جوہری توانائی کے خلاف جنگ اور تحریکیں تحریرشریف فاروق

035

shareefarooq

چیف ایڈیٹر روزنامہ جہاد پشاور

ایک پہلو جسکی طرف ہم نے کبھی توجہ نہیں دی اور جس سے پورا یورپ ،امریکہ اورروس بھی لرزاں ہے وہ ہے ایٹم بم کے استعمال کا آسیب۔ اس وقت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں جس قدر ایٹم بم کے موہوم استعمال کا خطرہ عوام کے سروں پرمنڈلا رہا ہے اتنا کسی دوسری چیز کا نہیں۔ برطانیہ میں بالخصوص campaign for nuclear disarmament زورں پرہے اتنی کوئی دوسری تحریک نہیں۔ اس کے سربراہ برٹرینڈ رسل وغیرہ جیسے شہ دماغ تھے اور اسوقت بھی یہ تحریک یورپی اور امریکی ملکوں کے علاوہ دنیا بھر میں موجود ہے جسکا مقصد دنیاکو ایٹم بم کی تباہ کاریوں سے نجات دلانا اور ایٹمی ذخائر کو تباہ وبرباد کرنا ہے۔ ایٹمی تباہ کاریوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے لاکھوں افراد کے جلوس ہر سال نکلتے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔َ گرفتاریاں پیش کی جاتی ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کاری کے لئے دلائل کے انبار لگائے جاتے ہیں یہاں تک کہ ہر سال ہیروشیما اور ناگاساکی کے دو تین بچے کھچے باشندوں کو جلوس کی صورت میں لایا جاتا ہے جو پہلے ایٹم بم سے متاثرہ صورت میں بچ رہے اور جن کے اعضاء اب بھی درست نہیں ہیں۔ اس موضوع پر یورپ کے عوام بہت کچھ سننا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں اس موضوع پر قران حکیم میںآج سے چودہ سوسال پہلے ہادی برحق نے وحی کی صور ت میں جو کچھ ارشادفرمایا۔ اور انسان کو تباہ کاریوں سے بچانے کے لئے راستہ بتایاو ہ ہم یورپ کے حوالے کرسکتے ہیں۔ اس موضوع پر مسلمان فضلاء میںسب سے زیادہ جس عالم نے خامہ فرسائی کی ہے ان میں علامہ محمدیوسف جبریل سرفہرست ہیں لیکن انہیں بڑے بڑے ایوانوں میں جاننے والا کوئی نہیں۔ موصوف محلہ ملک آباد نواب آباد واہ کینٹ کے چھوٹے سے کوارٹر میں گوشہ نشین، خاموش طبع ، پریشان اور کس مپرسی کی حالت میں اور نہایت ہی سادہ سی زندگی بسر کررہے ہیں۔ ان کے مضامین یورپ کے بعض جرائید بالخصوص جن کا تعلق جوہری تباہ کاریوں کے شعبہ سائنس و انسانیت سے ہے میں اظہار خیال کرتے رہتے ہیں اور یورپ و امریکہ کے ان فضلاء سے ان کی مراسلت ہے۔ اس کے علاوہ اس ملک میں بھی ان کے ہزاروں مضامین اور کتابچے لوگوں تک پہنچے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک ہی موضوع یعنی حطمہ پر ریسرچ کی ہے وہ ہی اس کے بانی مبانی ہیں۔ اگر اس عظیم شخصیت کو گوشہ گمنامی سے نکا ل دیا جاتا تو پاکستان کو امن کے سلسلے میںبڑی پذیرائی ملتی۔ یورپی دنیا میں قران حکیم کا پیغام بھی پہنچتا اور آج سے چودہ سوسال پہلے قران حکیم کے تیسویںپارے کی چند آیات میں (سورۃ الھمزہ) میں انسان کو تباہکاریوں سے محفوظ رہنے کا جو نسخہ بقول علامہ یوسف جبریل بتایا گیا ہے۔ اسکے بھی چرچے ہوتے اور اسلام کے دین امن کا پیغام بھی عام ہوتا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے خلاف اسلامی بم کے پروپیگنڈے کی صورت میں جوڈھونگ رچایا جاتا رہا ہے۔ وہ بھی کمزور پڑ جاتا۔ اس کے برعکس دنیا کو یہ بھی علم ہوتا کہ خود پاکستان میں فضلاء کا ایک گروپ ایٹم بم کے کس قدر خلاف ہے۔ پاکستان کے بارے میں صرف ایک ہی بات کہی جاتی رہی ہے کہ پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جس نے جو بم بنایا ہے وہ تمام دنیا کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دے گا۔ بہرحال موجودہ حکومت بالخصوص وزیر اعظم صاحب چاہیں تو ان کے اس ریسرچ پروگرام کو دنیا بھر میںشائع کر سکتے ہیں۔ اس طرح پاکستان کے خلاف کوئی بھی معاندانہ پروپیگنڈا ختم ہو سکتاہے۔


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 41
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…
  • 36
      علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں…
  • 32
    دور جدید میں قران حکیم کا ایک لازوال اور محیرالعقول سائنسی اور ایٹمی معجزہ معروف ِزمانہ یہودی مشتشرق اینی مری شمل اور علامہ یوسف جبریل کےدرمیان قران حکیم کےاس اہم موضوع پر یادگار مذاکرےکی تفصیل و روئیداد تحریر علامہ محمد یوسف جبریلؔ ستمبر 1963 ءکا واقعہ ہے۔ انہیں دنوں مائینڈ…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply