Naara a Jabreel

Back to Kuliyat e Gabriel

نعرہ ء جبریل

( 1)
روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں
برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں
ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں
فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں
خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ اغیار سنیں
اور مومن ہیں تو اس درد کو اکبار سنیں
( 2)
چشمِ جبریلؔ یہ کہتی ہے کہ اقبالؒ کہاں
دلِ جبریلؔ یہ کہتا ہے کہ اقبالؒ یہاں
چشمِ قندیل یہ کہتی ہے کہ اقبالؒ کہاں
دلِ قندیل یہ کہتا ہے کہ اقبالؒ یہاں
لہلہاتا ہے وہ قندیل کے پروانوں میں
مسکراتا ہے وہ جبریلؔ کے ارمانوں میں
(3)
دہر ہے فتنہء دجال کی جولانی پہ
دور نازاں ہے زمانے کی فراوانی پہ
عصر رقصاں ہے نئے علم کی ارزانی پہ
اور ہستا ہے فلک دور کی نادانی پہ
برق بے تاب ہے اس گھر کو جلانے کے لئے
خرمنِ ہستیء آدم کو مٹانے کے لئے
(4)
جھومتی مادہ پرستی کی گھٹائیں آئیں
دیکھ ! آزادیِ دنیا کی ہوائیں آئیں
بجلیاں کفر کی الحاد کی چھائیں آئیں
تیری بہبود کے پردے میں بلائیں آئیں
یہ چڑیلیں ہیں جنہیں توُ نے پری سمجھا ہے
یہ توریلیں ہیں جہنیں طیرِ بری سمجھا ہے
(5)
جھومتی مادہ پرستی کی گھٹائیں آئیں
دیکھ ! آزادیِِ دنیا کی ہوائیں آئیں
بجلیاں کفر کی الحاد کی چھائیں آئیں
تیری بہبود کے پردے میں بلائیں آئیں
یہ چڑیلیں ہیں جنہیں توُ نے پری سمجھا ہے
کاغ و کرگس ہیں جنہیں کبک دری سمجھا ہے
(6)
جھومتی مادہ پرستی کی گھٹائیں آئیں
دیکھ ! آزادیِ دنیا کی ہوائیں آئیں
بجلیاں کفر کی الحاد کی چھائیں آئیں
تیری بہبود کے پردے میں بلائیں آئیں
یہ چڑیلیں ہیں جنہیں توُ نے پری سمجھا ہے
رقص کرگس کو رم کبک دری سمجھا ہے

(7)
خاکداں خاک کے خاروں میں گرفتار ہوا
خاکراں خاک کے غاروں میں گرفتار ہوا
خاکبیں خاک کے تاروں میں گرفتار ہوا
خاکِ خواں خاک کے پاروں میں گرفتار ہوا
یہ جہاں خاک ہوا خاک میں نمناک ہوا
قصہ اس دور میں آدم کا المناک ہوا
(8)
منبر و مسجد و محراب سبھی ڈوب گئے
کفر و الحاد کے طوفاں میں ابھی ڈوب گئے
مر گیا مردِ مسلماں کہ تبھی ڈوب گئے
نہ رہا دور میں ایماں جبھی ڈوب گئے
منبر و مسجد و محراب سبھی ڈوب گئے
ظلمتِ دہر میں ماہتاب ابھی ڈوب گئے
(9)
چاندنی ہند و فلسطیں کی کفن پوش ہوئی
بانسری کرشن کنیہا کی بھی خاموش ہوئی
رسمِ سقراط و فلاطوں بھی فراموش ہوئی
گفتگو طور پہ موسیٰ کی بھی شب دوش ہوئی
اے پہ باقی ہے زمانے میں قراں باقی ہے
عرشِ ربی کی فضاؤں میں عیاں باقی ہے

(10)
چاندنی بدھ کے آکاش کی روپوش ہوئی
بانسری کرشن کنہیا کی بھی خاموش ہوئی
رسمِ سقراط و فلاطوں بھی فراموش ہوئی
گفتگو طور پہ موسیٰ کی شبِ دوش ہوئی
تیغِ قراں بھی دلِ دہر میں مستور ہوئی
آنکھ دنیا کی شبِ کفر میں بے نور ہوئی
(11)
اہلِ تثلیث میں افسوس کہ عرفاں نہ رہا
ہندو جاتی میں بھی افسوس کہ دھرماں نہ رہا
قومِ مسلم میں بھی افسوس کہ ایماں نہ رہا
بدھ والوں میں بھی افسوس کہ نرواں نہ رہا
ایشور اللہ بھگواں کا کہیں نام نہیں
دورِ دجال ہے ایماں کا کہیں نام نہیں
(12)
دوشِ ہندو سے لچکتے ہوئے زنار گئے
قلبِ مسلم سے مہکتے ہوئے انوار گئے
قومِ عیسیٰ سے دمکتے ہوئے آثار گئے
بدھ والوں کے لہکتے ہوئے اطوار گئے
قلبِِ آدم سے وہ انوارِ الہیٰ بھی گئے
گنگ و بطحا و کلیسا کے وہ راہی بھی گئے

( 13)
اہلِ تثلیث محبت سے جو بیزار ہوئے
اہلِ توحید بھی فرعوں کے پرستار ہوئے
برھمن لعنتِ مایا میں گرفتار ہوئے
آتما چھوڑ کے کُل جُگ کے طلبگار ہوئے
یہ جہاں غرق ہوا غرقِ مکافات ہوا
آدم ہیہات کہ اس دور میں آمات ہوا
(14)
لفظِ رنگینِ سخنداں میں بھی تلخی آئی
رُخِ خندانِ گلستاں میں بھی تلخی آئی
دلِ بے نورِ مسلماں میں بھی تلخی آئی
دیکھ اس دور کے انساں میں بھی تلخی آئی
یہ جہاں تلخ ہوا تلخ ہمہ دور ہوا
بدل یہ مادہ پرستی کا اسی طور ہوا
(15)
دورِ بیدادئی افرنگ کا فریادی ہے
عجب اندازِ ستم کاری و بیدادی ہے
ھادیِء دور کو ابلیس کی دامادی ہے
وائے جلادی و بے تیغ یہ جلادی ہے
فکر مجبور ہوا تیغ جو موجود نہیں
عقل مستور ہوئی آگ تو ہے دود نہیں

( 16)
آدمی جادوئے افرنگ کی زنجیروں میں
دانش آموزیِ فرہنگ کی زنجیروں میں
میٹھے الحاد کی اس بھنگ کی زنجیروں میں
جھوٹے فردوس کے نیرنگ کی زنجیروں میں
کچھے جاتے ہیں بیابانِ ہلاکت کی طرف
ورطہء ذلت و تذلیل و ہلاکت کی طرف
(17)
آدمی جادوئے افرنگ کی زنجیروں میں
دانش آموزیِ فرہنگ کی زنجیروں میں
میٹھے الحاد کی اس بھنگ کی زنجیروں میں
جھوٹی جنت کے وہ نیرنگ کی زنجیروں میں
کچھے جاتے ہیں بیابانِ فلاکت کی طرف
ورطہء ذلت و تذلیل و ہلاکت کی طرف
(18)
خلق عیار کے دھوکے میں گرفتار ہوئی
جھوٹے دجال کے جادو میں نگوں سار ہوئی
سحرِ کذابِ ستمگر میں جو گُفتار ہوئی
نِشہء حرص کی شدت میں ہوس کار ہوئی
بانورے گرگ ہیں دیوانے ہوئے پھرتے ہیں
لئے کفگیرِ دہاں تانے ہوئے پھرتے ہیں

(19)
عشق فنکار ہُوا ظلمتِ عریانی میں
عشق نادار ہُوا حرص کی ارزانی میں
عشق ناچار ہُوا فسق کی طغیانی میں
عشق بیزار ہُوا حکمتِ زندانی میں
عشق بیزار ہے اس دور کے انسانوں سے
عشق بیمار ہے ان حرص کے عرفانوں سے
(20)
دور فنکار ہُوا مائلِ عریانی ہے
دور بیدار ہُوا مائلِ آسانی ہے
دور نادار ہُوا مائلِ ارزانی ہے
دور ہشیار ہُوا مائلِ نادانی ہے
عجب انداز ہیں اس دور کے ہنگاموں کے
خوب آغاز ہیں اس دور کے انجاموں کے
(21)
دورِ ماضی کے وہ اَ ن پڑھ بھی گَراں ہوتے تھے
اہلِ دل اہلِ خرد اہلِ زباں ہوتے تھے
اہلِ دل اہلِ شرف اہلِ سماں ہوتے تھے
صدقہء صدق میں دانش کی وہ جاں ہوتے تھے
اور اس دور میں پڑھ کر بھی سبکسار ہوئے
باغی و بدظن و آوارہ و عیار ہوئے

(22)
پردہِ رقصِ تمدن میں ہوسکاری دیکھ
اے ہوسکار زمانے کی یہ عیاری دیکھ
رنگِ تہذیب کے پردوں میں یہ مے خواری دیکھ
دیکھ اس دورِ جہاں گرد کی ہشیاری دیکھ
نام ہر عیب کا اس دور میں تشبیہی ہے
کیا ہی انداز یہ اس دور کا تہذیبی ہے
(23)
دہر ہمہ دہر ہے اس دور میں صیہونی ہے
دہر ہمہ دہر ہے اس دور میں افزونی ہے
دہر ہمہ دہر ہے اس دور میں افسونی ہے
دہر ہمہ دہر ہے اس دور میں مجنونی ہے
دیکھ اندھیر کی دنیا میں یہ طغیانی دیکھ
سودا بازی کی زمانے میں یہ جولانی دیکھ
(24)
عہدِ حاضر کے مداری کا تماشائی بن
چشمِ ناظر ہے تو سالوس کی بینائی بن
دستِ شاطر کے کمالات کا شیدائی بن
وائے محرومی کہ محروم کا سودائی بن
یہ مداری ہے کہ ہر چار چوالیس کرے
خاکِ عارف کو یہ لے گردِ سوا لیس کرے

(25)
یہ گلستانیِ بے نکہتِ ایمانی دیکھ
یہ مسلمانیِ بے دینی و ایقانی دیکھ
یہ خُدا دانیِ بے دانشِِ قرانی دیکھ
یہ پریشانیِ افکار کی ارزانی دیکھ
مردہ چشمان و رُخِ زرد کی بے باکی دیکھ
روبہء دورِ جہاں گرد کی چالاکی دیکھ
(26)
خاکدانی کے سہارے یہ جہاندانی دیکھ
خاکرانی کے سہارے یہ جہانرانی دیکھ
خاک بینی کے سہارے یہ جہاں بانی دیکھ
خاک خوانی کے سہارے یہ جہاں خوانی دیکھ
خاکساری کے بہانوں میں جہانگیری دیکھ
اُلٹی گنگا ہے یہ صیادی و نخچیری دیکھ
(27)
پردہِ فلم پہ آ جادوئے ہاروتی دیکھ
چہرہء دور پہ انوار کی ماروتی دیکھ
دیکھ افلاک پہ ظلمات کی لاہوتی دیکھ
اے پری چہرہ یہ فرتوت کی فرتوتی دیکھ
نارِ بے نور کی اس دور میں مستوری دیکھ
نگہء مستور کی اس طور یہ بے نوری دیکھ

(28)
مال روڈوں پہ محامل کی یہ دجالی دیکھ
ناقہء قیس پہ لیلی کی یہ پامالی دیکھ
یہ روانی یہ نزاکت یہ تلالالی دیکھ
شرق والوں کی بھی اس کار میں نقالی دیکھ
دیکھ اس لطفِ رواں کی یہ ہوا کاری دیکھ
پہ مقابل میں یہ بے کاری و ناداری دیکھ
(29)
علم و حکمت کی شعاؤں میں یہ انوار بھی دیکھ
بندے اس دور کے اخلاق سے بیزار بھی دیکھ
علمِ تعمیر کے نشے میں یہ سرشار بھی دیکھ
اور تخریب کے رازوں میں یہ پُرکار بھی دیکھ
گنگا جمنی کا زمانے میں نظارہ دیکھیں
قلبِ دیندار کو دنیا میں دوپارہ دیکھیں
(30)
دیکھ اقرار کے پہلو میں یہ انکار بھی دیکھ
دیکھ انکار کے پہلو میں یہ اقرار بھی دیکھ
عہدِ حاضر کی یہ تخلیق یہ شاہکار بھی دیکھ
دیں کے اظہار کے پردے میں یہ بیزار بھی دیکھ
قلبِ تذویر کو اس دور میں خنداں دیکھیں
اور ابلیس کو انگشتِ بدنداں دیکھیں

(31)
عشقِ بے نار کی سرمستیء بے کیف بھی دیکھ
نارِ بے سود کی شرمستیء بے کیف بھی دیکھ
سوزِ بے نور کی زرمستیء بے کیف بھی دیکھ
دورِ پُر دود کی خرمستیء بے کیف بھی دیکھ
دیکھ اس دور کے بندوں کے کمالات بھی دیکھ
عشقِ بے ناز نرالی ہے یہ کیا بات بھی دیکھ
(32)
دیکھ مخلوق یہ اس دورِ غلطکار کی دیکھ
دیکھ مخلوق یہ اس عصر کے سنسار کی دیکھ
دیکھ مخلوق یہ اس دورِ شرر بار کی دیکھ
اور مخلوق یہ اس دورکِ بیدار کی دیکھ
ارضِ خونخوار پہ حیراں یہ درندے دیکھیں
یہ درندے یہ چرندے یہ پرندے دیکھیں
(33)
غورِ آیات کے پردوں میں شکم بانی دیکھ
دیکھ یک چشمئی دوراں کی یہ نادانی دیکھ
نگہءِ قراں کے پلٹنے میں یہ آسانی دیکھ
اور حیرت سے تخیل کی قریں رانی دیکھ
توڑ کر کشتیء آیات کا لنگر نادان
ہوئے طوفانِ بلاخیز میں شسشدر نادان

(34)
بندے اس دورِ جہاں بیں کے یہ فنکار بھی دیکھ
بندے اس دورِ ثمر چیں کے یہ اغیار بھی دیکھ
بندے اس دورِ سفالیں کے یہ خونخوار بھی دیکھ
ہوں غرض مند تو ہیہات کہ عیار بھی دیکھ
آدمیّت کی یہ ابلیسی و خناسی دیکھ
اُن کی نیّت کی یہ پالیسی و نسناسی دیکھ
(35)
بندے اس دورِ جہاں بیں کے یہ فنکار بھی دیکھ
بے مروت ہیں وفادار نہیں یار بھی دیکھ
گرگِ سفاک بھی ہیں گربہء خونخوار بھی دیکھ
ہوں غرض مند تو ہیہات یہ عیار بھی دیکھ
ابن آدم کی یہ ابلیسی و خناسی دیکھ
مکر پیہم کی یہ پالیسی و نسناسی دیکھ
(36)
دل کی دنیا میں طلسمات کی نیرنگی دیکھ
حیرت انگیر نوادر کی رنگا رنگی دیکھ
حرصِ صد ساز و دو صد رو کی یہ سارنگی دیکھ
چشمِ حیراں سے عجائب کی یہ اژرنگی دیکھ
اے پہ ایماں سے تو خالی یہ دُکاں دیکھیں گے
خالی اس لعلِ بدخشاں سے یہ کاں دیکھیں گے

(37)
بے خبر کون زمانے کی فراوانی سے
نابلد کون زمینوں کی ہے عمرانی سے
ناسمجھ کون مکینوں کی ہے آسانی سے
باخبر ہے بھی کوئی کلفتِ روحانی سے؟
روح برباد ہوئی قلب جو ویرانہ ہُوا
دل کی تسکیں بھی گئی درد کا درماں نہ ہُوا
(38)
دورِ سائنس میں کہیں قلب کی تسکیں نہ رہی
چشمِ خودبیں میں کہیں نگہء خدا بیں نہ رہی
دورِ بے دیں میں کہیں صبر کی تلقیں نہ رہی
دورِ پُر چیں میں جبیں حیف کہ بے چیں نہ رہی
فکرِ دوراں کی دھواں دھار ہوئی سینے میں
لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزا جینے میں
(39)
عقلِ ناداں نے جو انسان کا سر گھیر لیا
علمِ ارزاں نے جو نادان کا گھر گھیر لیا
فکرِ دوراں نے جو دوران کا در گھیر لیا
دردِ درماں نے جو درمان کا بر گھیر لیا
اے شرر پارہء ادراکِ خرد سوز مدد
مدد اے آہِ الم سوزِ جگر دوز مدد

(40)
نشّہء بھنگ میں رقصاں ہے زمانہ سارا
ضربِ بے ننگ پہ رقصاں ہے زمانہ سارا
سازِ افرنگ پہ رقصاں ہے زمانہ سارا
نرمیِ سنگ پہ رقصاں ہے زمانہ سارا
دشت رقصاں ہیں بیابان و کلَب رقصاں ہیں
غوث اس دور کے رقصاں ہیں قُطب رقصاں ہیں
(41)
داستاں ہائے المناکِ جہاں سُنتے ہیں
آہ سنتے ہیں زمانے کی فغاں سُنتے ہیں
شورِ افکار کے پردوں میں بیاں سنتے ہیں
اور جبریلؔ یہ اندازِ نہاں سنتے ہیں
ہر طرف شور ہے آشوب ہے ہنگامہ ہے
شورِ جانکاہِ جہاں کوب ہے ہنگامہ ہے
(42)
ڈھیر گندم کے پہاڑوں سے بلند اور ہوئے
نیشکر دشت کے جھاڑوں سے بلند اور ہوئے
شور ملوں کے بھی دہاڑوں سے بلند اور ہوئے
بَیگ شکر کے کواڑوں سے بلند اور ہوئے
ہاں مگر گاڑ دئے بھوک نے جھنڈے ہر سو
کر دئے رسمِ قناعت نے جو سنڈے ہر سو

(43)
یاد گذرے ہوئے ایام جو آ جاتے ہیں
دل کی خاموش اداسی میں سما جاتے ہیں
شامِ خاموشِ غریباں کو جگا جاتے ہیں
میری غمگین نگاہوں کو رُلا جاتے ہیں
اشک آنکھوں میں نہ ہوتا ہے نہ خوں ہوتا ہے
ایک حیرت کا فلک رنگ سکوں ہوتا ہے
(44)
جگمگاتا ہے جہاں برق کے فانوس جلیں
دل دھواں دھار کہیں گھاس کہیں پھوس جلیں
فکرِ دورانِ جہاں سوزیِ محسوس جلیں
دودِ بے نور کی تلخی میں یہ معکوس جلیں
ماہ و خورشید کی گردوں پہ جو شہراہ پالیں
کاش سینے میں وہ تاریکئیِ دلکاہ پالیں
(45)
کیوں مقفل ہوئے عرفاں کے وہ مے خوانے آج
کیوں مکدر ہوئے ایماں کے وہ پیمانے آج
بے تاثر ہوئے طوفاں کے وہ افسانے آج
اُٹھ گئے دہر سے فاراں کے وہ پروانے آج
ماتمی دور میں آدم کی پریشانی ہے
ماتمی دور ہے ماتم کی فراوانی ہے

(46)
علم اس دورِ قریں گرد کا لاثانی ہے
یہ نہ سرّی ہے نہ قلبی ہے نہ روحانی ہے
یہ الہی ہے فلاحی ہے نہ یزدانی ہے
یہ زمینی ہے زمانی ہے یہ طوفانی ہے
چشمِ شیطاں سے جو یزداں کا نظارہ یہ کرے
ذرہِ خاک کو حیرت ہے کہ پارہ یہ کرے
(47)
دائیں اس دور کی ہر شان میں آنکھ اندھی ہے
روح میں قلب میں اوسان میں آنکھ اندھی ہے
فکر میں ذکر میں عرفان میں آنکھ اندھی ہے
ذوق میں شوق میں ارمان میں آنکھ اندھی ہے
مادہ و مادہ پرستی کا تو ہامان ہے یہ
اے پہ ارواح کی بستی کا تو ناداں ہے یہ
(48)
فکرِ موجد کی بھی تاثیر قریں ہوتی ہے
خلقِ انساں میں مشیں چیں بہ جبیں ہوتی ہے
نگہۂ انساں جو مشینوں سے مہیں ہوتی ہے
آدمیت کی جھلک اُس میں نہیں ہوتی ہے
اخوت اس دورِ مشیں زاد سے کافور ہوئی
خود کفیلی کے تصرف میں بہت دور ہوئی

(49)
بندہ اس دور میں سرکش ہُوا بے باک ہُوا
آسمانوں میں خداوند غضبناک ہُوا
فتنہء دورِ زمیں چسپ طربناک ہوا
فہم و ادراک سے بالا ہوا چالاک ہوا
کشتی عصیاں کی جو لبریز ہوئی غرق ہوئی
سرکشی بڑھ کے تہور کی مثل برق ہوئی
(50)
آ گئی غیرتِ قہار جو جنبش میں کہیں
آ گئی صبر کی تلوار جو جنبش میں کہیں
آ گئی قدرتِِ صبار جو جنبش میں کہیں
آ گئی عرش کی سرکار جو جنبش میں کہیں
آ گئی صبر کی تلوار اگر جنبش میں
گردنیں ہوں گی نہ جنبش میں نہ سر جنبش میں
(51)
بات جبریل کی افلاک و سماوا بھی سنیں
دل کی موجوں میں سسکتے ہوئے دریا بھی سنیں
گلِ رعنا بھی سنیں نرگسِ شہلا بھی سنیں
سینہء ارض پہ تَپ تے ہوئے صحرا بھی سنیں
اے پہ ہیہات کہ اس لفظ کو انساں نہ سنیں
آشکار اس میں ہے جس درد کا درماں نہ سنیں

(52)
آتشِ عشق نے جبریل کو جولانی دی
قلبِ سوزاں کے لئے آتشِ طولانی دی
فکرِ دوراں سے فزوں الفتِ انسانی دی
نوعِ انساں کے لئے اُلفتِ لافانی دی
سجدہء شکر میں جبریل کا سر جھُکتا ہے
اور سائے کی مثل شام و سحر جھُکتا ہے
(53)
مردِ مومن ہے تو سمجھے گا یہ آواز مری
دل کی آواز میں پائے گا تِگ و تاز مری
گفتگو دل کی خموشی میں ہے غماز مری
کوئی سمجھے گا کبھی رمز یہ ہمراز مری؟
چاند نکلے گا جو بدلی سے تو سب دیکھیں گے
میرے مولا کو ہے معلوم وہ کب دیکھیں گے
(54)
تو نے سمجھا ہے کہ مقصود یہی دنیا ہے
قیدِ ہستی میں جو محدود یہی دنیا ہے
شاہدِ عقل کی مشہود یہی دنیا ہے
اور انساں کی بھی معبود یہی دنیا ہے
فانی دنیا ہے یہ اندازِ جہاں فانی ہے
چند گھڑیوں کی یہ دُکھ درد کی مہمانی ہے

(55)
دور ہے مادی ترقی کا مشیں سازی کا
ملکِ قدرت میں جہانگیری و ایازی کا
سِر مادی پہ تصرف کی یہ غمازی کا
جنگِ دو روزِ جہاں گرد میں سر بازی کا
آخرت دور کے بندوں نے بھلا ڈالی ہے
موت کی نیند کہیں دل میں سُلا ڈالی ہے
(56)
دور تعمیرِ جہاں گیرِ زمیں گیر بھی ہے
طور تذویرِ کراں گیرِِ قریں گیر بھی ہے ع

قلِ بے پیرِِ عناں گیرِ کمیں گیر بھی ہے
اور تقدیر کے ہاتھوں میں کہیں تیر بھی ہے
دورِ تعمیرِ غلط گیرِِ غلط میر بھی ہے
اور تدبیر کے پردوں میں یہ تقدیر بھی ہے
(57)
سنکھ و ناقوس و جرس کی بھی صدا ڈوب گئی
اور اذانِ دورس کی بھی صدا ڈوب گئی
ذکرِ شبگیر و عسس کی بھی صدا ڈوب گئی
پند و اسناد و قصص کی بھی صدا ڈوب گئی
خرِ دجالِ جہاں گرد کی فریادوں میں
شورِ دولاب سماں گرد کی فریادوں میں

(58)
دورِ تعمیر ! بھیانک ہیں ادائیں تیری
دورِ تدبیر ! بھیانک ہیں ہوائیں تیری
دورِ تعمیر ! بھیانک ہیں صدائیں تیری
دورِ تذویر ! بھیانک ہیں ندائیں تیری
بین کرتی ہیں چڑیلیں جو سیاہ راتوں میں
ماتمی رات ہے ماتم کی ملاقاتوں میں
(59)
دورِ تعمیر ! بھیانک ہے یہ تصویر تری
دورِ تدبیر ! بھیانک ہے یہ تدبیر تری
دورِ تقصیر ! بھیانک ہے یہ تقصیر تری
دورِ تنویر ! بھیانک ہے یہ تنویر تری
دل بھی سینے میں دھواں دھار سے گھبراتا ہے
یعنی بے نوریء افکار سے گھبراتا ہے
(60)
بھوکی آنکھوں میں جو آثارِ جنوں آئے ہیں
کس کی راہوں سے کہاں تجھ کو کہوں آئے ہیں
کس کے جادو سے کہوں بن کے فسوں آئے ہیں
کس کے ہاتھوں سے یہاں بن کے فنوں آئے ہیں
دیکھ بندوں کو قیامت کی سزا ملتی ہے
یعنی اثباتِ ندامت کی سزا ملتی ہے

(61)
دورِ تعمیر و ترقی کی جواں سالی ہے
ہر طرف دورِ مشیں گر میں جو خوشحالی ہے
گنجِ خوشحالی و گنجینہء دجالی ہے
اور معیار بھی اس دورِ تمدن کا بہت عالی ہے
چشمہء خضر کی ہیہات یہ نقالی ہے
ہے تو ظلمات یہ پانی سے مگر خالی ہے
(62)
مادہ و مادہ پرستی کی یہ مدہوشی دیکھ
روح و عرفان و قیامت کی فراموشی دیکھ
خاک نوشی میں دخاں پوشی و سر جوشی دیکھ
بندہِء دورِ فسوں گر کی غلط کوشی دیکھ
آگ اُٹھتی ہے یہ فردوس کی شاہراہوں سے
ہم نوائی ہے جہنم کی گذرگاہوں سے
(63)
ہائے بے درد یہ قزاقِ جہانگیر بھی ہے
شعلہء خنجرِ بُراقِ رواں گیر بھی ہے
ظلم دوار یہ چقماق فساں گیر بھی ہے
اور بیدرد یہ رزاقِ نہاں گیر بھی ہے
کِھلکھلاتا ہے فسوں بانٹ کے بازاروں میں
چوس لیتا ہے یہ خوں بانٹ کے ناداروں میں

(64)
صید عیاریء افرنگ غلط گرد ہوا
مرضِ مادہ پرستی میں وہ دل سرد ہوا
دورِ اغراض کی پستی میں وہ بیدرد ہوا
اور عرفاں کی جُدائی میں وہ روزرد ہوا
خاک نوشی میں یہ سر مستی و سرشاری دیکھ
چاک پوشی میں یہ زر مستی و ہشیاری دیکھ
(65)
دیکھ دوزخ کی شعاؤں میں جہاں رقصاں ہے
ہائے بدبخت یہ کیا نوحہ کُناں رقصاں ہے
خورد رقصاں ہے زمانے میں کلاں رقصاں ہے
شورِ محشر کی نواؤں میں رواں رقصاں ہے
رقصِ تہذیبِ دروں سرد کی خوں جوشی میں
مضطرب دانت لپکتے ہوئے مدہوشی میں
(66)
عصرِ ایماں کے مہکتے ہوئے گلزار کہاں
قصرِ عرفاں کے لہکتے ہوئے انوار کہاں
بصرِ ایقاں کے جھلکتے ہوئے اسرار کہاں
نصرِ یزداں کے دمکتے ہوئے آثار کہاں
دور بے آب لپکتے ہوئے شراروں میں
دورِ بے تاب د ہکتے ہوئے انگاروں میں

(67)
نطقِ طوطی میں پپیہا کی پکاریں بھی وہی
نقشِ گیتی میں تخیل کی بہاریں بھی وہی
سازِ ہستی میں ترنم کی ستاریں بھی وہی
ابرِ سرِ مستِی ء بہاراں کی قطاریں بھی وہی
تو ہی بدلا ہے کچھ اس طور کہ دنیا بدلی
قیس بدلا ہے کچھ اس طور کہ لیلی بدلی
(68)
دیوِ سائنس کی زمانے میں جو تسخیر کریں
ماہ و انجم کو کمندوں میں جو نخچیر کریں
ضوئے قراں سے خلاصی کی جو تدبیر کریں
ارضِ مولا میں سنا برق سے جو تنویر کریں
تھے جو تسخیر کے خواہاں سو وہ تسخیر ہوئے
اپنے جالوں میں ہی تن تن کے وہ نخچیر ہوئے
(69)
کیا ہوئے آج وہ اسلام کے لکھنے والے
نورِ آغاز میں انجام کے لکھنے والے
دورِ فرخندہ و فرجام کے لکھنے والے
نورِ خورشیدِ قراں فام کے لکھنے والے
قلبِ بطحا میں رگِ شام کے لکھنے والے
ہائے شاہنامہء اسلام کے لکھنے والے

(70)
مردِ آگاہِ خدا بیں کی ید اللہی ہے
نہ زمانے میں کہیں آہِ سحر گاہی ہے
عشقِ سوزاں میں کہیں دل کی شہنشاہی ہے
فکرِ دوراں ہے غمِ رزق و جگر کاہی ہے
جلوہِ طور پہ اب رسمِ کلیمی نہ رہی
دورِ حاضر میں رہ و رسمِ قدیمی نہ رہی
(71)
چشمِ انساں نے جو فردوسِ جناں سمجھا ہے
عقلِ ناداں نے جو گلشن کا سماں سمجھا ہے
قلبِ حیراں نے جو فردوسِ رواں سمجھا ہے
دورِ پراں کو جو گلزارِ دواں سمجھا ہے
وہ جہنم ہے جو افرنگ نے بھڑکایا ہے
چشم ناداں میں یہ نیرنگ نے بھڑکایاہے
(72)
شورِ فریادِ فلک دوز یہ کیا اُٹھا ہے
رنجِ بیدادِ جگر سوز یہ کیا اُٹھا ہے
فتنہء دورکِ بد روز یہ کیا اُٹھا ہے
وائے بربادیِ فیروز یہ کیا اُٹھا ہے
اک قیامت ہے کہ آتی ہے پہ آتی بھی نہیں
موت کی نیند زمانے کو سلاتی بھی نہیں

(73)
دیکھ طوفانِ جہاں گرد یہ کیا اُٹھا ہے
قلبِ تاریک و رُخِ زرد یہ کیا اُٹھا ہے
چشمِ مخمور و دلِ سرد یہ کیا اُٹھا ہے
دور ہمدردیِ بے درد یہ کیا اُٹھا ہے
فکرِ دونِبین فسوں گرد کی جولانی میں
سائنس آتی ہے نئے درد کی طغیانی میں
(74 )
آہ انساں کے بھی اس دور میں پَر نکلے ہیں
سوئے افلاک وہ کرنے کو سفر نکلے ہیں
شوخ و بیباک بہ تسخیرِ قمر نکلے ہیں
ڈھونڈھنے چاند کی آغوش میں زر نکلے ہیں
ان کے باطن میں کوئی کِرم ھوس جاگ اُ ٹھے
آسمانوں کی حفاظت کا عسس جاگ اُٹھے
(75 )
آہ انساں کے بھی اس دور میں پَر نکلے ہیں
سوئے افلاک وہ کرنے کو سفر نکلے ہیں
شوخ و بیباک بہ تسخیرِ قمر نکلے ہیں
ڈھونڈھنے چاند کی آغوش میں زر نکلے ہیں

مرگِ لازم کا یہ بد فال نکلنا وائے
مورِ مسکیں کے پرو بال نکلنا وائے

(76)
خاکی انساں کا نئے دور میں بادی ہونا
قلبِ مظلوم و پریشاں کا فسادی ہونا
فکرِ دوراں و غمِ دور کا عادی ہونا
وائے انساں کی طبیعت کا رمادی ہونا
خاکی آدم کا نئے دور میں ناری ہونا
سوز و تسکین و غم و درد سے عاری ہونا
(77)
غم نہ اس دور میں غم اور نہ شادی شادی
تُرشی اس دور میں تُرشی ہے نہ بادی بادی
عرفی اس دور میں عُرفی ہے نہ سعدی سعدی
ٍٍٍعادی اس دور میں عادی ہے نہ ہادی ہادی
عرش و آفاق و سموات و منادر مادی
عینک کے نظاروں میں نوادر مادی
(78)
دود ہے دُود نہ اس دور میں پانی پانی
رانا اس دور میں رانا ہے نہ رانی رانی
باقی اس دور میں باقی ہے نہ فانی فانی
فانی اس دور میں فانی ہے نہ آنی جانی
دن نکلتا ہے جو اس دور میں رات آتی ہے
شورِ ماتم کی صداؤں میں برات آتی ہے

(79)
ہائے افسوس کہ اس دور میں غم غم بھی نہیں
دردِ ہجراں میں کہیں گریہء پیہم بھی نہیں
چشمِ دوراں میں کہیں اشک کا انجم بھی نہیں
اور اس دور میں اک دیدہء پُرنم بھی نہیں
فکر انساں کی جو ہمدردِ پریشانی ہے
غم نہ اس دور کی آنکھوں میں نہ شادانی ہے
(80)
کاغذی دور ہے کاغذ کی فراوانی ہے
دورِ کاغذ میں جہاں عارضِ سیلانی ہے
کاغذی عشق میں ہر حرص کی آسانی ہے
کاغذی حرص میں ہر نفس کی جولانی ہے
کاغذی دام تو ہیں کاغذی بادام نہیں
کاغذی کام تو ہیں کاغذی انجام نہیں
(81)
پیکرِ حسن ہیں بت خانہء سائنس کے نگار
دل بھی اس دور کے بندوں کے ہُوا اُن پہ نثار
وائے ان خاکی نژادوں کی نگاہوں کا خمار
اور ان ارضی نہادوں کے تبسم کی بہار
خاک ہے خاک سے اُ ٹھتی ہے یہ خاک ہونے کو
غارِ بے یار یہ لٹتی ہے مغاک ہونے کو

(82)
تھا وہ کیا دور وہی دور جو اسلامی تھا
نغمہ خواں جس کی بہاروں میں لبِ جامی تھا
قلبِ بطحا کی خلاؤں میں لہو شامی تھا
صبحِ فاراں میں سماں رومی و بسطامی تھا
تھا مدینے کی ہواؤں میں جہاں مولا کا
نور افشاں تھا فضاؤں میں جہاں مولا کا
(83)
رنگ اسلام کی دنیا کا جو بطحائی تھا
روپ فاراں کی تجلی کا جو طوبائی تھا
یہ جہاں نگہتِ اسلام کا شیدائی تھا
خود خدا گنبدِ خضرا کا تماشائی تھا
دل کی دنیا میں مدینے سے نسیم آتی تھی
گلشنِ کوئے محمد ﷺ سے شمیم آتی تھی
(84)
تیری دنیا سے وہ عرفاں کی بہاریں بھی گئیں
باغِ باطن سے وہ کوئل کی پکاریں بھی گئیں
قلبِ آدم سے تخیّل کی ستاریں بھی گئیں
سازِ ھستی سے تصور کی وہ تاریں بھی گئیں
آدمی عقلِ فسوں گرد کا دیوانہ ہوا
باطن اس دورِ دروں سرد کا ویرانہ ہوا

(85)
عہدِ حا ضر میں کہیں درد و غم و سوز بھی ہے
اشک لرزاں ہے کہیں آہِ جگر دوز بھی ہے
چشمِ پُر نم ہے کہیں نالہء فیروز بھی ہے
دل کی دنیا کے اندھیرے میں کہیں روز بھی ہے
پیٹ پوجا کے تقاضوں میں ہوسکاری ہے
بندہ اس دور میں بس حرص کا زناری ہے
(86)
تو نہ سمجھے گا اگر عشق کا نخچیر نہیں
نورِ عرفاں سے ترے دل میں جو تنویر نہیں
اصلِ انساں کی تِرے دل میں جو تصویر نہیں
دارِ عقبی کی ترے دل میں جو توقیر نہیں
یہ سعادت ہے کہ منتِ کشِ تقدیر یہ ہے
لطفِ ربی ہے فقط کسب نہ تدبیر یہ ہے
(87)
دور نازاں ہے ترقی پہ جواں سالی پہ
عصر رقصاں ہے نئے فتنہء دجالی پہ
دہر فرحاں ہے نئے دور کی خوشحالی پہ
قلب گریاں ہے ادھر روح کی پامالی پہ
کاہ و گندم کی فزوں بالی و شادابی میں
روحِ بریاں ہے نئے عصر کی بے تابی میں

(88)
تیرے اس دور سے عرفاں کی بہاریں بھی گئیں
گلشنِ دہر سے کوئل کی پکاریں بھی گئیں
صبحِ نو روز سے سرسبز پھواریں بھی گئیں
چاندنی رات کی خاموش وہ تاریں بھی گئیں
سر پریشاں ہیں جو اس عصر کی تاریکی میں
نالے بلبل کے ہیں تبدیل فقط ‘کی کی‘ میں
(89)
سِر عرفانی و نے عارفِ حقانی ہے
دورِ حاضر میں جنوں عقل کا زندانی ہے
قیرگوں فکرِ جہاں گرد کی طغیانی ہے
اور فقدان ہے دنیا میں تو روحانی ہے
جسمِ بے روح کا زمانے میں ہے چلنا مُشکل
ایک پیہے میں ہے گاڑی کا سنبھلنا مشکل
(90)
دورِ مادی کے تصور کی جنوں خیزی میں
علمِ دجالیِ اعور کی فسوں خیزی میں
فکر دل گیر فسوں گر کی فنوں خیزی میں
عقلِ پامالِ جہاں گرد کی خونریزی میں
دہر روشن ہے جہنم کی ضیا پاشی میں
فکر رقصاں ہے نئی نار کی فحاشی میں

(91)
تپِ ھذیانیِ سرسام ہے بے چینی ہے
نسخہء عقل بھی ناکام ہے بے چینی ہے
تلخیِ زہرِ سیاہ فام ہے بے چینی ہے
سامنے موت کا پیغام ہے بے چینی ہے
دورِ باغی کے یہ سر سامِ دماغی افسوس
فکرِ طاغی کے ہیں اقدام یہ باغی افسوس
(92)
اے خدا بھیج وہ اس دور میں بندے اپنے
کاٹ دیں زورِ کرامت سے جو پھندے اپنے
پھیر دیں زورِ کرامت سے وہ مندے اپنے
کر سکیں پاک جو اس دور میں دھندے اپنے
توڑ اس فتنہء دل سرد کو غرقاب کریں
تیری دنیا کو ترے نام سے شآداب کریں
(93)
آج اس دور میں بلبل کے ترانے بھی عجب
چشمِ شاعر میں تخیل یہ سہانے بھی عجب
ساز دنیا پہ پپیہے کے فسانے بھی عجب
اے فلم ساز یہ دُ کھ درد کے گانے بھی عجب
دورِ محشر میں قیامت کا یہ کہرام سنیں
اپنے باطن میں سسکتا ہوا پیغام سنیں

(94)
کیا حسیں سانپ ہیں اس دور کے بازاروں میں
فتنہ بیں سانپ ہیں اس دور کے میناروں میں
خاک چیں سانپ ہیں اس دور کی دیواروں میں
سانپ ہی سانپ ہیں اس دور کی اقداروں میں
بینِ افرنگ پہ سب جھوم کے سرمست ہوئے
زیر مستی کے ترنم میں زبر مست ہوئے
(95)
مارِ سیمابئی مسحور ہیں بل کھاتے ہیں
نگہہِ مفتوں میں لچکتے ہیں یہ لہراتے ہیں
پیچ کھاتے ہیں سمٹتے ہیں یہ تھراتے ہیں
دل کی مسحور نگاہوں کو یہ سہلاتے ہیں
سیمیا گر کی نگاہوں کی یہ نیرنگی دیکھ
چشم بندی کی طلسمات یہ افرنگی دیکھ
(96)
دورِ تیرہ میں کہیں رسمِ وفا بھی نہ رہی
فقر و درویشی و عرفاں کی غنا بھی نہ رہی
راہِ الفت بھی گئی رسمِ حیا بھی نہ رہی
دردِ انساں کی زمانے میں دوا بھی نہ رہی
آدمی مادہ پرستار ہوئے پھرتے ہیں
تپِِ دوراں میں وہ ناچار ہوئے پھرتے ہیں

(97)
جھوٹ ہی جھوٹ کا چرچا کہ نئے دور میں ہے
جھوٹ کابل میں سمرقند میں ہے غور میں ہے
جھوٹ لندن میں ہے برلن میں سمن تور میں ہے
جھوٹ دلی میں بخارا میں ہے بجنور میں ہے
جھوٹی دنیا کی نگاہوں میں ہوا جھوٹ کی ہے
جھوٹے اس دور کی آہوں میں ہوا جھوٹ کی ہے
(98)
صدق اس دور میں باقی نہ صفا باقی ہے
جُود اس دور میں باقی نہ سخا باقی ہے
شرم اس دور میں باقی نہ حیا باقی ہے
درد اس دور میں باقی نہ دوا باقی ہے
مکر باقی ہے زمانے میں ریا باقی ہے
جَور باقی ہے زمانے میں جفا باقی ہے
(99)
علم و دانش کی زمانے میں فراوانی ہے
دانش اس دور میں دانش نہیں نادانی ہے
آدمی عقلِ غلط بیں کا جو زندانی ہے
فکر ناقص ہے جہنم ہے شکم بانی ہے
چند اوراقِ پریشاں میں پریشاں ہونا
بسکہ آساں ہے نئے دور میں انساں ہونا

(100)
دورِ حاضر کی ترقی پہ زمیں روتی ہے
آدمیت بھی کہیں چیں بہ جبیں روتی ہے
سُن کہیں دور کہیں دور کہیں روتی ہے
قلبِ خونناب کی موجوں میں حزیں روتی ہے
تو بھی سنتا ہے یہ کہرامِِ جگر سوز کہیں ؟
شورِ دلدوزِ جگر دوز جہاں دوز کہیں؟
(101)
آدم اس دور میں خود مست و شکم مست ہُوا
عشق حقانیِ بے غم میں نہ غم مست ہُوا
ہائے زنجیریِ تن من میں نہ رَم مست ہُوا
زیر مستی کے ترنم میں نہ بم مست ہوا
کھو گیا دورِ مہیں سر کی ازم مستی میں
سو گیا دورِ مشیں گر کی شکم مستی میں
(102)
آج دنیا میں بڑائی ہے تو دجال کی ہے
آج دنیا میں بُرائی ہے تو دجال کی ہے
آج دنیا میں خدائی ہے تو دجال کی ہے
آج دنیا میں دہائی ہے تو دجال کی ہے
دندناتا ہُوا دراتا ہُوا پھرتا ہے
اور واعظ ہے کہ کتراتا ہوُا پھرتا ہے

(103)
آج دنیا میں جو ذلت ہے تو نادار کی ہے
آج دنیا میں جو عزت ہے تو فُجار کی ہے
آج دنیا میں جو وقعت ہے تو اشرار کی ہے
اور ناگفتنی حالت ہے تو ابرار کی ہے
دور باغی ہُوا طاغی ہُوا غدار ہُوا
بندہ اس دور میں اللہ کا ناچار ہُوا
(104)
آج دنیا نے جو دولت کو خدا مان لیا
اپنے ہر عقدہء مشکل کا کشا مان لیا
یعنی ہر درد کا درمان و دوا مان لیا
اے تعزُ و تُذلُ من تشا مان لیا
دیکھ اس دور کی دنیا کی کراماتیں دیکھ
دیکھ اس دور کی لیلی کی نئی باتیں دیکھ
(105)
دیویئے تیری خدائی کا جو پرچار ہُوا
ہر کوئی تری پرستش کا طلب گار ہُوا
دہرِ دوں تیری تجلی کا پرستار ہُوا
اور بھگوان کی ہستی کا تو انکار ہُوا
لکشمی دیویئے دنیا میں خدائی تیری
جے ہو جے دیویئے ہے آج بڑائی تیری

(106)
گرچہ ہر دور میں آدم کی تو محبوب رہی
گرچہ ہر دور میں آدم کی تو مطلوب رہی
گرچہ ہر دور میں آدم کو تو مرغوب رہی
پر تُو در پردہء دلِ انس میں معتوب رہی
مل گیا آج پہ دولت کو خدائی کا مقام
دستِ دولت میں رہی آج خدائی کی زمام
(107)
واعظا پند ہے اس عصر میں بیکار تری
کُند اس دور کے سینے پہ ہے تلوار تری
ناتواں ہاتھ میں شمشیرِِ گراں بار تری
عَبَث اس دورِ دروں سرد میں پیکار تری
تو نے سالوس کی سمجھی ہی نہیں چال ابھی
تو نے آنکھوں سے اُ ٹھایا ہی نہیں جال ابھی
(108)
پردہِ نور میں اس ظلمتِ مکنوں کی قسم
جلوہء طُور میں اس حکمتِ ملعوں کی قسم
دیدہء کُور میں اس ندرتِ افسوں کی قسم
چشمِ ناطور میں اس غفلتِ گلگوں کی قسم
اک پہیلی ہے معمہ ہے کہ جنجال ہے یہ
یہ پہیلی ہے معمہ ہے کہ دجال ہے یہ

(109)
چشمِ شیطاں سے وہ یزداں کا نظارہ جو کریں
عکسِ ایماں کو وہ تحقیق سے خارا جو کریں
روحِ ایماں کو وہ ترمیم سے پارہ جو کریں
قلبِ انساں کو وہ تعلیم سے تارا جو کریں
یہی بد بخت ہیں دجال کے مارے ہیں یہی
ماہِ تاریک ہیں بے نور ستارے ہیں یہی
(110)
قلبِ مومن کی ہوں قندیل کہ جھوٹوں سے نہیں
سِرباطن کی ہوں ترتیل کہ جھوٹوں سے نہیں
حق و باطل کی ہوں تفصیل کہ جھوٹوں سے نہیں
صدقِ صادق کا ہوں جبریل کہ جھوٹوں سے نہیں
تُو ہو مومن تو مدینے میں ہو آواز تیری
حدِ جبریل سے بالا ہو تِگ و تاز تری
(111)
یوسفِ جبریل ہوں عاشقِ قرآں ہوں میں
سوزِ ِ قندیل جہاں تابئی دوراں ہوں میں
ابنِ حیدر ہوں قطب شاہؒ کا اعوان ہوں میں
اور اس دور میں اللہ کا مسلماں ہوں میں
جُرہ دریائے محمد ﷺ سے جو اک نوش کیا
دور و ادوار کو مستی میں فراموش کیا

(112)
حرمتِ خونِ شہیداں کی قسم کھاتا ہوں
عسرتِ چاکِ گریباں کی قسم کھاتا ہوں
تربتِ گورِ غریباں کی قسم کھاتا ہوں
ظلمتِ تیرہ نصیباں کی قسم کھاتا ہوں
آدمیت کی رگ جاں پہ چھری دور کی ہے
انتہا آج زمانے میں نئے جَور کی ہے
(113)
آدمیت کی رگِ جاں پہ یہ نشتر کیسے
آدمیت کے کلیجے میں یہ خنجر کیسے
آدمیت کی نگاہوں میں یہ اخگر کیسے
آدمیت کے ٹھکانوں میں یہ اژدر کیسے
آزمائے ہیں کلیجوں پہ یہ خنجر کس نے
پھونک ڈالے ہیں یہ تہذیب کے پیکر کس نے
(114)
آدمیت کے جنازے پہ وہ روتے بھی نہیں
وائے مغموم وہ اس مرگ پہ ہوتے بھی نہیں
دامن اشکوں سے وہ اس رنج میں دھوتے بھی نہیں
ہار اشکوں کے وہ اس غم میں پروتے بھی نہیں
سینہ اس مرگِ المناک پہ ہم پیٹیں گے
تادمِ زیست ندامت میں یہ غم پیٹیں گے

(115)
آدمیت کو وہ تقصیر سمجھ بیٹھے ہیں
پائے انساں میں وہ زنجیر سمجھ بیٹھے ہیں
عہد و پیماں کو وہ تذویر سمجھ بیٹھے ہیں
خوابِ باطل کو وہ تعبیر سمجھ بیٹھے ہیں
آدمیت کو وہ تذویر سمجھ بیٹھے ہیں
وہمِ باطل کی وہ تفسیر سمجھ بیٹھے ہیں
(116)
شمعِ مسجد کی شعاؤں سے وہ انوار گئے
نورِ عرفاں کی تجلی کے طلبگار گئے
سعدیؒ اس دور سے راہی ہوئے عطارؒ گئے
تھی وہ مولا کی جنہیں حسرتِ دیدار گئے
اب ستوں مسجدِ ویراں کا کھڑا روتا ہے
اور قراں کا عَلَمدار پڑا سوتا ہے
(117)
روح بے سوز بھی ہے قلب کفن پوش بھی ہے
فکرِ فردا کے فسانے میں غمِ دوش بھی ہے
فکرِ دوراں میں مری قوم یہ مدہوش بھی ہے
دورِ حاضر کے فسانے کا ہمیں ہوش بھی ہے
کون سمجھے گا زمانے میں دو رنگی اپنی
ہائے افسوس عجب راز ہے تننگی اپنی

(118)
روح بے سوز بھی ہے قلب کفن پوش بھی ہے
فکرِ فردا کے فسانے میں غمِ دوش بھی ہے
فکرِ دوراں میں مری قوم یہ مدہوش بھی ہے
فکر مرنے کی تو جینے کا ہمیں ہوش بھی ہے
کون سمجھے گا زمانے میں دو رنگی اپنی
ہائے افسوس عجب راز ہے تننگی اپنی
(119)
کس کو معلوم ہے دنیا میں کہ مغموم ہیں ہم
نگہء دنیا میں تو ممکن ہے کہ معدوم ہیں ہم
اپنے مولا کی عنائت سے بھی محروم ہیں ہم
ایک ہم ہیں کہ نئے دور میں مظلوم ہیں ہم
دیں سے نومید ہیں دنیا میں بھی ناکام پھریں
ساری دنیا کی چراغاں میں تہی جام پھریں
(120)
کارواں سیلِ خرافاتی و منزل خالی
دوستاں ترکِ موالاتی و محفل خالی
پاسباں ننگِ خرافاتی و محمل خالی
کون سمجھے گا زمانے میں یہ مشکل خالی
اپنی حیرت پہ زمانے کو بھی حیرانی ہے
اپنے ویرانہ ءِ دل کی یہ ویرانی ہے

(121)
موت توڑے گی نئے دور کی مستی کے ایاغ
موت توڑے گی نئی مادہ پرستی کے ایاغ
موت توڑے گی نئے دور کی ہستی کے ایاغ
موت توڑے گی نئے دور کی بستی کے ایاغ
موت اُ ترے گی بغاوت پہ تو دھر اُ ٹھے گا
دور باطل کی تباہی پہ یہ قہر اٹھے گا
(122)
خیبر اس دور کا سر ہو تو ید الہیٰ سے
خاک ہو دور بسر آہِ سحر گاہی سے
فتنہ نابود ہو مومن کی جگر کاہی سے
پھر ہو تنویر محمد ﷺ کی شہنشاہی سے
مومن اس دور کے پروانے جو بن بن کے جلیں
دیپک آفاق میں تب جا کے کہیں من کے جلیں
(123)
خیبر اس دور کا سر ہو تو ید الہیٰ سے
جھوٹ ہو خاک بسر آہِ سحر گاہی سے
ظلمتیں دور ہوں مومن کی جگر کاہی سے
پھر ہو تنویر محمد ﷺ کی شہنشاہی سے
پھر چراغاں ہو زمانے میں مسلمانوں کی
پھر اذانیں ہوں زمانے میں ہدی خوانوں کی

(124)
پھونک دے ناقورِ فلک دوزِ جہاں لرز کہ اب
پھونک دے صورِ فلک دوزِ سماں لرز کہ اب
پھونک دے صورِ فلک دوزِ دخاں لرز کہ اب
پھونک دے صورِ عیاں لرزِ نہاں لرز کہ اب
غرق اس فتنہء سالوسِ جہاں گرد کو کر
غرق اس خاکِ پرست اعورِ رو زرد کو کر
(125)
پھونک ناقورِ فلک دوزِ جہاں لرز کہ اب
پھونک دے صورِ فلک دوزِ سماں لرز کہ اب
پھونک دے صورِ فلک دوزِ دخاں لرز کہ اب
پھونک دے صورِ عیاں لرزِ نہاں لرز کہ اب
کفر ویراں کے ٹھکانوں میں بپا حشر کریں
حرف قراں کی زبانوں میں خدا نشر کریں
(126)
غرق اس علمِ جبیں سوزی دل سرد کو کر
غرق اس حلمِ مروت کش بیدرد کو کر
غرق اس الحاد موجد گرد دجال کو کر
للہ اس دور جہاں گرد کے جنجال کو کر
دستِ غیبی سے میرے قلب پہ مرقوم ہوا
نام الحاد کا نئے دور میں معدوم ہوا

(127)
غرق اس فتنہِ سالوسِ جہاں گرد کو کر
غرق اس خاکِ پرست اعورِ روزرد کو کر
غرق اس تیرہ دروں ظلمتِ دل سرد کو کر
غرق اس پند جنوں حکمت بے درد کو کر
غرق اس ظلم جہاں گیر جہاں سوز کو کر
غرق اس ظلم نہاں تیر عیاں سوز کو کر
(128)
تیغِ اقبالؒ بھی ہے نیزہء جبریل بھی ہے
زلزلہء حشر بھی ہے صورِ سرافیل بھی ہے
مرگِ دوار بھی ہے موت کی زنبیل بھی ہے
اور مشکل ہے مقابل میں عزازیل بھی ہے
نعرہ جبریل نے مارا ہے زمیں ہلتی ہے
چشم گردوں کی جھپکتی ہے جبیں ہلتی ہے
(129)
دستِ غیبی سے مرے قلب پہ مرقوم ہوا
نام باطل کا نئے عصر میں معدوم ہوا
محو اس دور سے الحاد کا جو مفہوم ہوا
آشیاں زاغ کا اب مسکن صد بوم ہوا
عشق و عرفاں کی زمانے میں فراوانی ہو
اور شاہیں کی سموات میں سلطانی ہو

(130)
دستِ غیبی سے مرے قلب پہ مرقوم ہوا
نام باطل کا نئے عصر میں معدوم ہوا
محو اس دور سے الحاد کا جو مفہوم ہوا
امرِ ربی سے کہیں مسکن صد بوم ہوا
عشق و عرفاں کی زمانے میں ہوا آتی ہے
صبح ایماں میں مدینے سے صبا آتی ہے
(131)
شور اٹھا ہے زمانے میں قیامت آئی
ابنِ آدم کی جو اس دور میں شامت آئی
حیف اے وائے ندامت کہ ندامت آئی
اپنے اعمال کے بدلوں میں ملامت آئی
اپنی کرنی ہے کہ انساں پہ تباہی آئی
اس نے افسوس کہ جو چیز نہ چاہی آئی
(132)
شور اٹھا ہے زمانے میں قیامت آئی
ابنِ آدم کی جو اس دور میں شامت آئی
درگہہ ذاتِ الہی سے ملامت آئی
ہائے اس دور کی قسمت میں ندامت آئی
اپنی کرنی ہے کہ انساں پہ تباہی آئی
اس نے افسوس کہ جو چیز نہ چاہی آئی

(133)
دیکھ دنیا کی فضاؤں میں دھواں اٹھا ہے
سوئے افلاک یہ کیا نوحہ کناں اٹھا ہے
سینہ ء دہر پہ مانندِ فغاں اٹھا ہے
تو یہ کہتا ہے تعجب سے کہاں اٹھا ہے
چمنیاں دور دخاں ریز کی دیکھی نہ گئیں
بھٹیاں دار دخاں خیز کی دیکھی نہ گئیں
(134)
پی کے حقے کا دھواں قلب کی تسکیں جو کریں
کھا کے انجن کا دخاں درد کو رنگیں جو کریں
دے کے بھٹی کا دھواں خشت کو سنگیں جو کریں
روئے خورشید کو اندھیر سے پرچیں جو کریں
وہ زمانے میں دخاں آج مبیں دیکھ سکیں
ہے یہ ممکن کہ دھواں آج کہیں دیکھ سکیں
(135)
پی کے حقے کا دھواں قلب کی تسکیں جو کریں
کھا کے انجن کا دخاں درد کو رنگیں جو کریں
ذکرِ ایماں پہ جبیں ترش وہ پرچیں جو کریں
کالے الحاد سے سیاہ قلبہء حق بیں جو کریں
وہ زمانے میں دخاں آج مبیں دیکھ سکیں
ہائے افسوس دھواں آج کہیں دیکھ سکیں

(136)
کارواں سیلِ خرافاتی و منزل خالی
دوستاں ترکِ موالاتی و محفل خالی
پاسباں ننگِ خرافاتی و محمل خالی
کون سمجھے گا زمانے میں یہ مشکل خالی
اپنے ویرانہ دل کی بھی یہ ویرانی دیکھ
اپنی حیرت پہ زمانے کی بھی حیرانی دیکھ
(137)
آگ سائنس نے زمانے میں لگا ڈالی ہے
دل کی تسکیں بھی زمانے میں بجھا ڈالی ہے
گلخنِ حرص بھی مخلوقِ خدا پہ لا ڈالی ہے
اور بھگوان کی دھرتی بھی جلا ڈالی ہے
کون اس آتشِ نمرود کو اب سرد کرے
آہ مومن ہے کہ اس نار کو پھر برد کرے
(138)
آگ سائنس نے زمانے میں لگا ڈالی ہے
دل کی تسکیں بھی زمانے میں بجھا ڈالی ہے
گللخنِ حرص میں مخلوقِ خدا ڈالی ہے
اے جلا ڈالی ہے خدائی یہ جلا ڈالی ہے
کون اس آتشِ نمرود کو پھر سرد کرے
اشکِ خونیں سے نئی آگ کو پھر برد کرے

(139)
بندے بندے میں جو سرگرمی ءِ پیکار ہے آج
آدمی زہر میں بجھی ہوئی تلوار ہے آج
باپ بیٹے میں بھی ہر بات پہ تکرار ہے آج
بڑھ کے چیتے سے کہیں آدمی خونخوار ہے آج
سانپ ہیں سانپ یہ جھنجھلائے ہوئے پھرتے ہیں
تلخی زہر میں بل کھائے ہوئے پھرتے ہیں
(140)
بندے بندے میں جو سرگرمی ءِ پیکار ہے آج
آدمی زہر میں بجھی ہوئی تلوار ہے آج
نگہء انسانِ جفا دوست یہ کیا نار ہے آج
بڑھ کے چیتے سے کہیں آدمی خونخوار ہے آج
سانپ ہیں سانپ یہ جھنجھلائے ہوئے پھرتے ہیں
تلخی زہر میں بل کھائے ہوئے پھرتے ہیں
(141)
جو غریبوں کا لہو پی کے جواں ہوتے ہیں
ناز و غمزہ میں وہ کیا رشک بتاں ہوتے ہیں
قصرو گلشن میں تو جنت کا سماں ہوتے ہیں
حسن ظاہر میں مگر زخم نہاں ہوتے ہیں
دل میں پھٹکار برستی ہے شکم ہستے ہیں
اژدھے دل کی خلاؤں میں کئی بستے ہیں

(142)
خار بن بن کے لپٹتے ہیں خزانے تیرے
نار بن بن کے لپٹتے ہیں ترانے تیرے
ہار بن بن کے لپٹتے ہیں فسانے تیرے
یار بن بن کے لپٹتے ہیں پرانے تیرے
آب سوزاں کے یہ ذرے ہیں خنک اوس نہیں
یہ جہنم کے ٹھکانے ہیں یہ فردوس نہیں
(143)
اے غریبوں کا لہو شوق سے پینے والے
اے غریبوں کا جگر چیر کے سینے والے
اے غریبوں کی کمر توڑ کے جینے والے
فانی دنیا میں دفینے پہ دفینے والے
اگلی دنیا کے ٹھکانے کا بھی کچھ زاد کرو
سفر اس منزل آخر کا بھی کچھ یاد کرو
(144)
آج دولت کی زمانہ میں شہنشاہی ہے
منفعت نیم شبی سودِ سحر گاہی ہے
حاتمی جود ہے نے شوکتِ جمجاہی ہے
بخت قاروں کا بیاباں ہے جگر کاہی ہے
اور اس راہ میں سنتے ہیں کہ گرداب بھی ہیں
اور سنتے ہیں لپکنے کو وہ بے تاب بھی ہیں

(145)
آج دنیا کی تجارت میں خسارہ نہ رہا
اور دنیا کو سوا نفع کے چارہ نہ رہا
فکر دنیا میں کہیں فقر کا نعرہ نہ رہا
فکر عقبی میں کہیں قلب دوپارہ نہ رہا
فانی دنیا کی تجارت میں زیاں تک نہ رہا
اور عقبیٰ کی تجارت کا نشاں تک نہ رہا
(146)
اپنی کھیتی میں کھڑا دیکھ کساں روتا ہے
اور مزدور کی حالت پہ سماں روتا ہے
کتنا غمگین ہے کیا نوحہ کناں روتا ہے
تو یہ کہتا ہے تعجب سے کہاں روتا ہے
اور ملوں کا شب و روز بجٹ بڑھتا ہے
عمر مزدور کی گھٹتی ہے پہ کٹ بڑھتا ہے
(147)
اس سے پہلے کہ کہیں روس کا دیو آ پہنچا
تیرے کانوں کے قریں مثل غریو آ پہنچا
قصر مایہ پہ وہ سرخوں کا خدیو آ پہنچا
یعنی بالوں میں خروشیو کا شیو آ پہنچا
کر دو خیرات یہ جتنے ہیں دفینے اپنے
ورنہ پیٹو گے کسی روز یہ سینے اپنے

(148)
پاس اپنے جو تیری مثل خزینے ہوتے
بحرِ عماں میں گہر بار سفینے ہوتے
قصر زریں میں زمرد کے نگینے ہوتے
لعل و یاقوت و جواہر کے دفینے ہوتے
درد جبریل کے سینے میں عیاں کب ہوتا
اور خیرات کے مسلک پہ دھیاں کب ہوتا
(149)
اے پہ بیدار تھی قسمت وہ سلا کر دیکھی
میں نے تختوں کو بھی ٹھوکر ہے لگا کر دیکھی
جل جو سکتی تھی شمع اپنی بجھا کر دیکھی
خاطر دوست یہ ہستی بھی مٹا کر دیکھی
تو نے جبریل کو دیکھا ہے جو ویراں ہوتے
میں نے دیکھا ہے اسے آہ سے طوفاں ہوتے
(150)
تاج و دیہم پہ اس فقر کو قرباں نہ کروں
دردِ بے درد کو اس درد کا درماں نہ کروں
مشکل اپنی ہے کچھ ایسی کہ ہر آساں نہ کروں
کوئے جاناں میں کسی تاج کا ارماں نہ کروں
مجھ کو مولا نے وہ عرفاں کی شہنشاہی دی
نالہءِ نیم شبی آہِ سحر گاہی دی

(151)
آسمانوں میں سسکتی ہوئی سرگوشی سن
دورِ گردوں میں یہ آوازِ سبکدوشی سن
چرخ نیلی کی فضاؤں میں یہ مدہوشی سن
اور تقدیر کے سینے میں یہ خاموشی سن
دور محشر میں قیامت کا وہ کہرام سنیں
اپنے باطن میں سسکتا ہوا پیغام سنیں
(152)
جھونک دے گی وہ زمانے کو جو نیرانوں میں
مرغزاروں کو بدل دے گی جو ویرانوں میں
یعنی معمور جہاں بوم کے کاشانوں میں
خاک و خاکستر و شرار کے طوفانوں میں
تھی نہ انمول یہ سائنس کہ اجاڑی دنیا
تھی نہ مقبول یہ سائنس کہ اجاڑی دنیا
(153)
ہوک جبریل کے سینے سے یہ کیوں اٹھی ہے
آہ و فریاد مدینے سے یہ کیوں اٹھی ہے
آگ مومن کے سفینے سے یہ کیوں اٹھی ہے
گرد عرفاں کے دفینے سے کیوں اٹھی ہے
بھنور میں کشتیء امت ہے خدا خیر کرے
واسطے آحمد مرسلﷺ کے سدا خیر کرے

(154)
دکھی مسلم کا زمانے میں سہارا تُو ہے
تیرے بندے ہیں مددگار ہمارا تُو ہے
قلبِ مسکینِ مسلماں کا یارا تو ہے
چشمِ غمگینِ مسلماں کا تارا تُو ہے
کر دے ایک نظرِ کرم ہم پہ خدا را کر دے
مردِ مسلماں کو افلاک کا تارا کر دے
(155)
دکھی مسلم کا زمانے میں سہارا تُو ہے
تیرے بندے ہیں مددگار ہمارا تُو ہے
اپنے محبوب کی امت کا دلارا تو ہے
آنکھ غمگین ہے مگر آنکھ کا تارا تو ہے
کر دے ایک نظرِ کرم ہم پہ خدا را کر دے
قومِ مفلوک کو افلاک کا تارا کر دے
(156)
بول اس دور میں اسلام کا بالا دیکھوں
شمعِ اسلام سے دنیا میں اُجالا دیکھوں
بابِ الحاد پہ اس دور میں تالا دیکھوں
اور جبریل کے کاندھوں پہ دو شالا دیکھوں
میرے منہ سے یہ دُعا نیمہء شب نکلی ہے
میرے مولا تجھے معلوم ہے کب نکلی ہے

(157)
عشقِ صادق ہے تو تعذیر بدل ڈالوں گا
تیرِ افلاک کی تاثیر بدل ڈالوں گا
اس تیرے دور کی تصویر بدل ڈالوں گا
مردِ مومن ہوں تو تقدیر بدل ڈالوں گا
فرشِ ذلت سے تجھے عرش پہ لا ڈالوں گا
مئے تجھے عشقِ محمد ﷺ کی پلا ڈالوں گا
(158)
اے خدا مومن بے کس کے مددگار خدا
ہو فقط مرد مسلماں کے تمہیں یار خدا
میرے غم خوار ہو غفار ہو ستار خدا
میں نہ مانوں گا زمانے میں یہ اغیار خدا
میں فقط تیری حمائت میں پناہ ڈھونڈھوں گا
تیری رحمت کے نشاں دیکھ کے راہ ڈھونڈھوں گا
(159)
ہر طرف تیرہ گھٹاؤں نے جو آ گھیرا ہے
ہر طرف جھوٹے خداؤں نے جو آ گھیرا ہے
تیرہ و تار خلاؤں نے جو آ گھیرا ہے
دُکھی یوسف کو بلاؤں نے جو آ گھیرا ہے
کشتی بھنور میں ہے طوفاں بھی غضبناک ہوا
چاک اس دور میں مسلم کا جگر چاک ہوا

(160)
اور قوموں کو بھروسا ہے تو ہتھیاروں پہ
آسمانوں میں گرجتے ہوئے بمباروں پہ
ماہ و انجم پہ لپکتے ہوئے طیاروں پہ
اور توپوں سے برستے ہوئے شراروں پہ
اے یہ مسلم کو بھروسا ہے تو بس تیرا ہے
لاج تجھ کو ہے کہ دنیا کا قفس تیرا ہے
(161)
دکھی مسلم کا زمانے میں سہارا تُو ہے
تیرے بندے ہیں مددگار ہمارا تُو ہے
قلبِ مسکینِ مسلماں کا یارا توُ ہے
چشمِ غمگینِ مسلماں کا تارا تُو ہے
کر دے ایک نظرِ کرم ہم پہ خدا را کر دے
مردِ مسلماں کو افلاک کا تارا کر دے
(162)
تیرے محبوب کی اُمت ہیں تجھے لاج بھی ہے
تُو ہی اس اُمت مرحوم کا سرتاج بھی ہے
اک زمانے کی اس قوم پہ تالاج بھی ہے
توُ شہنشاہ ہمارا ہے تو ہی آج بھی ہے
ہیں تو بدکار پہ اُ مت تیرے محبوب کی ہیں
یعنی تخلیق کی اس ہستیء مطلوب کی ہیں

(163)
آج بھی سارے زمانے میں ہے محبوب تُو ہی
قلبِ بے چارہ ءِ مسلم میں ہے مرغوب تُو ہی
زشت ہیں اور ہے رشتوں کا فقط محبوب تُو ہی
ہم غریبوں کا زمانے میں ہے مطلوب تُو ہی
گرچہ گردابِ زمانہ میں ہمیں ہوش نہیں
اک تیرا نام ہے یا رب کہ فراموش نہیں
(164)
بول اس دور میں اسلام کا بالا دیکھوں
شمع اسلام کا دنیا میں اُجالا دیکھوں
بابِ الحاد پہ اس دور میں تالا دیکھوں
اور جبریل کے کندھوں پہ دو شالا دیکھوں
میرے منہ سے یہ دعا نیمہء شب نکلی ہے
میرے مولا اب تجھے لاج ہے کہ کب نکلی ہے
(165)
میرے مولا ملتِ بیضا کو وہ بیضائی دے
دشتِ بطحا میں اُنہیں قیس و لیلائی دے
اُمتِ آحمدِ مختار کو مولائی دے
پستیاں دیکھ چکے ہیں اب اُ نہیں بالائی دے
تجھ کو توفیق ہے مُردوں کو تُو ہی زندہ کر دے
زرہ ء تار کو افلاک پہ تابندہ کر دے

(166)
ذوقِ عرفان کی زمانے کو فراوانی دے
جانثارانِ محمد ﷺ کو جہاں بانی دے
بے نوایانِ خدا دوست کو سلطانی دے
اپنی رحمت سے ہمیں ثروتِ ایمانی دے
بول اس دور میں اسلام کا بالا دیکھوں
شمع قران سے زمانے میں اجالا دیکھوں
(167)
گلشنِ دینِ محمد ﷺ میں بہار آئے گی
ابرِ اسلام کے کاندھوں پہ سوار آئے گی
باغِ قراں سے قمری کی پکار آئے گی
لے کے مومن کی نگاہوں کا قرار آئے گی
ہم نہ ہوں گے ترا جبریل تہہ خاک ہو گا
صدمہء دینِ محمد ﷺ میں جگر چاک ہو گا
(168)
گلشنِ دینِ محمد ﷺ میں بہار آئے گی
باغِ قراں سے قمری کی پکار آئے گی
ابرِ ایمان سے باطن پہ پھوار آئے گی
باغِ قراں سے جو قمری کی پکار آئے گی
ہم نہ ہوں گے ترا جبریل تہہِ خاک ہو گا
صدمہء دین محمد ﷺمیں جگر چاک ہو گا

(169)
دورِ صیہونی ءِ دوں کار کا دشمن جبریل
دورِ افزونی ءِ عیار کا دشمن جبریل
دورِ افسونی ءِ نادار کا دشمن جبریل
کر گیا دورِ فسوں کار کو قدغن جبریل
یاد آئے گی سیاہ رات یہ انسانوں کو
یاد آئے گی کبھی بات یہ نادانوں کو
(170)
سر عرفانی و نے عارف حقانی ہے
دور حاضر میں جنوں عقل کا زندانی ہے
قیرگوں فکرِ جہاں گرد کی طغیانی ہے
اور فقدان ہے دنیا میں تو روحانی ہے
دہر روشن ہے جہنم کی ضیا پاشی میں
فکر رقصاں ہے نئی نار کی فخاشی میں
(171)
صدق اس دور میں باقی نہ صفا باقی ہے
جُود اس دور میں باقی نہ سخا باقی ہے
شرم اس دور میں باقی نہ حیا باقی ہے
درد اس دور میں باقی نہ دوا باقی ہے
سینہء ارض سے اٹھتا ہے یہ کہرام سنیں
گوشِ باطن میں سسکتا ہوا پیغام سنیں

(172)
سن کہ مدینے کی فضاؤں میں اذاں گونجی ہے
چیر کر چرخِ فلک تا بہ جِناں گونجی ہے
مردِ مومن کی دعاؤں میں فغاں گونجی ہے
اور ابلیس کے سینے میں سناں گونجی ہے
کہدو تکبیر مدینے سے بلالؓ آئے ہیں
تیری تقدیر کی رفعت پہ ہلال آئے ہیں
(173)
اے خدا مومن بے کس کے مددگار خدا
ہو فقط مرد مسلماں کے تہمیں یار خدا
میرے غم خوار ہو غفار ہو ستار خدا
میں نہ مانوں گا زمانے میں یہ اغیار خدا
میں فقط تیری حمائت میں پناہ ڈھونڈھوں گا
تیری رحمت کے نشاں دیکھ کے راہ ڈھونڈھوں گا
(174)
ہر طرف تیرہ گھٹاؤں نے جو آ گھیرا ہے
ہر طرف جھوٹے خداؤں نے جو آ گھیرا ہے
تیرہ و تار خلاؤں نے جو آ گھیرا ہے
دُکھی یوسف کو بلاؤں نے جو آ گھیرا ہے
کشتی بھنور میں ہے طوفاں بھی غضبناک ہوا
چاک اس دور میں مسلم کا جگر چاک ہوا

(175)
اور قوموں کو بھروسا ہے تو ہتھیاروں پہ
آسمانوں میں گرجتے ہوئے بمباروں پہ
ماہ و انجم پہ لپکتے ہوئے طیاروں پہ
اور توپوں سے برستے ہوئے شراروں پہ
اے یہ مسلم کو بھروسا ہے تو بس تیرا ہے
لاج تجھ کو ہے کہ دنیا کا قفس تیرا ہے
(176)
تیرے محبوب کی اُمت ہیں تجھے لاج بھی ہے
تُو ہی اس اُمت مرحوم کا سرتاج بھی ہے
اک زمانے کی اس قوم پہ تالاج بھی ہے
توُ شہنشاہ ہمارا ہے تو ہی آج بھی ہے
ہیں تو بدکار پہ اُمت تیرے محبوب کی ہیں
یعنی تخلیق کی اس ہستیء مطلوب کی ہیں
(177)
آج بھی سارے زمانے میں ہے محبوب تُو ہی
قلبِ بے چارہ ءِ مسلم میں ہے مرغوب تُو ہی
زشت ہیں اور ہے رشتوں کا فقط محبوب تُو ہی
ہم غریبوں کا زمانے میں ہے مطلوب تُو ہی
گرچہ گردابِ زمانہ میں ہمیں ہوش نہیں
اک تیرا نام ہے یا رب کہ فراموش نہیں

(178)
بول اس دور میں اسلام کا بالا دیکھوں
شمع اسلام کا دنیا میں اُجالا دیکھوں
بابِ الحاد میں اس دور میں تالا دیکھوں
اور جبریل کے کندھوں پہ دو شالا دیکھوں
میرے منہ سے یہ دعا نیمہء شب نکلی ہے
میرے مولا اب تجھے لاج ہے کہ کب نکلی ہے
(179)
میرے مولا ملتِ بیضا کو وہ بیضائی دے
دشتِ بطحا میں اُنہیں قیس و لیلائی دے
اُمتِ آحمدِ مختار کو مولائی دے
پستیاں دیکھ چکے ہیں اب اُ نہیں بالائی دے
تجھ کو توفیق ہے مُردوں کو تُو ہی زندہ کر دے
زرہِ تار کو افلاک پہ تابندہ کر دے
(180)
گلشنِ دینِ محمد ﷺ میں بہار آئے گی
ابر قراں کی تجلی پہ سوار آئے گی
جلوہ حسن محمد ﷺ پہ نثار آئے گی
لے کے ایماں کی تجلی کا نکھار آئے گی
ہم نہ ہوں گے ترا جبریل تہہ خاک ہو گا
صدمہء دین محمد ﷺمیں جگر چاک ہو گا

(181)
عشقِ صادق ہے تو تعزیر بدل ڈالوں گا
نگہہ گردوں کی یہ تاثیر بدل ڈالوں گا
فکرِ دوراں کی یہ تصویر بدل ڈالوں گا
مرد مومن ہوں تو تقدیر بدل ڈالوں گا
فرشِ ذلت سے تجھے عرش پہ لا ڈالوں گا
مئے تجھے عشقِ محمد ﷺ کی پلا ڈالوں گا
(182)
اے غریبوں کا لہو چوس کے پینے والے
نفع اندوزی و افزود پہ جینے والے
اے غریبوں کا جگر چیر کے سینے والے
اے جگر خوارِ جہاں دار خزینے والے
تجھ کو معلوم بھی ہے قہرِ الہیٰ کا نکھار
سیم و زر دار تجوری کی تباہی کا نکھار
(183)
آج دنیا کی تجارت میں خسارہ نہ رہا
اور تاجر کو سوا نفع کے چارہ نہ رہا
خوفِ نقصاں سے وہ اب قلبِ دوپارہ نہ رہا
قلبِ تاجر میں وہ تخویف کا آرہ نہ رہا
فانی دنیا کی تجارت میں زیاں تک نہ رہا
اور عقبیٰ کی تجارت کا نشاں تک نہ رہا

(184)
آج سرمائے کی دنیا میں شہنشاہی ہے
منفعت نیم شبی نفعِ سحر گاہی ہے
حاتمی جود ہے نے شوکتِ جم جاہی ہے
اور اس کشتیء زر بار میں بے راہی ہے
اور اس راہ میں شتراک کا ان ہنگ بھی ہے
اور مزدور جو اس دور میں دل تنگ بھی ہے
(185)
اپنی کھیتی میں کھڑا دیکھ کساں روتا ہے
اور مزدور کی حالت پر سماں روتا ہے
مل کے دروازہء عالی پہ فغاں روتا ہے
لگ کے دیوار سے کیا نوحہ کناں روتا ہے
اور سرمائے کا ملوں میں بجٹ بڑھتا ہے
عمر مزدور کی گھٹتی ہے پہ کٹ بڑھتا ہے
(186)
لینڈ لارڈوں کو دمِ مرگ یہ تجار کہیں
اپنی بولی میں یہ زردار کو زردار کہیں
دورِ سرمایہ کے بے تاج ادھیکار کہیں
بے حجابانہ کہیں برسر بازار کہیں
کان پڑتی ہے صدا آیا خروشیو کہیں
بوئے سرمایہ پہ آتا ہے مہادیو کہیں

(187)
لینڈ لارڈوں کو دمِ مرگ یہ تجار کہیں
اپنی بولی میں امیروں کو یہ زردار کہیں
رازدارانہ کہیں صورتِ اسرار کہیں
بے حجابانہ کہیں برسرِ بازار کہیں
کر دو خیرات یہ جتنے ہیں دفینے اپنے
ورنہ پیٹو گے کسی روز یہ سینے اپنے
(188)
لینڈ لارڈوں کو دمِ مرگ یہ تجار کہیں
اپنی بولی میں یہ زردار کو زردار کہیں
دورِ سرمایہ کے بے تاج ادھیکار کہیں
بے حجابانہ کہیں برسر بازار کہیں
کان پڑتی ہے صدا آیا خروشیو کہیں
بوئے سرمایہ پہ آتا ہے مہادیو کہیں
(189)
پاس اپنے جو تیری مثل خزینے ہوتے
بحرِ عماں میں گہر بار سفینے ہوتے
اپنی کوٹھی میں بھی کمخواب کے زینے ہوتے
اپنی انگلی کی انگوٹھی میں نگینے ہوتے
درد جبریل کے سینے میں نہاں کب ہوتا
اور خیرات کے مسلک پہ دھیاں کب ہوتا

(190)
اے پہ بیدار تھی قسمت جو سلا کر دیکھی
میں نے تختوں کو ہے ٹھوکر بھی لگا کر دیکھی
جل جو سکتی تھی شمع اپنی بجھا کر دیکھی
سوئی تھی اپنی فقیری سو جگا کر دیکھی
تو نے جبریل کو دیکھا ہے جو ویراں ہوتے
میں نے دیکھا ہے اسے آہ سے طوفاں ہوتے
(191)
تاج و اکلیل پہ اس فقر کو قرباں نہ کروں
دردِ بے درد کو اس درد کا درماں نہ کروں
مشکل اپنی ہے کچھ ایسی کہ یہ آساں نہ کروں
کوئے محبوب میں سَو تاج کا ارماں نہ کروں
مجھ کو مولا نے وہ عرفاں کی شہنشاہی دی
نالہءِ نیم شبی آہِ سحر گاہی دی
(192)
آسمانوں میں سسکتی ہوئی مدہوشی سن
دوشِ افلاک سے آوازِ سبکدوشی سن
آہِ خاموش جہاں سوز کی سرگوشی سن
اور اسلام کے سینے میں یہ خاموشی سن
ہے جو اس دہر میں ہنگامہ بپا ہونے کو
کفر و باطل کا ہے گھر بار فنا ہونے کو

(193)
جھونک دے گا یہ زمانے کو جو نیرانوں میں
مرغزاروں کو بدل دے گا جو ویرانوں میں
دہرِ معمور کو خفاش کے کاشانوں میں
خاک و خاکستر و شرار کے طوفانوں میں
تھا نہ انمول یہ الحاد کہ اجاڑی دنیا
تھا نہ مقبول یہ الحاد کہ اجاڑی دنیا
(194)
ہوک جبریل کے سینے سے یہ کیوں اٹھی ہے
ہوک یژب کے مدینے سے یہ کیوں اٹھی ہے
ہوک مسلم کے سفینے سے یہ کیوں اٹھی ہے
ہوک افلاک کے زینے سے یہ کیوں اٹھی ہے
شائید اسلام کو درپیش ہے مشکل کوئی
کٹھن اسلام کو درپیش ہے منزل کوئی
(195)
دکھی مسلم کا زمانے میں سہارا تو ہے
تیرے بندے ہیں مددگار ہمارا تو ہے
قلبِ مسکینِِِ مسلماں کا یارا تو ہے
چشمِ غمگینِ مسلماں کا تارا تو ہے
کر دے اک نظرِ کرم ہم پہ خدا را کر دے
مردِ مفلوک کو افلاک کا تارا کر دے

(196)
ذوق عرفاں کی زمانے کو فراوانی دے
جانثارانِ محمد ﷺ کو جہاں بانی دے
بے نوایانِ خدا دوست کو سلطانی دے
اپنی رحمت سے ہمیں ثروتِ ایمانی دے
بول اس دور میں اسلام کا بالا کر دے
نور قراں سے زمانے میں اجالا کر دے
(197)
گلشنِ دینِ محمد ﷺ میں بہار آئی ہے
ابرِِ اسلام کے کاندھوں پہ سوار آئی ہے
باغِ قراں سے قمری کی پکار آئی ہے
ابرِ ایماں سے باطن پہ پھوار آئی ہے
آج جبریل جو گلزارِ بداماں ہوتا
کیا ہی لطف اور سَوا محفلِ یاراں ہوتا
(198)
دورِ صیہونی ءِ دوں کار کا دشمن جبریل
دورِ افزونی ءِ عیار کا دشمن جبریل
دورِ افسونی ءِ بیمار کا دشمن جبریل
کر گیا دورِ فسوں کار کو قدغن جبریل
یاد آئے گی سیاہ رات یہ انسانوں کو
یاد آئے گی کبھی بات یہ نادانوں کو

(199)
سر عرفانی و نے عارف حقانی ہے
دور مادی ہے خس و خاک کا زندانی ہے
قیرواں گوں ہے جہاں فکر کی طغیانی ہے
ہائے دنیا میں جو فقدان ہے روحانی ہے
ہو نہ روحانی تو مادی کا ہے چلنا مشکل
ایک پیہئے میں ہے گاڑی کا سنبھلنا مشکل

(200)
سن کہ مدینے کی فضاؤں میں اذاں گونجی ہے
چیر کر چرخِ فلک تا بہ جِناں گونجی ہے
مردِ مومن کی دعاؤں میں فغاں گونجی ہے
کُن کی آواز پہ مستور فکاں گونجی ہے
کہدو تکبیر مدینے سے بلالؓ آئے ہیں
تیری تقدیر کی رفعت پہ ھلال آئے ہیں

Back to Kuliyat e Gabriel

Print Friendly, PDF & Email

Related Posts

  • 95
    آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں ابوبکر قدوسی بہت شور ہے ڈیم بنانے کا - پنجابی میں کہتے ہیں "ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں " یعنی نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں - سو دوستو…
  • 95
    امیدواراورووٹر ایک امیدوار ووٹ مانگنے کے لیے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس گیا اور ان کو ایک ہزار روپیہ پکڑواتے ہوئے کہا حاجی صاحب اس بار ووٹ مجھے دیں۔ حاجی صاحب نے کہا: مجھے پیسے نہیں چاہیےووٹ چاہیے تو ایک گدھا لادیں، امیدوار گدھا ڈھونڈنے نکلا مگر کہیں بھی…
  • 89
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 83
    Back to Kuliyat e Gabriel گلہائے عقیدت علامہ اقبال ؒ مرحوم کے حضور میں سرود رفتہ باز آید بیاید نسیمے از جحاز آید بیاید دو صد رحمت بجان آں فقیرے دگر دانائے راز آید بیاید دگر آید ہماں دانائے رازے ندارد جز نوائے دل گدازے دے صد چاک و چشمے…
  • 82
    Back to Kuliyat e Gabriel پیشِ لفظ شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح…
  • 81
    شیشیل کورالا فقیرانہ وزیر اعظم 2014ء میں نیپال کاوزیراعظم بن گیا۔پہلے دن جب اپنے سرکاری دفترپہنچاتو انتہائی سستی قیمت کے کپڑے پہن رکھے تھے۔۔لباس کی مجموعی قیمت دوسوروپے سے بھی کم تھی۔سرپرانتہائی پرانی ٹوپی اورپیروں میں کھردری سی چپل۔ وہاں ویٹریانائب قاصدکے کپڑے بھی شیشیل کورالاسے بہت بہتر تھے۔ منتخب…
  • 80
    عصرِ حاضر وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا قتیلِ عشق کے باطن کی آرزو نہ رہا رگوں میں جوش حمیت کی آبرو نہ رہی دلوں میں جوشِ اخوت وہ کو بہ کو نہ رہا تڑپتے دل کی پکاروں کی بے…
  • 79
    تبدیلی کے خواہاں نومنتخب حکمرانوں کیلئے تجاویزِ چند!! ( ڈاکٹر اظہر وحید ) وطنِ عزیز میں جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے اہلِ وطن نئے سرے سے سے نئی اُمیدیں باندھ لیتے ہیں....اِس خیال سے کہ حکومت کے بدلنے سے شائد اُن کی حالت بھی بدل جائے۔ صد شکر! یہ…
  • 79
    غلط خاکے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دینے والی تفتیش :زینب اور اس جیسی 11 کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کے پیچھے چھپے خوفناک و شرمناک حقائق اس رپورٹ میں ملاحظہ کیجیے لاہور(ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کہنے کو اغوا کے بعد زیادتی اور زیادتی…
  • 76
    Back to Kuliyat e Gabriel ضربِ مومن رباعی ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے زمین پر ہے وجود اس کا فلک پر آشیانہ ہے جمالِ یار کا پرتوَ جنوں کو تازیانہ ہے ٹھکانا اس کا جنت ہے یہ دنیا قید…
  • 76
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 76
    Back to Kuliyat e Gabriel گریہ نیم شبی خدایا شکر ہے رکھا مرا اجر اپنے ہاتھوں میں وگرنہ کس طرح ملتی مجھے محنت کی مزدوری بڑی مشکل سے سمجھائے تھے ملت کو سب اندیشے رلا کر رکھ گئی مجھ کو یہ احساسِ مجبوری خخ رلاتی ہیں مجھے ملت کی حسن…
  • 73
    [ad name="468x60"] (۱) علامہ محمد یوسف جبریلؒ ملک کی مشہور و معروف علمی وروحانی شخصیت ہیں اور واہ کینٹ میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔اُنکا ورثہ اُمتِ مسلمہ کیلئے ایک مشعلِ راہ کی حیشیت رکھتا ہے۔اُنکے اُفکاروپیغام کو اُجاگر کرنے اور آسان وفہم انداز میں عوام الناس تک پہنچانے…
  • 70
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 70
    ہُوا خیمہ زن کاروانِ بہار اِرم بن گیا دامنِ کوہسار گُل و نرگس و سَوسن و نسترن شہیدِ ازل لالہ خونیں کفن جہاں چھُپ گیا پردۂ رنگ میں لہُو کی ہے گردش رگِ سنگ میں فضا نِیلی نِیلی، ہوا میں سُرور ٹھہَرتے نہیں آشیاں میں طیُور وہ جُوئے کُہستاں اُچکتی…
  • 67
    وادی سون (م ش) wadi soon a column by meem sheen nawaiwaqt lahore produced by shaukat mehmud awan general secretary adara tehqiqul awan pkistan سرگودھا ڈویژن میںاعوان کاری میں ایک ایساعلاقہ بھی شامل ہےجوقران کریم کےحفاظ کی تعداد کےلحاظ سےشاید سارےعالم اسلام میں اولیت کا دعویدار کہلا سکتا ہی۔ اس…
  • 66
    وادی سون کی پراسرار روحانی شخصیات تحریر: شوکت محمود اعوان وادی سون سکیسر کا چپہ چپہ اولیائےکرام اور روحانی شخصیات کےنور سےچمک رہا ہی۔ وادی کےایک کونےسےلےکردوسرےکونےتک یہ روحانی شخصیات مختلف ادوار میں اپنی اپنی روحانی ذمہ داریاں اور فرائض سرانجام دےکراب نہایت پرسکون انداز سےانسانی نسلوں کےلئےایک روشن دلیل…
  • 66
    Back to Kuliyat e Gabriel Index بجا دے اب یہ نقارہ (1) بجا دے اب یہ نقارہ اُ ٹھا لے اب عَلم اپنا صبا ملک ِ فلسطیں سے ادھر دیکھو یہ کیا لا ئی غمِ اقصیٰ کے ماتم میں فغانِ کربلا لائی لہو کے آنسوؤں میں اک پیامِ ابتلا لائی…
  • 66
    Back to Kuliyat e Gabriel حمد مرے اللہ مرے مولا مرے مالک مرے آقا ترے ہی واسطے ساری ثنائیں، ساری تعریفیں سدا ذکر الہی میں رہے مشغول دل میرا رہیں میری زباں پر تا قیامت جاری تعریفیں مرے اللہ مرے مولا تری تعریف کیوں کر ہو کہ میں اک بندہء…
  • 65
    ادب کافروغ اور ادیب کی فلاح و بہبود کے بارے میں چند تجاویز تحریر ؔعلامہ محمد یوسف جبریل اگر آپ اپنے ملک میں ادب کا فروغ چاہتے ہیں۔ تو ادیب کی فلاح و بہبود کا خیال کریں ۔ ادب کا فروغ اتنا ہی ہو گا جتنا کہ لوگوں کے دلوں…