”نغمہ جبریل آشوب “۔۔۔ایک مطالعہ

011arifseemabi
الفقر فخری ، شہنشاہ ولایت، حضرت پیر سیدعبدالقادرجیلانی کی سرزمین عراق کے نزدیک عراق کےقرب و جوار میں ” مصیب“ کی مقدس فضاوں میں سانس لینےوالےنوجوان محمد یوسف کےوہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ مجھےایک دن دنیا بھر کےسامنےایٹمی ہتھیاروں کےخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑا ہوناہی۔اسی محمدیوسف نےپچھلی ربع صدی میں دنیا بھر کی عالمی طاقتوں کو ایٹمی تباہی سےخبردار کرنےکےلئےمسلسل نثر ی وشعری تصانیف و تالیف قلمبند کیں۔ جن میں اس کافکری وژن اور فلسفیانہ ژرف نگاہی اس قدر بلند بام ہےکہ اہل علم ودانش اور مستشرقین بھی اسےسرسری نگاہ سےنہیں سمجھ سکتی۔ وہی محمد یوسف ابراہیمی مشن کو لےکر اٹھتا ہےاور بیکنی فلسفہ کی مادی روح کو ختم کرکےتزکیہ نفس کا فریضہ سرانجام دیتا ہی۔ وہی محمد یوسف آج علامہ محمد یوسف جبریل کےنام سےنہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر جانا پہچانا جاتا ہی۔علامہ محمدیوسف جبریل نےبیک وقت بحیثیتِ شاعر، بحیثیت معیشت دان، بحیثیت مفکر اسلام اور مسلم دانش ور اپنی علمی اور ادبی شناخت قائم کی ہی۔ آ ج ہم اس مختصر سےمضمون میں ان کےقومی شعری مجموعے”نغمہ جبریل آشوب“ پر مختصر سی گفتگو کرنےکی سعادت حاصل کریں گی۔
علامہ محمد یوسف جبریل کا شعری مجموعہ ” نغمہءجبریل آشوب“ ا ن کی وسعتِ علمی اور دانش و بینشِ روحانی کا شہرہ ءآفاق شاہکار ہی۔ ”نغمہءجبریل آشوب“ میں ان کی تین طویل نظمیں ”نعرہ ءجبریل، گلبانگ صدارت، نقارہ“ شامل ہیں۔جن کےتفصیلی مطالعہ سےیہ حقیقت روز روشن کیطرح عیاں ہو جاتی ہےکہ وہ ایک قادرالکلام شاعر ہی نہیں بلکہ ملت اسلامیہ کےسچےبہی خواہ اور عصرحاضر کےدورپرفتن سےقطعی طور پر بیزارانسان ہیں ۔ علامہ محمدیوسف جبریل قرونِ اولیٰ کےمسلمانوں کی شاندار تاریخ سےمکمل آگاہی رکھتےہیں ۔وہ نئی نسل کو جدید عہد کی مادی کشاکش اور فکری انارکی سےبچا کر اسےروحانی ارتقاءکی اعلیٰ ترین منازل تک پہنچانےکےآرزو مند ہیں ۔ علامہ محمدیوسف جبریل بنی نوع انسان کو آج کےپر آشوب عہد میں مغربی تہذیب و ثقافت، الحادو بےدینی اور مادیت پرستی اختیار کرنےکی بجائےفقر بوذر، زورِ حیدری اور میراثِ خلیل سےآشنا کرناچاہتےہیں۔ علامہ محمدیوسف جبریل نےاپنےرشحات قلم کےذریعےمولانا الطاف حسین حالی، اکبر الہ آبادی اورحضرت علامہ محمداقبال کی شعری روایت میں گراں قدراضافہ کیاہی۔ ان کاادبی نصب العین یہ ہےکہ :
شرار ِبولہبی کی بھڑکتی ہوئی چنگاریوں کو سرد کرکے چراغ مصطفوی کےنور کو عام کرنےکی کوشش کی جائےتاکہ نفسی پیچیدگیوں اورباطنی اضطراب کا خاتمہ کیاجاسکے۔علامہ محمد یوسف جبریل کی منظومات پرعمیق نظر ڈالنےسےیہ امر مترشح ہوتا ہےکہ وہ ایک مخصوص اندازِ فکر کےحامل شاعر اور دانش ور ہیں۔ ان کااسلوب بیان انتہائی موثرکن ہی۔ وہ بلند آہنگ لب و لہجےکےایسےتوانا شاعر ہیں کہ جن کی فکری اساس علامہ محمد اقبال کےروحانی پیغام پر استوار ہی۔ وہ قدرت کی طرف سےایک دل دردمند لےکر آئےہیں جو دنیا بھر میں مہلک ہتھیاروں کےپھیلاو اورایٹمی جہنم کےشعلوںسےبنی نوع انسان کو بچانےکےلئےمسلسل بےچین رہتا ہی۔ ان کی شاعری نارِ نمرود کو سیاہ پوش کرتی اور ابراہیمی مشن کی ترسیل کو جزو لازمہ قراردیتی ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل نے”نعرہ ءجبریل “کےذریعےمسلم امہ کی صفوں میں تزکیہ نفس، معرفت الہی اور حسنِ عمل کےدرس کو اجاگر کیا ہےتاکہ مسلمان اپنےبطون میں فقرِغیور کےاوصاف پیدا کرکےفتنہء دجال، بیکنی فلسفی، سرمایہ دارانہ نظام، اقوامِ مغرب کی ریشہ دوانیوں اور صیہونی طاقتوں کےمکروہ عزائم کو نیست و نابود کرنےکےلئے ہمہ وقت تیار ہو جائیں ۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی طویل نظم ”نعرہ جبریل“ موسیقیت و روانی ، سوز دروں ،فکرو تخیل اور زاویہ نگاہ کےاعتبار سےمنفرد حیثیت کی حامل ہی۔ ان کےقوانی محیرا لعقول اور ردیفیں رواں دواں ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہےکہ سربفلک پہاڑ کی چوٹی سےایک مترنم چشمہ پھوٹ رہا ہے۔لیکن افسوس کہ آج قوم مسلم حسن و عشق کےدلکشانغموں اور چنگ و رباب کی مستی میں کھو چکی ہی۔
دورِ تیرہ میں کہیں رسم وفا بھی نہ رہی فقر و درویشی و عرفاں کی غنا بھی نہ رہی
راہ الفت بھی گئی رسم حیابھی نہ رہی درد انساں کی زمانےمیںدوا بھی نہ رہی
آدمی مادہ پرستار ہوئےپھرتےہیں تپِ دوراں میں وہ ناچار ہوئےپھرتےہیں
علامہ محمدیوسف جبریل علم وعرفان کی شمع فروزاں کرناچاہتےہیں تاکہ مسلمان قوم دنیاوی عیش وعشرت کو ترک کرکےفکرِآخرت کو اپنا منتہاءومقصود قرار دی۔ وہ امت مرحوم کےتمام بنیادی امراض ،کذب وریا، سحروفریب، منافقت، الحادو بےدینی، ایٹمی تباہی، میزائلوںاوراسلحہ کی دوڑ، آمرانہ نظام ، سرمایہ دارانہ ہوس کاری کو تنقید کانشانہ بناتےہوئےکہتےہیں :
کہ آج ہمیں حقیقی مقصد حیا ت کو پیش نظررکھنےکی ضرورت ہےتاکہ دنیا میں دوبارہ نظام خلافت کا دور زندہ کیا جا سکی۔
علامہ محمد یوسف جبریل اپنی شاعری میں عام انسان کی ترقی اور خوش حالی کےخواہش مند ہیں۔ وہ دورِ جدید کےنام نہاد ازموں کی سحرانگزیز فریب کاریوں کا قلعہ قمع کرکےاسلامی نظام معیشت کےقائل ہیں۔ تاکہ غربت و امارت کےمابین حائل خلیج کو ختم کیاجا سکی۔ وہ طاقت کےپھیلاو اورایٹمی تابکاری کےمضراثرات کومٹا کر خطہ ءزمین کو امن و مان، صلح جوئی، بھائی چارےاور باہمی اتحادو اخوت کا گہوارہ بناناچاہتےہیں ۔
دورِ حاضر کی ترقی پہ زمیں روتی ہے آدمیت بھی کہیںچیں بہ جبیں روتی ہی
سن کہیں دور کہیںدور کہیں روتی ہی قلب خونناب کی موجوں میں یہیںروتی ہی
تو بھی سنتا ہےیہ کہرام جگر سوز کہیں شوردلدوز جگردوز جگر دوز کہیں
علامہ محمدیوسف جبریل کی نظم” نعرہ جبریل“ میں فنی حسن کاالتزام ملتا ہے۔” نعرہ جبریل “کےبعض منتخب بند بندش کی چستی، شوکت ِلفظی اور حسن تراکیب کےاعتبار سےانتہائی موثر کن ہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل نےبعض جگہ اپنےادبی اسلوب اور فکری منظقےکی بھی خوب عکاسی کی ہی۔ یہ امر خوش آئند ہےکہ وہ امتِ مسلمہ کےتابناک مستقبل سےمایوس نہیں ہیں۔
”گلبانگ ِصدارت“ ٠١ اکبوتر ٠٧٩١ کو لکھی گئی نظم ہی۔ جس کےمطالعہ سےیہ پتہ چلتا ہےکہ علامہ محمد یوسف جبریل مملکتِ خداداد پاکستان کےسربراہ کےلئےکس قسم کی ترجیحات مقرر کرتےہیں تاکہ یہ خطہءاسلامی نہ صرف اسلام کاگہوارہ بن سکےبلکہ عالم اسلام کاقلعہ بن کر بھی ابھر سکی۔ مجھ کم فہم کی رائےکےمطابق یہ نظم دراصل علامہ محمد یوسف جبریل کی اپنی زندگی کا لائحہ عمل اور اصولِ حیا ت ہےجس کےلئےوہ قرطاس و قلم کےذریعےمسلسل کوشاںرہے۔ وہ پاکستان میں خلافت راشدہ کےنظام کےخواہاں، آزادی ءکشمیر،مسجد القدس کی رہائی ،روح اسلام ، عدل وانصاف ، مساواتِ انسانی اور قانون کےاحترام کےداعی تھے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ آج ساٹھ سال گذرجانےکےباوجود ہم اپنےلئےراستےکا تعین نہیں کرسکےاور نہ ہی اسلامی انقلاب کی منزل کی طرف بڑھ سکی۔ ”گلبانگ صدارت“ میںعلامہ محمد یوسف جبریل کافن اپنےاوج وعروج کوچھوتا ہوا دکھائی دیتاہی۔ ان کےسینےمیں امنڈتا ہوا جذبہ ءحب الوطنی بنی نوع انسان کےلئےبےپایاں محبت، ہرمصرعہ اوربندسےپھوٹ پھوٹ پڑتی ہی۔ جوش ملیح آبادی، حبیب جالب، تنویر سپرا کی انقلابی جدوجہد پر مبنی شاعری ہو یا لمحہ ءموجود میں احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض، احمد فراز جیسےبلند پایہ شعرا ءکی ترقی پسند تحریک سےوالہانہ وابستگی ، علامہ محمد اقبال جیسےفلسفی شاعر کےبعد علامہ محمدیوسف جبریل کی یہ طویل نظم عام طبقےکی محرومی ، سامراج دشمنی، انسان دوستی، حب الوطنی، معاشی مساوات اورعدل و انصاف کےقیام کےسلسلےمیں لکھی گئی زندہ ءجاوید تخلیق ہےجو اردو ادب کی چند شاہکارنظموں میںشامل ہی۔ علامہ محمد اقبال کےادبی مقاصد کےتحت تحریک ادب اسلامی سےوابستہ شعرا ءنےمخصوص رنگ وآہنگ اور لب و لہجےمیں شعر کہنےکی سعی و کاوش کی ہےلیکن ا دبی معیارو مقدار اورصوتی حسن کو برقرار نہ رکھ سکے۔مگر علامہ محمد یوسف جبریل کی طویل نظم” گلبانگ صدارت“ فکراقبال سےوابستہ ہوتےہوئےبھی اپنی الگ اہمیت و حییثت اور جداگانہ شناخت رکھتی ہی۔ علامہ محمد یوسف جبریل انقلابِ اسلامی کےعلمبردار، وہ حریت پسند شاعر ہیں جن کا دل امت مسلمہ کےساتھ دھڑکتا ہےاوروہ دن رات مسلمانوںکی زبو ںحالی پر خون کےآنسو بہاتےہیں ۔علامہ محمد یوسف جبریل کی یہ نظم موجودہ انتخابات کےدورمیں بھی سربراہِ مملکت کےلئےایک بہترین زاد راہ اور توشہءفکر و عمل ہی۔ تاکہ مملکتِ خداداد میں دینِ محمدی کی پاسداری کادور شروع ہو سکے۔” گلبانگ صدارت“ ان کی وہ بلند پایہ نظم ہےجسےپڑھتےہوئےمولانا ظفر علی خان کا خطابیہ لہجہ اور مولانامحمدعلی جوہر کااصول آزادی کےلئےفراواں جذبہ و احساس فوراََ ذہن میں بجلی کےکوندےکی طرح لپک جاتا ہی۔
میں جواس ملک کااک صدرِ گرامی بن جاوں
بوئےآزاد وپریشاں ہوں مقامی بن جاوں
دردہوں دردسےدرمان غلامی بن جاوں
ساتھی بےبس کاتو مظلوم کاحامی بن جاوں
نورِ ناموس الہی ٰسےاجالاکر دوں
آدمیت کو خلافت سےدوبالا کر دوں
دہر روشن ہےجہنم کی ضیاپاشی میں
فکر رقصاں ہےنئی نارکی فخاشی میں
علامہ محمد یوسف جبریل کی تیسری طویل نظم” نقارہ“ شاملِ کتاب ہےجس میں انہوں نے ”بجا دےاب یہ نقارہ اٹھا لےاب علم اپنا“ کا نعرہ بلند کرتےہوئےدنیابھر کےمسلمانوں پر ہونےوالےمظالم کےخلاف علمِ بغاوت بلند کیاہے۔ فلسطین کےبےگھر مہاجروں پر روا رکھےجانےوالےانسانیت سوز مظالم، دہلی اور احمدآباد میں خونِ مسلم سےکھیلی جانےوالی ہولی ، ناعاقبت اندیش راہنماوں کی گھناونی سیاست، فتنہ دور یہودی، مغربی تہذیب کےشاخسانی، فکرِ نو کی نیرنگیاں جیسےموضوعات ہر طرف بکھرےپڑےدکھائی دیتےہیں۔” نقارہ“ مخمس کی ہیئت میں لکھی گئی نظم ہی۔ یہ نظم اردو کےعوامی شاعر نظیر اکبر آبادی کی یاد تازہ کرتی ہےکیونکہ انہوں نےبعض اہم شہرآشوب مخمس کی ہیئت میں تحریر کئےہیں۔ اس نظم کےچھتیس بند ہیں اور یہ رجزیہ آ ہنگ لئےہوئےہی۔ یوں محسوس ہوتا ہےکہ یہ ایک ہی نشست میں لکھی گئی طویل نظم ہی۔ علامہ محمدیوسف جبریل کی شاعری کےتحقیقی و تنقیدی جائزےسےیہ نکتہ بالتصریح سامنےآتا ہےکہ وہ قدرت کی طرف سےعالم ِانسانیت کےلئےبالخصوص اور عالمِ اسلام کےلئےبالعموم ایک مشن لےکر آئےکہ بنی نوع انسان کو عصرِ نو کی چیرہ دستیوں سےکس طرح بچایا جائےتاکہ ایٹمی اسلحےکی دوڑ کوختم کرکےامن و آشتی کےاصولوں پر بہشتی معاشرےکا قیام عمل میں لایاجاسکی۔ وہ مشرق و مغرب کی باہمی آویزش کےخلاف تھےاوروہ چاہتےتھےکہ مسلمان اپنےمذہبی ورثےاور تہذیب و معاشرت کاہر قیمت پر تحفظ کریں ۔ علامہ محمدیوسف جبریل نےاپنی زندگی میں نہ تو شاعری کواپنےلئےوجہء شہرت قرار دیا اور نہ ہی اپنی اولین ترجیح گردانا ہےبلکہ اقوامِ عالم کےتیزی سےبدلتےہوئےمنظر نامےمیں جنگ کےبھڑکتےہوئےشعلوں میں امن کاپرچم بلند کرنےکیلئےاٹھ کھڑےہوئی۔ مجھے”نغمہءجبریل آشوب“ پڑھتےہوئےدفعتہ یہ محسوس ہوا کہ علامہ محمد یوسف جبریل کاشمار برصغیر پاک و ہند کےان صوفیائےکرام کےگروہ سےہےجنہوں نےبنی نوع انسان کو ہمیشہ باہمی محبت و اخوت، اصول شریعت کی پاسپداری، خودا گہی اور خود شناسی ، صبرو شکر ، توکل وقناعت کی تعلیم دی ۔وہ انسانیت کو باہم شیرو شکر کرتی۔ انہوں نےاپنےحسن ِاخلاق کےذریعےہمیشہ غیر مسلموں کواپناگرویدہ بنایا جس کی وجہ سےہندووں کی کثیر تعداد مشرف بہ اسلام ہوئی ۔ علامہ محمد یوسف جبریل کا تعلق بھی حضرت سلطان محمدباہو، بابا بلھےشاہ اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کےفکری منطقےسےہی۔ وہ بھی الوحدت فی الکثرت کےقائل تھےکیونکہ قطرہ دریا میں مل کر اپنی ہستی کھودیتا ہی۔ شاید اسی لئےانہوں نےمعروف جرمن مستشرق مس اینی میری شمل سےمناظرہ کرکےاسےاپنےحسنِ اخلاق اورقوت علم سےدائرہ اسلام میں داخل کیا ۔بقول اسدا اللہ الغالب :
دہر جزوجلوہءیکتائی ءمعشوق نہیں ہم کہاں ہوتےاگر حسن نہ ہوتا خود بیں
علامہ محمد یوسف جبریل کی منظومات میں روحِ عصر کی تازگی بدرجہ اتم موجود ہی۔ ان کی شاعری بربط دل سےپھوٹتاہواایسا گیت ہےجو اردو کی کلاسیکل شاعری سےپیوستہ ہی۔ ان کی نظمیں نعرہ بازی کی گھن گرج کارنگ وآہنگ نہیں رکھتیں۔ ان کےمصرعےکےمصرعےمرصع اور شکفتہ و شاداب ہیں۔ ان کےالفاظ و تراکیب کا ذخیرہ غیرِ مختتم ہے۔ وہ اپنی شاعری میں عربی ، فارسی اورانگریزی کےشعری ادب سےبھی بھرپور اخذ و اکتساب کرتےہیں۔ علامہ محمد یوسف جبریل کی دونوں طویل نظمیں ”نعرہ جبریل“ اور” گلبانگ صدارت“ مسدس کی ہیئت میں ہیں۔ ”شکوہ“ ”جواب شکوہ“ اور” مسدس حالی“ میںبھی امت مرحوم کی تباہی پر خون کےآنسوبہائےگئےہیں مگر علامہ محمد یوسف جبریل کی ہر دو طویل منظومات مسدس کی بحر میں ہوتےہوےبھی اکیسویں صدی کا جدید شہر آشوب قرار دی جا سکتی ہیں۔ جن میں اصلاحِ احوال کی تدبیر اختیار کرنےکےلئےزور دیا جارہا ہی۔ ان کی شاعری پڑھتےہوئےیوں محسوس ہوتا ہےکہ جیسےمغربی اندازِ فکر ، فخاشی و عریانی اور الحاد وبےدینی کاسیلاب آیا ہوا ہےاور علامہ محمد یوسف جبریل اس کےسامنےبند باندھ رہےہیں یا شہر میں آگ
لگی ہےاور وہ اسےبجھانےکےلئےکوشاں ہیں۔

سینہءنجس ِیہودی پہ ہوں اژدر جبریل

خس وخاشاکِ زمانہ میں ہوں اخگر جبریل
کون جانےگا یہ اخلاص کا جوہر جبریل

آج پھرتاہوں تیرےشہر میں بےگھر جبریل
میرےمولا میر ےد ل کی صدائےسن لے

یعنی گردوں کی دلدوز دعائیں سن لی
ایک جو میں نہ خریدوں میں شہنشاہی کو

میں پئےتحت نہ دوں دل کی جگرکاہی کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد عارف
ادارہ افکار جبریل قائد ا عظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 64
    علامہ محمد یوسف جبریل کا تازہ شعری مجموعہ ” خوابِ جبریل“ حال ہی میں منظر ِعام پر آیا ہےجس میںان کی طویل نظم ”گریہ ءنیم شبی“ خواب جبریل کےعنوان سے٤١ نظمیں ، لائحہ عمل (٢ منظومات) فرقان ( ایک نظم) معجزہ (٣نظمیں) نوید صبح (٢نظمیں) دعا ئیءنیمہ شب ، اسلامی…
  • 61
      علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں…
  • 53
    خطہء فردوسِ بریں واہ کینٹ کی ادبی تاریخ پر نظر ڈالیں تو دنیائےعلم و ادب کےبےشمار ستارےجگمگ جگمگ کرتےنظر آتےہیں۔شعراءو ادباءنےمختلف ادبی تنظیموں کےذریعےمحفل شعر و سخن کو آراستہ و پیراستہ رکھا جن میں فانوسِ ادب ملک گیر شہرت کی حامل تنظیم رہی ہی۔ جس کےپلیٹ فارم سےڈاکٹر رشید امجد،…

Share Your Thoughts

Make A comment

2 thoughts on “”نغمہ جبریل آشوب “۔۔۔ایک مطالعہ

Leave a Reply