Gabriel shairi par Tabsarajat Tassurat

Back to Kuliyat e Gabriel

تبصرہ جات
و
تاثرات

علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے
خیالات
’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش نظر رکھ کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے خداوند تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کے حصول کے لئے امکانات پیدا ہو سکیں‘‘۔
جاوید اقبال (خلف الرشید علامہ اقبالؒ ) ۳ علامہ اقبال روڈ لاہور

علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق جناب علامہ علاؤالدین صدیقی مرحوم کے خیالات
بعض احباب کی وساطت سے جناب محمد یوسف جبریل سے تعارف کا موقع حاصل ہوا ۔آپ ایک دردمند قومی مفکر ہیں۔ جنہوں نے اردو اور انگریزی میں اپنے خیالات کو قلمبند کیا ہے۔ مجھے آپ کی کتاب نعرہ جبریل کے کچھ حصے سننے کا اتفاق ہوا۔ درد سے معمور ہیں۔ افسوس ہے کہ کوتاہی وسائل کی بنا پر یہ نظمیں قوم تک نہیں پہنچ سکیں۔ امید ہے کہ کوئی دردمند پبلشر جرات رندانہ سے کام لے کر ان کی قوم تک رسائی کا انتظام کر سکے گا۔والسلام
احقر العباد محمد علاؤالدین صدیقی عفی عنہ
وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہور

علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق جناب ڈاکٹر وحید قریشی مرحوم کے تاثرات
جناب محمد یوسف جبریل میرے پاس تشریف لائے تھے۔ انہوں نے اپنا کلام مسودے کی صورت میں مجھے دکھایا اور میں نے اسے جستہ جستہ پڑھا۔جبریل صاحب اسلام کی لگن رکھتے ہیں اور ان کا کلام ایک دردمند دل کی پکار ہے۔ کلام پرعلامہ اقبالؒ کے ابتدائی دور کے کلام کا اثر نمایاں ہے۔ ان کے مسودات شائع ہو جائیں تو اس سے قوم کے نوجوانوں کو بہت فائیدہ ہو گا۔
وحید قریشی ایم اے فارسی، ایم اے تاریخ، پی ایچ ڈی فارسی ، پی ایچ ڈی اردو، این 269 سمن آباد ۔ سیکرٹری ریسرچ سوسائٹی دیال سنگھ پبلک لائبریری نسبت روڈ لاہور

علامہ یوسف جبریل کی شاعری پر جناب آقا بیدار بخت مرحوم کے خیالات
آج جناب محمد یوسف جبریل سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنی مسدس نعرہ اور آئینہ جستہ جستہ مقامات سے سنائیں۔ ان کا دل درد قوم سے معمور ہے۔ پوری نظم جوش اور ولولہ کی حامل ہے۔ اس دور الحاد میں وہ قوم کو دعوت ایمان دیتے ہیں اور نوجوانوں کو راہ راست پر گامزن ہونے کی تلقین کرتے ہیں ۔انہیں تہذیب جدید کی خرابیوں سے بچانا چاہتے ہیں۔ یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہوئی ہے اس کا جواب وہ سوز و گداز ہے جو دونوں نظموں کی جان ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی ناشر اس کی طباعت کا انتظام کر دے گا تو جناب جبریل صاحب کی پسندیدہ مساعی بار آور ہو گی اور ہماری قوم ان کے حکیمانہ خیالات سے استفادہ کرے گی۔
آقا بیدار بخت ایم اے ایم او ایل ایل ایل بی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ پاکستان ۵۴ فلیمنگ روڈ لاہور
21-9-1963

علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق جناب اظہر جاوید صاحب کے تاثرات
مکرمی !جناب جبریل صاحب کا غیر معمولی کلام ایک مختصر وقفہ کے لئے مجھے بھی دیکھنے کا اتفاقاً شرف حاصل ہوا ۔ اس قلیل فرصت میں اُ ن کے رشحاتِ قلم نے میرے دل و دماغ پر نہائت گہرے تاثرات چھوڑے ہیں ۔ اُ ن کے ملی اور انسانی جذبے کو جس قدر بھی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جائے وہ اس کا جائز مستحق ہے۔ آپ کا کلام ہر چند کہ بظاہر نظم کی خوبیوں سے آراستہ ہے لیکن بباطنِ مواد کی ہیئت پر معتد بہ ترجیح ہے۔ اصل اہمیت آپ کے موضوع اور اسکے محرک جذبہ کو حاصل ہے۔ ہر چند کہ پیرایہء اظہار نے منظوم صورت اختیار کر کے اس کے حسن و تاثیر میں چند در چند اضافہ کیا ہے لیکن فی الاصل آپ کو شاعر کہنے یا سمجھنے میں اسی غلط فہمی اور غلط کاری کا احتمال ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال مرحوم نے فرمایا تھا۔
من اے میر امم داد از تو خواہم
مرا یاراں غزلخوانے شمردند
میری دلی خواہش اور دُ عا ہے کہ اللہ تعالی آپ کے اس پاکیزہ جذبے کو مناسب طور پر بارآور کرے۔ آمین۔
اظہر جاوید مکتبہء ادب جدید چوک بل روڈ لاہور سول ایجنٹ مجلس ترقی ادب ادارہ ثقافت اسلامیہ بزم اقبال فلوسوفیکل کانگریس۔
کلام جبریل پر ایک نظرپروفیسر خالد عباس بابر ایم اے اسلامیہ کالج لاہور

مجھے جناب محمد یوسف جبریل کے کلام پر اپنی رائے کااظہار کرتے ہوئے بجائے کسی جھجھک کے روحانی خوشی محسوس ہو رہی ہے ۔ موصوف بلاشبہ ایک مخلص انسان اور عظیم الفکر شاعر ہیں۔ آپ کے شعری فکر و احساس میں ملک و ملت کا درد رچا ہوا نظر آتا ہے۔ زبان پر قدرت کے ساتھ ساتھ بیان کی ندرت اور رنگینی احساس کی شدت اور پرواز تخیل جناب جبریل صاحب کے کلام کے نمایاں پہلو ہیں۔
مجھے شدید احساس ہے کہ چند سطور میں جناب جبریل صاحب کے کلام کے محاسن قلم بند نہیں ہو سکتے مجھے تو کچھ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جبریل نے جس معراج پر اردو نظم کو پہنچا دیا ہے وہاں نقد ونظر کے جملہ قوانین دھندلا جاتے ہیں ۔کلام جبریل کااعجاز یہ ہے کہ پڑھنے والا یا سننے والا کلام میں یوں کھوجاتا ہے کہ اسے دنیا و مافیہا کی خبر تک نہیں رہتی اگرچہ نقاد حضرات ضرور اپنی اپنی کوششیں کریں گے اور بعض کوششیں قابل قدر ہوں گی مگر میں سمجھتا ہوں کہ جبریل کی شعری تخلیق کو کماحقہ دائرہ نقد و نظر میں لانا ایک کٹھن ساکام ہے ۔اتنے عظیم تھیم ( Theme) کو اتنے موثر اور مسحور کن انداز میں کہنا اور درد میں سمو دینا شاعری کی ولائت میں یقیناًایک ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔ آپ پڑھتے ہیں اور پڑھتے پڑھتے رقت طاری ہو جاتی ہے۔ انسان سوچنے لگتا ہے کہ یہ الفاظ کا ایک نہ ٹوٹنے والا سلسلہ ہے یا ساز دل سے پھوٹتے ہوئے حسین نغموں کی ایک جوئبار ہے جو بہتی ہی چلی جاتی ہے یا ایک ارکسٹرا ہے جس میں سینکڑوں ساز کبھی اکھٹے کبھی دو دو تین تین کے گروہ میں ایک کبھی اکیلے کوئی دکھ بھرا گیت الاپ رہی ہیں اور کبھی بجلی کڑکنا شروع کر دیتی ہے تو گھنٹوں زمین و آسمان منور دکھائی دیتے ہیں اور جب بادل گرجنا شروع ہو جاتا ہے تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زمین و آسمان پھٹ جائیں گے اور جب طوفان اٹھتا ہے تو درو دیوار لرزاں معلوم ہوتے ہیں مگر اس حقیقت کو آپ سمجھ نہیں سکتے۔ جب تک آپ خود کلام جبریل سے استفادہ نہ کریں۔
مندرجہ بالا چند چیزیں کلام کے ظاہری لباس کے متعلق ہیں مگر ہماری حقیقی توجہ کی حامل چیز ہے نفش مضمون۔ یہاں محض شاعری نہیں گل و بلبل کافسانہ نہیں بلکہ حکمت میں رچی ہوئی پندو نصیحت ہے۔جس کا سننا اور جس پر عمل کرنا دور حاضر کے ہر مسلمان کا فرض ہے۔میں وثوق سے کہتا ہوں کہ آپ نے جناب جبریل صاحب کی دو نظمیں نعرہ ء جبریل اور آئینہ جبریل نہیں پڑھیں تو گویا آپ نے دور حاضر کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور آج کے مسلمان اور اس کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کو نہیں جانا۔ آج اگر حضرت اقبالؒ ؒ مرحوم زندہ ہوتے تومجھے یقین ہے کہ وہ بھی یہی فرماتے ۔وہ مرد شناس کلام بصیرت افروز سے ہی محسوس کر سکتے ہیں ۔میں تو محترم جناب محمد یوسف جبریل کو آسمان شعر و ادب کا بادلوں میں چھپا ہوا ایک ستارہ تابناک سمجھتا ہوں۔ خدا کرے کہ وہ جلد اپنی پوری روشنی کے ساتھ منصہء شہود پر آئیں تاکہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ زندگی کے بسیط افق پر بے شمار ستارے محض اس لئے ہماری نظروں سے روپوش ہیں کہ یا تو ہماری نگاہوں سے بہت دور ہیں یا ہم نے ان کا نام نہیں سنا۔ میری نظر میں کلام جبریل اردو ادب میں ایک عظیم اضافہ ہو گا۔
پروفیسر خالد عباس بابر ایم اے، اسلامیہ کالج لاہور

’’ نعرہ جبریل‘‘
طفیل کمالزنی
جبریل کا نام بطور شاعر بہت کم کسی نے کبھی سنا ہے۔ مگر کلامِ جبریل کاحصہ موسوم بہ ’’نعرہ جبریل‘‘ ایک آواز ہے جو خون جگر میں جل کر اٹھی ہے ایک آتش فشاں پہاڑ کا لاوا ہے جو ہر خشک و تر کو بھسم کرتا ہوا پہاڑ کی چوٹی سے ہرطرف پھیلتا نظر آتا ہے ۔یہ ایک ایسی آواز ہے جو طبعاً کسی فنی یا عروضی ضابطے کو قبول نہیں کرتی بادل کی گرج شیر کی دہاڑ یا ہاتھی کی چنگھاڑ سُر سے لے گُر تال کے تکلف سے آزاد ہوتی ہے۔ اگرچہ سننے والوں کا دل دہلا کے رکھ دیتی ہے تاہم جبریل نے شیر کی اس دہاڑ کو فن شاعری کے اصول و ضوابط کا پابند کرنے میں ایسی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے اور شاعرانہ عبقریت کا ایسا حیرت انگیز ثبوت دیا ہے اور جا بجا صنائع وبدائع کا اس چابکدستی سے استعمال کیا ہے اور الفاظ کی دروبست بندش کی چستی اور بے ساختگی اور کلام کی روانی کا کچھ ایسا سحر آفریں منظر پیدا کیا ہے جو فقط کسی ممتاز استادِ فن سے ہی متوقع ہو سکتا ہے۔ جبریل کا طوالت کے باوجود آدمی کو بور نہیں کرتی بلکہ دلچسپی آخیر تک قائم رہتی ہے۔ اُ ن کے سارے کلام پر علامہ اقبالؒ کا اثر نمایاں ہے۔’’ نعرہ جبریل‘‘ کا کلام 1962تا 1969تک کہا گیا۔ برسوں گذرنے کے بعد آج بھی تروتازہ ہے۔ آ پ کا کلام پیشین گوئیوں کا ایک سلسلہ ہے ۔ علامہ صاحب ایک عقابی نگاہ رکھتے ہیں اور صدیوں بعد کے آنے والے واقعات کو بہت پہلے شاعری کی زبان میں بیان کر دیتے ہیں۔ دعا ہے کہ مسلمان قوم ان کی شاعری سے استفادہ کر سکے۔

علامہ یوسف جبریل کی شاعری پر جناب ڈاکٹر عبدالوحید قریشی صاحب کے تاثرات
علامہ یوسف جبریل کو میں ایک مدت سے جانتا ہوں ۔ انگریزی میں ان کے مقالات میری نظر سے گذرتے رہے۔ حال ہی میں انہوں نے مومن کا منشور کے نام سے ایک طویل نظم لکھی ہے۔ اس سے پہلے وہ نعرہ جبریل بھی لکھ چکے ہیں۔ کلام میں کہیں کہیں قدامت کا رنگ ضرور ہے تاہم ان کے خلوص ایمانی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اس نظم کو میں نے جستہ جستہ دیکھا ہے میرا خیال یہ ہے کہ موجود ہ دور کے مسائل جو جس محنت اور توجہ سے انہوں نے دیکھا ہے اور ایمان کی حرارت سے جس طرح اپنے کلام کو مزین کیا ہے اس سے وہ نوجوانوں کی ذہنی تربیت میں ضرور کامیاب ہوں گے۔
ڈاکٹر وحیدقریشی پی ایچ ڈی، اردو ڈیپارٹمنٹ اورنٹیل کالج لاہور

علامہ یوسف جبریل کی تین طویل نظمیں ۔ پروفیسر رؤف امیر

جدید صنعتی شہر واہ کے قریب سے گذرتی ہوئی شاہراہ اعظم کے کنارے پرانی جوتیاں گانٹھنے والے موچی کے پاس بان کی ٹوٹی ہوئی چارپائی پر اکثر و بیشتر ایک بابا بیٹھا نظر آتا ہے۔ سر پر پگڑی، پاؤں میں ہوائی چپل دیہاتی طرز کا ڈھیلا ڈھالا لباس الجھی الجھی بکھری ہوئی زلفیں، اور غیر تراشیدہ بڑھی ہوئی داڑھی اس کی سفید رنگ کی رنگت اور لباس اپنا اصل رنگ کھو چکے ہیں اور سر اور داڑھی کے سفید بال مٹیالے ہو چکے ہیں۔ بظاہر تو یوں لگتا ہے جیسے یہ بابا ابھی ابھی قریب کے کھیتوں میں ہل چلا کر آیا ہے۔ لیکن اس کے ہاتھ میں مفکرانہ انداز سے پکڑی ہوئی چائے کی پیالی اور اخبار پر جھکی ہوئی کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی آنکھیں اس کی تردید کرتی ہیں۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے۔ یا شائید کوئی بھی نہیں جانتاکہ علامہ یوسف جبریل نام کا یہ بابا کس مقام و مرتبے کاآدمی ہے۔ شاہراہ اعظم سے گزرنے والی صاحبان منصب کی کاروں سے اڑتی ہوئی دھول کیا خبر کہ وہ جس جسم کو میلا کر رہی ہے۔ اس میں ایک پہلو دار آئینے جیسی شخصیت پوشیدہ ہے جو رنگارنگ مناظر کے عکس رکھتی ہے۔ وہ ہمہ جہت شخصیت جو بیک وقت سائنس دان شاعر ادیب مذہبی مفکر اور ماہر معاشیات ہے۔
میں کسی بھی مبالغے اور بناوٹ سے قطع نظر یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں جب علامہ یوسف جبریل کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے واہ کے قریب ملک آباد نام کی بستی جس میں علامہ یوسف جبریل رہتے ہیں۔ پاکستان کا نہیں قدیم یونان کا کوئی حصہ ہو۔ اور علامہ یوسف جبریل کے جسم میں سقراط کی روح در آئی ہو ۔ میرے اس جملے پر نقادین ادب پہلے مسکرائیں گے اور پھر اسے تنقید کے جدید معیارات پر پورا اترنا دیکھ کر تاثراتی نوعیت کی تحریر کا نام دے دیں گے۔ میری یہ بات ایک شاعرانہ سوچ بھی ہو سکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامہ یوسف جبریل نے سقراط سے زیادہ بڑا سچ بولا ہے۔
کیا یہ کم درجے کی صداقت کا اظہار ہے کہ دونوں سپر پاورز کے سب سے جدید اور سپر ہتھیارایٹم بم کی تھیوری کو بیک قلم رد کر دیا ہے۔ اور کہا جائے کہ تمہارے سائنس دانوں سے چودہ سو سال قبل مدینے میں رہنے والے ایک امی (ﷺ)نے یہ تھیوری دی تھی اور پھر یہ کہنا کیا کم درجے کی صداقت ہے کہ تمہاری مادی ترقی اورتمہارے جدید معاشرتی رویے پوری انسانیت کے قاتل ہیں ۔تم نے اس زمین کو آگ سے بھر دیا ہے جہاں پھول کھلنے تھے۔ تم نے اپنے ممالک اور اپنے سیاسی نظریوں کے فروغ کے لئے تمام دنیا کو داؤ پر لگا دیا ہے اور یہ کہ اس دور میں اسلام کے زریں اصولوں سے ہی تمہاری جلائی ہوئی اس آگ کو پھولوں میں بدلا جا سکتا ہے۔ قران حکیم کہتا ہے کہ مال گن گن کر رکھنے والا خسارے میں ہے لہذا تم خسارے میں ہو اور اس کا حل یہ ہے کہ تقوی اختیار کرو تاکہ لمبے لمبے ستونوں میں بند کی ہوئی یہ آگ تمہارے دلوں کو نہ جلائے۔
یہ تو علامہ یوسف جبریل کی پہلو دار شخصیت کا صرف ایک پہلو ہے۔ ان کے تمام پہلوؤں پر تو پوری کتاب کی ضرورت ہے اور مجھے اسوقت ان کی شاعرانہ حیثیت کا جائزہ لینا ہے اور اس میں بھی ان کی کتاب’’ نعرہ جبریل‘‘ کی تین طویل نظموں کی تفہیم و تحسین کرنا ہے۔اس سلسلے میں پہلی نظم ’’نعرہ جبریل ‘‘ہے۔ پچاس بندوں پر مشتمل اس نظم میں کئی موضوعات بکھرے پڑے ہیں۔ نظم کی بتدا میں علامہ یوسف جبریل فکر اقبالؒ سے اپنی جذباتی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں اور اس وابستگی میں اس حد تک شدت ہے کہ جبریل اقبالؒ کو اپنے ارمانوں اورا منگوں کا روشن ستارہ قرار دیتے ہیں۔
’’نعرہ جبریل‘‘ میں ایک بڑا موضوع عصر حاضر کا نئے علوم و فنون اور ایٹمی ترقی پرفخر کے ساتھ رقص کرنا ہے۔ ایٹم علامہ یوسف جبریل کاخاص موضوع ہے اور انہوں نے اپنی تمام عمر اس تحقیق میں صرف کر دی ہے۔ ان کی عمر بھر کی محنت کا ثمرہ ہے۔ ایٹمی آگ کے حوالے سے ان کے دقیع نظریات کی ہلکی سی جھلک’’ نعرہ جبریل‘‘ میں بھی نظر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کی اس تخلیق پر فلک طنز سے ہنس رہا ہے۔ اور ’’برق بے تاب ہے اس گھر کو جلانے کے لئے‘‘ وہ ایٹمی ترقی کا محرک مادہ پرستی کو قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں انسان نے انسان کو محکوم بنانے کے لئے یہ دام ہمرنگ زمین بچھایا ہے۔ بڑی طاقتیں چھوٹے ممالک کو ایک تر نوالے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتیں اور اپنی سیاسی برتری قائم رکھنے کے لئے اور جغرافیائی حدوں کو وسعت دینے کے لئے ایٹم بم بنا رہی ہیں۔ اب وہ دن دور نہیں جب جہان رنگ وبو خاک میں مل جائے گا۔
یہ جہاں خاک ہوا خاک میں نمناک ہوا
قصہ اس دور میں آدم کا المناک ہوا
علامہ صاحب کے نزدیک مسلمانوں کے زوال کا اصل سبب یہی مادہ پرستی ہے۔ منبر مسجد اور محراب سب کے سب اس طوفان کی زد میں ہیں۔ یہ قحط الرجال کا دور ہے اور جنون اور عشق عقل کی قید میں ہیں۔ انسان نے مادی طور پر ترقی کی انتہائی حدوں کو چھو لیا ہے۔ لیکن روحانیت کافقدان ہے اور ایسا کیوں نہ ہو جب۔
دشت رقصاں ہیں بیاباں رقصاں ہیں
غوث اس دور کے رقصاں ہیں قطب رقصاں ہیں
علامہ صاحب نے مادیت کے اس دور میں روحانی اداروں کی تباہی کا بالکل صحیح نقشہ کھینچا ہے۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ غوث ، ولی قطب اور پیر دنیا پرست ہو گئے ہیں اور لمبی لمبی کاریں اور فائیو سٹارہوٹل ان کی ملکیت ہیں۔ مذہب کے نام پر استحصال کرنے والے اس طبقے کا بینک بیلنس اعداد و شمار کی حدوں میں بمشکل سماتا ہے۔ اب کہاں وہ فقر و غنا کے پیکر، اسوۃ رسول اﷺ کے چلتے پھرتے نمونے جن کے دلوں میں ایمان کی روشنی تھی۔ اور جو بھٹکے ہوؤں کو نشان راہ دکھاتے تھے آج کے دولت پرست غوث اورقطب تضاد کے شکار ہیں۔ ان کے دلوں پر مادیت کی کالک اور ان کے شیش محل بقعہ نور بنے ہوئے ہیں۔
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
ہم تم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
’’نعرہ جبریل‘‘ کا چوتھا بڑا موضوع معاشی ناہمواری ہے۔ معاشی ناہمواری جو کہیں افسراور ماتحت ،صنعت کار اور مزدور اور کہیں جاگیر دار اور مزارعہ کی قبیح شکل میں موجود ہے۔ معاشی ناہمواری جس نے ایک آدم کی آل کو مختلف طبقوں میں بانٹ دیا ہے۔ علامہ یوسف جبریل نے اس کے لئے بالکل نئی تشبیہ وضع کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گندم کے ڈھیر تو پہاڑوں سے بھی بلند ہو رہے ہیں لیکن پھر بھی بھوک اور افلاس نے ہر سو ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ناانصافی پر کسان اپنے کھیت میں کھڑا رو رہا ہے اور مزدور کی حالت پر منظر بھی نم دیدہ ہو گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ملوں کا بجٹ روز و شب بڑھتا چلا جاتا ہے لیکن مزدور کی عمر گھٹنی چلی جارہی ہے اور وہ کٹتا چلاجا رہا ہے ۔ علامہ صاحب یہاں پر غریبوں کا لہو چوس کے پینے والے مزدوروں کی کمر توڑ کے جینے والے اور فانی دنیا میں دفینوں پر دفینے جمع کرنے والے طبقے سے کہتے ہیں ۔
اگلی دنیا کے ٹھکانے کا بھی کچھ زاد کرو
سفر اس منزلِ آخر کا بھی کچھ یاد کرو
’’نعرہ جبریل‘‘ میں علامہ صاحب نے علم کے حوالے سے ماضی اور حال کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ماضی کے ان پڑھ بھی اہل دل ، اہل خرد، اہل شرم، اور اہل شرف تھے۔ آج علم و دانش کی فراوانی ہے لیکن یہ علم تعقل و تفکر پیدا نہیں کرتا بلکہ نادان بناتا ہے ۔ یہ علم ان کو انسانیت کی ارفع و منازل سے آشنا نہیں کرتا۔
چند اوراقِ پریشان میں پریشاں ہونا
بسکہ آسان ہے نئے دور میں انساں ہونا
یہاں پر علامہ صاحب پر شکوہ ماضی کو یاد کرتے ہیں۔ اور بدحالی پر اشک بہاتے ہیں۔
شمعِ مسجد کی شعاؤں سے وہ انوار گئے
نورِ عرفاں کی تجلی کے طلبگار گئے
سعدی اس دور سے راہی ہوئے عطار گئے
تھی وہ مولا کی جنہیں حسرتِ دیدار گئے
اب ستوں مسجدِ ویراں کا کھڑا روتا ہے
اور قراں کا عَلَمدار پڑا سوتا ہے
پر شکوہ ماضی اور عظیم روایات کے حوالے سے ان کی فکر بھی اقبالؒ کی روحانیت کے دائرے میں آتی ہے۔ اور یہ بھی پھر سے عظیم ماضی کی عملداری دیکھنے کے متنمنی ہیں۔
’’پھر اذانیں ہوں زمانے میں حدی خوانوں کی‘‘
نظم ’’نعرہ جبریل‘‘ میں دولت کو خدا اور درد کی دوا مان لینے کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے اور تہذیب کی شکست و ریخت پر اظہارافسوس بھی ہے۔ اور یہ سب کچھ کیوں نہ ہو جب کہ باپ اور بیٹے میں تکرار ہے۔تہذیب و تمدن تباہ ہیں۔اور اقدار سب اجڑ چکی ہے۔ انسان چیتے سے بڑھ کر خونخوار ہو گیا ہے اور سانپ کی طرح جھنجھلایا ہوا رہتا ہے۔ علامہ صاحب کے بقول انسان نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی چلائی ہے۔
اپنی کرنی ہے کہ انسان پر تباہی آئی
اس نے افسوس کہ جو چیز نہ چاہی آئی
فنی لحاظ سے اس نظم میں مسدس کی ہیئت استعمال کی گئی ہے۔ نظم کاتقاضا تھا اور مسدس ہونے کے ناطے اس میںیہ گنجائش بھی موجود تھی کہ اس میں خیالات کو ایک تسلسل کے ساتھ بیان کیا جاتا۔لیکن اس نظم میں غزل کی سی ریزہ خیالی پائی جاتی ہے۔ اگر ایک ہی موضوع سے مطابقت رکھنے والنے مختلف بندوں کو ایک ترتیب میں لایا جاتا۔ تو خیالات کی تفہیم سہل ہو سکتی تھی۔ اس نظم میں کئی فنی محاسن ملتے ہیں۔ مثلاَ وہ فارسی تراکیب استعمال کی گئی ہیں جو اردو کے مزاج سے ہم آہنگ ہیں ایک جگہ عربی کی پوری آیت استعمال کی گئی ہے لیکن اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔
’’اے تعز و تذل من تشاء مان لیا‘‘
ایک مقام پر تکرار لفظی سے بھی الفاظ کا جادو جگایا گیا ہے۔ اردو ادب میں اس کو شعری حسن قرار دیا جاتا ہے اور میر اور انیس وغیرہ کے ہاں ناقدین نے اس کا کھوج لگایا ہے۔ مثال کے طور پر میر کے ایک شعر کے مصرعہ ثانی میں جیم کی تکرار دیکھئے۔
’’جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے‘‘
لیکن علامہ صاحب کے ہاں ایک بند میں خاک کی تکرار کو جس طرح اس کی معنویت کے تناظر میں اجاگر کیا گیا ہے وہ ان کی زبان فہمی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
خاک داں خاک کے خاروں میں گرفتار ہوا
خاک راں خاک کے غاروں میں گرفتار ہوا
خاک بیں خاک کے تاروں میں گرفتار ہوا
خاک خواں خاک کے پاروں میں گرفتار ہوا
یہ جہاں خاک ہوا خاک میں نمناک ہوا
قصہ اس دور میں آدم کا المناک ہوا
ٹی ایس ایلیٹ نے روایات کے شعور پر زور دیتے ہوئے کہاتھا ’’ کہ ہر عظیم شاعر کو اپنی روایات سے مکمل طور پر آگاہ ہونا اور اس سے استفادہ کرنا چاہیے‘‘۔ علامہ صاحب کے ہاں اردو کی کلاسیکی روایت سے چراغ سے چراغ جلانے کا عمل بھی ملتاہے۔ مثلا غالب کااثر دیکھئے۔
چند اوراقِ پریشاں میں پریشاں ہونا
بسکہ آسان ہے نئے دور میں انساں ہونا
یوں تو علامہ صاحب کی نظم میں فکر کا عنصر غالب ہے اور اس کے اظہار کے لئے زبان بھی بھاری بھر کم استعمال کی گئی ہے۔ لیکن بعض مقامات پرلطیف ترین لہجے کے الفاظ بھی ملتے ہیں اور کئی بندوں میں تعزل کا عنصر پیدا ہو گیا ہے۔ تعزل کی چاشنی اور غزل کی سی کیفیات لئے ہوئے کچھ بند دیکھئے:۔
بات جبریل کی افلاک و سماوا بھی سنیں
دل کی موجوں میں سسکتے ہوئے دریا بھی سنیں
گلِ رعنا بھی سنیں نرگسِ شہلا بھی سنیں
سینہء ارض پہ تَپ تے ہوئے صحرا بھی سنیں
اے پہ ھیہات کہ اس لفظ کو انساں نہ سنیں
آشکار اس میں ہے جس درد کا درماں نہ سنیں
یا پھر:
کارواں سیلِ خرافاتی و منزل خالی
دوستاں ترک موالاتی و محفل خالی
پاسباں ننگِ خرافاتی و محمل خالی
کون سمجھے گا مرے دوست یہ مشکل خالی
اپنے ویرانہء دل کی یہ ویرانی دیکھ
اپنی حیرت پہ زمانے کی یہ حیرانی دیکھ
یا پھر ایک شعر دیکھئے جس میں دبستان دہلی کے اساتذہ کا سا رنگ در آیا ہے۔
جو غریبوں کا لہو پی کے جواں ہوتے ہیں
ناز و غمزہ میں وہ کیا رشک بتاں ہوتے ہیں
دوسری طویل نظم ’’گلبانگِِ صدارت‘‘ زمانی ترتیب کے لحاظ سے ہے۔ یہ نظم1970 ء کے الیکشن سے قبل لکھی گئی۔ اس میں ایک آیئڈل سربراہِِ مملکت کی تصویر کشی کی گئی ہے اور اس حوالے سے یہ علامہ یوسف جبریل کا سیاسی منشور بھی قرار پایا ہے۔ ملکی نظم و نسق چلانے کے لئے علامہ صاحب خلافت کے نظام کی آرزو کرتے ہیں اور ا ن کی خیالی اسلامی ریاست میں اللہ کی حاکمیت اُ س کے نیک بندوں کے ذریعے قائم ہوتی ہے۔ اس نظم میں علامہ یوسف جبریل ملک کے صدر بن کر جس مسئلے کو پہلے حل کرنے کے متمنی ہیں وہ مسئلہ کشمیر ہے ۔
دل میں کانٹا ہے یہ کشمیر نکالوں اس کو
اپنی گردن میں ہے زنجیر کٹا لوں اس کو
کشمیر کے بعد وہ بیت المقدس کی آزادی کو اپنا مرکز بناتے ہیں۔ قدس کو وہ جان و دل کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور اُ س کے دامن کو پھولوں سے بھر دینا چاہتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:۔
جان و دل دے کے ادا سجدہ شکرانہ کروں
اے مرے قدس تجھے پیش یہ نذرانہ کروں
وہ ایک صدر کے لئے یہ خواہش بھی رکھتے ہیں کہ وہ طاقت کے استعمال سے برائی کو روکے۔ وہ سود خواروں منافقوں باغیوں مشرکوں اور جابروں کو ختم کر دیناچاہتے ہیں تاکہ بندہِ مجبور کی مشکلیں آسان ہو جائیں۔ وہ قانونِِ الہی کو عملاً نافذ کرنا چاہتے ہیں اور فکرِِ ابلیسِِ فرنگی کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے آرزومند ہیں۔ اس نظم میں اُ نہوں نے ملک میں عدل و انصاف کے حصول میں درپیش مشکلات کے پیشِ نظر عدالتی نظام پر کڑی تنقید کی ہے۔
کیا یہی عدل ہے انصاف اسے کہتے ہیں
بن کے خوں عدل کے دریا بھی کہیں بہتے ہیں
اس کے علاوہ انہوں نے رشوت اور سود کے نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دولت کی غیر مساویانہ تقسیم کی بھی مذمت کرتے ہیں اور سوشلزم اور سرمایہ داری دونوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں ۔ اُ ن کے بر عکس وہ اسلام کے نظامِ معیشت کے داعی ہیں ۔ وہ اس نظام کو حُسن خیر اور صداقت کا منبع قرار دیتے ہیں۔ وہ اُ متِِ مرحوم کی طاقت شوکت عظمت اور ہیبت کو یاد کرتے ہیں اور اقبالؒ کے پُر شکوہ ماضی سے وابستگی کے روحانی رویے سے اپنارشتہ جوڑتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان ہی حاصلِ تقدیر ہے اور اس عالمِ بے تاج کا وارث بھی وہی ہے ۔ یہاں پر وہ اقبال ؒ کے ہمنوا نظر آتے ہیں اور اُ ن کا کلام اقبالؒ کے ’’کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں‘‘۔ والے شعر کی توضیح و تشریح کی شکل دکھائی دیتا ہے ۔ ’’گلبانگِِ صدارت‘‘ میں علامہ یوسف جبریل ایک حکمران کے خصائص کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ کہ اُ سے قاہر آمر اور مغرور نہیں ہونا چا ہئے بلکہ وہ رسمِِ سلطانیء جمہور کو نباہنے والا ہو ۔ اس نظم کے آخر میں اُ ن کے ہاں قلندری اور بے نیازی نظر آتی ہے اور وہ دنیا کو ایک درویشانہ ٹھوکر لگا کر کہتے ہیں ۔
اک جَو میں نہ خریدوں میں شہنشاہی کو
میں پئے تحت نہ دوں دل کی جگر کاہی کو
’’ گلبانگِِ صدارت‘‘ کے فنی محاسن میں ایک حُسن تو ان کی ایک مقام پر قافیے کی جدت ہے۔ اُ نہوں نے توجیہ تنبیہ اور تہیہ کے اجنبی لیکن دل کو بھانے والے قافیے استعمال کئے ہیں۔ ایک مقام پر دو مصرعوں میں حرفِِ علت کی غیر موجودگی بھی فنی حسن کا باعث بنی ہے ۔
دفتروں، خیمہ گہوں، مسجدوں، ایوانوں میں
درگہوں، مردہ گھروں، معبدوں، زندانوں میں
’’ نعرہِ جبریل‘‘ کی طرح ’’گلبانگِ صدارت‘‘ کے بعض اشعار بھی تعزل کی منہ بولتی تصویر ہیں۔
عدل و انصاف کے پردے میں یہ کیا لُٹتی ہے
قصرِ جنت کے جھروکوں میں صبا لُٹتی ہے
یا پھر
فصل گل لا کے بہاروں میں چراغاں کر دو
پھول برسا کے رخِ ارض کو داماں کر دو
’’ نعرہِِ جبریل‘‘ نامی کتاب میں ایک اور طویل نظم ’’ نوید صبح ‘‘ یعنی مومن کا منشور ہے۔ ہیئت کے حوالے سے یہ نظم چھ مختلف حصوں میں منقسم ہے ۔ اِ ن میں سے ’’کرامت والے ‘‘ حصے کو چھوڑ کر کیونکہ اس میں مطلع کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ باقی سب کو غزلِِ مسلسل کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اس نظم کے پہلے حصے کو’’ہوش کریں‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ عنصر’’ ہوش کریں‘‘ کی ردیف جہاں اس کو تاثر کی وحدت میں پروتی ہے وہاں نظم میں بلند آہنگی بھی پیدا کرتی ہے ۔یوں لگتا ہے جیسے علامہ یوسف جبریل قوم کو اس کی خامیوں پر سخت انداز میں متنبہ کر رہے ہوں۔ فکری حوالے سے اس نظم میں بھی جبریل کی دیگر نظموں کے مضامین کی تکرار ہے۔ وہی معاشی نا ہمواری وہی عدل و انصاف کا فقدان طبقاتی اونچ نیچ اور امراء کے غریبوں پر مظالم۔علامہ یوسف جبریل اس کشمکش کو بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر کہتے ہیں ۔
صبر کرتے ہیں اگر خونِ جگر پی کے غریب
ان امیروں سے بھی کہہ دو کہ ذرا ہوش کریں
جو جلاتے ہیں غریبوں کو سنبھل جائیں وہ
جو جلاتے ہیں غریبوں کا دیا ہوش کریں
اس نظم کے ایک شعر پر میں اپنے تاثر کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا میرے خیال کے مطابق اس ایک شعر میں دنیا بھر کا درد کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔
کس کا کرتہ ہے یہ پیوند ہیں چودہ جس میں
درسِ عبرت ہے مرے شاہ و گدا ہوش کریں
یوں لگتا ہے جیسے ہماری آنکھوں کے سامنے وہی منظر گھوم رہا ہے جب سرورِ کائنات صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم بان کی چٹائی پر سو کر اُ ٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشتِِ مبارک پر اُ س کے نشان دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم رو پڑے تھے۔’’مومن کا منشور ‘‘ کا دوسرا حصہ ’’خوابِ جبریل‘‘ ہے ۔ جو ۵۳ اشعار پر مشتمل ہے اس میں’’ ہوں گے‘‘ کی ردیف اس سہانے مستقبل کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
مصطفے ﷺ دورِ بہاراں کے پیعمبر ہوں گے
محفل آرائے جہاں ساقیءِ کوثر ہوں گے
آگے چل کر اس میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا ذکر ہے اور خلافت کی تشکیلِِ نو کا خواب ہے ۔علامہ یوسف جبریل ایک نئے دور کی آمد کا ذکر کرتے ہیں جب دنیا سے جبر اور ظلم کا خاتمہ ہو جائیگا اور جس دور میں فرعون صفت حکمرانوں کے سر نگوں ہو جائیں گے ۔شاخِِ ملت پہ تازہ پھول کھلیں گے اور ان کی خوشبو فضاؤں کو معطر کر دے گی۔ یہاں پر نئے دور کے لیڈر مردِ مومن ہوں گے اور جبریل کی یہ فکر بھی اقبال کے مردِ مومن کے تصور کا تسلسل ہے۔ نظم کا تیسرا حصہ بھی ’’خواب ‘‘ ہی ہے۔ اس میں مردِ مومن کے انقلابی اقدام کا ذکر ہے جب اسکی نگاہ رگِِ کفر پر نشتر ثابت ہو گی۔ یہاں وہ قوانینِِ الہی کے عملاً غلبے کا ذکر کرتے ہیں جس کے بعد زندگی میں موجود افراط و تفریط ختم ہو جائے گی اور وہ اک عجب حُسنِِ توازن سے برابر ہو جائے گی ۔ علامہ صاحب کا خاص موضوع سائنس ہے اور وہ اس کی جدید ترین دریافت ایٹم کا ماخذ قرانِِ حکیم کو قرار دیتے ہیں ۔ اس نظم میں اس امر کا بھی ہلکا سا اشارہ ملتا ہے کہ سائنس مذہب کے تابع ہو گی۔ نظم کے چوتھے حصے کو ’’کرامت ہوں گی ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ نو اشعار کی اس نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مردِِ مومن کی اذانیں ہر سو پھیل جائیں گی اور باطل منہ چھپانے کو دوڑتا پھرے گا ۔ ’’ نویدِ صبح ‘‘ کا پانچواں حصہ ’’ اثر کرنا ہے ‘‘ کے عنوان سے ہے اس میں دلوں میں عشقِ صادق پیدا کرنے کا عزم ہے اور عدل و انصاف اس کا بھی موضوع ہے۔ اس نظم میں ایک انقلابی لائحہ عمل تجویز کرتے ہوئے علامہ یوسف جبریل شدید ترین جذباتیت سے کام لیتے ہیں۔
تازہ کرنی ہے وہی اکبر و اصغر کی مثال
اپنے بچوں کو بھی اب سینہ سپر کرنا ہے
اپنے وعدوں کو وفا کرکے دکھانا ہے ہمیں
ہم نے کونپل کو لہو دے کے شجر کرنا ہے
اے زمانے میں درِ حرص پہ جھکنے والو
اب تو سمجھو کہ تمھیں سجدہ کدھر کرنا ہے
اس نظم کا چھٹا اور آخری حصہ ’’ اسلام کا معا شی نظام‘‘ ہے اس سے پہلے تینوں نظموں میں جبریل کے ہاں معاشی انصاف کا ذکرجا بجا بکھرا پڑا ہے لیکن یہاں وہ معاشی نظام کے بارے میں اپنے نظریات کھل کر بیان کرتے ہیں۔ اس نظم کے ما خذ قران حکیم اور احادیث ہیں ۔ وہ قران حکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ایسا نہ ہو کہ دولت تمھارے امراء کے ہاتھوں میں ہی گردش کرتی رہے ‘‘۔ یہاں وہ ارتکازِِ زر کا عملاً سد باب کرتے ہیں اور ادنی اور اعلیٰ کے درمیان ایک وسطِ سلیم کا ذکر کرتے ہیں ۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس حدیث کا حوالہ بھی دیتے ہیں کہ زمین اس کی ہے جو خود کاشت کرے اور مزارعت سود ہے اور اُس کے ساتھ ساتھ فرد کی ملکیت کے حق سے تشکیل پاتا ہے ۔ کسی ایک شاعر یا ادیب کا اسلوب دوسرے کے اسلوب سے نہیں ملتا البتہ بعض مخصوص حالات کی بنا پر اسلوب کے کچھ نہ کچھ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر تقسیمِِ بر صغیر کے مرحلے پر ناصر کا ظمی نے میر کی تقلید کی اور اس کے رنگ میں غزلیں کہیں۔ اس کی وجہ دونوں کے عہد کے سیاسی حالات کی مماثلت میں تلاش کی جاتی ہے۔ عام طور پر عظیم شاعر کا اسلوب ناقابلِ تقلید ہوتا ہے۔ اس کے لئے اردو ادب میں غالب اور اقبال کی مثال دی جا سکتی ہے۔ کچھ شعراء پر کہیں کہیں ان کا ہلکا سا عکس تو پڑتا ہے لیکن مکمل طور پر اُ ن کے رنگ کو نہ اپنایا جا سکا ۔ہمارے ہاں اقبالؒ ایک مستقل مطالعے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اور ناقدینِ اقبالؒ تحقیق کے نئے آفاق دریافت کر رہے ہیں۔ اس وقت جبریل ایک ایسے شاعر نظر آتے ہیں۔ جن کا کلام غالب حد تک اقبالؒ کے رنگ میں رنگا ہو ا ہے۔ وہی علامات وہی بحور وہی تراکیب وہی آہنگ اور وہی توانا لہجہ اس حوالے سے بھی ناقدینِ اقبالؒ کے لئے کلامِ جبریل کا مطالعہ دلچسپی کا باعث ہو گا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ نغمۂِ جبریل اس وقت فضاؤں میں رس گھول رہا ہے لیکن ہم محرومِ سماعت ہو چکے ہیں۔

علامہ یوسف جبریل کی شاعری تحریر ندیم نیازی عیسی خیلوی

’’نعرہ جبریل‘‘ علامہ یوسف جبریل کا شعر ی مجموعہ ہے ۔ ان کی شاعری میں الہامی کیفیت پائی جاتی ہے جس سے مستقبل کی نشان دہی اس انداز سے ہوتی ہے کہ ان کی فکری پرواز کو پیشین گوئی کہنا بے جا نہ ہوگا۔ علامہ یوسف جبریل اگرچہ عمر کے اعتبار سے ناتوانی کی منزل پر پہنچ چکے ہیں مگر ان کے ولولے اورجذبے جواں بیدار متحرک اور خوش آئند ہیں۔ ان کے سینے میں صرف تڑپ کی چنگاری ہی نہیں بلکہ ایک الاؤ روشن ہے جسے الفاظ کے جوالا مکھی کاروپ دے کر’’ نعرہ جبریل‘‘ کی صورت میں عوام کی روحوں میں حرارت اور قوت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے پختہ عزائم اور بلند حوصلے ان کی جواں ہمتی کا بین ثبوت ہیں۔علامہ یوسف جبریل نکتہ رس و نکتہ سنج ہی نہیں دوررس اور دوربیں بھی ہیں۔ وہ مستقبل قریب میں ظلمات کے جالوں کو بدلنے کے درپئے ہیں اور ایک بیدار مغز ناصح کی طرح پوری مسلم قوم کو آنے والے ہیبت ناک وقت کی خبر دیتے ہیں۔ ان کے مناط و مقاصد حالی اور قبالؒ کی پیروی ہے۔ ان کا انداز فکر حضرت علامہ اقبال کا سا ہے۔ یہ کہنے میں مضحکہ نہیں کہ ان کا آہنگ علامہ اقبالؒ کی صدائے بازگشت ہے۔ ان کی شاعری عصر حاضر کی عکاسی اور غمازی کا اپنا جواب آپ ہے۔ ان کی پرتاثیر روش بیباکی کی اعلی دلیل ہے۔ مقصدیت سے بھرپور شاعر ی اس دور کاتقاضا ہے مگر اکثر شعراکرام اس تقاضے کو پورا نہیں کر پاتے۔ علامہ یوسف جبریل کی انفرادیت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ اس تقاضے کی تاسیس پر اپنی شاعری کی فلک بوس عمارت کی تعمیر میں مگن ہیں ۔یہ ان کی شدت لگن کا صحیح جواز اور حسین پہلو ہے۔ان کے ہاں حال کی منظر کشی بھی عمدہ انداز سے کی گئی ہے۔ ان کی شاعری بلبل کے سریلے نغمے اور گیت کی ترنم ریزیوں پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس سے شاہین کی جگر دوذ ضیفروں کی صدا بلند ہوتی ہے۔ جہاں انہوں نے مقصدیت اور نفس مضمون کو اولیت کا درجہ دیا ہے وہاں شعری محاسن اور مناقب کی بھی کمی نہیں پائی جاتی۔ ان کی شاعری چونکہ اساسی نظریات کی حامل ہے اس لئے یہ زندہ و تابندہ رہے گی اور اس کے لئے بھی کہ ترکیب وبندش کی خوبصورتی کے باوصف خصوصی و موزوں اور عیق معانی قطار در قطار نظر آتے ہیں۔ علامہ یوسف جبریل مادہ پرستی کے اس دور سے جذبہء نفریں رکھتے ہیں اور روحانی اقدار کے خاتمہ پر ان کا جی کڑھتا ہے ۔ ان کو پوری قوم روح کی بالیدگی سے غافل نظر آتی ہے۔ اس لئے انہیں عمل کے پاسبان ننگ خرافاتی لگتے ہیں۔ علامہ صاحب کی جملہ شاعری انتہائی نصیحت آموز ہے اور تڑپ و کسک کے سامان مہیا کرتی ہے۔ خصوصی بات جو قابل ذکر ہے کہ وہ گھٹا ٹوپ اندھیروں ارور شب و دیجور کی ظلمت افروز کیفیت سے نا امیدی اور یاسیت کا شکار نہیں ہوتے بلکہ روشن مستقبل کے اجالوں کا یقین دلاتے ہیں۔ انہیں یہ روشنی صرف اسلام کے پرچم سے پھوٹتی نظر آتی ہے۔ وہ اسلام کے متقابل ہر نظریہ کو باطل قرار دیتے ہیں۔ ان کی بیدار مغزی اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ ان کے اندر کا انسان سچا مسلمان اور محب قوم ہے اس لئے ان کی دل کی آواز جو لفظوں کاروپ دھار لیتی ہے دیرپا اثر رکھتی ہے۔ ان کی اس جگر کاری اور جان سوزی کا احترام لازمی ہے جو لائق توصیف وستائش ہے۔ان کے ہاں ذخیرہ الفاط نئی تراکیب اور چست بندشوں کی بھرمار ہے جہاں ان کے سچے زندہ و بیدار جذبوں کا احترام ہے۔ وہاں ان کی شاعری کی عظمت کا بھی اعتراف ہے۔بلاشبہ دور حاضر کی نبض شناسی کے لئے علامہ یوسف جبریل صاحب پوری قدرت رکھتے ہیں اور اس طرح وہ حقیقت افروز معاملات کے بارے میں پوری آگاہی رکھتے ہیں لہذا ان کی شاعری کا مطالعہ انفرادی اوراجتماعی مسائل کو سلجھانے کے لئے مشعل راہ ثابت ہو گا۔ ان کے ظاہرو باطن میں اختلاف نہیں ہے وہ صرف گفتار کے غازی نہیں بلکہ کردار وعمل پرپورا اترتے ہیں اور یہ وصف و خوبی اکثریت کے اعتبار سے آج کے لکھاریوں میں عنقا ہے۔مگر علامہ صاحب اس سے پوری طرح متصف ہیں ۔وہ ہر نوع کے سود و ضیاع سے واقف ہیں۔ ان کی نگاہیں پاتال تا افق تک مشاہدہ کی قوت بصیرت رکھتی ہیں۔ اس لئے زندگی کے نشیب و فراز ان کے احاطہ فکر سے باہر نہیں ۔وہ دردمند دل رکھتے ہیں اس لئے ملی اورا نسانی جذبے کے باوصف اپنے مفکرانہ اور دردمندانہ خیالات و مقاصد سے قوم کی اصلاح کرنا مناط حیات بنا چکے ہیں لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آپ دردمند قومی مفکر ہیں۔ اگرچہ ان کی شاعری میں قدیم رنگ نمایاں ہے مگر شعری فکر و احساس ملک و ملت کے درد سے رنگین ہے۔ زبان پر قدرت ان کی فنی صلاحیتوں کا شیوہ ہے تو بیان کی ندرت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان کی شاعری پر سنجیدگی سے پرکھ و پہچان اور نقد و نظر کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ ان کے کلام کا کرشمہ ہے کہ قلوب و اذہان میں سرایت کر جاتا ہے اور قارعین داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ان کی شاعری کا بنیادی تنازعہ ملک و ملت کی اصلاح اور معاشرے کی شیرازہ بندی ہے۔ وہ قبیلوں میں بٹی ہوئی قوم کو ان کی بے اتفاقی اور خود سری کے خطرناک انجام سے باخبر رکھنا چاہتے ہیں اور اس امر کا احساس دلاتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کے آخری خطبہء مبارک کو مسلمانان عالم کیوں فراموش اور نظر انداز کر بیٹھے ہیں۔ جس سے مسلمانوں کی یگانگت اور یک جہتی اخوت و بھائی چارے کا درس اور حکم ملتا ہے اور اس حقیقت سے پہلوتہی اور مفر دور حاضر کی ابتری اور قومی کسمپرسی کی شاہد ہے۔
علامہ صاحب کی شاعری ایک محور کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا مرکزی خیال قوم کی اصلاح ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ کے بعد چند شعراء نے علامہ اقبالؒ کی ڈگر کواختیار کرتے ہوئے اتباع کیا۔ مگر علامہ یوسف جبریل ان کی پوری تقلید کرتے ہیں۔ اس طرح وہ مبلغ اور مصلح کی صورت اپنی شاعری میں جلوہ گر ہیں۔( جنوری 1987 )

علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق جناب اظہر جاوید صاحب کے تاثرات

مکرمی ! جناب جبریل صاحب کا غیر معمولی کلام ایک مختصر وقفہ کے لئے دیکھنے کا مجھے اتفاقاً شرف حاصل ہوا ۔ اس قلیل فرصت میں اُ ن کے رشحاتِ قلم نے میرے دل و دماغ پر نہائت گہرے تاثرات چھوڑے ہیں۔ اُ ن کے ملی اور انسانی جذبے کو جس قدر بھی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جائے وہ اس کا جائز مستحق ہے۔ آپ کا کلام ہر چند کہ بظاہر نظم کی خوبیوں سے آراستہ ہے۔ لیکن بباطنِ مواد کو ہیئت پر معتد بہ ترجیح ہے ۔ اصل اہمیت آپ کے موضوع اور اسکے محرک جذبہ کو حاصل ہے ۔ ہر چند کہ پیرایہ اظہار نے منظوم صورت اختیار کر کے اس کے حسن و تاثیر میں چند در چند اضافہ کیا ہے لیکن فی الاصل آپ کو شاعر کہنے یا سمجھنے میں اسی غلط فہمی اور غلط کاری کا احتمال ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال مرحوم نے فرمایا تھا ۔
’’من اے میر امم داد از تو خواہم
مرا یاراں غزلخوانے ثمردند ‘‘
میری دلی خواہش اور دُ عا ہے کہ اللہ تعالی آپ کے اس پاکیزہ جذبے کو مناسب طور پر بارور کرے۔ آمین۔
اظہر جاوید مکتبہء ادبِ جدید چوک بل روڈ لاہور

نعرہء جبریل تحریر اقبال ظفر ٹوانہ

قلم کی عظمت کو تحفظ دینے کے لئے جذبہء خودداری اور فکری بلندی کا ہونا بہت ضروری شرط ہے۔ جس قلم کار کو یہ دعوی ہو کہ وہ اپنے افکار اور خیالات کی بدولت قلم کی عظمت کو اجاگر کر رہا ہے مگر اس میں وہ پاکیزگی اور ندرتِ بیان مفقود ہو وہ ولولہ اور جذبہ ناپید ہو وہ خودداری اور حق شناسی غائب ہو جس کی بنیاد زندگی کے حقیقی پہلوں پر استوار ہو تو ایسا قلمکار بے شک اپنے حق میں بلند و بانگ دعووں کا سہارا لے کر خود کو اپنے منہ میاں مٹھو والی بات کے مصداق قلم کی عظمت کا پاسباں ثابت کرتا پھرے اور کہے کہ وہ قلم کا صحیح نگہبان ہے۔ حقیقت تو یہ ہے وہ نہ صرف قلم کے مقام اور اس کی عظمت سے بے خبر ہے بلکہ وہ قلم کا سب سے بڑا حریف بھی ہے آج جب ہم ادبی اور علمی مباحثوں میں اکثر دلائل کے زور پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت ہمیں قطعاً یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم جن دلیلوں اور بحثوں کا سہارا لے کر ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں اور جن باتوں کو ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کیا وہ خود ہم میں موجود ہیں۔ کیا ہم خود ان پر عمل کرنے کے اہل ہیں۔ جو باتیں ہم دوسروں پر ٹھونستے ہوئے خود کو وقت کا بہت بڑا دانشور خیال کرتے ہیں اور خود کو ادبی دنیا کا لاثانی کردار تصور کرتے ہیں ۔دیکھنا تو یہ ہے کہ وہ کون سی ہستیاں ہیں جو آج کے عہد میں نہ صرف ادبی افق پر نمودار ہیں بلکہ ان کی آن بان اور چمک دمک سے اردگرد کے ادبی ماحول میں فکروفن اور علم و عمل کے اجالے پھیل رہے ہیں۔ اور انسانیت ان کی بلند سوچ اور فکر سے نہ صرف سبق حاصل کر رہی ہے بلکہ ان سے تاریک دلوں میں خلوص و شوق کی روشنی بکھر رہی ہے۔ ادب کی انہی نامور شخصیات میں علامہ یوسف جبریل کا نام ملک کے ہر گوشے گوشے میں قومی بین الاقوامی ادبی علمی سماجی اور دوسرے مسائل کا حل پیش کرتے ہوئے سامنے آتا ہے اور اس حقیقت سے انکار ناممکن ہے کہ آ ج ادبی دنیا میں خصوصاً علامہ یوسف جبریل ایک اہم ترین شخصیت شمار ہوتے ہیں۔ وہ جوخود کو ملک و قوم کی سربلندی دین اسلام کی خدمت اور انسانیت کی تعمیر و ترقی کے لئے وقف کردیتے ہیں۔وہ جو اپنی تمام ترسوچوں اور افکار کا رخ قوم کی فلاح و بہبود تعمیر و ترقی اور فکری پرورش کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ ایسی نادر ہستیوں کا کردار بھلا کون بھول سکتا ہے۔ علامہ یوسف جبریل کا قلم ہمیشہ قوم اور ملکی مسائل حل کرنے کے جذبہ سے سرشار رہا ہے اور دینِ حق کے اصولوں کو نمایاں کرنے کا ولولہ علامہ صاحب کے قلم کا ایک اہم کارنامہ ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب تک ملک و قوم کے اندر علامہ یوسف جبریل جیسی مخلص اور قومی اندازِ فکر سے سرشار ہستیاں اور دانشور موجود ہیں اس وقت تک قوم اپنی نظریاتی منزل سے دور نہیں کی جا سکتی ۔ نہ ہی قوم کا جذبہء ایمانی ماند پڑ سکتا ہے کیونکہ علامہ صاحب جیسے عظیم فکری راہنما ہی قوم کے مسائل کو صحیح سمجھ کر قوم کی راہنمائی اپنے قلم کی بدولت کر سکتے ہیں۔ بلکہ علامہ جبریل صاحب اپنی تمام تر صلاحیتیں قوم ملک اور دین کے مستقبل کی درخشانی کے لئے وقف رکھتے ہیں اور نازک موڑ پر قوم کو صحیح راستہ دکھانے کی توقع ان سے کی جا سکتی ہے اور انتہائی نازک دور میں بھی وہ اپناموثر کردار ادا کرکے قلم کا حق ادا کرتے ہیں جس کی توقع اُ ن سے کی جا تی ہے اور ان باتوں پر قلم کو بلاشبہ فخر حاصل رہتا ہے اور پھر یہ ہستیاں وطن اور قوم کے لئے ایک ایسا نمونہ بن جایا کرتی ہیں جس کی بدولت قوم میں خودداری حق گوئی اور بے باکی کا جذبہ ہمیشہ بیدار رہتا ہے اور پھر اسی جذبہ ء پائیدار کی بدولت قوم ہمیشہ اپنی صفوں کو درست رکھتی ہے۔ علامہ یوسف جبریل نہ صرف اپنے قلم کی بدولت قوم کے فکری شعور کو بلند کرنے کا عَلَم اٹھائے ہوئے ہیں بلکہ اُ ن کے اشعار میں ایک ایسی للکار بھی سامنے آتی ہے جس کے دم سے مسلم قوم خصوصاً غریب طبقہ پر ہونے والی ناانصافیوں کی نفی کرتے ہوئے ان قوتوں کو خبردار کیا گیا ہے جو ہر عہد میں خود کو جابر قوتیں سمجھتے ہوئے محکوم اور چھوٹے طبقوں پر ہر جوروجبر اور جفا کی تلوار سے وار کرتے رہتے ہیں۔ علامہ یوسف جبریل نہ صرف ان قوتوں کو اپنے قلم کی طاقت سے ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کو یہ احساس دلاتے ہوئے متنبہ کرتے ہیں کہ آج تم بے بس اور لاچار انسانیت پر اپنے عارضی اقتدار کے بل بوتے پر ستم اور زیادتیاں تو کر لو گے لیکن آخر کار تمھیں اس کا بدلہ ہرحالت میں دینا ہو گا اور اس حساب سے گذرنا ہو گا جو ہر صورت میں لیا جائے گا پھر اس وقت نجات کی راہیں بند ہوں گی۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ ابھی ان ظالمانہ حرکات اور ہتھکنڈوں سے باز آ جائیں’’نعرہ جبریل‘‘ میں علامہ صاحب انہی جذبات کو اشعار کی صورت میں یوں سامنے لاتے ہیں۔
اے غریبوں کا لہو چوس کے پینے والو
اے غریبوں کا جگر چیر کے سینے والو
اے غریبوں کی کمر توڑ کے جینے والو
فانی دنیا میں دفینے پہ دفینے والو
اگلی دنیا کے ٹکانے کا بھی کچھ زاد کرو
سفر اس منزلِ آخر کا بھی کچھ یاد کرو
(نعرہ جبریل صفحہ نمبر ۲۹ )
علامہ صاحب کا کلام نہ صرف انسانیت کے پسے ہوئے افراد کے حقوق کی بحالی کے لئے ایک موثر قدم کے طور پرسامنے آتا ہے بلکہ اس میں اس دور کی صورت حال کو بھی سامنے لایا گیا ہے جس کی بدولت آج مسلمان قوم کو ان عظمتوں کی ضرورت پھر سے محسوس ہو رہی ہے جو کبھی اس قوم کے قدم چومتی تھیں۔ علامہ یوسف جبریل کے کلام میں سوچ اور فکر کے ایسے ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جن کی بدولت اس امر کی ضرورت ناگزیر ہے کہ ایک بار پھر مسلم قوم میں عظمتِ رفتہ بیدار کی جائے تاکہ مسلم قوم کو پھر سے وہ بلند مقام حاصل ہو جس پر کبھی یہ بڑی شان و شوکت سے فائز رہی ہے اور جس مقام پر ہوتے ہوئے اس قوم کے آباؤ اجداد نے ایسے عظیم کارنامے سرانجام دیئے کہ دنیا کے بڑے بڑے جابر انگشت بدنداں رہ گئے ۔علامہ یوسف جبریل کی نظر میں آج بھی مسلمان قوم اگر تعلیماتِ قرانی احادیث نبوی اور اپنے عظیم اسلاف کے عظیم کارناموں کو سامنے رکھتے ہوئے عزم و ہمت سے منزل کی جانب چل پڑے تو اسے لازماً سرخروئی اور کامرانی حاصل ہو گی ۔’’نعرہ جبریل‘‘ میں انہی افکار کو یوں بیان کیا گیا ہے۔
خیبر اس دور کا سر ہو تو ید اللہی سے
جھوٹ ہو خاک بسر آہِ سحر گاہی سے
ظلمتیں دور ہوں مومن کی جگر کاہی سے
پھر ہو تنویر محمد ﷺ کی شہنشاہی سے
(نعرہ جبریل صفحہ نمبر ۳۵)
ان تمام افکار و خیالات کو اگر یکجا کیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے علامہ یوسف جبریل کی دوربین نگاہوں نے مسلمان قوم کی زندگی کے تمام مسائل کا حل ان زریں اصولوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جن کی بدولت پاکیزگی کردار اور دینِ حق کی سربلندی سرفرازی کامرانی اور کامیابی کے لئے عام کرنے کا جذبہ مسلمان قوم کے ہر فرد میں بیدار ہو سکتا ہے۔ بس ذرا مردِ مومن کا جذبہء عشق صادق ہونا ضروری ہے گویا علامہ یوسف جبریل کا کلام فکری اور نظریاتی جذبے کا ایسا ترجمان ہے جس نے قومی ضمیر کو ایک مرتبہ پھر انہی خطوط پر جھنجھوڑنے کی ذمہ داری قبول کی ہے جو حکیم الامت حضرت اقبالؒ کے کلام کے مقاصد کاحصہ ہیں ۔علامہ یوسف جبریل کے کلام میں جو جوش و ولولہ اور غلغلہ ہے وہ درج ذیل شعروں میں دیکھا جا سکتا ہے :۔
عشقِ صادق ہو تو تعزیر بدل ڈالوں گا
نگہہ گردوں کی یہ تاثیر بدل ڈالوں گا
فکرِ دوراں کی یہ تصویر بدل ڈالوں گا
مرد مومن ہوں تو تقدیر بدل ڈالوں گا
فرشِ ذلت سے تجھے عرش پہ لا ڈالوں گا
مئے تجھے عشقِ محمد ﷺ کی پلا ڈالوں گا
( نعرہ جبریل صفحہ ۳۸ )
علامہ یوسف جبریل کا کلام جہاں جا بجا اپنے اندر مسلمان قوم کی خدمت کا سچا جذبہ لئے ہوئے ہے وہاں اس میں ان افکار کی خوشبو بھی شامل ہے جن کی بدولت دیگر محکوم اقوام کے حقوق کی بحالی کے لئے زور و شور سے کوششیں جاری ہیں۔ علامہ یوسف جبریل کے کلام میں بھارت کے محکوم عوام سے بھی ہمدردی کا جذبہ پوری شدو مد اور تابانی سے موجود ہے۔ علامہ صاحب کے درج ذیل اشعار اسی سمت واضح اشارہ ہیں جن میں کہا گیا ہے :۔
رلاتا ہے یہ پیغامِ صبا بھارت کے محصورو
تمھارا نالہء آہ و بُکا بھارت کے محصورو
مرے ہاتھ اٹھ رہے ہیں بارگاہِ رب العزت میں
میرے دل سے نکلتی ہے دعا بھارت کے محصورو
علامہ یوسف جبریل نے اپنے کلام میں مسجدِ قدس کے حوالے سے جو روحانی قلبی اور جذباتی فریضہ سر انجام دیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے علامہ صاحب نے اس اہم مسئلہ پر کس موثر پیرائے میں اپنی وابستگی کا ثبوت دیا ہے ۔ علامہ صاحب کے جذبات یوں سامنے آتے ہیں:
سینہء نحسِ یہودی میں اتر جاؤں گا
چیر کر قلب و جگر تا بہ کمر جاؤں گا
بن کے شمشیر کلیجے سے اتر جاؤں گا
کام مومن نے جو کرنا ہے وہ کر جاؤں گا
( نعرہ جبریل صفحہ ۴۱ )
مسجدِ قدس کو پھولوں سے سجاؤں یا رب
دستِ ناپاک یہودی سے چھڑاؤں یا رب
اسلام کی عظمت و حقانیت اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیغام کوعلامہ صاحب نے اپنے کلام میں جس پُرشوق جذبے اور فکر ی سادگی کے ساتھ پیش کیا ہے اس کی نشان دہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :
میں زمانے کو دکھا دوں کہ وہ اسلام ہے کیا
ہادیء ملت بیضاء کا وہ پیغام ہے کیا
سوزِ تکبیر ہے کیا حرمتِ احرام ہے کیا
اپنے اللہ نے کیا ہم پہ جو انعام ہے کیا
یعنی پیغامِ محمد ﷺ کی حقیقت کیا ہے
اور اس حکمتِ قران کی طریقت کیا ہے
المختصر علامہ یوسف جبریل کا کلام عہد حاضر کے ادبی میدان میں ایک ایسا اضافہ ہے جس میں نہ صرف مسلم قوم کے اجتماعی مسائل کی نشان دہی کی گئی ہے بلکہ ا ن مسائل کے حل کے لئے وہ تمام تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں جن پر اگر عمل کیاجائے تو مسلمان قوم کو اپنی اصل منزل مقصود پر پہنچنے میں ذرا دیر نہیں لگ سکتی ۔علامہ صاحب کے کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے خود کو قوم مذہب اور وطن کے لئے وقف کر دیا ہے اور وہ ہر لمحہ قومی خدمت کے لئے کوشاں ہیں۔ وطن سے ان کو جو بے لوث محبت ہے اس کا اندازہ ان کے اس کلام سے لگا یا جا سکتا ہے
نذرِ آتش ہی اگر دیس کو کرنا ہے تمھیں
ہاں بصد شوق یہ درویش کا گھر حاضر ہے
اپنی تحریر کا خاتمہ پروفیسر خالد عباس بابر صاحب کی اس رائے کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ’’ میں سمجھتا ہوں کہ جبریل کی شعری تخلیق کو کماحقہ دائرہ نقد و نظر میں لانا ایک کٹھن کام ہے‘‘۔ اقبال ظفر ٹوانہ ڈی ۷۳۱ سیکٹر ٹو خیابان سرسید راولپنڈی

نعرہء جبریل ۔ عبدالغفار عامر پاکستان آبزرور اسلام آباد

’’نعرہ جبریل ‘‘جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ایک لرزہ انداز نعرہ ہے۔ ایک للکار ہے سوزو گداز میں ڈوبی ہوئی منظوم و موزوں بادل کی گرج بجلی کی کڑک شاعری برائے شاعری نہیں ایک نصیحت ہے۔ ایک پیغام ہے تنبیہی انداز میں صورِ اسرافیل کی پکار ہے۔ کلام ہے جو دل میں اُ تر کر ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے ۔اس تہذیبِ نو کی غیر اخلاقی لادینی ملحدانہ اور مادہ پرستانہ معاشرت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے ۔غفلت شعار اُ مت مسلمہ کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کے لئے ایک مخلص اور حساس دل کی گہرائیوں سے اٹھی ہوئی پکار ہے۔ اُ مت مسلمہ بیدار ہو اور اُ متِ وسطی کا کردار ادا کرتے ہوئے انسانیت کو موجودہ اور آئندہ آفات و بلیات سے بچانے کی سعی کرے تاکہ خود بھی محفوظ ہو۔
مجموعہ کلام میں دل گداز دعائیں ہیں۔ کلام کی روانی دریائے سندھ کی تندی و تیزی کی یاد دلاتی ہے۔ اندازِ بیان سادہ و پرکارہے وزن ردیف قافیہ مہارت کی غمازی کرتا ہے۔ دنیا کے موجودہ حالات شاعر کے سامنے آئینہ ہیں وہ انسانیت کی موجودہ روش پر تڑپ جاتا ہے۔ اُ مت مسلمہ کی ناگفتہ بہ حالت پر وہ خون کے آنسو روتا ہے۔ بیان میں سرتاسر علم و دانش اور بینش کی جھلک نظر آتی ہے ۔ ’’نعرہ جبریل‘‘ حضرت علامہ اقبالؒ کی شہرہ آفاق نظم‘شکوہ کی بحر میں ہے اور اسی طرح مسدس کی صورت میں ہے۔ سوچ بھی اقبالیؒ اندازِ بیان بھی اقبالیؒ حالی کے نوحہ مدوجزر اسلام اقبال کے شکوے کے بعد تیسری تاریخی کڑی جبریل کا نعرہ ہے۔
’’نعرہ جبریل نے مارا ہے زمیں ہلتی ہے‘‘
کلام کو پڑھنے کے دوران دو باتیں میرے ذہن کا ساتھ نہیں چھوڑ سکیں۔ سالہا سال کی لازمی تربیت و ریاضت کے بغیر دفعتہً اس پائے کا کلام کس طرح ممکن ہوا۔ دوسرے یہ کہ اتنی فکری معنوی اور باہمی ہم آہنگی اور مماثلت جو اس کلام میں اور حضرت علامہ اقبال علیہ الرحمتہ کے کلام میں پائی جاتی ہے کس طرح ممکن ہو سکی حتی کہ دونوں کلام جڑواں معلوم ہوتے ہیں مثلاً یہ بند پڑھئے ۔
دورِ تیرہ میں کہیں رسمِ وفا بھی نہ رہی
فقر و درویشی و عرفاں کی غنا بھی نہ رہی
راہِ الفت بھی گئی رسمِ حیا بھی نہ رہی
دردِ انساں کی زمانے میں دوا بھی نہ رہی
آدمی مادہ پرستار ہوئے پھرتے ہیں
تپِ دوراں میں وہ ناچار ہوئے پھرتے ہیں
علامہ اقبال علیہ الرحمتہ کی شاعری تو ناقابلِ تقلید سمجھی جاتی ہے۔ آج تک برصغیر پاک و ہند میں کوئی بھی شاعر خواہ کتنے ہی اعلی درجے کا کیوں نہ ہو ایک مصرعہ بھی حضرت علامہ اقبالؒ کے انداز میں تخلیق نہیں کرسکا اور حقیقت یہ ہے کہ شعر و ادب کی تاریخ میں اور کسی بھی زبان میں ایک بھی مثال ایسی نہیں کہ دو شاعروں کے کلام میں اس درجہ ہم آہنگی اور مماثلت ہو کہ دونوں ایک جیسے نظر آئیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی نقادِ فن کو جبریل کے کلام میں کہیں کوئی فنی سقم نظر آ جائے لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ کلام جذبہ و احساس کا اظہار ہے بنیادی مقصد اس کا شاعری نہیں تاہم کلام کی پختگی شک و شبہہ سے بالاتر ہے۔ پھر بھی اس کلام کو شاعری کی کسوٹی پر نہ پرکھا جائے بلکہ دیکھا جائے کہ کہنے والا کیا کہنا چاہتا ہے اگر جبریل نے بادل کی گرج بجلی کی کڑک اورایک لرزہ خیز طوفان کو سوزو گداز میں غوطہ دے کر وزن ردیف اور قافیے کاپابند کر لیا ہے تو اس سے بڑا کمال اور کیا ہو سکتا ہے۔ ملٹن جیسے عظیم شاعر کو بھی جبParadise Lost یعنی ’’جنتِ گم گشتہ‘‘ میں اسی قسم کی کیفیت پیش آئی تو اس نے بلینک ورس یعنی آزاد نظم کا سہارا لے لیا۔ حقیقتِ حال کے لئے میں علامہ یوسف جبریل کے پاس پہنچا ۔کافی گفتگو ہوئی جس کا ملحض پیش خدمت ہے۔
جبریل صاحب نے فرمایا ۔’’ حضرت علامہ اقبالؒ شعر کی دنیا میں ایک بے عدیل اور منفرد مقام کے باوجود بنیادی طور پر شاعر نہیں فلسفی کا لقب بھی ان کے لئے موزوں نہیں کیونکہ یہ لقب ان کی حقیقت کو کماحقہ بیان نہیں کرتا ۔علامہ اقبال علیہ الرحمت کو اگر صحیح سمجھناہے تو انہیں حضرت مجد دالف ثانی علیہ الرحمت کے سلسلہ مجددیہ سے منسلک کرنا ہو گا ۔جو کچھ بھی حضرت علامہ ؒ نے شعر وسخن میں یا دوقومی نظریہ اور پاکستان کے لئے تگ و دو میں کیا ہے وہ مجددی سلسلے کی کڑی ہے حضرت علامہ نے مجددی سلسلے کے تناظر میں آئندہ دور کی جھلکیاں پیش کی ہیں۔ اور اس آئندہ دور کو چونکہ آپ نے دورِ ابراھیمی سے موسوم کیا ہے۔ لہذا تحریکِ مجددی کا سلسلہ ابراھیمی سلسلے سے منسلک ہوا تو گویا اس میں آفاقیت کا پہلو نمودار ہوا اور یہ تحریک برصغیر پاک و ہند سے جاری ہو کر دنیائے اسلام پر محیط ہو گئی۔ فرمایا ’’یہ دور اپنے براھیم کی تلاش میں ہے‘‘۔ یہ نظم ابراھیمی منشور کی عکاس ہے اور دورِ براھیمی کی تحریک میں حضرت علامہ ؒ کا کردار ایک موذن کا ہے فرمایا۔ ’’مجھے ہے حکمِ اذان لا الہ الا اللہ‘‘۔ حضرت علامہ کی وفات 1938 ء میں لاہور میں ہوئی۔ یہ اتفاق ہے کہ میں ان کی وفات کے روز ان کے آبائی شہر سیالکوٹ میں تھا ۔مجھے 1942 میں میرے پچیسویں برس میں عراق کے ایک مقام ’’مصیب‘‘ میں ابراھیمی مشن سونپا گیا ۔یہ مشن تھا انسانیت کو اس جہان اور اگلی دنیا کے ایٹمی جہنم سے نجات دلانے کی سعی کرنا۔ یہ خالصاً ایک علمی موضوع تھا۔ جب کہ اس موضوع کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے میں اس وقت علم سے تقریباً بے بہرہ تھا حالانکہ اس مشن کی تکمیل کے لئے برٹرینڈ رسل کے فلسفے آئن سٹائن کی سائنس امام فخرالدین رازی کی قرانی تفسیر میکالے کی انگریزی کے ہم پلہ معیار کی ضرورت تھی اور میں اس وقت محض طاہر بابا عریان کی مثال تھا مگراللہ تعالیٰ کے کرم اور چالیس برس کی محنتِ شاقہ آلام و مصائب اور روحانی ترسیل کی مسلسل بوچھاڑ کے نتیجے میں بالآخر مشن تکمیل کو پہنچا ۔جو میرا کام تھا وہ میں نے بفضلہ تعالی کر دیا ۔حضرت علامہ اقبالؒ کی ملی دردمندی اور اضطراب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ آپ ؒ نے اپنے دورانِ حیات میں قائد اعظمؒ کو خط لکھ کر اسلامیانِ ہند کی کشتی کو کنارے لگانے کے کام پر راضی کیا آپ چاہتے تو اس خط کے متعلق یہ شعر بھی موزوں کر سکتے تھے:۔
مرے قلم میں تھا اک نامہء قندیل آشوب
سنوار کر جسے لکھا ہے پاسباں کے لئے
اسی قبیل کا ایک شعر حضر ت علامہ اقبالؒ کے قلم سے نکلا ہے ۔ فرمایا:۔
مرے گلو میں ہے اک نغمہء جبریل آشوب
سنبھال کر جسے رکھا ہے لامکاں کے لئے
اس شعر کی پراسراریت کے حوالے سے میں نہیں جانتا کہ حضرت علامہ اقبالؒ کے مفسرین نے کیا لکھا ہے البتہ میرے لئے اس شعر میں بڑی معنویت پوشیدہ ہے اور یہ شعر حضرت علامہ اقبالؒ کی روحانی روشنی پر ایک واضح دلیل قائم کرتا ہے۔ ہوا یوں کہ 1962 ء میں میری عمر کے پینتالیسویں سال میں موسم سرما کی ایک شب میں دن بھر کی علمی کوفت کے بعد نیند کی کوشش میں تھا مگر نیند کا کہیں دور دور نشان تک نہ تھا۔ میں چارپائی پر پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور بالکل بیدار تھا کہ دفعتہً میری نگاہ میں ایک انسانی ہیولا نظر آیا یہ ہیولا میرے سر کے اوپر چند فٹ پر تھوڑا سا دائیں جانب تھا اور اس کے نقوش بالکل واضح تھے ۔نہ ہی میں نے سر کو جنبش دی نہ ہی میں نے اسکو آنکھوں سے دیکھا ۔پھر بھی میں اسے صاف صاف دیکھ رہا تھا وہ ایک ایسے پورٹریٹ کی طرح لگ رہا تھا جو پیٹ سے اوپر کا ہوتا ہے اس کا رنگ چمکیلا زرد تھا اور وہ کشمیری لگ رہا تھا۔ وہ غائب ہوا تو میرے ذہن میں ایک ہیجان پیدا ہوا۔ اور مصرعے نمودار ہونے لگے ۔پھر مجھے پسینہ آیا اور اس کے بعد میں نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ صبح کو میں نے وہ مصرعے لکھ لئے۔ وہ تعداد میں چھ تھے یعنی ایک بندتھا بحر اور ترتیب شکوہ کی تھی ۔پہلا مصرع تھا ’’روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں‘‘ پھر اپنے علمی کام سے فراغت کے لمحوں میں شعر و شاعری کا سلسلہ 1969 تک چلتا رہا ۔حتی کہ تقریباً دو ہزار اشعار ہو گئے ۔ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جب بھی میں شعر گوئی میں محو ہوتا بالعموم مجھے حضرت علامہ اقبالؒ کی موجود گی کا احساس رہتا وہ اس طرح کہ چند قدم پیچھے حضرت علامہ سفید ململی لباس میں ملبوس ایک روح کی طرح زمین سے تھوڑا اوپر معلق اپنے ہاتھوں کو مسلسل اپنے آگے دائیں بائیں اس طرح جنبش دے رہے ہوتے جس طرح کہ دیسی کھڈی پر کپڑا بنا جاتا ہے اور ان کی حرکات سخت کاوش اور جدوجہد کی غمازی کرتیں۔ ان کی یہ موجودگی میرے اندر بھی ایک خاص قسم کی کیفیت پیدا کرتی مگر الفاظ میں بیا ن نہیں ہو سکتی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ میری شعر گوئی کی ابتدا سے انتہاء تک مجھے یا تو اس محولہ بالا شعر یعنی ’’مرے گلو میں ہے اک نغمہء جبریل آشوب‘‘ کا علم نہیں تھا یا بالکل میرے ذہن سے اتر گیا تھا۔ اب اس کی حقیقت کھلی ہے۔ جبریل کے ذہن میں تو آشوب پیدا ہو گیا ۔کیا یہ آشوب اُ متِ مُسلمہ کے ذہن میں بھی آشوب پیدا کرے گا۔ بندہ اجر ضائع کر دے تو کردے اللہ تعالیٰ کسی کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

واجب الاحترام استاد مکرم جناب علامہ یوسف جبریل کے لئے ایک نظم

نور خوش بخت ہوں نسبت مجھے جبریل سے ہے
ضو کہ جو فن میں مرے ہے اسی قندیل سے ہے
اک قیامت سی بپا نعرہء جبریل سے ہے
بڑھ کے باطل کے لئے صور اسرافیل سے ہے
یہ میں جو اک فطرتِ سیماب لئے پھرتا ہوں
یہ عنایت بھی میرے دوست کی تشکیل سے ہے
فیل بدمست ہے گر لشکر باطل کا غرور
تو حفاظت میرے کعبے کی ابابیل سے ہے
آشنائے وصل کی منزل نہ ہو شائید اس سے
لفظ لطف جو آرزوئے تشنہء تکمیل سے ہے
ملک رشید نور ایم اے ایل ایل بی ایڈوکیٹ گرین ٹاؤن لاہور

بزم اہلِ قلم ہزارہ ایبٹ آباد کی طرف سے ایک خط

بزم اہل قلم ہزارہ ۳۲۷ مری روڈ ایبٹ آباد
گرامی قدر جناب یوسف جبریل صاحب السلام علیکم ۔ خدا آپ کو عمر دراز اور صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔ آپ کا شعری مجموعہ ’’نعرہ جبریل‘‘ خاکسار کو 29 نومبر کو اسلام آباد میں ایک کرم فرما نے پہنچایا۔ اس عطیے کے لئے سراپا سپاس ہوں۔ آپ نے جس ملی جذبے کے تحت یہ کتاب لکھی ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ آپ کی مسدس کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ملتِ اسلامیہ کے عظیم فرزند حضرت علامہ اقبالؒ کے افکار عالیہ اور ڈکشن سے کس قدر متاثر ہیں۔ آپ کے اشعار کو پڑ ھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ملتِ اسلامیہ کی موجودہ صورت حال سے کس قدر پریشانی ہے اور یہ شعر آ پ کے افکار عالیہ کی بھرپور طور پر عکاسی کرتا ہے۔
کشتی بھنور میں ہے اُمت کی خدا خیر کرے
واسطے اپنے محمد ﷺ کے سدا خیر کرے
یہ شعر بھی آپ کے پاکیزہ خیالات کی ترجمانی کرتا ہے اور پھر بھر پور طور پر
خیال آتا ہے جب بھی ملتِ بیضا کی حالت کا
نکل جاتا ہے منہ سے ناگہاں حرفِ خدا یارب
آپ کی اس دعا کو خدا اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا کرے ۔
بول اس دور میں اسلام کا بالا کر دے
شمعء اسلام کا دنیا میں اجالا کر دے
ذوقِ عرفاں کی مسلماں کو فراوانی دے
جانثارانِ محمد ﷺ کو جہانبانی دے
چند امور کی طرف آپ کی توجہ دلانے کی گستاخی کرتا ہوں۔
نیشِ خوں نوش یہ پہلو میں ضمیر اپنی ہے
منکر اپنی ہے یہ پیوستہ نکیر اپنی ہے
نہ کبیر اس سے ہے پنہاں نہ صغیر اپنی ہے
جاں یہ بے درد کے پنجے میں اسیر اپنی ہے
میرے پہلو میں یہ خونخوار مجھے ڈستی ہے
ڈنگ بن بن کے یہ ہر بار مجھے ڈستی ہے
(صفحہ نمبر ۵۳ نعرہ جبریل )
کیا ضمیر کو مذکر باندھنا رسمِ عام نہیں؟
روزِ اول سے غریبوں کا لہو چوس کے پینے والے
طبع ان بردہ فروشوں کی ہراساں ہو گی
(نعرہ جبریل صفحہ ۷۹ )
مصرعہ تبدیلی کامتقاضی ہے ۔
رلاتی ہے مجھے اس قوم کی ناعاقبت بینی
جو چاہے تو تصور میں حَشَر تک دیکھ سکتی ہے
مسلماں ہوں مگر کھائیں وہ سود اقصائے عالم میں
پیئیں روزِ حَشَر ساقیء کوثر سے وہ جام ! اللہ
ہائے صد حیف کہ اس ملک کی ویرانی میں
آ کے دیکھو تو سہی روزِ حشر حاضر ہے
ان تینوں مصرعوں میں لفظ ‘حشر محلِ نظر ہے اکثر شعرائے کرام اس لفظ کو حشر باندھتے ہیں نہ کہ ‘حَشَر۔ جیسے کسی نے کہا ہے
اٹھو و گرنہ حشر نہ ہو گا کبھی بپا
دیکھو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
اگر دوسرے ایڈیشن میں ان مصرعوں کو تبدیل کرکے شامل کیا جائے تو کیا بہتر نہیں ہو گا ۔غالباً اشاعت میں تعجیل کا یہ نتیجہ ہے بہر کیف میں آپ کے عطیے کے لئے بے حد ممنون ہوں بلکہ کبھی حاضر ہونے کی سعادت حاصل کروں گا۔ انشاء اللہ دعا کا طالب نیاز سواتی 10دسمبر 1968

جناب نیاز سواتی کے نام جوابی خط

عزیزی نیاز صاحب ! دعا ہے کہ سلامت رہو۔ گرامی نامہ ملا ۔آپ کی دلچسپ نظمیں ہولناک اخباری خبروں کے حبس میں میرے لئے خوشگوار ہوا کا ایک دریچہ کھولتی ہیں۔ اس کے لئے شکریہ قبول کیجئے ۔’’نعرہ جبریل‘‘ پورا کلام نہیں بلکہ پورے کلام کا ایک امتیازی حصہ ہے۔ کتاب کا گیٹ اپ کتابت ترتیب بھی کچھ ایسی ہی ہے بہر حال غنیمت ہے دوسرے ایڈیشن کی نوبت آئی تو صورت بہتر ہو گی انشا ء اللہ۔ آپ کے خط کے جواب میں کچھ حقائق بیان کرنے ہوں گے ۔عزیزی نیاز صاحب ! دراصل مجھے آپ سے کچھ دلی لگاؤ ہے اخباری خبروں کے حبس میں آپ کی نظم ایک جھروکے کی مانند ہوتی ہے جس سے تازہ ہوا کے جھونکے تسکین کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ جب آپ کا خط ملا تو خوشی ہوئی آپ نے درست سمجھا کہ میں حضرت علامہ اقبال ؒ کے کلام سے متاثر ہوا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا کلام حضرت علامہؒ ہی کی اثر انگیزی اور میری اثر پذیری کا کرشمہ ہے۔ دراصل ’’نعرہ جبریل ‘‘ میرے کلام کا کچھ حصہ ہے۔ ابھی کلام باقی ہے البتہ نظم ’’نعرہ جبریل‘‘ کو ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے ۔دراصل اس کتاب کا نام ’’نغمہ جبریل آشوب‘‘ ہونا چاہیئے تھا۔ اور اگر کبھی دوسرے ایڈیشن کی نوبت آئی تو انشاء اللہ نام یہی ہو گا۔ اپنی جھونپڑی میں بیٹھ کر روئی کاتنے والی بڑھیا نے جب حضرت نوح علیہ السلام سے طوفان کے متعلق استسفار کیا تو حضرت نے فرمایا بی بی طوفان نوح تو گذر چکا اسی طرح جب میں اپنا تمام کلام ختم کر چکا تو میرے ذہن میں حضرت علامہؒ کا یہ شعر گذرا۔
میرے گلو میں ہے اک نغمہء جبریل آشوب
سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکاں کے لئے
آپ تو خود شاعر ہیں اس لئے جانتے ہیں کہ شاعری کے لئے چھوٹی عمر ہی سے تربیت حاصل کرنا پڑتی ہے۔ سال ہا سال کی ریاضت کے بعد کہیں جا کر شاعری پختگی حاصل کرتی ہے اور عموماً اس سے پہلے کا کلام ضائع کرنا پڑتا ہے۔ میں آپ کو سچ بتاؤں کہ شاعری میرا مشن نہ تھا نہ ہے میرا مشن اور ہے اور وہ ہے انسانیت کو قران حکیم کی طاقت اور قران حکیم اور سائنس کی روشنی میں اس دنیا کے ایٹمی جہنم اور اگلی دنیا کے ایٹمی جہنم سے نجات دلانے کی سعی کرنا اور اس مشن پر میری زندگی کے چالیس برس صبر آزما اور کمر شکن صرف ہوئے۔ میری علمی زندگی 1942 ء میں میری زندگی کے پچیسویں سال میں شروع ہوئی اور 1982 ہی میں میرے مشن کی تکمیل انگریزی زبان میں چودہ جلدوں اور ساتھ ہی اردو زبان میں چودہ جلدوں کی تکمیل پر ہوئی جو ابھی تک ایک راز سربستہ ہے۔ 1982 ء ہی میں مجھے کان کی تکلیف شروع ہوئی جو ابھی تک بدستور باقی ہے ورنہ اس عرصے میں میرا سب کام اشاعت کے مرحلے طے کر چکا ہوتا البتہ قدرت کی اپنی مصلحتیں ہیں ہم نہیں جانتے یہ جو ایک دو کتابچے اردو میں شائع ہو چکے ہیں ۔ یہ بھی کسی ہمدرد کی وساطت سے سامنے آ گئے ہیں۔ اور ان کا اشاعتی گیٹ اپ جو ہے وہ آپ کے سامنے ہے الحمد لللہ۔ ثم الحمد لللہ ہم شکائت کرنے والوں میں سے نہیں۔ میری شاعری 1962ء میں شروع ہوئی 1969 میں ختم ہوئی۔ عمر کے پینتالسیوں برس میں جب کہ میں اپنی علمی جدوجہد میں مصروف تھا۔ سردیوں کے موسم میں ایک رات دن بھر کی ذہنی تھکاوٹ کے باوجود نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں بستر میں چِت لیٹا ہوا تھا اور بالکل بیدار تھا کہ میرے سر سے چند فٹ اوپر داہنی جانب انسانی ہیولا ابھرا۔ زرد چمکدار رنگت نقوش کشمیری۔ میں نے نہ سر کو حرکت دی نہ آنکھ سے اسکی جانب دیکھا دفعتاً میرے ذہن میں تحریک ہوئی اور مصرعے ابھرنے لگے ۔پھر میں پسینے میں شرابور ہو گیا اور اس کے بعد نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔صبح کو میں نے وہ مصرعے لکھ لئے وہ تعداد میں چھ تھے اور شکوے کی طرز کے مسدس کا ایک مکمل بند تھا ۔ بند یہ تھا۔
روحِ اقبالؒ ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں
کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں
غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں
فیلِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں
تم کو پیغام محمد ﷺ کا سنانے کے لئے
قبر جھنجھوڑ کے مردوں کو اٹھانے کے لئے
اس کے بعد اپنے علمی کام سے فراغت کے بعد شعر کہتا رہا جو 1969 ء تک تقریبا دو ہزار ہو گئے۔ ایک حیرتناک بات یہ ہے کہ عموماً جب میں فکرِ سخن میں مصرو ف ہوتا مجھے محسوس ہوتا کہ حضرت علامہ اقبالؒ ململ کے لباس میں ملبوس سات آٹھ فٹ میرے پیچھے ایک روح کی طرح متحرک ہوتے اور اپنے ہاتھوں کو دائیں بائیں حرکت دیتے جس طرح کپڑا بنتے وقت اپنے ہاتھوں کودائیں بائیں حرکت دی جاتی ہے اور اس عمل میں جدوجہد کا عنصر نمایاں تھا ۔یہ امر اگرچہ تکلیف دہ ہے لیکن میں اس سے باخبر ہوں کہ پاکستانی لوگ میرے اس کلام کو نفسِ مضمون کی بجائے شاعری کے پہلو سے جانچیں گے اور لوگوں کی اس ذہنی روش سے خود حضرت علامہ اقبالؒ نہیں بچ سکے اور انہیں بارہا اس کا گلہ کرنا پڑا ۔’’من اے میراھم داد از تو خواہم‘‘البتہ اُ ن کا کلام شاعری کی کسوٹی پر بھی اعلی معیار پر اترنے کے قابل تھا تاہم اُ ن کی بے پناہ شعری عبقریت کے باوجود اُ ن کے اولین دور میں لکھنو کے للے بھیوں نے اُ ن کے کلام پر اپنے روائتی انداز میں اس شدومد سے تنقیدیں کیں کہ کوئی دوسرا ہوتا تو غضبناک ہو جاتا ۔مگر علامہ اقبالؒ نے انہیں در خور اعتنا ہی نہیں سمجھا اور اپنے کام میں منہمک رہے۔ پھر ان کی مایہ ناز نظم ‘شکوہ کے دوران جوطوفانِ بدتمیزی برپا ہوا وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لیکن مجھے اپنے کلام کی عبقریت کا کوئی دعوی نہیں اور قبول افتد زہے عزو شرف والی بات ہے البتہ اتنا ہے کہ اگر حضرت علامہ بقیدِ حیات ہوتے تو میرے اس کلام کے نفسِ مضمون اس کی افادیت اہمیت اور ضرورت اور حالات کے تقاضے اور آنے والے دور کے حوالے سے وہ بھی کچھ اسی طرح کی باتیں پیش کرتے اگرچہ بہتر انداز میں پیش کرتے مگر اُ ن کا انداز علمی اور فلسفیانہ ہوتا اور مائل بہ نرمی ہوتا۔ وہ پھول کی پتی سے ہیرے کا جگر تو ضرور کاٹتے مگر مردِ نادان پر کلامِ نرم و نازک بے اثر ہو سکتا ہے ۔ اُ ن کی مثال ایک مشاق شمشیر زن کی ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ گھوڑے پر سوار ہوں اور میں نے برچھا تان رکھا ہے اور رجز پڑھتا ہوا باطل کی قوتوں پر حملہ آور ہو رہا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میرا یہ زعم کہاں تک درست ہے آپ میرے کلام کو اس تناظر میں پڑھیں۔ ‘نعرہ‘‘ پڑھیں۔’’گلبانگِ صدارت‘‘ پڑھیں ۔ اسلامی نظامِ معیشت پڑھیں ’’ہوش کریں ‘‘ پڑھیں اور’’ گریہء نیم شبی‘‘ پڑھیں۔ آپ کو ایک دوسرا جہان نظر آئے گا۔ ایسا جہان جس کی امت مُسلمہ کو بلکہ پوری انسانیت کو ضرورت ہے۔ آپ نے چند اشعار بدلنے کو کہا ہے۔
نیشِ خوں نوش یہ پہلو میں ضمیر اپنی ہے
منکر اپنی ہے یہ پیوستہ نکیر اپنی ہے
نہ کبیر اس سے ہے پنہاں نہ صغیر اپنی ہے
جاں یہ بے درد کے پنجے میں اسیر اپنی ہے
میرے پہلو میں یہ خونخوار مجھے ڈستی ہے
ڈنک بن بن کے یہ ہر بار مجھے ڈستی ہے
(صفحہ ۵۳ نعرہ جبریل)
روزِ اول سے غریبوں کا لہو چوس کے پینے والے
طبع ان بردہ فروشوں کی ہراساں ہوگی
(نعرہ جبریل صفحہ ۷۹)
رلاتی ہے مجھے اس قوم کی ناعاقبت بینی
جو چاہے تو تصور میں حشر تک دیکھ سکتی ہے
(نعرہ جبریل صفحہ ۹۲ )
مسلماں ہوں مگر کھائیں وہ سود اقصائے عالم میں
پیئیں روز حشر ساقئی کوثر سے وہ جام اللہ
(نعرہ جبریل صفحہ ۹۴ )
ہائے صد حیف کہ اس ملک کی ویرانی میں
آکے دیکھو تو سہی روزِ حشر حاضر ہے
(نعرہ جبریل صفحہ ۹۶ )
آپ نے اپنے خط میں چند غلطیوں کی جانب اشارہ کیا ہے۔ عام روش ہے کہ لوگ اپنی غلطی کو تسلیم کر لینے اور نشان دہی پر شکریہ ادا کرنے کی بجائے اساتذہ کے کلام سے سندوں کی تلاش کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔ مجھے یہ تسلیم ہے کہ ضمیر کا استعمال مذکر کے طور پر ہوتا ہے اور حشر ش پر جزم کے ساتھ مستعمل ہے اور’’لہو چوس کے پینے والے‘‘ کی ترکیب کچھ ابتذال کا پہلو لئے ہوئے ہے۔ اگر دوسرے ایڈیشن کی نوبت آئی اور میرے ذہنی احوال درست ہوئے تو اصلاح کر لی جائے گی۔ وہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں۔ حضرت علامہ ؒ نے ایسے خدشے کے پیشِ نظر اپنے کلام کی اشاعت سے قبل دو ماہر ترین نقادوں کو قینچی دے کر بٹھا دیا تھا کہ جس شعر میں بھی کوئی ہلکی سی کمزوری نظر پڑے۔ اس کو بلا تکلف قینچی ڈال دی جائے مگر مجھے کوئی ایسا نقاد میسر نہ آیا۔ اگر کوئی تنقید کرنے والا تھا تو وہ میں خود ہی تھا البتہ ضمیر کی تانیث کا مسئلہ یہ ہے کہ میں اس قطعہ زمین میں پلا بڑھا ہوں جس میں روائتاً مذکر عاشق اپنے آپ کو مونث کی صورت میں پیش کرتا ہے ۔ ’’عشق تیرے وچ کملی ہوئی‘‘ کہنے والا عورت نہیں مرد ہے۔ یہاں کا شاعر بلبل اور قلم کو مذکر باندھتا ہے۔ مگر سارا پنجاب بلبل کو اور قلم کو مونث ہی کہتا اور سمجھتا ہے شاعر کی یہ ضد کب تک چلے گی ۔دلی اور لکھنو اب کہاں زمانہ اپنا اثر دکھائے گا اور آج اگرچہ آپ ابجد کو مذکر مان کر کہتے ہیں ۔
سکھایا تھا ابجد جسے شاعری کا
وہی آدمی اب میرا نکتہ چیں ہے
لیکن دوسری یا تیسری نسل کا نقاد آپ پر گرفت کرے گا اور کہے گا کہ
سکھائی تھی ابجد جسے شاعری کی
وہی آدمی اب میرا نکتہ چیں ہے
ہونا چاہیے ۔باقی رہا مسئلہ حشر کا لازماً میں نے اساتذہ کے کلام میں حشر کا استعمال ش مفتوح کے ساتھ پڑھا ہو گا۔ ورنہ ایسی کوئی مجبوری نہ تھی۔ ویسے شاعر کو وزن قافیے کی مجبوری کے معاملے میں اس قدر چھوٹ ضرورملتی ہے۔ میں نے خود بارہا پنجابی اردو فارسی قادرالکلام اساتذہ کے کلام میں ایسی مثالیں دیکھی ہیں اور پنجاب میں تو حَشَر کو ش کی زبر کے ساتھ ہی ادا کیا جاتا ہے۔ حضرت بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’برا حال ہویاپنجاب دا درکھلا حَشَر عذاب دا‘‘ کسی پنجابی سے کہیں وہ حَشَر کو ش کی زبر سے پڑھے گا البتہ میں خود تلفظ کے معاملے میں سخت احتیاط کا قائل ہوں یہ باتیں کچھ ایسے ہی تفننِ طبع کے لئے لکھ دی ہیں۔’’جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں‘‘ جو تنقید سے ڈرے وہ شاعری نہ کرے ۔ آپ کو اور بزمِ اہل قلم ہزارہ کو میرا سلام پہنچے ۔’’جو اہل درد ہوتے ہیں میرے ہمدرد ہوتے ہیں‘‘ اور حقیقت یہ ہے کہ حشر کو ش کے جزم سے پڑھیں یا زبر سے وزن میں اتنا باریک سا فرق پڑتا ہے۔ ’’خدا جانے میرا کیا حشر ہو گا عہدِ پیری کا‘‘۔ یہ حشر ش کی جزم سے جیسا کہ عام دستور ہے پڑھا گیا ہے۔ اب اس مصرع کو یوں پڑھیں ’’ خدا جانے مرا ہو گا حَشَر کیا عہد پیری میں‘‘۔ اب اس حشر میں ش کو زبر سے پڑھا گیا ہے لیکن کیا مصرع کے وزن میں کوئی فرق آیا۔ بہر حال آپ نے جن چند فروگذاشتوں کی نشان دہی کی ہے ان کی توجہیہ یوں ہے جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے۔ البتہ اگلے ایڈیشن میں درستی کر لی جائے تو بہتر ہے ۔ ضمیر کی تانیث جس سرزمین میں میں پلا بڑھا ہوں ۔ اس میں تو بلبل بھی مونث قلم بھی مونث گردانی جاتی ہے بلکہ یہاں کا مرد عاشق بھی اپنے لئے مونث کا صیغہ استعمال کرتا ہے ’’عشق تیرے وچ کملی ہوئی‘‘ مجھے ضمیر مونث نظر آئی اس کی جو عادت احتجاج کرنے کی ہے وہ نسوانی ہے۔ اردو زبان پر یہاں کی آب و ہوا رفتہ رفتہ اثر کرے گی۔ ہو سکتا ہے کبھی سب لوگ ضمیر کو مونث ہی کہنے لگیں۔ آپ کا شعر ہے۔
سکھایا تھا ابجد جسے شاعری کا وہی آدمی اب مرا نکتہ چیں ہے
ہو سکتا ہے آنے والے دور میں سکھایا کو سکھائی میں تبدیل کر دیں۔ یہ پنجابی اثر ہے اور حشر کے ش پر زبر ایسی چھوٹی موٹی چھوٹ تو وزن قافیے کے حوالے سے بڑے بڑے اردو فارسی قادرالکلام شاعر مباح سمجھتے ہیں۔ ویسے اس سے وزن میں فرق نہیں پڑتا ۔آپ تول لیں مثلاً آپ کا مصرع ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہے ’’خدا جانے مرا کیا حشر ہو گا عہدِ پیر ی میں‘‘ آپ اسے اگر یوں پڑھیں’ ‘خدا جانے مرا ہو گا حَشَر کیا عہد پیری میں‘‘۔ دیکھئے حشر پر زبر آ گئی مگر مصرعے کا وزن بدستور وہی ہے ویسے پنجاب کا ہر ناخواندہ یا نیم خواندہ آدمی اور ہر پنجابی شاعر حشر کو ش کی زبر سے ادا کرے گا مثلاً ’’برا حال ہویا پنجاب دا در کھلا حَشَر عذاب دا ‘‘کوئی بھی پنجابی اس حشر کو ش کی زبر سے ادا کرے گا ویسے ایک شعر ہو گیا ہے آپ بھی سنئے ۔
ہو گا بپا تودیکھ یہ لوں گا کہ حشر پر ہے جزم کی نقاب کہ ہے برقعء زبر
اور وہ جو ‘خوں چوس کے پینے والے‘‘ کا معاملہ ہے۔ تو کیا موضوع اور کیا اظہار دونوں ہی متبذل حقیقی ہیں۔ اور قابلِ صد نفرین ایسے موضوع کا بیان شاعر کی بدنصیبی کے زمرے میں آتا ہے ۔برسبیلِ تذکرہ آپ کی ایک نہائت عمدہ نظم کا ستیا ناس کسی کاتب نے یوں کیا ہے کہ آپ کا ایک مصرع کچھ یوں لکھ دیا ہے
چڑی ہو ہیروئن ہو بھنگ ہو ٹھرا کہ تاڑی ہو
نشہ آور مجھے ہر شے بری معلوم ہوتی ہے
اور خوب یاد آیا ضمیر میں مونث مذکر کے حوالے سے میرے نظریئے کی تصدیق تو آپ نے خود کر دی ہے۔ آپ کا شعر ہے۔
مذکر اور مونث میں نہیں پہچان کر سکتا
گدھے کو دیکھتا ہوں تو گدھی معلوم ہوتی ہے
لیکن تعجب ہے کہ اس کے باوجود ضمیر کی تذکیر و تانیث کی پہچان کیسے کر لی۔ بہر حال آپ کا بہت بہت شکریہ ۔کہ آپ نے مجھے خط لکھا اور سال ہا سال کی سنجیدگی کے بعد اس ہلکی سی دل لگی کا موقع فراہم کیا ۔آپ کو اور جملہ احباب بزم اہل قلم ہزارہ کو بہت بہت سلام۔
فقط خیر اندیش و دعا گو علامہ محمد یوسف جبریل 17 December 1986
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم الحمد لللہ رب العلمین
عزیزی نیاز صاحب
دعا ہے کہ تم سلامت رہو گرامی نامہ ملا یاد آوری کا شکریہ خط تو میں آپ کو یادآوری کے شکرئے کے طور پر لکھ رہا ہوں۔ اس لئے نہیں کہ کتاب میں جو چھوٹی موٹی لغزشیں آپ کی نظر میں آئی ہیں ان کی تاویل و توجیہ کروں۔ کیونکہ جو شخص ایک پیغام دیتا ہے وہ توقع رکھتا ہے کہ لوگ اس کی بات سے نفسِ مضمون اخذ کریں گے اور بات اگر لائق استفادہ ہو تو اسے حرزِ جان بنائیں گے۔ویسے اغلاط سے پاک تو صرف اللہ کا کلام ہی ہو سکتا ہے لیکن لوگ تنقید برائے تنقید کے شوق میں توجہ حقیقت سے ہٹا کر سایوں پر مرکوز کر دیتے ہیں اور حقیقت خرافات کی نذر ہو جاتی ہے لیکن چونکہ آپ نے جو کچھ نشان دہی کی ہے وہ تنقید کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ اس سے دلی ہمدردی جھلکتی ہے لہذا کچھ نہ کچھ آپ کے تفنن طبع کے لئے رقم کررہاہوں۔ مجھے پتہ ہے کہ اردو شعراء ضمیر کو مذکر باندھتے ہیں۔ بلکہ اردو والے تو بلبل اور قلم کو بھی مذکر باندھتے ہیں۔لیکن مجبوری ہے کہ وہ رسے اور کھونٹے جن سے ان کو باندھا جاتا تھا وہ دلی اور لکھنو میں رہ گئے۔ اب اردو ایک ایسی سر زمین میں سکونت پذیر ہے جہاں کے باسی بلبل قلم اور ضمیر کو مونث باندھتے ہیں۔ بے چاری قلم بلبل سے کہتی ہے۔’’ میں جنگل کی جڑ ہوں کوئی پکڑے تو میں موتی کا لڑ ہوں‘‘ میری ضمیر مطمئن ہے ۔’’ویر میرا گھوڑی چڑھیا‘‘۔ یہ نہیں کہا کہ ’’ویر میرا گھوڑے چڑھیا‘‘ یہی بات سیویوں والی گھوڑی کی ہے اور پھر بالخصوص ضمیر کو مونث گرداننا چاہیئے کیونکہ اس کی عادت احتجاج کرنے کو ہے اور احتجاج ایک نسبتاً نسوانی کیفیت ہے اور یہ تو وہ سرزمین ہے جہاں ایک مرد عاشق شاعر بھی اپنے محبوب کو پکارتا ہے تو اپنے آپ پر مونث کا روپ دھار لیتا ہے ۔’’عشق تیرے وچ کملی ہوئی‘‘ یہ ایک مرد شاعر کی بات ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب مذکر اور مونث کی پہچان ہی نہیں کر سکتے تو آپ کو ضمیر کے مونث ہونے کا یقین کیسے آ گیا بقول خود آپ کے ۔
مذکر اور مونث میں نہیں پہچان کر سکتا
گدھے کو دیکھتا ہوں تو گدھی معلوم ہوتی ہے
رفتہ رفتہ یہاں کی آب و ہوا اردو زبان میں تاثیر کر جائے گی اور پھر لوگ آپ کے شعر
سکھایا تھا ابجد جسے شاعری کا
وہی آدمی اب مرا نکتہ چیں ہے
کو پرانی اردو کی مثال کے طور پر پیش کریں گے کیونکہ وہ ابجد کو مذکر نہیں بلکہ مونث لکھیں گے۔ آپ نے لکھا ہے کہ حشر پر جزم ہوتی ہے نہ کہ زبر۔ میں نے پڑھا تو حیرانی کے عالم میں میرے ذہن میں ایک شعر اترا ۔
ہو گا بپا تو دیکھ یہ لیں گے کہ حشر پر ہے جزم کا نقاب کہ ہے برقعِء زبر
حیران کن بات یہ ہے حشر جزم کے ساتھ ہو یا زبر کے ساتھ اس کا وزن پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا مثلاً آپ کامصرع ہے ۔ ’’خدا جانے مرا کیا حشر ہو گا عہد پیری میں‘‘۔ اس میں حشر پر جزم ہے اگر اس مصرع کو یوں لکھ دیا جائے ۔’’ خدا جانے مرا ہو گا حَشَر کیا عہدِ پیری میں‘‘ یہاں حَشَر پر زبر ہے لیکن مصرعوں کے وزن میں کوئی فرق نہیں اور حشر کے دو معنی ہیں۔ ایک نُشور یعنی قیامت اور دوسرا انجام ’’ خدا جانے میرا حشر کیا ہو گا‘‘ یعنی انجام کیا ہو گا اور پنجابی توحشر کو ش کی زبر ہی سے ادا کرتے ہیں۔ مثلاً حضرت بلھے شاہ علیہ الرحمتہ کا شعر ہے۔ ’’برا حال ہویا پنجاب دا در کھلا حشر عذاب دا ‘‘ ویسے وزن قافیہ کی رعائت سے شاعر کو اتنی چھوٹ ہوتی ہے ۔میں نے خود بڑے بڑے قادر الکلام فارسی اردو پنجابی شعرا کے کلام میں ایسی بے شمار مثالیں دیکھی ہیں۔ِ واللہ اعلم باالصواب ۔باقی رہا ’’ لہو چوس کے پینے والے کا‘‘ مسئلہ تو یہ موضوع بھی متبذل اس کا بیان بھی متبذل یہ سارا معاملہ ہی ابتذال کا ہے اسے چھوڑیئے یہ محض بدنصیبی ہے مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ آپ نے سارا کلام اول تا آخر بڑی دلچسپی سے پڑھا ہے۔ اے کاش کہ آپ نفسِ مضمون میں جو پیغام موجود ہے اسے بھی بغور دیکھتے کچھ ایسی ہی سچوائشن میں حضرت علامہ اقبال نے فرمایا تھا ’’من اے میراھم داد از تو خواہم مرا یاراں غزالخوانے ثمردند‘‘ بہرحال آپ کا بہت بہت شکریہ میری جانب سے جملہ احباب بزمِ اہلِ قلم ہزارہ کو سلام عرض کریں۔ فقط خیر اندیش و دعا گو علامہ محمد یوسف جبریل ۔
قارعین کرام ! مندرجہ بالا اشعار اس ایڈیشن میں تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔ اور پرانے ایڈیشن کی جگہ نئے ایڈیشن میں کافی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔بالخصوص ’’نعرہ جبریل‘‘ کے سابقہ ایڈیشن کی ترتیب اب بالکل بدل گئی ہے مثلاً
کشتی بھنور میں ہے امت کی خدا خیر کرے
واسطے اپنے محمد ﷺکے سدا خیر کرے
کو مندرجہ ذیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
بھنور میں کشتئی امت ہے خدا خیر کرے
واسطے آحمد مرسل کے سدا خیر کرے
اور
’’روز اول سے غریبوں کا لہو چوس کے پینے والے
طبع ان پردہ فروشوں کی ہراساں ہو گی‘‘
اس مصرع کو تبدیل کیا گیا ہے ۔
’’یہ غریبوں کا لہو چوس کے پینے والے
طبع ان بردہ فروشوں کی ہراساں ہو گی ‘‘
اور
’’ مسلماں ہوں مگر کھائیں وہ سود اقصائے عالم میں
پیئیں روز حشر ساقیء کوثر سے وہ جام ! اللہ
اس کو تبدیل کر دیا گیا ہے ۔
’’مسلماں ہوں مگر کھائیں وہ سود اقصائے عالم میں
پیئیں وہ روزِ محشر ساقی کوثر سے جام اللہ‘‘
بحر حال نفس مضمون کو اہمیت دی جائے تو بہتر ہو گا۔ (مصنف )

Back to Kuliyat e Gabriel index

Print Friendly, PDF & Email

Related Posts

  • 99
    غلط خاکے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دینے والی تفتیش :زینب اور اس جیسی 11 کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کے پیچھے چھپے خوفناک و شرمناک حقائق اس رپورٹ میں ملاحظہ کیجیے لاہور(ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کہنے کو اغوا کے بعد زیادتی اور زیادتی…
  • 98
    آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں ابوبکر قدوسی بہت شور ہے ڈیم بنانے کا - پنجابی میں کہتے ہیں "ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں " یعنی نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں - سو دوستو…
  • 97
    امیدواراورووٹر ایک امیدوار ووٹ مانگنے کے لیے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس گیا اور ان کو ایک ہزار روپیہ پکڑواتے ہوئے کہا حاجی صاحب اس بار ووٹ مجھے دیں۔ حاجی صاحب نے کہا: مجھے پیسے نہیں چاہیےووٹ چاہیے تو ایک گدھا لادیں، امیدوار گدھا ڈھونڈنے نکلا مگر کہیں بھی…
  • 90
    Back to Kuliyat e Gabriel پیشِ لفظ شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح…
  • 88
    تبدیلی کے خواہاں نومنتخب حکمرانوں کیلئے تجاویزِ چند!! ( ڈاکٹر اظہر وحید ) وطنِ عزیز میں جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے اہلِ وطن نئے سرے سے سے نئی اُمیدیں باندھ لیتے ہیں....اِس خیال سے کہ حکومت کے بدلنے سے شائد اُن کی حالت بھی بدل جائے۔ صد شکر! یہ…
  • 86
    [ad name="468x60"] (۱) علامہ محمد یوسف جبریلؒ ملک کی مشہور و معروف علمی وروحانی شخصیت ہیں اور واہ کینٹ میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔اُنکا ورثہ اُمتِ مسلمہ کیلئے ایک مشعلِ راہ کی حیشیت رکھتا ہے۔اُنکے اُفکاروپیغام کو اُجاگر کرنے اور آسان وفہم انداز میں عوام الناس تک پہنچانے…
  • 83
    Back to Kuliyat e Gabriel گریہ نیم شبی خدایا شکر ہے رکھا مرا اجر اپنے ہاتھوں میں وگرنہ کس طرح ملتی مجھے محنت کی مزدوری بڑی مشکل سے سمجھائے تھے ملت کو سب اندیشے رلا کر رکھ گئی مجھ کو یہ احساسِ مجبوری خخ رلاتی ہیں مجھے ملت کی حسن…
  • 79
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 79
    عصرِ حاضر وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا قتیلِ عشق کے باطن کی آرزو نہ رہا رگوں میں جوش حمیت کی آبرو نہ رہی دلوں میں جوشِ اخوت وہ کو بہ کو نہ رہا تڑپتے دل کی پکاروں کی بے…
  • 78
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 78
    Back to Kuliyat e Gabriel گلہائے عقیدت علامہ اقبال ؒ مرحوم کے حضور میں سرود رفتہ باز آید بیاید نسیمے از جحاز آید بیاید دو صد رحمت بجان آں فقیرے دگر دانائے راز آید بیاید دگر آید ہماں دانائے رازے ندارد جز نوائے دل گدازے دے صد چاک و چشمے…
  • 77
    رات اور دن ٭٭٭ڈاکٹر اظہر وحید٭٭٭ رات اور دن کا آپس میں بدلنا تغیر کی علامت ہے.... لیکن ثبات کے متلاشی کیلیے اس میں ثبات نہیں۔ تغیر کو شاعری میں ثبات مل بھی جائے‘ تو انسان کو تغیر میں ثبات نہیں ملتا۔ رات چاند سے عبارت ہے اور دن سورج…
  • 76
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 75
    انگریز کا کردار تحریر علامہ محمد یوسف جبریل آج دنیا جن آفات میں مبتلا ہے اتنی کبھی نہ تھی اور ساری آفات کی وجہ ہے علم کی زیادتی اورعمل کی کمی اور علم کی زیادتی کا باعث ہے سائنس جدید کا باعث ہیں انگلستان کی لوہے اور کوئلے کی کانیں…
  • 75
    ادب کافروغ اور ادیب کی فلاح و بہبود کے بارے میں چند تجاویز تحریر ؔعلامہ محمد یوسف جبریل اگر آپ اپنے ملک میں ادب کا فروغ چاہتے ہیں۔ تو ادیب کی فلاح و بہبود کا خیال کریں ۔ ادب کا فروغ اتنا ہی ہو گا جتنا کہ لوگوں کے دلوں…
  • 74
    Joint Effort of Yousuf Jibreel Foundation and Mureed e Iqbal Foundation for promotion of Study on Allama Muhammad Iqbal , Hakim ul Ummmat Daily Express Islamabad, Daily Dunya Islamabad, Daily Nawai Waqat Lahore Advertisment of 7/11/2016  کالجز کے طلبا و طالبات کے مابین قومی مقابلۂ مضمون نویسی بسلسلۂ یومِ اقبال…
  • 74
    شیشیل کورالا فقیرانہ وزیر اعظم 2014ء میں نیپال کاوزیراعظم بن گیا۔پہلے دن جب اپنے سرکاری دفترپہنچاتو انتہائی سستی قیمت کے کپڑے پہن رکھے تھے۔۔لباس کی مجموعی قیمت دوسوروپے سے بھی کم تھی۔سرپرانتہائی پرانی ٹوپی اورپیروں میں کھردری سی چپل۔ وہاں ویٹریانائب قاصدکے کپڑے بھی شیشیل کورالاسے بہت بہتر تھے۔ منتخب…
  • 74
    یہ ۱۹۹۷ ء کا ذکر ہے۔ مجھے پروفیسر واصف علی واصف صاحب  پر کچھ لکھنے کا شوق ہوا۔ تو جناب اشفاق احمد صاحب کو لاہور خط لکھا تاکہ اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کر سکوں۔ چند روز بعد جواب آیا۔ حضرت واصف علی واصف کے بارے میں کچھ یادیں میرا…
  • 73
    Back to Kuliyat e Gabriel ضربِ مومن رباعی ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے زمین پر ہے وجود اس کا فلک پر آشیانہ ہے جمالِ یار کا پرتوَ جنوں کو تازیانہ ہے ٹھکانا اس کا جنت ہے یہ دنیا قید…
  • 73
    برادر عزیز ڈاکٹر تصدق حسین راجہ کا میں تہہ دل سے ممنون ہوں۔ کہ ان کی وساطت سے ایک مرد خود آگاہ اور درویش خدامست سے اکتساب فیض کی سعادت نصیب ہوئی۔ میرا اشارہ جناب عنایت اللہ صاحب کی جانب ہے، جنہوں نے ایک طویل عرصہ تک عہد حاضر کے…