آئینہ ء وقت ملی اور قومی دردمندی سے عبارت ہے تحریرپروفیسر احسان اکبر

038

ahsanakbar


عنائیت اللہ صاحب ان مقربان خاص میں سے ہیں۔ جنہیں جناب واصف علی واصف صاحب جیسے درویش طبع دانشور کی خدمت میں رہنے کا شرف انتہائی ابتدائی زمانہ سے نصیب رہا ہے۔ سرکاری ملازمت کی مصروفیات کے باوجود انہوں نے اپنے رفیق خاص کی خدمت میں اپنے وقت اور وسائل دونوں کا نذرانہ دیا ہے۔اور مسلسل دیا ہے۔ مگر جناب واصف علی واصف صاحب کے رخصت ہو جانے کے بعد نہ انہوں نے جناب واصف علی واصف مرحوم صاحب سے اپنے مراسم خصوصی اور نیاز دیرینہ کا چرچا کیا۔ نہ ان کی جان نشینی کے لئے اپنے نام کو اچھالنے کی اجازت دی۔ یہ سچے فقیروں کا شیوہ ہوتا ہے۔ کہ وہ صرف صدق کی یافت کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ مفاد کی یافت ان کا مقصد کبھی نہیں ہوتا۔
ملی اور قومی دردمندی کے جس رشتے نے انہیں جناب واصف علی واصف صاحب سے جوڑے رکھا تھا ۔ اسی نے انہیں ملکی،سیاسی ، اور معاشرتی احوال کی زبوں حالی کی اصلاح پر راغب کیا ہے۔ زیر نظر تحریر ’’آئینہ وقت‘‘ ان کی اسی ملی اور قومی دردمندی سے عبارت ہے۔ انہیں اس پرحیرت ہوتی ہے۔ کہ احوال کی اصلاح کے لئے جواقدام ضروری ہیں۔ وہ بہت واضح ہونے کے باوجود ارباب اختیار کی نظر سے ہمیشہ اوجھل کیوں رہے ہیں۔ اور ارباب اختیار عوامی احساسات سے اتنے بے تعلق کیسے رہ لیتے ہیں۔ اصلاح احوال ملکی کے لئے مصنف کی سیدھی سیدھی باتیں ایک دل مخلص و دردمند کی قدرتی تڑپ کی صورت میں آپ کے روبرو ہیں۔ اصلاح کا آرزو مند یہ دل شریعت محمدی کے فوری نفاذ اور مکمل احتساب کا طالب ہے۔ بے لاگ اور غیر جانبدار احتساب کلی جس کے بغیر عنائیت اللہ صاحب اصلاح کے روبہ عمل آنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اور جس کے نفاذ میں تاخیر کو بھی ملت اسلامیہ اور پاکستانی قوم کے لئے باعث نقصان سمجھتے ہیں۔ آپ دیانتداری کے ساتھ ان سے اختلاف ضرور کر سکتے ہیں۔ مگر ان کی دردمندی پر حرف نہیں رکھ سکتے۔ خدا اس دردمند لے کو دلنواز بھی بنائے اور دلنشیں بھی۔

اللھم زد فزد
دعا گو
((پروفیسر احسان اکبر))

 


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 52
    محترم عنائیت اللہ صاحب کا ۔’’ آئینہ وقت‘‘ میرے سامنے ہے۔ میں نے جب اس کااحتساب دیکھا۔ تو میں یکدم چونگا۔ محترم عنائیت اللہ صاحب سے تعلق آج سے اکتالیس سال پہلے قائم ہوا۔ اور وہ تعلق آج تک قائم ہے۔ اس تعلق کی وجہ برادرم محترم قبلہ واصف علی…
  • 49
    عالمِ اسلام کے لئے جمہوریت ایکاہم مسئلہ ہے۔ جسے کبھی لطافت اور کبھی دل کی کسک کے ساتھ سو چا گیا ۔ اور کبھی جمہوریت کو بانسری کا الم نامہ بنا کر پیش کیا گیا اوریوں جمہوریت مسلمانوں کے لئے حقیقت، عرفان ، روحانی رموز و حقیقت کاروپ دھا ر…
  • 46
    یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔ حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply