Asar e Hazir (Mojooda Dor)

عصرِ حاضر

وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا

وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا
قتیلِ عشق کے باطن کی آرزو نہ رہا
رگوں میں جوش حمیت کی آبرو نہ رہی
دلوں میں جوشِ اخوت وہ کو بہ کو نہ رہا
تڑپتے دل کی پکاروں کی بے قراری میں
جگر گداز وہ اندازِ گفتگو نہ رہا
دلِ جہاد میں تنویرِ آرزو نہ رہی
تری رگوں میں وہ اسلام کا لہو نہ رہا
کٹی ہے ایسی وہ سلکِ متین حبل اللہ
کہ تارِ بربط تنظیم و جستجو نہ رہا
خمار بادہ گساران کوئے عرفاں میں
مئے جوان کہن سال کا سبو نہ رہا
جبین غرب میں ضوئے شعور گوں نہ رہی
نگاہِ شرق میں نورِ شعور ضو نہ رہا
میرے خدا یہ شبِ تار کے اندھیرے میں
ترا جہاں تو یہ موجود ہے پہ تو نہ رہا
فسردگی ہے دلِ داغدار گیتی میں
کہ مرد مومن خود دار مرگ جو نہ رہا
عجب ہے اشک فشانی نئے زمانے میں
کہ آنسوؤں کا نئے دور میں سبو نہ رہا
نثار چشم ہے باطن کا خوں بہا جبریلؔ ؔ
متاع اشک ہے شاید گراں بہا جبریلؔ
خخ

فلک ہے نوحہ کناں لا الہ الا اللہ

فلک ہے نوحہ کناں لا الہ الا اللہ
یہ زمیں ہے محوِ فغاں لا الہ الا اللہ
نہاں رہے ہیں جو اسرار اس زمانے سے
ہوئے ہیں مجھ پہ عیاں لا الہ الا اللہ
میرے جگر سے جو قراں کی ہوک اٹھی ہے
سنیں گے اہلِ بیاں لا الہ الا اللہ
تری ہوس کے تلاطم کو پھونک دے شائید
نوائے شعلہ فشاں خیال و وہم و گماں لا الہ الا اللہ
سموم غرب کی آندھی میں مصطفی ﷺ کا نظام
خیال و وہم و گماں لا الہ الا اللہ
نظر فریب ہے دجال و سامری کا یہ فسوں
طلسم جادو گراں لا الہ الا اللہ
الٹ رہی ہے جہاں سے تیری بساطِ حیات
کدھر ہے تیرا دھیاں لا الہ الا اللہ
الٹ رہی ہے جہاں سے بساط مسلم کی
کدھر ہے تیرا دھیاں کدھر ہے تیرا دھیاں لا الہ الا اللہ
وہ علم جس کا ہو انجام ایٹمی دوزخ
وہ علم علمِ قراں؟ لا الہ الا اللہ
یہ غور سائنس و تسخیرِ کائنات جدید
زمیں پہ رشک خیال،قراں کا فکر کہاں لا الہ الا اللہ
ہوس نے زور تو مارا بہت ولے یہ زمیں
ہوئی نہ رشکِ جناں لا الہ الا اللہ
نماز عشق کے طالب سنیں صدائے سروش
ہوئی فلک پہ اذاں لا الہ الا اللہ
اگرچہ حق ہے حقیقت ہے بے دلیل نہیں
ترے لئے ہے گراں مٹے گا اس کا نشاں، لا الہ الا اللہ
اذاں ہوئی پہ جماعت کی آستینوں میں
ہزار بت ہیں نہاں لا الہ الا اللہ
دلوں میں آگ تو بھڑکی ہے
کہ ہو رہی ہے اذاں لا الہ الا اللہ
وضو کریں وہ جو صدیوں سے انتظار میں تھے
کہ ہو رہی ہے اذاں بکھر گئی ہے یہ جاں، لا الہ الا اللہ
جلا دیا ہے حوادث کی آگ نے جبریلؔ
کہ بن گیا ہوں دھواں ، لا الہ الا اللہ
عجب نہیں کہ کہیں سے وہ بت شکن در آئے
جمی ہے بزم بتاں لا الہ الا اللہ
سمجھ رہا ہے تو جنت جسے، جہنم، نہیں جنت
وہ غلط ہے تیرا گماں لا الہ الا اللہ
جلی ہے آگ جلائی ہے تو نے کس کے لئے
ہے کس کا اس میں زیاں لا الہ الا اللہ
یہ سلسلے ہیں عذابوں کے خود تری تخلیق
جواب کن ہے فکاں لا الہ الا اللہ
ہوس کے تپ میں گرفتار ہے یہ دورِ زبوں
جھلس رہا ہے سارا جہاں لا الہ الا اللہ
سمجھ رہا ہے تو جنت جسے، جہنم ، نہیں جنت
یہ تیرا وہم خرد ہے نہیں کوئی جناں لا الہ الا اللہ
خبر نہیں کہ ہے کس حال میں خدا جانے
وہ شہر زندہ دلاں لا الہ الا اللہ
خمار مادہ پرستی ترا اتر جائے
ولے وہ پیر مغاں لا الہ الا اللہ
ملے حفیظؔ تو کہنے لگے وہ ہنس کے مجھے
ابھی تو ہوں میں جواں لاالہ الا اللہ
رواں ہے پیر فرنگ اور تو تعاقب میں ہے
سوئے مرگ رواں لا الہ الا اللہ
رواں تو پیر کے پیچھے ہے اور پیر فرنگ
ہے سوئے نرک رواں لا الہ الا اللہ
خمار مادہ پرستی ترا اتر جائے ولے
وہ پیر مغاں لا الہ الا اللہ
بھڑکتی آگ کے منظر یہ زلزلے یہ عذاب
پناہ ملے تو کہاں لا الہ الا اللہ
تیار بندوں کی خاطر جو ہے سماں جبریلؔ
اماں خدا کی اماں لا الہ الا اللہ
ترا گماں کہ ترقی یہ رواں رہے گی
پہ روز محشر تک دواں لا الہ الا اللہ
مرا یقین کہ فسوں ہے پلک جھپکنے میں
مٹے گا اس کا نشاں لا الہ الا اللہ
دیا ہے دین کو متاع غرور (فریب) کے بدلے
عظیم ہے یہ زیاں لا الہ الا اللہ
دلوں میں آگ کی تلخی (شعلے) ضمیر پر تالے
شعور میں ہے دھواں لا الہ الا اللہ
ستم کی شب میں ہیں روشن یہ ظلمتوں کے چراغ
دھواں دھواں ہے جہاں لا الہ الا اللہ
بھڑکتی جائے ہے یہ آگ اس جہاں میں
اور اس کا نہیں نظر میں کراں لا الہ الا اللہ
بڑھے ہیں اور یہ جھگڑے مٹے نہیں
تھی فضول اپیلِ آئن سٹاں لا الہ الا اللہ
ڈھلے ہیں خاک کے سانچوں میں آگ کے پتلے
کمال کوزہ گراں لا الہ الا اللہ
جلا رہا ہے حوادث کی آگ میں مجھ کو
مرا حریفِ تواں لا الہ الا اللہ
گرج رہا ہے ببر اور اس کے سینے میں
تڑخ رہی ہے سناں لا الہ الا اللہ
نمازِ عشق کے طالب سنیں
صدائے سروش ہوئی فلک پہ اذاں لا الہ الا اللہ
سمجھ ترقی ء دوراں کو لازوال نہ تو
یہ لازوال کہاں لا الہ الا اللہ
یہ منتظر ہے فقط اک ذرا دھماکے کی
مٹے گا اس کا نشاں لا الہ الا اللہ
بکھر گئی ہے یہ جاں جلا دیا ہے حوادث کی آگ نے جبریلؔ
کہ بن گیا ہوں دھواں دھواں لا الہ الا اللہ
خخ

بد ل گئے ہیں زما نے کے مہر و ماہ جبریل

بد ل گئے ہیں زما نے کے مہر و ماہ جبریلؔ
ہو ئی ہے جب سے فقیروں کو حبِ جاہ جبریلؔ
فنا کی جھوک ہے دنیا میں ہے ثبات کسے
گدا رہیں گے جہاں میں نہ بادشاہ جبریلؔ
کسے خبر کہ اسی دورِ بے یقینی میں
تباہ کار ہے صیدِ ستم کی آہ جبریلؔ
یہ خارزار زمانہ تو جل نہیں سکتا
سلگ رہی ہے ستاروں کی کیوں نگاہ جبریلؔ
گناہ گار ہوں اک نیتِ گناہ کا فقط
گناہ ورنہ نہیں ہے مرا گناہ جبریلؔ
ہزار رنج و مصیبت اٹھا سکوں لیکن
گرے پہاڑ تو ڈھونڈوں کہاں پناہ جبریلؔ
اگرچہ عرش معلےٰ پہ سیر کرتا ہوں
نہیں ہے اپنی فرشتوں سے رسم و راہ جبریلؔ
بنا ہوا ہے شفق میں یہ کربلا کا سماں
مرا جگر ہے شہیدوں کی قتل گاہ جبریلؔ
سمجھ رہے ہو جسے تاجِ سروری کا نگیں
یہ پر کاہ سے کمتر ہے پرکاہِ جبریلؔ ؔ ؔ ؔ ؔ ؔ ؔ
خخ

آدمیت کو وہ تقصیر سمجھ
بیٹھے ہیں

آدمیت کو وہ تقصیر سمجھ بیٹھے ہیں
پائے انساں میں وہ زنجیر سمجھ بیٹھے ہیں
آدمیت کی وہ بے لوث جگر کاہی کو
سالمیت کی وہ تحقیر سمجھ بیٹھے ہیں
جن کی آہوں سے یہ دامانِ فلک جل نہ سکا
غم کے ماروں کو وہ تزویر سمجھ بیٹھے ہیں
جن کے سینوں میں نہ تھی حُسنِ تصور کی تڑپ
اپنی شامت کو وہ تقدیر سمجھ بیٹھے ہیں
جن کے سینوں میں نہ تھا حسنِ طلب کا فسوں
اپنی شامت کو وہ تقدیر سمجھ بیٹھے ہیں
جن کی قسمت میں نہیں ذوقِ تخیل کا فسوں
رنگِ باطل کو وہ تنویر سمجھ بیٹھے ہیں
وہ اُلجھتے ہی نہیں مسئلہِ تقدیر سے کیوں
اپنی ہمت کی جو تاثیر سمجھ بیٹھے ہیں
روز و شب ایسی مصیبت میں گرفتار ہیں کیوں
اپنی غفلت کو جو تدبیر سمجھ بیٹھے ہیں
اپنے اس مسکنِ خاکی کی وہ حالت دیکھیں
ماہ و انجم کو جو نخچیر سمجھ بیٹھے ہیں
کاش پیغامِ محمد ﷺ کی حقیقت سمجھیں
فانی دنیا کو جو کشمیر سمجھ بیٹھے ہیں
جن کے سینوں میں نہ تھی حسنِ تصور کی طلب
اپنی شامت کو وہ تقدیر سمجھ بیٹھے ہیں
جن کی آنکھوں میں جھلکتی تھی حقیقتِ جبریلؔ
اپنے خوابوں کو وہ تعبیر سمجھ بیٹھے ہیں
خخ

حاکمیت پیٹ کی دل پر دماغ آزاد ہو

حاکمیت پیٹ کی دل پر دماغ آزاد ہو
قلب ویراں ہو تو ہو پیٹ تو آباد ہو
سنتے آئے تھے کہ قلب او مومن دماغش کافر است
دور بدلا ہے نیا اب فلسفہ ایجاد ہو
خخ

چھن گئی ہے آدمی سے آدمیت کی پوشاک

چھن گئی ہے آدمی سے آدمیت کی پوشاک
اور فی الارض خلیفہ کی روش ہے شرمناک
نہیں بینا نگاہ اہل باطل ورنہ محشر تک
چشم آفتاب انداز مومن میں ہوتی ہے سحر تک
یہ دیکھ اعمال رخشندہ سے محرومی ستم گر کی
کہ خورشید و مہ انجم سے ہے روئے زمین کی روشنی
کمان عزم بوسیدہ خدنگ عقل بے پیکاں
کہاں تک دیکھئے تقدیر سے ہوتی ہے جنگ اپنی
مٹ رہی ہیں اے خدا روحانی اقدار کہن
لٹ رہی ہے خلق پارینہ کی یار و بیخ و بن
کون سمجھائے کہ ہتھیاروں میں ایٹم بم نہیں
یہ جہنم ہے عتاب ایزدی سے کم نہیں
اے پہ جاتا ہے قران کو یہ شرف یا للعجب
جس نے بتلائے ظہور ایٹمی کے سبب
کہہ رہے ہیں ایٹمی جنگوں سے اگر بچنا ہے تو
پیداواروں کو بڑھاؤ اور جھگڑے کو چھوڑ دو
ہے یہ معجون مرکب یہ لا دینی کا دیں
لادینی یہ دیں کے ساتھ چل سکتی نہیں
ہو اگر مومن تو کیوں اس رمز کو سمجھے نہیں
فلسفی اس دور کے ثابت ہوئے کوتاہ بیں
حطمیوں کی بیان کر دی ہیں قران نے صفات
غیبت و جمع و شمار مال و دولت و اقتدارِ کائنات
خخ

حسن تاثیر ہے اک عشق کی تاثیروں میں

حسن تاثیر ہے اک عشق کی تاثیروں میں
عشق تدبیر ہے اک حسن کی تدبیروں میں
ہے مگر عشق بھی تاثیرِ حوادث کا شکار
عقل حیراں ہے نئے عشق کی تقصیروں میں
بجھ گئے دل کے اند ھیرے میں نئی شب کے چراغ
سر چراغاں ہیں نئی برق کی تنویروں میں
حرفِ دانا میں کہیں گرمئے باطن نہ رہی
برف رقصاں ہے نئے رنگ کی تقریروں میں
عشق بے لوث ہو ناپید نگاہوں میں اگر
حسن تصویر ہے ہر رنگ کی تصویروں میں
عشق ناپید ہو بے لوث نگاہوں میں اگر
نور آنکھوں میں ہے نے رنگ ہے تصویروں میں
عشقِ باطل کی ہوسناک نگاہوں کی قسم
دور گریاں ہے نئی عقل کی تذویروں میں
ایٹمی آگ میں اس دورِ جہنم کا سکوں
ایک تاثیر ہے اس علم کی تاثیروں میں
کچھے جاتے ہیں بیابانِ ہلاکت کی طرف
آدمی جادوئے افرنگ کی زنجیروں میں
دیکھ مائل تو نہیں قہرِ الہیٰ کا نزول
خونِ جبریلؔ کی بوباس ہے تعزیروں میں
یہ جہاں آگ کے شعلوں میں کہیں جھونک نہ دیں
کہ فسادی ہے نہاں امن کی تدبیروں میں
کوہِ غم ملتِ مسلم پہ یہ کیوں ٹوٹ پڑا
میں جو تصویر ہوں اک درد کی تصویروں میں
کچھ مہوس ہی نہ سمجھیں گے حقیقت میری
گویا تقدیر ہوں میں عرش کی تقدیروں میں
کیوں میری جان کے لیوا ہیں یہ ابنائے ہوا
میں بھی شمشیر ہوں کیا حشر کی شمشیروں میں؟
اپنی آنکھوں سے یہ اربابِ نظر دیکھیں گے
آندھیاں آگ کی اٹھیں گی جو تقریروں میں
نقش اس دور نگوں سر کا پلٹ جائے گا
ہستی اس دہر کی ڈوبے گی جو تکبیروں میں
شعلہِ عشق ہے ناپید وگرنہ اے دل
حرص نحچیر نہیں عشق کے نخچیروں میں
اہل دل دورِ دروں سے ابھی نومید نہ ہوں
آگ بھڑکے گی کبھی عشق کی تکبیروں میں
اٹھ گیا دشت سے لیلائے فریبی کا فروغ
علم اسلام کا اٹھے گا جو تکبیروں میں
اٹھ گیا دشت سے لیلائے فریبی کا فروغ
علم اسلام کا ابھرا ہے جو تنویروں میں
ڈھونڈھ ماضی کے چراغوں کے سہارے جبریلؔ
کھنڈر آباء کے نئی طرز کی تعمیروں میں
بن کے اک شعلہ بے باک جہاں اٹھے گا
علم اسلام کا ابھرا ہے جو تنویروں میں
خخ

دہر صحرائے معیشت میں ہوا بے راہ رو
دہر صحرائے معیشت میں ہوا بے راہ رو
ہو رہے ہیں پیش گیتی میں نظامِ نو بہ نو
پارہ پارہ ہے زمانے میں ضمیرِ آدمی
آدمی اس خاکداں میں ہے اسیرِ آدمی
چھن چکا آدم کے دل سے آدمیت کا قرار
اشتراکی ہو گیا کوئی ہوا سرمایہ دار
پھر رہی ہے اُ متِ مسلم بھی بے نیل و مرام
کر رہی ہے ہر نظامِ بے حقیقت کو سلام
سوشلزم میں پناہ لینے پہ اب مجبور ہے
آہ اے دنیا ترا کتنا برا دستور ہے
ہو برا سرمایہ داری کا کہ قومِ مسلمیں
ہو رہی ہے آج گردِ سوشلزم کی رہیں
آہ اے اسلام وہ تیری معیشت کا نظام
آج پنہاں ہے نگاہِ آدمی سے جس کا نام
بے خبر ہیں جس کی صورت سے مسلمانانِ دہر
تلملا اٹھا ہے جن کی کم نگاہی سے سپر
آفت اس دنیائے بوقلموں پہ اب آنے کو ہے
رنگ اب غفلت شعاری آپ کی لانے کو ہے
اے مسلماں ہوش میں اب آ کہ ہے وقتِ اخیر
جڑ چکا ہے آسمانِ قہر میں قدرت کا تیر
تیرے بچنے کی اگر کوئی یہاں تدبیر ہے
تیرے ہاتھوں میں اگر کوئی یہاں شمشیر ہے
تو یہی ہے جان لے اے امتِ خیر الانام
عدل و احسانِ معیشت یعنی اسلامی نظام
خخ

عشق تاثیر ہے اک حسن کی تاثیروں میں
عشق تاثیر ہے اک حسن کی تاثیروں میں
حسن تدبیر ہے اک عشق کی تدبیروں میں
ہو گیا عشق بھی تاثیرِِ حوادث کا شکار
عقل حیراں ہے نئے عشق کی تقصیروں میں
حرفِ دانا میں کہیں گرمئی باطن نہ رہی
برف رقصاں ہے نئے رنگ کی تقریروں میں
بجھ گئے دل کے اند ھیرے میں نئی شب کے چراغ
سر چراغاں ہیں نئی برق کی تنویروں میں
عشق بے لوث ہو ناپید نگاہوں میں اگر
حسن تصویر ہے ہر رنگ کی تصویروں میں
عشق ناپید ہو بے لوث نگاہوں میں اگر
نور آنکھوں میں ہے نے رنگ ہے تصویروں میں
ایٹمی آگ میں اس دورِ جہنم کا سکوں
ایک تاثیر ہے اس علم کی تاثیروں میں
کچھے جاتے ہیں بیابانِ ہلاکت کی طرف
آدمی جادوئے افرنگ کی زنجیروں میں
ان پہ مائل تو نہیں قہرِ الہیٰ کا نزول
خونِ جبریلؔ کی بوباس ہے تعزیروں میں
یہ جہاں آگ کے شعلوں میں کہیں جھونک نہ دیں
کہ ستمگر ہیں نہاں امن کی تدبیروں میں
کوہِ غم ملتِ مسلم پہ یہ کیوں ٹوٹ پڑا
میں جو تصویر ہوں اک درد کی تصویروں میں
کچھ مہوس ہی نہ سمجھیں گے حقیقت میری
گویا تقدیر ہوں میں اک عرش کی تقدیروں میں
کیوں میری جان کے لیوا ہیں یہ ابنائے ہوا
میں بھی شمشیر ہوں کیا حشر کی شمشیروں میں؟
نقش اس دور نگوں سر کا پلٹ جائے گا
ہستی اس دہر کی ڈوبے گی جو تکبیروں میں
اپنی آنکھوں سے یہ اربابِ نظر دیکھیں گے
آندھیاں آگ کی اٹھیں گی جو تقریروں میں
اہل دل درد دروں سرد سے نومید نہ ہوں
آگ بھڑکے گی کبھی عشق کی تقدیروں میں
اٹھ گیا دشت سے لیلائے فریبی کا فروغ
علم اسلام کا ابھرا ہے جو تنویروں میں
شعلہ عشق ہے ناپید وگرنہ اے دل
عشق نخچیر نہیں حرص کے نخچیروں میں
ڈھونڈھ ماضی کے چراغوں کے سہارے جبریلؔ
کھنڈر آباء کے نئی طرز کی تعمیروں میں
خخ

طبع فرعون کا ہے پندار سلامت جب تک

طبع فرعوں کا ہے پندار سلامت جب تک
آدمیت سے ہے انکار سلامت جب تک
صدق باطن کے ہیں انوار سلامت جب تک
اپنے مولا ہیں یہ ستار سلامت جب تک
دورِ حاضر کی شبِ تار میں سونا کیسا
قہرِ ایٹم کے ہیں انبار سلامت جب تک
چشم دوراں میں رہے گردش افلاک نگوں
عصر حاضر کے یہ افکار سلامت جب تک
ماتمی شعلہ و قندیل و جرس نوحہ کناں
آستینوں میں ہیں غدار سلامت جب تک
کشت و خوں، ظلم و ستم جور و جفا بے انداز
فتنہ خنجرِ تاتار سلامت جب تک
سرخئے خونِ غریباں سے زمیں سرخ رہے
حلقہء خنجرِ خونخوار سلامت جب تک
بیٹھنے چین سے دیں گے نہ دنیا کو کبھی
اپنی دنیا میں ہیں اشرار سلامت جب تک
سینہء عصر میں ہر درد کی جڑ باقی ہے
فقر و دولت کی ہے پیکار سلامت جب تک

صفحہ دہر سے فرعون کی خدائی نہ ٹلے
ہے یہاں شرک ریاکار سلامت جب تک
ظالمو! کیفرِ کردار کو پہنچو گے ضرور
مالک’ الملک ہے قہار سلامت جب تک
بزدلو ! دل کو دھڑکنے سے کہاں روکو گے
شیر مردوں کی ہے للکار سلامت جب تک
کب تک اس دورِ قیامت کی قیامت آئے
تم ہی کہہ دو کہ ہیں آثار سلامت جب تک
نقشِ قراں کے بدلنے سے ہو انکار کسے
لاشہء حرص کا مردار سلامت جب تک
مبتلا کیوں نہ رہیں فسق میں خاکی بندے
حسن زائل کا ہے بازار سلامت جب تک
کاغ و کرگس کی ضیافت کے ہیں سامان بہت
لاشہء حرص کا مردار سلامت جب تک
ہائے خوں پاش رہے ملتِ بیضا کی ضمیر
روز ملت میں ہے اتوار سلامت جب تک
ایک نیرنگ ہے اس حرص کی رانی کا سنگار
جادوئے درہم و دینار سلامت جب تک
تیرے بچوں کی حفاظت کا خدا ضامن ہے
اس تمدن میں ہے خرکار سلامت جب تک

مغز چکرائے ہوئے دل کی پریشانی میں
فتنہء دورکِ دوار سلامت جب تک
گرد ذلت کے بگولوں میں ہی اسوار رہیں
گرد ویرانئے اقدار سلامت جب تک
آبرو حضرتِ منصور کی قائم ویسے
رسم دنیا میں رہ دار سلامت جب تک
کوئل اس دور میں گائے گی کہاں نغمہء کو
نغمہ نان جگر خوار سلامت جب تک
اپنی ہر بات ملمع پہ ملمع سمجھو
دور حاضر کا یہ عیار سلامت جب تک
کیوں ہوں تاریکیء دوراں میں ہراساں بندے
حرفِ ربی کے ہیں انوار سلامت جب تک
خوش و خورسند خوشامد کے ہیں فنکار مگر
مائی باوا کی ہے سرکار سلامت جب تک
بے وفاؤں کے لئے ذلت و رسوائی ہے
جلوہء حسن وفادار سلامت جب تک
امتحاں غیرتِ مرداں کا ہے آساں جبریلؔ ؔ
آزمائش کی ہے تلوار سلامت جب تک
کیوں ہوں تاریکئے دوراں میں ہراساں بندے
سرِ قلبی کے ہیں اظہار سلامت جب تک

کرن اُ مید کی باقی ہے زمانے میں ابھی
بے نواؤں کا ہے ایثار سلامت جب تک
جرسِ ہمت میں چمکتی ہے حقیقت کی شعاع
امتِ ملتِ ابرار سلامت جب تک
نامناسب ہے بھکاری کو جھڑکنا تیرا
اپنی دنیا میں ہیں نادار سلامت جب تک
اس گئے گزرے زمانے میں بھی نو مید نہ ہوں
مردِ مومن کا ہے کردار سلامت جب تک
جنگ و پیکار و جدل کفر سے پیہم اپنی
اپنے مولا سے ہے اقرار سلامت جب تک
خونِ مسلم کی تجلی سے شفق سُرخ رہے
کفر و ایماں کی ہے پیکار سلامت جب تک
دورِ اقصی کی فضاؤں میں اذاں گونجے گی*
دور باقی ہیں یہ ادوار سلامت جب تک
زیرِ افلاک نہیں قسمتِ غازی میں شکست
نعرہء حیدرِ کرار سلامت جب تک
ہم کو غارت گر و رھزن کا کوئی خوف نہیں
شہرِ طیبہ کا ہے سالار سلامت جب تک
روبہِ حرص کے سینے میں دلِ آزد و نیم
فقرِ مومن کی ہے تلوار سلامت جب تک

دل کی مسجد کے یہ مینار فلک بوس رہیں
اپنی ملت کے ہیں معمار سلامت جب تک
ہم کو دنیا میں کسی بات کی پروا کیا ہے
اپنے داتاؒ کا ہے دربار سلامت جب تک
اپنی بستی میں کوئی راندہء تقدیر نہیں
اپنے یثرب کے ہیں انصار سلامت جب تک
یا خدا عصر میں باقی ہی رہے ذکرِ جلیل
دل کی مسجد کے ہیں مینار سلامت جب تک
کہہ دو جبریلؔ نئے عصر میں نومید نہیں
بندہء مومنِ سرشار سلامت جب تک
(یہ شعر سانحہ اقصیٰ سے بہت پہلے لکھا گیا تھا)
خخ

دشمن اپنے چڑیا گھر کے اندر آئے کیا مطلب

دشمن اپنے چڑیا گھر کے اندر آئے کیا مطلب
مار مار کے چہرہ کر دے لال ہمارا شیر بہادر
ہم کو تم کو سب کو بانٹے دال ہمارا شیر بہادر
راگ رنگ کی محفل بھائیو ذرا جما کے دیکھو
کس خوبی سے دیوے آ کے تال ہمارا شیر بہادر
وچ دشمن دی چال نہ پھسے واہ واہ خون بچھاوے
ہر ویری دے ہیٹھاں اتے ہووے جال ہمارا شیر بہادر
دیکھ دیکھ کے ناچیں سارے تیتر مور چکور
جب جنگل میں پہن کے جائے شال ہمارا شیر بہادر
پُل باندھ کے دکھلا دیوے تعریفوں کے طوطا
جے کچھ یارو ہم کو بخشے مال ہمارا شیر بہادر
وچ مصیبت پے جاوے جے شیر بہادر ساڈا
رکھے تینوں مینوں سب نوں نال ہمارا شیر بہادر
خخ

ساری دنیا کے گلی گوچوں میں ہے برپا فساد

ساری دنیا کے گلی گوچوں میں ہے برپا فساد
اور برپا ساری دنیا میں ہے شیطانی جہاد
آدمی دست و گریباں ہے آدمی سے ہر طرف
پھر رہے ہیں ٹولیوں میں سربکف خنجر بکف
دل میں نفرت ہونٹ لرزاں منہ میں کف
سرخ آنکھیں آگ کی چنگاریاں دل مضطرب
ساری دنیا ہے تباہی کے کنارے پر کھڑی
جانے کب آ جائے ایٹمی قیامت کی گھڑی
اس زمین پر آج ہر سو ظلم ہے اندھیر ہے
مسکن خاکی نہیں چنگاریوں کا ڈھیر ہے
خخ

کس کے زخموں سے یہ آشفتہ صدا اٹھی ہے

کس کے زخموں سے یہ آشفتہ صدا اٹھی ہے
بن کے مظلوم کی صورت یہ بلا اٹھی ہے
ایک تصویر ہے ظلمت کی یہ تصویروں میں
کہ قیامت کی فضاؤں میں فنا اٹھی ہے
نارِ نمرود کا شعلہ ہے کہ مظلوم کی آہ
کیا کہوں تجھ سے مکافات یہ کیا اٹھی ہے
ہے کسی شوخ کی آشفتہ مزاجی کا سماں
کہ ستم کار زمانے کی جزا اٹھی ہے
ہے کسی مفسد و شوریدہ و باغی کی پکار
یا کہ مظلوم کی آہوں میں قضا اٹھی ہے
کانپ جاتی ہے میری روح کہ یہ کیا سنتا ہوں
تو بھی سن میں جو کسی دل کی صدا سنتا ہوں
خخ

پیسہ پیسہ اور پیسہ ہے خداوندِ جہاں

پیسہ پیسہ اور پیسہ ہے خداوندِ جہاں
من بھی پیسہ، تن بھی پیسہ، دھن بھی پیسہ بے گماں

کٹ گئے پیسے کی خاطر رشتہ و پیوند سب
پیسہ ہے معیارِ عزت پیسہ ہے حسب و نسب
آدمی مانند ماہی جال میں مجبور ہے
پیسہ اس دور حمیعت سوز کا دستور ہے
پیسہ ہے آج آدمی کا دین و ایمان و خدا
آدمی مشکل میں ہے اور پیسہ ہے مشکل کشا
کٹ گئے سب رشتہ و پیوند پیسہ رہ گیا
اور انساں سب کچھ اس پیسے کی خاطر سہہ گیا
حکمرانی ہے ہوس کی یہ ہوس کا دور ہے
کیا نئی مادہ پرستی کا اثر کچھ اور ہے
مشتعل تپ ہوس کی آگ میں ہے غرب و شرق
گزر رہی ہے ہر کسی کے دل میں اس لعنت کی برق
کھو گیا ہے آخرت کا خوف اس جنجال میں
آدمی مضروب ہے جمع و شمار مال میں
خخ

جہاں میں ہو رہی ہے گفتگو کیا

جہاں میں ہو رہی ہے گفتگو کیا
رگِ مسلم میں ہے اب تک لہو کیا
دو عالم سے گراں تر لفظ عزت
جیئیں گے ہند میں بے آبرو کیا
میسر ہو نہ آزادی کا جینا
تو ایسی زندگی کی آرزو کیا
دلیل حق ہے باطل سے دوری
کبھی بجا ہوئی ظلمت میں ضو کیا
صداء صور اسرافیل ادانت
بزن تکبیر و برپا کن قیامت
تو اتنا ہو گیا ہے بے نوا کیا
مسلماں ماسوا کا آسرا کیا
ترے سجدے خیال ماسواء میں
بھلا تو نے دیا اپنا خدا کیا
کفن بر دوش و آغاز محرم
بپا ہونے کو ہے پھر کربلا کیا
کوئی برگشتہ ملت سے پوچھے
نبھاتے ہیں یوں ہی عہدِ وفا کیا
جگر جبریلؔ را امروز خوں شد
کہ حال امت مرسل زبوں شد
خخ

چشمِ ویراں میں کہیں گردنِ طناز بلند

چشمِ ویراں میں کہیں گردنِ طناز بلند
دیکھ محشر میں قیامت کے یہ انداز بلند
تندیِ بادِ مخالف سے وہ گھبرائیں کیا
تندیء باد مخالف سے ہے پرواز بلند
تنگ دامانئے گردوں کی شکایت کیسی
ابن آدم کی ہے گردوں سے تگ و تاز بلند
کچھ تعجب ہے جو آہنگ سے محروم ہیں ہم
تو فرو صوت و غلط جوش و مرا ساز بلند
دل میں اک شوقِ تکلم کا تلاطم برپا
میں تہی دست و فرومایہ و ہمراز بلند
اب تو اس زورِ تخیل کی سزا مجھ کو ملے
شاید اس دار پہ ہوں حضرتِ اعجاز بلند
کیسے محشر میں مراتب کا تعین ہو گا
اب تو محمود کی پستی میں ہے ایاز بلند
دورِ ناداں کی غلط کار نگاہوں کے طفیل
آدمی قعرِ مذلت میں ہے غماز بلند
صفحہ دہر پہ اٹھ اٹھ کے جھکے جاتے ہیں
پستیِ خلق میں سائنس کے یہ صد راز بلند
حافظ اب لوٹ کے آؤ بھی کہ شیراز چلیں
پھر سے اک بار کریں نعرہء شیراز بلند
چھین لیتے ہیں گھڑی بھر کا سکوں بھی جبریلؔ
جن کو دیتے ہیں زمانے میں وہ اعزاز بلند
شعر میں ملاحظہ فرمایئے حکیم آئن سٹائن کے نظریہ عافیت کی واضح مثال۔
خخ

حریمِ یار کی خلوت کے رازداں نہ ہوئے

حریمِ یار کی خلوت کے رازداں نہ ہوئے
وہ دل جو شدتِ ھجراں میں خونچکاں نہ ہوئے
اگر قتیلِ وطن میرِ کارواں نہ ہوئے
وہ قافلے سوئے منزل کبھی رواں نہ ہوئے
وہ پا سکے نہ کہیں اپنی زندگی کا سراغ
جو زندگی میں فرشتوں کے میزباں نہ ہوئے
جگا سکے نہ غمِِ دل کی معرفت کا چراغ
وہ کم نصیب جو بربادِ خانماں نہ ہوئے
سمجھ گئے جو حقیقت زیاں کی بچپن میں
ہوئے جوان تو وہ مائلِ زیاں نہ ہوئے
رہے جو منکرِ سود و زیاں جوانی میں
اخیرِ عمر مگر قائلِ زیاں نہ ہوئے
جو پا سکے نہ کہیں رمزِ عشق دنیا میں
وہ آخرت کے ٹھکانوں میں کامراں نہ ہوئے
سرِ نیاز وہ مقتل میں جو کٹا نہ سکے
حریمِ ناز کے پردوں کے پاسباں نہ ہوئے
مٹا سکے جو نہ ہستی کو دارِ فانی میں
قرینِ حشر وہ دارائے لا مکاں نہ ہوئے

مٹا گئے جو جہاں میں نشانِِ ہستی کو
وہ فقر مست قیامت کو بے نشاں نہ ہوئے
قسم ہے تیری متاعِ گرانبہا کی مجھے
رہے نہاں جو دفینے وہ شائیگاں نہ ہوئے
نہ جل سکے وہ جو غیرت کی آگ میں برسوں
عدو کے سینہءِ سنگیں میں وہ سناں نہ ہوئے
نثار جاں کو جو مردانہ وار کر نہ سکے
ذلیل عمر کے ہاتھوں کہاں کہاں نہ ہوئے
رہے ذلیل زمانے میں روزِ محشر تک
ضمیرِِ پاک کے سائے میں جو جواں نہ ہوئے
کمانِ چرخ میں تیر قضا وہ بن نہ سکے
وفورِ کرب میں کھچ کھچ کے جو کماں نہ ہوئے
وہ کٹ گئے جو شجر سے بہار پا نہ سکے
رہے الگ جو ستارے وہ کہکشاں نہ ہوئے
بھرے چمن میں چراغاں وہ ماتمی کیوں ہیں
شجر جو ایسی بہاروں میں گلفشاں نہ ہوئے
جو کٹ گئے وہ شجر کی بہار پا نہ سکے
رہے الگ وہ ستارے جو کہکشاں نہ ہوئے
وہ لا سکے نہ زمانے میں انقلاب کبھی
جو عزم و ہمت و گردش کے آسماں نہ ہوئے

وہ کاروانِ جہاں کی حدی نبھا نہ سکے
مہار مست جو بطخا کے سارباں نہ ہوئے
جو سجدہ گاہِ جبینِ خدا پرست رہے
وہ آستاں کبھی ظالم کا آستاں نہ ہوئے
شجر رہا ہے ہزاروں کی آبیاری میں
جو دے سکے نہ اسے خوں وہ باغباں نہ ہوئے
جو تنکا تنکا زمانے میں چُن کے لا نہ سکے
وہ سیلِ عمر میں مرہونِ آشیاں نہ ہوئے
وہ قطرے قطرہء شبنم پہ جاں جو دے نہ سکے
کبھی وہ زیرِ فلک بحرِ بیکراں نہ ہوئے

جو پا سکے نہ سمندر وہ قطرے قطرے رہے
رہے شجر جو اکیلے وہ گلستاں نہ ہوئے
جو کر سکے نہ گدائی درِ محمدﷺ کی
وہ آسماں کے ستارے بھی کامراں نہ ہوئے
وہ مصطفے ﷺ کی حقیقت سمجھ سکے نہ غریب
جو رازِ ھستیء عالم کے راز داں نہ ہوئے
وہ مبتلائے غمِ روزگار ہیں شاید
وہ گلستاں جو بہاروں میں گلفشاں نہ ہوئے
وہ بے ضمیر جو شاداں رہے تصور میں
یقیں سمجھ کہ حقیقت میں شادماں نہ ہوئے

عمل کسی کے زمانے میں رایئگاں نہ گئے
اگرچہ صفحہء ہستی پہ وہ عیاں نہ ہوئے
لگے ہوئے ہیں وہ تصنیفِ زندگی میں کہیں
وہ رازداں جو میرے دل میں بھی عیاں نہ ہوئے
چھپا گئے وہ میری داستانِ غم کے ورق
وہ اشکِ خوں جو میری چشم سے رواں نہ ہوئے
مجھے خلوص کی شدت نے شرمسار کیا
عجب نہیں تو یہ کیا ہے وہ بد گماں نہ ہوئے
گلہ کناں ہیں وہ تجھ سے بھی خارِ ناکامی
وہ آبلے جو مرے دل میں خونچکاں نہ ہوئے
نہیں پسند مگر طبعِ غم پسند کو بھی
غمِ نہاں جو مسرت سے ہمکراں نہ ہوئے
تڑپ تڑپ کے مرے دل میں لوٹ آتے ہیں
وہ سارے غم جو ترے سامنے بیاں نہ ہوئے
اگرچہ عرش کے پردوں کو تھام لیتا ہوں
ہوئے نہ زیر یہ قسمت کے آسماں نہ ہوئے
جئے فضول جہاں میں میری طرح کے غریب
وہ آسماں کے ستاروں میں جو عیاں نہ ہوئے
مرے جگر کے تراشے ہیں دل کے ٹکڑے ہیں
وہی جو میرے غمِِ دل کے رازداں نہ ہوئے

جو داستاں کے تسلسل میں کھو گئے جبریلؔ
وہ داستاں ہی رہے زیب داستاں نہ ہوئے
جو ہو گئے نہ سراپا غم و الم جبریلؔ
عجب نہیں ہے اگر درد کی زباں نہ ہوئے
خخ

بیکنی دانش کے گردوں کی نئی تاثیر دیکھ

بیکنی دانش کے گردوں کی نئی تاثیر دیکھ
ایٹمی دوزخ کی دھندلائی ہوئی تصویر دیکھ
پھر دیا ابلیس نے ابنائے آدم کو فریب
ہائے ان تقدیر کے ماروں کی یہ تقدیر دیکھ
داعی تسخیر دور گنبد افلاک کو
دام تسخیر جہاں میں صورت نخچیر دیکھ
تو نے قدرت پر تسلط کا کبھی دیکھا تھا خواب
جاگ! کہ اس حشر سامانی کی اب تعبیر دیکھ
ابنِ آدم مبتلا ہے کس غلط فہمی میں تو
سر اٹھا کر کتبہ افلاک کی تحریر دیکھ
میں نے قراں کی کماں سے تیر کھینچا ہے عجیب
اس فضائے تار میں اس تیر کی تنویر دیکھ
آ رہی ہے ’’ نعرہء جبریل‘‘ کی آواز سن
اور تڑپی ہے کسی کے ہاتھ میں شمشیر دیکھ
پا لیا قراں میں میں نے اس نئے فتنے کا حل
ایٹمی دوزخ کے بارے میں مری تفسیر دیکھ
مرد مومن ہے تو ڈھونڈھ اس فتنہء بیکن کا راز
نگہہ ایماں ہے تو اس دجال کی تذویر دیکھ
اس سرابِ حرص بے پایاں میں سرگرداں نہ رہ
خود فریبی میں رہینِ درد بے درماں نہ رہ
خخ

مجھے غم ہے جہاں میں غم کی بستی کے مکینوں کا

مجھے غم ہے جہاں میں غم کی بستی کے مکینوں کا
مگر حضرت کو کھائے جا رہا ہے غم حسینوں کا
جہاں میں واسطے اہل سخن کے غم نہیں شاید
کہ صدیوں سے یہی رونا ہے ان کو نازنینوں کا
حقیقت میں اگرانساں کے دل میں جاگزیں غم ہو
تو آ سکتا نہیں اس کو خیال ان مہہ جبینوں کا
ہزاروں سال سے کرتے ہیں آئے عشق و غم یکجا
مگر یہ غم نہیں یہ عشق ہے آہوں کا سینوں کا
اگر ہو عشق تو دل کے خزینوں کی خبر لائے
اگر غم ہو تو لائے گا پتہ دل کے دفینوں کا

گھڑی بھر میں بدل جاتے ہیں فیشن تو تعجب کیا
خدا بیں چل بسے اب دور ہے ان دوربینوں کا
کوئی اس تربت کہنہ پر جا کر میرؔ سے کہہ دے
کہ نوحہ خواں ہو پھر آکر ستاروں کے مکینوں کا
نہ جا ان قاتلوں کے اس جہاں سے بچ نکلنے پر
قیامت کو پکارے گا لہو ان کی آستینوں کا
بلندی ناگزیر اس دور میں ہے دینِ قیم کی
وگرنہ ختم کر ڈالا ہے قصہ اس نے دینوں کا
تجھے غم ہے تو ہے اپنی فقط اک ذات کا جبریلؔ
مجھے دشمن کا غم ہے آپ کا اپنا ہے تینوں کا
خخ

سامریت ہے یہ تہذیبِ ہوسکاری ہے

سامریت ہے یہ تہذیب ہوسکاری ہے
دلنشیں اس کی ادائیں ہیں پہ بازاری ہے
اس کے جلوؤں میں قیامت کی فسوں کاری ہے
اس کی فطرت میں مگر جھوٹ ہے غداری ہے
وقت آئے گا کہ تم اس سے پناہ مانگو گے
قاضی مانگو گے عدالت نہ گواہ مانگو گے
خخ

بحمد اللہ دلِ امت میں ہے سوزِ دروں باق
بحمد اللہ دلِ امت میں ہے سوزِ دروں باقی
ابھی ہے عشقِ ناموس محمد ﷺ کا جنوں باقی
محبت تا بہ حد عشق ہے ذاتِ محمد ﷺ کی
ابھی ہے حب سردار دو عالم ﷺ کا فسوں باقی
تڑپ باقی ہے ابتک سینہء مسلم میں ایماں کی
ابھی تک ہے دلِ مسلم میں ایماں کا سکوں باقی
سلامت ہے ابھی تک جذبہء شوقِ عبادت بھی
ابھی ہے منبرو محراب و مینار و ستوں باقی
رلاتا ہے جہان قعر دریائے مذلت کو
کہ ہے قلبِ مسلماں میں ابھی حسرت کا خوں باقی
ابھی اخلاص میں ڈوبے ہوئے دل بھی مچلتے ہیں
ابھی پیشانیاں ہیں فرشِ خاکی پہ نگوں باقی
فقط گہنا گئی امت کی توفیقِ عمل جبریلؔ
وگرنہ ہے دلوں میں اضطرابِ قہرگوں باقی
خخ

دیارِ نو کے حسینوں کو دلربا نہ کہوں

دیارِ نو کے حسینوں کو دلربا نہ کہوں
کہ کہکشاں کے مکینوں کو مہ لقا نہ کہوں
اگرچہ دست حنائی ہے شانِ رعنائی
جو خون دل سے نہ ٹپکے اسے حنا نہ کہوں
وہ جس کے ھجر میں شب بھر اداس رہتا ہوں
سحر کو سامنے آئے تو مرحبا نہ کہوں
وہ جس کے غم میں تڑپتے ہوئے ہے عمر کٹی
حشر کو سامنے آئے تو دلربا نہ کہوں
اگرچہ رسم وفا ہے بقائے دار و سن
اسیر دستِ زمانہ کو بے وفا نہ کہوں
مجھے ہو تم سے شکایت مری مجال ہے کیا
جو حرف حرف شکایت ہو داورا نہ کہوں
اگرچہ خوں ہے ترے غم سے جام قلب دو نیم
ترے حضور غم دل کا ماجرا نہ کہوں
برا نہ مان اگر داغ تجھ کو دکھلاؤں
برا کہوں نہ کہوں حرفِ ناروا نہ کہوں
ترا خیال جو پھر لوٹ لوٹ کر آئے
تو اس میں کس کی خطا ہے تری خطا نہ کہوں
جو لوٹ لوٹ کے آئے خیال دل میں
اسے حریم دل سے خیالوں کا انخلا نہ کہوں
برا نہ مان اگر بات کچھ غلط کہہ دوں
غلط کہوں پہ محبت سے ماورا نہ کہوں
یہ غم ہے جس میں زمانہ تو ڈوب سکتا ہے
وہ تشنہ ہوں کہ اسے غم کی انتہا نہ کہوں
جو چاک و سرخ نہ خوں سے ہو وہ قبا کیا ہے
قسم ہے مجھ کو جنوں کی اسے قبا نہ کہوں
مجھے ہے عجز تری خاک خاکِ پا بھی نہیں
مگر غبارِ تکبر کو خاک پا نہ کہوں
عطائے وصل و نگہہ التفات و لطفِ عمیم
تیرا کرم ہے محبت کا خوں بہا نہ کہوں
یہ چاند دل میں چھپا لوں خلا خلا نہ رہے
خلا کہاں ہے خلا کو اگر خلا نہ کہوں
صبا وہ جس سے چمن میں نہ پھول کھل اٹھیں
اسے چمن کی ہوا تو کہوں صبا نہ کہوں
ہوا ہوا ہے چمن میں ہزار بار پھرے
یہ کوئے دوست سے آئے تو کیوں صبا نہ کہوں
صبا صبا ہے چمن میں اسے صبا ہی کہوں
پہ کوئے یار سے آئے صبا تو کیا نہ کہوں
وہ مرے قتل سے گویا کہ باز آئے ہیں
بری خبر ہے اسے قصد جانفزا نہ کہوں
مرے خدا تو خدا ہے تو ہی خدا ہے میرا
تیرے سوا میں زباں سے کبھی خدا نہ کہوں
وہ ذات ﷺ جس نے مجھے تجھ سے روشناس کیا
اسے بھی تیری محبت سے میں جدا نہ کہوں
میرے خدا ہے غریبوں کا آسرا تو ہی
ترے سوا میں کسی کو بھی آسرا نہ کہوں
ہزار پردہ باطن میں گوشہء چشمے
مرے حبیب یہ کیا ہے اسے لقا نہ کہوں
چھپا رہا ہے جہاں سے جسے جہانِ فرنگ
میں اس خدا کو خدا سے کبھی جدا نہ کہوں
سبق اگرچہ فرنگی کے ہیں دماغ افروز
قطور زہر ہلاہل کو خوں صفا نہ کہوں
اگرچہ دل میں چراغاں ہے اس جہاں سے ورے
پہ کیا کہوں جو اسے جام جہاں نما نہ کہوں
الہی بحر مصائب میں گھر گیا ہوں مگر
خدا کرے کہ اسے عاقبت سزا نہ کہوں
چراغ عشق فسردہ ہے محفلیں خاموش
یہی بقا ہے خدایا اسے بقا نہ کہوں
غلط نہ ہو تو صحیح کی نہ معرفت ہے کہیں
گلوں میں خارِ رقیباں کو ناروا نہ کہوں
پسند طبع رسا ہے یہ اپنی کم طلبی
پسند فقر کو میں دستِ نارسا نہ کہوں
گدائے کوئے محمد ﷺ کی قیصری ہے زکوۃ
گدائے شاہِ دو عالم ﷺ کو میں گدا نہ کہوں
سمجھ رہا ہے جو اقلیمِ قیصری کو حقیر
گدائے کوئے محبت کو بے نوا نہ کہوں
کہیں گناہ کی عظمت پکارتی ہے مجھے
پہ فرط خوف ندامت سے حبذا نہ کہوں
گھرا ہوا ہے جو مومن جہاں میں حر کی طرح
کمی ہے کیا کہ زمانے کو کربلا نہ کہوں
وہ کام کرکے دکھایا ہے آج بچوں نے
کہ بھول کر بھی انہیں اب تو ناسزا نہ کہوں
بلا جو صدقہ جاری میں آ کے ٹل جائے
یہ فیصلہ ہے بلا کا اسے بلا نہ کہوں
اگرچہ قول و عمل میں ہے فعل مختاری
کہو تو مرگ جوانی کو بھی قضا نہ کہوں
ہزار ہدف ملامت بناؤں آدم کو
غضب خدا کا ہے آدم کو بوزنا نہ کہوں
ہزار بار مروں اور مر کے ہی اٹھوں
فنا یہی ہے تو کیوں اس کو للبقا نہ کہوں
اگر گراں ہو مری بات طبعِ نازک پر
تو اس حقیقت مضطر کو برملا نہ کہوں
ہمارے عصر میں کچھ ایسی بے حجابی ہے
کہ مارے شرم کے شیطاں کو بے حیا نہ کہوں
رواں دواں ہے تغافل میں کاروانِ حیات
خدا خبر پہ چھلاوے کو رہنما نہ کہوں
ہوا ہوں دہر میں حنظل سے تلخ تر جبریلؔ
کہ نا بجا کو بجا ناروا کو روا نہ کہوں
خخ

غرض پرستی خوباں کو دلبری نہ سمجھ
غرض پرستیِ خوباں کو دلبری نہ سمجھ
یہ بوئے خوں ہے اسے مشک عنبری نہ سمجھ
حسین و سادہ و معصوم ہے یہ حورِ فرنگ
تو سادگی سے اسے خلد کی پری نہ سمجھ
خدا کرے کہ یہ تیرے حجاب اٹھ جائیں
میری نوا کو نوائے گداگری نہ سمجھ
جواں ہوئے ہیں یہ پڑھ کے نئے زمانے میں
نئے ادب کی شقاوت کو خود سری نہ سمجھ
حریم ملت مسلم ہے قدسیوں کا حریم
اسے تو اپی افیمی کی نرسری نہ سمجھ
سحاب برف خرد پوش ہے یہ فکر جدید
یہ پربتوں میں ہے نانگا اسے مری نہ سمجھ
ہزار راہ ہدایت ہوں رہبری کے لئے
جو کھچ رہی ہو مدینے سے رہبری نہ سمجھ
کمال شیوہ خدمت ہے قیصری کا کمال
کمال شوق تغافل کو قیصری نہ سمجھ
خدا نے بندوں پہ بخشی ہے سروری جو تجھے
سلام شکر کو طغرائے سرجری نہ سمجھ
خدائی شرط ہے دنیا میں داوری کے لئے
تو چند روزہ خدائی کو داوری نہ سمجھ
اگرچہ خضر کی دنیا بھی غم سے پاک نہیں
سکونِ دل کو مالِ سکندری نہ سمجھ
اگر وبال غریبی ہے کافری کا قریں
نشاط و عیش میں امت کی بہتری نہ سمجھ
غلط نہیں کہ نہیں مجھ کو کچھ غرض لیکن
مری روش کو تو اندازِ قہقری نہ سمجھ
تری سخا میں ہزاروں جواز پنہاں ہیں
غرض فریب ! اسے بندہ پروری نہ سمجھ
اگرچہ غنچہء دل اس سے کھل تو جاتا ہے
پہ شبنمی کو عنایاتِ کوثری نہ سمجھ
ترے لہور کی گلیوں میں اشک پیتا ہوں
مجھے تو انجمِ دوراں کا انوری نہ سمجھ
ہزار افعی مرے دل کو مدام ڈستے ہیں
کلیم فن ! یہ عصاؤں کی اژدری نہ سمجھ
میرے نفس میں اثر ہے غزل کہوں نہ کہوں
میری نوا کو نواہائے عنصری نہ سمجھ
لگی ہوئی ہے زباں پر یہ خاموشی کی مہر
سکوتِ غم کو سکونِ سمندری نہ سمجھ
وفور درد سے خاموش ہوں اداس بھی ہوں
میری دعا کو تو آہوں کی بنسری نہ سمجھ
جو کر سکوں تو تیرے دل میں چھید کر ڈالوں
مرے بیاں سے میرے غم کو سرسری نہ سمجھ
فروغ عکس تمنا کی ہے یہ جلوہ گری
اسے تو مہر درخشاں کی ہمسری نہ سمجھ
رہا ہوں روزِ اول سے قلندروں کا ندیم
تراشِ سر کو نشانِ قلندری نہ سمجھ
وفور عشقِ محمد ﷺسے ہے جنوں یہ میرا
مری ادائے محبت کو کافری نہ سمجھ
وفورِ درد سے خاموش ہوں اداس بھی ہوں
میری نوا کو نواہائے عنصری نہ سمجھ
کچھ اس طرح سے ہے دل پرتسلط رخ دوست
مرے جنوں کی اداؤں کو آزری نہ سمجھ
اگرچہ ظلم کی چکی میں پس گیا جبریلؔ
ندائے حق کی خموشی میں بہتری نہ سمجھ
ہزار زخم ہیں سینے میں خونچکاں جبریلؔ
مرے بیاں سے مرے غم کو سرسری نہ سمجھ
خخ

چلی جو مغرب کی وادیوں سے طلسم و سحر و دجل کی باؤ

چلی جو مغرب کی وادیوں سے طلسم و سحر و دجل کی باؤ
اڑا کے لائی وہاں سے بیکن کے فلسفے میں شبیہِ ماؤ
دیارِِ مغرب سے ساتھ لائی جو خنجرِِ الحاد کا چھپا کر
لگائے اسلام کی جبیں پر ہزاروں چرکے ہزاروں گھاؤ
غبارِ مغرب کی روشنی میں خدا کے دیں کو مٹانے والو
خدا کی خاطر خدا کا خنجر خدا کے دیں پر نہ آزماؤ
لپک رہے ہیں تمہارے منہ سے نفس کے شعلے جو آگ بن کر
بتا رہے ہیں وہ کیا تمھارا ہے دینِ اسلام سے لگاؤ
تمھاری کشتی فضائے گردوں سے آبشاروں میں جا گریگی
کہ جا رہی ہے اُ دھر کو کشتی جدھر ہے الحاد کا بہاؤ
اگر جہنم کو ڈھیل دے دے بلائے ایٹم تو ڈھیل کیا ہے
کہ جل رہا ہے دلوں کے اندر عذابِ دوزخ کا اک الاؤ
گمانِ مغرب کے رہبروں نے تو سیکھا اندازِ نرم گوئی
مگر یہ تقلیدئے ہمارے تو کھا رہے ہیں غضب کا تاؤ
بجا کے ڈنکا اُ ٹھے گا اسلام پھر زمانے کی وسعتوں میں
رواں دواں پھر چلے گی مدینے کی جانب انسانیت کی ناؤ
ہماری تہذیب پھر اُ ٹھے گی چمن میں رنگِ بہار بن کر
جہانِ تیرہ میں ہو گا روشن طلوعِ اسلام کا الاؤ

خدا کے بندے خدا کے دیں سے جو ہو کے مایوس پھر رہے ہیں
نہ کام آئیں گے اُ ن کے کچھ بھی جہاں پرستی کے پیچ داؤ
نہیں ہے جن کو خبر کہ اسلام کا معاشی نظام کیا ہے؟
انہیں بھی معلوم ہو ہی جائیگا دال آٹے کا جلد بھاؤ
بھلا بتاؤ تو ووٹ کس کو جنابِ جبریلؔ نے دیا ہے
کہ انتخابوں میں ہو رہا ہے ہماری تقدیر کا چناؤ
خخ

کون کہتا ہے کہ ایٹم بم بھی اک ہتھیار ہے

کون کہتا ہے کہ ایٹم بم بھی ایک ہتھیار ہے
یہ عذابِ ایزدی ہے یہ خدا کی مار ہے
آدمی ہے دست و گریباں آدمی سے ہر طرف
اور گلیوں میں جسے دیکھو ہے پھرتا سر بکف
سامری مشن کے دجالی عوامل دم بدم
پایہء تکمیل کو پہنچا رہے ہیں رم بہ رم
تم کو ایٹامی ہلاکت سے بچانے کی سعی
مجھ کو خو د دوزخ کے شعلوں کی لپٹ میں لے گئی
میں زمانے کی شب تیرہ میں اک قندیل ہوں
اور میں جبریلؔ ہوں جبریلؔ ہوں اور جبریلؔ ہوں
خخ

حطمہ یعنی ایٹمی جہنم

مجھے کیا ہوا ہے حاصل میرے علم سے خدایا
یہ نہ میرے کام آیا نہ کسی کے کام آیا
مری نگہہ ضو فگن ہو کہیں عکسِ ریز کیوں کر
کہ جہاں کی انکھڑی کو گہنا گئی ہے مایا
یہ ہے ایٹمی زمانہ ا’گے بم ہیں ایٹموں کے
وہ شروع ہو جس کا ایٹم یہی اس کی ہے نہایا
بھڑک اٹھی نارِ ایٹم عمدِِ ممددہ میں
ہے یہ غیبتوں کا پرتو ہے یہ حبِ زر کا سایہ
یہ تو آگ کی پری ہے یہ اتر گئی وہیں پر
جہاں قلب نکتہ چیں میں اثر حبِ زر کا پایا
وہی آگ چڑھ رہی ہے ترے قلب ذو فنوں پر
وہ سنا رہی تھی جس کو علی الافئدہ کی آیہ
یہ ہے ایٹمی جہنم ہے یہ حطمہ کا پرتو
جوں نمونہء جہنم یہاں آگ کو دکھایا
یہ جہنم ایٹمی ہو کہ جہنم حطمہ کا
وہی ایک فارمولا وہی ایک جرم و غایہ
کھچے جا رہے ہیں مسلم سوئے ایٹمی جہنم
کہ غلط سمجھ رہے ہیں نصِ انظرو کی غایہ

تو قراں کی روشنی کو نئی روشنی ہی جانے
کہ پلٹ گئی ہے مومن تیرے خیر و شیر کی کایا
نہ یہ غور و فکر آیہ نہ یہ سخر کی غایہ
نہ خدا کی ہے یہ منشا نہ قراں کی یہ ہدایہ
نہیں دیں کے فلسفے کو نئے فلسفے سے نسبت
یہ فقط جہاں پرستی وہ ہے آخرت کا مایہ
یہی دور حطمہ ہے پڑھو ھمزہ کی سورۃ
اولیں مفسرین نے تمہیں کیا نہیں بتایا
میں دکھا رہا ہوں تم کو یہ ضمیرِ فکرِ قراں
کہ نہ کر سکو حشر کو ربِ عرش سے شکایہ
کہیں برملا یہ مسلم دو جہاں کے قاتلوں سے
کہ فنا کریں گے تم کو اگر ایسا بم بنایا
اسے اسلحہ نہ سمجھو یہ تو اسلحہ نہیں ہے
ہے یہ قہر آسمانی جسے ہم نے خود بنایا
اگر اسلحہ یہ ہوتا تو ڈیفنس اس کی ہوتی
یہ ہے وہ کہ جس نے حرف سلامت کو ہے مٹایا
کہیں تم نے یہ سنا ہو کہ سلامتی ہے ممکن
تو کہو تمہیں ہے کس نے کوئی اس کا گر بتایا
جو کہوں کہ بچ سکیں گے ہوئی جنگ ایٹمی
تو کہو کہاں سے چن کے تو عجب یہ جھوٹ لایا

یہاں بچ گئے تو کیا ہے یہ تو عارضی سزا ہے
ولے المیہ وہ ہو گا جو حشر کے بعد آیا
ہیں جو مستحق سزا کے یعنی ایٹمی جزا کے
انہیں کیوں کسی فقیہہ نے ابھی تک نہیں جتایا
کہ خدائے مقتدر نے انہیں جھونکنے کی خاطر
وہاں آخرت میں حطمہ ہے پیشگی بنایا
ہوئی ایٹمی قیامت تو کہے گا رب سے شیطاں
نہ کہا تھا میں نے مٹی سے یہ تو نے کیا بنایا
ہو خدا کی اس میں سبکی لرز اٹھے قلبِ مومن
ولے رب کے غازیوں کو تو ہوس نے ہے سلایا
تری بے حسی نے مومن میرے دل کو روند ڈالا
تجھے کیا خبر کہ تو نے مجھے کس قدر رلایا
وہ جو آگہی نبی ﷺ نے ہمیں دی تھی فتنہ گر کی
کبھی روپ میں مسیح کے جو دجال بن کے آئے
یہ ہے بیکنی اٹامزم کی سائنسی ترقی
ذرا غور سے تو دیکھو اگر انکھڑی میں آئے
ولے عکس آئینے نے وہی ہو بہو دکھائے
وہی دائیں آنکھ اندھی وہی روٹیوں کا مسلک
وہی دعوی خدائی وہی بحر و بر پہ سائے
وہی لمبی لمبی نہیریں وہی امر بادلوں پر
کہے نخن الزارعون اگے فصل یہ اگائے

وہی جنت اس کی دوزخ وہی دوزخ اس کی جنت
ولے ظاہراََ تو جنت و دوزخ میں لا بٹھائے
ہو یہ سائنسی ترقی کہ ہو سائنس و ترقی
نہ ہے دائیں آنکھ ان کی نہ روحانیہ میں رائے
یہ فقط ہے کھیل مادی سو ہے بائیں آنکھ ہادی
جو زمیں کو چیر جائے جو فلک کو چیر جائے
ولے روح سے بے خبر ہے نہ نظر ہے آخرت پر
کسی آشنا سے پوچھو جو نہ اعتبار آئے
نہ غرض ہے آخرت سے نہ ہے فکر مرگ و محشر
اسی زندگی کے سودے اسی سر میں ہیں سمائے
میرے سامنے وہی ہے وہی عکس و نقش و چہرہ
وہی چشم و موو جثہ وہی خر باد پائے
نظر آ رہا ہے لکھا یہ جبین پہ ک۔ف۔ر
یہ ہے کفر کی علامت کہو وائے وائے وائے
ہو اگرچہ محض امی وہ پڑھے گا یہ علامت
ولے شرط ہے کہ دل میں وہ ایماں کا نور پائے
اگر ہو نہ ضوئے ایماں ہو اگرچہ علم کامل
نہ نظر میں کاف آئے نہ نظر میں کفر آئے
تو اے مدعی ایماں اسے کیسے جان لے تو
تیرے قلب و روح پہ ظالم ہیں دجل اسی کے چھائے

اسے مار دے یہیں کہ ہے یہ دیو دہر سوزے
نہ رماد آدمی کو فلک در فلک اڑائے
میں بتا رہا ہوں تم کو یہ حدیث نبی صلعم
کہو کیاکرے گا مہدی یہاں کھنڈروں میں آکے
اگر ایٹمی جہنم کے حشر کے بعد آئے
جبرئیل سے ہوں شاکی میں ہوں بندہ ایک خاکی
کہ یہ جلتے طور کیوں نہ کسی اور نے اٹھائے
مورخہ 31 مارچ 1986
خخ

لوگ کہتے ہیں چلے گی یہ ترقی تا حشر

لوگ کہتے ہیں چلے گی یہ ترقی تا حشر
اور بڑھتی جائے گی یوں ہی یہ تا حدِ نظر
اس کی بنیادوں میں تعمیری عناصر ہیں غلط
اس کی شاہراہوں میں تقدیری عناصر ہیں غلط
اور بن جائے گا یہ سنسار بالآخر بہشت
خوب رہ جائے گا باقی اور مٹ جائے گا زشت
یہ خیال خام ہے قطعاََ خیالِ خام ہے
اس ترقی کا بہت ہی دردناک انجام ہے
خخ

Print Friendly, PDF & Email

Related Posts

  • 83
    امیدواراورووٹر ایک امیدوار ووٹ مانگنے کے لیے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس گیا اور ان کو ایک ہزار روپیہ پکڑواتے ہوئے کہا حاجی صاحب اس بار ووٹ مجھے دیں۔ حاجی صاحب نے کہا: مجھے پیسے نہیں چاہیےووٹ چاہیے تو ایک گدھا لادیں، امیدوار گدھا ڈھونڈنے نکلا مگر کہیں بھی…
  • 83
    آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں ابوبکر قدوسی بہت شور ہے ڈیم بنانے کا - پنجابی میں کہتے ہیں "ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں " یعنی نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں - سو دوستو…
  • 81
    Back to Kuliyat e Gabriel Index نغمہ جبریل آشوب مرے گُلو میں ہے ایک نغمہء جبریلؔ آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لامکاں کیلئے علامہ محمد اقبالؒ اشعار فلک پر آفتاب اپنا نشیمن بھول سکتا ہے ؟ شرارہ برق کا مقصودِ خرمن بھول سکتا ہے ؟ خخ بغیر قربتِ موسی…
  • 81
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 81
    Back to Kuliyat e Gabriel گلہائے عقیدت علامہ اقبال ؒ مرحوم کے حضور میں سرود رفتہ باز آید بیاید نسیمے از جحاز آید بیاید دو صد رحمت بجان آں فقیرے دگر دانائے راز آید بیاید دگر آید ہماں دانائے رازے ندارد جز نوائے دل گدازے دے صد چاک و چشمے…
  • 80
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 80
    Back to Kuliyat e Gabriel پیشِ لفظ شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح…
  • 79
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 79
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 78
    [ad name="468x60"] (۱) علامہ محمد یوسف جبریلؒ ملک کی مشہور و معروف علمی وروحانی شخصیت ہیں اور واہ کینٹ میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔اُنکا ورثہ اُمتِ مسلمہ کیلئے ایک مشعلِ راہ کی حیشیت رکھتا ہے۔اُنکے اُفکاروپیغام کو اُجاگر کرنے اور آسان وفہم انداز میں عوام الناس تک پہنچانے…
  • 78
    غلط خاکے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دینے والی تفتیش :زینب اور اس جیسی 11 کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کے پیچھے چھپے خوفناک و شرمناک حقائق اس رپورٹ میں ملاحظہ کیجیے لاہور(ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کہنے کو اغوا کے بعد زیادتی اور زیادتی…
  • 75
    Back to Kuliyat e Gabriel گریہ نیم شبی خدایا شکر ہے رکھا مرا اجر اپنے ہاتھوں میں وگرنہ کس طرح ملتی مجھے محنت کی مزدوری بڑی مشکل سے سمجھائے تھے ملت کو سب اندیشے رلا کر رکھ گئی مجھ کو یہ احساسِ مجبوری خخ رلاتی ہیں مجھے ملت کی حسن…
  • 75
    Back to Kuliyat e Gabriel ضربِ مومن رباعی ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے زمین پر ہے وجود اس کا فلک پر آشیانہ ہے جمالِ یار کا پرتوَ جنوں کو تازیانہ ہے ٹھکانا اس کا جنت ہے یہ دنیا قید…
  • 72
    Back to Kuliyat e Gabriel Index بجا دے اب یہ نقارہ (1) بجا دے اب یہ نقارہ اُ ٹھا لے اب عَلم اپنا صبا ملک ِ فلسطیں سے ادھر دیکھو یہ کیا لا ئی غمِ اقصیٰ کے ماتم میں فغانِ کربلا لائی لہو کے آنسوؤں میں اک پیامِ ابتلا لائی…
  • 72
    تبدیلی کے خواہاں نومنتخب حکمرانوں کیلئے تجاویزِ چند!! ( ڈاکٹر اظہر وحید ) وطنِ عزیز میں جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے اہلِ وطن نئے سرے سے سے نئی اُمیدیں باندھ لیتے ہیں....اِس خیال سے کہ حکومت کے بدلنے سے شائد اُن کی حالت بھی بدل جائے۔ صد شکر! یہ…
  • 69
    انگریز کا کردار تحریر علامہ محمد یوسف جبریل آج دنیا جن آفات میں مبتلا ہے اتنی کبھی نہ تھی اور ساری آفات کی وجہ ہے علم کی زیادتی اورعمل کی کمی اور علم کی زیادتی کا باعث ہے سائنس جدید کا باعث ہیں انگلستان کی لوہے اور کوئلے کی کانیں…
  • 66
    رات اور دن ٭٭٭ڈاکٹر اظہر وحید٭٭٭ رات اور دن کا آپس میں بدلنا تغیر کی علامت ہے.... لیکن ثبات کے متلاشی کیلیے اس میں ثبات نہیں۔ تغیر کو شاعری میں ثبات مل بھی جائے‘ تو انسان کو تغیر میں ثبات نہیں ملتا۔ رات چاند سے عبارت ہے اور دن سورج…
  • 65
    شیشیل کورالا فقیرانہ وزیر اعظم 2014ء میں نیپال کاوزیراعظم بن گیا۔پہلے دن جب اپنے سرکاری دفترپہنچاتو انتہائی سستی قیمت کے کپڑے پہن رکھے تھے۔۔لباس کی مجموعی قیمت دوسوروپے سے بھی کم تھی۔سرپرانتہائی پرانی ٹوپی اورپیروں میں کھردری سی چپل۔ وہاں ویٹریانائب قاصدکے کپڑے بھی شیشیل کورالاسے بہت بہتر تھے۔ منتخب…
  • 64
    دعائے نیمہء شب مسلماں کو تو عالی مرتبت کر دے خداوندا ! مسلماں کو تو عالی مرتبت کر دے تمامی روئے دنیا اس کے زیرِ سلطنت کر دے مسلماں سے خدایا دور غربت کا یہ شر کر دے الہی دو جہاں کو نعمتوں سے بہرہ ور کر دے خداوندا مری…
  • 63
    ہُوا خیمہ زن کاروانِ بہار اِرم بن گیا دامنِ کوہسار گُل و نرگس و سَوسن و نسترن شہیدِ ازل لالہ خونیں کفن جہاں چھُپ گیا پردۂ رنگ میں لہُو کی ہے گردش رگِ سنگ میں فضا نِیلی نِیلی، ہوا میں سُرور ٹھہَرتے نہیں آشیاں میں طیُور وہ جُوئے کُہستاں اُچکتی…