نظریہءپاکستان کو تقویت دینےوالےعوامل

014
ziaullah zia”میرے٢٢ اپریل کےاقراءکےمضمون کےسلسلہ میں مختلف نادیدہ دوستوں کےتاثرات پر مشتمل خطوط موصول ہو رہےہیں۔ جن میں تحسین اور مذمت و ذم دونوں کا پہلو موجود ہے۔اگرچہ ان کی حیثیت نجی ہی۔ لیکن خصوصیت سےایک پروفیسر جناب عبد الرحمن صاحب شعبہءکیمیاءکےخط کےمندرجات جستہ جستہ مقامات سےقارئین کی دلچسپی کےلئےپیش ہیں۔ موصوف لکھتےہیں۔”اقراءکی وساطت سےایک عرصہ سےآپ کو آوازِ حق بلند کرتےدیکھ رہا ہوں اورآ پ کےحوصلےاور ہمت کی داد دیتا ہوں۔٢٢ اپریل کا اقرا ءمیرےسامنےہی۔آپ نےٹیلی ویژن کےبارےمیں جو اظہارِ خیال فرمایا ہی۔ اب و ہ چیزیں اوپر والوں کےلئےان کی تہذیب و ثقافت کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ لہذا اگر خوردبین لگا کر بھی و ہ ان چیزوں کےاندر برائی دیکھناچاہیں۔ تو نظر نہیں آتی۔ دیکھنےکےاطوار بدل جائیں تو نگاہیں ا س طرح اندھی ہو جاتی ہیں۔ اشیاءکےحُسن و قبح کامعیار بھی فکر کی پاکیزگی اور پراگندگی پر منحصر ہوتا ہی۔ ٹی وی کا یہ مخلوط اسلام کیا کیا گل کھلائےگا؟ اس کےنتائج سےکون لال بجھکڑآنکھیں بند کر سکتا ہی؟ کوئی لال بجھکڑ اگرآنکھیں بند کرےتو کرےحقیقت شناس نگاہوں سےاس کےمضمرات دھندلےنہیں رہ سکتی۔ ویٹ نام جب امریکہ کےساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا تو ویٹ نام کےریڈیو پر موسیقی اس لئےممنوع رہی کہ یہ قوی کو سلا دیتی ہی۔ اور پھر جب ایک برسرِ پیکارقوم سو جاتی ہےتو پھر تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ہم تو ہرآن، ہر لمحہ امن میں بھی اور جنگ میں بھی داخل میں بھی اور خارج میں بھی شیطانی قوتوں سےبر سرِ پیکار ہیں۔ وی سیآر نےقیامت برپا کر دی ہی۔ پہلےشرم سےآنکھیں جُھک بھی جاتی تھیں لیکن ٹی وی کی ثقافت نےنگاہوں کو اتنا بےباک اور ذہنوں کو اتنا فراخ کر دیا ہی۔ کہ دیدےپھاڑ پھاڑ کر ٹی وی کی سکرن پر ننگےجسموں کو پتھرائی ہوئی آنکھوں سےدیکھا جا تا ہی۔ مائیں بھی دیکھتی ہیں بیٹیا ں بھی اور بہنیں بھی۔ یوں لگتا ہےجیسےانسان کےاندرکا وحشی شرم و حیا کی ہر قدر کو مٹا دینےکےدرپئےہو“۔ پروفیسر عبدالرحمن صاحب کا خط بہت طویل ہےاور اُ نہوں نےزندگی کےتقریباً سارےشعبوں کا تجزیہ کرتےہوئےاجتماعی فساد کا مرثیہ کہتےہوئےان کےمحرکات کو بھی موضوع ِ بحث بنایا ہی۔ ہمارےجملہ شعبہءحیات میں بگاڑ اپنیآخری انتہاوں کو چھُورہا ہی۔ ‘ تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم، اس بگاڑ کےماخذ بہت قدیم اور پیچیدہ ہیں۔ افلاطون ‘ ری پبلک‘ میں ایک نصب العینی مملکت کا خاکہ وہ اپنےاستاد سقراط کی زبانی کچھ اس انداز میں کھینچتا ہی۔ ” یہاں جسمانی حسن سب سےبڑی سچائی ہی۔ جسمانی حسن عریانیت میں اپنی انتہاءکو پہنچتا ہی۔ اس لئےجسمانی تربیت ساز اداروں کی کثرت ہونی چاہئے۔جہاں مر د و زن بغیر کسی روک ٹوک اور فرسودہ اخلاقی ضابطوں کےاپنےجسمانی کمالات کا اظہار کر سکیں۔ صحت مند قوم کی تخلیق کےلئےصحت مند مرد و زن کا اختلاط ضروری ہےجسمانی طور پر ناکارہ بچوں کےاتلاف کا حکومت کو اپنےطور پرخفیہ انتظام کرنا چا یئے۔شادی اور ماں باپ وغیرہ کی اصطا حیں ناقص اور دور از کار رفتہ ہیں۔ چنانچہ یونانِ قدیم میں مجسمہ سازی نقالی، جمنازیم مخلوط کھیلیں عام تھیں۔ یونان کی یہی میراث روم منتقل ہوئی لیکن چونکہ وہ عسکری ذہن رکھتےتھےاس لئےاس چیزنےوہاںSKEPTICISM کی شکل اختیار کر لی۔
رومی تہذیب کےزوال کےبعد سےیورپ کی نشا ةثانیہ تک ہزاروں سال کےدورِ مظلمہ میں یورپ لادینیت اور اخلاق باختگی کی انآخری سرحدوں کو ابھی تکنہیں پہنچا جہاں وہ دورِ جدید کےباغیوں میکیاولی ،ڈارونسیگمنڈ، فرائڈ، ہیگل اور کارل مارکس کےمذہب و اخلاق سےرشتہ توڑنےکےساتھ ساتھ یونانِ قدیم کی ان ملحدانہ اور مادہ پرستانہ بنیادوں کو نئی فکر اور نئی جہت عطا کرنیکےبعد پہنچا ہی۔ اس جدید جہالت اور مادہ پرستی نےہماےمستغر بین Occidentalists کو اس بودی تہذیب و فکر کی چکا چوند سےاس حد تک متاثر کیا کہ ہمارےمشاہیر اس رو میں بہہ گئی۔ سید جمال الدین افغانی نےعالمِ اسلام کےاتحاد کےلئےاپنی پوری زندگی صرف کی۔ استعماری پنجوں میں جکڑی ہوئی دنیائےاسلام نےخوابِ غفلت سےانگڑائی لی۔ مکہ معظمہ میں اُ م القری کےنام سےایک انجمن بھی قائم ہوئی جس کا کام خلافت کےتنِ مردہ میں نئی زندگی ڈالنا تھا ۔ ١١٩١ ءمیں سالونیکا کےمقام پر اتحادِ اسلامی کانفرنس منعقد ہوئی لیکن مغربی استعمار نےنوآبادیاتی اسلامی ممالک میں وطنیت کا زہر پھیلا کر ان کےا تحاد کو پھر پارہ پارہ کرنا شروع کر دیا ۔ان کا حال معلوم کرنےکےلئےگِب کی کتاب Wither Islam? کا مطالعہ بہت سی سازشوں سےپردہ اٹھا دینےکےلئےکافی ہی۔ علامہ اقبال کو وطنی قومّیت کی اس زہر کا علم تھا اس لئےانہوں نےیورپ کےتصّورِ وطنیت کےخلاف بہت کچھ لکھا اور اس سلسلےمیں مولانا حسین آحمد مدنی اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسےاکابر علما کو بھی معاف نہ کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کےاسیری ٠٢٩١۔١٢٩١ ءکےبعد کےافکار و تصّورات تو خالصتاً مغربی ہو گئےتھی۔ سرسیدآحمد خان عظیم مصلح تھےلیکن مغربی افکار کےمعاملہ میں ان کا رحجان بھی معذرت خواہانہ تھا۔ جسٹس سید امیر علی کی” سپرٹ آف اسلام “اگرچہ بہت اعلیٰ پایہ کی تصنیف ہےاور ان کا مقصد بھی اہلِ مغرب کو اسلام سےآگاہ کرنا تھا لیکن مغرب پرستی اور معذرت خواہی میں اس موضوع سےوہ انصاف نہ کرسکے۔ضیا گوکلپ ،مصطفےکمال اتاترک کی مذہب بیزاری کا اصل موجب تھا۔ مصر میں بھی جدیدیت اور مغرب پرستی نےوباءکی صورت اختیار کر لی۔ یہاں سید جمال الدین افغانی کی اسلامی تاریخ کی باقیات نیاس سیل ِتندرو کا مقابلہ کیا۔ محمد عبدہءاور ان کےساتھیوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جدید جہالت کےخلاف مختلف اسلامی ممالک میں مختلف مزاحمتی تحریکیں برپا ہو ئیں۔لیکن بد قسمتی سےمغربی استعمار سےآزادی حاصل کرنےکےبعد بیشتر اسلامی مملکتیں مغرب کےسجادہ نشینوں ہی کےہاتھ میں رہیں۔ جہاں وہی مغربی تہذیب و اقدار فروغ پذیر ہی۔ مرورِ ایام و اعصار کےباوصف یونانِ قدیم کےتہذیبی رکھ رکھاو، فکری بنیادوں، فنونِ لطیفہ اور باقی تہذیبی و تقافتی مظاہر جو ہر فرق کےبغیر محض لیبل بدل بدل کراسلامی معاشرےکو POLLUTE کرتےرہے۔جیسا کہ میں نےابتداءمیں عرض کی تھی کہ یورپ کی نشاِة ثانیہ نےمذہبی اقدار کےخلاف اس درجہ بغاوت کی۔ کہ میکیاولی سےبرٹرینڈ رسل تک تقریباً سبھی فلاسفروں اور سائنس دانوں نےہستیءباری تعالیٰ اور حیات بعد الممات کا مضحکہ اڑایا ۔اس کی تفصیل کےلئےاقراءکےصفحات کافی نہیں۔ ہستی باری تعالیٰ اور حشر نشر کےاثبات و انکار نےزندگی کےدو متضاد رویّوں کو جنم دیا۔ ایک رویّہ مادہ پرستی کا تھا جس کا مقصود محض دنیا کی ترغیبات تک محدود رہا۔ اس روّّیئےنےانسان کو سرمایہ داری، اشتراکیت، فسطائیت اورجو ع الارضی میں گرفتار کرکےاسےریچھ بنا دیا بھیڑ یا بنا دیا۔ اس ہیمت و درندگی کےمظاہرےآج ان بےخدا نظاموں کےذریعےدنیا میں ہر کہیں ہو رہےہیں۔ لیکن اس کا مظہر اتم بیگناہ افغانستان بنا ہو اہی۔ بیس بائیس لاکھ بےقصور افغانیوں پر عرصہءحیات تنگ کر کےانہیں پاکستان جیسےغریب ملک میں دھکیلا گیا ہی۔ چودہ پندرہ لاکھ افغانیوں کو توپوں اور بموں کا چارہ بنایا گیا ہی۔ اور لاکھوں کو ایران، مغربی یورپ، ہندوستان اور امریکہ میں پناہ لینےپر مجبور کیا گیا ہی۔ بقول پروفیسر عبد الرحمن صاحب ایسا لگتا ہےانسان کےاندر کا وحشی باہر نکل کر جارحیت اور بربریت کا ننگا ناچ کر رہا ہی۔ یہ اس رویّہ زندگی اور مقصود ِ حیات کا شاخسانہ ہےجو میکیاولی سےہیگل اور کارل مارکس تک مغربی دانش وروں اور فلسفیوں نےاپنی تحریروں میں دنیا کےسامنےپیش کیا۔سائنسی ایجادات نےان بےخُدا اور غیر انسانی فلسفوں کو قوت بہم پہنچا کر انہیں نوعِ انسانی کےلئےموجبِ ہلاکت بنا دیا ہے۔دوسرا رویہ زندگی ہستیِ باری تعالیٰ اور حشر و نشر کےاقرار سےجنم لیتا ہی۔اس میں ایک ایک لمحہ کیلئےاعمال کی جواب دہی کا تصور ہی۔ فلاح و خسران کا دارومدار اس امر پر موقوف ہےکہ انسان کےازلی داعیہ خیر کو تحریک دینےوالےنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کےمطابق زندگی بسر کی یا اس سےہٹ کر بنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مقدسہ کا معیار حق ہی۔ ہدائت صرف اور صرف اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےمشروط ہی۔ اور باقی جو کچھ ہےوہ عین ضلالت فماذابعد الحق الّا الضلال۔ اسلام ایک مکمل اور ابدی نظامِ حیات ہی۔ جس کےجملہ شعبےباہم مربوط ہیں۔ استعماری غلامی نےہمارےقلب و اذھان کو اس حد تک متاثر کیا ہُوا ہےکہ ہم معذرت خواہی کےبغیر بحیثیتِ اُ مّت ِ مُسلمّہ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے۔کہ ہمارےپاس اپنا ایک افضل و اکمل نظامِ حیات ہی۔ ہمیں کسی بیرونی نظام کی پیوندکاری کی قطعاً کوئی حاجت نہیں۔ اس فکری پراگندگی نےہماری قوت کو پارہ پارہ کر رکھا ہی۔
چوں شود اندیشہءقومےخراب
ناسرہ گردد بدستشِ سیمِ ناب
مُرد اندر سینہِ اش قلبِ سلیم
در نگاہش کج نما ید مستقیم
بر کنار از حرب و ضربِ کائنات
چشمِ او اندر سکوں بیند حیات
پس نخسیتن باید ش تطہیرِ فکر
بعد ازاںآساں شود تعمیرِ فکر
( پس چہ باید کرد)
اقراءکےصفحات ہی میں اپنےایک مضمون میں کہا تھا کہ اگر ہمیں اسلام پر شرحِ صدر ہو جائےتو ہمارےتمام مسائل کا حل اور ہمارےدکھوں کا مداوا بس یہی ہی۔ ہم اسلام کی تکرارِ محض تکلفاً اور رسماً کرتےہیں۔ لیکن اس کےحیات بخش اصولوں کےعملی نفاذ کو انفرادی اور اجتماعی طور پر نافذ کرنےمیں متامل ہیں۔ درحقیقت ہمارےتحتالشعور میں ا س خیال نےجڑ پکڑ لی ہےکہ جدید نظام ہائےحیات کےمقابلےمیں اسلامی نظام از کارِ رفتہ ہےوگرنہ معذرت خواہی چہ معنی دارد؟ ہمارےملی زوال و اضمحال میں منجملہ دیگر عوامل کےسب سےبڑا عامل نظریہءحیات کا فقدان ہی۔ کبھی مغرب کےدستر خوان سےریزہ چینی کرتےہیں اور کبھی سویٹ سامراج کےغیر انسانی اور غیر فطری نظا م کو اپنےدکھوں کا مداوا سمجھتےہیں۔ مغربی نظامِ تعلیم نےہمیں میراثاً اپنےنظریات و تصورات منتقل کرنےکا اہتمام کیا تھا۔ ابھی تک ہم اس سےچھٹکارا حاصل نہیں کر سکی۔ مثبت طور پر ابھی تک ہم اپنےلئےنظریہءحیات متعین نہیں کر سکی۔ وضع قطع میں ہم نصاری اور تمّدن میں یہود ہیں۔ یونانِِِ قدیم کی اشتراکی حکمت مجوسیت، شنکر اچاریت یہودیت اور عیسائیت کےعلاوہ جدید لادینی فلسفوں نےہمارےقلب و ذہن کو چوں چوں کا مربہ HOTCH POTCH بنارکھا ہی۔ قومی زندگی میں تین دہےخاصا عرصہ ہوتا ہےلیکن ہم نےابھی تک بھٹکنا چھوڑ کر منزل کی طرف پہلا قدم بھی نہیں ڈالا۔ کوئی ملک آئیڈیالوجی کےبغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور پاکستان کا اساسی نظریہ صرف اورصرف اسلام ہی۔ اسلام سےپاکستان کی بقا مشروط ہےبالکل اسی طرح جسطرح صیہونیت سےاسرائیل اور اشتراکیت سےروس کی بقا مشروط ہی۔ اسلام ہمیں باطل قوتوں کےمقابلہ میں بنیانِ مر صوص بن جانےکی تاکید کرتا ہےلیکن مقصودِ حیات کےترک کرنےسےہم ذلیل و خوار ہیں۔
شبےپیشِ خدا بگریستم زارمسلمانان چرا خوارندو زارند
نداآمد نمےدانی کہ ایں قوم

دلےدارند و محبوبےندارند
مقصودِ حیات کےعملی نفاذ ہی سےنتائج مرتب ہو کر ثمرات عام الناس تک پہنچتےہیں۔ موجودہ حکومت بلا شبہ دل سوزی کےساتھ مثبت اقدامات کےذریعےاسلامی نظامِ حیات کا نفاذ کرنا چاہتی ہی۔ اقدامات کی تفصیل سنتےسنتےکان پَک گئےہیں۔ لیکن مثبت نتائج کا قوم ھنوز بےچینی سےانتظار کر رہی ہی۔ جو لوگ جمہور ا مّت کےمُسّلمہعقائید کا مذاق اڑائیں۔ وہ اس نظامِ عمل کا عملی نفاذ کرنےکےہرگز اہل نہیں۔ نہ ہی وہ لوگ جو قرانی تعلیمات اور سیرت مقدسہ کےعین برعکس تفریح کےنام پر فخاشی اور بےحیائی کےفروغ کےذمہ دار ہیں۔ اس نظام کےنفاذ کو منطقی انجام تک پہنچا سکتےہیں۔ اسلام ہرگز مخلوط مجالس گانےبجانےرقص و سرود غیر نصابی یا ہم نصابی سرگرمیوں کےطور پر ان خرافات کو برداشت نہیں کر سکتا ۔گناہ و منہیات کو خواہآپ ثقافت اور فن کا حسین نام دیں۔ اس سےحقیقت نفس الامری میں کیا فرق واقع ہو گا۔ یہ وہی اسلامی سوشلزم کی اجتماعِ ضدین اصطلاح کی بات ہوئی یا اسلامی شراب، اسلامی طوائف وغیرہ جب تک اعلی اورخالص اسلامUNADULTRATED نافذ نہیں ہوتا نتائج میں مثبت فرق محسوس نہیں ہو سکتا۔ اس وقت پاکستان میں اسلامی نظام کےعمل کو سبوتاژ کفر ملتِ واحدہ کےطور پر کام کر رہا ہی۔ یہ اسی شیطان پارٹی کےلوگوں کی کارستانی ہےکہ وہ اسلامی نظام کےصحیح نفاذ میں گام گام پر موانعات کےپہاڑ کھڑےکر رہےہیں۔ نوائےوقت کےایک حالیہ اداریئےمیں نظریہءپاکستان سےنوجوان نسل کو تصحیح آگاہ کرنےکےلئےنظام تعلیم میں مثبت تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ نظریہءپاکستان کےمنافی مواد خارج کرنا ایک صلبی پہلو ہی۔ اسےنظریہءپاکستان کےتقاضوں سےہم آہنگ کرنےکی ضرورت ہی۔ تاکہ ہماری نوجوان نسل میں اسلام کےلئےغیر متزلزل ایمان و ایقان پیدا ہو اور وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عصر ِ جدید کےتقاضوں سےہمآہنگ ہونےکی تعلیم و تربیت حاصل کری۔ وسائلِ ابلاغ اب طلبہ و طالبات کےنصاب کا حصہ بن چکےہیں ۔ اس لئےانہیں بےہودگی، جرائم پیشگی، صنفی انارکی، عریانی اور فخاشی سےپاک کرنا از بس ضروری ہی۔ ڈاکٹر اسرارآحمد صاحب نےقرانی تعلیمات پر مشتمل الہدی پروگرام شروع کیا ہی۔ یہ ٹیلی وژن کارپوریشن کی نہائت مستحسن کوشش ہی۔ اور ذاتی طور پر میں نےٹیلی وژن سنٹر لاہور کو اس سلسلہ میں متعدد خط بھی لکھےتھی۔ اس پروگرام کو اگر اقراکی طرح خبروںسےپہلےروزانہ دکھایا جائےتو اور بہتر ہو گا۔ نشانِ راہ پروگرام اصلاح طلب ہی۔ اسلام کو نفسیاتی اور فلسفیانہ موشگافیوں کی بھول بھلیوں سےہٹا کر عام فہم اورآسان زبان میں پیش کیا جائی۔ اسلام ہرعمل کےلئےسند کاطالب ہے۔ خواہ یہ قران کی ہو یا حدیث کی خالی خولی اشتباہ زیادہ کرنےوالی باتیں سود مند نہیں ہیں۔ ستم ظریفی کی انتہا ملاحظہ کیجئےکہ دو ہفتےقبل الہدی کےایمان افروز پروگرام کےبعد ‘کٹاری فلم پیش کی گئی جس میں ہیروئن کٹاری بالکل حیا سوز اور عریاں لباس میں پیش کی گئی۔ ایک تالاب میں اگر دو چار ستھرےپانی کےنل پندرہ بیس منٹ کےلئےکھولےجائیں لیکن متعفن اور گندےپانی کےبییسوں نل ہر وقت کھلےچھوڑےجائیں تو وہاں پانی کیسےپاکیزہ رہ سکتا ہی۔ وسائلِ ابلاغ اب محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہےبلکہ تعلیمات اور انصاب کا حصہ بن چکےہیں ۔اس لئےان میں ہمہ گیر اصلاح کی ضرورت ہی۔ حیا سوز فلموں اور مخرب الاخلاق لٹریچر پر پابندی لگانی ضروری ہی۔ قوم کا مستقبل نوجوان نسل سےوابستہ ہے۔ نوجوان نسل کی بہترین تربیت و تعلیم کا اہتمام ہر جہتی انداز میں کیا جانا چاہیئی۔ پاکستان کی بقا اسلام سےوابستہ ہےاور اسلام کی حفاظت نوجوان نسل کےگرم خون ہی سےہو گی۔ نوجوان نسل نےپاکستان کےقیام کےلئےبےپناہ قربانیاں دیں۔ میں زبورِ عجم حصہ دوم نظم نمبر19 صفحہ 117 سےاقبال کےچند اشعار کےساتھ بات ختم کرتا ہوں۔
ایں نکتہ کشائیندہء اسرارِ ِ نہاں است

ملک است تنِ خاکی و دیں روحِ رواں است
تن زندہ و جاں زندہ زربطِ تن و جاں است

خرقہ و سجادہ و شمشیر و سناںِخیز
ز خوابِ گرا ں خوابِ گراں

خوابِ گراں خیز از خوابِ گراں خیز
(ترجمہ) ” میں تم کو ایک نکتہ بتاتا ہوں ۔ جس سےتم پر اسرارِ جہاں فاش فاش ہو جائیں گے۔ وہ نکتہ یہ ہےکہ ملک کو بمنزلہ تنِ خاکی کےاور دین کو بمنزلہءروح کےسمجھو اور ظاہر ہےتن و جان دونوں کی زندگی ربطِ باہم پرموقوف ہی۔ اسی طرح حکومت اوردین کو ایک دوسرےسےجُدا نہ کرنا کہ دین کی حفاظت حکومت سےہےاور حکومت کی درستی خوبی استحکام اور بقاءدین سی۔ یہ نکتہ خفیہ رازوں کو کھولنےوالا ہی۔ ملک تن خاکی ہےاور دین روح رواں ہی۔ تن زندہ اور جان زندہ تن و جان کےربط سےہے خرقہ اور سجادہ اور شمشیر و سناں لےکےاٹھ ۔گہری نیند ، گہری نیند، گہری نیند سےاٹھ گہری نیند سےاٹھ “۔ (مضمون تمت بالخیر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر سید ضیاءاللہ ضیائ
ادارہ افکار جبریل قائد اعظم سٹریٹ نواب آباد واہ کینٹ


Print Friendly

Download Attachments

Related Posts

  • 70
    بسم اللہ الرحمن الرحیم اللھم صلی علی محمد و علی آلہ و اصحابہ و اھل بیتہ و ازواجہ و ذریتہ اجمعین برحمتک یا الرحم الرحمین o توحید اور تولید قرآن و سنت کی روشنی میں (ایک تقابلی جائزہ ) پیش لفظ ان صفحات میں ایک حقیر اور ادنیٰ سی کوشش…
  • 59
    وقاص شریف ، تلاشِ حقیقت کا شاعر تحریر : محمد عار ف (ٹیکسلا) طالب قریشی، جوگی جہلمی اور تنویر سپرا کی سرزمین وادی جہلم کےدامن میں کھاریاں واقع ہی۔ جہاں کےعلمی و ادبی منظر نامےمیں ایک نئےشاعر وقاص شریف کا ظہور ہواہے۔ وقاص شریف کا شعری مجموعہ ” سازِ دل“…
  • 56
    ”چراغِ راہ“ تحریر : محمد عارف ٹیکسلا واصف علی واصف نےایک دفعہ کہا تھا کہ ” ہم زندگی بھر زندہ رہنےکےفارمولےسیکھتےرہتےہیں اور زندگی جب اندر سےختم ہو جاتی ہےتو ہم بےبس ہو جاتےہیں۔ کیونکہ ہم نےموت کا فارمولا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اسلا م نےبامقصد زندگی کےساتھ بامقصد موت کا…

Share Your Thoughts

Make A comment

Leave a Reply