ہاں شگاگو امریکہ کےبلٹن آف دی اٹآمک سائنٹسٹ BULLETIN OF THE SCIENTISTS اور اس کےعلاوہ ٹائمز میگزین TIME MEGAZINE بھی چھاپتا ہی۔ دراصل میں اپنا کام مکمل کرنےکےبعد بیمار ہو گیا ۔آج تیرہ برس سےبیمار ہوں۔ کام تو چل رہا ہےمگر صحت ہو جائےتو یورپ امریکہ اور انسانیت کو نصیحت کا بھر پور حق ادا کیا جائی۔
ڈاکٹر یاسر امیر: وہ گرین بک سبز کتاب کا معاملہ کیا ہی؟
علامہ صاحب : غالباً 1968 ءکی بات ہےکہ جنرل شیر بہادر جی ایچ کیو نےاوقاف کو ماوزےتنگ کی ریڈ بک کی طرح پاک فوج کو اسلامی طرز پر گرین بک سبز کتاب لکھوا کر دینےکی فرمائش کی۔ اس طرح کہ تین سو پینٹھ صفحے۔ہر صفحےپر ایک موضوع یعنی ہر سال کےلئےہر روز کےلئےایک موضوع کتاب ۔ ہر پاک فوجی کےپاس ہو۔ فاضل لوگوں نےکوشش کی مگر ایک ایک موضوع کئی کئی صفحات پر پھیل گیا اوقاف کےپبلیکیشں آفیسر جناب جعفر قاسمی صاحب کےکہنےپر اپنےوقت میں میں نےلکھ دی۔ میں ان دنوں اوقاف میں ریسیرچ انوسٹیگیٹر تھا پھر اوقاف چھوڑ دیا کئی سال کےبعد وہ کتاب ” جہاد کےاخلاقی اصول نکات و ہدایات و روایات “کےنام سےچھپ گئی ۔
ڈاکٹر یاسر امیر: انگریز شہرہ آفاق فلسفی لارڈ رسل کےخط میں کیا پایا؟
علامہ صاحب : 1964 ءمیں میرےاستسفار کےجواب میں لارڈ رسل نےلکھا ۔کہ” جب سےآدم اور حوا نےگندم کا دانہ کھا یا ہےانسان نےہر وہ حماقت کی ہےجو وہ کر سکتا تھا اور انجام ایٹمی جہنم ہے“۔لیکن مجھےالھمزہ کےانکشاف نےنا امید نہ ہونےدیا۔ ویسےرسل کا تجزیہ موجودہ حالات کو دیکھتےہوئےکچھ غلط نہ تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نےاپنی مہربانی سےقران حکیم میں ایٹمی جہنم سےبچنےکی تدبیر بتا دی ہی۔
ڈاکٹر یاسر امیر: اپنی علمی جدوجہد کےمتعلق کچھ کہیئی؟
علامہ صاحب : بچپن میں میٹرک کئےبغیر سکول سےبھاگ گیا ۔پچیس برس کی عمر میں 1942 ءمیں دوسری عالمی جنگ کےدوران بغداد و کربلا کےقریب ایک مقام مصیب میں میں نےخواب دیکھےجو ورطہءتحریر میں آ چکےہیں۔ میں انڈین آرمی میں حوالدار تھا لیکن حصولِ علم کا جنون پیدا ہو گیا۔ ایک حکم آیا جس میں اسلام پر زد پڑتی تھی۔ میں نےماننےسےانکار کر دیا۔ہندوستانی میجر نےجی اوسی مڈل ایسٹ جنرل الیگزنڈر کےخط کےساتھ میرےسامنےسٹار پھیلا کر کہا ۔ جو کہو میں یہاں سےتم کو بنا کر لےجاوں گا مگر میں نےانکار کر دیا۔ انگریز مڈل ایسٹ میں ڈھائی لاکھ مسلمان ہندی فوجیوں کےرد عمل سےخوف زدہ تھا۔میرا کورٹ مارشل ہوا ۔فوج سےفارغ ہوا اور پھر چالیس برس یعنی 1982 ءتک شب و روز علم کےحصول میں منہمک رہا ۔اردو فارسی عربی انگریزی زبان اور ادب قران توریت زبور اور انجیل کی تفسیر و تشریح سائنس ،ایٹمی فزکس تک فلسفےڈارون اور رسل تک تواریخ جغرافیہ اور دوسرےقدیم و جدید علوم حاصل کئےاور آخر کار انگریزی میں چودہ جلدیں اردو میں چودہ جلدیںتحقیقی لکھیں۔ جو سب کی سب ایٹمی جہنم کےمتعلق قران اور سائنس کےحوالےسےہیں۔ 1942 ءمیں خواب دیکھا۔ 1961 ءمیں پتہ چلا کہ میرا مشن انسانیت کو ایٹمی جہنم حطمہ سےآگاہ کرنا ہی۔ 1982 ءمیں کام مکمل ہوا۔ 1942 ءوہی سن ہےجس میں انرکو فرمی نے فژن چین ری ایکشن کا کامیاب تجربہ کرکےدنیا کےلئےایٹمی آگ کا دروازہ کھولا۔ میں نےجو خواب دیکھا اس پر انحصار نہیں کیا ۔بلکہ انسانیت کےسامنےعلمی دلائل پیش کئےہیں اور بات قران حکیم اور سائنس کےحوالےسےکی ہے۔سارا علم میں نےبغیر کسی استاد یا سکول کےحاصل کیا ۔یہ عجیب بات ہے۔ اللہ جو چاہےکر سکتا ہے ۔میری پیدائش سترہ فروری 1917 ءموضع کھبیکی سون سکیسر خوشاب میں آعوان خاندان میں ہوئی۔ سترہ فروری تورات کےمطابق طوفان نوح کی تاریخ ہے۔البتہ وہ طوفان پانی کا تھا اور اب دنیا کو آگ کا طوفان در پیش ہی۔ میر ی دعا ہےکہ اللہ تعالی انسانیت کو اس دنیا کےایٹمی جہنم اور اگلی دنیا کےحطمہ کےدور ناک عذاب سےبچائے۔آمین۔ میری علمی جدوجہد کےدوران انگریزی کتابیں مجھےلنڈن کی ایک فرم مہیا کرتی تھی۔ اس فرم نےمجھےامریکہ سےبھی تلاش کر کےسیکنڈ ھینڈ کتابیں بھیجیں۔ میں قیمت بھیج دیتا تھا ان کےتعاون کےبغیر میر ا مشن پایہ تکمیل کو نہ پہنچتا ۔وہ میرےشکریئےکےمستحق ہیں۔ یہ بےشمار نئی اور پرانی کتابیں اکٹھی کرنا میرےبس کی بات نہ تھی۔
ڈاکٹر یاسر امیر: علامہ صاحب ! مادام اینی میری شمل کےساتھ مناظرہ کا احوال قارعین دلچسپی سےجاننا چاہیں گے؟
علامہ صاحب: اس مناظرےکی دو باتیں غور طلب ہیں۔ پہلی یہ کہ جب قران حکیم کو خطرہ لاحق ہوتا ہےتو اللہ تعالی اس کی حفاظت اپنےذمےلےلیتےہیں۔ دوسری یہ اگر مس اینی میری شمل کی مہم کامیابی سےہمکنار ہو جاتی تو قران میں شبہ پڑ جاتا اور یہ شبہہ تباہ کن ثابت ہوتا ۔یہ مناظرہ ستمبر 1963 ءمیں پنجاب یونیورسٹی ہال میں ہوا۔ یہ محض اتفاق تھا کہ میں گاوں سےلاہور پہنچا۔ وہاں علامہ علاالدین صدیقی جو اس وقت پنجاب یونیورسٹی شعبہءاسلامیات کےصدر تھےاور بعد میں وائس چانسلر کےعہدےسےریٹایئر ہوئےسےملنےگیا تو وہ رو پڑےفرمایا۔ برادر ایک جرمن یہودی خاتون نےہماری داڑھیوں پر پانی پھیر دیا ہی۔ وہ کہتی ہی۔ قران اللہ کا کلام نہیں۔ تمھارےنبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےلکھا ہےثبوت یہ پیش کر تی ہے کہ قران میں غلطیاں ہین اللہ غلطی نہیں کرتا الاظہر یونیورسٹی میں اس تقریر سےمتاثر ہو کر چھہ سو مسلمان عیسائی ہو گئےاس لئےمیں اس تقریر میں صحافیوں کو نہیں آنےدیتا اور وہی لوگ داخل ہوتےہین جن کو دعوت نامہ بھیجا جاتا ہےمادام نےقران کا مطالعہ ایک طویل عرصےتک کیا ہےمیں نےکہا علامہ صاحب لاہور عالموں کا گڑھ ہےکیا کسی عالم نےاس عورت کو جواب نہیں دیا علامہ صاحب نےفرمایا برادر لاہور کی کیا بات کرتےہو میں ہر روز یونیورسٹی کےخرچےپر پورےپاکستان سےبڑےبڑےعلماءکرام کو بلاتا ہوں مگر کچھ نہیں ہو سکا علامہ صاحب نےفرمایا برادر تم آ گئےہو ہوسکتا ہےاللہ تعالی نےتمھیں اس مسئلےکو حل کرنےکےلئےبلایا ہو یہ ہےکارڈ اس کےبغیر کسی کو ہال میں داخلےکی اجازت نہین بدھ کےروز مادام کی تین سےپانچ بجےتک آخری تقریر ہےآج سوموار ہےپھر وہ دلی جارہی ہےبدھ کےروز تین بجےمس اینی میری شمل کی تقریر شروع ہوئی علامہ علاالدین صدیقی صدارت کی کرسی پر تھےبیس بائیں متشخص علماءکرام تقریر سن رہےتھےچار عیسائی پادری بھی موجود تھےمادام نےقران کی غلطیاں بتانا شروع کین حتی کہ چار بج گئےہر شخص دم بخود بیٹھا تھا میں نےپہلےعرض کیا کہ اللہ تعالی نےاپنےفرمان ‘ ھم نےہی اس قران کو نازل کیا ہےاور ہم ہی اس کی حفاظت کرنےوالےہین! کےمطابق پہلےتو مجھےاتفاقاً لاہور میں بلا لیا اور پھر علامہ صاحب نےاپنی کرسی گھسیٹی اور پہلی صف میں میرےپاس لےآئےمیں نےکہا علامہ صاحب آپ نےصدارت کی کرسی چھوڑ دی فرمایا برادر بحیثیتِ صدر میں کچھ کہہ نہیں سکتا اب کچھ نہ کچھ کہوں گا آپ اور دوسرےعلماءکرام سب ہی خاموش بیٹھےہین آپ پر مجھےبڑی امید تھی میں نےکہا علامہ صاحب قران آپ کا ہےفرمایا نہین میں نےکہا کیا میں لکھ کر لایا ہون فرمایا نہین میں نےکہا قران جس کا ہےوہ اس کی حفاظت کر سکتا ہےمادام کہہ رہی تھی دیکھو اللہ تعالی غلطی نہیں کرتا قران میں غلطیاں ہین اگر قران اللہ کا کلام ہوتا تو غلطیوں سےپاک ہوتا لیکن جب علامہ صاحب نےصدارت چھوڑ دی تو مادام خاموش ہو گئی کھڑی ہو گئی علامہ صاحب نےصدارت چھوڑی مادام خاموش ہوگئی مجھےکھڑا ہو کر بولنےکا موقع مل گیا میں کھڑا ہو گیا ورنہ پانچ بجےتقریر ختم پھر ایک دو سوال اور چائےاور چھٹی میں کھڑا ہوا میرےذہن کو رہنمائی مل چکی تھی مجھےسمجھایا جا چکا تھا کہ کیا کہنا ہےدیکھنےکی بات یہ ہےکہ کس طرح اللہ تعالی نےاپنی قدرتِِ کاملہ سےعلامہ صاحب کو صدارت کی کرسی سےہٹا کر مجھےبولنےکا موقع بہم پہنچایا میں کھڑا ہوا میرا حلیہ اور میرا لباس بالکل دیہاتی تھا کوئی شخص یہ تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ یہ شخص انگریزوں کےسامنےتقریر کرےتو وہ مسحور (SPELL BOUND ہو جاتےہین لیکن اس سےبھی بڑی وہ بات ہےجو میں نےکہنی تھی اور جو میرےذہن میں ڈال دی گئی تھی خود مادام بھی تقریر انگریزی ہی میں کررہی تھی اور انگریزی میں اس کو خاصا ملکہ حاصل تھا ‘ مادام میں نےکہا میں نےآپ کی پہلی تقریریں نہیں سنین میں نہیں جانتا کہ آپ نےکیا کہا اور انہوں نےکیا سنا مجھےآپ کی تقریر سننےکا ایک گھنٹےکااعزاز حاصل ہوا ہےمیں سمجھتا ہوں کہ آپ قران کی الہامی حیثیت سےانکار کر رہی ہین آ پ کا کہنا ہے کہ قران پیغمبر اسلام نےلکھا کہنےلگی ہاں میرا یہی خیال ہیآپ اس کو غلط ثابت کرین میں نےکہا مادام قران پیغیمبر اسلام نےنہیں لکھا اور یہ جو آپ کہتی ہین قران میں غلطیاں ہیں تو آپ غلط کہتی ہین قران میں کوئی غلطی نہین آپ کی سمجھ غلط ہےلیکن اگر میں آپ کےساتھ ان غلطیوں پر بحث کروں تو ایک غلطی کو درست ثابت کرنےپر جتنا وقت صرف ہو سکتا ہےوہ یہاں ملنا ممکن نہیں ہےاس کےبجائےمیں آپ کو اس قران میں ایسی چیز دکھاں گا جو قران کو اللہ کا کلام ثابت کرنےمیں اٹل ہےکہنےلگی وہ کیا ہی؟ میں نےکہا مادام قران کب نازل ہوا یا جیسےکہ آپ کہتی ہیں کب لکھا گیا؟ کہنےلگی تیرہ سو اسی برس پہلےمیں نےمادام کی دل ہی دل میں داد دی کیونکہ مسلمان اس معاملےمیں سہل انگاری سےکام لےکر کہہ دیتےہیں چودہ صدیان جب کہ مادام نےچودہ صدیاں نہیں کہا بلکہ کہا تیرہ سو اسی برس پہلےمیں نےکہا مادام اور ایٹم بم اس دنیا پر کب نازل ہوا کہنےلگی انیس سو پینتالیس ٥٤٩١ میں دو ایٹم بم امریکنوں نےھیروشیما اور ناگاساکی جاپان میں پھینکےتھےمیں نےپوچھا کیا ان دو تاریخوں میں کچھ فاصلہ ہی؟ کہنےلگی صدیاں بیچ میں پڑی ہینتو مادام مجھےبتائیں کہ ١٣٨٠ برس پہلےبدوں کےملک میں مکہ کےشہر میں ایک ان پڑھ امی شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عربی میں ایک کتاب لکھتا ہے جس کا نام قران رکھتا ہے اور اس قران میں وہ قدیم اور جدید اٹامزم کی تھیوری اور ایٹمی سائنس بیان کرتا ہے اور ایٹم بم کی تصویر بناتا ہےکہنےلگی کیا تم ہوش میں ہو میں نےکہا ہاں مادام بھنگ چرس میں نہیں پیتا نہ ہی میں سمجھتا ہون میں نےایسی کوئی بات کی ہےجس سےمیرےدماغ کی خرابی کاثبوت سامنےآئےکہنےلگی کہ اس سےبڑی اور کیا بات ہو سکتی ہے١٣٨٠ برس پہلےسائنس اور یہ ایٹمی سائنس کہاں تھی یونان میں نہ تھی عرب کی تو بات ہی کیا ہے اور ایٹم بم کی تصویر کےکیا معنی؟ یہ کہاں ممکن تھا میں نےکہا مادام یہی تو سب بات ہے١٣٨٠ برس پہلےسوائےرب کی ذات کےکوئی ان باتوں سےآگاہ نہیں تھا اگر قران میں ہےتو اس سے بڑا ثبوت اللہ کا کلام ہونےکا کیا ہو سکتا ہےکہنےلگی میں نےقران کافی عرصےتک پڑھا ہےقران دین کی کتاب ہےاس میں نماز روزےکی باتیں ہین یہ کوئی سائنس کی ٹکسٹ بک نہیں ہےنہ ہی تمھارےکسی عالم نےکہا ہےکہ قران میں ایٹمی سائنس ہےاور ایٹم بم کا تذکرہ ہےمیں نےکہا ایٹمی سائنس اور ایٹم بم والی بات پچھلےہی سال قران میں مجھےمعلوم ہوئی ہےاور میں نےابھی تک کسی سےنہیں کہی البتہ قران میں ہر بات کا بیان ہےکیا آپ نےوہ آیت نہیں پڑھی جس میں کہا گیا ہےکہ ہم نےانسانوں کےلئےاس قران میں ہر مسئلہ بیان کر دیا ہےاوریہ دعوی دو بار کیا گیا ہےتو مادام وہ قران حکیم جو عاد و ثمود کی تباہی پر بار بار افسوس کرتا ہےاور بار بار اP ن واقعات کا بیان کرتا ہےحالانکہ یہ بستیاں کیا تھین لاہور کا ایک محلہ چند لاکھ کی آبادی اور مادام یہ ایٹمی دیو ٹوکیو سےلےکر نیو یارک تک انسان اور جانور تو کیا گھاس کا تنکا بھی زمین پر نہیں چھوڑتا بلکہ ایٹمی جنگ کےبعد اس زمین پر دس لاکھ سال کےلئےزندگی کا کوئی نشان پیدا نہیںہو سکتا پھر یہ کیسےہو سکتا ہے کہ قران حکیم ایٹم بم اور ایٹمی جہنم کا تذکرہ نہ کرےجب کہ قران حکیم نےدعوی کیا ہے کہ ہم نےانسان کےلئےاس قران میں ہر مسئلہ بیان کر دیا ہےاس بیان پر مادام اس قدر سمجھ گئیں کہ بات سنجیدہ ہورہی ہے کہنےلگین پھر دکھا وہ کہاں کہاں لکھا ہےمیں نےکہا مادام پڑھیں سور الھمزہ کہنےلگیں میں حافظ نہیں ہون میں نےکہا تو پھر قران حکیم منگواں یا خود پڑھون کہنےلگین قران منگوانےکی ضرورت نہین میں قران سمجھتی ہون تم پڑھو اگر اپنی طرف سےپڑھو گےتو میں پکڑ لو ں گی میں نےپڑھنا شروع کر دیا ‘ آعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمان الرحیم ویل الکل ھمزہ لمزہ نِ الذی جمع مالا دعددہ یخسب ان مالہ اخلدہ کلا لیبنذن فی الحطمہ خرابی ہےہر عیب جو نکتہ چین کےلئےجو مال جمع کرتا ہےاور گن گن کر رکھتا ہےاور سمجھتا ہےکہ اس کا مال اس کو ہمیشہ زندہ رکھےگا ہرگز نہین بلکہ وہ جھونکا جائےگا روندنیوالی آگ یعنی حُطَمہ مین یہاں پہنچ کر میں نےسوال کیا مادام حُطَمہ کیا ہےکہنےلگی تمھارےمفسرین کرام کہتےہیں کہ یہ ایک ایسی آگ ہے جس میں جو چیز ڈالو وہ اس آگ کی شدت سےذرہ ذرہ ہو جاتی ہےمادام کےاس جواب پر میں نےدل ہی دل میں بےحد داد دی کیونکہ یہ بات ا س کی نہین بلکہ یہ بات ا سےقران حکیم کےچوٹی کےمفسرین مثلاً حضرت عبد اللہ بن عباس حافظ عماد الدین ابن کثیر امام فخر الدین رازی جلالین اور علامہ جریر طبری کی تفسیروں سےمعلوم ہوئی اور یہ تفسیریں کیونکہ اس وقت کسی دوسری زبان میں ترجمہ نہیں ہوئی تھین لہذا معلوم ہوا کہ اصلی متن میں پڑھی ہین مگر حیرت ناک تھی وہ تیزی جس سےمادام نےیہ جملہ کہا تھا میں نےکہا مادام تیرےاس ایک نکتےنےمیری ساری بات ثابت کر دی ہےمگر میں آخیر تک مختصراً ساری تشریح کا بیان کروں گا تاکہ تو دیکھے کہ کس طرح قران حکیم نےصرف دس لفظوں میں ایٹمی آگ کی مکمل تشریح کر دی ہےیہ تو آپ نےدیکھ لیا ہے کہ کس طرح قران حکیم کےصرف چھبیس لفظوں میں قدیم اور جدید اٹامزم کاسارا فلسفہ بیان کر دیا ہےپھر میں نےآخیر تک سور کی تشریح کی آخر میں پوچھا مادام آپ نےکبھی ایٹم بم چلتےدیکھا ہےا س نےکہا نہیں اگر دیکھتی تو زندہ کیسےرہتی میں نےپوچھا ایٹم بم کےدھماکےکی کوئی تصویر تو دیکھی ہو گی کہنےلگی ہاں ہیروشیما والےدھماکےکی تصویر دیکھی ہےمیں نےپوچھا کیا کوئی ستون ہےکہا ہاں چار میل اونچا ستون ہےمیں نےکہا اب جو ایٹم بم بنا یا ہےہائیڈرجن بم اس کا ستون بیس میل اونچا ا ٹھتا ہےتین میل کاقطر ہوتا ہےاور قران نےکہا کچھےہوئےستونوں مین ایسا معلوم ہوا کہ مادام کرسی پر بیٹھی نہیں بلکہ گری ہےصدمہ شدید تھا مادام کا مشن فیل ہو گیا تھا مادام قران کی حقیقت کو پا چکی تھی سمجھ چکی تھی کہ قران اللہ کا کلام ہےانسان کےبس میں ایسی بات کا کہنا نہین مادام چلی گئی علمائکرام نےمیرےمتعلق علامہ صاحب سےپوچھا یہ حضرت کون ہین فرمایا یہ وہ شخص ہے جسےاللہ تعالی نےمحض اتفاق سےتمھاری قوم میں پیدا کر دیا ہےوہ قرانی نور جو اللہ تعالی نےاس کےسینےمیں تفویض فرمایا ہیاگر اس قوم نےاس سےحاصل نہ کیا تو اللہ تعالی اس قوم کوکبھی معاف نہیں کرےگا پھر ایسا آدمی پیدا نہ ہوگا ا س روز علامہ صاحب نےپاکستان ٹایمز کارپورٹر بلوایا تھا اس ا مید پر کہ شائید جبریل صاحب کوئی جواب دےسکیں گےرپورٹر نےکہا بتائیئےکیا لکھوں میں نےکہا پندرہ دن کےبعد تمھارےدفتر میں میں ایک مضمون لےآں گا حسب وعدہ وہ مضمون جس کاعنوان تھا ‘ قران حکیم اور ایٹمی جہنم! QURAN AND THE ATOMIC HELL پاکستان ٹائمز میں لےگیا اور وہ چھپا اور پورےیورپ اور امریکہ میں تہلکہ مچ گیا اP س روز اP ن ملکوں میں جتنےترجمےقران حکیم کےتھے وہ سب کےسب بِک گئےسائنس دان جاننا چاہتےتھےکہ کیاواقعی قران حکیم میں کوئی ایسی بات موجود ہےمادام واپس چلی گئی دورہ ختم پھر ١٩٧٣ ءمیں پاکستان آئی پھر باقاعدگی سےعلامہ اقبال کی برسی پر آ کر مقالہ پڑھتی رہی سلطان باہو کی کافیاں اور عبد اللطیف بھٹائی کا کلام جرمن زبان میں ترجمہ کیا مگر قران حکیم کا نام نہیں لیا ڈاکٹر یاسر امیر’ علامہ صاحب بعد میں مادام نےاسلام قبال کیا اس کےبارےمیں آپ کیا جانتےہین؟ علامہ صاحب ١٩٨٦ ءمیں مجھےجناب غنضفر مہدی صاحب سیکرٹری جنرل دائرہ کا کارڈ ملا کہ مس اینی میری شمل اپنےاسلام کا اعلان کرنا چاہتی ہین آپ کی شمولیت ضروری ہےغنضنفر مہدی کو میرےمناظرےکا علم جناب شریف فاروق ایڈیٹر جہاد کےپمفلٹ سےہو چکا تھا میں نےمعذرت کر لی قران کی تفسیر میں الجھا ہو ا تھا میں نےاخبار میں خبر پڑھ لی مادام نےاسلام قبول کرنےکےعلاوہ وصیت کی کہ مروں تو مجھےعبد الطیف بھٹائی کےروضےکےپاس دفن کیا جائیسناہےکہ ا س علاقےکےڈپٹی کمشنر نےوہاں جا کر ایک چار دیواری بنوائی جس میں ایک تختی لگائی جس پر لکھا ہے ‘ سابقہ مس اینی میری شمل! میں نےتو یہ بھی سنا ہے کہ مادام یورپ کی سکونت ترک کر کےاسلام آباد میں سکونت پذیر ہو گئی ہین اللہ کرےیہ درست ہو اب ہمیں مادام سےکوئی شکوہ کوئی گلہ نہین وہ خلوص ِِ دل سےمسلمان ہو چکی ہین اس فاضل عورت کےاسلام لانےسےپوری دنیا میں اسلام کو عزت حاصل ہوئی ہےمیں خلوصِِ دل سےمادام کو اسلام لانےپر مبارک باد پیش کرتا ہون بچپن میں ہمیں محلےکی مسجد کےامام مسجد پڑھاتےتھے‘جو کوئی کافر مسلمان ہووےا س نوں قتل نہ کیجےدوجا ا س نوں بند نہ دیےتیجا اس دا مال نہ کھسئےچوتھا ا سں تےدوزخ دی بھاہ حرام اےپنجواں ا س دا وچ بہشتاں دےگھر ای! مادام نےاسلام لانےکےبعد ایک بڑی پیار ی کتاب لکھی ہے LOVE OF THE MUSLIMS FOR THEIR PROPHET یعنی ‘مسلمانوں کی محبت اپنےنبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کےلئی! میں نےدیکھی ہےماشاءاللہ قابل تعریف ہےاللہ قبول فرمائیآمین
علامہ صاحب شکریہ اور کوئی بات؟ علامہ صاحب’ بات تو وہی ہےجو ابھی کہنی ہےیعنی میری چالیس سالہ کمرشکن زہرہ گداز صبر آزما مسلسل علمی جدوجہد اور اس کا مقصود اس کا مقصود تھا خدا کی اس زمین پر بسنےوالی مخلوق نباتات اور حیوانات کو ایٹمی جہنم ایٹم بم ایٹمی تابکاری اور اس ایٹمی دور کےدوسرےبےشمار ملحقہ مصائب سےبچانےکی کوشش میں انسانیت کو قران اور سائنس کی روشنی میں ایٹمی جہنم کی حقیقت سےآگاہ کرنا اور اس کی ھولناک تباہ کاریوں کو آشکار کرنا اور یہ بتانا کہ اس عارضی دنیا کا یہ عارضی ایٹمی جہنم قران حکیم کی سور الھمزہ میں بیان کئےہوئےاگلی دائمی دنیا کےدائمی حطمہ ایٹمی جہنم کا پرتو ہےاور قران حکیم نےسور الھمزہ میں انسان کی وہ تین خصلتیں بیان کر دی ہین جن سےحطمہ کی آگ کی سزا واجب ہو جاتی ہےیعنی عیب جوئی نکتہ چینی مال جمع کرنا اور گِن گِن کر رکھنا اور یہ سمجھنا کہ ا س کا مال ہمیشہ رہےگا پھر دیکھئےکہ واضح طور پر اس عارضی دنیا کےعارضی ایٹمی جہنم کےپیدائش کا سبب بھی یہی خصلتیں ہین جو مادہ پرستی کےاس ایٹمی دور کی بنیادی خصلتیں ہیں اور یہ معجزہ ہےکہ قران حکیم نےبیان کر دی ہین اور یہی خصلتیں اسدور کےایٹمی جہنم کی پیدائش کا سبب بنی ہین پس یہ جان لینا کوئی مشکل نہیں کہ اس دور کےوہ لوگ جو ان تین متذکرہ خلصتوں کی وجہ سےایٹمی جہنم ایٹم بم ایٹمی تابکاری کی سزا کےمستحق ٹھرےمگر اس دنیا سےبچ کےنکل گئےوہ اگلی دائمی دنیا میں دائمی حطمہ کو اپنا منتظر پائیں گےکیونکہ یہی تینوں وہ خصلتیں ہیں جو قران حکیم نےحطمہ کی سزا کا سبب گردانی ہین اور اس عارضی دنیا کےایٹمی جہنم کی پیدائش اور اگلی دنیا کےدائمی حطمہ کی آگ کےبھڑکنےمیں قدر مشترک ہین اور یہ بات یعنی دائمی دنیا کےدائمی حطمہ والی بات قیامت پر یقین رکھنےوالےشخص پر بہت بھاری ہےاور یہ کہ ایٹم بم ہھتیار نہیں ہےبلکہ مکافاتِ عمل کی بنا پر عذابِ الہی ہےاسی طرح جس طرح عاد و ثمود کی بستیوں پر ہوا تھا اور ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری کےاثرات سےبچنےکی کوئی امکانی سبیل نہیں ہےعذابِ الہی سےبچنا محال ہےاس دنیا کےایٹمی جہنم اور اگلی دنیا کےحطمہ سےنجات پانےکا واحد ذریعہ یہ ہےکہ جو تین خصلتیں قران حکیم نےعذاب کی بنیاد بتائی ہین ا ن کوترک کر دیا جائےایٹمی جہنم خود بخود ناپید ہو جائےگا اور یہ کہ تابکاری کی بیماری کا کوئی شافی علاج ابھی تک نہیں ملا نہ ہی کوئی نظر میں ہےاور تابکاری کےنتیجےمیں انسانی بچےعجیب الخلقت پیدا ہوتےہین جو زندگی گزارنےکےاہل نہیں ہوتےاور ا ن کی تعداد بڑھتےبڑھتےساری انسانیت کو لپیٹ میں لےسکتی ہےاور صرف انسان ہی نہین حیوانات بلکہ نباتات بھی تابکاری کےاس عمل سےمتاثر ہو کر عجیب الخلقت بن جاتےہین اور نہ اس عمل کا کوئی پیشگی علم ہو سکتا ہےنہ ہی اس عمل کو روکنےکی کوئی صورت پیدا ہوئی ہےنہ ہی کوئی نظر میں ہےشگاگو امریکہ کےبلیٹن آف دی اٹامسٹس میں جب میرا مراسلہ چھپا کہ جب تک کسی قدرتی طاقت پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کر لیا جائےاور ا سےبےضرر نہ بنا لیا جائےا س وقت تک اس کےاستعمال کی سفارش نہیں کرنی چاہئےتو کیا ایٹمی توانائی کی تابکاری پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہےایسا نہیں ہوا لہذا سائنس دانوں کو لیبارٹریوں میں ا س وقت تک تجربات کرنےچاہیئں جب تک کہ تابکاری پر کنٹرول حاصل نہیں ہو جاتا ورنہ ایٹمی جنگ نہ بھی ہوئی تو ایٹمی توانائی سےپیدا ہونےوالی تابکاری انسانیت کو رفتہ رفتہ بےپناہ مصائب میں گرفتار کرکےبالآخر بابود کر دےگی تو پوری دنیا کےسائنسی حلقوں میں ایک سنسنی خیز ہیجان برپا ہو گیا بات درست تھی اور ضمیر جاگ ا ٹھےایسا معلوم ہو تا ہےکہ انسان کو ایک زبردست دیو کےساتھ مقابلہ کرنا پڑ گیا ہےتاہم دنیا بھر میں بےشمار ایٹمی سائنس دان اس تلخ حقیقت کو جان کر ایٹم بم کےمخالف ہو چکےہین ایٹمی مسئلےپر ٹائم میگزین اور نیوزویک بھی میری گذارشات چھاپتےہیناسوقت پورا یورپ اور امریکہ دل و جان سےایٹمی مسئلےکا مخالف ہےاور اس سےنجات پانےکا خواہاں ہےچند برس پہلےیورپ اور امریکہ کےپادریوں نےایٹم بم کےخلاف تحریک چلائی جو کافی حد تک کامیاب ہوئی مگر بعض حلقوں نےپادریوں پر یہ اعتراض کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نےتو جنگ کی بات بھی نہیں کی تم کس حوالےکی بات کرتےہو تو میں نےبائیبل سےمتعلقہ حوالےلکھ کر پوپ روم کو بھیجےمگر ساتھ ہی میں نےقران حکیم کی سور الھمزہ کی ایٹمی تشریح بھی لکھ کر بھیج دی یہ تشریح قران حکیم کا ایک واضح معجزہ ہےقران حکیم نےسائنس کےانداز میں وہ تشریح کی ہےجو ایٹمی سائنس دانوں کو ورطہءحیرت میں ڈال دیتی ہےبائیبل میں صرف اشارےملتےہین پوپ روم نےمجھےشکریئےکا خط لکھا اس سارےعلم کےحصول کےلئےمیری جدوجہد عجیب و غریب ہےبچپن میں میں نےسکول چھوڑ دیا پھر پچیس برس کی عمر
میں ١٩٤٢ ءمیں بغداد کےقریب ایک شہر مصّیب میں جہاں دوسری عالم گیر جنگ کےدوران میری فوجی یونٹ مقیم تھی اور میں حوالدار تھا وہاں خواب میں حضرت خضر علیہ السلام سبز عمامےوالےنےمیر ی سفارش کی اور حضرت ابراھیم علیہ السلام نےمنظوری دی اس خواب نےمیری قلب ِ ماہیت کر دی میرےاندر حصولِ علم کےلئےایک ناقابلِ برداشت جنون پیدا ہو گیا فوج میں اس قسم کی علمی جدوجہد ناممکن تھی قدرت نےفوج سےچھٹکارا دلا دیا جو جنگ کےدنوں میں ممکن نہ تھا ایک مسئلہ پنجابی پگڑی اور گورکھا ہیٹ کا بیچ میں آن پڑا عراق کےلوگ مسلمان ہندی فوجیوں کو پگڑی سےپہچانتےاور ا ن سےملتےغالباً اس کےتدارک کےلئےپگڑی متروک ہو گئیاور گورکھا ہیٹ کا پہننا لازمی ہو گیا میں نےانکار کر دیا کورٹ مارشل ہوا مصر تک سےمسلمان ھندی فوجیوں نےمجھےاپنی پسندیدگی اور تعاون کےخط لکھےوہ سنسر ہوئےمعاملہ شدت اختیار کر گیا میرےسامنےسٹار اور کران ڈال دیئےگئےاور کہا گیا کہ چن لو ہم لگا دیں گےمگر یہ مسئلہ ترک کر دو یعنی کہو تو جرنیل بنا کر ھندوستان واپس کر دئےجا گےمگر ضمیر نےنہ مانا فوج سےخارج کر دیا گیا اور پھر حصولِ علم میں مصروف ہوا جرنیلی کی قربانی کی جرنیل نہ بنا تو جبریل بنا دیا گیاخواب دیکھنےسےپہلےکےا س زمانےمیں میری بےچینی میری بےقراری اور میرا اضطراب ایسا تھا کہ بعض انگریز افسر بھی بھانپ گئےتھےمیجر ایشبی میرےسینےپر ہاتھ مار کر کہتا تھا جہان کا غم تیرےسینےمیں ہے١٩٤٢ ءسےلےکر ١٩٨٢ ءتک رات دن علمی جدوجہد میں مصروف رہا اردوفارسیعربیانگریزی زبانیں اورلٹریچر قران انجیل زبورتورات فزکس کیمسٹری ریڈیوبائیولوجی فلسفےحساب اعلی تریں سطح تک پڑھےکیوں پڑھی؟ یہ اللہ ہی جانی؟ کیسےپڑھی؟ سکول بچپن میں چھوڑ دیا تھا پچیس برس کی عمر میں خواب دیکھنےکےبعد تعلیم شروع کی نہ استاد تھا نہ سکول حالات ہمیشہ ناگفتہ بہ رہےڈارون شیکسپیر ملٹن بیکن کیسےپڑھی؟ کیسےسمجھی؟ اور کیسےا ن کی سطح کی تحریریں لکھ لین اٹامک سائنس اٹامک فزکس حساب کیسےپڑھ لئی؟ ١٩٧٢ ءسے١٩٨٢ ءتک کتابیں تصنیف کین چودہ جلدیں انگریزی اور چودہ اردو موضوع تھا قران حکیم کا حطمہ اور بعض دوسرےموضوع ان میں سےصرف ایک انگریزی کی جبریلز اسلامک بم اور دو اردو کی یعنی جہاد کےاخلاقی اصول اور نعرہ جبریل یہ شاعری کی کتاب ہےچھپی ہین جبریلز اسلامک بم چپھی اور امریکہ کا پروپیگنڈا پاکستان کےاسلامی بم کےخلاف ختم اسی طرح جب میری حطمہ کےمتعلق کتابیں چھپ جائیں گی تو انشاءاللہ ایٹمی جنگ اور ایٹمی جہنم کا خطرہ ناپید ہو جائےگا ابھی تک جو کچھ بھی میرا اخباروں رسالوں میں چھپا ہےوہ صرف جھلکیاں ہین وہ صرف اصلی سورج کی شعاعیں ہین سورج تاحال طلوع نہیں ہوا قابل فکر بات یہ ہےکہ ادھر ١٩٤٢ ءمیں شگاگو امریکہ میں اطالوی اٹامسٹ انریکو فرمی نےفژن چین ری ایکشن کا کامیاب تجربہ کرکےدنیا پر ایٹمی آگ ایٹمی جہنم کا دروازہ کھولا اور دنیا کی بقا کو خطرےمیں ڈالا ادھر تبارک تعالی کی غیبی طاقت نےمجھےمقابلہ کرنےکی تیاری میں لگا دیا میری حصولِ علم کےلئےبےقراری اور علمی جدوجہد میں میری محنت کی شدت کا اندازہ اس بات سےلگایا جائےکہ جب ١٩٧٢ ءمیں لاہور سےواہ آیا اور میں نےتصنیف و تالیف کا کام شروع کیا تو میں پہلےچار برس لگاتار رات دن کام کرتا رہا صرف آخر شب چند گھنٹےسوتا تھا اور جس طرح انسان کےلئےیہ ماننا مشکل ہےکہ قران حکیم نےچودہ سو برس پہلےایٹمی سائنس لکھی ایٹمی جہنم کا تذکر ہ کیا اٹامزم کےفلسفےکا بیان کیا اور وہ خصلتیں بیان کین جو ایٹمی جہنم کی پیدائش کا سبب بنین سب کچھ صرف چھتیس لفظوں میں سور الھمزہ مین اسی طرح یہ مان لینا بھی مشکل ہےکہ ایک انسان پچیس سال کی عمر میں حصول ِ علم کی جدوجہد کی ابتدا کرےپھر بغیر استاد
کےپڑھےاور چالیس برس تک پڑھتا رہےاور انسانی علم کی آخری حدوں تک پڑھے١٧ فروری ١٩١٧ ءکو میری پیدائش علاقہ سون سکیسر موضع کھبیکی ضلع خوشاب میں ہوئی پیدائش سےلےکر اب تک میری ساری عمر ایک غیبی طاقت کےزیرِ اثر گذری ہے وہ غیبی طاقت میری زندگی کےہر موڑ پر میری پٹڑی کانٹےوالےکی طرح بدلتی رہی انسان کےلئےیہ ماننا مشکل ہےکہ کوئی شخص اس طرح کی عجیب زندگی گذار سکتا ہےجیسی میں نےگزاری ہےاسی غیبی طاقت نےعمر بھر میں مجھےسترہ خواب دکھائےیہ خواب رویائےصادقہ کی حیثیت رکھتےہین ان سب کی تعبیر سامنےآ چکی ہےاور یہ سب کےسب خواب مجھےاب بھی اس طرح یاد ہیں گویا کہ میں اب دیکھ رہا ہون بعض کی تعبیر ستائیس برس کےبعد نکلی ہےسب سےجلدی تعبیر جس کی سامنےآئی میں نے١٩٤٢ ءمیں عراق میں دیکھا کہ جس کمرےمیں میری والدہ یہاں ا س وقت کےہندوستان مین رہتی تھی ا س پر بجلی گری ہےچند دنوں میں خط ملا کہ والدہ صاحبہ پر فالج کا حملہ ہو گیا ہےبہر حال میں نےانسانیت کےمعاملےمیں اپنےایٹمی فرض کی ادائیگی میں کبھی کسی خواب کو بنیاد نہیں بنایا بلکہ ٹھوس علمی دلائل پر انحصار کیا ہےاور روشنی قران حکیم اور سائنس سےحاصل کی ہےجس غیبی طاقت کا میں نےتزکرہ کیا ہےا سےنہ کبھی میں نےدیکھا ہےنہ ا س سےبات کی ہےا سےاعمال سےپہچانا ہےاور میں کہتا ہوں وہ صرف اور صرف رب کی طاقت ہےوہ ہی جس نےمجھےایک محیر العقول یاداشت عطا کرکےآئندہ عطا ہونےوالےمشن کےقابل بنا دیا تھا میں دودھ پیتاتھا والدہ اونٹ کےکجاوےمیں بیٹھی تھین میں والدہ کی گود سےا چھل کر پیچھےگرا اونٹ بھی بیٹھ گیا میں اونٹ کی پچھلی ٹانگوں کےپیچھےپڑا تھا مجھےاب بھی اونٹ کی وہ دو لمبی لمبی ٹانگیں یاد ہین سال ہا سال کےبعد جب اتفاقاً میں نےوالدہ سےتذکرہ کیا تو والدہ نےکہا تم نےکسی سےسنا ہو گا تمھیں کیا معلوم ہےتم تو ا س وقت بالکل دودھ پیتےبچےتھےمیں خاموش ہو گیا والدہ سےتکرار مناسب نہ تھی ١٩٨٢ ءمیں میرا تصنیفی کام پایہءتکمیل کو پہنچا اور میں بیمار پڑ گیا اور اب تک ہون انہیں دنوں میں نےدنیا بھر کےپندرہ چوٹی کےسائنس دانوں کو قران حکیم کےحطمہ کی تشریح بھیجی اور ا نہیں دنوں ایسٹ لنڈن کےبنجمن کریم نےکروڑوں روپوں کےاشتہار دےکر حضر ت عیسی علیہ السلام کےظہور کا اعلان کیا تاکہ حضرت عیسی علیہ السلام ایٹمی جنگ کےخطرےکو اس دنیا سےٹال دین حضرت عیسی علیہ السلام کا ظہور نہ ہوا اور بینجمن کریم نےخاموشی اختیار کر لی قران حکیم نےسور الھمزہ میں دنیا کو ایٹمی جنگ سےنجات دلانےکا پورا نسخہ بتایا ہےاگر عیسی علیہ السلام بھی تشریف فر ما ہوں تو انہیں انسانیت کو ا سی قرانی نسخےپر عمل درآمد کرانا ہو گا تب ہی ایٹمی جنگ سےنجات ملےگی ایٹمی جہنم ایک معاشرتی بیماری کا نتیجہ ہےجب تک ا س معاشرتی بیماری کا علاج نہ ہو گا اور وہ ختم نہ ہو گی ایٹمی جنگ کا خطرہ مسلط رہےگا اور یہ خطرہ حقیقت کاروپ بھی اختیار کر سکتا ہےدنیا نےدیکھا کہ آئن سٹائن سائنس دانوں کےخدا اور رَ سَل اور دوسرےچوٹی کےایٹمی سائنس دانوں نےجو اپیل انسانیت سےہائیڈروجن بم جیسےتباہ کن بم بن جانےکےبعد کی وہ صدا بہ صحرا ثابت ہوئی انہوں نےکہا تھا لوگو اپنےجھگڑےبھول جا تو سائنس تمھارےلئےاس دنیا کو بہشت بنا دےگی اور تم نےباہمی جھگڑےنہ بھلائےتو مکمل تباہی TOTAL ANNIHILATION تمھارا مقدر ہے اپیل کرنےوالےسائنس دانوں نےمسئلےکا کماحقہ ادراک کیا نہ ہی انسانیت کو جھگڑےبھلانےکادرست علاج بتایا ہےنہ ہی انسانیت کےلئےمکمل ہوس اور مکمل مادہ پرستی کےذریعےاس دنیا کو بہشت بنانا ممکن ہےبہشت تو نمرود نےبھی بنایا تھا البتہ مکمل تباہی والی بات انہوں نےدرست کی ہےاس مسئلےکو جیسا قران حکیم نےسمجھا
ہےکسی نےنہیں سمجھا او اس کا حل بھی قران حکیم نےبتایا ہےاس دور کےفلسفی رسل وغیرہ تو علامت یعنی جنگ و جدل سےآگےنہیں دیکھ سکےلیکن قران حکیم نےبات بنیادی سبب تک بڑھائی ہے اور بندےکےذہن میں واضح فرق سور الھمزہ میں ظاہر ہےاللہ تعالی انسانیت کوقران حکیم سےاس مسئلےمیں رہنمائی حاصل کرنےکی توفیق عطا فرمائےاور اللہ تعالی قران حکیم کی امین ا مت ِ مسلمہ کو اس جانگداز مسئلےمیں اپنا کردار ادا کرنےکی توفیق عطا فرمائےدنیا بھر کےمسلمان ایک پلیٹ فارم پر کھڑےہو کر للکاریں ایٹم بم نہ خود بنائیں گےنہ کسی کو بنانےدیں گےیہ انسان کےساتھ ظلم ہے یہ نہیں ہونےدیں گےتب زمین پر بسنےوالی ہر غیر مسلم قوم ا مت ِ مسلمہ کو سلام کرےگی یہ امر ا مت کےاتحاد کی بنا بن سکتا ہےاللہ ایسا کرےآمین ثم آمین اسلام کی نشاِة ثانیہ کی آرزو رکھنےوالےسوچیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply