کیاانسانیت ایٹمی جنگ کا شکار ہو جائے گی؟ انٹرویو,شریف فاروق

037

shareefarooq

 سوال : کیا قران حکیم نے انسانیت کو ایٹمی جنگ کی تباہی سے بچانے کے لئے کوئی لائحہ عمل دیا ہے؟
جواب: قران حکیم نے موجودہ ایٹمی جہنم اس دنیا کے عارضی ایٹمی جہنم اور اس کے بعد کے ہمیشہ رہنے والے ایٹمی جہنم کا تذکرہ حطمہ کی شکل میں کیاہے ۔حطمہ ایٹمی جہنم کا ایک علامتی نمونہ ہے جو اگلے ہمیشہ رہنے والے جہان میں موجود ہے۔ یہ پیشین گوئی قران حکیم کا ایک ایسامعجزہ ہے جس کا انکار سائنس دان کے لئے بھی ممکن نہیں ۔ انسانیت کو ایٹمی جنگ سے بچانے کی یہی ایک تدبیر ہے ۔یہی واحد راہنمائی ہے، کوئی بھی جدید فلسفی بشمول رسل یہ راز فاش نہیں کر سکا۔ جو قران حکیم نے کیا ہے اور دنیا کے سارے سائنس دان مل کر بھی ایسی جامع اور مختصر تشریح نہیں کر سکتے نہ ہی اس دور کے فلسفی اس ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات اس انداز سے بیان کر سکتے ہیں ۔وہ مختصر، مگر معجزانہ طور پر جامع انداز میں بیان کر دی گئی ہیں ۔ میں نے چالیس برس کی محنت شاقہ کے نتیجہ میں قران حکیم کی اس پیشین گوئی کی تفسیر لکھی ہے جو تقریباً دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ قران حکیم کی پیشین گوئی کا مطالعہ کیا جائے تو ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو سکتی ہے ۔ مجھے قران حکیم کی حقیقی قوت کاعلم ہے اور اللہ تعالیٰ وتبارک کی رحمت بھی بے پایاں ہے ۔ میں اتنا پر امید اسی بنا پر ہوں ۔وماتوفیقی الاباللہ العزیز الحکیم ۔
سوال: انسانیت ایٹمی آگ بھڑکا رہی ہے۔کیااس آگ کو بجھانے کے لئے ابراہمی مشن پر آپ روشنی ڈالیں گے؟
جواب : دیموقراطیس کی روح اس انسانیت کے لئے ایٹمی چتابھڑکانے میںمصروف ہے مگر یہ کس کی روح ہے جو اس آگ کو بجھانے کے لئے جدوجہدکر رہی ہے۔ جان لیں یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روح ہے۔ وہی حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کو نمرود نے جلتی چتا میں ڈالا تھا مگر جو بال بیکا ہوئے بغیر اس آگ سے صحیح سلامت نکل آئے تھے۔ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روایتی انسانی ہمدردی کا مظاہرہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طبعی رحیمی و کریمی کا کرشمہ ہے ورنہ یہ بیکنی انسانیت اپنے طبعی اور منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے۔ دیموقراطیس اور ابراہیم علیہ السلام کا مقابلہ آج نہیں اس وقت سے شروع ہے جب سے نئے بیکنی دور کی ابتدا ہوتی ہے۔ دیکھئے! جدید اٹامزم کے بانی فرانسس بیکن ( 1561-1626 ) کے غائنبانہ مقابلے میں حضرت مجدد الف ثانی (1526-1624) اور سپی نوزا مادی وحدت الوجود کے بانی (1632-77) کے غائنبانہ مقابلے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1703-63) یہ محض تاریخوں کا اتفاق نہیں بلکہ تحقیق اس امر میں یہ انکشاف کرتی ہے کہ موضوعی مطابقت بھی اس مقابلہ میں واضح نظر آتی ہے۔ اس مضمون کو ابھی تک اس زاویئے سے نہیں دیکھاگیا اور حقیقت یہ ہے کہ وہ دروازہ جو اس مضمون کی تحقیق سے کھلتا ہے اس دور کا انتہائی ضروری دروازہ ہے۔ ایک طرف سے یہ ایٹمی جہنم سے باہر نکلنے کا دروازہ ہے پھر 1905 کی اہمیت کو پیش نظر رکھئے۔ یہی وہ سال ہے جس میں حکیم آئن سٹائن نے اپنا معروف زمانہ اضافیت کا خصوصی نظریہ پیش کرکے ایٹمی طاقت کو اس بھنور سے نکال باہرکیاتھا جس میں اس وقت کے سائنس دان ناامیدی کی حد تک الجھ چکے تھے اور پھر دیکھئے حضرت علامہ اقبال 1905 ء میں ہی یورپ جاتے ہیں۔ اگر آپ یورپ نہ جاتے تو آپ ہند کے ایک عظیم قومی شاعر کی حیثیت میں وفات پاتے اور احتمال یہ بھی ہے کہ شاعری کو ایک کسب فضول گردان کر اسے خیر باد کہہ دیتے ۔یورپ نے ان کی کایا پلٹ دی۔ وہاں ان کی آنکھ اس دور کی حقیقت پر وا ہوئی اور وہاں ان کی آنکھ ابراہیمی مشن پر کھلی اور انہیں محسوس ہواکہ یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے اور پھر یہ منظر دیکھا:
’آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے‘‘
اور سوچا:
’’کیا کسی کو پھر کسی کاامتحاں مقصود ہے‘‘
اور پھراپنا رول اس ابراہیمی مشن میں بیان کیا:۔
’’مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ‘‘
یہ نظم پوری پڑھیئے۔ ابراہیمی مشن کادستور اور منشور ہے۔الحق کہ جس نے اقبال کو سمجھنا ہو ہ ا قبال کوابراہیمی مشن کی عینک سے دیکھے۔
سوال : اس پیشین گوئی کی تفسیر کے لئے تقریبا 36 لفظی پیشین گوئی پرآپ نے تین ہزار صفحات کا مواد لکھا ہے۔ کیا آپ نے یہ تعلیم کسی استاد سے حاصل کی؟
جواب : 1942 ء میں میری عمر کے پچیسویں سال میں مصیب نزد بغداد کے مقام پر خواب میں اس بندہ ناچیز کے حق میں ابراہیمی مشن کے لئے سفارش کی گئی۔ اس خواب میں سورۃ النجم کی پہلی اٹھارہ آیات کی تفسیر منظر بہ منظر بشمول سدرۃ المنتہی دکھائی گئی۔ اس وقت میں قران حکیم صرف ناظرہ پڑھ سکتا تھا ۔مطالب و معانی کی آگہی نہ تھی۔ ۱۹۴۲ء سے لے کر ۱۹۸۲ ء تک میرے لئے قدیم و جدید علمی تحصیل و تحقیق و تدقیق وتصنیف کا ایک پر آشوب دور رہا جس کے نتیجہ میں اب پانچ ہزار صفحات کی انگریزی اردو فارسی تصانیف مسودوں کی صورت میں میرے پاس ہیں۔ ان میں تین ہزار صفحے ایٹمی جہنم کے متعلق قران حکیم کی 36 لفظی پیشین گوئی کی تفسیر بزبان انگریزی پر مشتمل بارہ جلدوں میں ہیں۔ جن کے متعلق میرا گمان ہے کہ اس دور کے تمام نامور فلسفی اور سائنس دان مل کر بھی مشکل سے پیدا کر سکیں اور میں نے کسی استاد سے نہیں پڑھا البتہ مجھے ایٹمی جہنم میں ڈال دیا گیا اوروہیں میں نے اس مضمون کا مشاہد ہ اور تجزیہ کیا۔ اس تمام عرصے کے دوران جن دردناک حالات سے میں دوچار رہا ہوں۔ اس کی تفصیل کے لئے کسی جان بنیان کا دل گردہ نہیں اور جس طریقے سے میں نے علم حاصل کیا ہے اور جس مقدار سے میں نے علم حاصل کیا اس کا نفسیاتی تجزیہ کسی فرائیڈ یاولیم جیمز کے دائرہ کار سے باہر ہے مگر میراتمام کام روحانی دعوے پر منحصر نہیں۔ سائنسی اور منطقی معیار ہے کیونکہ سائنس ہی اس دور کا معیار ہے۔
سوال: رسل سے خط و کتابت کے دوران آپ نے کیا کچھ سیکھا اور ایٹمی جنگ کے خلاف کوئی موثر تحریک چلائی جا سکتی ہے اور کیسے؟
جواب :۔ ۱۹۶۴ میں برٹرینڈرسل نے میرے ایک سوال کے جواب میں اپنا فیصلہ یہ دیا کہ’’ جب سے آدم اور حوا نے گندم کادانہ کھایا ہے اس وقت سے آدمی نے ہر اس حماقت سے گریز نہیں کیا جس کے ارتکاب کا کہ وہ اہل تھا اور انجام ایٹمی جہنم ہے‘‘۔ رسل کا تجزیہ بالکل درست تھا لیکن ایٹمی جہنم کے متعلق قران حکیم کی وہ پیشین گوئی (سورۃ الھمزہ) جس کے متعلق مجھے انکشاف ہو چکا تھا ۔میرے لئے شعاع امید ہو کر ابھری۔ کیونکہ اس پیشین گوئی میں ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات بیان کی گئی تھیں اور ان وجوہات کو ختم کرکے ایٹمی تباہی کے خطرے سے انسانیت کے بچ جانے کا امکان موجود تھا۔ یہ پیشین گوئی سائنس کی دنیا میں اور فلسفے کی دنیا میں ایک ایسا معجزہ ہے جس سے انکار کی نہ تو سائنس دان کو گنجائش ہے ۔نہ فلسفی کو اور اس ہدایت کے سوا کوئی دوسراذریعہ اس ایٹمی تباہی سے بچنے کا نہیں ۔سائنس دان اور سیاست دان دونوں اس امر میں مجبور ہیں۔ یہ پیشین گوئی اس ایٹمی آگ کے طوفان میں کشتی نوح کی حیثیت کی حامل ہے۔ نیز اس کی روشنی اپنائے اور اس کی ہدایات پرعمل کئے بغیر نہ کوئی تحریک موثر طور پر اس ایٹمی خطرے کے خلاف اس دنیا میں چلائی جا سکتی ہے نہ ہی کسی دین کا احیا ء یا کسی دینی نظام کا نفاذ ہی موثر طریقے سے ہو سکتا ہے۔
سوال:۔ آپ نے سورۃ الھمزہ کی سائنسی اور منطقی تفسیر لکھی ہے۔ اس پیشین گوئی کے اثرات کوئی کے اثرات کیا مرتب ہوں گے؟۔
جواب: اس پیشین گوئی کی تاثیر یہ ہے کہ ستمبر 1963 ء میں معروف جرمن سکالر مس اینی شمل نے پنجاب یونیورسٹی میں قران حکیم کی الہامی حیثیت کے انکار پر مبنی تقریر کے دوران میں میرے منہ سے قران حکیم کی الہامی حیثیت کے ثبوت میں اس پیشین گوئی کی تفسیر سنی تو چکراکر کرسی پر گر گئیں اور چائے کاگھونٹ اس کے حلق سے نیچے نہ اتر سکااور واپس چلی گئی۔دس برس تک وہ پاکستان نہ لوٹی اور جب آئی تو موضوع قران حکیم کی الہای حیثیت نہ تھا بلکہ اقبال، خسروِ حضرت سلطان باہو اور مسلمانوں کی خطاطی تھا ۔اپنی علمی حیثیت کے سبب مس اینی مری شمل احترام اور مقبولیت کی مستحق ہیں۔ متذکرہ بالا مناظرے کے بعد بے حد مسرور علماء کرام کے اصرار پر علامہ علاولدین صدیقی مرحوم جو اس وقت شعبہ اسلامیات اور بعد میں وائس چانسلر بنے ،نے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا: ’’ حضرات! یہ شخص قدرت نے محض اتفاق سے اس قوم میں پیداکر دیا ہے۔ و ہ قرانی بصیرت جو اللہ تعالیٰ نے اس کے سینے میں تفویض فرمائی ہے اگر یہ قوم اسے حاصل نہ کر سکی تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو قیامت تک معاف نہیں فرمائے گا۔ پھر ایسا آدمی پیدا نہ ہو گا‘‘۔


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “کیاانسانیت ایٹمی جنگ کا شکار ہو جائے گی؟ انٹرویو,شریف فاروق

  1. قران حکیم کا ایٹمی انکشاف
    بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ویل الکل الھمزہ لمزہ۔ ن الذی جمع مالا و عددہ یحسب ان مالہ اخلدہ کلا لینبذن فی لحطمہ۔وما ادراک مالحطمہ ناراللہ الموقدۃ التی تطلع علی الافئدہ انھا علیھم موصدہ فی عمد ممددہ ( الھمزہۂ۱۰۴ )
    شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے۔ جو مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے۔ اور خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کی ہمیشہ کی زندگی کا موجب ہو گا۔ ہرگز نہیں وہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا۔ اور تم کیا سمجھے کہ حطمہ کیا ہے۔ وہ خدا کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔ جو دلوں پر جا لپٹے گی۔ (اور) وہ اس میں بند کر دیئے جائیں گے۔ یعنی آگ کے لمبے لمبے ستونوں میں (الھمزہ )۔
    ایٹمی جہنم کے متعلق قران حکیم کی عظیم پیشین گوئی کا انکشاف مجھ پر ۱۹۶۱ ء میں ہوا۔ اور ابھی تک اسلامی دنیا اور غیر اسلامی دنیا اس غلغلہء قرانی سے بے خبری میں ہے ۔اس پیشین گوئی کے کچھ چیدہ کوائف مندرجہ ذیل ہیں ۔ اور یہ کوائف خواہ بادی النظر میں کتنے ہی بعید از قیاس نظر آئیں ۔ا ور کتنے عجیب و غریب معلوم ہوں ۔ اور انسانی ذہن میں کتنے ہی محیرالعقول حیرت ناک اور نادرالوجود بن کر ابھریں ۔ حقیقت میں کلی طور پر مبنی بر صداقت ہیں ۔ اگر ایک تنقیدی نظر ان دعاوی پر ڈالی جائے گی ۔ تو انشاء اللہ بفضل خدا اس دعوے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ناپید ہو گی ۔
    دنیا کی کوئی طاقت اس وقت اس دنیا کو اس ایٹمی تباہی سے نہیں بچا سکتی ۔ سوائے قران حکیم کی اس معجز نما پیشین گوئی کے ۔ اور وہ اس طرح کہ وہ وجوہات جو قران حکیم نے اس ایٹمی جہنم کی پیدائش کی گنوائی ہیں ۔اور فقط قران حکیم ہی نے پہلی مرتبہ گنوائی ہیں ۔ اگر معدوم کر دی جائیں ۔تو ان کے نتائج یعنی ایٹمی جہنم کے مختلف روپ خود بخود معدوم ہوجاتے ہیں ۔ بالفرض اگر انسانیت لاعلمی ، ضد ، غرور یا بے بسی میں قران حکیم کے بتائے ہوئے اس لائحہ علم پر عمل پیرا ہونے سے قاصر رہتی ہے۔ تو لا محالہ یہ رواں دواں عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر ہی رہے گا ۔اور اس صور ت میں سوائے انا لٰللہ و انا الیہ راجعون کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
    اور یہ کہ یہ پیشین گوئی جدید بیکنی اٹامزم کی تشریح و تعریف کا ایک ایسا معجزہ ہے ۔ جو دنیا کے کسی بھی عظیم فلسفی بشمول مرحوم برٹرینڈ رسل کے بس کی بات نہیں ۔ آج اس دنیا میں ہر وہ دانش ور جو اس مرض کا علاج تجویز کر رہا ہے ۔ وہ حقیقی علاج کے یکسر الٹ ہی نہیں ۔ بلکہ قران حکیم کے بتائے ہوئے علاج کے بھی بالکل الٹ ہے ۔ آپ حیران ہوں گے ، مگر یہ حقیقت ہے ۔ اور ثبوت اس بات کا یہ ہے ۔ کہ اگر ان کا بتایا ہوا علاج درست ہے ۔تو پھر اس دنیا کو ایٹمی تباہی سے نجات دلا کر دکھا دیں ۔ نہیں ۔ بلکہ وہ تو ہر لمحے اس انسانیت کو ایٹمی جہنم کے گڑھے کی جانب دھکیلے جا رہے ہیں ۔اور یہ کہ یہ پیشین گوئی ایٹمی سائنس اس جدید ایٹمی عمل Phenomenon کی تعریف و تشریح و تعبیر کا ایک ایسا نادرالوجود نمونہ پیش کرتی ہے ۔ جس کی مثا ل پیش کرنا ۔ اس دنیا کے کسی بھی عظیم سائنس دان بشمول آئن سٹائن اور بشمول سر جیمز جینز کے بس کا روگ نہیں ۔ اور اس طرح آج بھی قران حکیم کا یہ دعوی اپنی جگہہ برقرار ہو جاتا ہے ۔کہ انسان اور جن سب مل کر بھی اس قران حکیم جیسی ایک سورۃ نہیں پیش کر سکتے ۔ آج قران حکیم کی یہ محض نو آئتوں والی سورۃ یعنی سورۃ الھمزہ ایک چیلنج کی مانند دنیا کے سامنے ہے ۔ دنیا کا کوئی فلسفی یا کوئی سائنس دان جدید بیکنی اٹامزم کے فلسفے اور جدید ایٹمی سائنس کی تشریح کے موضوع کے پر چھتیس لفظوں پر مشتمل ایک پیراگراف لکھ کر دنیا کے سامنے پیش کریں ۔ جو اتنا ہی جامع ہو ۔
    اور یہ کہ جدید بیکنی اٹامزم کے فلسفے کی بنا پر ایٹمی جہنم یعنی ایٹم بم اور ایٹمی تابکاری کے منطقی ظہور کی خبر دینا محض قران حکیم ہی کا حصہ ہے ۔ کسی سقراط یا افلاطون یا ارسطو سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی ۔اگروہ بھی ایسا کر سکتے تو ضرور کرتے ۔ کیونکہ قدیم یونانی اٹامزم ان کے دور میں موجود تھا ۔ اور یہ تینوں حضرات اس فلسفے کے شدت سے مخالف تھے ۔ انہوں نے اس فلسفے کی لادینیت کو سمجھا اور اس کے فلسفیانہ مضمرات کو انسانیت کے لئے مضر تصور کیا ۔اور اس کی ہر طرح سے مخالفت کی ۔مگر یہ کہ وہ یہ بتا سکیں کہ اسی فلسفے کے نتیجے میں ایک روز ایٹمی جہنم پیدا ہو جائے گا ۔ ان کے نادراولوجود فہم و فراست کے باوجود ان کے بس کی بات نہ تھی۔ یہی نہیں بلکہ اس جدید دور کے فلسفی تو فلسفی خود سائنس دان بھی اس وقت تک بے یقینی اور گو مگو کے عالم میں تھے ۔جب تک کہ پہلا ایٹم بم کامیابی سے چلا نہیں دیا ۔ اور اسے چلتا ہوا دیکھ نہیں لیا۔
    اور یہ کہ قران حکیم نے ایٹمی جہنم کے متعلق یہ پیشین گوئی تاریخ کے اس مقام پر پیش کی ۔ جس وقت اس دنیا میں نہ تو قدیم یونانی اٹامزم کی کوئی رمق ہی باتی تھی۔ نہ ہی کسی آئندہ دور میں اس کے احیاء کا ہی کوئی احتمال تھا ۔اور پھر قران حکیم نے سائنسی تشریح اس دور میں کی ۔ جس میں موجودہ سائنس یا اس کے انکشافات وکمالات کا کوئی ہلکا سا تصور کسی کے وہم و گمان یا خواب و خیال میں بھی نہ تھا ۔ اب اگر قران حکیم کی کی ہوئی اس ایٹمی عمل ( Phenomenon) کی تعریف و تشریح کا دعوی مبنی بر صداقت ہے ۔ اور انشاء اللہ کسی شک و شبہے کی امکانی صورت سے بعید ہے ۔ تو پھر آپ ہی کہیئے ۔ کہ کسی آئن سٹائن یا کسی روتھر فورڈ کے لئے قران حکیم کی اس معجزانہ کیفیت کو معجزہ قرار دینے کے سوا کیا چارہ ء کار رہ جاتا ہے ۔ کون آج سے چودہ سو سال قبل عرب کے ملک میں ان ایٹمی اسرار و رموز سے واقف تھا ۔ اب اگر سائنس اصولی طور پر معجزے کے امکان سے انکار کرتی رہے تو کرتی رہے ۔ لیکن کسی بھی ذی علم سائنس دان کے لئے اس معجزے سے انکار سوائے بے جا ہٹ دھرمی کے ممکن نہیں ۔ اور پھر دیکھئے ۔اگر آج سے چودہ سو سال قبل اس ایٹمی حقیقت کو سوائے رب تعالیٰ کی علیم و قدیر ذات کے کوئی نہ جانتا تھا ۔تو اس کے معنی یہ ہیں ۔ کہ یہ بات خود اللہ تعالیٰ نے کہی ۔ اور یہ کہ قران اللہ تعالی ٰ کا کلام ہے ۔ کیونکہ اگر ایک بات بھی اللہ تعالی کی اپنی کہی ہوئی موجود ہے ۔تو سارا قران حکیم ہی اسی کا کلام ہو گا ۔ کیونکہ قران حکیم کادعوی یہی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں نبی کریم ﷺ معاذ اللہ جھوٹ کا مرتکب نہیں ہو سکتے ۔ اور چھوڑیئے اگر یہی ایک پیشین گوئی ہی سارا قران ہوتی ۔تب بھی اس کی وقعت کا اندازہ اس بات سے لگایئے ۔ کہ یہ اس ایٹمی جہنم کے کنارے پر کھڑی ہوئی اس انسانیت کو دو جہانوں کی المناک تباہی سے بچانے کاواحد وسیلہ ہے۔ دیکھئے ۔اس طرح ہی قران حکیم کا منجانب اللہ ہونے کا ثبوت ساری دنیا کی قوموں کے سامنے ایک کافی ، شافی اور مسکت انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے ۔اور اس طرح ہی تعصب کی دیوار گرتی نظر آتی ہے ۔ اور اس طرح ہی روئے زمین کی قومیں قران حکیم کی علمی اور الہامی عظمت کے سامنے دو زانو ہو سکتی ہیں ۔ اس دلیل کے علاوہ جتنی بھی دلیلیں قران حکیم کے الہامی اور منجانب اللہ ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کی جاتی ہیں ۔ اور پیش کی جا سکتی ہیں ۔وہ قران حکیم کے ماننے والوں کی تشفی تو کر سکتی ہیں ۔ مگر انکار کرنے والے ان دلیلوں کو اللہ اور بندوں کے درمیان قدر مشترک کا جواز پیدا کرکے ان سے روگردانی کر لیتے ہیں ۔ مثلا فصاحت و بلاغت یا پند و نصائح یا قوانین شریعت یا پرانی تواریخ یا پیشین گوئیوں کا وجود ایسے امور ہیں ۔ جن کا ملکہ کسی حد تک انسانی ذہن میں بھی موجود ہے ۔ لیکن چودہ سو سال قبل ایٹمی سائنس کے اسرار و رموز کا انکشاف و تشریح کسی انسانی ذہن کے بس کی بات نہیں تھی ۔ اور یہی نہیں بلکہ جہاں تک اس پیشین گوئی کا تعلق ہے ۔ اس میں بھی یہ بات واضح ہے ۔ کہ اس قبیل کی پیشین گوئی کسی انسانی علم کے بس کی بات نہیں تھی ۔ کیونکہ یہ پیشین گوئی ایٹمی سائنس کے اسرار و رموز اور ایٹمی عمل کی تشریح کے ساتھ منسلک ہے ۔
    اور یہ کہ قران حکیم کی یہ پیشین گوئی اس ایٹمی دور کے اس ایٹمی آگ والے عالم گیر طوفان کے لئے بہ مرتبہء کشتی نوح ہے ۔ کوئی بھی سوائے اس کشتی میں سوار ہونے کے اس عالمی ایٹمی طوفان کی آگ سے نہیں بچ سکتا۔ اور یہ کہ اس دنیا میں ایٹمی جہنم کے خلاف چلائی جانے والی کوئی بھی تحریک جب تک اس پیشین گوئی میں دیئے ہوئے راہنما خطوط اور بنیادی ہدایات پر عمل پیرا نہیں ہوتی ۔کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی ۔اور یہ کہ کسی بھی دین

    کا مکمل احیاء یا کامل نفاذ اس وقت تک ممکن نہیں ۔ جب تک کہ اس پیشین گوئی کی ہدایات پر عمل پیرا ہو کر اس فتنہ و فساد کی بنیادی اساس کا قلع قمع نہیں کر دیا جاتا ۔ قارعین کرام !حطمہ ہی ایٹمی جہنم ہے ۔ اور حطمہ کا بیان قران حکیم کی ایک بہت بڑی پیشین گوئی ہے ۔آخیر میں واضح ہو کہ یہ ایک حقیقت ہے ۔ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ۔اور وہ یہ ہے۔ کہ جو شخص بھی اس دنیوی ایٹمی جہنم کا مستحق قرار پایا ۔ مگر اتفاقات کی بنا پر اس عذاب سے بچ کر چلا گیا ۔ تو بھی وہ شخص اس حطمہ سے جو اللہ تعالیٰ نے اگلی دنیا میں بھڑکا رکھا ہے ۔اس سے کسی صورت بھی بچ نہیں سکے گا ۔ اور دلیل اس امر پر یہ ہے ۔ کہ وہ وجوہات جو اس دنیوی ایٹمی جہنم کی پیدائش کا موجب ہوئیں ۔اور وہ وجوہات جو قران حکیم نے حطمہ کے جہنم کی آگ میں سزا بھگتنے کی گنوائی ہیں ۔ وہ اصلاََ ایک ہی ہیں ۔ یعنی عیب جوئی کی عادت اور زر اندوزی میں مکمل استغراق ۔ اور دولت کی ہمیشگی کی یقینیت۔اب اگر یہ حقیقت درست ہے ۔اور یقیناًدرست ہے ۔تو پھر یہ ایک ایسی حقیقت ہے ۔جس میں روئے زمین پر موجود ہر چیزاور انسان کے دل میں پیدا ہونے والی تمام حرص و ہوس یکسر ڈوب کے رہ جاتی ہے ۔ کیونکہ اس فانی دنیا کا عذاب تو بالآخر ختم ہونے والا ہے ۔ مگر اگلی لازوال اور ابدی دنیا کے لازوال اور ابدی عذاب کا کیا بنے گا ۔اللہ تعالیٰ اس انسانیت کو اس دردناک عذاب سے بچنے کی صلاحیت عطا فرمائے ۔اور خود اپنا کرم کرے ۔قران حکیم کا لفظ سچ ثابت ہوا ۔ اللہ تعالیٰ قران حکیم کے صدقے میں اپنے بندوں پر رحم کر ے۔آمین۔

    علامہ یوسف جبریل
    ادارہ افکار جبریل نواب آباد واہ چھاؤنی
    allamayousuf.net.pk http://www.oqasa.org

    Back to Conversion Tool

    Linux VPS | Dedicated Servers | Urdu Home

Leave a Reply