کیاانسانیت ایٹمی جنگ کا شکار ہو جائے گی؟ انٹرویو,شریف فاروق

037

shareefarooq

 سوال : کیا قران حکیم نے انسانیت کو ایٹمی جنگ کی تباہی سے بچانے کے لئے کوئی لائحہ عمل دیا ہے؟
جواب: قران حکیم نے موجودہ ایٹمی جہنم اس دنیا کے عارضی ایٹمی جہنم اور اس کے بعد کے ہمیشہ رہنے والے ایٹمی جہنم کا تذکرہ حطمہ کی شکل میں کیاہے ۔حطمہ ایٹمی جہنم کا ایک علامتی نمونہ ہے جو اگلے ہمیشہ رہنے والے جہان میں موجود ہے۔ یہ پیشین گوئی قران حکیم کا ایک ایسامعجزہ ہے جس کا انکار سائنس دان کے لئے بھی ممکن نہیں ۔ انسانیت کو ایٹمی جنگ سے بچانے کی یہی ایک تدبیر ہے ۔یہی واحد راہنمائی ہے، کوئی بھی جدید فلسفی بشمول رسل یہ راز فاش نہیں کر سکا۔ جو قران حکیم نے کیا ہے اور دنیا کے سارے سائنس دان مل کر بھی ایسی جامع اور مختصر تشریح نہیں کر سکتے نہ ہی اس دور کے فلسفی اس ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات اس انداز سے بیان کر سکتے ہیں ۔وہ مختصر، مگر معجزانہ طور پر جامع انداز میں بیان کر دی گئی ہیں ۔ میں نے چالیس برس کی محنت شاقہ کے نتیجہ میں قران حکیم کی اس پیشین گوئی کی تفسیر لکھی ہے جو تقریباً دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ قران حکیم کی پیشین گوئی کا مطالعہ کیا جائے تو ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو سکتی ہے ۔ مجھے قران حکیم کی حقیقی قوت کاعلم ہے اور اللہ تعالیٰ وتبارک کی رحمت بھی بے پایاں ہے ۔ میں اتنا پر امید اسی بنا پر ہوں ۔وماتوفیقی الاباللہ العزیز الحکیم ۔
سوال: انسانیت ایٹمی آگ بھڑکا رہی ہے۔کیااس آگ کو بجھانے کے لئے ابراہمی مشن پر آپ روشنی ڈالیں گے؟
جواب : دیموقراطیس کی روح اس انسانیت کے لئے ایٹمی چتابھڑکانے میںمصروف ہے مگر یہ کس کی روح ہے جو اس آگ کو بجھانے کے لئے جدوجہدکر رہی ہے۔ جان لیں یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روح ہے۔ وہی حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کو نمرود نے جلتی چتا میں ڈالا تھا مگر جو بال بیکا ہوئے بغیر اس آگ سے صحیح سلامت نکل آئے تھے۔ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روایتی انسانی ہمدردی کا مظاہرہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طبعی رحیمی و کریمی کا کرشمہ ہے ورنہ یہ بیکنی انسانیت اپنے طبعی اور منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے۔ دیموقراطیس اور ابراہیم علیہ السلام کا مقابلہ آج نہیں اس وقت سے شروع ہے جب سے نئے بیکنی دور کی ابتدا ہوتی ہے۔ دیکھئے! جدید اٹامزم کے بانی فرانسس بیکن ( 1561-1626 ) کے غائنبانہ مقابلے میں حضرت مجدد الف ثانی (1526-1624) اور سپی نوزا مادی وحدت الوجود کے بانی (1632-77) کے غائنبانہ مقابلے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1703-63) یہ محض تاریخوں کا اتفاق نہیں بلکہ تحقیق اس امر میں یہ انکشاف کرتی ہے کہ موضوعی مطابقت بھی اس مقابلہ میں واضح نظر آتی ہے۔ اس مضمون کو ابھی تک اس زاویئے سے نہیں دیکھاگیا اور حقیقت یہ ہے کہ وہ دروازہ جو اس مضمون کی تحقیق سے کھلتا ہے اس دور کا انتہائی ضروری دروازہ ہے۔ ایک طرف سے یہ ایٹمی جہنم سے باہر نکلنے کا دروازہ ہے پھر 1905 کی اہمیت کو پیش نظر رکھئے۔ یہی وہ سال ہے جس میں حکیم آئن سٹائن نے اپنا معروف زمانہ اضافیت کا خصوصی نظریہ پیش کرکے ایٹمی طاقت کو اس بھنور سے نکال باہرکیاتھا جس میں اس وقت کے سائنس دان ناامیدی کی حد تک الجھ چکے تھے اور پھر دیکھئے حضرت علامہ اقبال 1905 ء میں ہی یورپ جاتے ہیں۔ اگر آپ یورپ نہ جاتے تو آپ ہند کے ایک عظیم قومی شاعر کی حیثیت میں وفات پاتے اور احتمال یہ بھی ہے کہ شاعری کو ایک کسب فضول گردان کر اسے خیر باد کہہ دیتے ۔یورپ نے ان کی کایا پلٹ دی۔ وہاں ان کی آنکھ اس دور کی حقیقت پر وا ہوئی اور وہاں ان کی آنکھ ابراہیمی مشن پر کھلی اور انہیں محسوس ہواکہ یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے اور پھر یہ منظر دیکھا:
’آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے‘‘
اور سوچا:
’’کیا کسی کو پھر کسی کاامتحاں مقصود ہے‘‘
اور پھراپنا رول اس ابراہیمی مشن میں بیان کیا:۔
’’مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ‘‘
یہ نظم پوری پڑھیئے۔ ابراہیمی مشن کادستور اور منشور ہے۔الحق کہ جس نے اقبال کو سمجھنا ہو ہ ا قبال کوابراہیمی مشن کی عینک سے دیکھے۔
سوال : اس پیشین گوئی کی تفسیر کے لئے تقریبا 36 لفظی پیشین گوئی پرآپ نے تین ہزار صفحات کا مواد لکھا ہے۔ کیا آپ نے یہ تعلیم کسی استاد سے حاصل کی؟
جواب : 1942 ء میں میری عمر کے پچیسویں سال میں مصیب نزد بغداد کے مقام پر خواب میں اس بندہ ناچیز کے حق میں ابراہیمی مشن کے لئے سفارش کی گئی۔ اس خواب میں سورۃ النجم کی پہلی اٹھارہ آیات کی تفسیر منظر بہ منظر بشمول سدرۃ المنتہی دکھائی گئی۔ اس وقت میں قران حکیم صرف ناظرہ پڑھ سکتا تھا ۔مطالب و معانی کی آگہی نہ تھی۔ ۱۹۴۲ء سے لے کر ۱۹۸۲ ء تک میرے لئے قدیم و جدید علمی تحصیل و تحقیق و تدقیق وتصنیف کا ایک پر آشوب دور رہا جس کے نتیجہ میں اب پانچ ہزار صفحات کی انگریزی اردو فارسی تصانیف مسودوں کی صورت میں میرے پاس ہیں۔ ان میں تین ہزار صفحے ایٹمی جہنم کے متعلق قران حکیم کی 36 لفظی پیشین گوئی کی تفسیر بزبان انگریزی پر مشتمل بارہ جلدوں میں ہیں۔ جن کے متعلق میرا گمان ہے کہ اس دور کے تمام نامور فلسفی اور سائنس دان مل کر بھی مشکل سے پیدا کر سکیں اور میں نے کسی استاد سے نہیں پڑھا البتہ مجھے ایٹمی جہنم میں ڈال دیا گیا اوروہیں میں نے اس مضمون کا مشاہد ہ اور تجزیہ کیا۔ اس تمام عرصے کے دوران جن دردناک حالات سے میں دوچار رہا ہوں۔ اس کی تفصیل کے لئے کسی جان بنیان کا دل گردہ نہیں اور جس طریقے سے میں نے علم حاصل کیا ہے اور جس مقدار سے میں نے علم حاصل کیا اس کا نفسیاتی تجزیہ کسی فرائیڈ یاولیم جیمز کے دائرہ کار سے باہر ہے مگر میراتمام کام روحانی دعوے پر منحصر نہیں۔ سائنسی اور منطقی معیار ہے کیونکہ سائنس ہی اس دور کا معیار ہے۔
سوال: رسل سے خط و کتابت کے دوران آپ نے کیا کچھ سیکھا اور ایٹمی جنگ کے خلاف کوئی موثر تحریک چلائی جا سکتی ہے اور کیسے؟
جواب :۔ ۱۹۶۴ میں برٹرینڈرسل نے میرے ایک سوال کے جواب میں اپنا فیصلہ یہ دیا کہ’’ جب سے آدم اور حوا نے گندم کادانہ کھایا ہے اس وقت سے آدمی نے ہر اس حماقت سے گریز نہیں کیا جس کے ارتکاب کا کہ وہ اہل تھا اور انجام ایٹمی جہنم ہے‘‘۔ رسل کا تجزیہ بالکل درست تھا لیکن ایٹمی جہنم کے متعلق قران حکیم کی وہ پیشین گوئی (سورۃ الھمزہ) جس کے متعلق مجھے انکشاف ہو چکا تھا ۔میرے لئے شعاع امید ہو کر ابھری۔ کیونکہ اس پیشین گوئی میں ایٹمی جہنم کی پیدائش کی وجوہات بیان کی گئی تھیں اور ان وجوہات کو ختم کرکے ایٹمی تباہی کے خطرے سے انسانیت کے بچ جانے کا امکان موجود تھا۔ یہ پیشین گوئی سائنس کی دنیا میں اور فلسفے کی دنیا میں ایک ایسا معجزہ ہے جس سے انکار کی نہ تو سائنس دان کو گنجائش ہے ۔نہ فلسفی کو اور اس ہدایت کے سوا کوئی دوسراذریعہ اس ایٹمی تباہی سے بچنے کا نہیں ۔سائنس دان اور سیاست دان دونوں اس امر میں مجبور ہیں۔ یہ پیشین گوئی اس ایٹمی آگ کے طوفان میں کشتی نوح کی حیثیت کی حامل ہے۔ نیز اس کی روشنی اپنائے اور اس کی ہدایات پرعمل کئے بغیر نہ کوئی تحریک موثر طور پر اس ایٹمی خطرے کے خلاف اس دنیا میں چلائی جا سکتی ہے نہ ہی کسی دین کا احیا ء یا کسی دینی نظام کا نفاذ ہی موثر طریقے سے ہو سکتا ہے۔
سوال:۔ آپ نے سورۃ الھمزہ کی سائنسی اور منطقی تفسیر لکھی ہے۔ اس پیشین گوئی کے اثرات کوئی کے اثرات کیا مرتب ہوں گے؟۔
جواب: اس پیشین گوئی کی تاثیر یہ ہے کہ ستمبر 1963 ء میں معروف جرمن سکالر مس اینی شمل نے پنجاب یونیورسٹی میں قران حکیم کی الہامی حیثیت کے انکار پر مبنی تقریر کے دوران میں میرے منہ سے قران حکیم کی الہامی حیثیت کے ثبوت میں اس پیشین گوئی کی تفسیر سنی تو چکراکر کرسی پر گر گئیں اور چائے کاگھونٹ اس کے حلق سے نیچے نہ اتر سکااور واپس چلی گئی۔دس برس تک وہ پاکستان نہ لوٹی اور جب آئی تو موضوع قران حکیم کی الہای حیثیت نہ تھا بلکہ اقبال، خسروِ حضرت سلطان باہو اور مسلمانوں کی خطاطی تھا ۔اپنی علمی حیثیت کے سبب مس اینی مری شمل احترام اور مقبولیت کی مستحق ہیں۔ متذکرہ بالا مناظرے کے بعد بے حد مسرور علماء کرام کے اصرار پر علامہ علاولدین صدیقی مرحوم جو اس وقت شعبہ اسلامیات اور بعد میں وائس چانسلر بنے ،نے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا: ’’ حضرات! یہ شخص قدرت نے محض اتفاق سے اس قوم میں پیداکر دیا ہے۔ و ہ قرانی بصیرت جو اللہ تعالیٰ نے اس کے سینے میں تفویض فرمائی ہے اگر یہ قوم اسے حاصل نہ کر سکی تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو قیامت تک معاف نہیں فرمائے گا۔ پھر ایسا آدمی پیدا نہ ہو گا‘‘۔


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply