میری یاداشتیں

025

sardarali


میں وادی سون سکیسر خوشاب کےگاوں موضع کھبیکی سےتعلق رکھتا ہوں۔ تعلق ایک چھوٹےسےزمین دار گھرانےسےہی۔ میںان پڑھ شخص ہوں، ہمارےزمانےمیں باقاعدہ سکول نہیں ہوا کرتےتھےاور ساتھ ہی تعلیم میں دلچسپی بھی نہیں ہوا کرتی تھی۔ پوری توجہ کھیتی باڑی کیطرف ہوتی تھی۔ جن دنوں میں نوجوان تھا۔ زمین داری کےشغل سےفارغ ہو کر کشتی کیطرف توجہ دیتا تھا۔ کشتی اعوانوں کا ایک پسندیدہ کھیل تھا۔ اگرچہ مجھےکشتی کےداو پیچ سےاتنی واقفیت نہ تھی۔ تاہم جنون کی حد تک شوق تھا۔ایک دفعہ جنگل سےلکڑیاں کاٹ کر لا رہا تھا ۔بہت تکلیف محسوس ہوئی تو دل میںخیال آیا کہ گاوں چھوڑ دوں اور شہر میں جا کر محنت مزدوری کروں،چنانچہ میں اور ایک میرےعزیز نےگاوں چھوڑ کر شہر میں ریلوےمیں ایک معمولی سی ملازمت حاصل کرلی۔چونکہ ان پڑھ تھےلہذا کوئی بڑی نوکری تو مل نہیںسکتی تھی البتہ سات روپےماہانہ پر چوکیداری مل گئی۔ اگرچہ وہاں پر ہمیںبہت تکلیف تھی۔ رات کو ساری رات مچھروںکا مقابلہ کرتےگذر جاتی۔ اس زمانےمیں باقاعدہ طور پر کوئی سہولت بھی میسر نہ تھی۔ چھ ماہ کےبعد میرا عزیزملیریا کی بیماری کا شکار ہو کر راہی ءملک عدم ہوا ۔ اگرچہ تکلیفات زیادہ تھیں لیکن گاوں کی زندگی سےہم لوگ بہتر تھی۔ لہذا خوش تھا۔ ایک روز سودا سلف لینےبازار گیا تو ایک فقیر کو دیکھا۔ جس نےپرانا سا چغہ پہن رکھا تھا۔ہاتھ میں سودا سلف کی چند مختصر چیزیں تھیں۔میں نےملتجی نظروں سےفقیر کو سلام کیا تو کہنےلگا کہ میں کوئی پیر فقیر نہیں ہوں گداگر ہوں۔ لیکن نہ جانےمجھےیہ کیا سوجھی کہ میں نےکہا ۔آپ میرےلئےدعا کریں ۔ باربار کےاصرار پر کہنےلگا کہ تم کیا چاہتےہو؟ میں نےالتجا کی کہ میں کشتی کا بہت شوقین ہوں۔لیکن جسمانی طورپر انتہائی کمزور ہوں اور پہلوان مجھےشکست پر شکست دےجاتےہیں لہذا مجھےدکھ ہوتا ہےمیرےلئےدعا کریں کہ مجھےکوئی شکست نہ دےسکے۔ حقیقت یہ تھی کہ میں ان دنوں بہت کمزور تھا۔ نوجوان مجھےکشتی میں گرا دیتی۔ جب فقیر نےدعا دی تو میں نےدوسرےدن کشتی لڑی تو سب نوجوانوں کو پچھاڑ دیا۔ وہ سب حیران ہو کر رہ گئےکہ کون سی قوت تم میں عود کر آئی ہےکل تک تو ہم تمہیں پچھاڑ دیا کرتےتھے۔ میں نےتمام واقعہ ان کو سنا دیا۔
جب گاوں واپس آیا تو گھر کےسامنےایک اکھاڑہ بنا لیا۔ ساتھ ہی ساتھ تجربہ بھی ہوتا گیا اور کشتی کےپیچ و تاو بھی سمجھ میں آتےگئی۔ جب میری خبر لوگوں تک پہنچی تو بہت سےنوجوان زور آزمائی کےلئےسامنےآ گئی۔ ان میںسےدو شخصیات سےمیںبہت متاثر ہوا، ایک میرےگاوں کا نوجوان محمد یوسف نہایت ہی تنومندجوان، ہاتھ کی کلائی اتنی مضبوط کہ جس کو ڈالتا ہلنےنہ دیتا جسم میں اتنی طاقت کہ دشمن کو ایک ہی وار میں پچھاڑ دیتا۔ مجھےاس نوجوان میں بہت دلچسپی پیدا ہوگئی۔ میں اکثر اس سےکشتی لڑتا مجھےمحسوس ہونےلگا کہ اس نوجوان میں صرف مادی طاقت ہی نہیں بلکہ روحانی طاقت بھی موجود ہی۔ دوسرا نوجوان محمد حنیف (نائب صوبیدار) یہ شخص زمین دار تھا لیکن انتہائی بڑےقد کاٹھ کا نوجوان اور کشتی میں بیحد مضبوط و توانا۔ غرض یہ دونوں جوان میری کشتی کا اثاثہ بن گئی۔ زندگی بہت پرلطف اوردلچسپ ہو گئی اور یوں پورےعلاقےمیں میری کشتی کےتذکرےہونےلگی۔ شومئےقسمت محمد یوسف اکثر گاوں سےنکل کر مشرق وسطیٰ چلاجاتا۔ تو میری تنہائی میں اضافہ ہو جاتا۔ محفل سونی سونی ہو جاتی۔ کیونکہ یہ شخص اگرچہ اتنا پڑھا لکھا نہیں تھا کیونکہ اس نےابتداءہی میں سکول کو خیر باد کہہ دیا لیکن ایسی ایسی عجیب و غریب باتیں سنایاکرتا کہ ہماری عقل دنگ رہ جاتی۔ اس نوجوان میں ایک عجیب خصوصیت تھی۔ رات کو اکثر آدھی آدھی رات تک میرےپاس بیٹھا رہتا اور علم و ادب کی باتیں کرتا رہتا۔ کچھ میں سمجھتا اور کچھ نہ سمجھ سکتا۔ لیکن عجیب کیف و سرور تھا اس کی باتوں میں۔ اک کڑک تھی بجلی کی طرح گرجتا ۔ ماضی کی باتیں،صحابہ کرام کی باتیں، رسول اکرم کےدور کی باتیں،انگریزوں کی زندگی کےواقعات، دین کی باتیں، اپنےآباواجداد کےقصےاور کہانیاں، تاریخ کےتذکری، سائنس کی باتیں، فلسفہ، طب ،زراعت، غرض کوئی بھی موضوع تشنہ نہ رہتا تھا۔ میں اس ےپوچھتا کہ تم نےیہ باتیں کہاں سےپڑھی ہیں جب کہ تم سکول میں نہیں پڑھ سکی۔تو خاموش ہو جاتا اور ہم اس کی بات سمجھنےسےقاصر رہ جاتی۔ میری ماں کہا کرتی تھی کہ اس نوجوان کےپاس اسیرکرنےکی کوئی طاقت ہی۔ اس کےپاس جنات ہیں کچھ ماورائی اورغیرماورائی طاقتیں ہیں۔ بات کرتا ہےتو سامع کا دل موہ لیتا ہی۔ بات بھی سچی کرتا ہےاور اس کی ہر بات جامع، مستند اور حقیقی روایات لئےہوتی ہی۔ میری ماں کہا کرتی تھی کہ یہ نوجوان بڑا ہو کر بڑا نام پیداکرےگا۔ ایک رات بہت دیرسےاٹھا میں نےاسےاپنی کلہاڑی دےدی کہ راستہ پرخطر ہےکوئی حادثہ ہوسکتا ہی۔ لہذا ما حفظ تقدم کےطور پر یہ کلہاڑی رکھ لو۔ پہلےتو نہ مانا لیکن بےحد اصرار کےبعد کلہاڑی لےلی اور چلا گیا۔ دوسرےدن جب آیا تو اس نےعجیب و غریب واقعہ سنایا اور میںاس کی ہمت اور دلیری پر دنگ رہ گیا۔ کہنےلگا کہ رات کو جب میںیہاں سےماڑی والےقبرستان کےپاس پہنچا تو سامنےدیکھا کہ ایک چڑیل ایک قبر پرنہا رہی ہی۔شاید کسی تازہ انسان کی لاش تھی۔ یہ خوفناک منظر جب میری آنکھوں کےسامنےآیاتو میںنےحواس درست کئےاور ارد گرد آبادی بھی نہ تھی۔ چڑیل نےبلند آواز سےکہا کہ میرےنزدیک مت آو میں تمہیں ختم کر دوں گی اور مجھےڈرانےکےلئےاپنےبال زور زور سےبکھیرنےشروع کئی۔ لیکن میں قطعی طور پر خوف زدہ نہ ہوااور کہا کہ میں تجھےقتل کر کےچھوڑوں گا۔ وہ چڑیل خوف زدہ ہو گئی اور جب دیکھا کہ یہ شخص مجھےقتل کر دےگا۔ تو ڈر گئی اور کہنےلگی کہ میںکوئی چڑیل نہیں ہوں میں فلاں عورت ہوں کسی نےمجھےیہ عمل کرنےکو کہا کیوں کہ میرےہاں اولاد نہیں ہی۔ کہ اگر میں کسی تازہ مردےپر نہاوں تو مجھےاولاد مل سکتی ہی۔ تاہم عورت نےمعذرت کی تومیں نےاسےمعاف کر دیا اور اسےاس عمل سےباز رہنےکو کہا۔ یوں زندگی چلتی رہی۔ وہی شب و روز وہی کھیتی باڑی ، وہی اکھاڑےمیں مقابلی، ہماری کشتیوں کےمقابلےکیبازگشت وادی سون سکیسر سےنکل کر دور دراز کےعلاقوں میں سنائی دینےلگی تو پکھڑ کےرہنےوالا عجائب خان مجھ سےکشتی لڑنےکےلئےآمادہ ہوا۔وہ اس زمانےمیں اعوان کاری میں ماناہوا پہلوان تھا اور کوئی بھی پہلوان اس کےمقابلےمیں نہیں آتا تھا۔ میرےگاوں میں جب اس کو بلایا گیا تو اس مہمان کی بہت آو بھگت کی گئی ۔ اسےمقامی سطح کی اعلیٰ ضیافت دی گئی۔ جس روز مقابلہ تھا گاوں میں خوب رونق تھی۔ دور دراز سےلوگ اس مقابلےکو دیکھنےکی غرض سےآئےتھی۔ ڈھول، شرنائیاں اور دھمالیں ڈالتےہوئےقافلے، غرض کہ ہر طرف گہما گہمی تھی۔ عجائب خان کےساتھ بہت سےلوگ اس کو داد دینےکےلئےموجود تھی۔ جب کہ میرےگاوں کےکچھ لوگ بھی اس کی حوصلہ افزائی کےلئےایڑی چوٹی کا زورلگا رہےتھی۔میں جب اکھاڑےمیںاترا تو پیر محبوب عالم نےفرمایا۔ کہ انشاءاللہ فتح تمہاری ہو گی اور تم دشمن کو شکست فاش سےہمکنار کروگی۔ میری پارٹی میں محمد یوسف اور صوبیدار محمد حنیف شامل تھےجو مجھےداو پیچ بتا رہےتھی۔ غرض مقابلہ بہت سخت ہوا ۔ لیکن تین بار میں نےاس کو چت گرادیا۔ ہر طرف سےواہ واہ اور ڈھول کی تھاپ پر رقص شروع ہو گیا۔ میرےگاوں کےنزدیک موضع کھتکہ سےآئےہوئےمہمانوں نےوہ رقص کیا کہ دنیاد دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ اس مقابلہ میں کھبیکی ، مردوال، دھدھڑ، مکڑمی سےمہمان آئےہوئےتھی۔ اس کشتی میں عجائب خان کےدونوں بازو ٹوٹ گئےاور اسےشکست فاش ہو گئی۔
انہی دنوں محمد یوسف نےاپناانداز زندگی بدل لیا۔ وہ اکثر کتابوں کےمطالعہ میںاتنا غرق ہو گیا کہ اسےدوست تو دوست اپنےخاندان والےلوگ بھی بھول گئی۔ جب کبھی وہ میرےپاس بیٹھتاتوعجیب و غریب باتیں سناتانظمیں اور غزلیں سناتا ایسی ایسی حکمت کی باتیں تخلیق کرتا تو میں سوچتا کہ عجیب بات ہےکہ یہ شخص کسی سکول میںنہیںپڑھاکسی کالج کسی یونیورسٹی میں نہیں گیا۔ کوئی اس کا استاد نہیں ہےجس کےسامنےاس نےزانوئےادب تہہ کیا ہو۔ انگریز شاعر اور مصنفین ، ڈرامہ نگار، عربی شاعروں کےقصیدی، فارسی شاعروں کی دل افروز نظمیں اور حکمت کی باتیںمسلمان حکمرانوں کی عظمت کی کہانیاں، اسلام کےمشاہیر کی دل موہ دینےوالی باتیں، غرض ہم گھنٹوں اس کی باتوں کےتحیر میں کھوئےرہتی۔ میری ماں کہا کرتی تھی کہ یہ شخص ایک عظیم انسان بنےگا۔ اسےبہت شہرت نصیب ہو گی۔ اتنا بڑاقابل آدمی روئےزمین پر پیدا نہیںہوا اور میں اپنی ماں کی باتوں میں منہمک ہو جاتا ۔ اکثر باتیں ہماری سمجھ سےبالاتر ہوتیں لیکن ہم سنتےرہتی۔ علم و ادب سےہٹ کر وہ اعوان قبیلےکےبارےمیں بھی تاریخی باتیں سنایا کرتا تھا۔ کبھی بابا گولڑا کی کبھی قطب شاہ کی باتیں ۔انہوں نےکس طرح ہندوستان میں اسلام پھیلایا۔وہ اپنےعلاقےکےبارےمیںبھی منصوبہ بندی کرتا رہتاتھا۔ وہ کہتا کہ دنیا بہت آگےجا چکی ہی۔ لیکن اعوان کاری ابھی تک اسی ڈگر پر جاری ہےلیکن پھر وہ علم و ادب کی گہرائیوں کےنیچےدب جاتا۔اس نےگاوں کےنزدیک ایک قبرستان کی خستہ حالت کو دیکھا تو اپنی جیب سےخرچہ کرکےاس قبرستان کےگردا گرد ایک بہت بڑی دیوار بنوا دی جو دیوار آج بھی موجود ہی۔ اگر وہ نہ بنوائی جاتی تو مردوں کی ہڈیاں باہر نکل نکل کر بےحرمتی کا باعث بنتیں۔ایک دن اس نےگاوں کےنزدیک سیمنٹ کا کارخانہ بنانےکا عزم کیااور چند دنوں میں دیکھتےہی دیکھتےایک کارخانہ قائم ہو گیا ۔ ساتھ ہی اینٹیں بنانےاور چونا تیار کرنےکی بھٹھی بھی لگادی اور پھر گاوں کےلوگوں کو مزدوری کا ایک بہانہ مل گیا۔اعوان کاری کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ تھا کہ ایک شخص نےاتنی بڑی قربانی دی تھی علاقےکےلوگوں کےلئےایک کارخانہ تعمیر کیا تھا۔ وہ سیمنٹ بنانےمیںکامیاب ہو گیا۔ لیکن اس کارخانہ کو مزید ترقی کےلئےسرمایہ کی ضرورت تھی۔ وہ لاہور گیا لیکن ناکام لوٹا۔حکومت نےاسےقرضہ نہ دیا جس کی وجہ سےیہ منصوبہ بھی ناکام ہو گیا ۔ لوگوں نےسمجھا کہ اب یہ شخص دل شکنی کی وجہ سےدل کےحادثےکا شکارہوجائےگا۔ لیکن اتنا بڑا حادثہ اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ گاوںکےکچھ لوگ خوش تھےاور کچھ پریشان۔ سادہ لوح لوگ اس مسئلےکی حقیقت کو نہ سمجھ سکتےتھی۔ اصل میں یہ ایک سانحہ تھا۔ لیکن قدرت کی اپنی مصلحتیں ہوتی ہیں جو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ اللہ تعالیٰ شاید اس سےکچھ کام لینا چاہتاتھا۔ یہ شخص اگر کارخانوں میںلگ جاتا تو بعد کےآنےوالےواقعات یہ بتاتےہیں کہ صرف مادی طور پر بہت ترقی کر جاتا لیکن بحیثیت سکالر اور مفسر قرآن اس کی حیثیت شہرت نہ پا سکتی تھی۔وہ ایک انڈسٹریلسٹ کےطور پر پہچانےجاتی۔ ہماری بدقسمتی اور اس کی خوش قسمتی کہ جس دن اس نےکارخانےکا کام ختم کیا دوسرےدن وہ کتابلکھنےبیٹھ گیا۔ لوگوں کےدلوں میں بڑےبڑےوسوسےتھےخدشات تھےکہ یہ شخص لاکھوں روپےکےمالی وسائل کےضیاع کےبعد پاگل ہوجائےگا مگر ان کی یہ بات خام خیالی ثابت ہوئی۔ یہ ایک یقینی امر تھا لیکن اس شخص نےاف تک نہ کی۔
زندگی کےہر میدان میںاس شخص کا دل بہت مضبوطی کا مظاہر کرتا تھا۔ وہ کہتاتھا کہ اس کا کلیجہ دو سیر کا ہےاور یہ حقیقت تھی کہ بڑی سےبڑی بلا سےٹکرانےکےبعد اسےخوف نہ آتاتھا۔ یہی خاصیت اس کی زندگی میں کا م آئی اور دوسری بڑی خاصیت اس کی قوت یاداشت تھی ۔ تفنن طبع کےلئےوہ ہمیں ملٹن کی پیراڈائز لاسٹ (جنتِ گم گشتہ ) کی طویل نظم سنایا کرتا تھا اور کچھ نہ سمجھنےکےباوجود ہم بہت کچھ سمجھ جایا کرتےتھی۔ اس کی قوت یاداشت پر حیران تھےکہ اعوان کاری کےنوجوانوں کو انگریزی کاالف بےنہیںآتا اور یہ شخص انگریز شاعروں کی کتابوں کی کتابیں ہمیں زبانی سنا جاتا ہےاور عربی شاعروں کی شاعری،عربی قصیدےاسےزبانی یاد تھی۔
محمدیوسف کا کارخانہ تباہ ہو گیا ۔ اپنوں اور غیروں کی مرضی سی۔ہرشخص اس کی ناکامی پر بحث کر رہا تھا۔ لیکن ہرگلی سےوہ شخص خاموش ہو کر گذر جاتا کسی سےکلام تک نہ کرتا اور یہ تو اس کی عادت تھی۔ کبھی کسی نےاسےگلی میں سےسر اٹھا کر چلتےنہیں دیکھا۔ وہ کسی نہ کسی سوچ میں غرق ہوتااور ادھر ادھر نہ دیکھتا ۔ علم کےبوجھ اور آنےوالےدور کےمشن نےشاید اس کی آنکھوں کو نیچا اور دماغ نےسوچنےپر مجبور کر دیا تھا۔ پھر فضا خاموش ہو گئی اور شہر میں یہ خبر گھوم گئی کہ یہ شخص قرآن پاک کی انگریزی زبان میں تفسیر لکھ رہا ہی۔ تو لوگوں کی آنکھوں میں قیافےدماغوں میں وسوسےتیز ہونا شروع ہو گئےکہ یہ شخص اتنا بڑا کام کیسےکرسکتا ہی۔ جب کہ یہ تو سکول میں بھی پڑھا تک نہیں۔اکثر لوگوںکو اس کا علم تھا کہ یہ شخص تو نویں پاس کئےبغیر سکول سےبھاگ گیا تھا اور اس کےساتھ کےدوست تو نوکریوں میں اعلیٰ اعلیٰ مقام تک پہنچ چکےتھی۔ فوج میں اعلی ملازمتیں ان کو مل چکی تھیں اور ہمارےگاوں کا یہی ماحول تو تھا کہ اگر ان میں کوئی فوج کی نوکری حاصل کر لیتا تواس کو بڑا چرچا ہوتا تھا مگر یہاں تو بات ہی الٹی تھی۔ باپ اس صدمےسےدنیا سےرخصت ہوچکا تھا۔ لیکن مجھےیہ معلوم تھا کہ یہ شخص یہ بھی بڑا مقام حاصل کر لےگا۔ اس کی زیادہ نشست ایک نوجوان پیر زادہ بہاول شیر گیلانی کےساتھ تھی۔ پہلےان کےوالد بزرگوار سےدوستی تھی ۔ بعد میں پیر زادہ سےدوستی مستحکم ہو گئی۔اگرچہ عمر میں بےحد فرق تھا۔ لیکن ذہنوںمیں ہم آہنگی تھی۔ یہ نوجوان بھی اعلی مدبرانہ ذہنیت کا مالک تھااور وراثتاََایک بہت بڑےروحانی خانوادےسےتعلق رکھتا تھا۔ ان دونوں کی دوستی آج بھی جاری و ساری ہےاور پھر شاید قیامت تک جاری رہی۔
محمدیوسف نےشاعری شروع کی تو وہ پیر زادہ بہاول شیر گیلانی کو سنایا کرتےتھی۔ لمحات بیتتےگئی۔ پیر زادہ بہاول شیر گیلانی نےان کی ابتدائی شاعری خود اپنےہاتھوں سےبہت ہی خوبصورت انداز میں ترتیب دی۔ محمد یوسف کےتعلقات لوگوں سےقطع ہوتےگئے۔ اسےگاوں میں بہت کم دیکھا جاتا۔ لوگوں نےاسےپاگل کا خطاب دےدیا۔ وہ کم کسی محفل میںبیٹھتا ۔ کم کسی سےبات کرتا ۔رات کو اسےاولیائےکرام کی قبروں پر حاضری دیتےہوئےدیکھا جاتا۔ عجیب قسم کا یہ انسان تھا۔یہ کسی سےبات نہ کرتا لیکن اس کےتذکرےہر گھر میں ہونےلگی۔ ہر گلی کےنکڑ پر کھڑےلوگ اس کےبارےہی میں سوچتےتھی۔ کیونکہ یہ شخص عجیب و غریب حرکتوں کا مالک تھا۔ اس علاقےکی تہذیب و تمدن سےہٹ کر ، اس کی سوچ ہی بالکل الگ تھلگ تھی۔ اس کااٹھنا بیٹھنا ان لوگوں سےبہت مختلف تھا۔ لیکن یہ یہیں پیدا ہوا تھا انہیں ہاتھوں میں اس نےجوانی پروان چڑھائی تھی۔ جہاں سےگذرتا ایک عجیب سوچ میں گرفتار ہوتا۔ لوگ اسےاپنےکوٹھےپر بیٹھےہوئےدیکھتےتو حیران ہوتے۔ لوگ تو بکریاں چرانےجا رہےہوتےکچھ لوگ لکڑیاں لانےجاتے۔ اس شخص کی سوچ ،سوچ کےدائری، اور دھارےعام انسانوں سےبالکل مختلف تھے۔ کتابیں پڑھنا اور کتابوں میں غرق ہو جانا کہ اسےدنیا و مافیہا کی کوئی خبر نہ تھی۔
لوگ اس سےخوفزدہ رہنےلگےاور وہ لوگوں سےکنارہ کش ہوتاگیا۔ میرےساتھ بھی ملاقاتوں کا سلسلہ بہت کم رہ گیا۔ کبھی کبھی سالہا سال کےبعد ملاقات ہوتی اور پھر ملاقات کےتذکرےہوتےرہتی۔ لوگ اس کےبارےمیں کافی مشکل میں پڑےہوئےتھے اور تذکرےبھی یوں کہ خاموش فضاءمیںگم ہو جاتی۔ کوئی شخص اس کےقریب آکر پوچھنےکی جرائت نہیں کر سکتاتھا۔ وہ کھلنڈرانوجوان جو کبھی آزاد فضاوں کا باسی تھا پابند کردیا گیا۔ نہ جانےکون سی قوت نیاسےبیڑیاں ڈال دیں۔ جس کی نہ اپنی صبح نہ اپنی شام جس کا ہر لمحہ تقدیر کےہاتھ میں تھا۔ یہ شخص غیر مرئی زنجیروں میں جکڑا گیا تھا اور لوگوں کےخوف میں اور بھی اضافہ ہو گیا تھا ۔ حالانکہ کبھی کبھی وہ عجیب و غریب حرکتیں کرتا ۔ گذرتےگذرتےہاتھوں سےباتیں کرتا۔ کسی دھڑےپر بیٹھ کر گھنٹوں بیٹھا رہتا۔ رات کی تنہائی میں پہاڑ پر چلا جاتا وہاں دور کسی شخص کی سریلی بانسری کی آواز سنتا۔ عجیب انسان تھا وہ۔
ایک روز میری ماں کو کہتا ہےکہ میں ہر روپ بدل سکتا ہوں اور ایک روز میں آپ لوگوں کےگھر میں آوں گا ۔ آپ لوگ مجھےپہچان بھی نہ سکیںگے۔ میری ماں یہ سن کر چپ ہو گئی۔
پھر ایکدن میری ماں چرغاکات رہی تھی۔ایک فقیر نےصدالگائی اور ماں نےدیکھا ایک فقیر سفیدرنگ کا چغہ پہنےہوئےہےاور جس پر کئی رنگ کےپیوند لگےہوئےہیں۔ ہاتھ میں مانگنےوالاکشکول ہےاور گلےمیںلمبی لمبی تسبیحاں۔پاوں میں پرانی خستہ حالت کی جوتی۔ ہاتھ میں لمبی سی چھڑی مضحکہ خیزشکل بنائےوارد ہوا اور خیرات کامطالبہ کرنےلگا۔ خیرات لی اور واپس چل پڑا ۔اس عجیب ہیت کذائی کو دیکھکر میری ماں کےدل میں یک دم یہ خیال آیا کہ کہیں یہ یوسف تو نہیں۔ میری ماں نےاس کےجوتوںسےاسےپہچان لیااور پکڑ کر بٹھا دیا۔ کہنےلگا کہ فقیروںکو پکڑا نہیںجاتا۔ جب میری ماںنےکہاکہ ہم تجھےپہچان چکےہیں۔ تو خاموش ہو گیا ۔ کشکول میںبہت سارےدانےاور آٹا ملاہوا تھا ۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ کئی گھروں سےخیرات لےلی تھی۔ غرض اس میں مختلف النوع کردار چھپےہوئےتھی۔ بہت دیر تک ہنستا رہا ۔ اورہمیںبھی ہنساتا رہا۔
سالہا سال گذر گئےاور زندگی اسی کشمکش میںگذرتی رہی۔ پھر زوال نےاس کو آلیا۔ ایک بہت بڑی آزمائش اس کےراستےمیں آگئی جو اسےایکطرف تباہی کےکنارےپرلےکر جارہی تھی اور دوسری طرف اس کوایک اعلیٰ مقام ملنےوالا تھا۔ قدرت کی حکمت عملی تھی۔ قدرت ہر کام اپنی مرضی سےسرانجام دیتی ہی۔ لیکن اس میںکوئی نہ کوئی اس کی مصلحت کارفرما ہوتی ہی۔ اس کےبھائی ملک محمد خان کی وفات کےبعد برادری کےچنددوستوں نےاس کےخلاف گٹھ جوڑکر لیا۔ اس کےخلاف سازشوںکا ایک طومار بنا دیاگیا۔اسےاپنےحق سےمحروم کرنےکےلئے شہر کےتمام فتنہ انگیز ذہن اس کےخلاف محاذ آرا ہو گئی۔ جھگڑا جائیداد کا بنا دیا گیالیکن ایسےشخص کو نیچا دکھانےکےلئےہرطریقہ کار اپنایا گیا۔ اپنی تمام سیاسی قوتیں صرف کر دی گئیں اس شخص کو معاشی طور پر مفلوج کر دیاگیا۔ تین برس تک وہ اس طویل کشمکش میں دوچاررہا۔ وہ ہر زخم کھاتا رہا لیکن ہر زخم کھانےکےبعد وہ پہلےسےزیادہ تنومند تھا۔ اس کےخلاف کون سا اقدام نہ کیا گیا۔ اسےجیل بھیجنےکےلئےہر جھوٹ گھڑا گیا۔ اسےڈاکو اور چور کےالزام کےتحت تھانہ میں بند کیاگیا۔ اس کےمعذور اور مریض بھائی کو جیل
بھیجا گیا۔ اس شخص کی تذلیل کےلئےہر حربہ آزما یا گیا۔ اس پر قاتلانہ حملوں کےمنصوبےبنائےگئی۔ لیکن قدرت ہر جگہ اس کا دفاع کر تی رہی۔اس کو استقامت دیتی رہی۔ حالات اگرچہ بہت دگرگوں ہو چکےتھی۔ اس کےبچوں پر قاتلانہ حملےکئےگئی۔ گویا کہ شعب ابی طالب سےگزرنا پڑ جائی۔ وہی بھوک ، وہی پیاس، وہی تنگدستی، وہی ظلم و ستم ، وہی تشدد، صرف مشن سےہٹانےکےلئےچند دوستوں کےسوا سارا شہر دشمن ہوگیا۔ ایسا معلوم ہوتاتھا کہ شہر کی گلیوں کےتنکےبھی دشمن بن گئےہیں۔ لوگ مجبو ر تھے۔ کیونکہ اگر وہ ساتھ دیتےتو تشدد کا رخ ان کیطرف مڑ جاتا۔ لیکن قدرت کی مصلحت تھی ۔ دشمن نےمالی نقصان دیا لیکن یقین، ایمان، صبر و استقامت کادرس اور گہرا ہو گیا۔
پھرایک روز اس نےفیصلہ کر لیا کہ وہ سیون ایم ایم کی بندوق سےتمام دشموں کو اڑادےگا اور اس نےسیون ایم ایم کی ایک بندوق بمعہ کارتوس خریدلی۔ اس نےکہا کہ اب وہی کردار ادا کروںگاجو محمدخان ڈھرنالی نےاداکیاتھا تو یہ باتیں سنتےہوئےاس گاوں کےجہاںدیدہ نوجوان پیر زادہ بہاول شیر گیلانی نےکہا۔کہ” چاچا! اگر تم قتل کر دو گےتو جیل چلےجاو گےتم جیل میںگل سڑ جاو گی۔ تمہاری اولاد معاشی طورپر تباہ و برباد ہوجائےگی۔تمہارےاندرکی تمام تخلیقی قوتیں ختم ہو جائیں گی۔اس سےباز آ جاو“ ۔ اس پر اس شخص نےاس نوجوان کی اس بات کو بڑےغورسےسنااور بات بھی صحیح تھی۔ ان کےمخالف گروہ کےپاس اسلحہ بھی تھا۔ اقتدار بھی تھا۔ جائیدادیں بھی تھیں۔پولیس بھی ان کےساتھ تھی ۔ محمد یوسف نےنوجوان کی فراست کی داد دیتےہوئےاپنا ارادہ ترک کر دیا اور پھر گاوں چھوڑنےکا ارادہ کر لیا۔ اس سےقبل اس پر ان گنتجھوٹےمقدمات بنی۔ جوہر آباد،سرگودھا اور راولپنڈی کی عدالتوں میں اسےذہنی اور جسمانی اذیتوں سےگزرنا پڑا۔ لیکن اسےان کڑی آزمائشوں میںگزرنےکےبعد یہ نتیجہ اخذ کرنا پڑاکہ ہمارےملک میں انصاف بکتا ہےجس کےپاس دولت ہے۔انصاف اس کی دہلیز پرآ کربولتا ہی۔ جس کےپاس دولت نہیں انصاف اس سےکوسوںدور چلاجاتا ہی۔ معاشی فلسفوں کی حقیقیت بھی اس کےسامنےکھلی۔ سماج میں ہونےوالی ناانصافیاں اسکےقلم کاموضوع بنیں۔ ملکی معیشت کو بدلنےکےلئےجوکچھ بھی اس نےبعدمیںتحریر کیا۔ وہی سارےاسباق اسےان مقدمات سےملی۔ اس کےقلم میںبیحد طاقت آ گئی۔ تحریر سخت سےسخت ہوتی گئی۔ عدالتوں کےاخراجات وہ برداشت نہ کرسکا۔ نتیجتہََ ہرفیصلہ اس کےخلاف ہوا۔ جب کہ اسکےمقابلےپر لوگ دولت مند تھی۔ ان کےپاس اتحادو اتفاق تھا،وہ دولت سےانصاف خرید رہےتھی۔یہ شخص اکیلاتھا۔ مخالفت میں جاگیردار تھی۔ پولیس بھی جاگیرداروں کےماتحت ہوتی ہے۔ شہر کےچند لوگ جن میں پیرزادہ بہاول شیر گیلانی، اللہ داد برکھا، ملک لال خان بزال، ملک امیر الوال، نور احمد مسلی اور ملک فضل محمود ایڈوکیٹ اس شخص کیساتھ تھی۔ وہ بسر و چشم، مالی اور جانی طورپر اس شخص کی حمایت کر رہےتھی۔ شہر کا شہر خاموش، تماشائی بنارہا۔جومددکرناچاہتےتھےوہ بھی مجبور تھی۔ کیونکہ طاقت کا مقابلہ کمزور کیسےکر سکتےتھی۔ جومددکررہےتھےوہ بھی نظر کےسامنےتھی۔ ان پر بھی بیحددباو تھا۔ محمدیوسف نےاپنی تمام جائیدادفروخت کر دی۔ کیونکہ اخراجات ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکےتھی۔ اس مشکل مرحلےمیں وہ کہتےتھےکہ میں کھبکی کی منڈل(مڈل)پاس کر رہاہوں۔جو شخص کھبیکی کی منڈل پاس نہیںکر سکتاوہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ مقصدیہ تھا کہ گاوں کی سیاست سمجھنا زندگی میں کامیابی کےلئےضروری ہی۔ تاہم تحقیقی کام کو بہت نقصان پہنچااورپھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ اس نےہجرت کی ٹھان لی۔ وہ شخص ہمیں اداس کر گیا۔ اتنا سنا کہ لاہور چلا گیا ہےاور وہاں پر کوئی نوکری کر لی ہےاور پھر مجھ سےکوئی
ملاقات نہ ہو سکی۔ اس دوران میرےجوان سال بیٹےنوبت علی کی وفات نےمجھےبالکل نیم پاگل بنادیا اور میں اس کی قبر پر بیٹھ کر دھاڑیں مارا کرتاتھا ۔ میری عمر بھی ڈھل رہی تھی۔ بچےجوان ہو کر برسرروزگار ہوچکےتھی۔ دولت کےڈھیر لگ گئےتھے۔ غربت کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا ۔دل بےحدافسردہ اوربےسکون ہوگیا تھا۔کیونکہ دوستوں کی قربت حاصل نہیںہوتی تھی۔ محمدیوسف کا شہر چھوڑجانا اورلاہورمیںجاکر بسنامیرےلئےاور چند اور دوستوںکےلئےکافی پریشان کن تھا۔ کیونکہ وہ ایک عظیم انسان تھا۔ وہ ہمدرد ، مخلص ، سچا ، کھرا، ،نڈر ،دردمند،انسان تھا۔ گاوںکےلوگوں کو پسند نہ آیاتو وہ ایک عظیم دولت سےمحروم ہو گئی۔ بعدمیں تو سب لوگ کہنےلگےکہ ہم نےاس شخص سےاچھا سلوک نہیںکیا۔ وہ کسی سےزیادتی نہیںکرتا تھا۔ اس میں مومن کی تمام خصوصیات موجود تھیں۔ پھر ایک د ن میرا ابیٹا ان کی چھپی ہوئی ایک کتاب لیکر آیا۔ جس میںوہ تمام نظمیںموجودتھیں۔ جو وہ ہمیں سنایا کرتا تھا۔ میں نےکتاب کو آنکھوںسےلگایا۔ اور پھر مجھےدوستوں کی محفلیں،دشمنوں کی رقابتیں، اپنوں کی ناانصافیاں یاد آ گئیں ۔ آنکھوں سےآنسو نکل آئےاورپھر مجھےمعلوم ہوا کہ اس کےمضامین پاکستان کےاخبارات و رسائل میں دھڑادھڑ چھپ رہےہیں۔ سنا کہ امریکہ اور برطانیہ کےچند رسالوں میں بھی اس کی باتیں چھپی ہیں۔یہ بھی سنا ہےکہ وہ لاہور سےواہ کینٹ میں منتقل ہو گیا ہےاور اس کےبچوں نےمختلف محکموںمیں نوکریاںکرناشروع کر دی ہیں۔اس کےبچےقابل اور نہایت ہر دلعزیزہیں۔ پھر میں نےسنا کہ اس نےوادی سون سکیسر کی تعمیر و ترقی میںجنرل ضیاءالحق صاحب سےملاقاتیں بھی کی ہیں۔ اس کی زیرسرپرستی ایک تنظیم بنا دی گئی ہی۔ جس کامقصد خوشاب ضلع کی فلاح و بہبودکرناہےیہاںسےجہالت ختم کرنا ہی۔ بچوںکومعیاری تعلیم دلانےکےلئے اعلی قسم کےسکول اور کالج بنوانےہیں۔ سڑکیں بنوانی ہیں۔ان کےلئےہسپتال بنوانےہیںاور پھر اس سلسلےمیں باقاعدہ جدوجہدکاآغازہوگیا ۔ ہم نی اسکےساتھ ظالمانہ سلوک کیا تھاوہ چاہتا تو ہمیں بھول جاتا۔ ہم نےاسےکون سی اذیت نہیں دی تھی۔ ہم نےاسےگاوں بدر ہونےپر مجبورکر دیاتھا۔ ہم نےاسےشکست دینےکی ہرممکن کوشش کی تھی۔ ہم نےاسکےخاندان کوتباہی سےہمکنار کرنےکےلئےہرحربہ اور ہر طریقہ استعمال کیا تھا۔ ہم نےاسےہر اذیت سےگذارا تھا۔ مگر اس نےیہ سب اذیتیں بھلادی تھیں۔ اس نےتمام ظلم اور دشمنیاںبھلادی تھیں۔ہم نےاس کی تقدیر ڈبونےکی ہرممکنکوشش کی مگر اس نےاس کےبدلےمیں ہماری تقدیر کو بدلنےکی ہر ممکنہ حد تک کوشش کی اور پھر ہم نےسنا کہ اعوان کاری سےایک اور شخص بھی اٹھاہی۔ جسےکرم بخش اعوان کہتےہیں وہ مجلس شوری کا ممبر بھی ہےاور اس نےمردہ قوم میں نئی روح پھونک دی ہی۔اسکےکرم کا احاطہ وادی سون سکیسر کےگاوںپدھڑاڑ سےشروع ہوا اور ملک کےکونےکونےمیں پھیل گیا ۔ مجھے یہ بھی پتہ لگا کہ محمد یوسف (اب علامہ یوسف جبریل) نےوادی سون سکیسر کی ترقی کےلئےحاجی کرم بخش اعوان صاحب سےکئی طویل ملاقاتیں کی ہیں۔دونوں کامشن ایک ہی ہی۔ یہ چیزیں میری خوشی میں اضافہ کا باعث بنیں۔ اب اسےمحمدیوسف کےنام سےکوئی نہیںپہچانتا بلکہ اخباروالےاسےنہایت احترام و ادب سےعلامہ محمد یوسف جبریل کےنام سےجانتےہیں۔ اب وہ گاوں کاگھبروپہلوان بھی نہیں۔اب لوگوں کےتصورات بھی بدل چکےہیں۔ لوگوں کےذہنوں میںشعور آچکاہے۔بھلاایسی شخصیات کوہم کیسےبھول سکتےہیں اورپھر مجھےیاد ہےکہ ہم نےحاجی کرم بخش اعوان کواپنےگاوں آنےکی دعوت دی۔میںنےاسےدیکھا تو تصورات حقیقت میںبدل گئی۔ میں علامہ یوسف جبریل کی شخصیت سےمتاثر تھا۔ جب کرم بخش اعوان
کودیکھا تو میری خوشی کی انتہاءنہ رہی۔ میں نےاس کی باتیں سنیں پھر جب انہوں نےالیکشن لڑا تو میںنےاپنی سرتوڑ کوشش کی کہ ایسےلوگ آگےآنےچاہیئں اور پھر میں نےسنا کہ بلوچستان سندھ پنجاب اور سرحدمیںحاجی کرم بخش اعوان نےتنظیم الاعوان کےنام سےایک بہت بڑی تنظیم کی تشکیل کی ہےاور اعوان قوم کو اعلی ٰ سےاعلی ٰ مقام دلانےمیں اس نےاپنی زندگی وقف کر دی ہی۔ انسانیت کےلئےاپنی قربانی دینےوالا یہ دوسرا شخص میری نظر سےگذرا۔ اعوان قوم میںبڑےبڑےہیرےموجودہیں۔پھر ایک بارمیری ملاقات علامہ صاحب سےہوئی۔ بےشمار باتوںکےعلاوہ سیاسی سطح پر بھی ان کےخیالات سےاستفادہ کیا۔ تو فرمانےلگےبرادرم! اس وقت ہماری قوم اعوان کےلئےجس شخص کی خدمات ہمیشہ یادگار رہیںگی وہ حاجی کرم بخش اعوان ہیں۔یہ شخص اعوان قبیلےکا سرخیل ہےاورقوم بھی اسےبہت بڑا معززمقام دےگی۔ میں نےحاجی کرم بخش اعوان کےساتھ مل کر اعوان قوم کےلئےبھی خدمات کا ارادہ کیاہےاور راولپنڈی میں ہم نےبارہا حاجی صاحب کواپنی تنظیم میں دعوت دی ہے۔ ان میں جناب ڈاکٹر ظہور احمداظہر، جناب چیف جسٹس غلام علی اعوان، جناب عبدالقادر حسن،دن رات علاقےکی ترقی میں کوشاں ہیں۔حاجی کرم بخش اعوان نےقوم کوایک بہت بڑا پلیٹ فارم دیا ہےاور اعوان قوم کےمشاہیر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر قوم و ملک کی خدمت کررہےہیں۔پھر علامہ صاحب رخصت ہو کرواہ چھاونی چلےگئی۔ یہ حقیقت ہےکہ اعوانوں کی تعمیر و ترقی اور یکجہتی میںحاجی کرم بخش اوران کا نام ہمیشہ زندہ و تابندہ رہےگا۔وہ اعوان برادری کےلئےمخلص،محب وطن،اور باصلاحیت انسان تھی۔ علاقاتی ترقی کی بات ہو یا قوم اعوان کی فلاح و بہبود کا تذکرہ ہو۔ حاجی صاحب کانام ہمیشہ یادگاررہےگا۔ ایسےمخلص انسان صدیوںمیں پیداہوتےہیں ۔ حاجی صاحب اپنےعلاقےکےعوام سےحددرجہ انس اور محبت رکھتےتھی۔ انہوں نےقوم کو خود آگاہی سےآگاہی دلائی۔ حقیقت یہ ہےکہ انہیں اپنی برادری سے عشق والہانہ تھا اور یہی چیزان کو ہمیشہ ہمیشہ کےلئےزندہ جاوید کر گئی۔ دعا ہےکہ دوسرےمشاہیر بھی قوم و ملت کی خدمت اسی طرح کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سردار علی بلقیال
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly, PDF & Email

Download Attachments

  • pdf Meri Yadashtain
    Meri Yadashtain by Sardar Ali Bulqial
    File size: 619 KB Downloads: 45

Related Posts

  • 42
    وادی سون کی معروف روحانی شخصیات کا تذکرہ تحریر ملک محمد شیر اعوان وساوال ۔ کہتےہیں کہ قدرت جب کسی سےکوئی مخصوص کام لینا چاہتی ہی۔ تو اس کام کےلئےاسی قوم میںسےمخصوص افراد کو چن لیتی ہی۔ جو اس کام کی انجام دہی میں شب و روز ایک کر دیتےہیں۔…
  • 34
      علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں…
  • 32
    علامہ یوسف جبریل مدھوال اعوان مشاہیر سون  صفحہ نمبر 139 تحریر : شاہ دل اعوان علامہ محمد یوسف کی پیدائش ٧١ فروری ٧١٩١ ءمیں کھبیکی میں ہوئی۔ آپ بےمثال یاداشت کےمالک تھی۔ تاہم ایسی یاداشت اور ایسےحافظےکےباوجود علامہ نےسکول چھوڑ دیا۔ یہ صدمہ والد کےلئےجانکاہ ثابت ہوا۔ مگر اسےکیا خبر…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “میری یاداشتیں

  1. کھبکی۔۔۔۔تحریر ملک خدابخش مسافر اعوان
    موضع کھبکی وادی سون سکیسر کے دیہاتوں میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے یہ موضع سون سکیسر کے مشہور قصبہ نوشہرہ سے سڑک کے راستے سات میل شمال مشرق کو واقع ہے۔ (کھبکی سے نوشہرہ کو پیدل راستہ براستہ اچھالہ (اوچھالہ) چار یا پانچ میل ہے ) کھبکی بذریعہ سڑک مغرب کو نوشہرہ اور خوشاب سے ملا ہوا ہے اور مشرق کی طرف جابہ، پیل، چکوال، کٹھہ، راولپنڈی وغیرہ سے ، یہاں کی جھیل مشہور ہے۔قطب شاہ کی پانچویں پشت میں ایک شخصیت مدھو ہوا ہے جس نے کھبکی گاؤں کی بنیاد رکھی تھی۔ زمانے کے ساتھ ساتھ کھبکی کا محل وقوع بھی تبدیل ہوتا رہا ۔ جس جگہ اب کھبکی آباد ہے یہ اس کی تیسری یا چوتھی منتقلی ہے۔ پرانی کھبکی کے آثار شمال کیطرف ’’ الھوڑہ‘‘ اور جنوب کی طرف سوڈھی والے راستے کے آس پاس موجود ہیں۔ موجودہ کھبکی کی جگہہ کبھی ’’ حرملوں والی چاہڑی‘‘ کے نام سے مشہور تھی کیونکہ یہاں کافی تعداد میں حرمل اگتے تھے۔ کھبکی جس وادی میں واقعہ ہے اس کے شمال اور جنوب کی طرف شرقا غربا پہاڑیاں پھیلی ہوئی ہیں یہ وادی شرقا غربا تقریبا آٹھ میل لمبی اور جنوبا شمال ڈیڑھ میل اوسطا چوڑی ہے۔ کھبکی اس وادی کے عین وسط میں آباد ہے۔ شمال کی طرف بڑی وسیع و عریض سطح مرتفع پھیلی ہوئی ہے جسے ’’ پچون ‘‘ کہتے ہیں۔ اس میں تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر ڈھوکیں آباد ہیں۔ یہ ڈھوکیں اور پچون کی مزروعہ زمینیں سب کھبکی والوں کی ہیں۔ کھبکی کی حدود مغرب میں مردوال تک اور مشرق میں جابہ تک جاپہنچتی ہیں۔ اسی طرح شمال میں تھوہامحرم خان اور چینچی (ضلع کیمبل پور) اور جنوب میں سوڈھی کی حدود سے جاملتی ہیں۔ پچون کے مشرق اور شمال کی طرف مختلف پہاڑیاں پھیلی ہوئی ہیں جومحکمہ زراعت کی زیر نگرانی ہیں مقامی بولی میں ان جنگلات کو کھدر کہتے ہیں کھدر کے خاتمہ پر شمال کی طرف ضلع کیمبل پور شروع ہو جاتا ہے کھبکی سے پانچ میل شمال کو جائیں تو ضلع کیمبل پور کی حد ملتی ہے۔ کھبکی سے اٹھارہ میل مشرق کو جائیں تو ضلع جہلم کی حد ملتی ہے کھبکی سے دس میل مغر ب کو جائیں توضلع میانوالی کی حد ملتی ہے۔ کھبکی سے جنوب کی طرف بیالیس میل پختہ سڑک اور تیس میل براستہ پیدل راہ خوشاب ہے۔ قطب شاہ کی تیرھویں پشت میں جھام ہواہے جس کے متعلق ایک روایت مشہور ہے کہ جھام بہت چھوٹی عمر میں باتیں کرنے لگا تھا ۔اس کی ماں اس قدر خوفزدہ ہوئی کہ اسے کھدر (جنگل) میں برسر راہ ایک ڈھبی(پہاڑی) پر ڈال دیا۔ کسی راہگیر کی نظر جھام پر پڑی اس نے اسے اٹھا لیا ۔چھ سات ماہ کے بچے نے جب اسے اپنے والدین اور گھر کا پتہ بتایاتو راہگیر نے بھی خوفزدہ ہو کر اسے وہیں رکھ دیا۔ لیکن راہگیر نے اتنا کام کیا کہ جھام کے باپ نڈھا کو اطلاع کر دی ۔نڈھا خود جا کر بچے کو گھر اٹھالایا اور گھر پہنچ کر بچے نے مسکرا کر یہ ضرب المثل کہی ۔ جو آج تک زبان زد و عام ہے۔ ’’آپنیاں کھڑمتیں جھام ڈھبیاں اتے سٹیندا‘‘ یعنی اپنی غلطیوں کے باعث جھام پہاڑیوں پر پھینکا گیا۔ اپنی غلطی یہ تھی کہ جھام شیر خوارگی میں ہی باتیں کرنے لگ گیا تھا۔ اسی دن سے اس پہاڑی کا نام ’’ جھامے والی پہاڑی‘‘ پڑ گیا۔
    جھامے والی ڈھبی سے مشرق کی طرف ایک اور پہاڑی ہے جو موروثی والا کے نام سے مشہور ہے۔ اس پہاڑی پر موروثی کی قبر آج تک موجود ہے۔ موروثی قطب شاہ کی سترھیوں پشت پر ہوا ہے۔ اہالیان کھبکی اس کی قبر کو احتراما لیپ پوت رکھتے ہیں۔ قطب شاہ کی تیئسویں پشت میں خان بلاقی اور دریا خان دو بھائی تھے ۔خان بلاقی صاحب اقتدار سخت مزاج اور زمانہ ساز آدمی تھا ۔ اس کے برعکس دریا خان نرم دل،سادہ لوح اور عبادت گذار انسان تھا۔ خان بلاقی دریا خان کی سادہ لوحی اور بے نیازی سے بہت چڑتاتھا اور اسے تحقیر آمیز نظروں سے دیکھتا تھا۔
    سردیوں کی ایک رات کا پچھلا پہر تھا ۔ خان بلاقی تہجد پڑھنے کے لئے مسجد میں گیا ۔مسجد کے ایک گوشے میں اس نے ایک کمبل پوش کو مصروف عباد ت دیکھا حیران ہوا کہ اس قدر سردی میں اس وقت عبادت کرنے والا کون ہوسکتا ہے۔ کمبل پوش نے سلام پھیرا تو خان بلاقی نے پوچھا۔ کون ہو تم؟ دریا خان منہ سے کچھ نہ بولا۔چہرے سے کمبل ہٹا کر اپنے بھائی کی طرف دیکھا ۔ خدا جانے اس نگاہ میں کون سا راز پوشیدہ تھا کہ بے اختیار بلاقی خان کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے۔’’ تم عظیم ہو دریا خان! میں ہی غلطی پر تھا‘‘ ۔اس دن سے خان بلاقی دریا خان کی عظمت کا معترف ہو گیا اور اسے عزت و توقیر کی نظروں سے دیکھنے لگا۔www.oqasa.or
    Back to Conversion Tool

    Linux VPS | Dedicated Servers | Urdu Home

Leave a Reply