مجھے ہے حکم اذاں تحریر ڈاکٹر تصدق حسین راجا

044

tassadaqraja کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ ۔۔جب آئینہ وقت کی اشاعت نے محبان ملک وملت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔۔ یہ ایک کتابچہ تھا ۔۔۔ کم و بیش سو صفحات پر مشتمل ۔۔۔جس میں مصنف نے پاکستان کی ۵۲ سالہ تاریخ کی کتاب کو ورق ورق کھول کر اپنے قاری کے سامنے یوں رکھ دیا تھا ۔۔۔کہ اس کی ایک ایک سطر ، ایک ایک لفظ نہ صرف اس کی نظروں کے سامنے آئے ۔۔۔ بلکہ اسے اس غفلت و کوتاہی کا احساس بھی دلائے ۔۔جس کا مرتکب وہ بھی ہوا تھا ۔۔۔۔ اور اب چند ہی ماہ گزرنے کے بعد عنایت اللہ صاحب صدائے وقت کے ساتھ ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔۔۔ اس بار یہ کتاب تقریبا تین سو صفحات پر مشتمل ہے ۔۔۔میں اسے آئینہ وقت کا تفصیلی ایڈیشن سمجھتا ہوں۔۔ جس میں کل سات ابواب ہیں ۔۔ہر باب اپنے اندر ایک خاص موضوع پر ساری تفصیلات سمیٹے ہوئے ہے ۔۔ان موضوعات میں جمہوریت، کسان، مروجہ تعلیمی نظام، علمائے دین اور مشائخ کرام ، عدلیہ، انتظامیہ، اور طلباء کے معاملات شامل ہیں ۔۔ ۔پوری کتاب میں تخاطب اور تکلم کا اسلوب اپنایا گیا ہے ۔۔۔قدم قدم پر قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے۔۔ جیسے صدائے وقت اس کے مطالعے کے لئے نہیں لکھی گئی ۔۔ بلکہ اسے تو مصنف نے اپنے سامنے ایک جم غفیر میں لا بٹھایا ہے ۔۔۔جہاں وہ اس سے محو گفتگو ہے ۔۔۔اس انداز تخاطب و تکلم میں مصنف اپنے سامنے موجود لوگوں سے سوال بھی کرتا جا تا ہے ۔ اور جوابات بھی کبھی ان سے کبھی خود سے پیش کرتا جاتا ہے ۔۔۔اسلوب اور طرز تحریر آئینہ وقت سے مختلف نہیں ۔۔عنایت اللہ صاحب کسی منجھے ہوئے ادیب کی طرح لفظوں سے کھیلتے نہیں ہیں ۔۔۔اس لئے کہ وہ لکھاری ضرور ہیں مگر اپنے اصطلا حی معنوں میں ادیب ہرگز نہیں ہیں۔۔ شائید اسی لئے انہیں یہ بھی پسند نہ ہو گا ۔۔کہ صدائے وقتکو ادب پارہ سمجھ کر پڑھا جائے ۔۔۔ یہ ادبی کتاب نہیں ہے ۔۔یہ تو ۔ ۔۔۔ ’’ صور اسرافیل‘‘ ہے ۔۔۔غلط مروجہ نظام کے خلاف ! یہ تو خواب غفلت سے جگانے کا بگل ہے ۔۔۔۔یہ تو ایک طویل فہرست ہے حکمرانوں ، علمائے دین اور مشائخ کرام کی ان کوتاہیوں کی جن سے نہ صرف اس مملکت خدا د اد پاکستان کی جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں ۔۔۔ بلکہ دین اسلام کی اصل روح تک چھپ گئی ہے ۔۔۔ جو ملک پاکستان کا مطلب کیا ’’ لا الہ الا اللّٰہ ‘‘ کے نعرے سے وجود میں آیا تھا ۔۔۔ وہاں اللہ کے دین کو حصول اقتدار کا ذریعہ بنا کر پھر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کو اس مغربی جمہوری نظا م کے شکنجے میں جکڑ دیا ہے ۔۔۔ جہاں وہ پاکستان دور دور تک کہیں نظر نہیں آتا ۔۔۔ جسے ایک نظریاتی مملکت کے طور پر آزاد کرایا گیا تھا ۔۔۔جسے دنیا بھر میں اسلام کا قلعہ بن کر قائم رہنا تھا ۔۔۔ جس کے بارے میں ایک مرد درویش نے فرمایا ہے ۔۔۔ کہ ’’ ایک وقت آئے گا جب پوری دنیا کے معاملات کے فیصلے پاکستان میں ہوا کریںگے ‘‘ ۔۔۔ اللہ کے ماننے والوں کو اس وقت کس قدر دکھ ہوتا ہے ۔۔۔جب وہ مغربی ذرائع ابلاغ پر یہ جملہ سنتے ہیں ۔۔۔کہ ’’ اسلام تو دنیا کا سب سے اچھا مذہب ہے ۔۔۔لیکن اس کے ماننے والے سب سے برے انسان ہیں ‘‘ ۔۔۔ مسلمان اپنے دین، اپنے پروردگار اور اپنے رسول اکرم ﷺ کے لئے بدنامی کا باعث کیوں بنے ؟ اس لئے کہ انہوں نے قران حکیم کا ساتھ چھوڑ دیا ۔۔۔انہوں نے اللہ اوراس کے رسولﷺ کا دامن چھوڑ دیا ۔۔۔انہوں نے اسلام کو دنیا اور دنیا کی آسائشوں کے حصول کے لئے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔۔۔ وہ کسی نام نہاد اسلامی جماعت سے منسلک ہوتے ہیں ۔۔۔تو دنیاوی فائدے کے لئے ۔۔۔وہ کسی پیر فقیر کے آستانے پر آتے ہیں ۔۔۔تو اپنی اصلاح کے لئے نہیں‘ کسی روحانی غذا کے حصول کے لئے نہیں ۔۔۔بلکہ دنیاوی منفعتوں کے لئے ۔۔۔ملازمت میں ترقی کے لئے ۔۔بڑے عہدے کے حصول کے لئے۔۔۔ دولت دنیا میں اضافے کے لئے ۔۔۔یہی وہ باتیں ہیں ۔۔۔جنہیں عنایت اللہ صاحب نے صدائے وقت کا موضوع بنایا ہے ۔
سول سروس کا ڈھانچہ کیا کیا گل کھلاتا ہے ۔۔۔افسرشاہی ،ذاتی مال و دولت اور جائیدادوں کے بنانے میں ملک کی سلامتی اور استحکام کو کس طرح داؤ پر لگاتی ہے ۔۔۔ عدلیہ جیسا معتبر ادارہ کیسے اپنا تقدس اور اعتبار کھو چکا ہے ۔۔۔بے شمار مشائخ کرام کے ہاں سے رشد و ہدائت کی جگہ دنیاوی جاہ و حشمت کی تقسیم کس طرح ہوتی ہے ۔۔۔ اس سے دین کی فلک بوس عمارت میں کہاں کہاں دراڑیں پڑتی ہیں ۔۔۔صدائے وقت کے مصنف نے اس ساری صورت حال کا بے باک تجزیہ پیش کیا ہے ۔۔۔اور بلاشبہ ان موضوعات پر قلم اٹھایا ہے ۔۔۔جن پر اظہار خیال کرنا بڑے دل گردے کا کام تھا۔۔۔
وطن عزیز میں رائج نظام تعلیم پر گفتگو کرتے ہوئے جہاں مصنف نے اس نظام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشان دہی کی ہے ۔۔ وہاں یکساں نظام تعلیم اورایک جیسے تعلیمی اداروں کے قیام پر زور دیا ہے ۔۔۔راقم کا تعلق بھی چونکہ درس و تدریس سے رہا ہے ۔۔اس لئے یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے ۔۔کہ پوری قوم کے لئے یکساں نظام تعلیم اور ایک جیسی درسگاہوں کے قیام سے تو ایک ایسا انقلاب آئے گا ۔۔جس میں بے شمار خرابیوں کی اصلاح خود بخود ہو جائے گی۔۔۔
نظام تعلیم بدلنے کے ساتھ ہی سول سروس کا ڈھانچہ تبدیل ہو جائے گا۔۔۔ یہ ڈھانچہ تبدیل ہوا ۔۔تو انتظامیہ اور عدلیہ میں ذہین اورلائق نوجوانوں کے ساتھ ساتھ دین سے لیس ایسے نوجوان آئیں گے ۔۔۔جو ایماندار ، محب وطن اور متقی و پرہیزگار ہوں گے ۔۔۔پھر پبلک سروس کمیشن کو اپنا طریقہ انتخاب بھی لازما تبدیل کرنا ہو گا ۔۔اب کوئی مقابلے کا امتحان پاس کرنے والا صرف فر فر انگریزی بولنے اور لکھنے کی بنیاد پر کسی اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں ہو گا ۔۔ نہ کسی نمازی و پرہیزگار کو اس کی پرہیز گاری اور دین سے محبت کی بنا ء پر پولیس سروس کے لئے نااہل قرار دیا جائے گا ۔
صدائے وقت کے مصنف نے کتاب کے سات ابواب میں مختلف موضوعات پر بحث کی ہے ۔۔اور ایک بات کا ذکر کم و بیش ہر باب میں آیا ہے ۔۔ وہ ہے حکومتی سطح پر ہمارے سرکاری اخراجات ۔۔۔اور ان کی تفصیل کا ذکر ۔۔گریڈ ایک تا گریڈ ۲۲ کی تنخواہوں کے تفاوت کا ذکر آیا ہے ۔۔سرکاری گاڑیوں اور پٹرول کے خرچ کا ذکر ہوا ہے ۔۔اور ان مراعات کی تفصیل دی گئی ہے ۔۔ جو صرف اور صرف بڑے افسروں کو حاصل ہیں ۔۔۔جو دین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں ۔ ان اخراجات میں کمی ، سادگی اپنانے سے آئے گی ۔۔۔ مگر یہ سادگی کون لائے گا ؟ چیف ایگزیکٹو صاحب کا کیا خیال ہے ؟ ۔۔۔جو کچھ ابھی تک اس ضمن میں ہوا ۔۔۔کیا وہ ان کی نظر میں کافی ہےَ؟
ہمارے دیہات اور ان میں بسنے والے ہم وطن آزادی کے ۵۳ برس گذر جانے کے باوجود آج بھی پینے کے پانی ، تعلیمی اور علاج معالجے کی سہولتوں سے محروم چلے آ رہے ہیں۔۔ صدائے وقت کے مصنف کے خیال میں جب تک اس اکثریتی آبادی والے خطہ پاکستان کو ترقی نہیں دی جائے گی ۔۔۔ ملک مجموعی طور پر ترقی نہیں کرسکتا ۔۔۔دیہات میں بسنے والی آبادی پاکستان کی ترقی و تعمیر میں بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتی ہے ۔۔۔اصولا تو ان لوگوں کی فلاح و بہبود کے زیادہ انتظامات کئے جانے چاہیں تھے ۔۔مگر عملا ہوا اس کے برعکس ہے۔۔۔
صدائے وقت کے مصنف کی نگاہ پورے عالم اسلام پر ہے ۔۔۔وہ صرف ایک پاکستان کے لئے فکر مند نہیں ۔۔وہ پوری اسلامی دنیا کے لئے فکر مند ہے ۔۔۔وہ اتحاد امت مسلمہ کے لئے تمام اسلامی ممالک کے ایک بلاک کی تشکیل کا خواہاں ہے ۔۔۔اس کی نظر میں اتحاد بین المسلمین سے ہی ان تمام اسلای ملکوں کو استحکام حاصل ہو گا ۔۔۔اس کے خیال میں اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ مسلم ممالک کے معاملات میں تعصب اور جانب داری سے کام لے رہا ہے ۔۔۔مگر اسلامی ممالک کے متحد ہو جانے کے بعد اس ادارے کو بھی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی ہو گی ۔ یہ اتحاد کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے ۔۔۔ اور اس میں ان اسلامی ملکوں کو کیا کیا تدابیر اختیار کرنی ہوں گی ۔۔۔ یہ ساری تفصیل مصنف نے صدائے وقت میں دے دی ہے۔۔۔
ماضی میں مختلف حکمرانوں نے اس ملک کو اسلام کے نام پر کس کس طرح لوٹا ۔۔۔اس کی تفصیل پڑھتے وقت قاری خون کے آنسو روتا ہے ۔۔۔
صدائے وقت کا مصنف جب کرپٹ اور بدعنوان سیاست دانوں کے ذکر کے ساتھ ان علمائے دین اور مشائخ کرام کا ذکر کرتا ہے ۔۔جنہوں نے ایک غلط نظام کے پنپنے میں مختلف ادوار میں حکومت وقت کا ساتھ دیا ۔۔۔اور دنیاوی فائدے اٹھائے ۔۔۔تو اس کا قلم ان سے بھی کوئی رو رعائت نہیں کر تا ۔۔۔
میری رائے میں یہ کتاب پوسٹ مارٹم ہے جسدِ وطن کا ۔۔۔ اس میں وطن عزیز کو لاحق تمام امراض کو سامنے لا کر رکھ دیا گیا ہے ۔۔۔علاج بھی تجویر کر دیا ہے ۔۔اور ایک ماہر و تجربہ کار طبیب کی طرح دوا بھی بتا دی ہے ۔۔۔اس نسخے کو استعمال کرنا شرط ہے ۔۔۔ورنہ اس کی حیثیت وہی رہ جائے گی ۔۔۔جو سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے ان دفاتر کی ہے۔۔ جہاں قائد اعظم کی تصویر بھی آویزاں ہوتی ہے ۔۔۔اور جلی حروف میں یہ عبارت بھی نظر آتی ہے ۔۔ ’’ رشوت دینے اور لینے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے ‘‘۔۔مگر رشوت بلا جھجک لی جاتی ہے ۔۔۔
پوری کتاب میں ایک سرخی بار بار متن سے باہر نکل آتی ہے ۔۔ وہ قومیں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔۔ جو قوانین کے نفاذ میں طرفداری اور رو ر عائت سے کام لیتی ہیں ۔۔۔اور یہی سرخی موجود ہ حکمرانوں کو بار بار اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے۔۔۔
ملکی دولت لوٹنے والوں کی نشان دہی ہو چکی ہے ۔۔۔کس کس بنک میں ، کس کس ملک میں ، کس کس کا کتنا کتنا روپیہ ہے ۔۔۔اربوں کی مالیت کی کوٹھیاں ہیں ۔۔۔جن سے ماہانہ لاکھوں روپے کرایہ آتا ہے ۔۔صدائے وقت کے مصنف نے موجودہ حکومت بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔۔ کہ چیف ایگزیکٹو سے یہ توقع وابستہ کی ہے ۔۔کہ جس احتساب کا انہوں نے وعدہ کیا تھا ۔۔۔اس میں اب تاخیر نہیں ہو گی ۔۔۔ان لٹیروں کا احتساب ہو گیا تو عوام یہ سمجھیں گے ۔۔۔کہ خاکی وردی سے اب تک عوام کو جو توقعات وابستہ رہی ہیں ۔۔۔وہ پوری ہو گئیں ۔۔۔کروڑوں اربوں کی ملکیتیں ان رہزنوں کی ضبط کرکے قرضے اتاریں ۔ عوام کو ٹیکسوں کی چتا میں نہ جھونکیں۔ آپ اور عوام ایک ہو جائیں گے ۔ اور اس کے نتیجے میں ٹیکس کے نظام میں بھی عوام حکومت کا ساتھ دے گی۔۔۔
پاکستان کے چیف ایگزیکٹو نے اپنے دور حکومت میں طبقاتی نظام تعلیم ختم کرکے پوری قوم کے لئے یکساں تعلیمی ادارے قائم کر دیئے ۔۔۔ انتظامیہ اور عدلیہ کا کھویا ہوا اعتما د بحال کر دیا ۔۔۔سول سروس کے موجودہ ڈھانچے کو بدل دیا ۔۔۔احتساب کا عمل بلا تاخیر اور بلا کسی رو رعائت کے تکمیل تک پہنچا دیا ۔۔۔ملکی ترقی سے دیہاتی مستفید ہو گئے تو یہ قوم انہیں سیلوٹ کرے گی ۔۔۔ یہ سارا عمل اس کرپٹ نظام کو بدلنے کے لئے کیا جانا چاہئے۔ جس میں ماضی کے ایک جرنیل صدر نے بھی سرعام یہ اعتراف کیاتھا ۔۔کہ ملک میں رشوت تو ہے ۔۔۔مگر میں بے بس ہوں ۔۔۔۔ اسے ختم کرنا میرے اختیار میں نہیں ۔۔۔عوام چیف ایگزیکٹو پاکستان سے اس طرح کی بے بسی اور معذوری کی توقع نہیں رکھتے۔۔۔
صدائے وقت کے مصنف کی تلخ نوائی ان تمام شعبوں اور ایسے افراد کو گوارا کرنی ہو گی ۔۔۔جن کی نشان دہی بڑے عدل و انصاف کے ساتھ کی گئی ہے ۔۔۔اس لئے کہ یہ تلخ نوائی ہی کار تریاقی کرتی ہے۔۔۔
اللہ ہمیں حق بات کہنے اور حق بات سننے اور برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے ۔۔۔اور عنایت اللہ پر اللہ کی مزید عنایات ہوں ۔۔۔آمین ڈاکٹر تصدق حسین راجا
اسلام آباد
۱۲ ربیع الاول ۱۴۲۱


Print Friendly, PDF & Email

Attachments

  • pdf Mujhay hay hukm azan
    Mujhay hay hukm azan by Dr Tassaduq Hussain Raja
    File size: 279 KB Downloads: 65

Related Posts

  • 59
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 58
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 44
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 44
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…
  • 44
    یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔ حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا…
  • 43
    ’’آئینہ وقت‘‘ کم و بیش سو (۱۰۰) صفحات پر مشتمل عنائیت اللہ صاحب کی پہلی قلمی کاوش ہے۔ ہر چند کہ تصنیف و تالیف کی دنیا میں اس کتاب کا نام نیا ہے۔ لیکن اس کے مصنف کا نام نہ نیا ہے نہ ہمارے لئے اجنبی ! آپ مشہورو معروف…
  • 42
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 41
    عالمِ اسلام کے لئے جمہوریت ایکاہم مسئلہ ہے۔ جسے کبھی لطافت اور کبھی دل کی کسک کے ساتھ سو چا گیا ۔ اور کبھی جمہوریت کو بانسری کا الم نامہ بنا کر پیش کیا گیا اوریوں جمہوریت مسلمانوں کے لئے حقیقت، عرفان ، روحانی رموز و حقیقت کاروپ دھا ر…
  • 40
    کتاب ’’آئینہ وقت‘‘ کے مصنف کو میں عرصہ پچیس سال سے جانتا ہوں۔ اور اس کے ساتھ وقت کی ہر بنت سے گذرا ہوں۔ جو دن ، دوپہر، شام ، رات، اور صبح کاذب اور صادق کے درمیان نئے نئے چھاپے چھاپتی ہے۔ اور نئے نئے رنگ ابھارتی ہے۔ عنائیت…
  • 39
      انسانی ارتقاء تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ تبدیلی ماحول کی ہو، نظریات کی ہو یا خیالات کی، اس سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ بنیادی مشکل انسان کو ہر لحظہ درپیش رہتی ہے۔ وہ چاہے تبدیلی کاخیر مقدم کرے۔ یااسے کلی طور پر رد کر دے۔ ہر مقام پراسے…
  • 38
    عنائیت اللہ صاحب ان مقربان خاص میں سے ہیں۔ جنہیں جناب واصف علی واصف صاحب جیسے درویش طبع دانشور کی خدمت میں رہنے کا شرف انتہائی ابتدائی زمانہ سے نصیب رہا ہے۔ سرکاری ملازمت کی مصروفیات کے باوجود انہوں نے اپنے رفیق خاص کی خدمت میں اپنے وقت اور وسائل…
  • 38
    عصرِ حاضر وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا قتیلِ عشق کے باطن کی آرزو نہ رہا رگوں میں جوش حمیت کی آبرو نہ رہی دلوں میں جوشِ اخوت وہ کو بہ کو نہ رہا تڑپتے دل کی پکاروں کی بے…
  • 38
    اس کتاب کا مسودہ پڑھتے وقت حضرت اقبال رحمتہ اللہ کا یہ شعر میں دیر تک زیرلب گنگناتا رہا ۔ وہی ہے بندۂ حر جس کی ضرب ہے کاری نہ وہ کہ حرب ہے جس کی تمام عیاری ۔ ۔ اس مسودہ کو پڑھتے وقت حضرت اقبال رحمتہ  اللہ کا…
  • 38
    کتاب لکھنا ، کتاب پڑھنا اور پھر کتاب پر تبصرہ کرنا ایک انتہائی مشکل اور کٹھن کام ہے ۔ کتاب کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک صاحبِ کتاب کی شخصیت اور اس کے افکار سے شناسائی نہ ہو ۔ آئیے ! پہلے صاحب کتاب کی شخصیت سے…
  • 37
    Back to Kuliyat e Gabriel پیشِ لفظ شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح…
  • 37
    محترم عنائیت اللہ صاحب کا ۔’’ آئینہ وقت‘‘ میرے سامنے ہے۔ میں نے جب اس کااحتساب دیکھا۔ تو میں یکدم چونگا۔ محترم عنائیت اللہ صاحب سے تعلق آج سے اکتالیس سال پہلے قائم ہوا۔ اور وہ تعلق آج تک قائم ہے۔ اس تعلق کی وجہ برادرم محترم قبلہ واصف علی…
  • 35
    زیر نظر کتاب’’ نسخہ ء انقلاب وقت‘‘ عنایت اللہ صاحب کی ساتویں کتاب ہے۔ اس سے قبل انکی شائع ہونے والی کتابوں میں درج ذیل کتب شامل ہیں:۔ ۱۔آئینہ وقت۔۲۔صدائے وقت۔۳۔ندائے وقت۔۴۔آوازوقت۔۵۔ناد وقت۔ ۶ ۔ چراغ وقت مصنف نے اس کتاب میںبہت سے سوال اٹھائے ہیں،ا ن میں سب سے…
  • 35
    عنایت اللہ صاحب کی تازہ تصنیف (چراغ وقت) پر میرا اظہار خیال ایسا ہی ہے ۔ کہ جیسے سورج کو چراغ دکھانا۔ کہنے کو تو یہ وقت کے عنوان سے ان کی تقریبا نصف درجن کتابوں کا تسلسل ہے۔ لیکن در حقیقت یہ نوع انسانی کے موجودہ تصورات کو بدلنے…
  • 34
    Back to Kuliyat e Gabriel گریہ نیم شبی خدایا شکر ہے رکھا مرا اجر اپنے ہاتھوں میں وگرنہ کس طرح ملتی مجھے محنت کی مزدوری بڑی مشکل سے سمجھائے تھے ملت کو سب اندیشے رلا کر رکھ گئی مجھ کو یہ احساسِ مجبوری خخ رلاتی ہیں مجھے ملت کی حسن…
  • 33
    برادر عزیز ڈاکٹر تصدق حسین راجہ کا میں تہہ دل سے ممنون ہوں۔ کہ ان کی وساطت سے ایک مرد خود آگاہ اور درویش خدامست سے اکتساب فیض کی سعادت نصیب ہوئی۔ میرا اشارہ جناب عنایت اللہ صاحب کی جانب ہے، جنہوں نے ایک طویل عرصہ تک عہد حاضر کے…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Subscribe By Email for Updates.
Copied!