آئینہ وقت مضطرب روح کی پکار تحریرشورش ملک

040

shorishmalik

’’ آئینہ ء وقت‘‘ ایک بے قرار روح کی چیخ ہے۔ یہ روائیتی انداز میں نہ تاریخ ہے نہ جذباتی طور پر محض نوحہ ہے۔ بلکہ یہ پاکستانی معاشرے کی ایسی تصویر ہے جس میں کچھ رنگ نمایاں اور کچھ دھندلے ہیں۔ بے رنگ حصہ بھی ایک کہانی ہے جس میں عبرت بھی ہے۔ اور تازیانہ عبرت بھی۔ اس انوکھے انداز کی کتاب کا نام ’’ آئینہ وقت‘‘ ہی ہونا چاہیئے تھا۔ سو جناب عنائیت اللہ صاحب کو پہلی مبارک باد تو اس کتاب کے عنوان کی دینی چاہیئے۔
’’آئینہ وقت ‘‘ کا تناظر بہت وسیع ہے۔ لیکن صاحب نظر جناب عنائیت اللہ صاحب نے اس خوبی سے ہر مرحلہ طے کیا ہے۔کہ اس کتاب کا کوئی بھی قاری داد دیئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ ایک دردمند پاکستانی اور پرسوز مسلمان اور پر کیف صوفی کی حیثیت سے جناب عنائیت اللہ صاحب نے جو محسوس کیا۔ جو دیکھا اور جو کچھ برتا۔ ان سب تجربات کو جس خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔ وہ انہی کا حصہ ہے۔ شائید دوسرا کوئی اس موضوع پر قلم اٹھاتا تو ہزار ٹھوکریں کھاتا۔
یہ کتاب صرف احوال درد ہی نہیں۔ علاج درد بھی ہے۔ بشرطیکہ کوئی شخص صاحب درد ہو اور دل کی میل دور کرنے کی تمنا سے سرشار ہو۔ عمل پر راضی اور فکر کے لئے تیار ہو۔ کیونکہ فکر و عمل کے بغیر نہ دنیا سمجھ آ سکتی ہے۔ اور نہ دین کی حقیقت تک رسائی ممکن ہے۔
انتساب مرشد یعنی جناب واصف علی واصف کے نام ہو۔ اور دیباچہ علامہ محمد یوسف جبریل صاحب نے تحریر کیا ہو۔ تو پھر’’ آئینہ وقت‘‘ ایک انقلاب کا عکس نظر آتا ہے۔ اس عہد کا اضطراب ، سوچ اور عمل بظاہر نتیجہ خیز نظر نہیں آتا۔ لیکن کسے معلوم ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ غیب سے کیاپردہ شہود پر لانے والا ہے۔ آخر یہ سب نیک ارواح عصر حاضر کے خلاف سراپا احتجاج کیوں بنی ہوئی ہیں۔کچھ تو ہونے والا ہے۔ جس کا ادراک صرف انہی ارواح کو ہے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نوازچکا ہے۔ یا نواز رہا ہے۔
’’آئینہ وقت‘‘ ایک سادہ رنگین داستان کا صرف ایک باب ہے۔ ممکن ہے۔ جناب عنائیت اللہ صاحب دیگر ابواب بھی تحریر کریں۔او ر اس طرح جانے والے وقت کا نوحہ اور آنے والے وقت کا قصیدہ موجودہ نسل بھی سن سکے۔
کاش یہ زمانہ میری زندگی میں آئے۔ اور مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ پا کر اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کا شکر اداکرکے اور حضور نبی کریم  حضرت محمد مصطفی کی غلامی پر ناز کر سکے۔
یا اللہ یہ دن جلد لا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

((شورش ملک))
۹۹ / ۷ /


Print Friendly, PDF & Email

Attachments

Related Posts

  • 46
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 41
    بابا عنایت اللہ صاحب کی مختصر عرصے میں پانچ کتابیں قارئین تک پہنچ چکی ہیں ۔ چراغ وقت ۔سے پہلے ناد وقت،آواز وقت،ندائے وقت،صدائے وقت اور آئینہ ء وقت یکے بعد دیگرے شائع ہوچکی ہیں۔جیسا کہ میں اس سے قبل شائع ہونے والی کتاب میں یہ عرض کر چکا ہوں…
  • 36
    محترم عنائیت اللہ صاحب کا ۔’’ آئینہ وقت‘‘ میرے سامنے ہے۔ میں نے جب اس کااحتساب دیکھا۔ تو میں یکدم چونگا۔ محترم عنائیت اللہ صاحب سے تعلق آج سے اکتالیس سال پہلے قائم ہوا۔ اور وہ تعلق آج تک قائم ہے۔ اس تعلق کی وجہ برادرم محترم قبلہ واصف علی…
  • 36
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 33
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 30
    ’’آئینہ وقت‘‘ کم و بیش سو (۱۰۰) صفحات پر مشتمل عنائیت اللہ صاحب کی پہلی قلمی کاوش ہے۔ ہر چند کہ تصنیف و تالیف کی دنیا میں اس کتاب کا نام نیا ہے۔ لیکن اس کے مصنف کا نام نہ نیا ہے نہ ہمارے لئے اجنبی ! آپ مشہورو معروف…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply

Copied!