Nazria Pakistan Aik Haqeeqat 24th July 2017 at Sangam Marriage Hall

Organized by :

Mureed e Iqbal Foundation  and  Yousaf Jibreel Foundation

24th July 2017

at Sangam Marriage Hall near Shareef Hospital Wah Cantt.

مریدِ اقبال فاؤنڈیشن (انٹرنیشنل) پاکستان اور یوسف جبریل فاؤنڈیشن، واہ کینٹ کے زیرِ انتظام 24جولائی 2017 ء بروز سوموار شام 7 بجے ’’نظریۂ پاکستان ایک زندہ حقیقت‘‘ کے عنوان سے سنگم میرج ھال، واہ کینٹ میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب بلوچستان سے تشریف لائے ہوئے پاکستان اور نظریۂ پاکستان کے ایک نوجوان اور متحرک کارکن جناب راز محمد لونی کے اعزاز میں منعقد کی گئی۔
اِس شاندار تقریب کی صدارت وطنِ عزیز کے نامور ماہرِ اقبالیات ، ادیب اور کالم نگار جناب ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی صاحب میگزین ایڈیٹر نوائے وقت اسلام آباد نے فرمائی۔ جبکہ مہمانِ خصوصی جناب سردار خالد ابراہیم خان ،  آزاد جموں کشمیر اسمبلی اور صدر جموں کشمیر پیپلز پارٹی تھے۔ مہمانانِ اعزاز میں جناب طارق منیر بٹ صاحب، سینئر نائب صدر جمیعت علمائے پاکستان صوبہ پنجاب اور جناب ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن نورانی ، مرکزی سینئر نائب صدر انجمن طلبائے اسلام پاکستان شامل تھے۔ اِس تقریب کے انعقاد کا مقصد نسلِ نو کو نظریۂ پاکستان کی اہمیت سے روشناس کانا اور آج کل وطنِ عزیز کی نظریاتی سرحدوں کو لاحق خطرات سے آگاہ کرنا تھاکیونکہ دونوں منتظمین مریدِ اقبال فاؤنڈیشن (انٹرنیشنل) پاکستان اور یوسف جبریل فاؤنڈیشن، واہ کینٹ کا نصب العین بانیانِ پاکستان کے افکار کی ترویج اور نظریۂ پاکستان کا تحفظ ہے۔ پروگرام میں حسن ابدال، ٹیکسلا اور واہ کینٹ سے نامی گرامی شعرائے کرام، علمی و ادبی شخصیات ، ماہرینِ تعلیم ، طلباء اور سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
وسیم احمد  میزبانِ مجلس تھے۔ تلاوتِ کلامِ مجید وقار احمد اعوان نے کی۔ مریدِ اقبال علامہ غلام فریدؔ نقشبندی کا نعتیہ کلام ’’ہوتا نہ تُو تو کچھ نہ تھ ذوقِ جہانِ رنگ و بُو‘‘ معروف نعت خوان جناب محمد حذیفہ نقشبندی نے پیش کیا۔ یوسف جبریل فاؤنڈیشن کے سیکرٹری جنرل جناب رضوان یوسف نے خطبۂ استقبالیہ دیتے ہوئے علامہ یوسف جبریلؒ اور مریدِ اقبال علامہ غلام فریدؔ نقشبندی کی شخصیات اور خدمات پر مفصل روشی ڈالی اور مذکورہ دونوں شخصیات کی پاکستان اور نظریۂ پاکستان سے روحانی وابستگی کو بیان کیا۔ مہمانِ اعزاز جناب طارق منیر بٹ صاحب، سینئر نائب صدر جمیعت علمائے پاکستان صوبہ پنجاب نے خطاب کرتے ہوئے تحریکِ آزادی میں علمائے کرام کے کردار کو موضوعِ سخن بنایا۔
صاحبِ شام جناب راز محمد لونی نے نہایت پرجوش انداز میں پاکستان اور نظریۂ پاکستان کا دفاع کیا اور گزشتہ دنوں بلوچستان میں ہونے والی پاکستان مخالف سرگرمیوں اور بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی بلوچستان میں رہائش گاہ ’’زیارت زیذیڈنسی‘‘میں آتش زنی جیسے واقعات کی حقیقت بیان کی اوراِس عزم کا اظہار کیا کہ ہم پہلے پاکستانی ہیں اورسندھی، بلوچی ، پٹھان اور پنجابی بعد میں ۔
مہمانِ خصوصی جناب سردار خالد ابراہیم خان ،  آزاد جموں کشمیر اسمبلی اور صدر جموں کشمیر پیپلز پارٹی نے نظریۂ پاکستان اور بانیانِ پاکستان سے متعلق کئے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا ردکرتے ہوئے کئی نادر تاریخی حقائق سے پردہ اُٹھایا۔ اُن کے بعد صدرِ مجلس نامور ماہرِ اقبالیات ، ادیب اور کالم نگار جناب ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی صاحب میگزین ایڈیٹر نوائے وقت اسلام آبادتقریب سے خطاب کرنے سٹیج پر تشریف لائے۔ ڈاکٹر صاحب نے نہایت متاثر کن انداز میں مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ اور نظریۂ پاکستان کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔ آپ نے پاکستان کو لاحق اندرونی و بیرونی خطرات سے نجات اور پاکستان کے تمام موجودہ مسائل کے حل کے لیے فکرِ اقبالؒ کو اپنانے پر زور دیا۔
صدر مریدِ اقبال فاؤنڈیشن (انٹرنیشنل) پاکستان جناب پروفیسر ایس ایم قاسمی نے تمام مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیااو ر کہا کہ دراصل نظریۂ پاکستان ہی نظریۂ اسلام ہے۔ اُنہوں نے صاحبِ شام جناب راز محمد لونی کر دورانِ خطاب سٹیج پر بلا کر اُن سے اظہارِ یک جہتی کیا اورحقیقی پاکستانیت اورترویجِ فکرِ اقبالؒکی خاطر ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ آخر میں رضوان حفیظ بٹ صاحب نے ملی نغمہ ’’یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اِس کے‘‘ پیش کیا۔

Print Friendly

Related Posts

  • 56
    مختصر تعارف علامہ محمد یوسف جبریل 17فروری 1917ءکو وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ملک محمد خان کےگھر پیدا ہوئی۔ یہ وہی تاریخ بنتی ہےجس تاریخ کو بائیبل کےمطابق طوفان نوح آیاتھا ۔اس دور کو بھی ایک طوفان دیکھنا تھا مگر مختلف قسم کا ۔ طوفان نوح آبی تھا مگر…
  • 54
    (۱) علامہ محمد یوسف جبریلؒ ملک کی مشہور و معروف علمی وروحانی شخصیت ہیں اور واہ کینٹ میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔اُنکا ورثہ اُمتِ مسلمہ کیلئے ایک مشعلِ راہ کی حیشیت رکھتا ہے۔اُنکے اُفکاروپیغام کو اُجاگر کرنے اور آسان وفہم انداز میں عوام الناس تک پہنچانے کیلئے یوسف…
  • 54
    کیا پاکستانی ادب لمحہءموجود کی ضرورت ہے؟ تحریر محمدعارف ادب جغرافیائی حدود و قیود کا نام نہیں، بلکہ یہ ملکی سرحدوں کو عبور کرکےخطےکےجذبوں کو زبان عطا کرتا ہی۔ ادب پاکستانی نہیں ، ادب ایرانی نہیں، افغانی نہیں، انسانی ہوتا ہی۔ ہر ملک کی نظریاتی، جغرافیائی سرحدوں کو تحریروں میں…

Share Your Thoughts

Make A comment