Laiyha Amal (Strategy)

Back to Kuliyat e Gabriel

لائحہ عمل

اب بھنور میں جو سفینہ ہے

اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں
کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں
ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ
ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں
لگ تو سکتی تھی یہاں جان کی بازی لیکن
ملت اس بات میں ہوتی ہے فنا ہوش کریں
لینڈ لارڈ اب یہ حقیقت نہ فراموش کریں
ابنِ آدم کی نہیں ارضِ خدا ہوش کریں
گلشنِ دہر میں ان ظلم کے گل چینوں سے
سسکیاں بھر کے یہ کہتی ہے صبا ہوش کریں
ان غریبوں کو گرانی سے ہے تکلیف بہت
صدقہء عدل و کرم اہلِ جفا ہوش کریں
صبر کرتے ہیں اگر خونِ جگر پی کے غریب
ان امیروں سے بھی کہہ دو کہ ذرا ہوش کریں
خاطر اللہ کی اگر صبر کریں اپنے غریب
ناقدِ اہلِ حسابات و غنا ہوش کریں
جو جلاتے ہیں غریبوں کو سنبھل جائیں وہ
جو بجھاتے ہیں غریبوں کا دیا ہوش کریں
لوگ سنتے ہیں اگر نالہ و شیون کی صدا
اور سنتے ہیں اگر آہ و بکا ہوش کریں
وہ جو احساسِ اخوت سے ہیں محروم یہاں
جن کا طوفاں میں سفینہ ہے گھرا ہوش کریں
عدل و انصاف کی باتوں پہ بپھرتے کیوں ہیں
جن کی گردن پہ معلق ہے قضا ہوش کریں
آدمیّت سے نہیں جن کو سروکار کوئی
جن کے سینوں میں نہیں دیں کی وفا ہوش کریں
اپنے کاموں میں زمانے کا جنہیں ہوش نہیں
ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں
رہنما ہوش میں آئیں کہ قیامت آئی
آندھیاں قہر کی آتی ہیں ذرا ہوش کریں
ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں یہ ناؤ
وقِت آخر ہے یہی وقتِ دعا ہوش کریں
آدمیت کا لہو پی کے مچلنے والے
آدمیت کا نہیں اس میں بھلا ہوش کریں
بے مشقت جو لگے ہاتھ سمجھ لیں وہ حرام
سخت مشکل ہے مگر روزِ جزا ہوش کریں
اپنے ہاتھوں سے کما کر کے سبھی کھائیں حلال
وہ جو کھاتے ہیں غریبوں کا کیا ہوش کریں
پھر پڑھیں دور میں اب صبر و قناعت کا سبق
کیا ہے لالچ میں ہلاکت کے سوا ہوش کریں
کارواں تیہہِ ضلالت میں فنا ہوتا ہے
راہ بر امتِ وسطی کے ذرا ہوش کریں
ہاں غریبوں کو بھی لازم ہے مگر پا کے نجات
نہ کریں اپنے توکل کو فنا ہوش کریں
حیف ہے اہلِ توکل کے لئے دستِ سوال
ملکِ ذلت کے تونگر یہ گدا ہوش کریں
شورِ طوفانِ جہاں لرز میں گریاں ہے سروش
ہاتفِ غیب یہ دیتا ہے ندا ہوش کریں
جن کے سینوں میں نہیں غیرت و ہمت کا خروش
جن کو ہے اپنے مقدر سے گلہ ہوش کریں
لگ گئی چوٹ جو نقارہء محشر پہ سنیں
جن کے پردوں میں ہے غفلت کی ہوا ہوش کریں
دردِ ملت کی حقیقت ہے ابھی جن سے نہاں
ملکِ تحسیں کے تہی نغمہ سرا ہوش کریں
خاطر اللہ کی مجھے لوگ نہ شاعر سمجھیں
خونِ دل کو نہ کہیں رنگِ حنا ہوش کریں
خوں کی حاجت ہو تو حاضر ہے دلِ دوست ولے
نہ کریں اہلِ وفا خونِ وفا ہوش کریں
کالی کملی میں وہ خورشیدِ درخشاں کا فروغ
جن سے پنہاں ہیں وہ انواِرِ سخا ہوش کریں
آئینہء جودِ صحابہؓ کی بہاروں میں نہاں
جو سمجھتے ہیں دفینوں کو روا ہوش کریں
تھا غنی مردِ سخی کون وہ جس کی دولت
کام اسلام کے آئی ہے سدا ہوش کریں
کس کا کرتہ ہے یہ پیوند ہیں چودہ جس میں
درسِ عبرت ہے مرے شاہ و گدا ہوش کریں
کر دیا اول و آخر کو برابر فئے میں
واقعی دورِ خلافت میں ہُوا ہوش کریں
وہ جو کہتے ہیں کہ اس دیں میں مساوات نہیں
خود فریبی میں وہ کہتے ہیں یہ کیا ؟ ہوش کریں
کارواں تیہءِ ضلالت میں فنا ہوتا ہے
خوابِ غفلت سے اُٹھیں راہنما ہوش کریں
ہم سے اب حُسنِ تغافل کی توقع جبریل؟
وہ جو باطن میں ہیں مدہوش وہ کیا ہوش کریں
ورنہ مٹ جائے زمانے سے نہ ملت میری
آسمانوں میں ہویدا ہو نہ ذلت میری
رہبری تجھ کو اگر خلق کی منظور نہیں
ربِ قادر بھی کسی امر میں مجبور نہیں
خخ

الہیٰ کب یہ اپنائیں گے بندے رسمِ حسینی
خداوندا عمل بن کر ڈھلے گی کب یہ بے چینی
خخ

عشقِ صادق نے تیرے دل پہ اثر کرنا ہے

عشقِ صادق نے تیرے دل پہ اثر کرنا ہے
قلبِ ناقص کو غمِ عشق سے زر کرنا ہے
اور ہر آہِ شرر بار کو کرنا ہے چراغ
اپنی اس شامِ غریباں کو سحر کرنا ہے
بن کے اب عشقِ الہی کا یہ دریائے عمیق
قطرہِ دانشِ عرفاں کو گہر کرنا ہے
ہم نے کرنا ہے بپا زلزلہ ایوانوں میں
قصرِ ظالم کو ابھی زیر و زبر کرنا ہے
فتنہء انگیز ہیں دنیا میں جو نمرود سبھی
ان غریبوں نے کباب ان کا جگر کرنا ہے
ظلم کرتے ہیں غریبوں پہ جو دولت کے طفیل
اُن کی دولت کو بھی خاکسترِ در کرنا ہے
گبر و زندیق زمانے کے ہیں مردار مگر
ہم نے ہر گبر کو اب خاکِ بسر کرنا ہے
ہم نے دینی ہیں غریبوں کو مراعات بہت
ازم اُزم کے تقاضوں کو بدر کرنا ہے
ہم نے کرنی ہے بپا عدل و مساوات بھی
تلخ و شیریں کو بہم شیر و شکر کرنا ہے

ان غریبوں کو خدا حکمتِ اسلامی دے
ہم نے اسلام کی کشتی میں سفر کرنا ہے
لے کے اسلامی تخیل کا یہ خورشیدِ ادیب
شپرہ چشمی کے اندھیروں کو سحر کرنا ہے
ہم نے رشوت کو زمانے سے مٹا دینا ہے
دُور ملت کی خلاؤں سے یہ شر کرنا ہے
تھی زمانوں سے تیرے دل میں تمنا جس کی
اب اسی یاسِ فروزاں کو شرر کرنا ہے
تازہ کرنی ہے اکبر و اصغر کی مثال
اپنے بچوں کو بھی اب سینہء سپر کرنا ہے
ناخدا اپنے سفینے کے ہیں ڈرپوک بہت
ان غریبوں کو بھی اب ضیغم نر کرنا ہے
اے میری آہ فلک دوزِ فروزاں ہو جا
چہرہء عصر کو اب رشکِ قمر کرنا ہے
سائنس اس حکمتِ مغرب سے جو فریادی ہے
فکرِ قراں سے اسے پاکِ نظر کرنا ہے
عرصہء فکر میں مغرب کے ہیں انداز غلط
فکرِ دوراں کا یہ اندازِ دگر کرنا ہے
ہم نے اس چاہِ تذبذب سے نکل جانا ہے
اپنے ہر عزم کو انجامِ بسر کرنا ہے
اپنے وعدوں کو وفا کرکے دکھانا ہے ہمیں

ہم نے کونپل کو لہو دے کے شجر کرنا ہے
ہم کو ہر عہدِ زباں بستہء ماضی کی قسم
برگِ اُمیدِ بہاراں کو ثمر کرنا ہے
خوابِ غفلت سے ہو بیدار کہ اے بطلِ جلیل
ہم نے اک کوہِ فلک بوس کو سر کرنا ہے
اور جبر یلؔ کا مشکل ہے مگر کام بہت
اس نے ہر قلب دگرگوں میں جو گھر کرنا ہے
اے زمانے میں درِ کفر پہ جھکنے والو
اب تو سمجھو کہ تمھیں سجدہ کدھر کرنا ہے
خخ

خوابِ غفلت سے ہو بیدار قیامت گونجی

خوابِ غفلت سے ہو بیدار قیامت گونجی
عرصہء حشر میں تکبیر اقامت گونجی
ہر طرف آگ ہے اس دور کی شامت گونجی
تیری دنیا میں ندامت ہی ندامت گونجی
حشر برپا ہے قیامت ہے پہ تو سوتا ہے
استراحت میں ہے از بہرِ وضو سوتا ہے
خخ

یقیں جانو دل امت میں ہے سوزِ نہاں باقی

یقین جانو دلِ امت میں ہے سوزِ نہاں باقی
مسلمانو ابھی تک ہیں حرم کے پاسباں باقی
ابھی جھکتی ہیں فرشِ خاک پر پیشانیاں ان کی
ابھی اقصائے عالم میں ہے آوازِ اذاں باقی
نہیں نومید میں اس ملتِ بیضائے غافل سے
ابھی اس سینہء بریاں میں ہے قلبِ تپاں باقی
رلا دیتی ہے گرچہ مجھ کو ملت کی زبوں حالی
خدا کے دیں کے پروانو ! ہے شمعِ جاوداں باقی
اگرچہ نوحہ خواں ہے باطنِ ملت میں ویرانی
ابھی ہے گوشہِ دل میں بہارِ دلستاں باقی
ہے مردان خدا کے سوز و تاثیر تنفس سے
بہارِ ظلم کی قسمت میں امیدِ خزاں باقی
پریشاں ہیں اگرچہ راہرو فقدانِ منزل سے
ابھی تک ہے خیالِ منزل و پائے رواں باقی
اگرچہ ہے لسانی چپقلش اپنی بہاروں پر
ابھی مومن کے ہونٹوں پر ہے ایماں کی زباں باقی
نہ کہہ لبیک مرگِ جاوداں کو اس مصیبت میں
ابھی تک ہے صدائے جاں فزائے کن فکاں باقی

نہ ہو نومید برقی قمققموں کے ان اندھیروں میں
چراغِ دیں کے پروانو ! ہے شمعِ ضو فشاں باقی
خدا کا نام لے کر اب حدی کو تیز تر کر دو
حدی خوانو ! ابھی تک ہے نشانِ کارواں باقی
نہیں ممکن کہ مٹ جائے حسینؓ و حرؓ کی قربانی
شفق میں ہے رگِ غیرت کا خونِ ارغواں باقی
کفن باندھے چلو مقتل کی جانب رقص و مستی میں
ابھی ہے عاشقو ! دنیا میں کارِ عاشقاں باقی
تمہاری کٹ چکیں ساری وہ زنجیریں غلامی کی
نہیں اب اپنی راہوں میں کوئی سنگِ گراں باقی
ہوئی ہے شعلہ زن نارِ جدید اس دورِ شاطر میں
براہیمی جبلت کے ابھی ہیں امتحاں باقی
عنادل اس چمن کے مبتلائے شکوہ سنجی ہیں
نہیں گلشن میں کوئی عندلیب نغمہ خواں باقی
ابھی تازہ ہے یاد اس امتِ وسطی کے منصب کی
ابھی ہے اس زمانے کی قیادت کا دھیاں باقی
ابھی تک مہر و ماہ و انجم ملت کے پرتو میں
بہشتِ جاودانی کے ہیں انوارِ جناں باقی
یقیں کامل ہے اہلِ کارواں محمل کو پالیں گے
کہ ہے دل میں ازل سے آرزوئے جاوداں باقی
عنادل اس چمن کے مبتلائے شکوہ سنجی کیوں
نہیں گویا چمن میں عندلیب نغمہ خواں باقی
نہیں بگڑا ابھی کچھ مہر و مہتابِ مسلماں کا
ہے قران کی شعاؤں میں محمد ﷺ کا بیاں باقی
خدنگِ آخریں سمجھے تھے ہم اک بطلِ ملت کو
نہ تھی قسمت میں اب گویا مگر آہ و فغاں باقی
مگر دیکھو کہ شاہیں بچہء مسلم کی صورت میں
کماں میں ہے جو اب تیر تقدیر جہاں باقی
نہیں خوف زوالِ ملت بیضاء کا زمانے میں
ہیں جب تک عالمِ ہستی میں اپنے نوجواں باقی
سلامت ہیں یہ غنچے امت مسلم کے گلشن میں
ہے ان کے دم سے آدم کے چمن کی داستاں باقی
سلامت ہیں ابھی تک نوعِ انسانی کے دردانے
ابھی ہے نسلِ انسانی کا گنجِ شائیگاں باقی
نہ دیدم کہ دکاں اندر جہاں در دورہء دنیا
کہ باشد اندراں آثار عظمت با چناں باقی
شگوفے کھل اٹھے ہیں ملتِ بیضا کے گلشن میں
ہے باد گلشنِ امت میں امیدِ جواں باقی
رواں ہے کارواں امت کے ان نوخیز غنچوں کا
کہ ہے منزل کی راہوں میں فروغِ کہکشاں باقی
میرے غنچے شگوفے میرے گلشن کی نئی کلیاں
زمانے میں ہے جن کے د م سے جنت کا سماں باقی
چراغاں ان سے ہو جائے چمن زارِ محمد ﷺمیں
نہ رہ جائے کہیں ظلمت میں امکانِ گماں باقی
اگرچہ آندھیوں نے روند ڈالا ہے چمن اپنا
ہے امیدوں کے پردوں میں شبیہ باغباں باقی
یہ درماں ڈھونڈھ ہی لیں گے جہاں میں درد انساں کا
ہے تیغِ فقرِ مومن میں توکل کی فساں باقی
الٹ دیں گے بساطِ کفر کو دنیا کی محفل سے
ہے دستِ قوسِ ایماں میں فراست کی کماں باقی
کمندیں ڈال دیں گے مہر و ماہتاب و ثریا پر
رہے گی روزِ محشر تک ہماری داستاں باقی
غلط کہتے غلط کہتے غلط کہتے ہیں وہ بندے
جو کہتے ہیں نہیں ملت کے ان بچوں میں جاں باقی
غلط کہتے غلط کہتے غلط کہتے ہیں وہ ظالم
جو کہتے ہیں نہیں ان میں سعادت کا نشاں باقی
مری ملت کے دردانو غلط کہتے ہیں یہ بندے
تمہاری طبع روشن میں ہے ضوئے بیکراں باقی
تیرے جبریلؔ نے دیکھا زمانے بھر کے بچوں کو
نہیں پائی کہیں ایسی مثالِ قدسیاں باقی
بجھاتے ہیں وہ ناداں اپنی غفلت سے ضمیر ان کی
ہے جن کی چشم غافل میں نگاہِ قہرماں باقی
اکابر مصلحت بینی کے ویرانوں میں پھرتے ہیں
پہ ہے ان سادہ دل بچوں میں احساسِ زیاں باقی
وہ شاید بے خبر ہیں اس حقیقت کی حقیقت سے
کہ ان بچوں کے سینے میں ہے قلبِ خونچکاں باقی
یہ منے اپنے منے ہیں متاعِ بے بہا جبریلؔ
انہیں کے دم سے دنیا میں ہے اپنا آشیاں باقی
یہ غنچے یہ شگوفے یہ گلانِ نو بہار ! اللہ !
پھلیں پھولیں کہ گلشن ہے سراپا انتظار ! اللہ !
الہی میری ملت کو عروج و سربلندی دے
ہدایت دے سعادت دے کمالِ ارجمندی دے
خخ
نہ بھول اے مردِ ذیشاں اپنے رتبے کی بلندی کو

نہ بھول اے مردِ ذیشاں اپنے رتبے کی بلندی کو
خدا را روک دے حق کے خلاف اس تیغ بندی کو
خدا کے اولیا سے بھی ہے بالا مرتبہ تیرا
اسرائیلیوں کے انبیاء کا سا ہے مرتبہ تیرا
شہیدوں کے لہو سے پاک تر ہے تیرے ممبر کی سیاہی
اے امیں کیا ہے عنائت ربِ اکبر کی
تیری قسمت نرالی ہے تیری تقدیر لاثانی
تیرے منبر پر قرباں ہیں ہزاروں تختِ سلطانی
نہ بیچ اپنے علوم ان چند روٹی کے نوالوں سے
نہ قراں کی بنا پاژند تاویلوں سے چالوں سے
خخ

عشقِ صادق نے ترے دل میں اثر کرنا ہے

عشقِ صادق نے ترے دل میں اثر کرنا ہے
مِسِ ناقص کو غمِ عشق سے زر کرنا ہے
اور ہر آہِ شرربار کو کرنا ہے چراغ
اپنی راتوں کو ہمیں مثلِ سحر کرنا ہے
غوطہ زن ہو کے یمِ عشقِ الہی میں ہمیں
قطرہء دانشِ عرفاں کو گہر کرنا ہے
ہم نے کرنا ہے بپا زلزلہ زندیقوں میں
قصرِ باطل کو ابھی زیر و زبر کرنا ہے
ہم نے رشوت کو زمانے سے مٹا دینا ہے
دُور دنیا کی فضاؤں سے یہ شر کرنا ہے
ہم نے اس چاہِ تذبذب سے نکل جانا ہے
اور ہر عزم کو انجامِ بسر کرنا ہے
اپنے وعدوں کو وفا کرکے دکھانا ہے ہمیں
ہم نے کونپل کو لہو دے کے شجر کرنا ہے
ہم کو ہر عہدِ زباں بستہء ماضی کی قسم
برگِ اُمیدِ بہاراں کو ثمر کرنا ہے
خوابِ غفلت سے ہو بیدار کہ مردانِ جلیل
ہم نے ہر کوہِ فلک بوس کو سر کرنا ہے
اے زمانے میں درِ حرص پہ جھکنے والو
اب تو سمجھو کہ تمھیں سجدہ کدھر کرنا ہے
اور جبریلؔ کا مشکل ہے مگر کام بہت
اس نے ہر قلب دگرگوں میں جو گھر کرنا ہے
خخ

دیکھ اب دل کا کمال دیکھ لے اس کو یہیں

دیکھ اب دل کا کمال دیکھ لے اس کو یہیں
پا نہیں سکتی جسے تیری نگاہِ دوربیں
ہو تو سکتی ہے بلند آدمی تری خودی
ہو ترے دل میں اگر شرفِ آدمیت کا یقیں
ڈھونڈھ لے اس زندگی میں عرش پر اپنا مقام
گر نہیں منظور دب جانا تجھے زیرِ زمیں
مجھ سے تو کرتا ہے کیوں اپنی محبت کا سوال
دیکھ پاتا ہے اگر اس کو مرے دل میں کہیں
دل تو ہے تیرا صنم خانہ مثالِ سومنات
کیا ہوا خالی ہے گر تری بتوں سے آستیں
جب کہ تھی قدرت گناہ پر تھا گناہوں سے گریز
اب ہوئی خواش گناہوں کی تو کر سکتا نہیں
خخ

جن کا طوفاں میں سفینہ ہے

جن کا طوفاں میں سفینہ ہے ذرا ہوش کریں
کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں
جن کے سینے میں نہیں حرفِ نصیحت کو فروغ
جن کو ہونا ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں
جن کو انجامِ تغافل کا کوئی ہوش نہیں
جن کے باطن میں نہیں من کی ضیا ہوش کریں
جن کی آنکھوں سے نہاں آج ہے تقدیرِِ اُمم
جن کی تقدیر پہ گریاں ہے قضا ہوش کریں
جو پرستار ہیں دولت کے سو پچھتائیں وہ
جن کے معبود ہیں اللہ کے سوا ہوش کریں
نہ کریں اپنے ہی ہاتھوں وہ تباہی اپنی
جن کے ہاتھوں میں ہے شمشیرِ جفا ہوش کریں
اپنے ہاتھوں ہی سے نہ گھر اپنا جلائیں مومن
ارض و آفاق ہیں سب محوِ بکا ہوش کریں
کاروان تیہہِ ضلالت میں فنا ہوتا ہے
راہبر اُمتِ وسطی کے ذرا ہوش کریں
پھونک کر اپنا ہی گھر شوقِ سماں بندی میں
جو تشدد کی اُٹھاتے ہیں ہوا ہوش کریں

کس کا خنجر ہے جگر کس کا یہ سر کس کا ہے
کس کی آتی ہے یہ آوازِ بکا ہوش کریں
خاک و خوں میں یہ تڑپتے ہوئے لاشے مومن
ہے انہیں جن کی جفاؤں کا گلہ ہوش کریں
قتلِ مومن سے جہنم بھی لرز جاتا ہے
تلخ ہوتی ہے جہنم کی سزا ہوش کریں
تلخیء حشر کی شدت نہ فراموش کریں
سخت ہے قتلِ مسلماں کی سزا ہوش کریں
ان غریبوں نے بھُلایا ہے اگر اپنا خدا
اُمرا نشہء دولت میں ہیں کیا ہوش کریں
کتنے آزردہ ہیں اس حالتِ اُمت پہ نبی ﷺ
کتنے غمگیں ہیں وہ محبوبِ خدا ﷺہوش کریں
جن سے پنہاں ہے صدائے دلِ جبریلؔ حزیں
جن کو گردوں سے یہ آتی ہے صدا ہوش کریں
خخ
تم اب اس سائنسِ بے دیں کو مسلماں کر لو

تم اب سائنسِ بے دیں کو مسلماں کر لو
مشکل اس دورِ غلط بیں کی یہ آساں کر لو
کلمہ اب حق و شہادت کا پڑھا کر اس کو
حقِ بے دیں کو فراست سے مسلماں کر لو
نا شناسوں نے جو سائنس کو ہے زندیق کیا
تم اسے نورِ بصیرت سے خداداں کر لو
کیشِ سائنس جو ہُوا حکمتِ افرنگ سے کفر
جلوہِ عشق میں اس کفر کو ایماں کر لو
اس نے درماں کو اگر درد بنا ڈالا ہے
تم اسی درد کو اب درد کا درماں کر لو
مُشکِ عنبر کو جلاتے ہیں وہ بت خانے میں
تم اسے مُشکِ رہِ مسجدِ یزداں کر لو
اُن کے ہاتھوں میں مآل اس کا تباہی ہے اگر
تم اسے عدل کی برکت سے بہاراں کر لو
فکرِ دوناں نے کیا قہرِ جہاں سوز اسے
سوزِ ایماں سے اسے مشعلِ فاراں کر لو
ابِر رحمت کی فراوانی و باراں کے طفیل
اس خزاں دیدہ گلستاں میں بہاراں کر لو
ہجرِ دلبر میں یہ مجبور تڑپنا کیسا
چہرہء دوست کو اب ہمدمِ ہجراں کر لو
ضوئے سائنس سے اگر کفر کا روشن ہے چراغ
نورِ ایماں سے اسے مشعلِ عرفاں کر لو
شمعِ تیرہ ہے جو فقدانِ بصیرت کے سبب
قلبِ سوزاں کی تجلی سے فروزاں کر لو
فلسفہ اس کی بناؤں پہ غلط اُٹھا ہے
قصرِ شیطاں سے اسے روضہء رضواں کر لو
نگہہء فرقاں سے تہی دست حکیمانِ فرنگ
تم ہی سائنس کا تہی کفر سے داماں کر لو
تم سمجھتے ہو اگر سائنس و الحاد میں فرق
اپنے مولا کی خدائی پہ یہ احساں کر لو
لے کے سائنس کی حقیقت یہ حقیقی سائنس
ضوئے فرقاں میں اسے تابعِ قراں کر لو
دے کے اک شعلہء ایماں کی تجلی کا فروغ
شمع قراں کے اُجالے میں فروزاں کر لو
چھین کر حکمتِ الحاد و غلط بیں کی نقاب
تم اسے حکمتِ حق پوش سے عریاں کر لو
تم جو چاہو تو اسی سائنسِ ارضی کے طفیل
نعمتیں عیشِ دو روزہ کی فراواں کر لو
رہ کے اس ذلتِ مادہ پرستی سے بعید
ثروتیںِ جنتِ ارضی کی یہ ارزاں کر لو
بن کے عفریت یہ اُ بھری ہے اگر سوئے فرنگ
اسمِ اعظم سے اسے تابعِ فرماں کر لو
تلخ و افسردہ و بے لوث حقیقت ہے مگر
باغِ عرفاں میں اسے خرم و خنداں کر لو
سروِ جامد ہے رہِ عرصہء عقبی پہ اگر
جادہء منزلِ عقبیٰ پہ خراماں کر لو
سازِ بے سوز ہے آفاق کی قدروں میں نگوں
سوزِ باطن سے اسے حشر کا ساماں کر لو
فانی دنیا میں ہے محصور یہ سائنس لیکن
سوزِ ایماں سے اسے حشر کا ساماں کر لو
’’یا علیؓ ‘‘ کہہ کے اکھاڑے میں اُترنے والو
گرزِ ایماں سے دلِ حرص کو لرزاں کر لو
تھی یہ اک زندہ و بے لوث حقیقت لیکن
اس حقیقت کو دمِ عشق سے تاباں کر لو
تم کو دیتی ہے یہ فارابی و سینا کی قسم
اس سیاہ بخت کو اب لوح درخشاں کر لو
معجزہ کرکے زمانے کی نگاہوں میں عجب
دورہء حکمت و تدبیر کو حیراں کر لو
بات آساں ہے پہ اس طرز کا مضمون ہے ادق
مکتبِ عشق میں اس درس کو آساں کر لو
پڑھ کے ایماں کا فسوں حکمتِ عرفاں پہ بسوز
نگہہء ساحر میں اسے عصر کا ثعباں کر لو
اژدھا بن کے نگل جاؤ یہ الحاد کے سانپ
اور ہر ساحرِ بے دیں کو ثنا خواں کر لو
طبع اس دلبر سائنس کی ہے بے کیف و سرور
بادہء عشق سے اس بت کو غزل خواں کر لو
مصرِ سائنس ہے تہی یوسفِ ایماں سے اگر
یوسفِ مصر سے آباد یہ کنعاں کر لو
گلشنِ سائنسِ گلگوں میں ہیں گلزار ولے
خارِ سائنس کو دمِ عشق سے ریحاں کر لو
تم مسلماں ہو تو اعجازِ مسیحائی سے
زود اس مردہِ سائنس کو خراماں کر لو
میں ضمیر اپنی اگر فرد کو سمجھا نہ سکوں
تم جو مومن ہو تو اس بات پہ جی ہاں کر لو
امتحاں کرکے رصد گاہِ تحیل میں اسے
صدقِ مومن پہ یقیں قومِ کریماں کر لو
عشق و الفت سے مسلماں کی یہ محرومی وائے
چاک اس حسرتِ دل خوں پہ گریباں کر لو
حاضر اس حالِ المناک پہ گریاں ہے اگر
اپنے ماضی کو بھی اس رنج میں گریاں کر لو
ہو تمھیں دہر میں منشائے الہی کے نقیب
زندہ اکبار وہی حشر کا پیماں کر لو
ازم اُزم ہے فقط فکر پراگندہ کی شکل
شائید اس فکرِ پریشاں کو پریشاں کر لو
قمقمہء برق ہے دنیا میں فقط دامِ فریب
شمعِِ الفت پہ بپا بزمِ ندیماں کر لو
فیضِ انوار الہی کا ہے فیضان جبریلؔ
تم بھی قراں کو غمِ عشق کا عنواں کر لو
زیرِ تدریس ہیں جس درس میں جبریلِؔ غریب
خونِ دل پی کے جگر رشکِ بہاراں کر لو
خخ

یقیں ہو رازق مختار کی وعدہ وفائی کا

یقیں ہو رازقِ مختار کی وعدہ وفائی کا
تو ہو سکتا ہے دوبارہ فیصلہ امیری گدائی کا
بھروسہ قوتِ بازو پہ ہو تو بات بنتی ہے
نہ بول واعظ قول و عمل پر اس وقت تک
ہو عمل پیرا نہ تو خود جب تک
تیرے شانوں پہ کوہ بھی گراں تر ذمہ داری ہے
جہاں میں تیرے دم سے سلسلہ ء اسلام جاری ہے
تیرے دم سے دلِ مسلم میں قائم نورِ اسلامی
تیرے دم سے ہوئی ابلیس کی قسمت میں ناکامی
تیرا کام محفل اسلام میں جلنا شمع کی صورت
اپنی بزم میںآپ جل کر روشنی کرنا شمع کی صورت
عمل کرنا عمل پر قوم کو تیار کر دینا
اٹھا کر نیند سے طوفاں سے دوچار کر دینا
کیا تو نے حصولِ علم مئے سوزی پیہم سے
شمع تیار ہے روشن اس کی گرمئی دم سے
فراوانی ہے علم و فلسفہ کی، عشق پیدا کر
بنیادِ ماضی پر عمل کر فکرِ فردا کر
تجھے ہو اعتبار اپنی زباں پر، پار ہے بیڑا
تجھے معلوم ہو سودو زیاں گر، پار ہے بیڑا
خخ

تیرے آباء نے کیا علم کو عرفاں کا غلام

تیرے آباء نے کیا علم کو عرفاں کا غلام
حسنِِ ایماں سے دیا علم کو دانش کا مقام
شعلہء عشق میں بھڑکا کے کیا علم کو لعل
بڑھ گئے لعلِ بد خشاں سے بھی اس لعل کے دام
گوہر علم ہُوا خاتم عرفاں کا نگیں
تھام لی علم کی جب دانشِ عرفاں نے زمام
نورِ ایماں سے ہوئی علم کی شمع روشن
بن گیا پیکرِ بے رنگ یہ اک ماہِ دوام
دیکھی حیرت سے زمانے نے یہ ترکیبِ عجیب
تھا عجب اُن کے لئے علم کا مذہب میں مقام
جملہ ادیاں کے لئے مذہبِ اسلام سے قبل
تھا ثمر شجرہء تعلیم و تعلم کا حرام
علم و حکمت کی شعاؤں سے ہراساں تھے سبھی
تھا اُنہیں دُور سے ہر علمی تفضل کو سلام
تھے وہ اس امر میں ترجیحِ جہالت کا شکار
تھا اُنہیں علم کی ہر علمی فضیلت میں کلام
قاتلِ مذہب و عرفاں وہ سمجھتے تھے اسے
اکثر اس خنجرِ شب تاب سے خالی تھے نیام

تو نے دنیا کو دکھانا ہے یہ اعجاز ابھی
تو نے کرنا ہے ابھی حجتِ عرفاں کو تمام
تیری نگہہ نے بدلنی ہے یہ تکوینِ حیات
تیری دانش نے بدلنا ہے یہ حکمت کا نظام
دے کے اب مذہب و ایماں کی غلامی میں اسے
تو نے اب سائنسِ حقِ بیں کو بنانا ہے غلام
نگہہء اکسیرِ مسلماں کی کراماتیں ہیں
ورنہ دنیا کی زبانوں پہ فقط باتیں ہیں
خخ

سمجھ لیا ہے اگر رمز لاالہ تو سن
سمجھ لیا ہے اگر رمز لاالہ تو سن
عظیم تر ہے حقیقت پیام الا اللہ
بنوش برسر عرش بریں بدست ملک
شراب عشق محمد ﷺ بجام الا اللہ
عزیز من ! کلمہ لا الہ کا پڑھ لے
پھر اختیار میں شاید زباں رہے نہ رہے
ملی ہے زیر فلک عمر جاوداں کس کو
کچھ اعتبار ہے کل یہ جہاں رہے نہ رہے
خخ

اٹھیں اب ظلمِ ظالم کے لئے سینہ سپر ہو کر

اُٹھیں اب ظلمِ ظالم کے لئے سینہ سپر ہو کر
دھاڑیں بیشہءِ روباہِِ دوں میں شیرِ نر ہو کر
مٹا دیں ھستی اس دنیا سے ہر نمرود و فرعوں کی
سنان و خنجر و شمشیر و پیکان و تبر ہو کر
گلستانِ جہاں میں مثلِ شبنم اشک ٹپکائیں
گلِ انسانیت پر شامِ غم میں چشمِ تر ہو کر
اگر راہوں میں دامِ مکر و تذویرِ جدید آئیں
گذر جائیں ضمیر حلقہءِ تارِ نظر ہو کر
طلسمِ دورِ حاضر کی شب یلدائے ظلمت کو
مٹا دیں نورِ ایمانی میں انوارِ سَحر ہو کر
الم نشرح کو حرزِ جاں کئے دل میں اُتر جائیں
گدازِ سینہء بے تابِ انساں میں اثر ہو کر
گدازِ سوزِ باطن سے دلِِ خورشید کو چیریں
شعاعِ شعلہء دردِ فلک تابِ جگر ہو کر
فقلنا الضرب کی بانگِ قہر گوں گونجی زمانے میں
ہلا دیں کاخِ باطل لرزہء شق الحجر ہو کر
بھڑک اُ ٹھے ہیں شعلے نائرہء نمرود کے ہر سو
لپک جائیں خدا کا نام لے کے بے خطر ہو کر
فسونِ لاالہ سے فتنہء دوراں کو بٹھلا دیں
اگر دنیا میں اُٹھا ہے یہودی فتنہ گر ہو کر
فلک کی وسعتوں میں ضوئے ایماں بن کے ہم چمکیں
ہلالی پرچم و انجم میں تنویرِ نظر ہو کر
یکادُ البرقُ یخطفُ کی مثل ابصارِ لادینی
اُچک لیں سینہء کافر سے مازاغ البصر ہو کر
چمکنا ہے تمھیں اے ملتِ بیضا کے دردانو
جبینِ آدمیت پر شعاعِ آبِ زر ہو کر
قیاس و ظن و اوہام و گمانِ دورِ باطل کو
مٹا دیں اُٹھ کے لوحِ عرش پر شق القمر ہو کر
محمد ابن قاسم کی قسم اقصائے عالم میں
بٹھا دیں دھاک اسلامی تہور کی ببر ہو کر
خدا کے دیں کو پھیلا دیں زمیں کے گوشے گوشے میں
بکھر جائیں جہاں میں مصطفے ﷺ کے نامہ بر ہو کر
چلیں جبریلؔ ہو جائیں غبارِ جادہء مدینہ
لپٹ جائیں قدومِ مصطفے ﷺسے سنگِ در ہو کر
خخ

ایسے بندوں کا کچھ مقام نہیں

ایسے بندوں کا کچھ مقام نہیں
آج دنیا میں جن کا نام نہیں
علم کی ہے اگرچہ ارزانی
آدمیت کا احترام نہیں
خاک سمجھیں گے وہ آدمی کا مقام
آدمیت سے جن کو کام نہیں
جن کو خورشید سے شکایت ہے
یعنی کامل تو ہے پہ عام نہیں
سوز و مستی یہ لوگ کیا جانیں
جن کے زخموں میں سوزِ بام نہیں
آج پیتے نہیں وہ غم کا سبو
جیب خالی ہے گویا دام نہیں
کون پیتا ہے دیکھئے یہ شراب
مئے تو موجود ہے پہ جام نہیں
ان کے پیغام کا اثر کیا ہو
جن کے سینے میں خود پیام نہیں
ان پہ مائل ہے التفات ان کا
اور ہم سے دعا سلام نہیں
ہے شکایت انہیں زمانے سے
جن کے معشوق خوش خرام نہیں
دعوی ان کو ہے عشق بازی کا
اشک آنکھوں میں لالہ فام نہیں
عشق والوں کو بے خبر نہ کہو
عشق کہتے ہیں جس کو خام نہیں
کیوں جنازہ میرا اٹھاتے ہو
خاکِ مرقد مرا مقام نہیں
خاک جانیں وہ روشنی کا مقام
جن کی راتوں میں صبح و شام نہیں
لوگ کہتے ہیں کھو گیا جبریلؔ
ہم کو اس بات میں کلام نہیں

خخ
جو اپنے دل میں دیاعشق کا جلا نہ سکے
جو اپنے دل میں دیا عشق کا جلا نہ سکے
قسم خدا کی وہ ہستی کا رمز پا نہ سکے
وہ اپنے دل کے دریچے میں گل کھلا نہ سکے
جو گلستان کی بہاروں میں مسکرا نہ سکے
خخ

چھوڑ غرضوں کی یہ شطرنج سیاست کی یہ تاش

چھوڑ غرضوں کی یہ شطرنج سیاست کی یہ تاش
ڈھونڈھ قراں کے صحیفوں میں معیشت کی قماش
سجدہء شکر ہے ہر بندہء حُر پر واجب
ہو گیا راز یہ سربستہ کسی دل پہ جو فاش
مل گیا عدل و مساواتِ معیشت کا امیں
تھی ہمیں جس کی زمانے کے غلافوں میں تلاش
دولت و عفو و مساوات و اخوت جبریلؔ
ہوں جو موجود یہ عنصر تو ہے اسلامی معاش
جس میں مفقود ہو ان چار عناصر سے کوئی
ستیا پھر ایسے نظاموں کا ہے ہر رنگ میں ناس
ہم پہ صدیوں سے مسلّط ہے یہ مردارِ یہود
یعنی صیہونی معیشت کے سگِ زرد کی لاش
کس تحیر میں ہے کس سوچ میں غلطاں ہے ھجوم
مومنو گاڑ بھی دو اس جیفہء بے درد کی لاش
غفاری و قہاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلماں
دولتہً ؔ و عفوؔ و مساواتؔ و حریتؔ جبریلؔ
ہوں جو موجود یہ عنصر تو ہے اسلامی معاش
خخ
یہ سنگ پارس تو ہے گنج شائیگاں تو نہیں

یہ سنگ پارس تو ہے گنج شائیگاں تو نہیں
شعاع صدق گہر بحر بیکراں تو نہیں
سحر فروز تو ہے نغمہ اذاں تو نہیں
تری اذاں میں مگر رنگِ کن فکاں تو نہیں
بھٹک رہے ہیں کہیں رات کے اندھیرے میں
چمن وہی ہے مگر اپنا آشیاں تو نہیں
یہیں کہیں ہے زمیں میں خضر کا آبِ حیات
فلک رواں ہے دواں ہے پہ جاوداں تو نہیں
کہاں ہے روئے زمینِ خدا پہ دل کا سکوں
نہیں کہیں بھی نہیں زیرِ آسماں تو نہیں
وہ الفتیں وہ رقافت وہ شفقتیں وہ پیار
مجھے تلاش تھی جس کی یہ وہ سماں تو نہیں
مجھے ملا ہے یہی درد مند دل کا خروش
مری روش میں کہیں طور قہرماں تو نہیں
زمانہ خست طبع سے ہوا مخالفِ عشق
وگرنہ اس میں کسی کا کوئی زیاں تو نہیں
سمجھ سکیں تو کہوں رند مشربوں سے یہ راز
جہاں شناس تو ہیں اپنے رازداں تو نہیں
کمان فکر سخن ہے کھچے کھچے نہ کچھے
کمان فکر تو ہے قوس ابرواں تو نہیں
فریب ! نگہہ غلط بیں ہے یہ کہ حیرانی
کہاں سے تیر چلیں ہاتھ میں کماں تو نہیں
کسے خیال کہ پڑھتا پھرے یہ شعر تیرے
کتاب شعر و سخن روئے مہ و شاں تو نہیں
یہ تیر فکر سخن ہے لگے لگے نہ لگے
خدنگ فکر تو ہے تیر دلبراں تو نہیں
فریب نگہ غلط بیں کی ہے نظر بندی
کہاں سے تیر چلیں ہاتھ میں کماں تو نہیں
سوال تلخ غریباں کوئی سنے نہ سنے
جواب تلخ لب لعل گلرخاں تو نہیں
تڑپ رہے ہیں کہیں شوق کوربیں کے اسیر
یہ رسم پردہ مگر کیش عاشقاں تو نہیں
ترس رہے ہیں تیری دید کو خدا کے لئے
ادھر بھی دیکھ ادھر جمِ کافراں تو نہیں
چمن میں کب سے میان گلاں ہوں نغمہ سرا
بہار گل ہے پہ وہ جبریلؔ خونچکاں تو نہیں
خخ

فرشتہ دل کی پکاروں کا رازداں تو نہیں

فرشتہ دل کی پکاروں کا رازداں تو نہیں
مرے چمن کی بہاروں کا پاسباں تو نہیں
خدا خبر کہ یہ آہ و فغاں میں کیسے ہیں
دل ان فسردہ نگاہوں کے خونچکاں تو نہیں
اگرچہ خوب ہے ذوقِ جمالیات مگر
بتوں کا شہر یہ اقلیمِ بت گراں تو نہیں
مجھے یہ ڈر ہے کہ باغی کہیں نہ ہو جائیں
خدا کے دیں میں کہیں ظلم کا نشاں تو نہیں؟
سقر میں اپنے رفیقوں کو کیوں ستاتے ہو
جہنمی ہو جہنم کے قہرماں تو نہیں
جو ڈھونڈھتے ہیں بہارِ قمر میں شادابی
وہ اپنے من کی بہاروں میں شادماں تو نہیں
مگر یہ پرسشِ احوالِ درد کیا معنی
مرے طبیب ! یہ قلبِ جگر نہاں تو نہیں
چرا لیا ہے زمانے نے جل پری کا وہ ہار
فلک وہی ہے پہ اس میں وہ کہکشاں تو نہیں
تڑپ رہے ہیں کہیں شوق کوربیں کے اسیر
یہ رسمِ پردہ مگر کیشِ عاشقاں تو نہیں
تجھے ہے دعوی زمانے میں سروری کا مگر
تری رگوں میں حمیت کا خوں رواں تو نہیں
اذاں بلند ہے پرجوش ہے سریلی ہے
مگر یہ وادی بطحا کی وہ اذان تو نہیں
اگرچہ شوخ ہے سالار قافلہ کی روش
حدی نواز یہ بطحا کا سارباں تو نہیں
مجھے یہ ڈر ہے کہیں ماسکو نہ لے جائے
یہ ٹیڑھی ٹیڑھی روش رہ کے درمیاں تو نہیں
نکالتے ہیں یہ جنت سے کیوں غریبوں کو
کہ جنتی ہیں یہ جنت کے قہرماں تو نہیں
دھکیلتے ہو جہنم سے کیوں غریبوں کو
گراں نہیں ہے جہنم انہیں گراں تو نہیں
نکالتے ہیں جو جنت سے کس مپرسوں کو
یہ جنتی ہیں پہ جنت کے پاسباں تو نہیں
دھکیلتے ہو جہنم سے کیوں غریبوں کو
یہ روزگار کے ماروں پہ کچھ گراں تو نہیں
اگرچہ غم سے کلیجہ ہے پھٹ گیا ان کا
جوانا مرگ کی میت پہ نوحہ خواں تو نہیں
خدا کے فضل پہ ظالم کبھی نہ اترائیں
وہ مہرباں ہے مگر ان پہ مہرباں تو نہیں
یہ آسماں یہ ستارے یہ مہر و ماہ جبریلؔ
کوئی تو ان کی ہے منزل یہ رائیگاں تو نہیں
خخ

ہوئی ہے آج تک امت وہی ممتاز عالم میں
ہوئی ہے آج تک امت وہی ممتاز عالم میں
کہ پی جس نے خودی کی آتشیں مئے جام باہم میں
ادھر عرش بریں پہنچے ادھر زیر زمیں پہنچے
قرار آتا نہیں اہلِ زمیں کو ماہ و انجم میں
جو توڑا سلسلہ اک دم ترے دل کو تو موت آئی
کہ رازِ زندگی ہے ضربِ پیہم دورِ پیہم میں
سنی ہے جب سے مردوں نے خبر مرگِ غلامی کی
سلاسل ہاتھ میں لے کر وہ ہوئے مصروف ماتم میں
مصیبت دیکھ کر اپنوں کی روتا ہے جہاں سارا
مزہ جب ہے کوئی بندہ جلے اغیار کے غم میں
نہ جب تک لوٹ کر آؤ گے رہ پر اے مسلمانو!
اسی دنیا میں ہم تم کو جلائیں گے جہنم میں
خیال کلفت شب تک نہ آیا بوم کو لیکن
سحر کو چشم بلبل سے تو ٹپکے اشک شبنم میں
کبھی فرصت ہوئی غم سے تو پوچھوں کا یہ خالق سے
ملک تیرے نہیں سمجھے جسے وہ کیا ہے آدم میں
فرشتو ! آج آئے ہو حسابِ زندگی لینے
کہاں تھے جب کہ مرتا تھا میں سو سو بار دم دم میں
کہا جبریلؔ نے قائل ہوئے سب تیرے عرفاں کے
خدا جانے وہ کیا میں نے کہا مستی کے عالم میں
خخ

محل صرف نظر اس کی نگاہ میں نہیں

محلِ صرفِ نظر اس کی بارگاہ میں نہیں
وگرنہ ذوقِ نظر آپ کی نگاہ میں نہیں
مقامِ کفر کو پہنچا ادھر یہ فقرِ رواں
ادھر وہ حظ یقیں حبِ مال و جاہ میں نہیں
سرِ عزیز وہ جس پر کیا نثار ہم نے
وہی عزیز دمِ قتل قتل گاہ میں نہیں
خروشِ عشق کی آندھی میں جا رہا ہوں ولے
کہاں کہاں ہے وہ مشکل جو میری راہ میں نہیں
نہ بچ سکیں وہ مکافاتِ آسماں سے کبھی
جو کہہ رہے ہیں گناہ قتلِ بیگناہ میں نہیں
کلیم پوش تو ذلتِ نشاں ہوا سو ہوا
سکندری کی وہ شوکت بھی کج کلاہ میں نہیں
فلک کے دامن و دل کو تو پھونک سکتا ہوں
ترے جگر کو جلائے جو آگ آہ میں نہیں
نہیں وہ روئے گدا میں قلندری کا جلال
شکوہ قیصر و کسری وہ بادشاہ میں نہیں
کہاں ہے ظلم کی غارت کا وہ نشاں جبریلؔ
جو مفلسی کے کسی پیکرِ تباہ میں نہیں
خخ
وہ قوم جس میں اخوت کی خو نہیں ہوتی

وہ قوم جس میں اخوت کی خو نہیں ہوتی
جہاں میں اُس کی کہیں آبرو نہیں ہوتی
ہے ننگ کیف اگرچہ ہزار وعظ کہے
وہ بزم جس میں محبت کی بو نہیں ہوتی
جو دردِ دل کی دوا کا سراغ پا نہ سکے
مری نگاہ میں وہ جستجو نہیں ہوتی
تڑپ رہا ہے سدا بے قرار جلوہء دوست
پہ چشمِ نرگس بے اشک جُو نہیں ہوتی
تیرے جہاں میں ہے بڑھ کر میرے جہاں سے خروش

مگر ورائے جہاں گفتگو نہیں ہوتی
بڑے خروش سے جاری ہے گو کہ جشنِ چمن
یہ سُرِ بہار پپہیہے کی کُو نہیں ہوتی
نشانِ راہ کو منزل کی روشنی نہ سمجھ
حِنا اگرچہ حِنا ہے لہو نہیں ہوتی
اگرچہ تیری ہی یادوں کا ذکر رہتا ہے
پہ گفتگو یہ ترے روبرو نہیں ہوتی
وفائے عشق ہے اندازِ عاشقاں جبریلؔ
وگرنہ دار و سن آرزو نہیں ہوتی
خخ
خطاب بہ نوجوانانِ قومِ اعوان

اے کہ تیرے سامنے دریائے خوں ہے آبجو
بازوئے شمشیرِ زن ہے امتِ مسلم کا تو
تیرے ہاتھوں میں مہکتا ہے وقارِ برقِ تیغ
تیرے ماتھے سے عیاں ہے حکمتِ قرآں کی نمو
تو محمد حنفیہ کی آل وہ شیروں کا شیر
پھاڑ کر ہاتھوں سے زرہ جس نے کر دی تھی رفو
تیرے آبا ء اولیا عالی صفت عالی نسب
جن کے اسماء سے درخشاں ہے نسب کی آبرو
رزمِ گاہ حق و باطل میں جو ہنگامِ صلوۃ
اپنے خوں کی سر خگوں لہروں میں کرتے تھے وضو

تیرے آباء نے دیا پیغامِ قرآں ھند میں
والہانہ وادی وادی قریہ قریہ کُو بہ کُو
کہہ رہی ہے داستاں اب تک فصیلِ سومنات
جب کہ ٹوٹے تھے بتانِ سنگ و دامِ آرزو
جب سے لوٹایا گیا ہندو کو اس مندر کا در

ملکِ افغاں میں بپا ہے اک قیامت سو بہ سو
دور پھر الحاد کی تاریکیوں میں غرق ہے
دیکھئے اس کا مداوا کر سکے کس کا لہو
دہر میں آنے کو ہے پھر آسمانی انقلاب
سینہء گرووں سے پھر اٹھتی ہے ھوک اللہ ھُو
کون ہوتا ہے حریفِ دورہء غارت قریب
کون ہو گا انقلابِ حشر گوں میں سرخرو
کون ہے جو گنبدِ گردوں سے اب ھنگامِ شب
دے اذاں لا تقنطو۱ لاتقنطو۱ لا تقنطوا
چھپ گئی کالی دھواں دھاروں میں اللہ کی زمیں

سنسنائے تیرگی میں اژدھائے آتشیں
آگ کا طوفانِ نوح ہونے کو ہے بر پا ولے
سو رہی ہے ملتِ بیضا قیامت کے قریں
یہ جہاں دولت کے بت کے سامنے ہے سجدہ ریز
اور تاریکی میں دل کی روشنی کوئی نہیں
آدمیت مبتلائے حرص ہے بیمار ہے
اور ملتا ہی نہیں اس درد کا درما ں کہیں
کفر زارِ ھند میں تیرا تھا نعرہ ’’الجہاد‘‘
آج غرقِ ظلمتِ الحاد ہے ساری زمیں
تو نہ بھول ان کو انہیں شیروں کی تو اولاد ہے
پی گئے جامِ شہادت کو جو مثلِ انگبیں
تھے وہ مردانِ اولوالعزم و خدا مست و غیور
اس جہان تیرگی میں تھے وہ قران کے امیں
ہاں بپا کر غلغلہ اس گنبدِ افلاک میں
لوٹ سکتا ہے تری ہمت سے رنگِ پاستیں
تو بدل طوفان نوح کو آتشِ نمرود میں
کر ادا اس آگ میں تو سنتِ دینِ متیں
دیکھ تو افغان باطل پاش کا کردار دیکھ
آفریں ہے ملتِ افغان پر صد آفریں
کیشِ اعواناں میں وہ اعواں نہیں اعواں نہیں
آبروئے دیں پہ جو قرباں نہیں قرباں نہیں
تیر کی مانند اٹھی ہے دعائے جبرئیل
اٹھ ترا حامی و ناصر ہو الہُ العالمین
خخ
ہے طوفان مصیبت میں قدم ثابت جواں مردی
ہے طوفان مصیبت میں قدم ثابت جواں مردی
وگرنہ ہر شجر رہتا ہے ہنگام سکوں برپا
خودی کی مئے تو پی لیکن خودی کی حد میں رہ کرکے
کہ بے خود ہو گیا تو تو سفینہ غرق ہے تیرا
خخ
میں کہوں مسلم فردا کی جہانگیری دیکھ
میں کہوں مسلم فردا کی جہانگیری دیکھ
تو کہے مسلم حاضر کی یہ نخچیری دیکھ
میں کہوں مسلم فردا کی یہ شبیری دیکھ
تو کہے آج کے مسلم کی یہ دلگیری دیکھ
تیرگی تیری نگاہوں میں ہے نومید ہے تو
اک دھواں دھار میں لپٹا ہوا خورشید ہے تو
خخ
غبار و دود کے اٹھے بگولے پیچ و خم کھا کے

غبار و دود کے اٹھے بگولے پیچ و خم کھا کے
الٹ دی ہے زمیں اس زلزلے نے قہر میں آ کے
پرندے آشیانوں سے اڑ جاتے ہیں گھبرا کے
ببر تک خوف کے مارے چھپے ہیں غار میں جا کے
فضا میں سنسنی ہے آسماں لرزاں ہے بیبت سے
سمندر میں تلاطم ارض ہے جنبش میں ضربت سے
توبہ کر، اپنے پہ نادم ہو،تلافی کرلے نقصاں کی
بہا لے آنسوؤں سے تُو سیاہی داغِ عصیاں کی
کیے کو بھول جا، تجدید کرلے، اپنے پیماں کی
کر لے اپنی دنیا تابع تُو اللہ کے فرماں کی
جھکا دے اپنا سر اللہ کے در پر ابھی سے
بچھا دے اپنے دل کو راہِ داور پر ابھی سے
تو سرشکِ گرم سے کر ڈال تر داماں محمدﷺکا
لگا کے سینہء پرسوز سے قراں محمد ﷺ کا
اگر دن بھر کا بھولا شام کو آ جائے منزل پر
اسے بھولا ہوا کہنا بعید از عقل ہے یکسر
آئینہ فلک پہ اڑ کے تُو اہلِ زمین کو دیکھ
آئینہ زمین پر بن کے ثالث ہمنشیں کو دیکھ
آئینہ مکاں کو چھوڑ دے اس کے مکیں کو دیکھ
آئینہ برابر غیر کا اور دلنشیں کو دیکھ
آئینہ تیرا آئینہ ہے مسلم ہے تو آئینہ ہے مسلم کا
کہ روشن معرفت کے نور سے سینہ ہے مسلم کا
غبارِ کارواں اک سو برس سے جادہء پیما ہے
کہیں کل تھا کبھی امروز تھا ابتدا میں فردا ہے
غلامی سے نکلنے کے لئے اک اور منزل ہے ابھی
جو باد لیلٰی کے لئے ایک اور محمل ہے ابھی
خخ

کمالِ جستجو سے فکر طوفاں خیز کر پیدا
کمال جستجو سے فکر طوفاں خیز کر پیدا
صدف سا آبِ نیساں قراں سے کر گہر پیدا
زباں کو ضبط سے آہ و فغاں میں کر شرر پیدا
اگر بندہ مئے توحید میں سرشار ہو جائے
فغاں کو ضبط کر سینے میں آہ آتشبار ہو جائے
کہ تیرا ہر نفس اک آہ آتشبار ہو جائے
جگر چاک و ضمیر پاک و قلب زار کر پیدا
زباں صادق دل بے باک و روح بیدار کر پیدا
سخن برق و زباں تیغ و نفس شرار کر پیدا
لب آتش فشاں و کلک گوہر بار کر پیدا
تمنا ہے اگر رشکِ دکن کولار ہو جائے
اگر بندہ مئے توحید میں سرشار ہو جائے
خخ
جنونِ عشق کی وادی میں نام پیدا کر

جنونِ عشق کی وادی میں نام پیدا کر
سرشکِ خوں سے دلِ مُشک فام پیدا کر
اگرچہ ذوقِ سلیم آسماں سے ملتا ہے
زمینِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
اگر نہ تیرے مقدر میں کوئے خوباں ہو
تُو اپنے دل کے دریچے میں بام پیدا کر
جلا کے عشقِ خرد سوز کی تجلی میں
فتورِ حسن میں روحِ پیام پیدا کر
ذرا الٹ کے نقاب آسمانِ دل پہ چمک
مری سحر میں تمنا کی شام پیدا کر
بجز جنوں کے یہاں مفت کچھ نہیں ملتا
متاعِ غم کی طلب ہے تو دام پیدا کر
میری نگاہِ جہاں تاب کی شعاؤں میں
ہلال بن کے دلِ نا تمام پیدا کر
اگرچہ مئے سے ہے خالی یہ دورِ علم و ہنر
تُو اپنے زورِ تخیل سے جام پیدا کر
جو آرزو ہے کلیمی کی طورِ سینا پہ
جلا کے خونِ جگر ہمکلام پیدا کر
جو آرزو ہے تجلی کی اپنے سینے میں
جگر کے خوں کی سیاہی میں شام پیدا کر
جہاں میں آج وہ جبریلؔ دلشکستہ نہیں
اب اس کے ماتمِ غم میں نہ نام پیدا کر
خخ
جو کھو کر بزم کو پائے وہ لطف انجمن جانے
جو کھو کر بزم کو پائے وہ لطف انجمن جانے
قدر باد بہاراں کی خزاں دیدہ چمن جانے
کسی کو کیا خبر بیمار پر کیسی گزرتی ہے
لگی ہو جس کے دل میں آگ وہ درماندہ تن جانے
ہے مرگ ناگہاں اس کو جو سمجھائے تو وہ سمجھے
سمجھ کر بھی جو دنیا دو روزہ کو دمن جانے
میں کیوں کر دے سکوں اس کی خبر اے بے خبر تجھ کو
جسے مجھ سے کہیں بہتر ترا اپنا ہی من جانے
نہ ڈھونڈھ اس جبہ دستار میں رنگِ حقیقت کو
حقیقت عشق کی کوئی شہیدِ بے کفن جانے
خدا جانے مجھے کیا کیا جہاں والے سمجھتے ہیں
یہ میں جو کچھ ہوں بہتر ہوں میرا اپنا ہی من جانے
صنم اپنے پہ سبقت لے گیا واعظ وہ غم تیرا
جو توڑا ہے بتوں کو دہر جانے برہمن جانے
بسر کر رات مسجد میں ہیں بے دل فلسفی قومیں
قدر مہماں کی کوئی ملت شمشیر زن جانے
خخ
وہ براقی خودی کی تیغ باطل کش میں کر پیدا

وہ براقی خودی کی تیغ باطل کش میں کر پیدا
کہ اک جنبش سے ہو دنیائے بیکن میں سحر پیدا
الم انگیز ہے مسلم تیری مرنے سے بیزاری
کہ شوقِ مرگ میں ہیں مور بے مایہ کے پر پیدا
نہیں بے جا تیرا اے ملت قلاش یہ شکوہ
کہ ہے شیخ حرم کو آرزوئے سیم و زر پیدا
پریشاں ہے فلک پر آج تقدیرِ براہیمی
کہ پھر دنیا میں ہوتا ہے یہودی فتنہ گر پیدا
نہیں اس زندگانی میں فراغت فکر سے شاید
کہ ہر منزل سے ہوتا ہے نیا ایک ہمسفر پیدا
نہیں جینا نگاہ اہل باطل ورنہ محشر تک
ہے چشم آفتاب انداز مومن میں سحر پیدا
جگر اس بندہ مومن کے پہلو میں ہے چقماقی
کہ نوکِ نیزہ آہن سے ہوتا ہے شرر پیدا
سمجھتا ہے خدا شاید ریاکاری تیری ناداں
کہ اطوارِ زمانہ میں ہے اندازِ سقر پیدا
شعاع اشک خورشید تصور میں کہیں جبریلؔ
شب تاریک کے دامن سے ہوتا ہے قمر پیدا
خخ

چشمِ گریاں کے سوا دیدہء تر کچھ بھی نہیں

چشمِ گریاں کے سوا دیدہء تر کچھ بھی نہیں
دردِِ ارماں کے سوا دردِ جگر کچھ بھی نہیں
سوشلزم کا لبادہ ہو کہ اسلام کا جُبہ
قلب اخلاص سے خالی ہو اگر کچھ بھی نہیں
پَر شاہیں سے ہے شہباز شہنشاہِ فلک
گاغ و کرگس کے لئے باز کا پر کچھ بھی نہیں
زندگی حیف کہ آساں ہے مگر فانی ہے
موت مشکل ہے مگر جز بہ سفر کچھ بھی نہیں
شپرہ چشموں کے لئے نورِ بصارت کے بدوں
شمع انجم ہو کہ خورشید و قمر کچھ بھی نہیں
جوہر جرات و تدبیر و جسارت کے بغیر
تیغ و خنجر ہو کہ شمشیر و تبر کچھ بھی نہیں
خاکِ اغیار کو آنکھوں سے لگانے والے
اپنی قیمت کی مگر تم کو خبر کچھ بھی نہیں
بے خبر حکمتِ دوراں سے ہے واعظ گویا
وعظ پر زور و عناں گیرِ اثر کچھ بھی نہیں
نگہہ مومن کی ہے سو گند کہ مومن کی نگاہ
اک قیامت ہے مگر تیری نظر کچھ بھی نہیں

ہوں شبِ ھجر کے تاریک اندھیروں میں نہاں
غم کے ماروں کے لئے شام و سحر کچھ بھی نہیں
میری گردن پہ مسلط ہیں شیاطین جبریلؔ
لوگ کہتے ہیں کہ شیطاں کا شر کچھ بھی نہیں
خخ
بھٹکتے پھر رہے ہو شام اب ہونے کو آئی ہے
بھٹکتے پھر رہے ہو شام اب ہونے کو آئی ہے
صدی سو سال کی اس دشتِ ویراں میں گنوائی ہے
کبھی تقدیر تجویزوں نے قوموں کی بنائی ہے؟
غلامی دستِ کافر نے کہیں تیری مٹائی ہے ؟
مدار اللہ اکبر پر ہے حق کی فتح یابی کا
نماز شکر ہے مومن کو صلہ ہے کامیابی کا
ہزاروں منزلوں کی ایک منزل ہے نمازِ عشق
نمازِ مرد مومن ہے سراپا عشق رازِ عشق
حیات جاودانی کا مدار اک خوں کا قطرہ
مسیحا کے قدم کی ٹھوکر بیدار کن خطرہ
غضب ہے گر اجاڑے باغ اپنے ہاتھ سے مالی
کہ ماں خود اپنے ہاتھوں گود بچے سے کرے خالی
مسلماں کی چھری مرد مسلماں کا گلو کاٹے
مقامِ حیف ہے بھائی جو بھائی کا لہو چاٹے
خخ
عرشِ اعلیٰ کی فضاؤں میں ہو پرواز تیری

عرشِ اعلیٰ کی فضاؤں میں ہو پرواز تیری
صوتِ تقدیر سہی ہمدم و ہمراز تری
لاکھ مستور ہو سینے میں تیرا قلبِ دونیم
داستاں اشکِ پیازی کی ہو غماز تری
تیرے ہر لفظ میں سوزاں ہو جگر مثلِ کباب
گفتگو سِحر و کرامت ہو کہ اعجاز تری
چشمِ گریاں میں فروزاں ہوں یہ لعلوں کے چراغ
آہِ سوزاں کی تجلی میں ہو پرواز تری
تابناکی کی غضب ناک نگاہوں کے بدوں
کون سنتا مرے جبریلؔ یہ آواز تری
ناگاساکی کے المناک فسانے کے بدوں
کون سنتا میرے جبریل یہ آواز تیری
خخ

تو کہ ہے عشق خدائے پاک میں صدا اندوہگیں

تو کہ ہے عشق خدائے پاک میں صدا اندوہگیں؟
چشم ہے نمناک تیری قلب ہے تہہ اخریں؟
ہے تو ہی سرمایہ توحید کا واحد امیں؟
گرد بیت اللہ سے آلود ہے تیری جبیں؟
سچ کہوں میری سمجھ میں بات یہ آئی نہیں؟
کس طرح سے آ گیا اللہ کا تجھ کویقیں؟
کود کر دیکھا ہے تو نے آتشِ نمرود میں؟
فرق بھی دیکھا ہے کوئی ساجد و مسجود میں؟
خخ
روک لے ہاتھ کو اب بہرِ خدا اے مومن

روک لے ہاتھ کو اب بہرِ خدا اے مومن
قتلِ مومن کی جہنم ہے سزا اے مومن
اپنے ہاتھوں سے نہ کر اپنی فنا اے مومن
کچھ توکر شافعئی محشر سے حیا اے مومن
تیرے چرکوں سے جگر دوست کا خوں ہوتا ہے
اور خوں دشمنِ ملت کا فزوں ہوتا ہے
خخ

 

 

 

گُلبانگِ صدارت

’’میں جو اس ملک کا اک صدرِ گرامی بن جاؤں‘‘
رباعی
ہے مذہب بادشاہ کا حاکم و محکوم کا مذہب
کبھی اسلام کا مذہب کبھی ہے روم کا مذہب
نہ ہو داعی خلافت کا اگر پابندِ قراں
تو سمجھ لو بس فنا ہے مذہب و ملت و ایماں
خخ
(1)
میں جو اس ملک کا اِک صدرِ گرامی بن جاؤں
بوئے آزاد و پریشاں ہوں مقامی بن جاؤں
درد ہوں درد سے درمانِ غلامی بن جاؤں
ساتھی بے بس کا تو مظلوم کا حامی بن جاؤں
نورِ ناموسِِ الہی سے اُجالا کر دوں
آدمیت کو خلافت سے دوبالا کر دوں
(2)
دل میں کانٹا ہے یہ کشمیر نکالوں اس کو
اپنی بگڑی ہے یہ تقدیر بنا لوں اس کو
اپنی قسمت کی ہے تصویر جگالوں اس کو
اپنی گردن میں ہے زنجیر کٹا لوں اس کو
خوں کے دریا میں رواں اپنا سفینہ کر دوں
خونِ دل گرمئی ہمت میں پسینہ کر دوں
(3)
سر ہے کشمیر تو دل اپنا فلسطیں جو ہُوا
اپنی ملت کا جو دشمن ہے وہ بدبیں جو ہُوا
گبر و زندیق ہوا ملحدِ لادیں جو ہوُا
اور مومن کا دل و جان و جہاں دیں جو ہُوا
سبق ابنائے یہودی کو وہ سکھلاؤں میں
روزِ روشن میں ستارے انہیں دکھلاؤں میں
(4)
چہرہء ارضِِ مقدس پہ غبار آتا ہے
روئے عالم پہ قیامت کا نکھار آتا ہے
رچرڈ آتا ہے فلسطیں میں نزار آتا ہے
بن کے ایوبئیِ دوراں کا شکار آتا ہے
شیرِ دل آئے مقابل میں یہ شیر افگن ہے
یا علیؓ کہہ کے اکھاڑے میں یہ دیر افگن ہے
(5)
سینہء چاکِ مسلماں میں سجا کر تجھ کو
دل کی مسجد میں دیا من کا جلا کر تجھ کو
اپنے خوابوں کے فسانے میں سُلا کر تجھ کو
دل کے اس درد کی خوشبو میں بسا کر تجھ کو
جان و دل دے کے ادا سجدہء شکرانہ کروں
اے میرے قدس تجھے پیش یہ نذرانہ کروں

(6)
سینہء نحسِ یہودی میں اُتر جاؤں میں
چیر کر قلب و جگر تا بہ کمر جاؤں میں
بن کے شمشیر کلیجے سے گزر جاؤں میں
کام مومن نے جو کرنا ہے وہ کر جاؤں میں
مسجدِ قدس کو پھولوں سے سجاؤں یا رب
دستِ ناپاکِ یہودی سے چھڑاؤں یا رب
(7)
طاغیا ! تیری رعونت کو کچل ڈالوں میں
پائے انصاف و عدالت میں مسل ڈالوں میں
کیوں نہ اس کیشِ تکبر میں خلل ڈالوں میں
کیوں تری گردنِ سرکش میں نہ بل ڈالوں میں
فرقِ ظالم پہ جو شمشیرِ برندہ بن جاؤں
خرمنِ ظلم پہ اک برقِ جہندہ بن جاؤں
(8)
میں ہر اک رسم و رہِ کفر کو معدوم کروں
محو دنیا سے ہر اک بدعتِ مذموم کروں
خونی پنجوں سے ہر اک دزد کو محروم کروں
سود خواروں کا جگر خانہء صد بوم کروں
میں زمانے میں نہ مشرک نہ منافق چھوڑوں
میں ہر اک بُت کو فرامیں کے موافق توڑوں

(9)
میں ہر اک طاغیِ بے باک کو ترساں کر دوں
میں ہر اک باغیِ چالاک کو لرزاں کر دوں
میں ہر اک جابرِ سفاک کو حیراں کر دوں
میں ہر اک فتنہء برپا کو پریشاں کر دوں
مشکلیں بندہء مجبور کی آساں ہو جائیں
مورِ بے مایہ یہ ہمدوشِ سلیماں ہو جائیں
(10)
میں نہ اس ملک کا اک حاکمِ مغرور بنوں
مردِ آمر نہ بنوں خادمِ جمہور بنوں
راعیِ خلق بنوں انجمِ دستور بنوں
دامن ظلم میں اک شعلہء مستور بنوں
راہِ پابندیء دستور سکھاؤں تم کو
رسمِ سلطانیِ جمہور سکھاؤں تم کو
(11)
خادمِ خلق بنوں داورِ قاہر نہ بنوں
ظلمِ باطن میں کہیں ظلمتِ ظاہر نہ بنوں
صدقِ قاسم تو بنوں سطوتِ داہر نہ بنوں
دامِ تذویر و رہِ مکر کا ساحر نہ بنوں
جادہء حق و صداقت کو جو اپناؤں میں
بے خطر سرورِ کونین ﷺ کے گُن گاؤں میں

(12)
چاشنی فقر کی ہے اپنی علامت اچھی
یاد دنیا سے کہیں یادِ قیامت اچھی
شامتِ حشر سے ہے دہر کی شامت اچھی
شرمِ محشر سے ہے دنیا کی ندامت اچھی
میرے کُرتے میں یہ پیوند لگے رہنے دو
چاکِ دنیا پہ یہ دو بند لگے رہنے دو
(13)
میں مساوات و اخوّت کی علامت بن کر
ہر کلاہ دارِ رعونت کی قیامت بن کر
دین و ایمانِ مسلماں کی کرامت بن کر
یعنی ہر جھوٹے خداوند کی شامت بن کر
ایک طوفانِ بلا خیز کی مانند اُٹھوں
اپنے ہاتھوں پہ لئے کوہِ دماوند اُٹھوں
(14)
میں زمانے کو دکھا دوں کہ وہ اسلام ہے کیا؟
ہادیِ ملتِ بیضا کا وہ پیغام ہے کیا؟
سوزِ تکبیر ہے کیا حرُمتِ احرام ہے کیا؟
اپنے اللہ نے کیا ہم پہ جو انعام ہے کیا؟
یعنی پیغامِ محمد ﷺ کی حقیقت کیا ہے؟
اور اس حکمتِ قرآں کی طریقت کیا ہے؟

(15)
بے خطر کھینچ دوں قانونِ فرنگی پہ لکیر
فتنہ گر کھینچ دوں اس رسمِ دورنگی پہ لکیر
لے کے پر کھینچ دوں اس فکرِ نہنگی پہ لکیر
الحذر کھینچ دوں اس برق کے زنگی پہ لکیر
نافذ اس ملک میں قانونِ الہی کر دوں
فکرِ ابلیسِ فرنگی کی تباہی کر دوں
(16)
ہائے قانونِ فرنگی ہے کہ بدبینی ہے
ذہنِ کم بیں کی نگاہوں کی یہ رنگینی ہے
نگہہء مسحورِ غلط بیں کی یہ درُ چینی ہے
گمرہی ہے یہ ضلالت ہے یہ بے دینی ہے
ذہنِ انساں کی یہ تخلیقِ فرنگی وائے
برقِ حاضر کی شعاؤں کا یہ زنگی وائے
(17)
کیا یہی عدل ہے انصاف اسے کہتے ہیں
یوں ہی مظلوم کہیں رنج و الم سہتے ہیں
بن کے خوں عدل کے دریا بھی کہیں بہتے ہیں
برملا لوگ زمانے میں یہ کیا کہتے ہیں
ظلم ہے ایسی عدالت کو عدالت کہنا!
کاش سیکھیں یہ ضلالت کو ضلالت کہنا!

(18)
رشوتیں دے کے ادھر لے کے اُ دھر تھانوں میں
دفتروں خیمہ گہوں مسجدوں ایوانوں میں
درگہوں مردہ گھروں معبدوں زندانوں میں
قئنچیاں ڈال کے بیٹھے ہیں جو ایمانوں میں
عدل و انصاف کے پردوں میں یہ کیا لٹتی ہے
آدمیت کے جنازے کی دعا لٹتی ہے
(19)
عدل و عادل کے ٹھکانوں کو ذرا جا کے تودیکھ
ان عدالت کے فسانوں کو ذرا جا کے تو دیکھ
چھینا جھپٹی کے بہانوں کو ذرا جا کے تو
دیکھ اپنے ان لٹتے خزانوں کو ذرا جا کے تو دیکھ
عدل و انصاف کے پردے میں یہ کیا لٹتی ہے
قصرِ جنت کے جھروکوں میں صبا لٹتی ہے
(20)
پِس گیا غربت و افلاس کی چکی میں غریب
دو گِرہ کپڑا نہیں بہرِِ کفن جس کے نصیب
تاج و اکلیل کے وارث بھی ہوئے اس کے رقیب
جس کی قسمت میں نہیں جز بہ درو دار و صلیب
ان غریبوں کے کسی درد کادرماں بن جاؤں
یعنی جنت سے نکالا ہوا رضواں بن جاؤں

(21)
جینا مشکل ہے مری قوم کا مرنا مشکل
کام اُمت کا کسی طور سنورنا مشکل
موجِ دریائے مصیبت سے گزرنا مشکل
ہو نہ انصاف تو کشتی کا اُبھرنا مشکل
نافذ اسلامی معیشت کو کروں زود کروں
اور اس قہر کو اک ضرب سے نابود کروں
(22)
کیشِ مغرب ہو کہ سرمایہ پرستی کا عذاب
کر دئے جس نے جگر دور کے بندوں کے کباب
جس میں پوشیدہ و پنہاں ہے قیامت کا عقاب
میں مٹاؤں گا زمانے میں اسے مثلِ حباب
قلبِ اُمت کو عذابوں سے نہ میں برماؤں گا
اُڑ کے اسلامی معیشت کی خبر لاؤں گا
(23)
ملک اللہ کا ہے میں صدق سے گلنار کروں
خونِ دل دے کے اسے گلشن و گلزار کروں
بقعہء نور اسے مطلع انوار کروں
میں زمیں بوس یہ سب ظلم کے کہسار کروں
فصلِ گل لا کے بہاروں میں چراغاں کر دوں
پھول برسا کے رُ خِ ارض کو گلستاں کر دوں

(24)
میں کسی طور رباؤں کی طہارت نہ کروں
میں کسی طرح یہ ترویجِ تجارت نہ کروں
اپنے ہاتھوں سے ہی اس قوم کو غارت نہ کروں
زائل اس قومِ خدابیں کی بصارت نہ کروں
سود اس شے کو پیئمبر ﷺ نے جو فرمایا ہے
پھر جواز اس کی طہارت کا کہاں آیا ہے
(25)
اپنی ملت کو جو حاجت ہے تو اس بات کی ہے
آج حاجت ہے تو مومن کو مساوات کی ہے
ہم کو انجیل کی حاجت ہے نہ تورات کی ہے
ہم کو حاجت ہے تو اس آیہء آیات کی ہے
آیہء فئے میں ہے دولتہََ کی جو تنبیہہ جبریل
جس کی افسوس کہ ملتی نہیں توجیہہ جبریل
(26)
آیہء فئے میں ہے دوُلتہً کی جو تنبیہہ جبریل
جس کی افسوس کہ ملتی نہیں توجہیہ جبریل
منزلیں جس کو بھلانے سے ہوئیں تیہہ جبریل
شہر برباد تو غارت ہیں پڑے دیہہ جبریل
مومن اب آیہء دولتہً کو جو از بر کر لیں
زیر اس ظلم معیشت کا وہ اژدر کر لیں

(27)
غفلتِ نیم شبی خوابِ سحر گاہی ہے
فرشِ ذلت ہے تغافل ہے جگر کاہی ہے
منصبی فرضِ مسلماں سے نہ آگاہی ہے
رہبری تو نے دو عالم کی کہیں چاہی ہے؟
اپنے کاندھوں پہ تو اسلام لئے پھرتے ہیں
قلب و باطن میں مگر نام لئے پھرتے ہیں
(28)
کیا کہوں کتنا المناک ہے اُمت کا زوال
میری برداشت سے باہر ہے مِرا رنج و ملال
جو مسلماں ہے وہ اُ مت کے ہے اس غم میں نڈھال
اُ ٹھ گئے بہر دُعا سوئے خدا دستِ سوال
ناس ہر دشمن اسلام کا ستیا ہو جائے
یعنی ہر رہزنِ حاخام کا ہتیا ہو جائے
(29)
تیری باتوں میں طلاقت ہے پہ معلوم نہیں
تیرے ایماں میں صداقت ہے پہ معلوم نہیں
تیری طبع میں رفاقت ہے پہ معلوم نہیں
تیرے بازو میں بھی طاقت ہے پہ معلوم نہیں
تجھ کو معلوم جو ارزانیءِ قیمت ہو جائے
فتح و نصرت میں یہ تبدیلیءِ ہزیمت ہو جائے

(30)
علم ہے اُمتِ مرحوم کی طاقت کا مجھے
علم ہے اُمتِ محروم کی شوکت کا مجھے
علم ہے اُمتِ مظلوم کی عظمت کا مجھے
علم ہے اُمتِ معدوم کی ہیبت کا مجھے
بے خطر کفر کو البرز سے للکاروں میں
بحرِ مردار میں اس گبر کو دے ماروں میں
(31)
ابتدا اب جو نئے عصر کے انجام کی ہے
حاجت انساں کو جو ہے آج تو اسلام کی ہے
ہم کوپیغام کی حاجت ہے تو پیغام کی ہے
کچھ ضرورت ہے نہ لینن کی نہ حاخام کی ہے
دینِ قیّم کو زمانے پہ مسلط کر دوں
کفر و باطل کے فسانے پہ مسلط کر دوں
(32)
میں نئے دورِ پریشاں کی ہوں تقدیر کہیں
جذبہء حبِ ندیماں کی ہوں تصویر کہیں
چشمِ بے تابِ مسلماں کی ہوں تنویر کہیں
حرفِ خوں نوشِ سفیہاں کا ہوں نخچیر کہیں
مجھ کو گردوں کی یہ رفتارِ پریشاں کہہ لو
عالمِ برزخِ تقدیر مسلماں کہہ لو

(33)
میں مسلماں کو زمانے پہ مسلط کر دوں
دردِ انساں کو فسانے پہ مسلط کر دوں
سوزِ ایماں کو ترانے پہ مسلط کر دوں
نگہہء فاراں کو خرانے پہ مسلط کر دوں
دینِ مومن کو ہر اک دیں پہ جو غالب کر دوں
ژند و پا ژند کو اسلام کا طالب کر دوں
(34)
میں فقط حسرتِ گفتار کا غازی ہی نہیں
میں فقط حکمت و تفسیر کا رازی ہی نہیں
میں فقط مسجدِ اقصیٰ کا نمازی ہی نہیں
دردِ ملت میں فقط اشکِ پیازی ہی نہیں
میں جو کہتا ہوں زباں سے سو وہ کر سکتا ہوں
وقت آئے پہ بڑے شوق سے مر سکتا ہوں
(35)
تجھ کو جنگاہءِ دو عالم میں ہویدا کر دوں
وارث اس عالمِ بے تاج کا پیدا کر دوں
ایک عالم کو ترے تاج کا شیدا کردوں
تیرے ہاتھوں میں ترے دست کا صیدا کر دوں
سایہء عرشِ معلےٰ میں بٹھاؤں تجھ کو
عشقِ سردارِ دو عالم میں جلاؤں تجھ کو

(36)
فتنہ زائی کی فضاؤں کو مٹا ڈالوں میں
بے حیائی کی اداؤں کو مٹا ڈالوں میں
بے وفائی کی ہواؤں کو مٹا ڈالوں میں
ناروائی کی گھٹاؤں کو مٹا ڈالوں میں
پھر وہی اپنا تمدن ہو وہی باتیں ہوں
ہوں وہی روز وہی راز وہی راتیں ہوں
(37)
ہوں وہی روز وہی راز وہی باتیں ہوں
ہوں وہی سوز وہی ساز وہی راتیں ہوں
فرقہ بندی نہ کہیں ہو نہ کہیں ذاتیں ہوں
نہ شکستیں ہوں عزیزو نہ کہیں ماتیں ہوں
جھولا اسلام کے جھولے میں ہی جھولیں مومن
اپنے اللہ کی عنائت کو نہ بھولیں مومن
(38)
کون کہتا ہے کہ تُو حاصلِ تقدیر نہیں
آیہء اُمتِ وسطی کی تُو تفسیر نہیں
لوحِ تقدیرِ معلے کی تُو تحریر نہیں
آئینہ گنبدِ گردوں کی تُو تصویر نہیں
دستِ تقدیرِ زبردست کی شمشیر ہے تو
سچ کہوں ارضِ خدا مست کی تقدیر ہے توُ

(39)
لوحِ تقدیرِ دو عالم کی ہے تحریر تُو ہی
انتم اعلون کی ہر رنگ میں ہے تفسیر تُو ہی
آئینہء گنبدِ گردوں کی ہے تصویر تو ہی
فضلِ ربی کا زمانے میں ہے نخچیر تو ہی
بامِ افلاکِ ثریا پہ ہے تقدیر تری
اور مقصود زمانہ ہے یہ تعمیر تری
(40)
کی وفا تو نے محمد ﷺ سے تو رب تیرا ہے
ہند و سر ہند و فلسطیں و عرب تیرا ہے
ارض و افلاک تو کیا چیز ہے سب تیرا ہے
ہو ترا اپنا مسبب تو سبب تیرا ہے
تو جو چاہے تو یہ رفتارِ زمانہ رک جائے
حق و باطل کا یہ دلدوز فسانہ رک جائے
(41)
میں محمد ﷺ کی محبت میں گرفتار بھی ہوں
اُمتِ آحمد ﷺ مرسل کا فدا کار بھی ہوں
میں مسلماں ہوں مسلماں کا وفادار بھی ہوں
اور ناموسِ مسلماں کا نگہدار بھی ہوں
طُورِ انوارِ محمد ﷺ کا وہ شیدائی ہوں
دشتِ طیبہء مقدس کا وہ سودائی ہوں

(42)
جس کو دعوے ہے نہ دانش کا نہ دانائی کا
مدعی ہوں نہ سیاست میں فلک سائی کا
زعم ہے مجھ کو تدبر کی شناسائی کا
اور اسرافِ بصیرت میں نہ یکتائی کا
اک رَ مَق ہے جو مہیا تو یہ اخلاص کی ہے
اپنی پونجی ہے اگر کچھ تو یہ احساس کی ہے
(43)
نیشِ خوں نوش یہ پہلو میں ضمیر اپنی ہے
منکر اپنی ہے یہ پیوستہ نکیر اپنی ہے
نہ کبیر اس سے ہے پنہاں نہ صغیر اپنی ہے
جاں یہ بے درد کے پنجے میں اسیر اپنی ہے
میرے پہلو میں یہ خونخوار مجھے ڈستی ہے
ڈنک بن بن کے یہ ہر بار مجھے ڈستی ہے
(44)
نرم ریشم کی ہوں مانند پہ تلوار بھی ہوں
چشمِ گردوں میں کہیں دیدہء بیدار بھی ہوں
صیدِ قسمت ہوں ولے صاحبِ اسرار بھی ہوں
میں تہی عقل ادھر عشق کا بیمار بھی ہوں
یا خدا سب کو یہ اعجازِ مسلمانی دے
ہر مسلماں کو یہ اندازِ مسلمانی دے

(45)
مدتوں ڈھونڈھ کے پائی ہے یہ منزل میں نے
ایک لیلائے مقدس کی یہ محمل میں نے
تن میں بُن بُن کے دھواں دھار کے بادل میں نے
بڑی مشکل سے جلائی ہے یہ مشعل میں نے
خوش و خرم ہوں اسی رازِ سلیمانی میں
میری دانش ہے میری مستی و نادانی میں
(46)
سینہء نحسِ یہودی پہ ہوں اژدر جبریل
خس و خاشاکِ زمانہ میں ہوں اخگر جبریل
کون جانے گا یہ اخلاص کا جوہر جبریل
آج پھرتا ہوں ترے شہر میں بے گھر جبریل
میرا مولا جو مرے دل کی صدائیں سن لے
یعنی گردوں کی وہ دلدوز دُعائیں سن لے
(47)
اور اب سن لے میرے دل کی حقیقت اے دوست
ایک آگاہِ زمانہ کی بصیرت اے دوست
ایک بیگانہِ دنیا کی طریقت اے دوست
ایک دانائے رہِ فقر کی سیرت اے دوست
ایک جو میں نہ خریدوں مَیں شہنشاہی کو
میں پئے تخت نہ دوں دل کی جگر کاہی کو
(یہ نظم 10 اکتوبر 1970 کو لکھی گئی)

Back to Kuliyat e Gabriel Index

Print Friendly, PDF & Email

Related Posts

  • 90
    امیدواراورووٹر ایک امیدوار ووٹ مانگنے کے لیے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس گیا اور ان کو ایک ہزار روپیہ پکڑواتے ہوئے کہا حاجی صاحب اس بار ووٹ مجھے دیں۔ حاجی صاحب نے کہا: مجھے پیسے نہیں چاہیےووٹ چاہیے تو ایک گدھا لادیں، امیدوار گدھا ڈھونڈنے نکلا مگر کہیں بھی…
  • 82
    Back to Kuliyat e Gabriel گریہ نیم شبی خدایا شکر ہے رکھا مرا اجر اپنے ہاتھوں میں وگرنہ کس طرح ملتی مجھے محنت کی مزدوری بڑی مشکل سے سمجھائے تھے ملت کو سب اندیشے رلا کر رکھ گئی مجھ کو یہ احساسِ مجبوری خخ رلاتی ہیں مجھے ملت کی حسن…
  • 81
    عصرِ حاضر وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا قتیلِ عشق کے باطن کی آرزو نہ رہا رگوں میں جوش حمیت کی آبرو نہ رہی دلوں میں جوشِ اخوت وہ کو بہ کو نہ رہا تڑپتے دل کی پکاروں کی بے…
  • 80
    تبدیلی کے خواہاں نومنتخب حکمرانوں کیلئے تجاویزِ چند!! ( ڈاکٹر اظہر وحید ) وطنِ عزیز میں جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے اہلِ وطن نئے سرے سے سے نئی اُمیدیں باندھ لیتے ہیں....اِس خیال سے کہ حکومت کے بدلنے سے شائد اُن کی حالت بھی بدل جائے۔ صد شکر! یہ…
  • 79
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 79
    [ad name="468x60"] (۱) علامہ محمد یوسف جبریلؒ ملک کی مشہور و معروف علمی وروحانی شخصیت ہیں اور واہ کینٹ میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔اُنکا ورثہ اُمتِ مسلمہ کیلئے ایک مشعلِ راہ کی حیشیت رکھتا ہے۔اُنکے اُفکاروپیغام کو اُجاگر کرنے اور آسان وفہم انداز میں عوام الناس تک پہنچانے…
  • 79
    Back to Kuliyat e Gabriel ضربِ مومن رباعی ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے زمین پر ہے وجود اس کا فلک پر آشیانہ ہے جمالِ یار کا پرتوَ جنوں کو تازیانہ ہے ٹھکانا اس کا جنت ہے یہ دنیا قید…
  • 78
    غلط خاکے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دینے والی تفتیش :زینب اور اس جیسی 11 کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کے پیچھے چھپے خوفناک و شرمناک حقائق اس رپورٹ میں ملاحظہ کیجیے لاہور(ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کہنے کو اغوا کے بعد زیادتی اور زیادتی…
  • 78
    Back to Kuliyat e Gabriel گلہائے عقیدت علامہ اقبال ؒ مرحوم کے حضور میں سرود رفتہ باز آید بیاید نسیمے از جحاز آید بیاید دو صد رحمت بجان آں فقیرے دگر دانائے راز آید بیاید دگر آید ہماں دانائے رازے ندارد جز نوائے دل گدازے دے صد چاک و چشمے…
  • 78
    آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں ابوبکر قدوسی بہت شور ہے ڈیم بنانے کا - پنجابی میں کہتے ہیں "ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں " یعنی نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں - سو دوستو…
  • 77
    Back to Kuliyat e Gabriel Index نغمہ جبریل آشوب مرے گُلو میں ہے ایک نغمہء جبریلؔ آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لامکاں کیلئے علامہ محمد اقبالؒ اشعار فلک پر آفتاب اپنا نشیمن بھول سکتا ہے ؟ شرارہ برق کا مقصودِ خرمن بھول سکتا ہے ؟ خخ بغیر قربتِ موسی…
  • 75
    Back to Kuliyat e Gabriel پیشِ لفظ شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح…
  • 75
    Back to Kuliyat e Gabriel حمد مرے اللہ مرے مولا مرے مالک مرے آقا ترے ہی واسطے ساری ثنائیں، ساری تعریفیں سدا ذکر الہی میں رہے مشغول دل میرا رہیں میری زباں پر تا قیامت جاری تعریفیں مرے اللہ مرے مولا تری تعریف کیوں کر ہو کہ میں اک بندہء…
  • 70
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 70
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 70
    دعائے نیمہء شب مسلماں کو تو عالی مرتبت کر دے خداوندا ! مسلماں کو تو عالی مرتبت کر دے تمامی روئے دنیا اس کے زیرِ سلطنت کر دے مسلماں سے خدایا دور غربت کا یہ شر کر دے الہی دو جہاں کو نعمتوں سے بہرہ ور کر دے خداوندا مری…
  • 69
    شیشیل کورالا فقیرانہ وزیر اعظم 2014ء میں نیپال کاوزیراعظم بن گیا۔پہلے دن جب اپنے سرکاری دفترپہنچاتو انتہائی سستی قیمت کے کپڑے پہن رکھے تھے۔۔لباس کی مجموعی قیمت دوسوروپے سے بھی کم تھی۔سرپرانتہائی پرانی ٹوپی اورپیروں میں کھردری سی چپل۔ وہاں ویٹریانائب قاصدکے کپڑے بھی شیشیل کورالاسے بہت بہتر تھے۔ منتخب…
  • 66
    Back to Kuliyat e Gabriel شعلہء گردوں یعنی شہیدوں کے چراغ وہ خوں کا قطرہ زمانے میں بہایا جو گیا ہو شاہراہ سے خار اٹھانے میں صبا رفتار گھوڑوں کی صفیں انبار تیغوں کے ذخیروں کے ذخیرے جا بجا خونخوار تیغوں کے سائے میں وہ خوں کا قطرہ زمانے میں…
  • 66
    رات اور دن ٭٭٭ڈاکٹر اظہر وحید٭٭٭ رات اور دن کا آپس میں بدلنا تغیر کی علامت ہے.... لیکن ثبات کے متلاشی کیلیے اس میں ثبات نہیں۔ تغیر کو شاعری میں ثبات مل بھی جائے‘ تو انسان کو تغیر میں ثبات نہیں ملتا۔ رات چاند سے عبارت ہے اور دن سورج…
  • 65
    ادب کافروغ اور ادیب کی فلاح و بہبود کے بارے میں چند تجاویز تحریر ؔعلامہ محمد یوسف جبریل اگر آپ اپنے ملک میں ادب کا فروغ چاہتے ہیں۔ تو ادیب کی فلاح و بہبود کا خیال کریں ۔ ادب کا فروغ اتنا ہی ہو گا جتنا کہ لوگوں کے دلوں…