Naara Gabriel

013
iqbalzafar
قلم کی عظمت کو تحفظ دینےکےلئےجذبہءخودداری اور فکری بلندی کا ہونا بہت ضروری شرط ہی۔ جس قلم کار کو یہ دعوی ہو کہ وہ اپنےافکار اور خیالات کی بدولت قلم کی عظمت کو اجاگر کر رہا ہےمگر اس میں وہ پاکیزگی اور ندرتِ بیان مفقود ہو وہ ولولہ اور جذبہ ناپید ہو وہ خودداری اور حق شناسی غائب ہو جس کی بنیاد زندگی کےحقیقی پہلوں پر استوار ہو تو ایسا قلمکار بےشک اپنےحق میں بلند و بانگ دعووں کا سہارا لےکر خود کو اپنےمنہ میاں مٹھو والی بات کےمصداق قلم کی عظمت کا پاسباں ثابت کرتا پھرےاور کہےکہ وہ قلم کا صحیح نگہبان ہی۔ حقیقت تو یہ ہےوہ نہ صرف قلم کےمقام اور اس کی عظمت سےبےخبر ہےبلکہ وہ قلم کا سب سےبڑا حریف بھی ہےآج جب ہم ادبی اور علمی مباحثوں میں اکثر دلائل کےزور پر ایک دوسرےکو نیچا دکھانےکی سر توڑ کوشش کرتےہیں۔ اس وقت ہمیں قطعاً یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم جن دلیلوں اور بحثوں کا سہارا لےکر ایک دوسرےسےالجھ رہےہیں اور جن باتوں کو ثابت کرنےپر تلےہوئےہیں کیا وہ خود ہم میں موجود ہیں۔ کیا ہم خود ان پر عمل کرنےکےاہل ہیں۔ جو باتیں ہم دوسروں پر ٹھونستےہوئےخود کو وقت کا بہت بڑا دانشور خیال کرتےہیں اور خود کو ادبی دنیا کا لاثانی کردار تصور کرتےہیں ۔دیکھنا تو یہ ہےکہ وہ کون سی ہستیاں ہیں جو آج کےعہد میں نہ صرف ادبی افق پر نمودار ہیں بلکہ ان کی آن بان اور چمک دمک سےاردگرد کےادبی ماحول میں فکروفن اور علم و عمل کےاجالےپھیل رہےہیں۔ اور انسانیت ان کی بلند سوچ اور فکر سےنہ صرف سبق حاصل کر رہی ہےبلکہ ان سےتاریک دلوں میں خلوص و شوق کی روشنی بکھر رہی ہی۔ ادب کی انہی نامور شخصیات میں علامہ یوسف جبریل کا نام ملک کےہر گوشےگوشےمیں قومی بین الاقوامی ادبی علمی سماجی اور دوسرےمسائل کا حل پیش کرتےہوئےسامنےآتا ہےاور اس حقیقت سےانکار ناممکن ہےکہ آ ج ادبی دنیا میں خصوصاً علامہ یوسف جبریل ایک اہم ترین شخصیت شمار ہوتےہیں۔ وہ جوخود کو ملک و قوم کی سربلندی دین اسلام کی خدمت اور انسانیت کی تعمیر و ترقی کےلئےوقف کردیتےہیں۔وہ جو اپنی تمام ترسوچوں اور افکار کا رخ قوم کی فلاح و بہبود تعمیر و ترقی اور فکری پرورش کی طرف موڑ دیتےہیں۔ ایسی نادر ہستیوں کا کردار بھلا کون بھول سکتا ہی۔ علامہ یوسف جبریل کا قلم ہمیشہ قوم اور ملکی مسائل حل کرنےکےجذبہ سےسرشار رہا ہےاور دینِ حق کےاصولوں کو نمایاں کرنےکا ولولہ علامہ صاحب کےقلم کا ایک اہم کارنامہ ہےجس سےیہ ثابت ہوتا ہےکہ جب تک ملک و قوم کےاندر علامہ یوسف جبریل جیسی مخلص اور قومی اندازِ فکر سےسرشار ہستیاں اور دانشور موجود ہیں اس وقت تک قوم اپنی نظریاتی منزل سےدور نہیں کی جا سکتی ۔ نہ ہی قوم کا جذبہءایمانی ماند پڑ سکتا ہےکیونکہ علامہ صاحب جیسےعظیم فکری راہنما ہی قوم کےمسائل کو صحیح سمجھ کر قوم کی راہنمائی اپنےقلم کی بدولت کر سکتےہیں۔ بلکہ علامہ جبریل صاحب اپنی تمام تر صلاحیتیں قوم ملک اور دین کےمستقبل کی درخشانی کےلئے وقف رکھتےہیں اور نازک موڑ پر قوم کو صحیح راستہ دکھانےکی توقع ان سےکی جا سکتی ہےاور انتہائی نازک دور میں بھی وہ اپناموثر کردار ادا کرکےقلم کا حق ادا کرتےہیں جس کی توقع اُ ن سےکی جا تی ہےاور ان باتوں پر قلم کو بلاشبہ فخر حاصل رہتا ہےاور پھر یہ ہستیاں وطن اور قوم کےلئےایک ایسا نمونہ بن جایا کرتی ہیں جس کی بدولت قوم میں خودداری حق گوئی اور بےباکی کا جذبہ ہمیشہ بیدار رہتا ہےاور پھر اسی جذبہ ءپائیدار کی بدولت قوم ہمیشہ اپنی صفوں کو درست رکھتی ہی۔ علامہ یوسف جبریل نہ صرف اپنےقلم کی بدولت قوم کےفکری شعور کو بلند کرنےکا عَلَم اٹھائےہوئےہیں بلکہ اُ ن کےاشعار میں ایک ایسی للکار بھی سامنےآتی ہےجس کےدم سےمسلم قوم خصوصاً غریب طبقہ پر ہونےوالی ناانصافیوں کی نفی کرتےہوئےان قوتوں کو خبردار کیا گیا ہےجو ہر عہد میں خود کو جابر قوتیں سمجھتےہوئےمحکوم اور چھوٹےطبقوں پر ہر جوروجبر اور جفا کی تلوار سےوار کرتےرہتےہیں۔ علامہ یوسف جبریل نہ صرف ان قوتوں کو اپنےقلم کی طاقت سےایسا کرنےسےمنع کرتےہیں بلکہ اس کےساتھ ساتھ ان کو یہ احساس دلاتےہوئےمتنبہ کرتےہیں کہ آج تم بےبس اور لاچار انسانیت پر اپنےعارضیاقتدار کےبل بوتےپر ستم اور زیادتیاں تو کر لو گےلیکن آخر کار تمھیں اس کا بدلہ ہرحالت میں دینا ہو گا اور اس حساب سےگذرنا ہو گا جو ہر صورت میں لیا جائےگا پھر اس وقت نجات کی راہیں بند ہوں گی۔ لہذا بہتر یہی ہےکہ ابھی ان ظالمانہ حرکات اور ہتھکنڈوں سےباز آ جائیں”نعرہ جبریل“ میں علامہ صاحب انہی جذبات کو اشعار کی صورت میں یوں سامنےلاتےہیں۔
اےغریبوں کا لہو چوس کےپینےوالو
اےغریبوں کا جگر چیر کےسینےوالو
اےغریبوں کی کمر توڑ کےجینےوالو
فانی دنیا میں دفینے پہ دفینے والو
اگلی دنیا کےٹکانےکا بھی کچھ زاد کرو
سفر اس منزلِ آخر کا بھی کچھ یاد کرو
(نعرہ جبریل صفحہ نمبر ٢٩ )
علامہ صاحب کا کلام نہ صرف انسانیت کےپسےہوئےافراد کےحقوق کی بحالی کےلئےایک موثر قدم کےطور پرسامنےآتا ہےبلکہ اس میں اس دور کی صورت حال کو بھی سامنےلایا گیا ہےجس کی بدولت آج مسلمان قوم کو ان عظمتوں کی ضرورت پھر سےمحسوس ہو رہی ہےجو کبھی اس قوم کےقدم چومتی تھیں۔ علامہ یوسف جبریل کےکلام میں سوچ اور فکر کےایسےایسےپہلو سامنےآتےہیں جن کی بدولت اس امر کی ضرورت ناگزیر ہےکہ ایک بار پھر مسلم قوم میں عظمتِ رفتہ بیدار کی جائےتاکہ مسلم قوم کو پھر سےوہ بلند مقام حاصل ہو جس پر کبھی یہ بڑی شان و شوکت سےفائز رہی ہےاور جس مقام پر ہوتےہوئےاس قوم کےآباو اجداد نےایسےعظیم کارنامےسرانجام دیئےکہ دنیا کےبڑےبڑےجابر انگشت بدنداں رہ گئے۔علامہ یوسف جبریل کی نظر میں آج بھی مسلمان قوم اگر تعلیماتِ قرانی احادیث نبوی اور اپنےعظیم اسلاف کےعظیم کارناموں کو سامنےرکھتےہوئےعزم و ہمت سےمنزل کیجانب چل پڑےتو اسےلازماً سرخروئی اور کامرانی حاصل ہو گی ۔”نعرہ جبریل“ میں انہی افکار کو یوں بیان کیا گیا ہی۔
خیبر اس دور کا سر ہو تو ید اللہی سی
جھوٹ ہو خاک بسر آہِ سحر گاہی سی
ظلمتیں دور ہوں مومن کی جگر کاہی سی
پھر ہو تنویر محمد کی شہنشاہی سے
(نعرہ جبریل صفحہ نمبر ٣٥)
ان تمام افکار و خیالات کو اگر یکجا کیا جائےتو یہ محسوس ہوتا ہےجیسےعلامہ یوسف جبریل کی دوربین نگاہوں نےمسلمان قوم کی زندگی کےتمام مسائل کا حل ان زریں اصولوں میں تلاش کرنےکی کوشش کی ہےجن کی بدولت پاکیزگی کردار اور دینِ حق کی سربلندی سرفرازی کامرانی اور کامیابی کےلئےعام کرنےکا جذبہ مسلمان قوم کےہر فرد میں بیدار ہو سکتا ہی۔ بس ذرا مردِ مومن کا جذبہءعشق صادق ہونا ضروری ہےگویا علامہ یوسف جبریل کا کلام فکری اور نظریاتی جذبےکا ایسا ترجمان ہےجس نےقومی ضمیر کو ایک مرتبہ پھر انہی خطوط پر جھنجھوڑنےکی ذمہ داری قبول کی ہےجو حکیم الامت حضرت اقبال کےکلام کےمقاصد کاحصہ ہیں ۔علامہ یوسف جبریل کےکلام میں جو جوش و ولولہ اور غلغلہ ہےوہ درج ذیل شعروں میں دیکھا جا سکتا ہے:۔
عشقِ صادق ہو تو تعزیر بدل ڈالوں گا
نگہہ گردوں کی یہ تاثیر بدل ڈالوں گا
فکرِ دوراں کی یہ تصویر بدل ڈالوں گا
مرد مومن ہوں تو تقدیر بدل ڈالوں گا
فرشِ ذلت سےتجھےعرش پہ لا ڈالوں گا
مئےتجھےعشقِ محمد کی پلا ڈالوں گا
( نعرہ جبریل صفحہ ٣٨ )
علامہ یوسف جبریل کا کلام جہاں جا بجا اپنےاندر مسلمان قوم کی خدمت کا سچا جذبہ لئےہوئےہےوہاں اس میں ان افکار کی خوشبو بھی شامل ہےجن کی بدولت دیگر محکوم اقوام کےحقوق کی بحالی کےلئےزور و شور سےکوششیں جاری ہیں۔ علامہ یوسف جبریل کےکلام میں بھارت کےمحکوم عوام سےبھی ہمدردی کا جذبہ پوری شدو مد اور تابانی سےموجود ہی۔ علامہ صاحب کےدرج ذیل اشعار اسی سمت واضح اشارہ ہیں جن میں کہا گیا ہے:۔
رلاتا ہےیہ پیغامِ صبا بھارت کےمحصورو
تمھارا نالہءآہ و بُکا بھارت کےمحصورو
مرےہاتھ اٹھ رہےہیں بارگاہِ رب العزت میں
میرےدل سےنکلتی ہےدعا بھارت کےمحصورو

علامہ یوسف جبریل نےاپنےکلام میں مسجدِ قدس کےحوالےسےجو روحانی قلبی اور جذباتی فریضہ سر انجام دیا ہےاس سےیہ بات واضح ہوتی ہےکہ ایک سچےمسلمان کی حیثیت سےعلامہ صاحب نےاس اہم مسئلہ پر کس موثر پیرائےمیں اپنی وابستگی کا ثبوت دیا ہے۔ علامہ صاحب کےجذبات یوں سامنےآتےہیں:
سینہءنحسِ یہودی میں اتر جاوں گا
چیر کر قلب و جگر تا بہ کمر جاوں گا
بن کےشمشیر کلیجےسےاتر جاوں گا
کام مومن نےجو کرنا ہےوہ کر جاوں گا
( نعرہ جبریل صفحہ ٤١ )
مسجدِ قدس کو پھولوں سےسجاوں یا رب
دستِ ناپاک یہودی سےچھڑاوں یا رب
اسلام کی عظمت و حقانیت اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےپیغام کوعلامہ صاحبنےاپنےکلام میں جس پُرشوق جذبےاور فکر ی سادگی کےساتھ پیش کیا ہےاس کی نشان دہی کرتےہوئےکہتےہیں کہ :
میں زمانےکو دکھا دوں کہ وہ اسلام ہےکیا
ہادیءملت بیضاءکا وہ پیغام ہےکیا
سوزِ تکبیر ہےکیا حرمتِ احرام ہےکیا
اپنےاللہ نےکیا ہم پہ جو انعام ہےکیا
یعنی پیغامِ محمد کی حقیقت کیا ہی
اور اس حکمتِ قران کی طریقت کیا ہی
المختصر علامہ یوسف جبریل کا کلام عہد حاضر کےادبی میدان میں ایک ایسا اضافہ ہےجس میں نہ صرف مسلم قوم کےاجتماعی مسائل کی نشان دہی کی گئی ہےبلکہ ا ن مسائل کےحل کےلئےوہ تمام تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں جن پر اگر عمل کیاجائےتو مسلمان قوم کو اپنی اصل منزل مقصود پر پہنچنےمیں ذرا دیر نہیں لگ سکتی ۔علامہ صاحب کےکلام سےیہ واضح ہوتا ہےکہ انہوں نےخود کو قوم مذہب اور وطن کےلئےوقف کر دیا ہےاور وہ ہر لمحہ قومی خدمت کےلئےکوشاں ہیں۔ وطن سےان کو جو بےلوث محبت ہےاس کا اندازہ ان کےاس کلام سےلگا یا جا سکتا ہے
نذرِ آتش ہی اگر دیس کو کرنا ہےتمھیں
ہاں بصد شوق یہ درویش کا گھر حاضر ہی

اپنی تحریر کا خاتمہ پروفیسر خالد عباس بابر صاحب کی اس رائےکےساتھ ختم کرتا ہوں کہ” میں سمجھتا ہوں کہ جبریل کی شعری تخلیق کو کماحقہ دائرہ نقد و نظر میں لانا ایک کٹھن کام ہی“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقبال ظفر ٹوانہ ڈی ٧٣١ سیکٹر ٹو خیابان سرسید راولپنڈی
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 34
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 30
            To View/Download PDF in better font go to end of this post. ہم ہیں مسلم، ہے سارا جہاں ہمارا خودی کی زد میں ہے ساری خدائی خلق لکم ما فی الارض جمیعا (سورۃ البقرہ) ’’ ساری کائنات ہم نے آپ لوگوں کے لئے تخلیق فرمائی ہے…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply