Paish a Lafaz Kuliyat e Gabriel

Back to Kuliyat e Gabriel

پیشِ لفظ

شاعری قطعاً مقصود نہیں بلکہ بھٹی سے اُ ٹھتے ہوئے شعلوں سے لپکتی ہوئی چنگاریاں ہیں یا اندھیری رات میں متلاطم سمندر کی لہروں کی خوفناک صدائیں ہیں جوحال سے پیدا ہو کر مستقبل میں گُم ہوتی نظر آتی ہیں اور جس طرح قدرت کے ہر عمل میں ایک تعین کا مظاہرہ ہوتا ہے اسی طرح ان شعلوں ان چنگاریوں اور ان لہروں کی صداؤں نے یعنی میری ان باتوں نے بھی ایک منظم پیرایہء اختیار کر لیاہے۔ انسانی طبع حاضر بین اور حاضر پسند واقع ہوئی ہے۔ بالعموم مستقبل کی تاریکیوں میں جھانکنے سے گریزاں رہتی ہے اور میرے کلام میں جھلکیاں مستقبل کی نظر آتی ہیں اور پڑھنے والے کو محض ایک خواب نظر آتی ہیں اور مایوس ذہنوں کو اگر مستقبل میں کوئی شعاع اُ مید کی دکھانے کی کوشش کی جائے گی تو وہ خواب ہی معلوم ہو گا نیز دنیا شاعری سے لطیف ہواؤں اور میٹھی نیند سُلا دینے والی میٹھی میٹھی باتوں کی توقع رکھتی ہے اور آپ اگر ان کے سامنے ایک گرجتا ہوا طوفان کھڑا کر دیں تو یہ بات سُننے والوں کی توقع کے عین خلاف ہو گی۔ میری باتوں کو سمجھنے میں دشواری ہی پیش نہیں آئے گی بلکہ میٹھی نیند سونے کی توقع بھی پوری نہیں ہو گی۔ میٹھی نیند سونے والوں کو اگر جگانے کے جتن کئے جائیں تو سونے والے پر جو گذرتی ہے وہ وہی سمجھ سکتا ہے۔ بہر حال میرا ایک فرض تھا سو میں نے حتی المقدور ادا کر دیا ۔ اس کا ردوقبول خواہ محض شاعری کے میزان پر کیا جائے خواہ کسی اور کسوٹی پر اس کو جانچا جائے یہ قاری کا کام ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قاری حضرات ‘ س! اور ‘ ص! کی بحث میں کھو جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی حقیقت کی تلاش کی سعی کریں۔ اگر بحث ’’س! اور’’ ص‘‘ میں اُ لجھ گئی تو قصہ تمام ہوا اور اگرتلاش حقیقت کی سعی کی گئی تو میں کامیاب ہوا لیکن نہ ہی ’’شاہنامے‘‘ کی ناقدری فردوسی کے جنازے کو رکوا سکی نہ میری محنت اللہ کے ہاں ضائع ہو سکتی ہے اور اللہ راضی ہوا تو بات بن گئی ۔

متذکرہ کلام میں حاضر کی منظر کشی اور مستقبل کی جھلکیاں نظر آئیں گی اور ارتقائی تقاضے نا گزیر ہیں۔ حالی مرحوم نے نوحہ کہا کہ ملت سامنے پائی۔ اقبالؒ نے شکوہ کیا کہ مِلت کا ماضی اور حال متقابل نظر آیا۔ جبریل نے نعرہ مارا کہ نقارے کی صدا گونج رہی ہے۔ دنیا میں آج محشر کا سماں ہے۔ قومیں ایک میدان پر جمع ہو رہی ہیں۔ قومیں ایک مشترکہ انجام کے مرکزی نقطے کی جانب گامزن ہیں۔ مجھے اس منظر کی منظر کشی کرنا پڑی ۔ یہ امر میرے لئے نا گزیر تھا۔ یہیں سے میرے اندازِ بیاں کے دھارے الگ ہو گئے۔ سارنگی کی جگہہ طبلِ جنگ اور مردنگ کی جگہ نقارے نے لے لی۔ بُلبل کی سمع نواز ترنم ریزیاں شاہیں کی جگر دوز ضیفروں میں بدل گئیں۔
نوحے سے شکوہ اُ ٹھا۔ شکوے سے نعرہ بھڑ ک اُ ٹھا۔ لوگوں کو سُلا دینے والی لوری یعنی قدیم مروجہ شاعری ایک جگانے والی دھا ڑ میں تبدیل ہو گئی۔ میرا کلام پڑھنے کی غائت اور غرض غوروغوض ہے۔ فکرو تدبر، ترکیب و بندش ،ردیف قافیہ شعری محاسن و معائب ثانوی چیزیں ہیں۔ تاہم انشاء اللہ قاری اس ضمن میں بھی نا اُ مید نہ ہو گا۔ لیکن بنیادی بات نفسِ مضمون ہے اور وہ اساسی نظریا ت ہیں جو بیان ہونے ہیں۔ لیکن حقیقی فہم کے لئے علمی وسعت شرط ہے۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری پر بیسیوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ ایک سے ایک بڑا ذہن سخن فہمی اور اقبالؒ شناسی کی داد دیتا نظر آتا ہے۔ مگر ابھی تک کئی ایک زاوئے ہیں جن پر نگاہ نہیں ڈالی گئی مثلاً اقبال کا یہ شعر’’ روزنامہ نوائے وقت ‘‘ کے ایک کالم میں فرمودہِ اقبالؒ میں میری نظر سے گزرا۔
یہ ہے خلاصہء علمِ قلندری کہ حیات
خدنگ جستہ ہے لیکن کماں سے دور نہیں

اس شعر میں قضا و قدر اور انسانی خود اختیاری کا معاملہ درپیش ہے۔ اس شعر پر بہتر سے بہتر تفسیریں لکھی گئی ہوں گی۔ لیکن جو بات ہنوز منصہء ظہور پر نہ آ سکی وہ یہ ہے کہ موجودہ سائنس دانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ کائنات کے و ہ اصول جنہیں ہم اب تک اس قدر سخت تصور کرتے رہے ہیں کہ ان میں سر مو کمی بیشی کا احتمال نہیں اور یہ کہ یہ کائنات ایک جچی تُلی مشین کی طرح کام کر رہی ہے۔ اب ایسا نظر آتا ہے کہ ان اصولوں میں ہر جگہہ ایک نہایت ہی خفیف پلے موجود ہے اور یہ کہ اس مقام پر ہماری لالٹین کچھ مدھم پڑ جاتی ہے۔
اسی قبیل کی بات علامہ صاحب ؒ نے بیان کی ہے ہم ہمیشہ سے سنتے آئے تھے کہ کمان سے نکلا ہوا تیر بَس نکل گیا ۔لیکن علامہ صاحبؒ یہ سمجھتے ہیں کہ تیر کماں سے نکلا ہواتو ہے مگر ابھی سے اسقدر دور نہیں۔ البتہ اتنا ایک شاعر نے ضرور کہا تھا
اولیا را ہست قدرت اَ ز الہ
تیر ِ ِ جستہ را بگردانند ز راہ
یعنی اولیا ءِ اللہ کو اللہ کی طرف سے اتنی قدرت کہ وہ کمان سے نکلے ہوئے تِیر کو واپِس لو ٹا دیں۔ لیکن یہ مضمون دوسرا ہے جہاں تک میرے کلام کا تعلق ہے اسے غور سے پڑھا جائے اور ہر لفظ کو اپنی اپنی جگہہ جانچا جائے اکثر ایسے لفظ جو پہلی نظر میں محض ترکیب و بندش کی خوبصورتی کے لئے جڑے ہوئے معلوم ہوں گے نظرِ غائر میں دیکھنے سے اپنے اپنے خصوصی معانی کے حامل ہوں گے ایک دو مثالیں اسی ضمن میں اپنی شاعری سے پیش کروں گا ۔
خاکداں خاک کے خاروں میں گرفتار ہوا
خاکراں خاک کے غاروں میں گرفتار ہوا
خاکبیں خاک کے تاروں میں گرفتار ہوا
خاک خواں خاک کے پاروں میں گرفتار ہوا

اب قاری کو جاننا چاہئے کہ یہ مادہ پرستی کا دور ہے اور مادہ اس دنیا کا خاک ہے مادہ پرستی نے روحانی اقدار کا خاتمہ کر دیا ہے اور تن پروری کو دنیا نے اپنا شعار بنا لیا اس کے بعد خاکدان خاکران خاکبین خاکخواں کی ترکیبیں پیشِ نظر رکھیں ۔ یہ الفاظ صرف حُسنِِ ترکیبی کی خاطر یہاں نہیں لگائے گئے بلکہ سب اپنی اپنی جگہ پر اپنے اپنے خصوصی اور موزوں معانی لئے ہوئے ہیں اور ہر ایک ایک مخصوص گروہ کی نشان دہی کرتا ہے ۔ خاکداں خاک کے خاروں میں گرفتار ہوا ۔ذو معنی مصرع ہے پہلا تو یہ ’’خاکدان‘‘ یعنی یہ زمین مادہ پرستی کی وجہ سے پُر خار ہو کر خار زار بن گئی ہے دوسرا یہ کہ دورِ حاضر کا مادہ پرست مادہ شناس انسان مادہ پرستی کے خاروں میں گرفتار ہو گیا ۔ خاکراں خاک کے غاروں میں گرفتار ہوا۔ مادہ پرست انسان اپنی غار میں اس قدر مادی دنیاوی لوازمات و ضروریات مٹی کی صورت میں کراہ سے دھکیل کر لارہا ہے کہ اس نے ساری غار ہی بند کر ڈالی ہے اور خود اندر قید ہو گیا ہے ۔’’ خاکبیں خاک کے تاروں میں گرفتار ہوا‘‘۔ خاکبیں سے مراد محقق سائنس دان ہو سکتا ہے ۔ دیکھئے وہ خوردبیں پر جھکا ہوا ہے اور خورد بین میں اُ سے قسم قسم کے خلیے ستاروں کی صورت میں نظر آ رہے ہیں لیکن تاروں کا لفظ ذوُ معنی ہے اور اس سے مراد تاریں بھی لی جاتی ہیں یعنی خاک کو دیکھنے والا خاک کی تحقیق کر نے والا خاک کی تاروں کے زندان میں مقید ہو گیا ہے اور پھر نتیجتہً ’ ’’یہ جہاں خاک ہوا خاک میں نمناک ہوا‘‘ خاک میں پانی ملتا ہے تو نمو ہوتی ہے اور پھر مادہ پرستی کی اتنی بھر مار ہوئی کہ آدم کا قصہ ہی المناک ہو گیا ۔ہو سکتا ہے مادی طور پر ترقی یافتہ ممالک تو ان باتوں کو خوب سمجھتے ہوں لیکن جلد یا بدیر ترقی پذیر ممالک پر بھی وہ مرحلے آ جائیں گے جہاں وہ ان باتوں کو سنیں گے

تو پکار اُٹھیں گے:۔
ؐ ’’ہم نے یوں جانا کہ پہلے سے ہمارے دل میں ہے‘‘
دوسری مثال ہے:۔
آدم اس دور میں خود مست و شکم مست ہوا
عشقِ حقانیِ بے غم میں نہ غم مست ہوا
ہائے زنجیریِ تن من میں نہ رم مست ہوا
زیر مستی کے ترنم میں نہ بم مست ہوا
کھو گیا دورِ مہیں سر کی ازم مستی میں
سو گیا دور مشین گر کی شکم مستی میں
اس بند کی ترکیبوں پر غور کریں۔’’ خود مست، شکم مست ،عشقِ حقانی بے غم ، غم مست ، زنجیریِ تن، رم مست ،زیرِِ مستی بم مست دورِِ ہمیں سر ازم مستی دورِ مشیں گر شکم مست یعنی تن پرور عشق حقانیِ بے غم یعنی حقائقِ عشق جس میں غم ختم ہو جاتے ہیں اور حقائق عشق ہے اللہ کی ذات کا عشق۔ نہ غم مست ہوا یعنی عشقِ حقانی کے غم میں نہ غم مست ہوا۔زنجیریِ تن یعنی تن پروری کا قیدی رو ح کی بالیدگی سے غافل من میں نہ رم مست یعنی من کی دنیا سے بیگانہ رہا ۔ زیرِِ مستی الخ زیر و بم موسیقی کی اصطلاح ہے زیر یعنی نیچی سُریں اور بم یعنی اُ و نچی سُریں، زیرِ مستی کے ترنم میں نہ بم مست ہوا یعنی چھوٹی چھوٹی باتوں میں اُ لجھ کر بڑی باتوں کی طرف مائل نہ ہوا۔ مہیں سر کے معنی ہیں بڑے دماغ والا ۔ ازم مستی یعنی ازموں میں اُ لجھ جانا ۔ کھو گیا دورِ مہیں سَر کی ازم مستی میں ۔مشیں گر مشینی دماغ والے دور کے ازموں کے جال میں پھنس کر رہ گیا ۔ ’’کھو گیا دورِ مشیں گر کی شکم مستی میں‘‘ مشیں گر مشیں بنانے والے شکم مستی تن پروری یعنی مشین گر دور کی تن پروری میں کھو گیا اور عاقبت انجام اور آخرت سے غافل ہو گیا۔ اب اس کے بعد پھر اس بند کو پڑھیں ۔ انشاء اللہ سمجھیں گے۔
مجھے احساس ہے کہ دنیائے اسلام اِ س وقت موت و حیات کی جنگ میں سائنسی ترقی کے مدارج طے کرنے اور مادی خود طفیلی کے حصول کے لئے سر توڑ کو ششیں کرنے پر مجبور ہے لیکن بین الاقوامی حالت میں یہ ایک طرفہ تما شا بن گیا ہے ۔دنیا سائنسی تر قی کی دوڑ میں بسرعتِ تمام عالمی اور انتہائی تباہی کی طرف کھچی جا رہی ہے۔ ان حالات میں مسلمانوں کو اس تباہی کی دوڑ کو روکنے کا کردار ادا کرنا چا ہئے تھا لیکن اگر مسلمان اس دوڑ کو روکنے کی کوشش کریں تو انہیں اپنی زیست کا خطرہ حق ہو جاتا ہے تاہم اس کیفیت پر کامل توجہ منعطف کی جائے اور معاملے کا جائزہ لیا جائے اور اس وقت تو نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والا معاملہ ہے اور مسلمان بھی اس عالمی ریلے میں دھکیلے جا رہے ہیں ۔لیکن کدھر بہر حال مسلمان اگر فی الحال میرے نظریات کو اپنا نہ سکیں تو کم از کم میری باتوں کو آئندہ نسلوں کے لئے ضرور محفوظ کر لیں ۔ اُ ن کو اِ ن کی ضرورت ہو گی مگر پھر ان کو بقولِ اقبال دگر دانائے راز آید نہ آید کوئی بتانے والا آئے یا نہ آئے میں اپنی قوم کو یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہی کلام اگر میں نے انگریز ی میں لکھا ہوتا تو مغربی دنیا میں بہت بڑا شر فِ قبولیت حاصل کرتا وہ لوگ جس حالت میں گرفتار ہیں میرے نظریات کو پذیرائی بخش ہی نہ سکتے بلکہ اس امر پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں۔ تاہم حیرت کی بات ہے اگر مہدی علیہ السلام کے ظہور اور حضرت عیسی علیہ السلام کی واپسی پر ایمان رکھنے والی قوم مادہ پرستی کے خلاف اور روحانیت کے حق میں میرے نظریات سمجھنے سے قاصر رہے۔ میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام مادہ پرستی کی ترویج اور روحانیت کے فقدان کو برداشت کر سکیں گے یا اسے قائم رہنے یا ترقی کرنے دیں گے۔ تیسری مثال میری شاعری میں ہے:۔
کارواں سیلِ خرافاتی و منزل خالی
دوستاں ترکِ موالاتی و محفل خالی
پاسباں ننگِِ خرافاتی و محمل خالی
کون سمجھے گا مرے دوست یہ مشکل حالی
اپنے ویرانہء دل کی یہ ویرانی دیکھ
اپنی حیرت پہ زمانے کی یہ حیرانی دیکھ
یہ بند عالمِِ اسلام کی موجودہ حالت کی منظر کشی کرتا ہے ۔ زبان کچھ مشکل معلوم ہوتی ہے لیکن اتنی مشکل بھی نہیں کہ سمجھ میں ہی نہ آ سکے یعنی مسلمانوں کا کارواں خرافاتیوں کی ایک طغیانی کی طرف رواں ہے۔ مگر منزل خالی پڑی ہے۔ دوست ایک دوسرے سے بائیکاٹ کرنے والے ہیں اور محفل خالی پڑی ہے۔ محمل کے پاسباں ننگِ خرافاتی ہیں اور محفل بھی خالی ہے اُ س میں کوئی لیلی موجود نہیں ۔اے دوست اس مشکل حالی کو کون سمجھے گا ۔
اپنے ویرانہء دل کی یہ ویرانی دیکھ
اور اپنی حیرت پہ زمانے کی یہ حیرانی دیکھ
یعنی تو حیران اپنی حالت دیکھ کر ہے اور دنیا والے اس تیری حیرانی پر حیران اسلئے ہیں کہ یہ کوئی حیران ہونے کی بات نہیں ۔بلکہ جو کچھ تم نے بویا ہے کاٹ رہے ہو کانٹے بو کر اگر کاٹنے والا اسلئے حیران ہو کہ کانٹے کیوں اُ گے گندم کیوں نہ اُ گی تو آپ ضرور اُ س آدمی پر حیرانی کامظاہرہ کریں گے ۔
سپر دم بتو مایہء خویش را
تو دانی حسابِِ کم و بیش را
آخر میں ایک لطیفہ سن لیجئے جومیرے کلام میں بن گیاہے اور وہ ہے ایک انگریزی زبان کا مصرعہ جوایک اردو نظم کے ایک شعر کا جزو بنا اور وہ ہے۔
God himself vigilant Governor Shall be لطیفہ یہ ہے کہ انگریزی زبان کو عربی بحر میں ڈھالنا ایک عجیب و غریب عمل ہے البتہ یہ انگریزی مصرعہ کہیں سے پھسل پڑا۔
قارعینِ کرام !آپ قطعاً یہ بھول جائیں کہ میں کون ہوں کیا ہوں کہاں ہوں البتہ اگر اس کلام میں آپ کو تڑپ نظر آئے یا نصیحت کی کوئی بات موجود ہو تو پھر آپ پر اس کو پڑھنا اور دوسروں کو پڑھانا واجب ہوتا ہے ۔ اگر اور کچھ بھی فائیدہ مرتب نہ ہوا تو کم از کم آپ دنیا کی بین الاقوامی کیفیت سے باخبر ہو جائیں گے باقی سب باتیں اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہیں ۔ جب میں کہتا ہوں۔
مصطفے دورِ بہاراں کے پیمبر ہوں گے
محفل آرائے جہاں ساقیءِ کوثر ہوں گے
تو میں آنے والے دور میں دیکھتا ہوں کہ اسلام کا ہر طرف بول بالا ہے اور ساری دنیا اسلام کے زریں اصولوں سے مستفید ہورہی ہے ۔ آپ بھی تصورات کی دنیا میں ابھرنے والے اس جانفزا منظر سے خوش وقت ہوں اور میرے لئے دُ عا ئے خیر و مغفرت کریں۔

بول اس دور میں اسلام کا بالا دیکھوں
شمعِ اسلام سے دنیا میں اُجالا دیکھوں
بابِ الحاد پہ اس دور میں تالا دیکھوں
اور جبریل کے کاندھوں پہ دو شالا دیکھوں
میرے منہ سے یہ دُ عا نیمہء شب نکلی ہے
میرے مولا تجھے معلوم ہے کب نکلی ہے

اگر یورپ کے نفسیاتی ماہرین کو آپ یہ کہیں کہ ایک آدمی پینتالیس برس کی عمر میں دفعتہً شاعر ہو گیا اور ایسی زبان میں جو اس کی مادری زبان نہیں۔ دو برس شعر کہتا رہا پھر خاموش ہو گیا ۔ پھر دو برس شعر کہتا رہا اور دو سو صفحے کا کلام پیش کر کے پھر خاموش ہو گیا تو ان کے لئے تحقیق کا ایک اچھا خاصا موضوع پیدا ہو جائیگا ۔کیا پاکستان کے ماہرینِ نفسیات بھی اس موضوع پر دادِ تحقیق دینا پسند کریں گے میں نے جس جگر کاہی سے یہ نظمیں لکھی ہیں اس کا اندازہ تو آپ کو ہو ہی جائے گا البتہ قارعینِ کرام سے اتنی عرض ہے کہ از راہِِ کرم اِ ن اشعار کے پڑھنے کا صحیح انداز سیکھیں اور ایک فصیح اللسان عرب کی طرح سازِ ابان کے جملہ تار کس کر پڑھیں اور ز بان کو شعر میں لیٹنے نہ دیں ورنہ سارا معاملہ غتر بود ہو کر رہ جائے گا اور آپ صحیح حظ سے محروم ہو جائیں گے ۔شعر کا پڑھنا آپ چڑیا کی پرواز میں سیکھیں جبکہ وہ جھنڈ میں اڑ رہی ہوں ان کا پروں کے کھولنے اور سمیٹنے کا انداز معائنہ کریں۔ مثلاً مندرجہ ذیل مسدس ملاحظہ فرمائیں۔
شمع لولاک کے دل چاک وہ پروانے پھر
زلفِ لولاک کے پے چاک کے دیوانے پھر
سرِ لولاک کے ادراک کے فرزانے پھر
سوزِ لولاکِ طربناک کے مے خوانے پھر
دیکھئے موت کی غفلت سے وہ بیدار ہوئے
مدعی حقِ ولائت کے نمودار ہوئے
اس مسدس کے پڑھنے کا صحیح انداز کچھ یو ں ہو گا ۔
شمِع لَو لِا لِک دل ءِ چَا کَوُہ پروانے پھر
یہ اصول بالعموم آپ کا معاون ہو گا ۔
نہ تو میرا شمار شعراء میں ہوتا ہے نہ ہی شاعری برائے شاعری میرا میدان ہے ۔ البتہ قدرتِ کاملہ اور نقاشِ فطرت نے مجھے بے پناہ شعری صلاحیتوں سے نوازا تھا اور اگر دستِ قدرت مجھے اوائل عمر میں ہی سے شاعری کے میدان میں ڈال دیتا اور میں بھی وہ تمام تدریجی مراحل طے کرتا جو ایک شاعر کوزندگی کی منزلوں میں رفتہ رفتہ طے کرنے ہوتے ہیں حتی کہ وہ اپنی ممکنہ معراج پر پہنچ جاتا ہے تو گمان غالب یہی ہے کہ بالآخر میں بھی شاعری کی دنیا میں اپناکوئی خاص مقام حاصل کر لیتا مگر قدرت کو شائید ایسا منظور نہ تھا ۔ نوشتہ ء تقدیر میں میرے لئے روزِ ازل سے ایک اور منفرد مقام اور ایک مختلف راہ اور ایک مخصوص منزل مقدر ہو چکے تھے ۔سخن فہم حضرات جب میرے کلام میں اقبالی تجلیات کا پرتو ملاحظہ کرتے ہیں تو بالعموم مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا علامہ اقبالؒ سے آپ کی ملاقات ہوئی اور جب مجھ سے جواب نفی میں سنتے ہیں تو حیرت کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے اور مجھے غالب کا وہ شعر یاد آ جاتا ہے۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا اگر اور زندہ رہتے یہی انتظار ہوتا
میرا ظاہری رابطہ حضرت علامہ اقبالؒ سے فقط اتنا ہے کہ 1939 ء میں میں بارہا اس رہائش گاہ کے سامنے سے گذرا جو حضرت علامہ اقبالؒ کی تھی اور اُ ن کی رہائش گاہ کی ایک جانب لگے ہوئے اس پمپ سے جو لوہے کے ایک بہت بڑے پہیئے سے چلتا تھا میں نے کئی بار وہاں سے گزرتے ہوئے اُ س سے پانی پیا ۔ان دنوں میں نوجوان تھا اور حضرت علامہ وفات پا چکے تھے۔ میں سوچتا ہوں کہ دستِ غیب نے دانستہ مجھے حضرت علامہ ؒ سے دور رکھا۔ ہو سکتا ہے کہ میں اُ ن سے متاثر ہو کر ان کے تتبع میں شاعری شروع کر دیتا اور پھر شاعری کا ہی ہو کر رہ جاتا اور مجھے توقع ہے کہ حضرت علامہ اقبالؒ مجھ پر انتہائی شفقت فرماتے اور میری حوصلہ افزائی کرتے مگر قدرت کو یہ منظور نہ تھا اور قدرت ہی بہتر سمجھتی ہے ۔ اگر میں حضرت علامہ اقبالؒ کے نقش قدم پر چل کر شاعری اختیار کرتا تو یہ بات ہرگز بعید از قیاس نہیں ہے کہ توفیق ایزدی سے میں بالآخر ایک اچھا شعری مجموعہ اپنی یادگار چھوڑتا ۔تاہم واضح ہے کہ میرا کلام حضرت علامہؒ کے کلام بلاغت نظام کا محض پَرتَو ہوتا یا محض تکرار ہوتی اور اگرچہ صوری لحاظ سے میں حیرتناک انداز میں ایسا ہی کلام پیش کرتا جیسا کہ حضرت علامہ اقبالؒ کا ہے۔لیکن وہ علمی معنویت جو حضرت علامہ اقبالؒ کے کلام میں پنہاں بھی عیاں بھی ہے کیسے حاصل کی جا سکتی تھی ۔حضرت علامہ اقبالؒ کا کام اصل تھا ۔ آپ کو قدرت نے پیدا ہی اسی کام کے لئے کیا تھا۔نقل بہر حال نقل ہی رہتی اور میں شاعری کے سمندر میں ڈوب کر اُن تمام علمی معرکوں سے جو میرے لئے مقدر تھے محروم رہ جاتا اور بالآخر میں بھی حضرت خیام جیسے انجام سے دوچار ہوتا ۔ دنیا جانتی ہے کہ حضرت خیام کی شاعری نے ان کے حقیقی علمی مقام کو گہنا دیا حتی کہ صدیوں بعد جدید مغربی دور میں محض ناؤنوش اور مستی و سرمستی کے ناطے سے خیام کی شاعری کو کچھ پذیرائی ہوئی ۔حضرت اقبالؒ نے جو کچھ کہہ دیا بس کہہ دیا اور قلم توڑ دیااورجو کچھ کہا اس کا کہنا انہیں کے بس کی بات تھی ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
شاعر اعلیٰ سے اعلیٰ پیدا ہو سکتے ہیں ہوتے رہیں گے مگر اقبالؒ ایک منفرد خیرہ کن ستارے کی طرح اپنے آسمان پر چمکتے رہیں گے البتہ اہلِ نظر نے میرے اس کلام میں علامہ اقبالؒ کے کلام کے ساتھ فکری اور بیانی مماثلت اور ہم آہنگی کو پا لیا ہے ۔ یہ قدرتِ کاملہ کا ایک کرشمہ ہے البتہ مجھے حضرت علامہ ؒ سے ایک باطنی تسلسل اور رابطہ بھی حاصل ہے جو لوگوں کی نظر سے پوشیدہ ہے۔ پوشیدہ رہے تو اچھا ہے ۔ ہم دونوں نے اپنی اپنی عمر مصائب و آلام کی ایک ہی بھٹی میں ایک ہی مقصد کے لئے سلگ سلگ کر گزاری ہے اور ہمارا ذہنی اور قلبی رابطہ فطرت کا عطیہ تھا ۔ اُمتِ مُسلمہ کے لئے حضرت علامہ اقبالؒ کی دردمندی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ وہ عمر بھر اس اُ مت کی زبوں حالی پر کڑھتے رہے ۔ اور اس کی بہبود کے لئے کوشاں رہے ۔ وہی تھے جنہوں نے حضرت قائد اعظم علیہ الرحمتہ کو اسلامیانِ ھند کی کشتی کا ملاح بننے پر ایک خط کے ذریعے رضامند کیالیکن شائید حضرت علامہؒ کی روح کو بعد از مرگ بھی قرار نہ آیا۔حضرت علامہ اقبالؒ کا 1938 میں انتقال ہوا۔ 1942 ء میں میرے پچیسویں سال میں عراق کے شہر مصیب میں خواب میں حضرت خضر علیہ السلام کی سفارش پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے مجھے میرا مشن سپرد ہوا اور یہ مشن تھا اس انسانیت کو اس جہان کے اور اگلے جہان کے ایٹمی جہنم سے بچانے کی سعی کرنا۔ اس وقت میں علمی لحاظ سے تقریبا صفر تھا اور مشن ہرقدیم وجدیدعلم کی اعلی ترین سطح کا متقاضی تھا اور خطاب انسانیت کو انگریزی زبان میں کرنا تھا۔ چالیس برس کی صبر آزماء کمر شکن محت، گوناگوںآلام و مصائب کی موجودگی اور روحانی شخصیات کے تصرف میں بالآخر مشن کی تکمیل کے مرحلے پر منتج ہوئی۔ قران حکیم نے سائنس کی روشنی میں بنیاد مہیا کی۔ سائنس نے تصدیق کی۔ انگریزی کی چودہ جلدیں اور اردو کی چودہ جلدوں میں مضمون مکمل ہوا جو قران حکیم، بائیبل ، سائنس، فلسفہ اور تاریخ پر مشتمل ہے۔ اس دوران میں میں نے کسی ظاہری استاد سے نہیں پڑھا ۔رزق حلال کے لئے مشقت نے کبھی ساتھ نہیں چھوڑا۔ یہ میرا اردو اور فارسی کلام بھی اسی میرے مشن کی ایک کڑی ہے اور اسی حوالے سے بات کی گئی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ میرا کلام کلام اقبالؒ کا پرتو کیوں کر بنا؟ حضرت اقبالؒ کی شاعری ایسی ہے جس کا عکس پیداکرناتو درکنا راس کی تقلید بھی تقریبا ناممکنات میں تصور کی جاتی ہے۔ اگر ایسا ہو سکتا تو اکثر شاعر اس روش کو اپنانے کے آرزومند ہیں۔ مگر کوئی بھی ایسا نہ کر سکا ۔اقبالؒ کی شاعری بہت بڑے علم اور وسیع مطالعے کے علاوہ ایک بے مثل شعری عبقریب ایک نہایت دردمند دل اور آفاقی ذہن کی متقاضی ہے اس کے بغیر اس فضا میں اڑان نہیں لی جا سکتی۔ شعری عبقریت ہی کو لیجئے کوئی شاعر ایک مصرع ایسا وضع کر دے جو کلام اقبالؒ کے مشابہ ہو۔ ایسا نہیں ہو سکتا یہ ایک طبعی قانون ہے البتہ کوئی شخص ایسا کر دکھائے تو اگر و ہ دوسرے متذکرہ بالا لوازم پورے کرتا ہو تو وہ کلام اقبالؒ کے مشابہ کلام پیش کر سکتا ہے۔ سیالکوٹ کے ایک گمنام وکیل کا یہ شعر’’
تندیء باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
ایک عرصے تک علمی حلقوں میں موضوع بحث رہا کہ آیا یہ شعر علامہ اقبالؒ کا ہے۔ وجہ مشاہبت فقط پہلے مصرعے کی ترکیب ظاہری تھی حالانکہ جاننے والا جان لیتا ہے کہ پہلے مصرعے کی اڑان کے بعد دوسرا مصرعہ زمین بوس ہو گیا ہے۔ یہ شعر حضرت علامہ کا نہیں ہو سکتا اب سوال یہ ہے کہ میں نے کیسے ایسا کلام پیدا کر لیا جس میں حضرت علامہ کے کلام کے ساتھ اس قدر قریب بیانی اور موضوعی مماثلت واضح طور پر نظر آتی ہے۔ تو سنیئے ۔پہلی شرط تو اس میں مکمل ذہنی قلبی روحانی ہم آہنگی کی ہے دوسر ی شرط علم کی ہے۔ علوم کی دنیا میں بھی جس وقت میں نے شعر گوئی شروع کی تو لگاتاربیس برس گذار چکا تھا بعد میں شعر گوئی کے سات برس بھی اولیت علمی مطالعے ہی کو رہی۔ایک اور سوال یہ ہے کہ ہرشاعر پختگی کو پہنچنے سے پہلے سالہا سال کی ریاضت کرتا ہے۔ تربیت حاصل کرتا ہے۔ یہ کیسے ہوا کہ ایک شخص عمر کے پینتالیسویں سال میں شاعری کی بسم اللہ کرے اور وہ سب کچھ پہلی ہی بار کہہ ڈالے جو اس نے کہنا ہو تو یہ عجوبہ بھی سنئے۔ یہ1962 ء کی بات ہے میری عمر کے پینتالیسویں سال کہ سردیوں کی ایک رات، اپنے گاؤں موضع کھبیکی وادی سون سکیسر خوشاب میں، دن بھر کی صبر آزما علمی ریاضت کے بعد میں نیند کی کوشش میں تھا مگر نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں چارپائی پر پیٹھ کے بل لیٹا ہواتھا اور بالکل جاگ رہا تھا کہ دفعتہً میری نگاہ میں میرے سر سے چند فٹ اوپر دائیں اور پیچھے کی طرف ایک شخص کا ہیولا ابھر ا ۔ نہ ہی میں نے سر کو جنبش دی نہ ہی آنکھ سے اسے دیکھا مگر میرا ذہن اسے واضح طور پر دیکھ رہا تھا ۔اس شخص کارنگ چمکیلا پیلا تھا اور وہ کسی کشمیری کی طرح لگ رہا تھا ۔ جب وہ غائب ہوا تو میرے ذہن میں چند مصرعے نمودار ہونا شروع ہو گئے پھر مجھے پسینہ آیا۔ حالانکہ سخت سردی تھی اور پھر میں نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔ صبح کو میں نے وہ مصرعے لکھ لئے وہ ’’شکوہ ‘‘ کی طرز پر چھ مصرعوں کا ایک بند تھا ۔ پھر اپنے علمی کام سے فراغت کے لمحوں میں شعر و شاعری کا سلسلہ 1969 ء تک چلتا رہا اور تقریباً دو ہزار شعر ہو گئے ۔ ایک عجیب سی بات قابلِ ذکر ہے وہ یہ کہ جب میں مشقِ سخن میں مصروف ہوتا تو عموماً مجھے اپنے پیچھے چند قدم پر سفیدململ کے لباس میں حضرت علامہ اقبالؒ کی موجودگی کا احساس ہوتا اور وہ اپنے ہاتھوں کو دائیں بائیں اس طرح حرکت دے رہے ہوتے جس طرح کہ کوئی شخص کپڑا بُن رہا ہے اور اُ ن کی حرکات میں سخت جدوجہد کے آثار نظر آتے ۔ اُ ن کی اس موجودگی کے سائے میں میرے ذہن میں بھی ایک خاص کیفیت ہوتی جو افسوس کہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔ حضرت علامہ اقبالؒ کا ایک نہائت ہی پُر اسرار قسم کا شعر ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کلام اقبالؒ کے مفسروں نے اس کی کیا تعبیر کی ہے لیکن میرے لئے اس کی خاص معنویت ہے ۔ شعر یوں ہے ۔
مرے گلو میں ہے اک نغمہ جبریل آشوب
سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکاں کے لئے
یہ شعر میں سمجھتا ہوں کہ یہ شعر میں نے اس سے پہلے پڑھا ہی نہیں تھا اور اگر پڑھا بھی تھا تو اس سرسری انداز میں کہ فراموش ہی ہو گیا تھا۔ مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ حضرت علامہؒ کے کلام کا معتدبہ حصہ میں نے شعر گوئی سے پہلے پڑھا تھا یا بعد میں 1964 ء کے بعد پڑھا البتہ’‘ شکوہ ‘‘ اور ’’جواب شکوہ ‘‘ اور ’’ بانگ درا ‘‘ میں سال ہا سال پہلے پڑھ چکا تھا اور بعد میں جو کچھ حضرت علامہؒ کے کلام سے پڑھا وہ ایک بار ہی پڑھا ۔ یہ شعرپڑھنے کی نوبت اس وقت آئی جب لاہور میں بعض کم علم لوگوں نے میرا تخلص جبریل سن کر اعتراض کیا تو اس جستجو میں میں نے حضرت علامہ ؒ کا ہر وہ شعر نوٹ کیا جس کا تعلق جبریل سے تھا ۔ مثلاً
کجا اوج مشت غبارے رس جبریل
بلند نامی او از بلند بامیء اوست
یا ’’ جبریل زبوں صیدے در دشت جنونِ من ‘‘ وغیرہ ۔جب 1962 ء میں میں نے شعر کہنا شروع کیا تو قطعاََ حضرت علامہ اقبالؒ کا یہ شعر میرے ذہن میں نہ تھا اور نہ ہی میں نے جبریل کا تخلص اس شاعری کے لئے اختیار کیاتھا بلکہ میں نے یہ تخلص اس سے پہلے اپنی قرانی تفسیر کے حوالے سے اختیار کیاتھا اور پہلی بار میں نے پناکلام کو نظر تحسین سے اس وقت دیکھا جب مجموعہ موسوم بہ نعرہ جبریل چھپ کر میرے سامنے آیا۔ لیکن میں نے اسے خراج تحسین کیسے ادا کیا مسکرا کر نہیں بلکہ میں نے تو ایک غم آلود نگاہ اس پر ڈالی۔ آنکھ میں آنسو نہیں رہے ورنہ شائید ایک آدھ آنکھ سے ڈھلک پڑتا۔ میں نے اسے خموشی سے دیکھا ۔میں نے اسے ایک شہید کی لاش جانا۔ خدا خبر اسکی پزیرائی کیسے ہو گی ۔ خدا خبر اس پر کوئی فائدہ مرتب ہو گا کہ نہیں۔کیا کسی دل پر یہ اثر انداز ہو سکے گا کہ نہیں ۔خدا خبر ایک ملت خوابیدہ کو خواب گراں سے بیدار کرنے کی سعادت حاصل کر سکے گا کہ نہیں اور خود مجھ پر میری مصیبتوں کے بادل چھٹتے نظر نہیں آتے۔لوگ البتہ رفتہ رفتہ میرے تخلص سے مانوس ہو گئے ۔ کچھ مجھے جان گئے کچھ نے میرا کام دیکھ لیا تاہم مجھ پر اُس وقت بھی اپنے ساتھ اس شعر کی مناسبت نہ کھلی ۔ میں علمی بوجھ تلے اور اپنی مصیبتوں میں کچھ اس طرح دبارہا ہوں کہ ادھر اُ دھر کی کوئی ہوش نہ تھی۔ برسوں یہ کلام میرے پاس پڑا رہا اور اس کی اہمیت اور افادیت کا علم ہونے کے باوجود میری سوچ اپنی زندگی کی ہولناکیوں اور علمی جدوجہد کی تنہائیوں میں سہمی رہی دبی رہی۔خیر شعر کی طرف آئیں ۔ اب لامکان تک پہنچ تو موت کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ نیز جبریل فرشتے کے زمین پر پیغام لانے کا کوئی سوال ہی نہیں وہ تو انبیاء تک اللہ کا پیغام پہنچا چکا ۔ جب تک میں شعر کہتا رہا ۔حضرت علامہ اقبالؒ کا یہ شعر یا تو میں نے پڑھا ہی نہیں تھا یا یاد سے اتر چکا تھا ۔ اب معلوم ہوا ہے کہ لامکان سے حضرت علامہؒ کا کیا مقصد تھا اور وہ کون کم نصیب یا سعادت مند جبریل تھاجس کے لئے حضرت موصوفؒ نے اپنے گلے میں ایک ہیجان انگیز نغمہ سنبھال رکھا تھا۔ جبریل کے دل و دماغ میں تو واقعی ہیجان برپا ہو گیا تو کیا جبریل کا ہیجان اس اُ متِ مسلمہ کے ذہن میں کوئی ہیجان برپا کر سکے گا یا نہیں اگر ایسا نہ کر سکا تو اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے ۔ حضرت علامہؒ کو شاعر تو سمجھ لیا گیا تھا کون جانتا ہے مجھے شاعر کا مقام بھی مل سکے گا کہ نہیں ۔ بہر حال
سپر دم بتوما یہء خویش را
تو دانی حساب کم و بیش را
البتہ اتنا معلوم ہے کہ بندے اگر میرا اجر ضائع کر دیں تو کر دیں مجھے اُ مید ہے کہ خدائے سمیع و بصیر میری اس کوفت کو اور میرے اس خون جگر کو جو میں نے ان اشعار میں جلایا، ضائع نہیں کرے گا ۔
علامہ محمد یوسف جبریل

Back to Kuliyat e Gabriel

Print Friendly, PDF & Email

Related Posts

  • 93
    آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں ابوبکر قدوسی بہت شور ہے ڈیم بنانے کا - پنجابی میں کہتے ہیں "ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں " یعنی نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں - سو دوستو…
  • 90
    Back to Kuliyat e Gabriel تبصرہ جات و تاثرات علامہ یوسف جبریل کی شاعری کے متعلق محترم ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے خیالات ’’انداز فکر حضرت علامہ اقبالؒ کا سا ہے اور ایک لحاظ سے کلام انہی کی آواز کی صدائے بازگشت ہے۔ شاعر نے جس نصب العین کو پیش…
  • 84
    امیدواراورووٹر ایک امیدوار ووٹ مانگنے کے لیے ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس گیا اور ان کو ایک ہزار روپیہ پکڑواتے ہوئے کہا حاجی صاحب اس بار ووٹ مجھے دیں۔ حاجی صاحب نے کہا: مجھے پیسے نہیں چاہیےووٹ چاہیے تو ایک گدھا لادیں، امیدوار گدھا ڈھونڈنے نکلا مگر کہیں بھی…
  • 82
    Back to Kuliyat e Gabriel نعرہ ء جبریل ( 1) روحِ اقبالؒ ہوں میں حیرتِ جبریل بھی ہوں برقِ خاطف کی تجلی میں ابابیل بھی ہوں ریگِ بطحا میں نہاں شعلہء قندیل بھی ہوں فتنہءِ دورِ یہودی کے لئے نیل بھی ہوں خاک ہوں پائے غلامانِِ محمد ﷺ کی یہ…
  • 81
    غلط خاکے اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دینے والی تفتیش :زینب اور اس جیسی 11 کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی اور انکے قتل کے پیچھے چھپے خوفناک و شرمناک حقائق اس رپورٹ میں ملاحظہ کیجیے لاہور(ویب ڈیسک) زینب قتل کیس کہنے کو اغوا کے بعد زیادتی اور زیادتی…
  • 80
    عصرِ حاضر وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا وہ اشکِ خونِ گرہ گیر مشکبو نہ رہا قتیلِ عشق کے باطن کی آرزو نہ رہا رگوں میں جوش حمیت کی آبرو نہ رہی دلوں میں جوشِ اخوت وہ کو بہ کو نہ رہا تڑپتے دل کی پکاروں کی بے…
  • 80
    تبدیلی کے خواہاں نومنتخب حکمرانوں کیلئے تجاویزِ چند!! ( ڈاکٹر اظہر وحید ) وطنِ عزیز میں جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے اہلِ وطن نئے سرے سے سے نئی اُمیدیں باندھ لیتے ہیں....اِس خیال سے کہ حکومت کے بدلنے سے شائد اُن کی حالت بھی بدل جائے۔ صد شکر! یہ…
  • 78
    Back to Kuliyat e Gabriel سوز و نالہء جبریل (1) روحِ اقبال ہوں صورتِ جبریل آیا ہوں کاروانوں کے لئے جرسِ رحیل آیا ہوں غرقِ فرعوں کے لئے قلزم و نیل آیا ہوں فیلِِ ابرہ کے لئے ضربِ سجیل آیا ہوں تم کو پیغامِ محمد ﷺ کا سنانے کے لئے…
  • 75
    Back to Kuliyat e Gabriel لائحہ عمل اب بھنور میں جو سفینہ ہے اب بھنور میں جو سفینہ ہے ذرا ہوش کریں کچھ کریں خوفِ خدا بہرِ خدا ہوش کریں ڈوب سکتی ہے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں یہ ناؤ ملت اپنی ہے گرفتارِ بلا ہوش کریں لگ تو سکتی تھی…
  • 73
    [ad name="468x60"] (۱) علامہ محمد یوسف جبریلؒ ملک کی مشہور و معروف علمی وروحانی شخصیت ہیں اور واہ کینٹ میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔اُنکا ورثہ اُمتِ مسلمہ کیلئے ایک مشعلِ راہ کی حیشیت رکھتا ہے۔اُنکے اُفکاروپیغام کو اُجاگر کرنے اور آسان وفہم انداز میں عوام الناس تک پہنچانے…
  • 71
    Back to Kuliyat e Gabriel گریہ نیم شبی خدایا شکر ہے رکھا مرا اجر اپنے ہاتھوں میں وگرنہ کس طرح ملتی مجھے محنت کی مزدوری بڑی مشکل سے سمجھائے تھے ملت کو سب اندیشے رلا کر رکھ گئی مجھ کو یہ احساسِ مجبوری خخ رلاتی ہیں مجھے ملت کی حسن…
  • 70
    Back to Kuliyat e Gabriel گلہائے عقیدت علامہ اقبال ؒ مرحوم کے حضور میں سرود رفتہ باز آید بیاید نسیمے از جحاز آید بیاید دو صد رحمت بجان آں فقیرے دگر دانائے راز آید بیاید دگر آید ہماں دانائے رازے ندارد جز نوائے دل گدازے دے صد چاک و چشمے…
  • 69
    وادی سون کی معروف روحانی شخصیات کا تذکرہ تحریر ملک محمد شیر اعوان وساوال ۔ کہتےہیں کہ قدرت جب کسی سےکوئی مخصوص کام لینا چاہتی ہی۔ تو اس کام کےلئےاسی قوم میںسےمخصوص افراد کو چن لیتی ہی۔ جو اس کام کی انجام دہی میں شب و روز ایک کر دیتےہیں۔…
  • 68
    ”کن فیکون“ پر خواجہ محمد عرفان ایوب کریمی کا تبصرہ ”کن فیکون“ نامی کتاب تحریر محمد عارف میں ملک شوکت محموداعوان نےمندرجہ مضمون میں اپنےوالد محترم کی شخصیت کےمختلف پہلو اجاگر کئےہیں۔ بہر حال شوکت محمود اعوان کو یہ اعزاز حاصل ہےکہ انہوں نےاپنےوقت کےعظیم دانش ور کی خدمت کا…
  • 67
    Back to Kuliyat e Gabriel Index نغمہ جبریل آشوب مرے گُلو میں ہے ایک نغمہء جبریلؔ آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لامکاں کیلئے علامہ محمد اقبالؒ اشعار فلک پر آفتاب اپنا نشیمن بھول سکتا ہے ؟ شرارہ برق کا مقصودِ خرمن بھول سکتا ہے ؟ خخ بغیر قربتِ موسی…
  • 66
    Back to Kuliyat e Gabriel ضربِ مومن رباعی ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے ادا مست مئے توحید کی ہر عاشقانہ ہے زمین پر ہے وجود اس کا فلک پر آشیانہ ہے جمالِ یار کا پرتوَ جنوں کو تازیانہ ہے ٹھکانا اس کا جنت ہے یہ دنیا قید…
  • 66
    قران حکیم کی ایک عظیم پیشین گوئی ایٹم بم تحریر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد افضل حضرت مسیح موعود کا ایک شعر ہی یا الہیٰ تیرا فرقان ہےکہ اک عالم ہی جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا یہ شعر قرآن حکیم کی جامع تفسیر ہی۔ دنیا کی ہر…
  • 65
    رات اور دن ٭٭٭ڈاکٹر اظہر وحید٭٭٭ رات اور دن کا آپس میں بدلنا تغیر کی علامت ہے.... لیکن ثبات کے متلاشی کیلیے اس میں ثبات نہیں۔ تغیر کو شاعری میں ثبات مل بھی جائے‘ تو انسان کو تغیر میں ثبات نہیں ملتا۔ رات چاند سے عبارت ہے اور دن سورج…
  • 65
    Joint Effort of Yousuf Jibreel Foundation and Mureed e Iqbal Foundation for promotion of Study on Allama Muhammad Iqbal , Hakim ul Ummmat Daily Express Islamabad, Daily Dunya Islamabad, Daily Nawai Waqat Lahore Advertisment of 7/11/2016  کالجز کے طلبا و طالبات کے مابین قومی مقابلۂ مضمون نویسی بسلسلۂ یومِ اقبال…
  • 64
    شیشیل کورالا فقیرانہ وزیر اعظم 2014ء میں نیپال کاوزیراعظم بن گیا۔پہلے دن جب اپنے سرکاری دفترپہنچاتو انتہائی سستی قیمت کے کپڑے پہن رکھے تھے۔۔لباس کی مجموعی قیمت دوسوروپے سے بھی کم تھی۔سرپرانتہائی پرانی ٹوپی اورپیروں میں کھردری سی چپل۔ وہاں ویٹریانائب قاصدکے کپڑے بھی شیشیل کورالاسے بہت بہتر تھے۔ منتخب…