جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں تحریرعالم شیر اعوان

034

alamsher

لکھنا مقصود نہیں۔مقصود اصلاحِ اعمال ہے۔ایک درویش صفت دوست جناب ڈاکٹر مسعود حفیظ کے بے انتہا اسرار پر جوکہ خود بھی نوائے وقت میں گاہے بگاہے لکھتے رہتے ہیں کہ آپ سقوطِ ڈھاکہ کے عینی شاہد ہیں، اس پر ضرور لکھیں۔ میرا یہ مضمون صرف سقوطِ ڈھاکہ تک محدود نہیں بلکہ کوشش کہ بیماری کی صحیح تشخیص کے بعد اگر باری تعالیٰ کا کرم شامل ہوا تو امت مسلمہ اپنے آپ کو ذلت کی گہرائیوں سے نکال سکتی ہے اور یہ سب کچھ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل کے ساتھ قلبی وروحانی وخونی رشتہ کے طفیل ممکن ہوا۔ہمیں علم ہے کہ علامہ صاحب اس سانحہ سے کتنے افسردہ تھے۔اورانہوںنے ایک کتاب بنام چڑیاگھرکاالیکشن1970? میں لکھ کر اس قوم کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کی مگر یہ قوم ان کے پیغام کو نہ سمجھ سکی اور 1971? میں ہم پاکستان کے ایک حصے سے محروم ہو گئے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ قدرت نے میری ڈیوٹی میں پاکستان کی حفاظت کی ڈیوٹی بھی شامل کر دی ہے۔ افسوس صدا افسوس یہ نادان قوم ان کے پیغام کو سننے سے گریزاں رہی اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ علامہ صاحب فرماتے ہیںکہ بادشاہی کفر میں تو قائم رہ سکتی ہے ظلم میں نہیں۔ قوموں کے عروج وزوال بلندی وپستی عزت وذلت کے بارے میں قرآن نے جو قانون بیان فرمائے ہیں ان قوانین کے اطلاق میں قدرت یہود ونصاری یا امت مسلمہ کے درمیان کوئی امتیاز روا نہیں رکھتی ،قانون قدرت سب کے لئے یکساں ہے اور جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ قدرت ابھی تک مسلمانوں سے نا امید نہیں ہوئی اور اسکی وجہ ذہن ناقص میں جو آسکتی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف جو بھی بنی معبوث ہوا۔ قدرت نے اسکے ساتھ عہد باندھا اور جونہی دوسرا نبی اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا پہلا عہد ختم ہوا اور نیا عہد بندھ گیا ۔ اب جبکہ ہمارے نبی کریم  آخری نبی اور قیامت تک کے لئے ہیں قدرت کا اپنے آخری نبی کے ساتھ عہد بھی قیامت تک کا ہے اور باری تعالیٰ جو فرماتا ہے وہ حق ہے ۔ بوجہ ایں قدرت ہمارے اعمال کی وجہ سے ہم سے ناراض ضرور ہے مگر نا امید نہیں اور قدرت نے اسی امت مسلمہ سے کام لیکر حق کا بول بالا کرنا ہے۔امید واثق ہے کہ اسکی ابتداء ہوچکی ہے قران وحدیث کی رو سے اور انشاء اللہ تعالیٰ بہت جلد اس دنیا میں حق کا بول بالا ہوگا اور جبریل کے کندھوں پہ دوشالہ ہوگا۔ ہر صدمہ چاہے وہ سقوطِ بغداد ہو،سقوطِ غرناطہ ہویا سقوطِ ڈھاکہ ہو ۔ امت اسلامیہ کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے رونما ہوتے رہے اگر قدرت اس سے نا امید ہوچکی ہوتی تو ان کا حشر بھی قوم عاد،قوم ثمود،قومِ لُوط، اور قوم نوح کی طرح ہوتا۔ جب قدرت نعوذباللہ مایوس ہوتی ہے تو اس قوم کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے۔اس وقت خاص رازونیاز سے اور حکمت سے ملتِ اسلامیہ کو جھٹکے لگ رہے ہیں مگر ابھی تک اسکی جڑنہیں کاٹی گئی۔ تمام قوائن وشوائد سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت ابھی تک مسلمانوں سے راضی نہیں۔ آج مسلمان دنیا میں ذلیل وخوار ہو رہے ہیں اور چشمِ تحقیر سے دیکھے جاتے ہیں۔اس ذلت ورسوائی کے بعض خاص اسباب ہیں جن میں عدمِ اتفاق ،مادہ پرستی ،حرص وہوس،زرپرستی ، حکمرانوں کا عیش وعشرت میں مشغول ہونا،توحید سے اغماض،قران پر عمل نہ کرنا،وغیرہ وغیرہ اور قدرت اسے ظالموں پر ان سے بڑا ظلم بھیج کر حساب چکادیتی ہے۔ امت مسلمہ فلسفہِ توحید کو کئی صدیوں سے مکمل طور پر جزوِایمان نہ بنانے کی وجہ سے آج دنیا بھر میں ذلت ورسوائی کاشکار ہے۔ جب تک احتساب اور انصاف کا خالصتاً منصفانہ نظام قائم نہ ہو۔ اس وقت تک وہ قوم زوال پذیررہتی ہے۔ یہ سب لکھنے کا مقصد اصلاحِ اعمال ہے جو کہ میں نے شروع میں عرض کیا تھا۔ ہمارے ساتھ جو سانحہ سقوطِ ڈھاکہ کی شکل میں نمودار ہوا اسکے بعد ہمیں اجتماعی تحریک اصلاح کی از حد ضرورت تھی مگر بد قسمتی سے ہم اپنی اصلاح نہ کرسکے اور جلد ہی اس سانحہ یعنی قدرت کے عذاب کو بھول گئے اور ابھی تک بھی ہم اس سراب سے باہر نہیں آسکے۔ آزاد کشمیر میں زلزلہ ،میریٹ ہوٹل کا بم دھماکہ خودکش حملے اور ایسی بہت ساری چیزیں ہم مسلمانوں کو کیا پیغام دے رہی ہیں ۔ ہم مغرب کے سامنے دست بستہ غلام بنے کھڑے ہیں اور وہ بھی صر ف ڈالر کے لئے زر پرستی کے لئے ۔اگر ہم نے اس طرح آنکھیں بند رکھیں جیسے شترمرغ بھیڑیے کو دیکھ کر منہ ریت میں چھپا لیتا ہے، اگر مادی ضروریات کی تکمیل ہی مقصد زندگی ہوتی تو میرے خیال میں حیوان ہم سے بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ انسان تو اس دنیا میں بحیثیت خلیفہ آیا۔ سورۃ بقرہ میں مسلمانوں کے لئے واضع اشارہ ہے مگر بدقسمتی سے ہم مسلمان اس عظیم مقصد کے تقاضوں سے غافل ہیں۔ جس کا نتیجہ قدرت ہمیں بار بار جھٹکے لگا کر خوابِ غفلت سے بیدار کرنے میں مصروف ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان کیوں اس ذلت کے مستحق ٹھہرے۔ درحقیقت ہم یکسر روحانیت سے بے بہرہ ہو گئے۔ منکرِتوحید ہوگئے۔ہم پر قوانین قدرت کا اطلاق شروع ہوگیا۔یہ قوانین قدرت اقوامِ مغرب بشمول جاپان نے بھی بیسویں صدی میں دوبار جنگ عظیم کا مزہ چکھ کر سزا کو برداشت کیا اور اب یہ اقوامِ مغرب آخری مکمل تباہی کی طرف گامزن ہیں۔قانونِ قدرت کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔بلاِتفریق مسلم وغیر مسلم قوموں کے عروج وزوال میںتغیر وتبدیل آتا رہتا ہے۔ علامہ مشرقی فرماتے ہیں مسلمان کسی ایک اصول پر قائم نہیں اس لئے ذلیل ہو رہے ہیں۔ آج ہمارے اندر نہ توحید باقی ہے نہ اعمال ،نہ اعمال،نہ خدا کا ڈر،نہ قیامت کا ڈر،نہ جہاد بالنفسِ ،نہ جہاد باالسیف،نہ ایثارِ مال،نہ طمع ثواب،نہ شوقِ اصلاح،نہ ذوقِ ایمان، نہ خوفِ خدا ،نہ خوفِ عذاب، نہ کوئی قابلِ ذکر حکمران،جب مسلمان توحید کو بھول گیا تو 13ویں صدی عیسوی میں مسلمانون کے ساتھ کیا ہوا۔جب مسلمان توحید کو بھول گیا تو 15ویں صدی عیسوی میں ہسپانیہ کے ساتھ کیا ہوا، جب مسلمان توحید کو بھول گیا تو 18ویں صدی عیسوی میں نادرشاہ نے مغلوں کے ساتھ کیا کیا،19ویں صدی عیسوی میں سکھوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا۔ جب مسلمانوں نے سید آحمدشہید کی تحریک جہاد میں جانے سے انکار کیا پھر1971? میں جب مسلمان توحید کو بھول گیاتو مسلمانوں کو سقوطِ ڈھاکہ کی شکل میں سزا دی گئی۔ جب مسلمان توحید کو بھول گیا تو پاکستان میں زلزلے نے لاکھوں انسانوں کو ہڑپ کرلیا پھر بھی مسلمانوں نے اس سے سبق نہیں سیکھا اور آج تک کبھی خود کش حملے ،کبھی وزیرستان میں ڈرون حملے کبھی فاٹا میں بازارگرم کبھی سوات میں خونی کھیل حتیٰ کہ ابھی تک مسلمانوں کو قدرت کی طرف سے اتنے جھٹکے لگ چکے کہ اس سے پہلے کسی امت کو اتنے جھٹکے نہیں لگائے گئے جب قدرت نے چاہا تو چند جھٹکوں کے بعد اسکی جڑ کاٹ دی جائے گی مگر قدرت اپنا عہد جو قیامت تک کے لئے باندھا گیا ہے وہ نبھا رہی ہے ورنہ پہلے والی قوموں کے مقابلے میں ہم ان سے بہت آگے نکل گئے ہیں۔ ہمارا تو نام ونشان تک نہ ہوتا مگر ہم نے اس سے کچھ سبق نہیں سیکھا۔ کسی چیز کو یکجا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اسکو بکھیرنا آسان ہوتا ہے اور یہی ہمارے ساتھ 1971? میں ہوا بھیانک ظلم جب واقع ہوتا ہے تو فضا میں اڑ کروہ غائب نہیں ہوتا بلکہ ظلم کے بیج ہوتے ہیں اور جب ان سے پودا پروان چڑھتا ہے تو اس میں کانٹے بھی ہوتے ہیں، اور وہ کانٹے ظلم کے بانی کو نشانہ بناتے ہیں۔ ملتِ اسلامیہ میں ظلم کی دستان سب سے پہلے نبوامیہ نے میدانِ کربلا میں شروع کی پھر نبوامیہ کے ساتھ کیا ہوا تاریخ سب کچھ بتا رہی ہے سکھوں کے گرو بندہ نے جب سکھوں کی قیادت سنبھالی تو اس نے مسلمانوں کے ساتھ بہت ظلم کیا۔ جب وہ گرفتار ہوکر بادشاہ ہوکر بادشاہ کے سامنے گیا تو اس نے ایک فکر انگیز جملہ کہا۔ جب انسان غرور اور گناہ میں مبتلا ہوکر راہِ حق سے دور ہوجاتا ہے اور نظامِ کائنات کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے تو مجھ جیسے ظالم کے ہاتھ میں اسکی مکافات عمل دے دیتا ہے اور جب انکو سزامل چکی ہوتی ہے تو قادرِ مطلق مجھ جیسے ظالم کو تجھ جیسے طاقتور بادشاہ کے حوالے کردیتا ہے، یہی مکافات عمل ہے۔ قارئین اس پسِ منظر میں مسلمان اپنے اقدر،کردار،اور افعال کو جھنجھوڑیں اب کچھ ذکر سقوطِ ڈھاکہ کا کریں گے۔14اگست1947? کی رات مسلمانوں کے لئے ایک قیامت کی رات تھی۔ اس رات ستلج راوی اور بیاس کے دریا مسلمانوں کے خون سے سرخ ہوگئے ۔1948? میں ہاتھ آیا ہوا کشمیر جو ہماری شہ رگ ہے، کو گنوا بیٹھے۔ 1965? میں ہم نے دنیا کو بتا دیا کہ ہم زندہ قوم ہیں مگر 1971? میں ہم اپنوں کی وجہ سے مات کھا گئے اور المیہ مشرقی پاکستان وقو ع پذیر ہوا سقوطِ ڈھاکہ سقوطِ غرناطہ سے بھی المناک تصور ہوتا ہے کہ غزنوی کا جان نشین جنرل نیازی ایک ہندو جنرل اروڈہ کے سامنے ڈھاکہ کے بہت بڑے میدان میں جس کے اندر لاکھوں بنگالی اسکا تماشہ دیکھ رہے تھے۔ جب اپنا ریوالور ہندوجنرل کو دے رہا تھا کیا وہ اس وقت ریوالور دے رہا تھایا مشرقی پاکستان کی تقدیر اسکے ہاتھ میں دے رہا تھا۔ کاش اس وقت جنرل نیازی کو زمین نگل جاتی یا آسمان اٹھا لیتا ہم تو بنی اسرائیل سے بھی آگے نکل گئے کہ ہم نے اس مملکتِ خداداد کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا۔ اسکو بے وفائی میں تبدیل کردیا۔ہم نے ایک ایسے معاشرے کوجنم دیاجس میں دیانت دار آدمی کو اذیت کے سوا کچھ نہ ملا۔ یہ ہمیں اپنے کئے کی سزا ملی کہ ہم ایک بازو سے محروم ہوگئے مشرقی پاکستان گوہم سے ایک ہزار میل دور تھا مگر اس میں اور ہم میں ایک ایسا رشتہ تھا جو دُور ہوکر بھی نزدیک ہوتا ہے۔ (یعنی اسلام کا رشتہ)اس رشتے کے علاوہ ہم میں اور ان میں کوئی چیز مشترک نہیں تھی اور بڑی بدقسمتی کہ 1947? میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو مشرقی پاکستان کے ہندو وہاں پر ہی رہے اور تقریباًان کی تعداد ایک کروڑ کے لگ بھگ تھی۔اُن ہندؤں نے بھی پاکستان کو دولخت کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے سانحہ کے جنم لینے میں کچھ سیاسی عوامل بھی کارفرما تھے ۔ مسلم لیگ جو پاکستان کی خالق جماعت تھی اُسے پاکستان میں بہت کم زورکر دیا گیا۔ اس کے مقابلے میں آج باسٹھ سال گزرنے کے باوجود کانگریس ہندوستان میں ایک مضبوط جماعت ہے اور اس کانگریس کے مضبوط ہونے کی وجہ سے ہندوستان ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچا ہوا ہے ورنہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں آزادی کی کتنی تحریکیں چل رہی ہیں۔ کاش ہم بھی مسلم لیگ کو مضبوط کرتے تو ایسٹ پاکستان بنگلہ دیش نہ بنتا ۔تھوڑاذکر مسلم لیگ کا بیان کروں گا۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد مسلم لیگ کا بوجھ خواجہ ناظم الدین کے ناتواں کندھوں پر آن پڑا اور وہ اسے سہارا نہ دے سکے باقی کسر سکندر مرزا ،سہروردی،غلام محمداور ایوب خان نے پوری کردی ۔ایک دفعہ ڈھاکا میں قائداعظم نے تقریر کے دوران کہا کہ پاکستان کی قومی زبان اُردو ہوگی تو اس وقت فسادات ہوئے،ہڑتالیں ہوئیںاور یہ سب کچھ اس وقت کے طلباء لیڈر شیخ مجیب الرحمان نے کرایا اور شیخ مجیب الرحمان کے پیچھے سیاسی ہاتھ کارفرما تھے اور وہ یہی چاہتے تھے کہ کسی طریقے سے بنگلہ دیش وجود میں آجائے پھر جب خواجہ ناظم الدین نے اُردو کے بارے میں بیان دیا تو مسلم لیگ کی مشرقی پاکستان میں مخالفت شروع ہوگئی۔اور 1954? کے الیکشن میں مسلم لیگ کو مشرقی پاکستان سے صرف 10 نشستیںملیںاور عوامی لیگ پر مشتمل اتحاد نے 223نشستیںحاصل کیںاور عوامی لیگ کے دورِ حکومت میں کھلنا نواکھلی نرائن گنج میں فسادات کروائے گئے اور یہ فسادات کروانے والے ہندو سرمایہ دار تھے۔ گورنر جنرل غلام محمدنے حکومت ختم کرکے وہاں مارشل لا لگوادیا اور وہاں میجر جنرل سکندر مرزا کو ایسٹ پاکستان پر مسلط کردیا۔ اس طرح بنگالی قوم ہم سے نفرت کرنے لگی،اور یہ سانحہ رونما ہوا علامہ مشرقی نے 1956? میں لاہور کے اقبال پارک (یادگارپاکستان)میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہذیبی اور تقافتی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے دونوں حصوں میں لاکھوں کی تعدادمیں لوگ ایک دوسرے حصے میں آباد کئے جائیںمگر انکی کسی نے نہ سنی اسکے بعد1971? کے واقعہ کی پیشین گوئی علامہ مشرقی نے اپنی بصیرت باطنی سے کردی تھی۔
انہوں نے مسلمانوں سے کہا غور سے سنو اور غور کر و کہ مستقبل میں تمہیں خطرناک صورتحال کا سامنا ہوگا۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ ساری قوم میں خوف ودہرا س پھیل جائیگااور بڑے پیمانے پرکشت وخون ہوگااورپاکستان کی بقا اور حاکمیت کو سخت خطرہ لاحق ہوجائیگا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانیوں نے علامہ مشرقی کے خطاب پر غور کیااور غور نہ کرنے کی وجہ سے آل انڈیا ریڈیو سے اعلان ہورہا تھاکہ غزنوی کے جان نشینوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں ۔ہندو ہم سے اپنی ایک ہزار سالہ غلامی کا بدلہ چکا رہا تھا۔کیا کبھی ہم نے سوچا کہ سقوطِ ڈھا کا میں ملت کا کیا بگڑا،اس رُخ پہ کبھی کسی نے غور ہی نہیں کیااور اگر کسی نے غور کیا تو اپنے زاویہ سے میراغوربھی اپنے زاویہ سے ہے کہ اگر سقوط ڈھاکا کا سانحہ رونما نہ ہوتاتو آج ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں،یہ کبھی رونما نہ ہوتے۔تفصیل بہت لمبی ہے اس لئے گریز کرتا ہوں۔1940? میں کیا یہ قرار دار مولوی فضل حق نے پیش نہیںکی ہیں؟ پاکستان کی خالق جماعت کی بنیاد ڈھاکہ میں نہیں رکھی گئی؟ہندو کے ہاتھوں ظلم کا نشانہ کیا بنگالی مسلمان نہ تھے؟کیا پاکستان دو قومی نظریے کی پیداوار نہ تھا۔۔؟اُس وقت معرض وجود میں آنے والا پاکستان اسلامی دنیا کی سب سے بڑی سلطنت نہ تھی؟مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے کیا ملت کا نقصان نہیں ہوا؟یہ سارے سوالات پہ ہمیں پہلے سوچنا چاہئیے تھا۔ ہمارے حکمرانوں کو سوچنا چاہےئے تھامگر ہمارے حکمرانوں نے جو کچھ سوچا اپنی ذات کے لئے سوچا پاکستان کے لئے قائداعظم کے بعد کسی نے نہیں سوچا ۔ قائد اعظم  نے ایسے ہی کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ ہمارے حکمرانوں نے کبھی اس پر سوچا کبھی نہیں سوچا اور آج ہم اپنی بربادی زمینوں کے بنجر ہونے میں دیکھ رہے ہیں ۔ہے کوئی ایسا لیڈر جو ان وقاروں کو بدل کر پاکستان کو قائد اعظم  اور علامہ اقبال کا پاکستان بنا دیاور اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ پاکستان مٹنے کے لئے بنا ہے تو وہ احمقوں کی دنیا میں بستا ہے۔ جب قران فرما رہا ہے کہ باطل مٹنے کے لئے بنا ہے تو حق کو کوئی کیسے مٹا سکتا ہے۔ہاں ہم اپنی کوتاہیوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔اور جب تک ہم قرآن وحدیث پر عمل پیرا نہیں ہوں گے۔ یہ جھٹکے باری تعالیٰ ہمیں لگاتا رہے گا اور یاد ہوگا آپکو اندراگاندھیکہہ رہی تھی کہ میں نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق کردیا ہے۔ اور ایک بہت بڑا سوال کہ کیا اس سانحہ سے بچا جاسکتا تھا؟اس علیحدگی کی وجہ کچھ ہمارے فوجی جرنیل بھی تھے۔بلکہ ایک عامل تھے اور ان جرنیلوں نے اپنے آپکو قومی مفادات کا محافظ سمجھ لیا تھا۔ حالانکہ یہ ان کی غلط فہمی تھی۔ ہر برسراقتدار جرنیل نے کسی نہ کسی حالت میں پاکستان کا نقصان کیا ہے۔اور دوسری بڑی وجہ شیخ مجیب الرحمان اور ذوالفقار بھٹو تھے۔تیسری بڑی وجہ بین الااقوامی ماحول میں غیر ملکی عناصر کا گٹھ جوڑ۔چوتھی بڑی وجہ اُردو زبان کا فوراًرائج نہ ہونا۔اگر اُردو زبان کو رائج کردیا جاتا تو آگے چل کر 6نکات اور11نکات سامنے نہ آتے۔اور اگر اعتدال اور میانہ روی سے کام لیا جاتا۔تو شاید یہ تلخیاں پیدا ہی نہ ہوتیں۔مگر جب مٹی،آب وہوااور پانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساززساساز ساز گار ہوتو من پسند تخم اُگایا جاسکتا ہے۔جب مسلم لیگ تین دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔تو سہروردی والا باغی دھڑا عوامی مسلم لیگ کہلاتا اور اس میں ہندو کارکن بھی شامل ہوگئے ۔اور آگے چل کر یہی عوامی مسلم لیگ عوامی لیگ بن گئی جیسا کہ اب شیخ رشید نے بھی مسلم لیگ کے ایک دھڑے کانام عوامی مسلم لیگ رکھا ہے۔اللہ خیر کرے (آمین)اسی طرح وہ عوامی لیگ جو پہلے عوامی مسلم لیگ تھی۔اسکا سربراہ شیخ مجیب الرحمان جیسا انسان بنا۔ادھر ہندو چونکہ تقسیم کے وقت بنگال سے نہیں گئے تھے۔ہندو اساتذہ نے بھی بنگالی طالب علم کا دماغ مسموم کر دیا ۔اور یہ لوگ بنگالی زبان کو مذہب کے سامنے لاکھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ہندو نے سرمائے سے عوامی لیگ کو مضبوط بنایا اور مسلم لیگ کو ہمیشہ کے لئے مشرقی پاکستان سے ختم کردیا۔ سادہ بنگالی عوام کے دلوں میں پنجاب کے لئے نفرت ڈالی گئی اور ایک المیہ کہ جنرل ایوب خان نے فوجیوں کو وہاں شادی کرنے کی اجازت دی مگر ہوا یوں کہ ہمارا فوجی شادی کرلیتا اور جب مغربی پاکستان واپس آتاتو اپنے بیوی بچوں کو وہیں ہی چھوڑ آتا وہی ہماری اولاد وہی ہمارا خون 1971? میں ہمارے مدِمقابل تھے اور ہم اپنے خون سے شکست کھا گئے ورنہ 1971? میں ہندوستان کی فوج کوہم نے بہت نزدیک سے دیکھا وہ اس قابل نہیں تھے کہ بنگلہ دیش بنا سکتے ۔اُس وقت جو جذبہ ہمارا تھا اس کو کچھ ہم ہی سمجھ سکتے ہیں مگر فوجوں کی کامیابی میں عوام کا عمل دخل بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ ملازمتوں میں بھی مشرقی پاکستان کا کوٹہ بہت کم تھا اور تقریباً وہاں پر حکمران بھی مغربی پاکستانیوں نے کی اور اس وجہ سے بھی احساس محرومی بڑھا۔ مصنفین نے ایک وجہ معاشی محرومی کی بھی کی ہے اور اسکی ذمہ داری بھی مغربی پاکستان پر ڈالی گئی اور یہ حقیقت ہے کہ اقتصادی حالات کو کھلے دل سے دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔مشرقی پاکستانیوں نے ان توقعات پر پاکستان بنانے میں بھر پور حصہ لیا۔تاکہ ہم آزاد ہوکر معاشی طور پر جلد سنبھل جائیں گے مگر فوری طور پر یہ نتائج برآمد نہ ہوسکے تو ان کا دل ہم سے جُدا ہوگیا۔ ایک پہلو کہ مشرقی پاکستان کی 80%دولت ہندو کے ہاتھ میں تھی۔ تیرہ سونجی سکول اور 47کالج تقریباً85%ہندو کی ملکیت تھے۔ جب اساتذہ ہندوہوںتو طالب علم کے ذہن میں کیسے اسلامی اقدار اور تشخص جنم لے سکتا ہے ۔ آزادی کے بعد زرمبادلہ کے بڑے ذرائع میں پٹ سن اہم تھی مگر اس زرِمبادلہ کا بھی بڑا حصہ مغربی پاکستان کو دے دیا جاتا۔ دفاع پر 50%خرچ ہوتا تھا اور مشرقی پاکستان سے ٹیکس لیا جاتا تھا مگر مشرقی پاکستان کا دفاع برائے نام تھا اور یہ دفاع ہم نے 1971? کی جنگ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ انگریز بنگالی کو ایک اچھا فوجی بننے کے قابل نہیں سمجھتے تھے تو یہی پالیسی ہم نے بھی اپنائی مگر1965? کی جنگ میں بنگالی نے اس نظریہ کو باطل کردکھایا(ایم ایم عالم )وغیرہ ۔ ایک وقت مغربی پاکستان کی حکومت سرحدی گاندھی کے بھائی ڈاکٹر خان کو دے دی گئی۔ اس میں بھی ہمیں بڑا نقصان ہوا۔ پھر 1958? میں ایوب خان کا مارشل لا ء آگیا۔ ایو ب خان نے ایک اور جماعت کنونشن مسلم لیگ بنا ڈالی مگر وہ تو اس کے اقتدار سے علیحدہ ہوتے ہی ختم ہوگئی۔ دونوں بازوؤں نے برابری کے اصول کو تسلیم کر لیا تھا مگر یحےیٰ خان کے آتے ہی اس اصول کا خاتمہ ہوگیا ۔اب مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان ،بھا شانی،مولوی فضل حق تینوں ملک دشمن جھوٹے اور مکار سیاست دان میدان میں تھے۔ یحےیٰ خان انکو بیوقوف بنانے کی کوشش میں خود بیو قوف بن گئے۔یحےیٰ خان بھی اپنی صورت کو طوالت دینا چاہتا تھا۔1970? میں الیکشن ہوئے۔ علامہ محمد یوسف جبریل نے 1970? ہی میں ایک کتاب بعنوان چڑیا گھر کا الیکشن لکھی اور وہ اس وقت نوائے ملت میں قسط وار چھپی بھی سہی مگر شاید اس پر کسی حکمران نے غور نہیں کیا اور پھر اُسی کے نتیجے میں سقوطِ ڈھاکہ کا ظہور پذیر ہوا۔ علامہ صاحب کو اس کا بہت دکھ تھا۔ وہ بھی جناب مجید نظامی کی طرح نظریہ پاکستان کے محافظ تھے۔ قوم کو انہوں نے سمجھایا مگر قوم نہیں سمجھی۔1970? کے الیکشن میں Z.Aبھٹو مغربی پاکستان میں اکثریت میں تھے۔ مشرقی پاکستان میں مولانا بھاشانی کی سیٹ کے علاوہ سب کچھ عوامی لیگ کے پاس تھا۔ Z.Aبھٹو ایوب خان کے دور میں وزیر خارجہ تھے اور بقول ایوب خان 1965? کی جنگ Z.Aبھٹو کے ایماء پر شروع کی گئی مگر ایوب خان کو اس غلطی کا احساس بعد میں ہوا ۔ حقیقت میں بھٹو ایوب خان کو امریکہ کے قریب اور چین سے دور کرنا چاہتے تھے اور جنگ کی صورت میں بھٹو نے ایوب کے اقتدار کو چوٹ لگا ئی ۔بھٹو بھی اقتدار کے چکرمیں تھا جبکہ شیخ مجیب الرحمان انتہائی چالاک اور دھوکے باز تھا۔ مقابلہ ان دونوں میں شروع ہوا تو بھٹو کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بنگلہ دیش وجود میں آیا ۔ یہاں پر بھٹو اگر کچھ لچک پیدا کرلیتے تو شاید یہ سانحہ رونما نہ ہوتا ۔آج بھی بنگالیوں میں زیادہ ناقابلِ پسند شخصیت بھٹو ہے۔ یہاں پر یہ کہنا بے جا ہوگا کہ 1965? کی جنگ ایک ریہرسل تھی سانحہ ڈھاکا کی ۔ہر بڑی جنگ ملک ٹوٹنے کا سبب بنتی ہے اور ٹھیک 6سال بعد ہمارے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا ایوب خان نے یہ تسلیم کیا کہ 1965؁ء کی جنگ میں کودنے کی غلطی مجھ سے بھٹو نے کروائی۔ اسی وجہ سے بھٹو اور انکے سیکٹری عزیز احمد کو جنگ کے فوراً بعد اپنے عہدوں سے الگ کردیا گیا۔ یہاں سے ایوب کا ستارہ گردش میں آگیا اور بھٹو نے نعرہ لگایا کہ تا شقند میں جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے میں حکومت سے علیحدہ ہوا ہوں اور میں عوام کو بتاؤں گا کہ تاشقند میں کیا ہوا مگر آج تک کسی کو معلوم نہیں ہوسکا کہ تاشقند والی بات کیا تھی جو بھٹو بتاناچاہتاتھے۔1965 ? میں 27گھنٹوں میں مغربی پاکستان کو فتح کرنے کا بھارت کا خواب پورا نہ ہوسکا ۔اور مشرقی پاکستان اس جنگ سے بچ گیا۔ ورنہ ہندوستان کے منصوبے میں شامل تھا۔ کہ مغربی پاکستان کے بعد مشرقی پاکستان پر حملہ کیا جائے۔1965? کی جنگ کے معاشی وسیاسی اثرات کے علاوہ نفسیاتی بھی نکلے۔ عوام میں ایک اندازِ فکر پیدا ہوئی۔اور شیخ مجیب الرحمان نے اسکا بھرپور فائد ہ اٹھایا ۔اور 1966? میں ضرب اختلافات کی ایک کانفرنس میں اُس نے اپنے 6نکات پیش کئے۔ جس کے دھماکے سے سیاسی میدان میں زلزلہ آگیا۔ Z.Aبھٹو کہتے تھے کہ ان 6نکات کے پیچھے بیرونی ہاتھ کارفرما ہے۔ ایوب خان کو جب خطرہ ہوا تو اس نے شیخ مجیب الرحمان کو جیل بھیج دیا۔لندن کے ایک اخبار نٹدن ٹائمزمیں ایک اداریہشائع ہوا ۔جس میں6نکات کو طوفان کا پیش خیمہ قراردیا گیا۔ اور ان 6نکات پر بھٹو نے مجیب کو مناظرے کا چیلنج کیا ۔عین وقت پر عوامی لیگ کا سیکٹری تاج الدین آگیا مگر بھٹو صاحب نہیںآتے۔اور کچھ عرصہ کے بعد مجیب کے دفاع کے لئے عدالت میں آئے ۔انہی 6نکات نے عوامی لیگ کو 100%کامیابی دلوائی۔اور بھٹو کو روٹی کپڑا اور مکان کے نعرہ سے مغربی پاکستان میں اکثریت ملی۔اگر ہمارے حکمران حاضر دماغ ہوتے اور مسلم لیگ کو متحد رکھتے تو مغربی پاکستان سے بھٹو فائدہ نہ اٹھاتا اور مشرقی پاکستان سے مجیب کو کچھ نہ ملتا ۔اور آج تاریخ کے صفات میں سانحہ مشرقی پاکستان جلی سرخیوں میں لکھا ہوا نہ ملتا ۔اگر تلہ سازش کیس میں مجیب کو جیل بھیج دیا گیا۔اسی دوران ایوب بیمار پڑ گئے۔ اور حکومت پر انکی گرفت بھی کمزور پڑ گئی تو انہوں نے گول میز کانفرنس بلائی۔مگر مغربی پاکستان کے سیاست دانوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک مجیب کو رہا نہیں کیا جائے ہم کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔ مجبوراًایوب کو یہ کیس واپس لینا پڑا۔ شیخ مجیب رہا ہوکر جب لاہور آیا تو سارا لاہور انکے استقبال کے لئے موجود تھا۔ ایوب کی گول کانفرنس ناکام ہوگئی۔ اور پھر خود ہی اپنے بنائے ہوئے قانون سے انحراف کرتے ہوئے حکومت یحےیٰ خان کے سپرد کرکے مستعفی ہوگئے۔ گول میز کانفرنس کو ناکام بنانے میں بھی یہی دوبڑے کردار تھے یعنی Z.Aبھٹو اور شیخ مجیب ۔ایوب خان نے انکے طوفانی مساوات کو روکنے کے لئے فوج سے مدد طلب کی مگر وہاں یحےیٰ خان بھی اقتدار کا منتظر ملا۔یحےیٰ خان نے اس قوم پر یہ بہت ظلم کیا کہ دن یونٹ کو ختم کردیا۔ اور ار صوبوں میں تقسیم کردیا۔اور مشرقی پاکستان ایک صوبہ رہا۔جو آبادی میں مغربی پاکستان سے بڑا تھا۔یوں 6نکات کی بنیاد پر مجیب کو100%سیٹیں ملیں۔پوری حقیقت سمجھنے کے باوجود یحےیٰ خان اپنے حال میں مست رہے۔
شیخ مجیب کا نعرہ تھا جئے بنگلہ ،اور بھٹو کا نعرہ تھا روٹی کپڑا اور مکان ،دونوں اپنے نعروں میں کامیاب ہوئے اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ٹائم بم 25مارچ1971? کو پھٹا۔جب 3کمانڈو بٹالین کی ایک کمپنی اسکو دہان منڈی سے گرفتار کرنے کے لئے گئی۔شیخ مجیب کے اپنے الفاظ کہ بہت وقت پر آئے ہواور میں تو انتظار کر رہا تھا۔ایک اٹیچیجس میں اسکا سامان تھا۔تیار پڑا تھا اور واقعی وہ اسی لمحے کا منتظر تھاجب اسکو گرفتار کیا گیاتو ڈھاکہ شہر پورے کا پورا جئے بنگلہ کے نعرے لگاتا ہوا سیکنڈکیپٹن کی طرف بڑھ رہا تھا۔وہاں سے شیخ صاحب کو ایک اور مقام پر لے جایا گیابعد میں پتہ چلا کہ بنگالی فوج کا حصار توڑ کر اس بلڈنگ کو آگ لگا چکے تھے جس میں کچھ شیر پہلے شیخ کو لایا گیا تھا ۔چند دنوں کے بعد اسکو مغربی پاکستان بھیج دیا گیا۔گرفتاری میں بھی Z.Aبھٹو کا ہاتھ۔اور پھر بہت جلد اسکو رہا کرنے والا بھیZ.Aبھٹو تھا۔اور Z.Aبھٹو نے مذاکرت کے دوران جو 23مارچ1971؁ء کو اختتام پذیر ہوئے یہ نعرہ لگایا کہ ادھر تم ادھر ہم۔بس اس نعرے سے پاکستان کی قسمت کا فیصلہ ہوچکا تھا۔مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان ایک میثاق کی بنیاد پر اکٹھے ہوئے تھے۔کہ اس ملک میں جو قادر مطلق ہمیں عطا کررہا ہے۔ہم قادرِمطلق کا نظام اور حکمرانی قائم کریں گیاور اس کیلئے بنگالی نے بے پناہ قربانی دی۔مگر بنگالی کا جوش اس وقت ختم ہوگیا۔جب مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے اُس کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ان کو اپنابھائی نہیں سمجھا ان کے ساتھ ہر زیادتی کی۔جب اسلام کا رشتہ غائب ہونے لگا تواس کی جگہ لینے کیلئے ہوس زر،ہوس حکمرانی کھڑی انتظارکر رہی تھی۔اس حد تک کہ علماء سیاسی مولوی بن گئے۔حکمرانوں کی مرضی کے فتوے دینے لگے۔عوام ان کی اس حرکت کو دیکھ کر دین سے بیزار ہونے لگے۔نفاذِ شریعت کے لئے اتحاد بنے اور ٹوٹے مگر آج تک نفاذِ شریعت میں کچھ پیش رفت نہ ہوسکی۔ کلمہ حق کہنے والے علمائے حق کی جگہ مولانا کوثر نیازی جیسے مولویوں نے لے لی۔یہ سب دھوکہ اور دغا کی سیاست تھی اوربعض مولوی حضرات اسلام کو سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کر رہے تھے اور ہم بھولے بھولے عوام انکو 60سالوں میں نہ سمجھ سکے کہ لوگ حد سے گزر کر جاہ پسندی اور زرپرستی میں مبتلا ہیں یہاں دور بین کی ضرورت نہیں اور نہ ہی سقراط کے دماغ کی ضرورت ہے۔ عام آدمی کی زندگی آج کل زیادہ تر پیٹ کے گرد گھومتی ہے۔مخصوص ثقافت کے نئے مذہب کا لیڈر شیخ مجیب الرحمان تھااور زراندوزی اور شکم پرستی کے نظریے کا ترجمان بھٹو تھا۔ بھولے عوام انکو اپنا نجات دہندہ سمجھ کر 1970? کے الیکشن میں سب کچھ انکی جھولی میں ڈال کر بیٹھ گئے ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ1947? میں ہی زراندوزی شروع ہوگئی تھی۔بڑے بڑے دین دار اور پرہیز گار لوگوں نے ہندو کی جائیداد ،مکان،وغیرہ پر قبضہ کرنا شروع کردیا۔قوم خدا کے خوف سے بے نیاز ہوگئی۔اسکے مضر اثرات سب طبقوں پر پڑے ۔بالائی طبقہ شرم وحیا سے بے نیاز ہوکر شراب وکباب میں مشغول ہوگیا۔ نچلا طبقہ روزی کے چکر میں گرفتار ہوا۔ اور دین ومذہب کو خوشحال لوگوں کا مشغلہ سمجھااور روٹی کو اپنی منزل قرار دیا۔متوسط طبقہ بالائی طبقہ کی تقلید میں آوردہ پھرنے لگا۔کالجوں یونیورسٹیوں میں اسلام دشمن عناصر نے قبضہ جما لیااور معصوم طلباء کو لبرل ازم کے نام پر جنس کے چکر میں پھنسا دیااور انکے اذلاق وکردار کا دیوالیہ نکال دیا۔تاجروں نے لالچ منافع خوری ،اور چوربازاری میں ہندو کوپیچھے چھوڑ دیا۔اصولوں کی پاس داری پر عدم یقین کی فضا سے اسلام کا مذاق اڑایا،اور مغرب کی تقلید کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک عالم شیر اعوان
ادارہ افکارِجبریل والٹن روڈ لاہور


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 45
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…
  • 35
      علامہ یوسف جبریل ایک ایسےقلمکار ہیں جنہیں طویل کہانی اور فن کےرچا و میں ایک کمال حاصل ہی انہوں نےزندگی کو بہت قریب سےدیکھا ہےاس لئےوہ انسانی کرداروں کےرویوں ، ان کےلہجےاور نفسیاتی اشاروں سےکماحقہ واقف ہیں انہوں نےبڑی چابکدستی کےساتھ انسانی کرداروں کےبدلتےرنگوں اور تہذیبی عوامل کو اپنی گرفت…
  • 31
    میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی میں اس لئے مجاہد ، میں اسی لئے نمازی تہذیبی اعتبار سے دنیا آج نہایت جدید دور سے گزر رہی ہے۔ سائنس کی تعلیم وترقی اور اس کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ایجادات نے انسان کو انتہائی حد تک مادہ…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں تحریرعالم شیر اعوان

Leave a Reply