مرےگلو میں ہےاک نغمہءجبریل آشوب

019
arifseemabi
علامہ محمد یوسف جبریل لمحہ موجود کےبالغ نظر دانشور ، فلسفی، دانائےملت، شاعر اور ادیب تھی۔ آپ نےاپنےرشحاتِ قلم کےذریعے نصف صدی تک امت مسلمہ کےحساس طبقےکو علم و دانش کی روشنی سےمنور کیا۔آپ نےمسلم مفکراور ایٹمی سائنس دان کی حیثیت سےعالم انسانیت کو ایٹمی جہنم سےبچانےکےلئےبھرپور جدوجہد کی ۔تاکہ روئےزمین کو جنگ کےبڑھتےہوئےخطرات سےپاک کرکےامن و آشتی کا گہوارہ بنا یاجا سکی۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےقومی شاعر کی حیثیت سےنغمہ جبریل آشوب، سوز جبریل، نالہءجبریل اور خواب جبریل جیسی شہرہءآفاق شعری تصانیف قلم بند کیںجومعروف فلسفی شاعر حکیم الامت علامہ محمداقبال کےشعری اسلوب اور فکری تسلسل کا جیتا جاگتا شاہکار ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر نام نہاد ازموں اور الحاد و بےدینی کےبڑھتےہوئےطوفان کےخاتمےکےلئے”اسلام کا معاشی نظام“ کےعنوان سےایک مربوط مقالہ تحریر کیا۔سرسید احمد خان کی تحریک علی گڑھ کےمطالعےسےپتہ چلتا ہےکہ انہوں نےادب برائےزندگی کوباضابطہ طور پر پہلی دفعہ منصہءشہود پر لاکر تہذیب الاخلاق کےذریعےرو بہ زوال قوم کی اخلاقی حالت کو بہتر بنایااور مسلم قوم کو جدید سائنسی علوم سیکھنےپر آمادہ کیا۔ آپ نےتبین الکلام ،رسالہ اسباب بغاوت ہند، قول المتین فی ابطال حرکت زمین ، آئینِ اکبری، آثار الصنادید، تاریخ فیروز شاہی جیسی بلند پایہ علمی تصانیف کےعلاوہ قران حکیم فرقان مجید کی سائنسی اور عقلی تفسیر بھی صفحہءقرطاس پر منتقل کی ۔مسلمانوں کےنظام تعلیم کےمطالعےسےپتہ چلتا ہےکہ انہوں نےقران حکیم ، حدیث، تفسیر، اصول تفسیر، فقہ، اسلامی تاریخ اور قانون کواپنا جزو لاینفک بنایا۔ جس کی وجہ سےمسلمان اپنےعظیم علمی ورثےکو بہتر طور پر سمجھنےمیں کامیاب رہی۔ دینی مدارس کےنظام تعلیم میں اسلامی اصول و ضوابط کو اولین ترجیح حاصل ہی۔ لیکن یہ امر مقام افسوس ہےکہ علماءکرام جدیدعلوم اور سائنسی ایجادات سےکماحقہ واقفیت نہیں رکھتےجس کی وجہ سےہم بین الاقوامی افق پرتیزی سےہونےوالی تبدیلیوں اور برق رفتار مشینی زندگی کا ساتھ دینےسےقاصر ہیں۔ علامہ محمدیوسف جبریل بیسویں صدی کےنامور عالم دین، مسلم مفکر، محقق اعظم اور سائنسی بصیرت کےحامل پہلےدانشور تھےکہ جنہوں نےجدید عہد کےدور پرفتن میں علم الکلام ، فقہءاسلامی اور تقابل ادیان کو اپنےفکروفن کا مرکز و محور بنایا۔مغربی تہذیب کی چکا چوند اور مادیت کی شعلہ فشانی کو نعرہ ءجبریل سےنیست و نابود کرنےکےلئےاسلامی بم، ایٹمی جہنم بجھانیوالا قرانی فارمولا، فلسفہءتخلیق کائنات، بیکن دجال اور علامہ اقبال ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ایٹمی جہنم، جیسی نادر و نایاب کتب اہل علم و دانش کےلئےپیش کرکےعلمی دنیا کو ورطہءحیرت میں ڈال دیا۔ یہ امر بہت کم لوگوں پر آشکاراہو گا کہ سرسید احمد خان کےبعد علامہ محمد یوسف جبریل نےپہلی دفعہ حطمہ کےمصادر و افعال اور ماخذات و منابع پرانگریزی زبان میںبیس جلدیں لکھ کر سائنسی تشریحات و توضیحات کےذریعےاہل علم طبقےکی فکری رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔ ایٹمی سائنس اور قران حکیم ان کااہم موضوع ہے۔ انہوں نےدنیا بھر کےدوسو سائنس دانوں کو خطوط کےذریعےایٹم بم اور اس کی تباہ کاریوں سےآگاہ کیا۔جن میں برٹرینڈ رسل، اینی مری شمل ،ایڈورڈ ٹیلر، اوپن ہیمر بھی شامل ہیں۔ علامہ محمدیوسف جبریل نےعقلیت پسندی کو اپنی تحریروں کےصوری اور معنوی حسن کاآلہءکار بنایا۔ آپ نےتحریک پاکستان، اسلامی تاریخ،جہاد، نظریہ ءپاکستان ، مسلم تصور قومیت، اسلام کا نظام عدل، اسلامی جمہوریت اور خلافت راشدہ،اسلامی نظام معیشت و معاشرت، عسکری نظام ، جیسےاہم موضوعات پر انتہائی بصیرت افروز فکر انگیز مضامین تحریر کئےجو ان کی وسعت علمی ،اور مدلل انداز بیان کےآئینہ دار ہیں۔ آپ کےمضامین میں سادہ اور عام فہم اسلوب ملتا ہےجوگہری فلسفیانہ سوچ، ہمہ گیر ابدیت و صداقت اور ماورائےعصر مافوق الفطرت ، مابعد الطبیعاتی مباحث سےجنم لیتا اور بیک وقت عام قاری اور صاحبان نقد و نظر کےلئےیکساں اہمیت کاحامل ہی۔
علامہ محمد یوسف جبریل کےمطبوعہ اور غیر مطبوعہ مضامین نو جلدوں میں محفوظ ہیں جن سےان کےذہنی ارتقاءاور فکری گوشوں سےبدرجہ اتم آگہی حاصل ہوتی ہی۔ مضامین جبریل روح جبریل اور دل جبریل ہیں جن میں ان کےعلمی ا ور روحانی مشن کی طرف واضح اشارےہی نہیں ملتےبلکہ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز میں ہمہ وقت رہنمائی کا سامان بھی موجود ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل ایک ایسےماہر نباض تھےکہ جنہوں نےمسلم قوم کی دکھتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھااور اس کےروحانی عوارض کا تحلیل و تجزیہ کرکےتدارک اور اصلاح احوال کی تدابیر پیش کیں۔اسلامی جمہوریہ ءپاکستان کی خاطر طویل جدوجہد کا منتہاءومقصود یہ تھا کہ وطن عزیز میں اسلامی اقدار وروایات کا فروغ ممکن بنایا جاسکی۔ نظریہ پاکستان ایک ایسی قوت ہےکہ جس کےبل بوتےپر ہم اپنےقومی وجود اور نظریاتی تشخص کو برقرار رکھ سکتےہیں۔ اکھنڈ بھارت کا نام نہاد تصور پاکستانی قوم کےلئےزہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہی۔ مغربی قومیت اسلامی تصور قومیت سےسراسر جدا ہےاور دنیابھر کےمسلمان کلمہءتوحید کی بنیاد پر جسد واحد کےطور پر ابھر کر سامنےآتےہیں۔ اسلامی جمہوریہءپاکستان میں نسلی،علاقائی اور نسانی تعصبات نےملی وحدت کو پارہ پارہ کر دیاہی۔ لہذا روشن خیال اور اعتدال پسند دانش وروں کےلئےعلامہ محمد یوسف جبریل نےنظریہءپاکستان کےثقافتی عوامل کو زور وشور اور شدومد سےپاکستانی قوم کےتحت الشعور کالازمہ بنایا تاکہ حساس اور ذہین اہل علم و دانش پاکستان کی نظریاتی اساس کو درست فکری سمت میں متعین کریں کیونکہ بعض ترقی پسند عناصر وطن عزیز کی نظریاتی اساس کو کھوکھلا کرنےمیں مصروف عمل ہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےعلامہ محمد اقبا ل اور قائد اعظم کےپاکستان کو اپنےخوابوں کی سرزمین بنایااور اس کی تعمیر وترقی کےلئےنئی نسل کےاذہان و قلوب میں حب الوطنی ، معاشرتی فلاح و بہبود، عدل وانصاف، قانون کےاحترام، مساوات انسانی، باہمی رواداری، عالم گیر محبت و اخوت، بنیادی انسانی حقوق کی آبیاری کی تاکہ ہم من حیث القوم ترقی یافتہ اقوام کےمقابلےمیں کھڑےہو سکیں۔
علامہ محمد یوسف جبریل آسمان علم و ادب کےوہ درخشاں ستارےتھےکہ جنہوں نےبیک وقت فلسفہ، نفسیات، مذہب، جدیدعلم الکلام ،اسلامی قانون، طب،شاعری اور سائنس پر تقریبا ساٹھ کےقریب کتب تحریر کیں جن میں سےابھی تک صرف چودہ زیور طباعت سےپیراستہ ہو سکی ہیں۔ آپ نےاردو،انگریزی، عربی، فارسی زبانوں میں اپنےافکار و خیالات بدرجہءکمال احاطہءتحریر میں سمو کر اپنی قادرالکلامی کابھرپور ثبوت دیا ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل کےفکر و فن کامطالعہ خصوصی اہمیت کاحامل ہےکیونکہ ان کی شاعری پر طائرانہ نظر ڈالنےسےیہ حقیقت اظہر من الشمس ہوجاتی ہےکہ وہ اپنےشعری اسلوب اور متنوع مضامین کےاعتبار سےعلامہ محمد اقبال کافکری پرتو معلوم ہوتےہیں۔ آپ کی شاعری کےفنی تجزیئےسےیہ امر بہ حسن خوبی مترشح ہوتا ہےکہ وہ علامہ محمد اقبال کےبلند آہنگ لب و لہجےکےانتہائی قریب ہیں۔علامہ محمدیوسف جبریل نےان کےفلسفہءخودی، مرد مومن، عقل و عشق، فقرواستغنائ، کو لمحہ ءموجود کےعبرت ناک ایٹمی
انجام کےتناظر میں نئی تشریح و تعبیر سےناقدین ادب کو دعوت فکر دی ہی۔
مرےگلو میں ہےاک نغمہءجبریل آشوب
سنبھال کر جسےرکھا ہےلا مکاں کےلئے
علامہ محمدیوسف جبریل ایک ایسی نابغہءروزگار علمی و ادبی شخصیت تھےکہ جو مطلعءہستی پر صدیوں بعد طلوع ہوتی ہیں۔ آپ نےطاغوتی نظام اور دجالی قوتوں کی ریشہ دوانیوں کو نیست و نابود کرنےکےلئےایک مربوط لائحہ عمل تیار کیا اورعمر بھر اسلامی انقلاب کےلئےکوشاں رہے۔ علامہ محمدیوسف جبریل ایک ایسےخلوت نشین انسان تھےجو عمر بھر شہرت اور نام و نمود سےبےنیاز عصر حاضر کو تہذیب کےنئےدرندوں سےبچانےکےلئےسرگرم عمل رہی۔ آپ کی گراں مایہ علمی و ادبی تصانیف پاکستانی قوم کےلئےسرمایہءافتخار ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان جیسےاہم اداروں کا فرض ہےکہ وہ اپنےعہد کےاس بلند پایہ مسلم سکالر فلسفی اور سائنس دان کی غیر مطبوعہ تصانیف کی اشاعت کا فی الفوربندوبست کرےتاکہ دنیائےانسانیت کو ایٹمی جہنم کےتباہ کن اثرات سےبچایا جاسکےورنہ آئندہ آنےوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریںگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمدعارف
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 52
    Part One [daily]x2lmxzj_allama-iqbal-ka-fikri-tasalsal-part-1of2-by-prof-arif-seemabi_creation[/daily] Part Two [daily]x2lmxzk_allama-iqbal-ka-fikri-tasalsal-part-2of2_school[/daily] علامہ اقبال کی شاعری ایک بلند پایہ مقام رکھنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لئے ایک عظیم شعور کا پیغام بھی رکھتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ مسلم امہ کی موجودہ حالات کے بگاڑکو سدھارنے میں ایک اہم کردار کی حامل ہے۔…
  • 48
    علامہ محمد یوسف جبریل عصرِ حاضر کی نابغہ ءروزگار علمی اور ادبی شخصیت کےطور پر ابھری۔ آپ نےقومی اخبارات و جرائد میں ایٹمی جہنم سےبچاو کی تدابیر کےلئےسینکڑوں مضامین تحریر کئی۔ اردو کےمعروف محقق اور دانش ور ڈاکٹر تصدق حسین راجا نے”علامہ محمدیوسف جبریل حیات و خدمات“ میں ان کےسوانحی…
  • 43
    علامہ محمد یوسف جبریل لمحہءموجود کےحریت پسند رہنما ، ملی شاعر، ایٹمی سائنس دان اور مفسرقران تھی۔ انہوں نےاسلامی جمہوریہ ءپاکستان کےدرو دیوار کی آرائش میں بدرجہءاتم حصہ لیا۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےوطن عزیز کی جغرافیائی اور نطریاتی سرحدوں کی حفاظت کےلئےاپنا تن من دھن قربان کر دیا۔ آپ…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply