نعرہءجبریل

012

ghaffaramir

”نعرہ جبریل “جیسا کہ نام سےظاہر ہےایک لرزہ انداز نعرہ ہی۔ ایک للکار ہےسوزو گدازمیں ڈوبی ہوئی منظوم و موزوں بادل کی گرج بجلی کی کڑک شاعری برائےشاعری نہیں ایک نصیحت ہی۔ ایک پیغام ہےتنبیہی انداز میں صورِ اسرافیل کی پکار ہی۔ کلام ہےجو دل میں اُ تر کر ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔اس تہذیبِ نو کی غیر اخلاقی لادینی ملحدانہ اور مادہ پرستانہ معاشرت کےخلاف اعلانِ جنگ ہے۔غفلت شعار اُ مت مسلمہ کو خوابِ غفلت سےبیدار کرنےکےلئےایک مخلص اور حساس دل کی گہرائیوں سےاٹھی ہوئی پکار ہی۔ اُ مت مسلمہ بیدار ہو اور اُ متِ وسطی کا کردار ادا کرتےہوئےانسانیت کو موجودہ اور آئندہ آفات و بلیات سےبچانےکی سعی کرےتاکہ خود بھی محفوظ ہو۔
مجموعہ کلام میں دل گداز دعائیں ہیں۔ کلام کی روانی دریائےسندھ کی تندی و تیزی کی یاد دلاتی ہی۔ اندازِ بیان سادہ و پرکارہےوزن ردیف قافیہ مہارت کی غمازی کرتا ہی۔ دنیا کےموجودہ حالات شاعر کےسامنےآئینہ ہیں وہ انسانیت کی موجودہ روش پر تڑپ جاتا ہی۔ اُ مت مسلمہ کی ناگفتہ بہ حالت پر وہ خون کےآنسو روتا ہی۔ بیان میں سرتاسر علم و دانش اور بینش کی جھلک نظر آتی ہے۔ ”نعرہ جبریل“ حضرت علامہ اقبال کی شہرہ آفاق نظم‘شکوہ کی بحر میں ہےاور اسی طرح مسدس کی صورت میں ہی۔ سوچ بھی اقبالی اندازِ بیان بھی اقبالی حالی کےنوحہ مدوجزر اسلام اقبال کےشکوےکےبعد تیسری تاریخی کڑی جبریل کا نعرہ ہی۔
”نعرہ جبریل نےمارا ہےزمیں ہلتی ہی“
کلام کو پڑھنےکےدوران دو باتیں میرےذہن کا ساتھ نہیں چھوڑ سکیں۔ سالہا سال کی لازمی تربیت و ریاضت کےبغیر دفعتہً اس پائےکا کلام کس طرح ممکن ہوا۔ دوسرےیہ کہ اتنی فکری معنوی اور باہمی ہم آہنگی اور مماثلت جو اس کلام میں اور حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمتہ کےکلام میں پائی جاتی ہےکس طرح ممکن ہو سکی حتی کہ دونوں کلام جڑواں معلوم ہوتےہیں مثلاً یہ بند پڑھئے ۔
دورِ تیرہ میں کہیں رسمِ وفا بھی نہ رہی
فقر و درویشی و عرفاں کی غنا بھی نہ رہی
راہِ الفت بھی گئی رسمِ حیا بھی نہ رہی
دردِ انساں کی زمانےمیں دوا بھی نہ رہی
دمی مادہ پرستار ہوئےپھرتےہیں
تپِ دوراں میں وہ ناچار ہوئےپھرتےہیں
علامہ اقبال علیہ الرحمتہ کی شاعری تو ناقابلِ تقلید سمجھی جاتی ہی۔آج تک برصغیر پاک و ہند میں کوئی بھی شاعر خواہ کتنےہی اعلی درجےکا کیوں نہ ہو ایک مصرعہ بھی حضرت علامہ اقبال کےانداز میں تخلیق نہیں کرسکا اور حقیقت یہ ہےکہ شعر و ادب کی تاریخ میں اور کسی بھی زبان میں ایک بھی مثال ایسی نہیں کہ دو شاعروں کےکلام میں اس درجہ ہمآہنگی اور مماثلت ہو کہ دونوں ایک جیسےنظر آئیں۔ ہو سکتا ہےکہ کسی نقادِ فن کو جبریل کےکلام میں کہیں کوئی فنی سقم نظرآ جائےلیکن یاد رکھنا چاہیئےکہ یہ کلام جذبہ و احساس کا اظہار ہےبنیادی مقصد اس کا شاعری نہیں تاہم کلام کی پختگی شک و شبہہ سےبالاتر ہی۔ پھر بھی اس کلام کو شاعری کی کسوٹی پر نہ پرکھا جائےبلکہ دیکھا جائےکہ کہنےوالا کیا کہنا چاہتا ہےاگر جبریل نےبادل کی گرج بجلی کی کڑک اورایک لرزہ خیز طوفان کو سوزو گداز میں غوطہ دےکر وزن ردیف اور قافیےکاپابند کر لیا ہےتو اس سےبڑا کمال اور کیا ہو سکتا ہی۔ ملٹن جیسےعظیم شاعر کو بھی جبParadise Lost یعنی ”جنتِ گم گشتہ“ میں اسی قسم کی کیفیت پیشآئی تو اس نےبلینک ورس یعنی آزاد نظم کا سہارا لےلیا۔ حقیقتِ حال کےلئےمیں علامہ یوسف جبریل کےپاس پہنچا ۔کافی گفتگو ہوئی جس کا ملحض پیش خدمت ہی۔
جبریل صاحب نےفرمایا ۔” حضرت علامہ اقبال شعر کی دنیا میں ایک بےعدیل اور منفرد مقام کےباوجود بنیادی طور پر شاعر نہیں فلسفی کا لقب بھی ان کےلئےموزوں نہیں کیونکہ یہ لقب ان کی حقیقت کو کماحقہ بیان نہیں کرتا ۔علامہ اقبال علیہ الرحمت کو اگر صحیح سمجھناہےتو انہیں حضرت مجد دالف ثانی علیہ الرحمت کےسلسلہ مجددیہ سےمنسلک کرنا ہو گا۔جو کچھ بھی حضرت علامہ نےشعر وسخن میں یا دوقومی نظریہ اور پاکستان کےلئےتگ و دو میں کیا ہےوہ مجددی سلسلےکی کڑی ہےحضرت علامہ نےمجددی سلسلےکےتناظر میںآئندہ دور کی جھلکیاں پیش کی ہیں۔ اور اسآئندہ دور کو چونکہ آپ نےدورِ ابراھیمی سےموسوم کیا ہی۔ لہذا تحریکِ مجددی کا سلسلہ ابراھیمی سلسلےسےمنسلک ہوا تو گویا اس میں آفاقیت کا پہلو نمودار ہوا اور یہ تحریک برصغیر پاک و ہند سےجاری ہو کر دنیائےاسلام پر محیط ہو گئی۔ فرمایا ”یہ دور اپنےبراھیم کی تلاش میں ہی“۔ یہ نظم ابراھیمی منشور کی عکاس ہےاور دورِ براھیمی کی تحریک میں حضرت علامہ کا کردار ایک موذن کا ہےفرمایا۔ ”مجھےہےحکمِ اذان لا الہ الا اللہ“۔ حضرت علامہ کی وفات 1938 ءمیں لاہور میں ہوئی۔ یہ اتفاق ہےکہ میں ان کی وفات کےروز ان کےآبائی شہر سیالکوٹ میں تھا ۔مجھے1942 میں میرےپچیسویں برس میں عراق کےایک مقام ”مصیب“ میں ابراھیمی مشن سونپا گیا ۔یہ مشن تھا انسانیت کو اس جہان اور اگلی دنیا کےایٹمی جہنم سےنجات دلانےکی سعی کرنا۔ یہ خالصاً ایک علمی موضوع تھا۔ جب کہ اس موضوع کی نوعیت کو دیکھتےہوئےمیں اس وقت علم سےتقریباً بےبہرہ تھا حالانکہ اس مشن کی تکمیل کےلئےبرٹرینڈ رسل کےفلسفےآن سٹائن کی سائنس امام فخرالدین رازی کی قرانی تفسیر میکالےکی انگریزی کےہم پلہ معیار کی ضرورت تھی اور میں اس وقت محض طاہر بابا عریان کی مثال تھا مگراللہ تعالیٰ کےکرم اور چالیس برس کی محنتِ شاقہآلام و مصائب اور روحانی ترسیل کی مسلسل بوچھاڑ کےنتیجےمیں بالآخر مشن تکمیل کو پہنچا ۔جو میرا کام تھا وہ میں نےبفضلہ تعالی کر دیا ۔حضرت علامہ اقبال کی ملی دردمندی اور اضطراب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔آپ نےاپنےدورانِ حیات میں قائد اعظم کو خط لکھ کر اسلامیانِ ہند کی کشتی کو کنارےلگانےکےکام پر راضی کیاآپ چاہتےتو اس خط کےمتعلق یہ شعر بھی موزوں کر سکتےتھی:۔
مرےقلم میں تھا اک نامہءقندیلآشوب
سنوار کر جسے لکھا ہے پاسباں کے لئے
اسی قبیل کا ایک شعر حضر ت علامہ اقبال کےقلم سےنکلا ہے۔ فرمایا:۔
مرےگلو میں ہےاک نغمہءجبریلآشوب
سنبھال کر جسےرکھا ہےلامکاں کےلئی
اس شعر کی پراسراریت کےحوالےسےمیں نہیں جانتا کہ حضرت علامہ اقبال کےمفسرین نےکیا لکھا ہےالبتہ میرےلئےاس شعر میں بڑی معنویت پوشیدہ ہےاور یہ شعر حضرت علامہ اقبال کی روحانی روشنی پر ایک واضح دلیل قائم کرتا ہی۔ ہوا یوں کہ 1962 ءمیں میری عمر کےپینتالیسویں سال میں موسم سرما کی ایک شب میں دن بھر کی علمی کوفت کےبعد نیند کی کوشش میں تھا مگر نیند کا کہیں دور دور نشان تک نہ تھا۔ میں چارپائی پر پیٹھ کےبل لیٹا ہوا تھا اور بالکل بیدار تھا کہ دفعتہً میری نگاہ میں ایک انسانی ہیولا نظرآیا یہ ہیولا میرےسر کےاوپر چند فٹ پر تھوڑا سا دائیں جانب تھا اور اس کےنقوش بالکل واضح تھے۔نہ ہی میں نےسر کو جنبش دی نہ ہی میں نےاسکوآنکھوں سےدیکھا ۔پھر بھی میں اسےصاف صاف دیکھ رہا تھا وہ ایک ایسےپورٹریٹ کی طرح لگ رہا تھا جو پیٹ سےاوپر کا ہوتا ہےاس کا رنگ چمکیلا زرد تھا اور وہ کشمیری لگ رہا تھا۔ وہ غائب ہوا تو میرےذہن میں ایک ہیجان پیدا ہوا۔ اور مصرعےنمودار ہونےلگے۔پھر مجھےپسینہ آیا اور اس کےبعد میں نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ صبح کو میں نےوہ مصرعےلکھ لئی۔ وہ تعداد میں چھ تھےیعنی ایک بندتھا بحر اور ترتیب شکوہ کی تھی ۔پہلا مصرع تھا ”روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریلآیا ہوں“ پھر اپنےعلمی کام سےفراغت کےلمحوں میں شعر و شاعری کا سلسلہ 1969 تک چلتا رہا ۔حتی کہ تقریباً دو ہزار اشعار ہو گئے۔ایک قابلِ ذکر بات یہ ہےکہ جب بھی میں شعر گوئی میں محو ہوتا بالعموم مجھےحضرت علامہ اقبال کی موجود گی کا احساس رہتا وہ اس طرح کہ چند قدم پیچھےحضرت علامہ سفید ململی لباس میں ملبوس ایک روح کی طرح زمین سےتھوڑا اوپر معلق اپنےہاتھوں کو مسلسل اپنےآگےدائیں بائیں اس طرح جنبش دےرہےہوتےجس طرح کہ دیسی کھڈی پر کپڑا بنا جاتا ہےاور ان کی حرکات سخت کاوش اور جدوجہد کی غمازی کرتیں۔ ان کی یہ موجودگی میرےاندر بھی ایک خاص قسم کی کیفیت پیدا کرتی مگر الفاظ میں بیا ن نہیں ہو سکتی۔ حیرت کی بات یہ ہےکہ میری شعر گوئی کی ابتدا سےانتہاءتک مجھےیا تو اس محولہ بالا شعر یعنی ”مرےگلو میں ہےاک نغمہءجبریلآشوب“ کا علم نہیں تھا یا بالکل میرےذہن سےاتر گیا تھا۔ اب اس کی حقیقت کھلی ہی۔ جبریل کےذہن میں توآشوب پیدا ہو گیا ۔کیا یہ آشوب اُ متِ مُسلمہ کےذہن میں بھی آشوب پیدا کرےگا۔ بندہ اجر ضائع کر دےتو کردےاللہ تعالیٰ کسی کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالغفار عامر
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نوا ب آباد د واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

  • pdf Naara Gabriel
    Naara Gabriel by Abdul Ghaffar Amir
    File size: 226 KB Downloads: 42

Related Posts

  • 48
      علامہ یوسف جبریلؔ کی شاعری کا قطعاً مقصود شاعری نہیں بلکہ بھٹی سےاُ ٹھتےہوئےشعلوں سےلپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں ۔ جوحال سےپیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کےہر عمل میں…
  • 46
    الفقر فخری ، شہنشاہ ولایت، حضرت پیر سیدعبدالقادرجیلانی کی سرزمین عراق کے نزدیک عراق کےقرب و جوار میں ” مصیب“ کی مقدس فضاوں میں سانس لینےوالےنوجوان محمد یوسف کےوہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ مجھےایک دن دنیا بھر کےسامنےایٹمی ہتھیاروں کےخلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر…
  • 42
    ”نعرہ جبریل“ علامہ یوسف جبریل کا شعر ی مجموعہ ہے۔ ان کی شاعری میں الہامی کیفیت پائی جاتی ہےجس سےمستقبل کی نشان دہی اس انداز سےہوتی ہےکہ ان کی فکری پرواز کو پیشین گوئی کہنا بےجا نہ ہوگا۔ علامہ یوسف جبریل اگرچہ عمر کےاعتبار سےناتوانی کی منزل پر پہنچ چکےہیں…

Share Your Thoughts

Make A comment

One thought on “نعرہءجبریل

  1. شاعری ۔۔۔۔۔۔۔یوسف جبریل
    کائنات کے انگ انگ سے شاعری اور موسیقی کا ایک دلاویز طلسم پھوٹ رہا ہے۔گوناگوں اوربوقلموں رنگینیوں کی بہار ہے جو انسانی روح کی پہنائیوں میں ایک طلسماتی سحر بکھیر رہی ہے حتیٰ کہ گہری خاموشی اور گھمبیر سناٹے کابھی اپناایک شاعرانہ رنگ ہے جس میں موسیقی کی صدا ہے ۔َ اسی طرح انسانی ذہن بھی ایک پوری کائنات اپنے اندرسمیٹے ہوئے ہے لیکن انسان کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے خیالات و احساسات کے لسانی اظہار پرقادر ہے اور اس اظہار کی ایک خاص شکل شاعری کارنگ اختیار کر لیتی ہے ۔شاعری کے بیشمار نمونے بنی نوع انسان کی مختلف زبانوں اور مختلف زمانوں میں وجود پذیر ہوتے رہے اور شاعری نے انسان کی تاریخ میں قدم قدم پراپنااثر دکھایاہے۔
    علامہ محمد یوسف جبریل ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی پاکستان 03009847582
    http://www.oqasa.org
    Back to Conversion Tool

Leave a Reply to shaukat awan Cancel reply