Masjid maktab…. Falahi markaz

مسجد مکتب….فلاحی مرکز!
(ڈاکٹر اظہر وحید)
دینِ اسلام مکمل ہی نہیںٗ کامل و اکمل بھی ہے۔ ہم ہی ناداں تھے جو چند کلیوں پر قناعت کر گئےٗ وگرنہ دین کے گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی تھا۔ دین ظاہر و باطن میں مکمل ہے۔ یہ صرف ظاہری عبادات اورنظامِ تعزیرات تک محدود نہیں…. اس میں روحِ انسانی کی نشونما اور جولانیِ فکر کا آسمان بھی موجود ہے۔ دین کے مکمل ہونے کا مطلب ہے کہ یہ نظام انفرادی اور اجتماعی ہر دو میدان میں فکر و عمل کیلئے مکمل راہنمائی کا سامان فراہم کرتا ہے۔ الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا….یعنی اللہ تبارک تعالیٰ نے دین کو مکمل کر دیاٗ اپنی نعمت تمام کر دی اور اسلام کو تمہارے لیے بطور دین پسند کر لیا۔ دین راستے کو کہتے ہیں….اور راستہ چلنے سے طے ہوتا ہے…. جدل و مباحث سے راستے طے نہیں ہوتے ۔ راستہ متعین ہوتا ہےٗ اپنے سے پہلے چلنے والوں کے نقوشِ قدم پر چلنے سے…. کہ یہی صراطِ مستقیم ہے۔ راستہ کتاب سے معلوم کیا جاسکتا ہے لیکن اسے طے کرنے کیلئے ان کی متابعت میں سفر کرنا لازم ہوتا ہےٗ جن پر نعمت تمام ہوئی، جنہوں نے اپنے لیے دل سے دینِ اسلام کو پسند کرلیا اور جنہیں دین والےؐ نے اپنے دین کی متابعت اور معاونت کیلئے پسند کر لیا۔
تاریخ میں ہم بہت سی فکری تخریب کاریوں کا شکار ہوئے ہیں…. معاملات کو عبادات سے جدا کر دیا گیا، ملوکیت کو اسلام میں برداشت کر لیا گیا۔ موروثی بادشاہت کے حق میں قرآن سے دلائل تراش لیے گئے۔ یہ دلائل کی دلدل بھی عجب چیز ہے۔ جب تک خواہشِ نفس سے آزادی حاصل نہ ہوٗ ہر قبیلہ ِفکر دلائل کے اپنے لات منات تراش لیتا ہے۔ بنی اسرائیل کے بادشاہوں کا ذکر قرآن میں ہواٗ تو وہاں سے ہمارے صنم تراشوں نے یہ دلیل تراش لی کہ اسلام میں بادشاہت جائز ہے۔ بات بنی اسرائیل کی ہو رہی ہےٗ لیکن اس کا اطلاق اُمتِ محمدیہﷺ پر کیا جارہا ہے۔ دورِ ملوکیت میں عبادات پر زور دیا گیا، اوراد و وظائف کے فضائل دل کھول کر بیان کئے گئے…. لیکن معاملات اور خدمتِ انسانی کے پہلو سے دانستہ چشم پوشی کی گئی۔
ایک وقت تھا کہ حکومتی معاملات بھی مسجد میں طے پاتے، مسجد ایک مرکز کے طور پر کام کرتی تھی، کجا یہ دَور کہ مسجد کا کردار فقط نماز ادا کرنے کی حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔
مسجد اور مکتب (اسکول) کو یکجا کر دیا جائے تو دین اور دنیا کا فرق مٹ سکتا ہے۔ دین دنیا کو دین بنانے کیلئے آیا تھا، اور ایک ہم ہیں کہ دین کو دنیا بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک جملہ یاد آیا، آپؒ فرمایا کرتے کہ دین اس وقت نافذ ہوگا جب آپ کا گورنر بادشاہی مسجد کا امام بھی ہوگا، یا آپ کی بادشاہی مسجد کا امام آپ کا گورنر بھی ہوگا۔
دینِ اسلام میں اجتماعی عبادت کی غرض وغائت اجتماعی فلاح و بہبود ہے۔ باجماعت نماز کے نمازی اگر مسجد کے پسِ دیوار غربت سے بے خبر اور لا تعلق ہیں تو انہیں اپنی عبادت پرغور کرنا چاہیے۔ نماز خود غرضی نہیں سکھاتی۔ اگر باجماعت نماز ادا کرنے والے اپنے ساتھیوں کی جملہ ضروریات کا احساس کرنے سے عاری ہیں توان کی نماز کا “باجماعت” ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔ جماعت بنے گی تو باجماعت نماز قائم ہوگی۔ اگر نمازیوں کے دل آپس میں پھٹے ہوئے ہوں تو صف کھڑی نہیں ہو سکتی۔ دلوں کو صفوں سے ربط ہے۔ دل کی صفیں سیدھی نہ ہوں تو جماعت کیسے کھڑی ہو؟ محمود و ایاز اگر صرف نماز ہی میں ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں اورنماز کے بعد الگ الگ محلوں میں ایک دوسرے سے بے خبرجا سوتے ہیں تو ان کی نماز باجماعت کیسے متصور ہو؟ نماز قائم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ حالتِ نمازٗ نماز کے بعد بھی قائم رہے۔ میرے پاس میڈیکل کمپنی کا ایک نمایندہ ملنے کیلئے آیا، معلوم ہواٗ وہ نومسلم ہے۔ میں نے اشتیاق سے دریافت کیا کہ اسے کس چیز نے اسلام کی طرف راغب کیا۔ اس نے کہاٗ میں نے دیکھا کہ میری کمپنی کا سی ای او CEO اور گیٹ کیپر ایک ہی صف میں کندھے سے کندھا ملائے نماز پڑھ رہے تھے۔ سبحان اللہ! یہ ایک انفرادی اور عارضی واقعہ ہے ، یہی واقعہ اگر مستقل اور عملی طور پرقائم ہو جائے تو ایک فرد ہی کیاٗ اقوامِ عالم جوق در جوق حلقہِ بگوشِ اسلام ہو جائیں۔ یہ علم نہیں بلکہ عمل ہے جو غیر کوآپ کے دین کی طرف راغب کرتا ہے۔
آمدم برسرمطلب، مسجد اہل محلہ کیلئے ایک فلاحی مرکز کی صورت ہونی چاہیے۔ جب تک مسلمان غیروں کی غلامی میں تھے ، ان کی مجبوری تھی کہ مساجد و مدارس کیلئے چندہ جمع کیا جائے اور جہاں بھی ، جتنی بھی جگہ میسر ہو، اس کے مطابق مسجد بنا دی جائے، تاکہ نظامِ عبادت اور بنیادی دینی تعلیم منقطع نہ ہونے پائے۔۔۔۔۔ لیکن آزادی کے بعد بھی ایک مسلمان ملک میں اگر حکومت مساجد اور مدارس کی کفالت نہ کرے تو یہ بے حسی قابلِ توجہ ہی نہیںٗ قابلِ تعجب بھی ہے۔ حکومت کے پاس دیگر سوشل کاموں کیلئے فنڈز موجود ہوتے ہیں، ایک بجٹ اور بخل کا مسئلہ صرف مساجد ہی کیلئے؟ ترکی میں دیکھا کہ ہر محلے کی مسجد کم از کم آٹھ سے دس کنال کے وسیع رقبے پر مشتمل ہوتی ہے…. اور اتنی خوبصورت کہ اندر داخل ہوتے ہی بے محابہ نماز ادا کرنے کیلئے دل مچل جائے۔ یہاں مسجد کے خطیب اعلیٰ تعلیم یافتہ اور حکومت کی طرف سے اعلیٰ تنخواہ یافتہ ہوتے ہیں۔ ایسا ہمارے ہاں کیونکر ناممکن ہے؟
ہمارے معاشرتی اور تعلیمی مسائل کا حل یہ ہے کہ ہر مسجد کے ساتھ ایک مکتب کا قیام عمل میں لایا جائے ، کم از کم پرائمری سطح کا اسکول مسجد کے ساتھ ضرور منسلک کیا جائے۔ درسِ نظامی والے علما حضرات کو گزٹیڈ اسکیل دے کر حکومت کی طرف سے ان کی پرکشش تنخواہ مقرر کی جائے تاکہ وہ مسجد کمیٹی کے دستِ نگر نہ ہوں۔ وہ اس مسجد مکتب ( پرائمری اسکول) کے انچارج بھی ہوں گے۔ مساجد کیلئے اتنا وسیع رقبہ مختص کیا جائے کہ اس کے بیرونی احاطے میں ایک دستکاری اسکول اورٹیکنیکل انسٹیوٹ بھی سما سکے۔ پرائمری کے بعد جو بچے فنی تعلیم حاصل کرنا چاہیںٗ یہیں مسجد کے زیرِ سایہ حاصل کریں۔ یہاں سے تیار ہونے والے اہلِ فن ( کاریگر) فن کے ساتھ ساتھ ایمانداری کا سبق بھی سیکھیں گے۔ مسجد کی قربت انہیں دین کے بنیادی پیغام (امانت ، دیانت اور ایفائے عہد) سے روشناس کرے گی۔ غریب و نادار خواتین کے ہاتھ کی دستکاری کا نمائشی مرکز ( ڈسپلے سینٹر) بھی یہیں قائم کیا جائےٗ تاآنکہ استحصال کرنے والے ساہوکار براہِ راست ان سے دس روپے کی دستکاری خرید کر دس ہزار میں نہ بیچیں۔ غریب کی محنت کا تحفظ بھی ہر درد مند اور ایماندار انسان پر واجب ہے۔ دین کا حکم ہے کہ مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دے دی جائے۔
مسجد کے بیرونی احاطے میں ایک کیمونٹی سینٹر قائم کیا جائے۔ اہلِ محلہ کو اپنی بیٹیوں کی شادی کیلئے مہنگے شادی ہالوں کا رخ نہ کرنا پڑے، یہیں پر کراکری اور شامیانوں کا اہتمام موجود ہو۔ غریب والدین کو معلوم ہو کہ ان کے بچوں کی شادی کی تقریب مسجد کے زیرِ سایہ ہوگی، اور بغیر کسی اضافی خرچ اخراجات کے ممکن ہو سکے گی۔ اسی صورت میں مسجد میں نکاح کا رواج صورت پذیر ہو سکے گا۔ مخیر حضرات کے تعاون سے ایک لنگر فنڈ قائم کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ اپنے طور پر کھانے کا انتظام نہ کر سکیںٗ ان کے بچوں کی شادی کی تقریب میں”تناول ماحضر” کا بندوبست اس لنگر فنڈ سے کیا جا سکتا ہے۔” ولا یحض علی طعام المسکین”…. کی وعید سے سدھر جائیں تو “فویل اللمصلین” کے عتاب سے بچ سکتے ہیں۔ جس طرح تجہیز و تکفین کا سامان مسجد میں موجود ہوتا ہے ، اس طرح شادی خانہ آبادی کا جملہ سامان بھی مسجد سے مہیا ہو سکتا ہے۔ شادی کی تقریبات مسجد کے زیرِ سایہ منعقد ہونے سے ہمارے ہاں رواج پانے والی غیر اسلامی رسوم ازخود ختم ہوجائیں گی۔ رفتہ رفتہ ہماری تقریبات میں سادگی دَر آئے گی۔ نکاح آسان ہوگا، اور غلط کاری مشکل!! مسجد کے پہلو میں ایک فری ڈسپنسری کا قیام بھی عمل میں لایا جائے۔ مسجد اگر ایک فلاحی مرکز کا روپ دھار لے تو تبلیغ کیلئے ہمیں دور دراز کا سفر طے نہیں کرنا پڑے گا، بیمار خود چل کر مسیحا کے پاس آ جائے گا۔ ذرا! اسلام کے فلاحی پہلو پر توجہ دے کر تو دیکھیںٗ مخلوقِ خدا کی توجہ کا رخ آپ کی طرف ہو جائے گا!!
www.facebook.com/dr.azharwaheed
www.azharwaheed.com
+923219440981
#islam #welfarestate #welfareislamicstate #wasifaliwasif #wasifkhyal #urducolumn #mysticism #drazharwaheed

Print Friendly, PDF & Email

Share Your Thoughts

Make A comment