Girya a Neem Shabbi (Adhi Rat ki faryad)

Back to Kuliyat e Gabriel

گریہ نیم شبی

خدایا شکر ہے رکھا مرا اجر اپنے ہاتھوں میں
وگرنہ کس طرح ملتی مجھے محنت کی مزدوری
بڑی مشکل سے سمجھائے تھے ملت کو سب اندیشے
رلا کر رکھ گئی مجھ کو یہ احساسِ مجبوری
خخ
رلاتی ہیں مجھے ملت کی حسن افروزیاں یا رب
کہ خیرہ کر رہی ہے آنکھ کو رخشندگی ان کی
مگر تاریک ہے باطن کی دنیا ان کے سینے میں
درخشاں ہے فقط ظاہر تلک تابندگی ان کی
خخ
رلاتی ہیں یہ حسن افروزیاں ظاہر پرستوں کی
جو ناداں صبحِ کاذب کے اندھیروں میں بھٹکتے ہیں
سفیہانِ ازل بجھتی ہوئی یہ مشعلیں تھامے
نگاہِ چشمِ ساحر کے سویروں میں بھٹکتے ہیں
خخ
رلاتی ہے مجھے اس قوم کی خوئے جبیں سائی
جو ہر فرعون کی چوکھٹ پہ سجدہ ریز ہوتی ہے
رُلا ڈالا ہے مجھ کو اس جبیں کے ذوقِ سجدہ نے
جو ہر نمرود کی چوکھٹ پہ خاک آمیز ہوتی ہے
خخ

رُلایا ہے مجھے تیرے جنونِ فرقہ بندی نے
کہ تجھ کو عاق کر ڈالا شعورِ درد مندی نے
کہاں وہ اوجِ افلاکی کہاں یہ چاہِ تاریکی
معاذ اللہ! کس پستی پہ ڈالا کس بلندی نے
خخ
رلاتی ہیں مجھے ظالم ملمع بینیاں تیری
نمودِ شوق کو سمجھا ہے تُو شوقِ نمود افسوس
اگرچہ لاالہ صدیوں سے ہے وردِ زباں تیرا
پہ ننگِ ذوق و وجداں ہیں ابھی تیرے سجود افسوس
خخ
رلاتی ہیں مجھے اس قوم کی حیرانیاں لوگو
دلِ باطل میں انوارِ یقیں جس نے جلانے تھے
شبِ ظلمت میں جس نے شبِ چراغ ہو کر چمکنا تھا
سر شتِ دہر میں انوارِ دیں جسں نے جلانے تھے
خخ
رلاتی ہیں مجھے ملت کی سینہ چاکیاں یا رب
جگر کے آئینے میں دیدہِ خوں بار روشن ہیں
الہی چاک ہیں وہ اُ متِ مسلم کے سینے
کہ صحراؤں کے دامانوں میں لالہ زار روشن ہیں
خخ

رُلاتی ہے مسلمانو مجھے محرومئے ملت
کہ فقدانِ قیادت میں عیاں ہے شومئے ملت
وفورِ بے شعوری بے حسی بے التفاتی میں
سسکتی ہے مثالِ نکتہ چیں معدومئے ملت
خخ
رلاتی ہیں یہ لاپرواہیاں اپنے بزرگوں کی
وہ شکووں کے سوا کچھ اہلِ ملت کے لئے کرتے
وہ اپنے ننھے منھوں کی شکایت کی بجائے کاش
سعیِ اصلاحِ احوالِ جبلّت کے لئے کرتے
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی فرعوں پرستاری
جو اُ ٹھی تھی کبھی بندوں کو فرعوں سے چھڑا نے کو
جنہیں لڑنا تھا ہر فرعون سے سینہ سپر ہو کر
جسے کرنا تھا ہر نمرود سے عاری زمانے کو
خخ
رُلاتا ہے مجھے فقدانِ احساسِ زیاں اُن کا
جنہیں سو بار ہو تلقین تفکر کی تَذکر کی
نظر آئے جنہیں والعصر میں عکسِ لفی خُسرٍ
نگاہوں میں چمکتی ہوں شعائیں روزِ محشر کی
خخ

رلاتی ہے مجھے اس قوم کی خوئے دل آزاری
وہ دیں جس کا ہو غم خواری وہ دیں جس کا ہو دل جوئی
وہی قوم کریماں جن کے کیشِ با صفا میں ہو
سراسر ظلمِ بد خواہی سراپا جَور و بدگوئی
خخ
رُلاتی ہے مجھے ملت کے بچوں کی تن آسانی
جو رکھتے ہیں یقیناً حیدرِ کرار سے نسبت
جنہیں ہے ذوالفقار حیدری سے نسبتِ اُولیٰ
علیؓ و خالدؓ و اسامہؓ و ضرارؓ سے نسبت
خخ
رلاتی ہے مجھے اس قوم کی تاریخِ نورانی
نہیں اس دور کی قوموں کے ناموں میں شمار اس کا
وہ جس کے دورِ اُولی پر فلک بھی جھوم جاتا ہے
نہیں اس دور کے بندوں کے دل میں اعتبار اُس کا
خخ
رُلاتے ہیں مجھے اس قوم کے افکارِ طوفانی
جسے ہونا تھا افکارِ سلامت کا شعار اس دم
وہی جس نے چھڑانا تھا جہاں کو کفر و باطل سے
اسی کا کفرِ مغرب سے ہے دامن داغدار اس دم
خخ

رلاتی ہے مجھے اس قوم کی پیماں فراموشی
وہ جسں نے اپنے مولا سے تھا پیمانِ وفا باندھا
وہ شمشیرِ صراطِ مستقیمِ دیں پہ تھا جس نے
جمالاتِ بربکم میں پیمانِ قالوا بلیٰ باندھا
خخ
رلاتی ہے مجھے اُس قوم کی عادت گدائی کی
وہ جس نے فقر و استغناء کے پردے میں خدائی کی
دریغا زیر گردوں ہو شمار اس کا غلاموں میں
وہ جس کے آستاں پر اس فلک نے جبہ سائی کی
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی یہ کم دلی لوگو
وہ جس کے سینہء بے داغ میں ہفت آسماں گم ہوں
وہ جس کے داغِ دل کی وسعتوں میں دو جہاں گم ہوں
زمیں و آسماں گم ہوں مکان و لامکاں گم ہوں
خخ
رُلاتا ہے مجھے اُس قوم کا اکلِ حرام اللہ !
جو ہے راہِ ہلاکت میں کہیں محشر خرام اللہ!
مسلماں ہوں مگر کھائیں وہ سود اقصائے عالم میں
پیءں گے حشر میں وہ ساقیِ کوثر سے جام اللہ!
خخ

رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی یہ کم دلی لوگو
مجھے روزِ ازل سے جس کی غم خواری ملی لوگو
کوئی للہ بتاؤ میں کدھر جاؤں کہاں جاؤں
مرے گور و کفن میں بس گیا دردِ دلی لوگو
خخ
رُلایا ہے مجھے اُس قوم کی جابر پرستی نے
جسے ہونا تھا جابر کے مقابل شیرِ نر لوگو
جسے ظلم و ستم کے سامنے اک ڈھال ہونا تھا
وہ ظالم کے مقابل میں نہیں سینہء سپر لوگو
خخ
رُلاتی ہے مجھے اُس قوم کی منظر فراموشی
جسے نظارہ کرنا تھا جمالِ یار کا ہر سو
تھا جس کے سامنے ہر ذرہء ہستی سماں ہونا
یہاں چہرہ وہاں آنکھیں یہاں پلکیں وہاں ابرو
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی خوئے ہوسناکی
نمونہ تھی جو استغنا و تقدیس و قناعت کا
جسے فرصت نہ تھی اک لمحہ احساسِ عدالت سے
لگا رہتا تھا جس کو ہر گھڑی دھڑکا قیامت کا
خخ

رلاتی ہے مجھے اس قوم کے واعظ کی نادانی
دکھاتا ہے جو فن اپنا خدا کو ناخدا کہہ کر
مداوا جن کے بہلانے کو کرتا ہے مواعظ میں
خدا کو نا خدا کہہ کر سزا کو نا سزا کہہ کر
خخ
رُلاتی ہیں مجھے اس قوم کی ناداریاں یارب
جنہیں اللہ نے سونپی تھی یہ ساری کائنات اپنی
وہ جن کے سر پہ رکھا تھا نبی ﷺ نے تاجِ شاہانہ
وہ جن کے دل میں ڈالی تھی خدا نے دل کی بات اپنی
خخ
رلاتی ہے خداوندا مجھے بے چارگی ان کی
الہی ملتِ مسلم کو پھر اکبار شاہی دے
انہیں دے تاج و اکلیل و شہنشاہی زمانے کی
اور اس بندے کو دیدارِ جمالِ صبح گاہی دے
خخ
رلاتی ہے مجھے اس قوم کی ذہنی پریشانی
نہیں ملتا جسے حل آج اسلامی مسائل کا
جو کرکے ترک اسلامی اصولوں کی جہانگیری
سہارا ڈھونڈھتی پھرتی ہے ہنگامی وسائل کا
خخ

رُلاتا ہے مجھے اس قوم کا اندازِ خودرائی
نہیں جن کے دلوں میں آج احساسِ خودی لوگو
چمکنا تھا جنہیں مرنے کے بعد افلاکِ اعلیٰ پر
نہ سمجھے زندگی میں ذوقِ ذلت لابدی لوگو
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس آسماں کی تنگ دامانی
وہ آنسو چشمِ عاشق کے نہیں جس میں سما سکتے
جنہیں تھا ڈالنا قدرت نے راہِ آزمائش میں
وہ بوجھ اے کاش کہ اپنی مصیبت کا اٹھا سکتے
خخ
رُلاتا ہے مجھے اس قوم کا وہ جوشِ ایمانی
دبایا جارہا ہے جس کو افسانوں کی راہوں سے
مگر ان آندھیوں میں ٹمٹماتا ہے چراغ اپنا
بجھایا جا رہا ہے جس کو اب شیطاں کی آہوں سے
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی بد قسمتی یا رب
کبھی تھی ارض پر افلاک کی قسمت کا جو تارہ
کبھی تھی انفس و افاق میں تقدیس کی آیت
وہی جو آج ہے آفاق میں ذلت کا نظارہ
خخ

رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی حرص و ہوا یا رب
ہُوا ہے اس جہاں میں ملتِ مسلم کو کیا یا رب
خیال آتا ہے جب بھی اُ متِ مسلم کی حالت کا
نکل جاتا ہے منہ سے ناگہاں حرفِ ’’خدا‘‘ یا رب
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی یہ رسمِ قزاقی
سبق جس نے پڑھایا تھا زمانے کو امانت کا
خیانت کے لئے دنیا میں رسوائے زمانہ ہے
وہ تھا چرچا کبھی آفاق میں جسکی دیانت کا
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی یہ ابرہا طلبی
جسے ہر دم کسی نمرود و ہرمزداں کی حاجت ہے
خدا کی خواجگی میں کچھ نہیں جس کو مزہ آیا
کسی فرعوں کسی خسرو کسی ہاماں کی حاجت ہے
خخ
رُلاتی ہیں یہ سہل انگاریاں اس قوم کی یا رب
جو چاہے گی مجھے اک شاعرِ رنگیں نوا ہونا
سخن کی ماہیت کو چھوڑ کر ناداں سراہے گی
وہ افسونِ ترنم میں مرا نغمہ سرا ہونا
خخ

رُلا دیتی ہے مجھ کو سر تراشی اس قلندر کی
نہیں جس کو فراغت عارضی دنیا کی باتوں سے
نہیں عقبی کی استغراقیت جس کے نصیبوں میں
نہیں جس کا گذر عقبیٰ کی نازک پل صراطوں سے
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی آپس میں ناچاکی
جنہیں ہونا تھا اک بنیانِ مرصوصِ آستینوں تک
اشداؤا علی الکفار ! کا مطلب اُلٹ سمجھے
کہ ڈوبے باہمی بغض و عداوت میں جبینوں تک
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی ماضی فراموشی
وہ جن کے باپ دادا محورِ تقدیر تھے لوگو
جہاں میں آج ہیں وہ تختہِ مشق ستم ہر سو
جو دستِ کاتبِ تقدیر میں شمشیر تھے لوگو
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی فکری پریشانی
کیا تھا معجزہ اک وحدتِ افکار کا جس نے
سمو کر رکھ دیا تھا فکر کو توحیِد باری میں
مداوا کر دیا تھا دانشِ بیمار کا جس نے
خخ

رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی بے مائیگی لوگو
وہ جس میں تھے کبھی لاکھوں سنائی سینکڑوں رومی
وہ جس کے عامیوں نے کہکشاں پر نقشِ پا چھوڑے
جبیں جس کے اکابر کی مہہ و افلاک نے چومی
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قومِ ناداں کی شر انگیزی
جسے تھا شرِ باطل کے مقابل میں شرر ہونا
مٹا کر رکھ دیا ہوتا اگر صیہونی خصلت کو
کہاں ہوتا نصیبِ دشمناں یوں فتنہ گر ہونا
خخ
رُلاتا ہے مجھے ان کا یہ فقدانِ مساواتی
کسی دل کو کسی نے نیزہء فرعون سے برمایا
کسی کے دل میں نہ پیدا ہوا احساسِ خود داری
کوئی نمرود کی کرسی پر اکڑا اور اترایا
خخ
رُلاتی ہے مجھے غفلت شعاری نا خداؤں کی
جو کرتے ہیں نظر انداز اپنے نونہالوں کو
جو کہتے ہیں کہ اس تبلیغ کی بچوں کو کیا حاجت
وہ پتھر کر رہے ہیں اپنی اس ملت کے لعلوں کو
خخ

رُلاتی ہے مجھے اے زائرِ مغرب تیری قسمت
کہ تھے مغرب کے زائر حضرتِ اقبالؒ و قائدؒ بھی
وہی اقبالؒ و قائدؒ جس نے تقدیریں پلٹ ڈالیں
مگر توڑا نہیں اقدارِ دیں سے برگِ زائد بھی
خخ
رُلاتی ہیں مجھے اس قوم کی طماعیاں یا رب
نہیں محدود جس کے حرص کی پہنائیاں یا رب
تعجب ہے اسی ملت کے آباء ہی کا تھا شیوہ
نہیں بھولا جہاں جس فقر کی رعنائیاں یا رب
خخ
رُلاتا ہے یہ احساسِ خیال کہتری مجھ کو
کہ جس میں مبتلا ہے اُمتِ خیرالوریٰ لوگو
گری ذلت کی کِن گہرائیوں کی ذہنی پستی میں
وہی اُمت جو تھی دنیا میں رشکِ انبیا لوگو
خخ
رُلایا ہے مجھے اس قوم کی دنیا پرستی نے
وہ دنیا جس کو پیغمبر نے دی مردار سے تشبیہ
وہ جس کے طالبوں کو تھا کلابِ نفس فرمایا
وہ دی جس کو نبی ﷺ نے جیفہء بودار سے تشبیہ
خخ

رُلاتی ہے مجھے اے ہم وطن تیری غلط فہمی
بجا ہے میں اگر تیری غلط فہمی پہ مر جاؤں
تڑپ اُ ٹھیں لحد میں داد بن کر برک و بیکن بھی
بحمداللہ اگر لنڈن میں اک تقریر کر جاؤں
خخ
رُلاتی ہے مجھے اے ہم نفس تیری غلط بینی
عجب کیا ہے مری جان ورطہء غم میں سپر ڈالے
وگرنہ چشمہء شیراز پر جاکر اگر رو دوں
میری مجبوریوں کا کوئی سعدی نوحہ کر ڈالے
خخ
رُلاتی ہے مجھے اے ہمنشیں تیری یہ کج بینی
بجا ہے اپنے ماتم میں خرد کی آبرو رو دے
عرب کے دشت کو دکھڑا اگر اپنا سناؤں
تو شائید آنکھ ان صحرا نشینوں کی لہو رو دے
خخ
رلاتی ہیں مجھے تم کو رلائیں گی زمانوں میں
مرے مرنے کے بعد آ کر کبھی مجبوریاں میری
مری میت کے پہلو میں تمہیں پہروں رلائیں گی
کبھی یہ دوریاں تیری کبھی رنجوریاں میری
خخ

رلاتی ہے مجھے ملت کی شوریدہ سری وائے
کہ اپنایا ہے جس نے آج کیشِ آذری وائے
کہاں آلِ براھیمی کی توحیدِ براہیمی
کہاں یہ بت پرستی بت فروشی بت گری وائے
خخ
رُلایا ہے مجھے اس قوم کی مطلب براری نے
زمانے میں جسے اک پیکرِ اخلاص ہونا تھا
وہ خوش اطوار و سادہ لوح و پاکیزہ دل و خوش خُو
جسے روئے زمیں کے بیکسوں کی آس ہونا تھا
خخ
رُلاتی ہیں یہ ملت سے میری ہمدردیاں یا رب
مجھے حاصل ہیں بدلے میں بڑی بے دردیاں یا رب
مری دنیا کی آنکھوں میں ہیں مایوسی کی پرچھائیں
مری قسمت کے چہرے پر ہیں پھیلی زردیاں یا رب
خخ
رلاتا ہے مجھے اس قوم کا رنگِ غلط فہمی
کہ غالب آ رہی ہے ان کے اندازوں پہ مدہوشی
اسیرانِ کلیسا کا گریز از روئے مجبوری
ولے اسلامیوں کا ترکِ دیں احساں فراموشی
خخ

رلاتی ہیں مجھے تجھ کو رلائیں گی زمانے میں
میرے مرنے کے بعد آکر کبھی مجبوریاں میری
چھپا کر آستینوں میں کبھی چہرے کو روئیں گے
رلائیں گی کبھی ظالم یہ تجھ سے دوریاں میری
خخ
رُلاتی ہے مجھے لوگو سیاسی کشمکش اس کی
وہ چودہ سو برس جس نے پڑھا ہو دینِ اسلامی
وہ جس نے گتھیاں دنیا کی سلجھانی تھیں حیراں ہوں
اسے اپنی سیاست کے سمجھنے میں ہو ناکامی
خخ
رُلاتی ہے مجھے اقبالؒ و اکبر کی وہ غمگینی
کہ دریا رو رہے ہیں سر چھپا کر آستینوں میں
کہ نظارہ جو تھا ان کے تصور میں نہیں پاتے
وہ پاکستان کے سرگرداں و آشفتہ مکینوں میں
خخ
رُلاتی ہیں مجھے اس قوم کی ذہنی خلفشاریں
وہ دینی راہبر جس کے بہم دست و گریباں ہوں
وہ جس کے لیڈروں کے قصر اُ ٹھیں انتشاروں پر
مگر محکوم جن کے اک گروہِ بد نصیباں ہوں
خخ

رلاتی ہیں مجھے اس قوم کی ذہنی خلفشاریں
وہ بنیادیں سیاست کی ہوں جن کی انتشاروں پر
وہ اپنے رہنماء جو کہ بہم دست و گریباں ہوں
جو محوِ رقص رہتے ہوں حریفوں کے اشاروں پر
خخ
رُلاتا ہے مجھے غم حالی و اقبالؒ و اکبر کا
مگر خوش ہوں بحمداللہ ہوئیں قائم یہ بنیادیں
اُ ٹھیں گے ان پہ مینار اب فلک بوس اسمِ اعظم کے
سنی جائیں گی آخر بندہءِ مخلص کی فریادیں
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی رسمِ حنا بندی
نہ ہو جس کی حناؤں میں لہو کی چاشنی لوگو
نہ اپنا جو سکیں رسمِ حسین و شمسِ تبریزی
وہ جن کی زندگانی ہو مثالِ جاں کنی لوگو
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی شانِ کلاہ داری
نہ ہو جس میں وہ صدیقؓ و عمرؓ کی سادگی لوگو
نہ بوذرؓ کی فقیری ہو نہ استغنائے سلمانیؓ
نہ ھارون و جلال الدین کی ہو شہزادگی لوگو
خخ

رُلایا ہے مجھے احوالِ اُمت کی نزاکت نے
کہ میزانِ عدل میں تل گئی موت و حیات ان کی
مگر اب دیکھئے کیا غیب کے پردے سے ظاہر ہو
کہ قدرت کی زمیں پر جھک گئی ہے کائنات ان کی
خخ
رُلاتی ہے مجھے بے چارے کمزوروں کی کمزوری
مرا بس ہو تو جباروں کو محشر میں کھڑا کر کے
کہوں اُن سے بصد عجز و نیاز و انکساری یہ
کہ انجامِ ستم گر دیکھ لیں جی کو کڑا کرکے
خخ
رلاتی ہے مجھے بے چارے کمزوروں کی کمزوری
مرا بس ہو تو جباروں کا اک محشر بپا کر دوں
ستمگر کو مٹادوں مشرق و مغرب کی بستی سے
ہلالِ عدل سے ہر ظلم و ظالم کو فنا کر دوں
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی آپس میں خونریزی
وہ دامانِِ اخوت میں جنہیں تھا گلفشاں ہونا
غضب ہے گلشنِ اُمت وہی برباد کرتے ہیں
جہنیں تھا باغبان و نگہبان و پاسباں ہونا
خخ

رُلاتی ہیں مجھے یہ باہمی آویزشیں ان کی
وہ جن کی اقتدا میں دینِ امت کو سلجھنا تھا
الجھ کر رہ گئے گویا وہ تارِ عنکبوتی میں
جنہیں الحاد کی تاریک آندھی سے الجھنا تھا
خخ
رُلاتا ہے مجھے ان مصلحت کیشوں کا یہ فتوی
کہ ان حالاتِ حاضر میں یہ بنکی سود جائز ہے
’’تقاضے مقصدِ بہبود کے ہیں‘‘ کہہ رہے گویا
’’فلاحی دور میں مسعود و نا مسعود جائز ہے‘‘
خخ
رُلاتی ہے مجھے ان وسعتوں کی تنگ دامانی
جو تسخیری نگاہوں سے ہیں پیدا دوربینوں میں
خلائی وسعتوں کی خالی تسخیروں سے کیا حاصل
نہ ہوں گر وسعتیں پیدا خلا وردوں کے سینوں میں
خخ
رلاتی ہے مجھے اس عصر کے بندوں کی حیرانی
جو مادر زاد ننگے ہیں نہ مادر زاد نابینا
وہ جن کے مختصر سے ذہن میں بیکن کلیم اللہ
وہ جن کی مختصر سی آنکھ میں پاریس ہے سینا
خخ

رُلاتی ہیں بلند آہنگیوں میں پستیاں اُن کی
جو پیدا ہیں جدید انساں کی تسخیروں کی دنیا میں
خلائی وسعتوں کے ان شہنشاہوں کی پستی سے
ہیں پیدا انقلاب انسانی تقدیروں کی دنیا میں
خخ
رُلاتی ہے مجھے اقبالؒ و اکبر کی یہ بے چینی
مگر خوش ہوں کہ پورا ہو رہا ہے اُ ن کا خواب آخر
سنبھلتے جا رہے ہیں ٹھوکریں کھا کھا کے اب مومن
بدلتا جا رہا ہے آبِ شیریں میں سراب آخر
خخ
رُلاتی ہے مجھے اقلیمِ پاکستان کی ویرانی
مگر خوش ہوں بحمد اللہ ہوئی بنیاد تو قائم
گریں گے اور گر کر وہ اُ ٹھیں گے پھر رہِ حق میں
رہیں گے گامزن وہ اپنی منزل کی طرف دائم
خخ
رُلاتی ہیں مجھے یا رب یہ طوطا چشمیاں اُنکی
جنہیں زیرِ فلک تھا مایہء گنجِِ وفا ہونا
وہ بندے جن کو یا رب بندہِ مشکور ہونا تھا
تعجب ہے اُنہیں کا بندہءِ مکر و ریا ہونا
خخ

رُلاتی ہیں شکم پرور کی شعلہ مستیاں مجھ کو
کیا ہے دردِ انسانی کو مرہونِ شکم وائے
غریبوں کو تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا کہ بے بس ہیں
پہ ڈھائے اغنیا نے اپنی دنیا پر ستم وائے
خخ
رلاتی ہیں مجھے اس قوم کی کوتاہیاں یا رب
جسے عرصہ ہوا تو نے دیا دینِ مکمل تھا
نبی ﷺ تھا سرورِ کونین و فخر انبیاء جن کا
قران اعجاز و ایمانِ مفصل تھا مجمل تھا
خخ
رلاتی ہے مجھے اس تازیانے کی بری علت
کہ جھکنا جانتی ہے سامنے اس کے مری ملت
بڑی الفت سے چوما جا رہا ہے تازیانے کو
بڑی چاہت سے کھایا جا رہا ہے نشترِ ذلت
خخ
رلاتی ہیں مجھے حیرانیاں اپنی نگاہوں کی
مرے اللہ ! خداوندا ! اب اس ملت کا کیا ہو گا
وہ امت جو بھلائی کی گذرگاہوں سے کترائے
نہ ہو تیرا کرم اس پر تو کیا اس کا بھلا ہو گا
خخ

رلاتا ہے مجھے اس قوم کا ذوقِ ریاکاری
وہ ہونا تھا جسے اک آئینہ صدق و صفا جبریلؔ
عجب ہے بے وفائی کے لئے رسوائے عالم ہو
وہ جس نے ہم کو سکھلایا تھا اندازِ وفا جبریلؔ
خخ
رلاتا ہے یہ پیغامِ صبا بھارت کے محصورو!
تمہارا نالہ و آہ و بکا بھارت کے محصورو!
مرے ہاتھ اٹھ رہے ہیں بارگاہِ رب العزت میں
مرے دل سے نکلتی ہے دعا بھارت کے محصورو!
خخ
رلاتی ہے مجھے اس قوم کی غارت گری وائے
پناہ اس غارت عظمیٰ سے مانگیں بربری وائے
کہ غارت کر رہے ہیں آج اسلامی عقیدوں پر
غلط فہمی کے خنجر سے ہمارے عبقری وائے
خخ
رلاتی ہے مجھے اقبالؒ و اکبر کی وہ غمگینی
کہ حالی رو رہا ہے سر چھپا کر آستینوں میں
وہ نظارہ جو تھا ان کے تصور میں نہیں پاتے
وہ پاکستان کے سرگرداں و آشفتہ مکینوں میں
خخ

رلاتا ہے مجھے اس قوم کا اندازِ دورنگی
جسے تھا سینہ باطل میں اک تیرک نما ہونا
وہ جن کے نام سے ان اشقیاء کا دل دہلتا تھا
عجب ہے ان کے سینے میں ہراس اشقیاء ہونا
خخ
رلاتی ہے مجھے اس قوم کی حق ناشناسائی
نہیں جن کو سمجھ ابتک وہ اسلامی نظام آیا
سہارا ڈھونڈھتے پھرتے ہیں شامِ سوشلزم کا
وہ جلوہ صبحِ اسلامی نہیں کچھ جن کے کام آیا
خخ
رلاتی ہے مجھے اس قوم کی محشر فراموشی
وہ جس کے دین و ایمان کا سہارا آخرت پر ہے
خیال آخرت اس کی نگاہ میں ڈوب سکتا ہے
وہ جس کا راز ہستی آشکارا آخرت پر ہے
خخ
رلا جاتی ہیں مجھ کو اس زبان پر گالیاں لوگو
جسے تھا چاہیے تسنیم و کوثر میں رواں ہونا
وہ جس سے اس زمین پر آسمانی پھول جھڑتے تھے
وہ جس کو تھا فلک کے نوریوں کا ہم زبان ہونا
خخ

رلاتی ہے مجھے اس قوم کی یہ مغرب آموزی
سکھانا تھا جسے مغرب کو انداز ہنر مندی
بنانا تھا رخِ مشرق کو تمثیلِ عدن جس نے
بتانا تھا گلِ مغرب کو انداز چمن بندی
خخ
رلاتی ہے مجھے ان کی غلط فہمی جو کہتے ہیں
مسلمانوں کے بچوں کو نہیں ہے تبلیغ کی حاجت
رسول ﷺ حق نے کی تبلیغ تو ہرگز نہ فرمایا
صحابہؓ جیسے سچوں کو ہے کیا تبلیغ کی حاجت
خخ
رلایا ہے تری دانش نے اے پروردہء مغرب
تری دانش ہے نادانی تیری بینش ہے لادینی
نہ ہمدردی کی حاجت ہے نہ غم خواری کی حاجت ہے
تری ہمدرد مایوسی، تری غم خوار غمگینی
خخ
رلاتی ہے مجھے تقلیدیوں کی دین سے بیزاری
جنہیں مغرب سے ہاتھ آئی فقط اک سہل انگاری
انہیں مادہ پرستی کچھ نہ کام آئے گی دنیا میں
کہ آدم سے محمد ﷺ تک وحی کا فیض ہے جاری
خخ

رلاتی ہے مجھے پروردہء مغرب کی نادانی
جو دین و دیدہ و دانش کو برمنگھم میں چھوڑ آیا
وہ جس نے کشتیء ایماں ڈبو دی بحرِ ظلمت میں
فروغِ دیدہ و دانش کو اس سنگھم میں چھوڑ آیا
خخ
رلاتی ہے مجھے ہیئت کذائی اپنی ملت کی
جسے دیکھیں تو شرمائیں یہودی اور نصرانی
قیامت کو وہ کیوں کر اپنے پیغمبرؑ کو پہچانیں
نہ صورت اپنے پیغمبرؑ کی اس دنیا میں پہچانی
خخ
رلاتی ہے مجھے اس قوم کی مقصد فراموشی
جو تھی روئے زمین پر منبع انوارِ لولاکی
اسی نور محمد مصطفیﷺ کی تھی امیں جس سے
کہ سبقت لے گیا تھا قدسیوں پر بندہء خاکی
خخ
رلاتی ہے مجھے اس قوم کی ربا عجب کاری
سمجھ بیٹھی ہے جو لادینیت آخر نصیب اپنا
جو کہتے ہیں کہ کیا اب قوم کو تبلیغ کی حاجت
سمجھتے ہیں مبلغ کو جو دنیا میں رقیب اپنا
خخ

رلاتا ہے مجھے اس قوم کا رنگِ غلط فہمی
نہ جانیں اسقف اعظم کا جو اندازِ خوں نوشی
اسیرانِ کلیسا کا گریز از روئے مجبوری
ولے اسلامیوں کا ترک دیں احساں فراموشی
خخ
رلاتی ہیں مجھے اس قوم کی لاعلمیاں یا رب
نہیں جن کو خبر اب تک ہے اسلامی معیشت ہے کیا
سہارا ڈھونڈھتے پھرتے ہیں انسانی سہاروں کا
تو ان کی آنکھ سے اوجھل ہے الہامی معیشت ہے کیا
خخ
رلاتی ہیں مجھے لوگو یہ شہرہ چشمیاں ان کی
وہ مشتشرق کی عینک سے جو ڈھونڈھیں آفتابِ دیں
جو دھو کر دانش باطل کو افرنگی شعاؤں میں
مسلمانوں میں برپا کر رہے ہیں انقلابِ دیں
خخ
رلاتی ہیں مجھے لوگو یہ چہرہ دستیاں ان کی
امام و راہبر جن کے ہوئے مستشرقیں یارو
نظر آتا نہیں جن شپرہ چشموں کی نگاہوں میں
خدا کے دینِ قیم کا وہ خورشیدِ مبیں یارو
خخ

رلاتی ہے مجھے افسانہ خوانی اہل دانش کی
.نہیں جن کو زمانے میں کسی دیں پر یقین وائے
سبق اب دے رہے ہیں دانش باطل کا مومن کو
وہی زہر ہلال کو جو سمجھے انگیبیں وائے
خخ
رلاتی ہے مجھے ان کی غلط فہمی جو سمجھے ہیں
کہ ہنسنا انبساط وخوش دلی قلب حزیں کی ہے
یہ افسردہ دلی ضحاکیوں کی فاش کہتی ہے
کہ ہنسنا قہقہوں میں بات شیطانِ لعیں کی ہے
خخ
رلاتا ہے مجھے یہ گریہء جبریلؔ غم آگیں
جسے سن کر زمین و آسمان روتے نہیں تھمتے
وہ جس کے آنسوؤں کو دیکھ کر افلاک روتے ہیں
کہ موتی آنسوؤں کے خاک میں بوتے نہیں تھمتے
خخ
رلاتی ہے مجھے ہندی مسلمانو! یہ مجبوری
کہ کس کر رہ گئے ہو ظلم و ظالم کے شکنجے میں
اے مجبور عورتو ! مجبور بچو ! اب خدا حافظ
کہ بے بس ہو گئے ہو ان ستمگروں کے پنجے میں
خخ

رلاتی ہے مجھے اس قوم کی بے آبرو مندی
جو گردوں کے ستاروں پر کمندیں ڈال سکتی ہے
عجب ہے ابتلا اس قوم کا آفاتِ ارضی میں
جو قدرت کی بلائیں آسماں پر ٹال سکتی ہے
خخ
رلاتی ہے مجھے اس قوم کی ناعاقبت بینی
جو چاہے تو تصور میں حشر تک دیکھ سکتی ہے
وہ امت جو محمد مصطفی ﷺکے نور اقدس میں
الم نشرح سے مازاغ البصر تک دیکھ سکتی ہے
خخ
رلاتا ہے مجھے جبریلؔ کا احساسِ مجبوری
وہ جس کو کھا گئی اک ملتِ ناداں کی معذوری
وہ ملت جس کو دکھلایا تھا آئینہ نہیں سمجھی
نگاہِ مردِ مومن کی یہ باریکی یہ مستوری
خخ
رلاتی ہیں مجھے ان کی یہ لاپرواہیاں یا رب
جنہیں لڑنی ہے جنگ اس دور میں ابلیس و آدم کی
وہ دنیائے تغافل میں کہیں مدہوش پھرتے ہیں
نہیں جن کو خبر اس زندگانی میں گئے دم کی
خخ

رلاتی ہے مجھے اس قوم کی غنڈہ گردی وائے
وہ جس نے کاٹنے تھے غنڈہ گرد کے دست و پا لوگو
وہ جن کا دل ہوا عاری شرافت سے نجابت سے
نہیں جن کی نگاہوں میں رہی شرم و حیا لوگو
خخ
رلاتی ہے زبوں حالی مجھے اس قوم کی یا رب
تو سردار دو عالم ﷺکے لئے ہم پر کرم کر دے
مٹا دے سینہء مومن سے اب رنج و الم سارے
دل غمگین مسلم سے تو دور اب سارے غم کر دے
خخ
رلاتی ہے مجھے ہمزادیت الحاد و سائنس کی
مسلماں کیوں نہیں ان دو عناصر میں سمجھتے فرق
اجازت ہو تو میں اس راز کو اب برملا کہہ دوں
کہ سائنس مثل باراں ہے تو ہے الحاد مثلِ برق
اٹھایا فلسفہ بعض اہل سائنس نے جو سائنس پر
کیا ہے بحر سائنس میں انہوں نے نورِ ایماں غرق
خخ
رلاتی ہیں مجھے اس قوم کی نقالیاں یا رب
وہ جن کے عقل کے پردوں میں چھائی جالیاں یا رب
وہ جن کی اس عجب ہیت کذائی کی اداؤں پر
بجاتی ہیں کہیں مغرب کی حوریں تالیاں یا رب
جنہیں سنجیدگی کا اولیں معیار ہونا تھا
اسی دنیا میں بن کر رہ گئے ہیں گالیاں یا رب
خخ
رُلاتی ہے مجھے اس قوم کی یہ فتنہ پردازی
جسے تھا اس جہاں میں چشمہِ صدق و صفا ہونا
کہاں بربادیاں فکر و نظر کی چاہِ مغرب میں
کہاں عکسِ خدا میں اُمتِ خیر الوریٰ ہونا
کہاں یہ گمرہی میں غیر کی تقلیدِ کورانہ
کہاں وہ جادہء انسانیت کا رہنما ہونا
خخ
رلاتی ہے مجھے شامِ غریباں کی المناکی
رلائے گی حشر تک غمزدہ آنکھوں کی نمناکی
وہ مقتولوں کی مظلومی وہ جلادوں کی سفاکی
کہ جس کو پا نہیں سکتا حشر تک بندہء خاکی
رلائے گی فرشتوں کو یہ انسانوں کی بے باکی
کچل کر رکھ دیئے گیتی کے وہ انوارِ لولاکی
خخ
رلاتی ہے مجھے اقبالؒ سے یہ بے رُخی ان کی
کہ وہ کہتے تو ہیں اپنا ہمارا شاعرِ مشرق
اُ سی کے نام سے کرتے ہیں جو گردن فراز اپنی
وہی ہے جن کی آنکھوں کا ستارا شاعرِ مشرق
وہی جو ہر برس برسی مناتے ہیں عقیدت سے
وہ جب سے عالمِ ھو کو سدھارا شاعرِ مشرق
مگر اے وائے وہ پڑھتے نہیں اُ س نے کہا کیا ہے
ہمارے شاعرِ مشرق کا عرضِ مدعا کیا ہے
خخ
رلاتا کیوں نہیں یارانِ محفل مجھ کو اندیشہ
یہ میری شاعری گہنا نہ دے میرے ستارے کو
ڈبویا تھا کمال حکمتِ خیام کو جس نے
بدل ڈالا تھا جس نے شہرتِ فیضی کے دھارے کو
دمک کر چھا گئی ان کے کمال و فضل و حکمت پر
غبارِ سرمگیں پہنا گئی رخشندہ تارے کو
ولے اک لفظ ہو جائے موثر تو نہ میں جانوں
خسارے کو نہ گردوں کے ستارے کو نہ دھارے کو
خخ
رُلاتی ہے مجھے ان اہلِ پاکستان کی دورنگی
جو بتلائیں زمانے کو ہمارا قائد اعظمؒ
مسلمانوں کو ہر شے سے ہے پیارا قائد اعظمؒ
مسلمانوں کی آنکھوں کا ہے تارا قائد اعظمؒ
مسلمانوں کی مشکل کا سہارا قائد اعظمؒ
مسلمانوں کی قسمت کا ستارا قائد اعظمؒ
ادھر یہ قائدِ اعظمؒ کے گُن دن رات گاتے ہیں
اُدھر یہ قائدِ اعظمؒ کا پاکستان مٹاتے ہیں
خخ
رلاتی ہے مجھے اس قوم کی یہ نا خدا ترسی
جسے تھا چاہیے سرچشمہء خوفِ خدا ہونا
دہل جائے خدا کے خوف سے مومن کا دل لیکن
عجب ہے سینہء مومن میں خوفِ اشقیا ہونا
انہیں پھر عشق و ایماں کی مسرت سے نواز ! اللہ
سکھا دے ان کو رمزِ عشق و ایماں کا وہ راز ! اللہ
وہی بندے سنیں گے اور سمجھیں گے مری باتیں
کہ جن کے دل میں روشن ہیں ابھی تک چاندنی راتیں
عطا کر اُن کو تو اپنے کرم سے اتفاق ! اللہ
کہ ان کو کھاگیا ہے ان کے سینے تک نفاق ! اللہ
خخ
رلاتی ہے مسلمانو ! مجھے اپنی یہ مجبوری
مسلماں کو یہ رازِ اندروں بتلا نہیں سکتا
کہ اسلامی معیشت ہو چکی ہے منکشف مجھ پر
تعجب ہے کہ منظر پر اسے میں لا نہیں سکتا
مجھے آڑے آئی کوتاہی اپنے وسائل کی
کتاب اپنی کہیں اس ملک میں چھپوا نہیں سکتا
بھلا امت کا ہوتا گر یہ تصنیف اپنی چھپ جاتی
ولے باور کسی ناشر کو میں کروا نہیں سکتا
جسے سرمایہ دار و اشتراکی حرز جاں کرتے
طلسم جانفزا تھا کاش گیتی میں جگا سکتا
مرے مرنے کے بعد امت مری باتوں کو ڈھونڈھے گی
جو باتیں زندگانی میں انہیں دکھلا نہیں سکتا
بنیں گے سینکروں آئین بنیں گے اور بگڑیں گے
مگر امت کے دل میں دوستو چین آ نہیں سکتا
نہ جب تک پا سکیں گے مومنین آئین اسلامی
یہ رنج و اضطراب ان کے دلوں سے جا نہیں سکتا
چھپی ہے میری اسلامی معیشت گرچہ’’ مشرق‘‘ میں
جسے اہل نظر کوئی کبھی جھٹلا نہیں سکتا
مگر ہلکی سی جھلکی تھی ہلال عید کی اس میں
اگرچہ خوبیاں موجود تھیں تمہید کی اس میں
خخ
رلاتی ہے مجھے شام غریباں کی المناکی
مگر اے کاش امت اس کی ماہیت کو پا سکتی
نہ لٹتا یوں چمن زیرِ فلک آلِ محمد ﷺ کا
نہ پیغمبرؑ کی آل اس بار عظمی کو اٹھا سکتی
تو منصوبہ خدا کا تشنہء تکمیل رہ جاتا
یہ تخلیق اپنے تکمیلی مقاصد کو نہ پا سکتی
ادب سے دمبدم شمس و قمر بھی گرد راہ ہوتے
اگر امت ضمیر حکمت ربی کو پا سکتی
رلائیں ابتلائیں اشکِ خوں ہم کو شہیدوں کی
ضمیر اپنی ضمیر کربلا اے کاش پا سکتی
بنا سکتی شہادت امت اپنی سنتِ لازم

ضمیروں میں امنگ اس فخرِ انساں کی اٹھا سکتی
وہ امت کھو گئی جو تازیانے کی پرستش میں
وہ کاش اللہ سے پیمان مسلم کو نبھا سکتی
وہ امت جس نے سمجھا قیصری کو منتہا اپنا
وہ کاش انسانیت قیصر کے پنجے سے چھڑا سکتی
جو گذری کربلا کے دشت میںآلِ پیغمبر پر
ضمیر آدم خاکی کی تاریکی مٹا سکتی
خخ
رلاتی ہے مجھے اس بد دیانت کی فسوں سازی
جو کرتا ہے ہمارے لوٹنے کو شعبدہ بازی
تڑپتی ہیں جو یہ بے تابیاں تیری نگاہوں میں
یہ کرتی ہیں تیرے اس قلبہء پرُ چیں کی غمازی
کہاں تک بچ کے جائیگا بتا دستِ الہیٰ سے
مسلّط ہے تیرے سر پہ تیری تقدیر کا قاضی
تو باز آ اس فریب و مکر کی تدبیرِ قاتل سے
خدا کا خوف کر ظالم خدا اس میں نہیں راضی
طلب ہوتی ہے جن بندوں کو تنویرِ ہدائت کی
وہی پاتے ہیں سازِ غزنوی میں سوزِ ایازی
نہ للکار اے غلط بیں اُ متِ مسلم کے شیروں کو
نہ نادانی میں اے ناداں دُمِ ضیغم سے کر بازی
تجھے میں دے رہا ہوں آگہی جبریلؔ ہوں غافل
کمانِ انتقام اب کھچ گئی اے بندہء آزی
خخ
رلاتی ہیں ہمیں یا رب ملمع سازیاں اپنی
کہ کہتے ہیں فداکارانِ دین عرب و عجم ہم کو
نہیں بھولے الہ العلمین تیرے کرم ہم کو
مگر رہنے نہیں دیتے کہیں دل کے صنم ہم کو
ادھر دعوی ہمیں اس دور میں ہے دیں پسندی کا
اُدھر اندر سے کھائے جا رہا ہے اپنا غم ہم کو
یہ کیوں نہ کہہ دیا اسلامیوں نے جوشِ ایماں میں
کہ اللہ کی قسم کافی ہے اللہ کی قسم ہم کو
یہ کیوں نہ کہہ دیا اسلامیوں نے جوشِ ایماں میں
نہیں منظور اللہ کے بدوں لوح و قلم ہم کو
لٹا دیں گے خدا کی راہ میں ہم دولتِ جم کو
عزیزو ہے عزیز از جاں یہ دیں کا جامِ جم ہم کو
اگر اسلام جاتا ہے تو دولت کیا ہے جاں دیں گے
عزیز اس حال میں دنیا سے ہے ملکِ عدم ہم کو
ٹلیں گے ہم نہ ہرگز جادہء اسلام سے یا رب
بدل سکتا نہیں ہرگز خیالِ کیف و کم ہم کو
لٹا دیں گے خدا کی راہ میں ہم تن کے کپڑے بھی
کہ اللہ کی قسم کافی ہے اللہ کی قسم ہم کو
نہ چاہیں گے کبھی کوثر کے بدلے ہم مئے و مینا
نہیں درکار جنت کے بدوں باغِ ارم ہم کو
ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ ہی مل بانٹ کھائیں گے
کہ کھاتا ہے غریبوں کی غریبی کا الم ہم کو
خدا کے دیں کی خاطر اپنی ہستی کو مٹا دیں گے
یہ گھر بار اپنے اللہ کی محبت میں لٹا دیں گے
دلِ افسردہء ملت کو میں گرما نہیں سکتا
خداوندا دلِ سنگیں کو میں برما نہیں سکتا
خخ
رلاتی ہے مجھے یہ کس مپرسی اپنی ملت کی
یہ رہبر تیغِ قدرت کو نہ خوں آشام کر جائیں
مناسب ہو تو ان بندوں کو طشت ازبام کر جائیں
نہ رسوا کر سکیں تو کچھ نہ کچھ بدنام کر جائیں
کہاں ہیں یا الہی آج پُر اسرار وہ بندے
جو اُمت کی بھلائی کے لئے کچھ کام کر جائیں
ہو بہبود و فلاحِ دو جہاں پیشِ نظر جن کے
جو کارِ خیر کی راہیں جہاں میں عام کر جائیں
خداوندا تُو پاکستان میں بھیج اب پاک دل بندے
جو ہر آغازِ بابرکت کو نیک انجام کر جائیں
جو بالا ہو کے اپنی ہر غرض سے روزِ روشن میں
نری قربانیوں سے آسماں کو رام کر جائیں
وہ جن کے خاطرِ اقدس میں بس اتنی تمنا ہو
کہ کچھ تو زندگی میں خدمتِ اسلام کر جائیں
خخ
رلاتا ہے مجھے یہ مدعی توحیدِ باری کا
جو بندہ ہے تہء گردوں ہر اک خاکی و ناری کا
ضمیرِ آدمی گریہ کناں ہے روز و شب لیکن
نہیں ہوتا اثر سنگیں دلوں پر آہ و زاری کا
ترے دل کی یہ فاسد آرزوئیں سینکڑوں بت ہیں
اُ ٹھے گا جب کبھی پردہ تری اس پردہ داری کا
نہیں محفوظ تو گہوارہء موہوم و باطل میں
کہیں جھونکا نہ ہو یہ آخریں بادِ بہاری کا
نہ ہو بے فکر اس دنیا میں خار و خاک و خوں بو کر
اٹھانا ہے تجھے ظالم ثمر اس فتنہ کاری کا
نہیں اچھا ترا کم تولنا کم ناپنا بندے
ترازو تُل رہا ہے ہر گھڑی انصافِ باری کا
میسر آ نہیں سکتا کبھی دل کا سکوں تجھ کو
کہ تیری بے قراری ہے سہارا بے قراری کا
ادھر یاری حدی خواں سے اُدھر ہے تیرا در نیچا
ادا پھر دوستو کیوں کر ہو حق یاروں کی یاری کا
شیاطیں یک جہانِ خر سواراں، جّمِ یک چشماں
یہ استقبال ہوتا ہے یہاں کس کی سواری کا
مسلماں سے الجھ کر دیکھ لیں کافر زمانے کے
کہ اندازہ اُنہیں آئے ہماری ضربِ کاری کا
خدایا تیری دنیا تھی مسافر بن کے میں آیا
مگر بندے طلب کرتے ہیں حق اس شب گزاری کا
اتارا ہے مرے دل میں یہ کیا جادو جزاک اللہ
سلامت لحن داؤدی رہے قراں کے قاری کا
نجیب و صادق و طاعت گزار و سادہ لوح جبریلؔ
زمانہ ہے ادھر لا بہ گری مطلب براری کا
خخ

امنگوں کی یہ جولانی نوشتے کی یہ
کوتاہی

امنگوں کی یہ جولانی نوشتے کی یہ کوتاہی
فراواں ہیں مرے دل کے لئے سامانِ دلکاہی
صدائے نالہء شبگیر کیوں خاموش ہے یا رب
الہی کیا ہوئی مومن کی وہ آہِ سحر گاہی
وہ ملت جس کے سینے میں تھے اسرار جہاں روشن
کہو اے آسماں کب سے ہوئی سوئے عدم راہی
ذرا مجھ کو بتاؤ ظلمتِ ظلمت کے نخچیرو!
کہیں باقی بھی ہیں دنیا میں اطوارِ ستم شاہی
رلاتی ہے مجھے اک ملت بے رہ کی بدنظمی
کہ انجام ندامت سے خبر ان کو نہ آگاہی
ادھر دوراں طلب کرتا ہے ابراہیمی قربانی
ادھر ملت کے سینوں میں غرض کی ہے شہنشاہی

کہیں مروا نہ دے کفر و ضلالت میں جہاں والو
تمھیں اس امتِ وسطیٰ کے رہبر کی یہ کوتاہی
وہ ملت جس کی فطرت میں لکھی تھی ضیغمی تو نے
الہی ہو رہی ہے آج کیوں مجبورِ روباہی
زمیں کو آزماتی ہیں شکستہ پائیاں اس کی
فلک کو کر گئی حیراں کبھی جس کی ید الہّی
مقدر اپنا اپنا ہے مبارک ہو میرے ناصح
مجھے یہ فقر و درویشی تجھے اکلیلِ جمجاہی
فغاں خاموش آہِ سرد نالہ بے اثر جبریلؔ
اندھیرا کر گئی طُلابِ دنیا کی جگر کاہی
خخ
غریب اردو بلک رہی تھی کہیں غریب الدیار ہو کر
غریب اردو بلک رہی تھی کہیں غریب الدیار ہو کر
سنا جو جبریلؔ نے یہ نالہ تو رویا ابر بہار ہو کر
وہ رہی تھی رلا رہی تھی وہ اپنا شکوہ سنا رہی تھی
کہ اسکے آنسو ٹپک رہے تھے زمیں کے دامن پہ تار ہو کر
زمیں بھی غم تھی زماں بھی غم تھا جہاں یہ ڈوبا ہواتھا غم میں
وہ غم کی تصویر تھی مجسم وہ کہہ رہی تھی نزار ہو کر
یہ میرے سینے پہ خنجر اک قوم بے محاباکا تن گیا ہے
اداسیوں میں کنار مرقد کھڑی ہوں میں اشکبار ہو کر
خدایا کس جرم میں نکالاہے مجھ کو اس دیس سے انہوں نے
کہ جا رہی ہے چمن سے بلبل خبر کہاں دلفگار ہو کر
وہ جس نے خون جگر سے مجھ کو سمجھ کے نرگس چمن میں سینچا
کھٹک رہی ہوں اسی کی آنکھوں میں آج گلشن کا خار ہو کر
انہیں کے سینے کی تلخیوں میں جو بن کے ناگن یہ لوٹتی ہے
کبھی زمانے کی گردشوں میں رہی وہ دل کا قرار ہو کر
وہی چمن جس کی بولیوں میں پلی تھی نازوں کی ڈولیوں میں
اسی وطن کی گلی گلی میں پھروں غریب الدیار ہو کر
وہ جس کے آنگن میں تھی تقدس کے سات پردوں کی لاڈلی میں
اسی کے درسے نکل رہی ہوں الہی اب داغ دار ہو کر
گلہ ہو مجھ کوعدو سے کیوں کر مجھے ہوغیروں سے کیوں شکایت
نکل پڑے ہیں مرے یہ اپنے عدو کے دل کاغبار ہو کر
کروں تو فریاد کس سے لوگو کہ مجھ کو اپنوں نے آج مارا
نہ کوئی نکلے مرے خدایا مری طرح سے بھی خوار ہو کر
تمہیں غرض تھی تو یارِ شاطر ٹلی غرض تو بارِ خاطر
غرض کے بندو غبارِ خاطر اٹھے گا اب غمگسار ہو کر
غرض کے بندو غرض تمہاری غرض نہیں ہے جو ٹل سکے گی
جو عافیت کا ملے گا ساحل تو میری کشتی میں پار ہو کر
جو کھینچ لائے مرے مقابل وہی زبانیں جو بیٹیاں تھیں
در ندامت سے لوٹ جائیں گی اک گھڑی شرمسار ہو کر
معیشتوں کو بنا کے مسئلہ سیاستوں میں الجھ پڑے ہیں
کہ مصلحت میں یہ رہ گئے ہیں غرض گری کا شکار ہو کر
جمع کیا ہے جو تم نے ایندھن مرے جلانے کو پاک بینو!
اٹھے گا فتنہ تمہارے گھر کی فضاؤں میں شعلہ بار ہو کر
تمہاری تحریک اپنے پاؤں پر آپ ہی خود تبر بنے گی
ضعیف ہو گا جو شاخسانہ کٹے گا ناپائیدار ہو کر
وفا نے چاہا تو جلد لوٹو گے آستانے پہ اس جلی کے
کہ یاد ہو گا کبھی تھی آئی تمہارے در پہ نثار ہو کر
مجھے بلاؤ گے اور آؤں گی میں دلوں کی پکار بن کے
چمن کی نغمہ سرائیوں میں وطن کا نقش و نگار ہو کر
بنوں گی ساز حدی کا نغمہ تمہارے سینوں کی محملوں میں
اٹھوں کی منزل کی محفلوں میں تمہارے دل کی پکار ہو کر
میرے وطن کی جو بولیاں ہیں نہیں ہے پرخاش ان سے کوئی
مگر رقیبوں کے مرقدوں پر گڑوں گی لوح مزار ہو کر
تمہاری اردو تمہارے اپنے چمن میں نغمہ طراز ہو گی
بہار ایماں کے منظروں میں یہ عندلیب حجاز ہو گی
خخ
سقوط ڈھاکہ
اٹھا کے خنجر یہ کس نے مارا جگر میں ہائے یہ کس نے مارا
پٹک دیا ہے زمیں پہ کس نے ہماری تقدیر کا ستارا
اچک لیا ہے یہ کس کے دستِ ستم نے امید کا سہارا
سقوطِ ڈھاکہ نہیں ہے گویا سقوطِ دل ہے اٹھا لو اس کو
گرے پڑے ہیں یہ دل کے ٹکڑے اٹھا لو ان کو کہ جام جم ہیں
اٹھا کے رکھناہے اپنے سینے میں ہم نے جن کو یہی وہ غم ہیں
جوکل تغافل کے ہمنشیں تھے
وہ سر ندامت سے آج خم ہیں

سقوطِ ڈھاکہ نہیں ہے گویاسقوطِ دل ہے اٹھا لو اس کو
تڑپ رہی ہے جو خاک و خوں میں ہمارے دل کی یہ آرزو ہے
سسک رہی ہے جو دامنوں میں وہ تیغِ مسلم کی آبرو ہے
ٹپک رہا ہے جو اپنے دل سے وہ چشم بنگال کا لہو ہے
سقوطِ ڈھاکہ نہیں ہے گویا سقوطِ دل ہے اٹھا لو اس کو
سنے گا کوئی جہانِ غم میں ہمارے دکھ درد کی پکاریں
جفائے مضراب غم سے گریاں ہیں اپنے سازجگر کی تاریں
ہماری آنکھوں سے آج لوگو رواں ہیں اشکوں کی آبشاریں
سقوطِ ڈھاکہ نہیں ہے گویا سقوطِ دل ہے اٹھا لو اس کو
سقوط ڈھاکہ رہے گا کب تلک سقوط آخر قیام ہو گا
ہمارے ہاتھوں میں لازوال اک کمالِ الفت کا جام ہو گا
نہ غیر ہو گا نہ دیر ہو گا نہ بیر ہو گا نہ دام ہو گا
سقوطِ ڈھاکہ نہیں ہے لوگو سقوطِ دل ہے اٹھا لو اس کو
خخ

Back to Kuliyat e Gabriel Index

Print Friendly, PDF & Email

Related Posts

  • 86
    مجھے واعظ یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت یوسف ۴ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ حضرت یوسف۴ نے اپنے ملک کو "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نھیں مرنے پایا۔ یہ تو بتاتے…
  • 86
    مجھے واعظ یہ تو بتاتے ہیں کہ حضرت یوسف ۴ بہت خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ، مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ حضرت یوسف۴ نے اپنے ملک کو "معاشی پروگرام" دیا تھا کہ 7 سال کے قحط میں کوئی انسان بھوک سے نھیں مرنے پایا۔ یہ تو بتاتے…
  • 85
    امیدواراورووٹر ایک امیدوار ووٹ مانگنے کے لیے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس گیا اور ان کو ایک ہزار روپیہ پکڑواتے ہوئے کہا حاجی صاحب اس بار ووٹ مجھے دیں۔ حاجی صاحب نے کہا: مجھے پیسے نہیں چاہیےووٹ چاہیے تو ایک گدھا لادیں، امیدوار گدھا ڈھونڈنے نکلا مگر کہیں بھی…
  • 85
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 83
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 82
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 76
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 75
    عصرِ حاضر وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا قتیلِ عشق کے باطن کی آرزو نہ رہا رگوں میں جوش حمیت کی آبرو نہ رہی دلوں میں جوشِ اخوت وہ کو بہ کو نہ رہا تڑپتے دل کی پکاروں کی بے…
  • 73
    Back to Kuliyat e Gabriel گلہائے عقیدت علامہ اقبال ؒ مرحوم کے حضور میں سرود رفتہ باز آید بیاید نسیمے از جحاز آید بیاید دو صد رحمت بجان آں فقیرے دگر دانائے راز آید بیاید دگر آید ہماں دانائے رازے ندارد جز نوائے دل گدازے دے صد چاک و چشمے…
  • 73
    آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں ابوبکر قدوسی بہت شور ہے ڈیم بنانے کا - پنجابی میں کہتے ہیں "ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں " یعنی نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں - سو دوستو…
  • 71
    غلط خاکے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دینے والی تفتیش :زینب اور اس جیسی 11 کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کے پیچھے چھپے خوفناک و شرمناک حقائق اس رپورٹ میں ملاحظہ کیجیے لاہور(ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کہنے کو اغوا کے بعد زیادتی اور زیادتی…
  • 71
    Back to Kuliyat e Gabriel پیشِ لفظ شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح…
  • 68
    تبدیلی کے خواہاں نومنتخب حکمرانوں کیلئے تجاویزِ چند!! ( ڈاکٹر اظہر وحید ) وطنِ عزیز میں جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے اہلِ وطن نئے سرے سے سے نئی اُمیدیں باندھ لیتے ہیں....اِس خیال سے کہ حکومت کے بدلنے سے شائد اُن کی حالت بھی بدل جائے۔ صد شکر! یہ…
  • 65
    محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد…
  • 64
    Back to Kuliyat e Gabriel Index نغمہ جبریل آشوب مرے گُلو میں ہے ایک نغمہء جبریلؔ آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لامکاں کیلئے علامہ محمد اقبالؒ اشعار فلک پر آفتاب اپنا نشیمن بھول سکتا ہے ؟ شرارہ برق کا مقصودِ خرمن بھول سکتا ہے ؟ خخ بغیر قربتِ موسی…
  • 62
    *تلاش گمشدہ* ہم سے *”خلوص“* گم ہو گیا ہے۔ اس کی عمر کئی سو سال ہے۔ بڑھاپے کی وجہ سے کافی کمزور ہو گیا ہے۔ گھر میں موجود *”خودغرضی“* کے ساتھ ان بن ہو جانے پر ناراض ہو کر کہیں چلا گیا ہے۔ اُس کے بارے میں گمان ہے کہ…
  • 62
    Back to Kuliyat e Gabriel ضربِ مومن رباعی ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے زمین پر ہے وجود اس کا فلک پر آشیانہ ہے جمالِ یار کا پرتوَ جنوں کو تازیانہ ہے ٹھکانا اس کا جنت ہے یہ دنیا قید…
  • 59
    قران حکیم کی ایک عظیم پیشین گوئی ایٹم بم تحریر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد افضل حضرت مسیح موعود کا ایک شعر ہی یا الہیٰ تیرا فرقان ہےکہ اک عالم ہی جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا یہ شعر قرآن حکیم کی جامع تفسیر ہی۔ دنیا کی ہر…
  • 59
    Back to Kuliyat e Gabriel حمد مرے اللہ مرے مولا مرے مالک مرے آقا ترے ہی واسطے ساری ثنائیں، ساری تعریفیں سدا ذکر الہی میں رہے مشغول دل میرا رہیں میری زباں پر تا قیامت جاری تعریفیں مرے اللہ مرے مولا تری تعریف کیوں کر ہو کہ میں اک بندہء…
  • 59
    [ad name="468x60"] (۱) علامہ محمد یوسف جبریلؒ ملک کی مشہور و معروف علمی وروحانی شخصیت ہیں اور واہ کینٹ میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔اُنکا ورثہ اُمتِ مسلمہ کیلئے ایک مشعلِ راہ کی حیشیت رکھتا ہے۔اُنکے اُفکاروپیغام کو اُجاگر کرنے اور آسان وفہم انداز میں عوام الناس تک پہنچانے…