”خوابِ جبریل“ پر ایک طائرانہ نظر

010

arifseemabi

علامہ محمد یوسف جبریل کا تازہ شعری مجموعہ ” خوابِ جبریل“ حال ہی میں منظر ِعام پر آیا ہےجس میںان کی طویل نظم ”گریہ ءنیم شبی“ خواب جبریل کےعنوان سے٤١ نظمیں ، لائحہ عمل (٢ منظومات) فرقان ( ایک نظم) معجزہ (٣نظمیں) نوید صبح (٢نظمیں) دعا ئیءنیمہ شب ، اسلامی معیشت ( ٤ نظمیں) گلہائےعقیدت (٠١ نظمیں ) ترانے (٣نظمیں) ”شعلہءگردوں“ (٥ نظمیں) شامل ہیں۔” خواب جبریل“ پر طائرانہ نظر ڈالنےسےیہ عقدہ وا ہو جاتا ہےکہ حضرت علامہ محمد یوسف جبریل ایک مبلغ اسلام اور بصیرت افروز علمی شخصیت تھی۔ وہ عصر حاضرمیں مسلم امہ کےسیاسی حالات ، نوجوانوں کی اخلاقی زبوں حالی، علمائےحق کی تقلیدی روش، اربابِ سیاست کی چیرہ دستیوں، بیکنی فلسفےکےمادی پہلووں جیسےموضوعات پر انتہائی مہارت سےخامہ فرسائی کی بھرپور صلاحیت رکھتےتھی۔ ان کی شاعری ملتِ اسلامیہ کےزوال کا درد انگیز نوحہ ہی۔ وہ اربابِ نقد و نظر اور حساس دانش ور طبقےکےلئےفکر انگیز سوال بھی اٹھاتےہیں کہ ہم نےاپنے آباو و اجداد کےذوقِ عمل ، مسلم مفکرین کی دانش و حکمت، سائنسی ارتقاءاور دینی رحجان سےکس قدر استفادہ کیا۔
”گریہ نیم شبی“ مولنا الطاف حسین حالی کی طویل نظم ”مسدس حالی“ کی یاد تازہ کرتی ہےکہ اس میں مسلمانوں کےفکر و نظر کو جھنجھوڑا گیا ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل اس امر پر اظہار افسوس کرتےہیں کہ ہم حکیم الامت شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کا یوم پیدائش بڑےذوق و شوق سےمناتےہیں لیکن ہم نےان کےپیغام پر کبھی غور نہیں کیا ۔ ہم پپچیس دسمبر کو بانیءپاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح سےجذباتی وابستگی کا علی الاعلان تحریر و تقریر میں ذکر کرتےہیں جب کہ اس کےبرعکس دن رات تعصب، تنگ نظری ،فرقہ واریت اور صوبائیت کو فروغ دیتےہیں۔
”دعائیں عرش پر ہوتی ہیں پاکستان کی خاطر“ مملکتِ خداد داد پاکستان کےلئےایک خوبصورت دعا ہےجس میں اس آزاد اور خود مختار ملک کی ترقی و خوشحالی کےلئےنیک جذبات کا اظہار ملتا ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل نے”ذرا ہوش کریں “ میں جدید عہد کی فتنہ زا فضاءمیں اپنےلئےدرست سمت فکر متعین کرنےکی ضرورت کا احساس پیدا کیا۔ مغربی اقدار و روایات او ر فتنہ صیہونیت کےخلاف کمر بستہ ہونا ان کےنزدیک وقت کی اولین ضرورت ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےپاکستانی معاشرت کےخدو خال ،اسلامی اساس پر استوار کرنےکا درس دیا اور قومی استحکام کےلئےنظریہ ءپاکستان سےوابستگی کو قرطاس و قلم کےذریعےاجاگر کیا ۔ وہ جاگیردارانہ طبقےکےمظالم کوہدف تنقید بتاتےہوئےدولت کی منصفانہ تقسیم کو ضروری سمجھتےہیں کیونکہ عام طبقےکی محرومیاں ، دکھ درد اور رنج و الم انہیں مسلسل بےچین رکھتےہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےاپنےارد گرد کےمعاشرےمیں قانون کےاحترام ، حاکمیت ِخداوندی اور عدل و انصاف کا نعرہ بلند کیا تاکہ رشوت، سفارش اور اقربا پروری کو صفحہءہستی سےنیست و نابود کیا جا سکی۔ وہ اپنی شاعری کےذریعےبار بار فرقہ پرستی کو زہر قاتل گردانتےہیں اور نفرتوں کی اٹھتی ہوئی تیز آندھی کےمقابل میں محبت و اخوت کےدیئےروشن کرتےنظر آتےہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل راہنمایانِ ملت کی ناعاقبت اندیشی کو طنز کا نشانہ بناتےہوئےانہیں نگہ بلند، سخن دلنواز اور جان پرسوز اپنانےکا مشورہ دیتےہیں۔ وہ عظمتِ دینِ اسلام کےزبردست مبلغ ہیں اور خلفائےراشدین کےبےمثال کردار کو قابلِ تقلید نمونہ سمجھتےہیں جنہوں نےاپنا مال و متاع راہِ خدا میں ہمیشہ کےلئےصرف کردیا۔ علامہ محمد یوسف جبریل نبی ءاکرم کی ذات والا صفات کےاسوة حسنہ کی یاد تازہ کرتےہیں کہ جنہیں زرو مال و جواہر اور خلعت و دستار سےکچھ لگاو نہ تھابلکہ ان کےلباس مطہرہ پر جگہہ جگہہ پیوند لگےہوتےتھی۔ وہ عہدِ نبوی کےدورِ حکومت اور نظام خلافتِ راشدہ کےبلند ترین معیار کو مرکز و محور کی حیثیت سےاولین منبع و مصدر کا مقام دیتےہیں۔ کیونکہ آج کےاس دورِ ابتلاءمیں اسی اسلامی معاشرےکےاوصاف و کمالات کو اپنےپیش ِنظر رکھنےکی ضرورت ہی۔
جن کا طوفاں میں سفینہ ہےذرا ہوش کریں
کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں
کس کا کرتہ ہےیہ پیوند ہیں چودہ جس میں
درسِ عبرت ہےمرےشاہ و گدا ہوش کریں
کر دیا اول و آخر کو برابر فئےمیں
واقعی دورِ خلافت میں ہوا ہوش کریں
علامہ محمد یوسف جبریل امتِ مسلمہ کےتابناک مستقبل سےقطعا مایوس نہیں ہیں اور ہمیں آئندہ آنےوالےدور عروج کی جھلکیاں بھی دکھاتےہیں۔ تاکہ ہم اپنےعزم و حوصلےکو سربلند رکھیں اور تحریک احیائےاسلامی کےمشن کو فراموش نہ کریں۔ وہ انتہائی تیقن اور قوتِ استدلال سےمسلمانوں کو منزل مقصود کا نشان دکھاتےہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل آگاہ کرتےہیں کہ انشاءاللہ ایک دن ایسا ضرور آئےگا کہ جس میں قوانینِ الہی نافذ ہوں گےاور ملت بیضا کا ستارہ سربلندی سےہم کنار ہو گا۔ دولت کا گھمنڈ خاک میں مل جائےگا اور غریبوں کو آرام و سکون سےجینا نصیب ہو گا ۔
ہو گا دنیا میں قوانینِ الہی کا قیام
روحِ قرآن نئےدور کی رہبر ہوگی
تو مٹائےگا زمانےسےیہودی کا یہ دور
تیری شمشیر بھی پھر فاتحِ خیبر ہو گی
علامہ محمد یوسف جبریل آنےوالےشان دار دور کی نوید دلاتےہوئےطویل نظمیں تحریر کرتےہیں اور اس زمانےکےخدوخال کو اجاگر کرتےہوئےقرونِ اولیٰ کےادوار کی تصویر کشی کر دیتےہیں جس سےنئی نسل کو ایک گونہ تقویت ملتی ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کا مطمع نظر یہ ہےکہ مسلمان عہد نا پرساں میں ہرگز نہ گھبرائیں بلکہ اپنےخونِ جگر سےایمان و ایقان کی شمعیں فروزاں کرتےجائیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل غاصبانِ وقت کو للکارتےبھی ہیں کہ یوم حشر قریب ہےاور ہم اگر اپنےفرائض کی ادائیگی میں غفلت برتیں گےتو خدا ہمیں ہرگز معاف نہیں کرےگا۔
جلوہ ءاحمد مختار دو عالم کےطفیل
ارض پاک عرشہءافلاک کا منبر ہوگی
امرا نشہءدولت سےمعرا ہوںگی
اور صوت قلاش ازل کوس موثر ہو گی
علامہ محمد یوسف جبریل کا مخصوص فلسفہ ءاٹامزم ان کی منظومات کی روح رواں ہی۔ وہ بنی نوع انسان کو ایٹمی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سےخبردار کرتےہیں تاکہ تخفیف اسلحہ سازی کےذریعےامنِ عالم کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ علامہ محمد یوسف جبریل اسلامی معیشت کےعلمبردار ہیں ۔وہ نوجوانوں کو بار بار احساس دلاتےہیں کہ وہ سر پر کفن باندھ کر اٹھیں اور لمحہءموجود کےہر فرعون و نمرود کےسینےپر وار کریں۔ علامہ محمدیوسف جبریل کی نظموں میں صوتی حسن پایا جاتا ہے۔ان کےکلام میں الفاظ و تراکیب کا شکوہ، بدرجہ ءاتم ملتا ہی۔ گمنام شہیدوں کےلئےلکھی گئی نظمیں بھی لائق توجہ ہیں ۔ کیونکہ قیام پاکستان کےبعد سےلےکر ٥٦٩١ ءتک تو جذبہ ءحب الوطنی قوم کےسینےمیں موجزن رہا لیکن بعد میں رفتہ رفتہ ماند پڑتا گیا ۔ سانحہءمشرقی پاکستان کےبعد اس بلند پایہ کا ادب تخلیق نہیں ہوا جو ٦ ستمبر سےپہلےملتا ہی۔
ہمیں یہ احساس بھی دامن گیرہوتا ہےکہ اگر علامہ محمد یوسف جبریل شاعری کو اپنی اولین ترجیح گردانتےتو ہم ان کےنادر و نایاب افکار و خیالات سےمزید بہتر انداز میں لطف اندوز ہو سکتےتھےاور ان کا شاعرانہ مقام و مرتبہ اس سےبھی بلند پایہ ہوتا مگر اپنےنظریہ ءشعر اور مخصوص اسلوبِ فن کےاعتبار سےان کا اختصاص یقینا لائق توجہ ہے۔ علامہ محمد یوسف جبریل کو صرف شاعر سمجھنا اور ان کےسحر انگیز نغموں سےلطف اندوز ہونا نا مناسب رویہ ہو گا کیونکہ وہ پیغام بر ہیں۔ انہوں نےاپنی نظموں کےذریعےملتِ اسلامیہ کو جھنجھوڑا اور اسےصحیح راستےپر گامزن ہونےکا شعورو احساس بخشا۔ ان کی نظموں کو پڑھتےہوئےیہ نکتہ واضح طور پر سامنےآتا ہےکہ وہ موجودہ کہنہ نظام سےسخت بیزار ہیں ۔وہ انقلابِ اسلامی کےعلمبردار بن کر ابھرتے ہیں۔ وہ غربت و امارت کی باہمی کشمکش، بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور باطل قوتوں کی بالا دستی کےخلاف سینہ سپر ہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل حبیب جالب، تنویر سپرا، جوش ملیح آبادی اور احسان دانش کی انقلابی شعری روایت میں خوبصورت اضافہ ہیں۔ ان کی قوتِ متخیلہ شاعرانہ حسن بیان کےتقاضوں سےیکسر عاری نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ اپنےنظریہ ءفن کےپرچار کےلئےجمالیاتی طرز اظہار کےتقاضوں کو یکسر نظر انداز کرتےہیں۔ ان کی زمینیں، قوافی اور ردیفیں برجستہ و برمحل ہیں ۔ ان کےافکاروخیالات کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر صفحہءقرطاس پر امنڈتا چلاجاتاہے۔ جس سےان کی وسعت علمی اورقادرالکلامی کا بھرپور اندازہ ہوتا ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل حریتِ فکر اور قومی طرزِ احساس کےشاعر ہیں ۔ وہ مسلم امہ میں احساسِ خودی کی بیداری اور قومی نصب العین کےتعین کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتےہیں ۔ وہ عظمتِ انسانی کےداعیءاعظم ہیں اور ان کےفکرو فن میں طبقہءعوام کےمسائل سےگہری دلچسپی اظہر امن الشمس ہے۔ وہ نئی نسل میں طاغوتی قوتوں کےخلاف احساسِ بغاوت پیدا کرتےہیں ۔
ہم نےکرنا ہےبپا زلزلہ ایوانوں میں
قصر ِظالم کو ابھی زیر و زبر کرناہی
ان غریبوں کو خدا حکمت ِاسلامی دی
ہم نےاسلام کی کشتی میں سفر کرنا ہی
علامہ محمد یوسف جبریل کی شاعری میں سائنسی حقائق اور صداقتوں کی طرف بھی واضح اشارےملتےہیں۔ مرزا اسداللہ خان غالب کی شاعری میں فنی اعتبار سےبعض حیران کن ساینٹفک طرزِ فکر کےاشعار بھی ملتےہیں ۔صرف دواشعار ملاحظہ فرمائیں:۔
بوئےگل نالہءدل دودِ چراغ ِمحفل
جو تیری بزم سےنکلا سو پریشاں نکلا
سبزہ و گل کہاں سےآئےہیں
ابر کیا چیز ہےہوا کیا ہے
علامہ محمد اقبال کی شاعری میں بھی امتِ مسلمہ کےشاندار مستقبل کی طرف اشارہ کرتےہوئےاسی قبیل کی مثالیں ملتی ہیں جو ان کی شاعری کےحقائق ومعارف کےسمجھنےمیں انتہائی ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہیں:۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےلب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سےکیا ہو جائےگی
پرےہےچرخ ِنیلی فام سےمنزل مسلماں کی
ستارےجس کی گردِ راہ ہوں وہ کارواں تو ہی
علامہ محمد یوسف جبریل کی بعض نظموں میں سائنسِ بےدین کو مسلمان کرنےکےحوالےسےاردو شاعری میں پہلی دفعہ ایک طویل نظم اور متعدد اشعار منصہءشہود پر آئےہیں جو ان کےدلکش ادبی اسلوب کےآئینہ دار ہیں ۔
شمع تیرہ ہےجو فقدانِ بصیرت کےسبب
قلب سوزاں کی تجلی سےفروزاںکر لو
فانی دنیا میں ہےمحصور یہ سائنس لیکن
سوزِ ایماں سےاسےحشر کا ساماں کر دو
اردو شاعری کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو عمر خیام ایک ماہر فلکیات، ماہر علم نجوم اور فلسفی رباعی گو شاعر تھا ۔ جب کہ جدید عہد میں انجم رومانی غالبا واحد مثال ہیں جو ریاضی دان اور شاعر دونوں حیثیات سےمانےجاتےہیں ۔ مرزا حادی رسوا نےبحیثیتِ ناول نگار اپنی ادبی شناخت قائم کی اور ان کا ناول امراو جان ادا سائنسی طرز فکر کےمطابق مرتب و مدون کیاگیا ہی۔ واضح ہو کہ وہ امریکہ کی کسی یونیورسٹی سےڈاکٹر آف فلاسفی کےحامل بھی تھی۔مگر علامہ محمد یوسف جبریل کی نظم ”حطمہ“ میں ایٹم بم کی تباہی پر ان کا مخصوص نظامِ فکر انتہائی مفصل انداز میں دردمندی سےسامنےآیا ہی۔
یہ ہےایٹمی زمانہ اگےبم ہیں ایٹموں کی
وہ شروع ہو جس کا ایٹم یہی اس کی ہےنہایہ
بھڑک اٹھی نار ِایٹم عہدِ ممددہ میں
ہےیہ غیبتوں کا پرتو ہےیہ حب زر کا سایہ
علامہ محمد اقبال نےعلم الاقتصاد پر ایک بلند پایہ تصنیف تحریر کی تھی ۔ ترقی پسند ادبی تحریک نےاپنی شاعری کےذریعےمعاشی ناہمواریوں اور امارت و غربت کو بطور خاص موضوع ضرور بنایا لیکن ان کےاسلوبِ فن میں نعرہ بازی کا جوش و خروش غالب رہا۔ فیض احمد فیض کی نظموں میں عام طبقےکی محرومیوں کا درد و سوز بدرجہ اتم ابھرا مگر وہ ایک مخصوص نظریہ فکر کےاحاطےسےباہر نہ آ سکی۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےاسلامی معیشت جیسےپیچیدہ اور ادق موضوع کی خشکی کو خوبصورت پیرائےمیں ڈھال کر دنیا کےسامنےاسلامی معاشی نظام کےاوصاف و کمالات کو بحسن و خوبی پیش کرکےنام نہاد ازموں کی چکا چوند روشنی کو تابہ ابد تیرہ و تار کر دیا ۔ یہ ایک الگ بحث ہےکہ ریڈیو اور ٹی وی پر ایک مخصوص طرز فکر کےحامل طبقےکی اجارہ داری کےباعث آج تک ان کو اردو ادب میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کےوہ مستحق ہیں۔ ویسےبھی تحریک ادب اسلامی سےوابستہ شعراءکی اسلامیت اور قرونِ ا ولیٰ کےمسلمانوںسےان کی وابستگی بعض روشن خیال لوگوں کی نظروں میں کانٹا بن کر کھٹکتی ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی نظم ”زندگی فرد کی اس دور میں شاداں ہو گی “ یادگار حیثیت کی حامل ہے۔
سود کو آپ نےممنوعہ جو فرمایا ہی
اپنےآقا کی زباں حرزِ سلیماں ہو گی
پھونکی جائےگی معیشت میں مساوات کی روح
زندہ اس راکھ سےپھر حرمتِ انساں ہو گی
المختصر علامہ محمد یوسف جبریل کےفکر و نظر میںاسلامی ضابطہءحیات کےتمام تر پہلو اپنےفنی اتمام و کمال سےجگہہ پا گئےہیں ۔ ان کی تحریر و تقریر کا مقصد اولین یہ ہےکہ دورِ حاضر کا مسلمان مغربی تہذیب کی چمک دمک سےمتاثر ہونےکی بجائےاپنےآباو¿ واجداد کےنقش قدم پر چل کر اسلام کےمعاشی نظام کی حقیقت کو پا سکی۔ تاکہ ہم ایک متمدن قوم کی حیثیت سےدنیا میں اپنا باوقار مقام حاصل کرنےکی منزل کو حاصل کر سکیں۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد عارف
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

Related Posts

  • 64
    الفقر فخری ، شہنشاہ ولایت، حضرت پیر سیدعبدالقادرجیلانی کی سرزمین عراق کے نزدیک عراق کےقرب و جوار میں ” مصیب“ کی مقدس فضاوں میں سانس لینےوالےنوجوان محمد یوسف کےوہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ مجھےایک دن دنیا بھر کےسامنےایٹمی ہتھیاروں کےخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر…
  • 57
    علامہ محمد اقبال ترجمان حقیقت ،شاعر مشرق اور حکیم الامت فلسفی شاعر کی حیثیت سےنہ صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان بلکہ پورےعالم اسلام میں جانےپہچانےجاتےہیں۔ آپ نےاردو کی کلاسیکی شاعری کےمخصوص استعارات اور تلازمہ کاری کو مسلم تشخص، احساس خودی، ملت اسلامیہ کےعروج کےلئےاستعمال کیا ۔ علامہ محمد اقبال نےتاریخ اسلام…
  • 56
    اجڑ سکےگی کسی سےنہ خانقاہ مری تحریر : محمدعارف ٹیکسلا راولپنڈی سےپشاور کی طرف آئیں تو پتھروں کےشہر ٹیکسلا سےچند قدم آگےایک چھوٹی سی مضافاتی بستی نواب آباد ہےجو صنعتی شہر واہ کینٹ کا ایک جزو لاینفک ہوتےہوئےبھی دیہات کی دلفریب فضا کا دلنشین رنگ لئےہوئےہے۔اس بستی کی آبادی بھی…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “”خوابِ جبریل“ پر ایک طائرانہ نظر

Leave a Reply